Al-Fath 48:21

Al-Fath · from ayah 21

48:21

وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا ۟وَّاُخۡرٰى لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرًا

اور اَور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [He promises] other [victories] that you were [so far] unable to [realize] which Allah has already encompassed. And ever is Allah, over all things, competent.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:21

اِس کے علاوہ دوسرے اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اَور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ایک فتح اور بھی ہے جو ابھی تمہارے قابو میں نہیں آئی، لیکن اللہ نے اس کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت طرح قادر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایک اور جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور دوسری (مکّہ، ہوازن اور حنین سے لے کر فارس اور روم تک کی بڑی فتوحات) جن پر تم قادر نہ تھے بیشک اﷲ نے (تمہارے لئے) ان کا بھی احاطہ فرما لیا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کئی اور (غنیمتوں کا بھی) ، جن پر تم قادر نہیں ہوئے۔ یقینا اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایک اور (فتح بھی دے گا) جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے اور اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوے لیکن اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے علاوہ اللہ نے تم سے اور بھی ایسی غنیمتوں کا وعدہ فرما دیا ہے جن پر تمہیں ابھی تک قدرت حاصل نہیں مگر اللہ نے اپنے احاطہ قدرت میں لے رکھا ہے ان سب کو اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایک اور (فتح) بھی ہے جو (ابھی) تمہارے قابو میں نہیں آئی ہے اللہ اسے احاطہ (قدرت) میں لئے ہوئے ہے اور اللہ تو ہر شئی پر قادر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کچھ (فتوحات) اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور مزید غنیمتیں دے جن پر تم قدرت نہیں رکھتے اور وہ اللہ ہی کی قدرت میں تھیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He also promises you other spoils which you have not yet taken, but Allah has encompassed them. Allah has power over everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (there is) another (victory) that has not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed it. And Allah is Powerful over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

And (there is) another (victory) that has not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed it. And Allah is Powerful over every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And other (victories) which are not yet within your power; indeed Allah encompasses them. And Allah is Ever Able to do all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And other (gain), which ye have not been able to achieve, Allah will compass it, Allah is Able to do all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [He promises] other [victories] that you were [so far] unable to [realize] which Allah has already encompassed. And ever is Allah, over all things, competent.

— Saheeh International

Besides these, there were other gains which you could not receive, but God has full control over them. God has power over all things.

— Muhammad Sarwar

And others which you have not yet been able to achieve Allah has surely encompassed them, and Allah has power over all things.

— Muhammad Habib Shakir

And He promiseth another victory, over which ye have as yet no power: Allah hath surely encompassed it; and Allah is over everything ever Potent.

— Abdul Majid Daryabadi

And other gains (there are), which are not within your power, but which Allah has compassed: and Allah has power over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بد ارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا نہ مکہ کے کافروں کے نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے۔ نہ یہ تم پر حملہ اور ہو سکے نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے یہ اس لئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کرلیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 40 اغلب یہ ہے کہ یہ اشارہ فتح مکہ کی طرف ہے۔ یہی رائے قتادہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے۔ ارشاد الہی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تو مکہ تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے مگر اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور حدیبیہ کی اس فتح کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَّاُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اور بہت سی فتوحات کا وعدہ کیا ہے جس پر ابھی ان کو قدرت نہیں۔ ان فتوحات میں چونکہ سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی فتح ہے اس لئے بعض حضرات نے اس سے فتح مکہ مراد لیا ہے مگر الفاظ عام ہیں قیامت تک ہونے والی فتوحات اس میں شامل ہیں (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وآخری لم تقدروا علیھا قد احاط اللہ بھا ط وکان اللہ علی کل شیء قدیراً 21 یہ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا کہ ایک دوسری اور بھی بہت بڑی کامیابی ہے جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ کامیابی اگرچہ تم ابھی حاصل نہیں کرسکے ہو لیکن اس کے حصول میں بھی اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور جس کا اللہ نے احاطہ کر رکھا ہو وہ چیز قابو سے باہر نہیں نکل سکتی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ بہت جلد یہ کرشمہ بھی اپنی نصرت کا دکھا دے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: اس سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگرچہ ابھی مسلمان مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی حالت میں نہیں ہیں، لیکن وہ وقت آنے والا ہے جب قریش مکہ خود حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اسے توڑ دیں گے، اور اس کے بعد مسلمانوں کے لیے فتح مکہ کا راستہ کھل جائے گا، اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات حاصل ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واخری لم تقدروا ۔۔۔۔ کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کے “ علاوہ ” کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے ؟ یا فتح خیبر ہے ؟ یا قیصرو کسریٰ کی مملکتوں کی فتوحات ہیں ؟ یا اس سے وہ تمام فتوحات مراد ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوتی رہیں ؟ زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس فتح کے اسباب صلح حدیبیہ ہی نے فراہم کئے۔ یہ صلح صرف دو سال تک جاری رہ سکی۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس بیعت کے انعام میں فتح خیبر دی۔ اور مکہ کی فتح جو اس وقت ہاتھ نہ لگی وہ بھی مل ہی چکی ہے۔ کیونکہ اللہ نے اس کا وعدہ کرلیا اور فی الحقیقت عالم اسباب میں وہ نتیجہ اسی صلح حدیبیہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا } ”اور کچھ فتوحات اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی ‘ اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔“ یعنی اس کے فوراً بعد تمہیں خیبر کی فتح حاصل ہوگی اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ سرزمین عرب سے باہر بھی بہت سی فتوحات اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گھیر رکھی ہیں۔ ان فتوحات کے بارے میں دوسرے رکوع آیت 16 میں بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تیسرے رکوع کی یہ آیات دوسرے رکوع کی آیات سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 صلح حدیبیہ کیسے فتح مکہ کا پیش خیمہ بنی ؟ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ جس کا پیش خیمہ یہ صلح حدیبیہ ہی بن گئی تھی۔ اور اللہ کو ٹھیک معلوم تھا کہ یہ صلح کس طرح فتح مکہ کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ صلح نامہ کی دوسری شرط کی رو سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے تھے۔ صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنوخزاعہ اور بنوبکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی جس میں قریش نے کھلم کھلا بنوبکر کی مدد کی اور جب بنوخزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ بعد ازاں بنو خزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لئے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بدعہدی پر سخت صدمہ ہوا۔ لہذا آپ نے قریش کے لئے تین شرطیں پیش کیں کہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (اور ایک اسی واقعہ کی کیا تخصیص ہے) (آیت) ’ واخری “۔ اشارہ فتح مکہ کی جانب ہے۔ (لم تقدروا علیھا “۔ وہ فتح ابھی تک تمہارے بس میں نہیں آئی ہے۔ لیکن اس کا اشتیاق درجہ کمال میں رکھتے ہو۔ (آیت) ” قد احاط اللہ بھا “۔ اور اللہ جب چاہے گا اسے واقع کردکھائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–26

ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واخری لم تقدروا علیھا قد احاط اللہ بھا وکان اللہ علی کل شیءٍ قدیرًا اور ایک فتح اور بھی ہے جو ابھی تمہارے قابو میں نہیں آئی ‘ اللہ تعالیٰ اس کو احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وَّاُخْرٰی اس کا عطف مغانم کثیرۃً پر ہے ‘ یعنی اللہ نے تم سے دوسرے اموال غنیمت کا بھی وعدہ کر رکھا ہے ‘ یا اس کا عطف ھذہٖ پر ہے ‘ یعنی اللہ تم کو اس کے بعد دوسری غنیمتیں بھی جلد عنایت فرمائے گا ‘ یا یہ فعل محذوف کا معمول ہے ‘ یعنی اللہ نے تمہارے لئے دوسری غنیمتیں بھی مقدر کردی ہیں۔ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیھَا جو ابھی تمہارے قبضہ میں نہیں آئیں ‘ اس سے مراد ہیں ملک فارس و روم کی فتوحات اور اموال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ایک دوسری غنیمت اور بھی آنے والی ہے جو اس وقت تک تمہارے قبضہ میں نہیں آئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو اپنے احاطہ قدرت میں لیے ہوئے ہے جب چاہے گا ہوجائے گا وہ فتح فارس ہے اور اللہ تعالیٰ فتح و نصرت، اور غنیمت پر چیز پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) واخری لم تقدروا علیھا…:”اخری“ ”مغانم“ کی صفت ہے جو یہاں محذوف ہے اور اس کا عطف ”مغانم کثیرۃ“ پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان غنیمتوں کے علاوہ جن کا اوپر ذکر ہوا، کئی اور غنیمتوں کا بھی وعدہ فرمایا ہے جن پر تم قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے مراد سب سے پہلے فتح مکہ ہے جو فتح الفتوح تھی۔ مسلمان حدیبیہ والے سال اور اس سے اگلے سال اسے حاصل نہیں کرسکے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا فیصلہ ہوچکا تھا، چناچہ صلح حدیبیہ ہی اس کا پیش خیمہ بنی۔ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے قریش مکہ کا حلیف بن جائے اور کوئی کسی کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ ہذھ پر معطوف ہے تقدیر کلام یہ بنے گا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ فتوحات ہیں (1) جو مسلمانوں کو نصیب ہوئیں جس طرح فارس اور روم کا علاقہ اور اس طرح کی دوسری فتوحات جو مسلمانوں نصیب ہوئیں یہ حضرت حسن بصری مقاتل اور ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے، ضحاک، ابن زید اور ابن اسحاق کا بھی یہ قول ہے : مراد خیبر ہے اللہ تعالیٰ نے فتح سے پہلے اپنے نبی سے اس کا وعدہ کیا مسلمان اس کی امید تک نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس فتح کی صحابہ کو خبر دی۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے اور قتادہ کا قول ہے مراد فتح مکہ ہے (2) عکرمہ نے کہا : مراد حینن ہے کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–23

38:۔ عبد بن حمید (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے فارس کی فتح مراد ہے۔ 39:۔ عبد بن حمید نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے مراد ہے کہ بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ اسے عربی گاؤں اور بستیاں ہیں اور بعض دوسرے لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ فارس اور روم کی فتوحات ہیں۔ 40:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ یعنی ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس سیم کہ کی فتح مراد ہے۔ 41:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “ سے حنین کی فتح مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّاُخْرٰى [ اور کچھ دوسری (غنیمتیں بھی ) ] لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا [ تم لوگوں نے قابوا نہیں پایا جن پر (ابھی ) ] قَدْ اَحَاطَ [ احاطہ کرلیا ہے ] اللّٰهُ بِهَا ۭ [ اللہ نے ان کا ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرًا [قدرت رکھنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ھو الثقۃ بفضل اللّٰہ تعالیٰ والتوکل علیہ فی کل ما تاتون و تذرون ﴿وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا ﴾ (اور ان کے علاوہ بھی فتوحات ہوں گی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ فتوحات مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئیں مثلاً فارس اور روم فتح ہوئے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علاقے اور ممالک ان کے قبضے میں آئے۔ حضرت حسن (رح) نے فرمایا کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے اور حضرت عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے فتح حنین مراد ہے اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ قیامت تک مسلمانوں کو جو بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–26

بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

18:۔ ” وعدکم اللہ “ یہاں مغانم کثیرۃ سے وہ تمام اموال غنیمت مراد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہیں گے۔ ھی علی ما قال ابن عباس و مجاھد و جمہور المفسرین ما وعد اللہ تعالیٰ المومنین من الغنائم الی یوم القیامۃ (روح ج 26 ص 109) ۔ اور ھذہ سے غنائم خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ ایدی الناس، ناس سے اہل خیبر اور ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان مراد ہیں۔ اہل خیبر کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ایسا رعب ڈال دیا کہ انہیں مقابلے کی ہمت نہ ہوئی اور جب ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان ان کی مدد کے لیے آئے تو وہ بھی مرعوب اور خوفزدہ ہو کر واپس چلے گئے (خازن، مدارک) ۔ یا اس سے اہل مکہ کے اسی آدمیوں کی وہ جماعت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–23

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہَا قَدْ اَحَاطَ اللہُ بِہَا۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا۝ 21 قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

ترکیب : سنۃ اللہ انتصابہ علی المصدریۃ بفعل محذوف ای سن اللہ سنۃ اوھو مصدرہ مؤکدلمضمون المجلۃ المتقدمۃ من ھزیمۃ الکفار ونصرالمؤمنین والہدی قرء الجمہور بنصب الھدی عطفا علی الضمیر المنصوب فی صدوکم وقریٔ بالجر عطفاعلی المسجد معکوفًا انتصابہ علی الحال من الہدی قال الجوھری عکفہ ای حبسہ و منہ الاعتکاف فی المسجد وھوالا حتباس ان یبلغ ای عن ان یبلغ اومفعول لاجلہ ولولا شرط وجوابہ محذوف و التقدیر لاذن اللہ لک المعرۃ العیب وقیل الشدۃ وقیل الغم بغیر علم متعلق بان تطوھم ای غیر عالمین لیدخل اللام متعلقہ بمایدل علیہ الجواب المقدرای لم یاذن لکم اوکف ایدیکم لیدخل اللہ حمیۃ الجاھلیۃ بدل من الحمیۃ اھلہا عطف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَھَا فَعَجَّلَ لَـکُمْ ھٰذِہٖ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْـکُمْ ج وَلِتَـکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَھْدِیَـکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا۔ وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرًا۔ (الفتح : 20، 12) (اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنھیں تم حاصل کرو گے، پس یہ اس نے تم کو فوری طور پردے دی، اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیئے تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔ اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت بخشے۔ اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضا مندی کی خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی بتلا دیا کہ عنقریب تمہیں بہت سی غنیمتیں عطا کی جائیں گی۔ بیعت رضوان جن حالات میں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس قدر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام ؓ کو اس موقعہ پر چار انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں ہر صورت کثیر مال غنیمت عطا کرے گا۔ اسی نے اپنے فضل سے حدیبیہ کے مقام پر مکہ والوں کے ہاتھوں کو تمہاری طرف بڑھنے سے روک لیا تاکہ مومنوں کو اللہ کی قدرت کا نمونہ دکھایا جائے اور ان کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دیگر غنائم : آیت 21 : وَّاُخْرٰی (اور ایک اور فتح) اس کا عطف ہذہ پر ہے ای فجعل لکم ہذہ المغانم ومغانم اخرٰی وہی مغانم ہوازن فی غزوۃ حنین۔ پس اس نے یہ غنائم تمہیں جلد دے دیں اور دوسری غنائم جو ہوازن کی غنائم ہیں جو غزوئہ حنین میں میسر آئیں۔ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا (جو تمہارے قابو میں نہیں آئی) کیونکہ اس میں بڑا حملہ تھا۔ قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا (اللہ تعالیٰ اس کو احاطہ میں لیے ہوئے ہیں) یعنی اس پر قدرت رکھنے اور غلبہ پانے والے ہیں اور تمہیں ان پر غلبہ دینے والے ہیں۔ فائدہ : نمبر 1۔ اخری میں نصب بھی جائز ہے۔ اور فعل مضمر ماننا ہوگا جس کی تفسیر قد احاط اللّٰہ بہا کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا “ اور یہ وہ فتوحات ہیں جو ان کو قیامت کے دن تک دی جائیں گی۔ ” فعجل لکم ھذہ “ یعنی خیبر۔ ” وکف ایدی الناس عنکم “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ارادہ کیا اور خیبر والوں کا محاصرہ کیا تو بنواسد اور غطفان کے قبائل نے ارادہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے عیال اور اولاد پر مدینہ میں غارت گری کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کے ہاتھوں کو روک دیا اور کہا گیا ہے کہ ” کف ایدی الناس عنکم، یعنی اہل مکہ کے ہاتھوں کو صلح کے ذریعے روک دیا۔ ” ولتکون “ ان کو روکنا اور تمہاری سلامتی ” آیۃ للمومنین “ آپ کی سچائی پر اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–21

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ “ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ ﷺ کی آمت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–24

مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 51] آئندہ ملنے والی مزید غنیمتوں کے وعدے کا ذکر وبیان : سو ارزاد فرمایا گیا کہ کچھ اور غنیمتیں بھی ایسی ہیں جن سے اس نے تم کو نوازنے کا وعدہ فرما رکھا ہے جن کے حصول پر تم اب تک قادر نہیں ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا احاطہ فرما رکھا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے تم کو اس سے مشرف فرما دیا، اور مراد اس سے فتح مکہ ہے، [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک اور بڑی کامیابی کا اللہ نے تم سے وعدہ فرما رکھا ہے جو ابھی تک تم کو حاصل نہیں ہوئی، لیکن اس کے حصول میں اب زیادہ دیر نہیں ہے، اللہ نے اسکا احاطہ کر رکھا ہے اور جس کا احاطہ اللہ نے کر رکھا ہو وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–21

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بہترین انعامات کی خوشخبری تشریح : نبی مکرم ﷺ کا مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ جانا اور پھر حالات و واقعات کے مطابق بیعت رضوان کا واقعہ پیش آنا یہ سب تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مگر یہ منظر کہ کس ذوق و شوق اور رضائے الہٰی و رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مومنین اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے تمام دنیاوی عیش و عشرت سے بےنیاز بیعت رسول ﷺ کے لیے جمع ہونے لگے۔ بڑا ہی دلکش منظر تھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے انتہائی خوش ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم نے ان پر اپنی نعمتیں برسادیں۔ پہلی نعمت : تو یہ کہ ان کو سکون دل عطا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–26

آیات 18 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔ بیعت رضوان کا درخت۔ یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں جو صلح کرائی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ تم کمزور تھے اور کافروں سے لڑ نہ سکتے تھے۔ لڑائی ہوتی تو تم ہی فتحیاب ہوتے اور کافر پیٹھ پھیر کر بھگاتے صلح کرانے میں بہت سی دوسری مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض تم پر واضح ہوچکی ہیں اور بعض آگے چل کر واضح ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:21) واخری لم تقدروا علیہا : واخری کا عطف فعجل لکم ھذہ میں ھذہ پر ہے ای فعجل لکم ھذہ المغانم ومغانم اخری یعنی اس نے تم کو فوری طور پر اموال غنیمت عطا کئے اور (ان کے علاوہ) اور اموال غنیمت بھی ہیں۔ لم تقدروا : مضارع منفی ھضد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قدر (باب ضرب) مصدر۔ قابو پانا۔ قبضہ قدرت میں رکھنا۔ قادر ہونا۔ علیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع (مغانم) اخری ہے اور دوسری غنیمتیں جو ابھی تمہارے قبضہ قدرت میں نہیں آئیں۔ ان مغانم اخری سے کونسی فتوحات و اموال غنیمت مراد ہیں اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اس سے مراد ملک فارس و روم کے فتوحات اور اموال غنیمت ہیں (ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–21

لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ رضی (راضی ہوگیا) ۔ تحت الشجرۃ (درخت کے نیچے) ۔ السکینتہ (اطمینان و سکون) ۔ اثاب (اس نے بدلہ دیا۔ پلٹا دیا) ۔ عجل (اس نے جلدی کی ) ۔ کف (اس نے روک لیا) ۔ اخری (دوسری) ۔ لم تقدروا ( تم نے قابو نہیں پایا) ۔ تشریح : آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش نے اس غلط فہمی کا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ اہل ایماں عمرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کفار قریش کو سفارتی سطح پر سمجھانے کی کوشش کی اور بتا دیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے جنگ کرنا نہیں۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–23

مسلمانوں کی فتح۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کا غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات ہوئیں فارس قیصر و کسری وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کتابوں میں تفصیل سے ہے، جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ دیا کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیاجائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرات باقی نہیں رہی، اس کو فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[17] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف۔ یعنی اگرچہ مکہ ابھی تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے لیکن اس کی فتح میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور صلح حدیبیہ کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–22

ف 1: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوح ومغائم کے حصول کی خوشخبری سنادی ہے ۔ اس لئے مقدرات میں سے ہے کہ یہ کائنات پر چھا جائیں ۔ اور اپنی قوت وسطوت سے ایک عالم پر حکومت کریں ۔ چناچہ بعد میں آنے والے واقعات نے ثابت کردیا ۔ کہ صحابہ اپنے زمانے کے بہت بڑے فاتح اور شہنشاہ تھے ۔ جہاں گئے ۔ اور جدھر کو عنان توجہ اٹھ گئی بلکوں قوموں نے غلامی پر فخر کیا ۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا ۔ کہ ان کے دلوں میں ایمان کی سچی تڑپ تھی ۔ اور جہاد سے محبت تھی ۔ یہ لوگ زندگی کا بہترین معرف یہی قرار رہتے تھے ۔ کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کردیا جائے ۔ اور ان کا نصب العین یہ تھا ۔ کہ اعلائے کلمتہ الحق ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور ایک اور فتح بھی موعود ہے جس پر سردست تم کو دسترس نہ ہوسکی اور تم اس پر قابو نہ پاسکے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے جیسا کہ ہم تمہید کے نمبر 4 میں عرض کرچکے ہیں۔ یہ وہی بیعت ہے جو نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھ کر کہ جنگ ناگزیر ہے مسلمانوں کو جمع کرکے جہاد پر بیعت لی اور تقریباً چودہ سو آدمیوں نے بیعت کی۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور رضامندی کا اظہار فرمایا یہ بیعت ایک کیکر کے درخت کے نیچے کی گئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صدق و خلوص کا یہ کہہ کر اظہار فرمایا۔ تعلم ما فی قلوبھم۔ اس موقعہ پر سکینہ نازل فرمایا اور مسلمانوں کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کی چاہت اور حسرت بہت کچھ بڑھ کردیئے جانے کا پیش گوئی 21 ؎ بدر سے صلح حدیبیہ تک اور صلح حدیبیہ سے تبوک تک جو کچھ مسلمانوں کو حاصل ہوا اور جو ابھی حاصل ہونا تھا وہ سب مسلمانوں کی خواہش کے مطابق تھا اور مسلمان ان علاقوں کی فتوحات کے متعلق سوچ سکتے تھے اور خواہش کرسکتے تھے کہ ان علاقوں پر ان کا تسلط اس لیے ہو کہ ان علاقوں میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کو ستایا تھا اور ان کی تکلیف کا باعث بنے تھے اور یہ فطری چیز ہے کہ جس طرف سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے انسان کا جی چاہتا ہے کہ اس تکلیف دینے والے پر مجھے قدرت حاصل ہو تاکہ اس سے میں بدلہ لے سکوں یا کم از کم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–23

وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَ‌ةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰ وَأُخْرَ‌ىٰ لَمْ تَقْدِرُ‌وا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّـهُ بِهَا (And (there are) other (victories) that have not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed them...." (48:21). This verse embodies a prophecy that Muslims will achieve many more great victories after the victory of Khaibar. But Allah says that they were unable to achieve them at that time; they would happen in future. Among these victories, Makkah was the first one to be achieved. Therefore, some scholars refer this to the victory of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40 Most probably this is a reference to the Conquest of Makkah. The same is the opinion of Qatadah and Ibn Jarir. It seems to mean this: "Though Makkah has not yet fallen to you, Allah has encircled it, and as a result of this victory at Hudaibiyah, it will also fall to you. "

Read the full tafseer →