Explained with ayahs 20–24
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بد ارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا نہ مکہ کے کافروں کے نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے۔ نہ یہ تم پر حملہ اور ہو سکے نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے یہ اس لئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کرلیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 35
اس سے مراد وہ دوسری فتوحات ہیں جو خیبر کے بعد مسلمانوں کو مسلسل حاصل ہوتی چلی گئیں۔
سورة الْفَتْح 36
اس سے مراد ہے صلح حدیبیہ جس کو سورة کے آغاز میں فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔
سورة الْفَتْح 37
یعنی کفار قریش کو یہ ہمت اس نے نہ دی کہ وہ حدیبیہ کے مقام پر تم سے لڑ جاتے، حالانکہ تمام ظاہری حالات کے لحاظ سے وہ بہت زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے، اور جنگی نقطہ نظر سے تمہارا پلہ ان کے مقابلہ میں بہت کمزور نظر آتا تھا۔ مزید براں اس سے مراد یہ بھی ہے کہ کسی دشمن طاقت کو اس زمانے میں مدینے پر بھی حملہ آور ہونے کی جرأت نہ ہوئی، حالانکہ چودہ سو مردان جنگی کے نکل جانے کے بعد مدینے کا محاذ…
Read the full tafseer →(آیت) وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ اس سے مراد تمام اسلامی فتوحات اور ان کے غنائم ہیں جو قیامت تک حاصل ہونے والی ہیں۔ پہلے مغانم اہل حدیبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخصوص کردیئے گئے تھے یہ سب کے لئے عام ہیں۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ تخصیص کا حکم ان آیات میں ذکر نہیں کیا گیا بلکہ وہ جداگانہ وحی کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو بتلایا گیا ہے۔ آپ نے اس پر عمل کیا اور صحابہ کرام کو بتلایا۔
(آیت) وَكَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ اس سے مراد کفار اہل خیبر ہیں کہ ان کو اس جہاد میں کچھ زیادہ زور دکھانے کا موقع اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا۔ امام بغوی نے فرمایا…
Read the full tafseer →وعد کم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ وکف ایدی الناس عنکم ولتکون ایۃ للمومنین ویھدیکم صراط مستقیماً 20
اوپر والی بات نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرمائی گئی تھی، یہ بات مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائی گئی کہ اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم مستقبل قریب میں حاصل کرو گے۔ ان وعدوں کی تصدیق کے لئے اللہ نے تمہیں یہ نقد نقد غنیمت بخش دی تاکہ تمہارے لئے یہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ اور اسلام کے غلبہ کی ایک نشانی ہو۔
فعجل لکم ھذہ سے مفسرین نے خیبر کی غنیمت مراد لی ہے۔ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ خیبر کی فتح کا واقعہ حدیبیہ سے واپسی کے معاً بعد ہوا ہے۔
وکف ایدی الناس عنکم…
Read the full tafseer →20۔ 1 یہ دیگر فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی خوشخبری ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہیں۔
20۔ 2 یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ کیونکہ یہ دونوں تو فوری طور پر مسلمانوں کو حاصل ہوگئیں۔
20۔ 3 حدیبیہ میں کافروں کے ہاتھ اور خیبر میں یہودیوں کے ہاتھ اللہ نے روک دیئے یعنی ان کے حوصلے پست کردیئے اور وہ مسلمانوں سے مصروف پیکار نہیں ہوئے۔
20۔ 4 یعنی لوگ اس واقعے کا تذکرہ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ اللہ تعالیٰ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کا محافظ اور دشمنوں پر ان کو غالب کرنے والا ہے یا یہ روک لینا تمام موعودہ باتوں میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی نشانی ہے۔
20۔ 5 یعنی ہدایت پر…
Read the full tafseer →17: اس سے مراد وہ فتوحات ہیں جو خیبر کے علاوہ حاصل ہونے والی تھیں۔
18: یعنی خیبر کے یہودی اور ان کے حلیف اس فتح میں جو رکاوٹ ڈال سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا۔
Read the full tafseer →یہ ایک صریح خوشخبری ہے اللہ کی طرف سے ، اس کو مومنین نے سنا ، اس پر انہوں نے خوب یقین کیا اور انہوں نے جان لیا کہ ان کے لئے بہت کچھ تیار کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد وہ زندہ رہے اور ان آیات کا مصداق بچشم سر دیکھتے رہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ کے وعدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ یہاں اللہ فرماتا ہے کہ فوری طور پر تو یہ فتح تمہیں عطا کردی ۔ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہو سکتی ہے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حدیبیہ ہی فتح اور غنیمت تھی اور جیسا کہ پہلے ہم نے بیان کیا صلح حدیبیہ درحقیقت فتح تھی اور جن حالات میں یہ فتح ہوئی ، انہوں نے بھی اس کو مسلمانوں ہی کی فتح بنایا اور اس سے…
Read the full tafseer →1 یعنی آئے چل کے بیشمار غنیمتیں ملنے والی ہیں۔ ان میں کا یہ ایک حصہ غزوہ خیبر میں دلوا دیا۔
2 یعنی عام لڑائی نہ ہونے دی۔ اور حدیبیہ یا خیبر میں کفار کے ہاتھوں سے تم کو کچھ ضرر نہ پہنچنے دیا اور تمہاری غیبت میں تمہارے اہل و عیال وغیرہ پر کوئی دست درازی نہ کرسکا۔
3 یعنی مسلمان سمجھیں کہ اللہ کی قدرت کیسی ہے اور ان کا درجہ اس کے ہاں کیا ہے اور یہ کہ اسی طرح آئندہ کے وعدہ بھی پورے ہو کر رہیں گے۔
4 یعنی اللہ کے وعدوں پر وثوق اور اس کی لامحدود قدرت پر بھروسہ ہوگا تو اور زیادہ طاعت و فرمانبرداری کی ترغیب ہوگی۔ یہ ہی سیدھی راہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20 { وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ } ”اے مسلمانو ! اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے بہت سے اموالِ غنیمت کا جنہیں تم حاصل کرو گے ‘ پس یہ فتح تو اس نے تمہیں فوری طور پر عطاکر دی ہے“
اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے ‘ جس کا ذکر سورت کے آغاز میں بایں الفاظ ہوا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“
{ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ } ”اور اس نے روک لیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے۔“
ظاہر ہے اگر جنگ ہوتی اور قریش بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تو کچھ نہ کچھ نقصان مسلمانوں کا بھی ضرور ہوتا۔
{…
Read the full tafseer →28 اس سے مراد فتح مکہ، حنین کے اموال غنائم ہیں۔ بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد وہ کثیر مقدار میں اموال غنیمت بھی جو پے در پے فتوحات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہے۔
29 حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے کی حکمتیں :۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بطور احسان مسلمانوں سے فرما رہے ہیں اور اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہاری پوزیشن اتنی مضبوط نہ تھی کہ کفر کے سب سے بڑے مرکز میں تم دشمن کی تاب لاسکتے۔ لہذا اللہ نے جنگ کی صورت پیدا ہی نہ ہونے دی۔ اور یہ بھی ایک طرح سے اللہ کی مدد تھی۔ دوسرے یہ کہ تم مدینہ کا مرکز چھوڑ کر بہت دور نکل آئے تھے۔ جنگ کی صورت میں یہ بھی ممکن تھا کہ تمہارے دوسرے دشمن تمہاری غیر حاضری میں…
Read the full tafseer →24۔ (اور وہ سیدھی راہ اللہ کے وعدوں پر وثوق واعتماد کی ہے) (آیت) ” وعدکم ..... تاخذونھا “۔ یہ غنائم کثیر کے وعدے پہلے خود رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور پھر خلافت راشدہ کے دور میں بار بار اور کثرت سے پورے ہوتے رہے۔ خطاب یہاں عام امت سے ہے۔ (آیت) ” فعجل .... عنکم “۔ یعنی ان اغیار واشرار پر تمہارا رعب بیٹھ گیا اور انہیں ہمت ہی تم سے زیادہ مقابلہ کی نہ پڑی۔ (آیت) ” الناس “ کا اشارہ خصوصی یہود خیبر اور ان کے حلیفوں کی جانب ہے۔ یعنی ایدی اھل خیبر وحلفاءھم (مدارک) (آیت) ” ھذہ “۔ یعنی یہی فتح خیبر اور اس کی غنیمتیں “۔ یعنی مغانم خیبر (مدارک) (آیت) ” لتکون ایۃ لل مومنین “۔ یعنی مومنین کا ایمان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…
Read the full tafseer →وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ وکف ایدی الناس عنکم ولتکون
ایۃ للمؤمنین ویھدیکم صراطًا مستقیمًا اللہ نے تم سے اور بھی بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لو گے ‘ سو سردست تم کو یہ دے دی ہے اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے ‘ اور تاکہ یہ واقعہ اہل ایمان کیلئے ایک نمونہ بن جائے اور تاکہ تم کو ایک سیدھی سڑک پر ڈال دے۔
مَغَانِمَ کَثِیْرۃً یعنی وہ فتوحات جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوتی رہیں گی۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان مکہ سے واپس آگئے اور (بظاہر) فتح حاصل نہیں ہوئی (اس سے کچھ دل شکستگی پیدا ہوگئی ‘ اس کو دور کرنے اور) مؤمنوں کو تسلی دینے کیلئے مغانم کثیرہ حاصل ہونے کی صراحت…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جو ابھی تک حاصل نہیں ہوئیں عنقریب تمہارے ہاتھ آئیں گی جیسا کہ فارس وغیرہ کی غنیمتیں ان میں سردست تمہیں خیبر کی غنیمت دے دی اور خلفاء اہل خیبر یعنی اسد و غطفان کے تم سے قتال کرنے سے ہاتھ روک دیے۔
اور تاکہ یہ فتح خیبر کا واقعہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہوجائے کیونکہ مسلمان آٹھ ہزار تھے اور خیبر والے ستر ہزار اور تاکہ تمہیں ایک پسندیدہ دین پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
Read the full tafseer →(1) وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا : ان بہت سی غنیمتوں سے مراد صلح حدیبیہ، خیبر اور اس کے اردگرد کے علاقوں اور بستیوں کی فتح ہے، کیونکہ اس سے پہلے گزر چکا ہے :(سقول المخلقون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا تبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ ، قل لن تثبعونا کذلکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا، بل کانوا لایفقھون الا قلیلاً (الفتح : 15)”عنقریب پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تاکہ انہیں لے لو، ہمیں چھوڑو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ نے اور مجاہد نے کہا : مراد قیامت کے دن تک غنیمتیں ہیں۔ ابن زید نے کہا : مراد خیبر کی غنیمتیں ہیں (2) سے مراد خیبر ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد صلح حدیبیہ ہے۔
سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی صلح کے ساتھ سے ان کے ہاتھوں کو روک لیا قتادہ نے کہا : نبی کریم ﷺ جب حدیبیہ اور خیبر کی طرف نکلے تو مدینہ کے یہودیوں کو تم سے روک لیا، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے (3) کیونکہ حدیبیہ کے موقع پر مشرکوں کے ہاتھوں کے روکنے کا ذکر میں موجود ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد عینیہ بن حصن فزاری، عوف بن مالک اور ان کے ساتھی ہیں کیونکہ وہ آئے تھے تاکہ اہل خیبر کی مدد کریں جبکہ…
Read the full tafseer →26:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا “ (اور اللہ تعالیٰ تم سے بہت غنیمتوں کا وعدہ فرماتے ہیں جو تم اس کو لوگے) یعنی وہ کثیر غنیمتیں جو وعدہ دیئے گئے وہ انہوں نے آج کے دن حاصل نہیں کیں (آیت ) ’ ’ فعجل لکم ھذہ “ (سو سردست تم کو یہ دے دی گئی) یعنی ان کو خیبر (کی غنیمت جلدی عطا کردی گئی)
27:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ “ سے فتح (مکہ) مراد ہے (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جلدی فتح عطا فرمادی)
28:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعدکم اللہ…
Read the full tafseer →[وَعَدَكُمُ اللّٰهُ : وعدہ کیا تم لوگوں سے اللہ نے ] [مَغَانِمَ كَثِيْرَةً : بہت سی غنیمتوں کا ] تَاْخُذُوْنَهَا [ تم لوگ حاصل کرو گے جن کو ] فَعَجَّلَ لَكُمْ [ پھر اس نے جلدی کردیا تمہارے لئے ] هٰذِهٖ [ اس (غنیمت ) کو ] وَكَفَّ [ اور اس نے باندھ دیا ] اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ ۚ [ لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے ] وَلِتَكُوْنَ اٰيَةً [ اور تاکہ یہ (غنیمت ) ہوجائے ایک نشانی ] لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ [ ان (سفر حدیبیہ والے ) مومنون کے لئے ] وَيَهْدِيَكُمْ [ اور تاکہ وہ رہنمائی کرے تمہاری ] صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا [ ایک سیدھے راستے کی ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 18 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
بیعت رضوان والوں کی فضیلت، ان سے فتح و نصرت اور اموال غنیمت کا وعدہ
ان آیات میں بیعت رضوان کا ذکر ہے حضرات صحابہ کرام ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر بیعت لی تھی کہ جنگ ہونے کی صورت میں ہم ہر طرح سے آپ کا ساتھ دیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے جم کر لڑیں گے اللہ جل شانہٗ نے اعلان فرما دیا کہ جن مومنین نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ ان حضرات کے لیے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ مل گیا رہتی دنیا تک کے لیے قرآن پڑھنے والے تمام اشخاص و افراد کے سامنے بار بار اعلان سامنے آتا رہے گا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بیعت کرنے والوں سے راضی ہے حضرت جابر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
18:۔ ” وعدکم اللہ “ یہاں مغانم کثیرۃ سے وہ تمام اموال غنیمت مراد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہیں گے۔ ھی علی ما قال ابن عباس و مجاھد و جمہور المفسرین ما وعد اللہ تعالیٰ المومنین من الغنائم الی یوم القیامۃ (روح ج 26 ص 109) ۔ اور ھذہ سے غنائم خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ ایدی الناس، ناس سے اہل خیبر اور ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان مراد ہیں۔ اہل خیبر کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ایسا رعب ڈال دیا کہ انہیں مقابلے کی ہمت نہ ہوئی اور جب ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان ان کی مدد کے لیے آئے تو وہ بھی مرعوب اور خوفزدہ ہو کر واپس چلے گئے (خازن، مدارک) ۔ یا اس سے اہل مکہ کے اسی آدمیوں کی وہ جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…
Read the full tafseer →وَعَدَكُمُ اللہُ مَغَانِمَ كَثِيْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا فَعَجَّلَ لَكُمْ ہٰذِہٖ وَكَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ 0 ۚ وَلِتَكُوْنَ اٰيَۃً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ وَيَہْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا 20 ۙ
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ
[ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترکیب : اذ ظرف لرضی تحت الشجرۃ ظرف لیبایعونک ومغانم منصوب لکونہ معطوفاعلی فتحا قریبا ای اثابھم مغانم اواتاھم مغانم ولتکون ھذہ الکفۃ اوالغنیمۃ والعطف علی محذوف ھو علۃ الکف ای فعل مافعل من التعجیل والکف لتکون نافعۃ لھم و آیۃ لھم وقیل ان الواومزیدۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ اور اس کے بعدان اعراب کی محرومی ذکر کی تھی کہ جو شریک نہ ہوئے تھے۔ اب ان اہل صدق و ایمان کی بیعت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا فقال لقدرضی اللہ عن المؤمنین کہ اللہ ایمانداروں سے خوش ہوگیا کہ جو اے محمد ﷺ ! تجھ سے درخت تلے بیعت کر رہے تھے پھر ان کے دلوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَھَا فَعَجَّلَ لَـکُمْ ھٰذِہٖ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْـکُمْ ج وَلِتَـکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَھْدِیَـکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا۔ وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرًا۔ (الفتح : 20، 12)
(اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنھیں تم حاصل کرو گے، پس یہ اس نے تم کو فوری طور پردے دی، اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیئے تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔ اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت بخشے۔ اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضا مندی کی خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی بتلا دیا کہ عنقریب تمہیں بہت سی غنیمتیں عطا کی جائیں گی۔
بیعت رضوان جن حالات میں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس قدر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام ؓ کو اس موقعہ پر چار انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں ہر صورت کثیر مال غنیمت عطا کرے گا۔ اسی نے اپنے فضل سے حدیبیہ کے مقام پر مکہ والوں کے ہاتھوں کو تمہاری طرف بڑھنے سے روک لیا تاکہ مومنوں کو اللہ کی قدرت کا نمونہ دکھایا جائے اور ان کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی…
Read the full tafseer →آیت 20 : وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا (اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لوگے) وہ غنائم انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی پائیں اور آپ کے بعد قیامت تک پائیں گے۔ فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ (پس سردست تم کو یہ دے دی ہیں) المغانم جمع مغنم اس سے خیبر کے غنائم مراد ہیں۔ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ (اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے) یعنی اہل خیبر اور ان کے حلفاء بنوا سد و بنو غطفان وغیرہ جبکہ وہ ان کی مدد کے لئے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس سے وہ واپس لوٹ گئے۔
ایک قول یہ ہے :
اہل مکہ کے ہاتھ صلح کی وجہ سے روک…
Read the full tafseer →19 ۔” ومغانم کثیرۃ یا خذونھا “ یہود خیبر کے اموال سے اور خیبر زمینوں اور اموال والا علاقہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو صحابہ کرام ؓ کے درمیان تقسیم کردیا۔ ” وکان اللہ عزیزا حکیما “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
20۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ “ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ ﷺ کی آمت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا نہ کہ صلح کے نتیجے میں
قول باری ہے (وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم۔ وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول صلح حدیبیہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔
واقعہ اس طرح ہے کہ مشرکین نے چالیس آدمیوں کا ایک دستہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا، یہ لوگ پکڑے گئے اور انہیں حضور ﷺ کے سامنے قیدیوں کی صورت میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے مطابق آیت کا نزول فتح مکہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →[ 48] اہل حدیبیہ کیلئے ایک اور خاص انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اس نے روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے۔ یعنی کفار مکہ کے ہاتھوں کو، کہ حدیبیہ کے موقع پر جب کہ تم بالکل نہتے اور کالی ہاتھ تھے، ان کو تم پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر بھی دشمنوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا۔ نہ تو وہاں کے یہود کچھ زیادہ تمہارا مقابلہ اور مزاحمت کرسکے، حالانکہ وہ اپنے قلعوں میں بند تھے، اور نہ ہی سفر عمرہ کے اس موقع پر یہود مدینہ کو اس بنا پر اپنے اس خبث ارادوں کی تکمیل کے لئے ہاتھ بڑھانے کی ہمت ہوسکی کہ مسلمانوں کے گھر خالی پڑے ہیں، کیوں نہ اس موقع پر ان کے اہل و عیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بہترین انعامات کی خوشخبری
تشریح : نبی مکرم ﷺ کا مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ جانا اور پھر حالات و واقعات کے مطابق بیعت رضوان کا واقعہ پیش آنا یہ سب تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مگر یہ منظر کہ کس ذوق و شوق اور رضائے الہٰی و رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مومنین اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے تمام دنیاوی عیش و عشرت سے بےنیاز بیعت رسول ﷺ کے لیے جمع ہونے لگے۔ بڑا ہی دلکش منظر تھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے انتہائی خوش ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم نے ان پر اپنی نعمتیں برسادیں۔
پہلی نعمت : تو یہ کہ ان کو سکون دل عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…
Read the full tafseer →ف 5 اس سیم راد وہ دوسری فتوحات ہیں جو خیبر کے بعد مسلمانوں کو پے در پے حاصل ہوتی رہیں۔
Read the full tafseer →(48:20) تاخذونھا : تاخذون مضارع جمع مذکر حاضر اخذ (باب نصر) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو مغانم کی طرف راجع ہے۔ تم ان (غنیمتوں) کو لوگے۔ حاصل کرو گے۔ ان غنیمتوں کا اشارہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ جو خٰبر کے بعد دوسری فتوحات کے سلسلہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔
فجعل :ترتیب کا ہے عجل ماضی واحد مذکر غائب تعجیل (تفعیل) مصدر اس نے جلدی کی۔ اس نے جلدی دیدی۔ عجلت بمعنی شتابی۔ جلدی۔
ھذا۔ اس سے فتح خیبر مراد ہے (تفسیر مظہری) ۔ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کو سورة کے آغاز میں فتح مبین قرار دیا گیا ہے (تفہیم القرآن) ۔ ھذہ ای مغانم خیبر۔ (روح المعانی) ۔
ھذہ کا مشار الیہ صلح حدیبیہ ہے۔ قالہ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔
رضی (راضی ہوگیا) ۔ تحت الشجرۃ (درخت کے نیچے) ۔ السکینتہ (اطمینان و سکون) ۔ اثاب (اس نے بدلہ دیا۔ پلٹا دیا) ۔ عجل (اس نے جلدی کی ) ۔ کف (اس نے روک لیا) ۔ اخری (دوسری) ۔ لم تقدروا ( تم نے قابو نہیں پایا) ۔
تشریح : آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش نے اس غلط فہمی کا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ اہل ایماں عمرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کفار قریش کو سفارتی سطح پر سمجھانے کی کوشش کی اور بتا دیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے جنگ کرنا نہیں۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
مسلمانوں کی فتح۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کا غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات ہوئیں فارس قیصر و کسری وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کتابوں میں تفصیل سے ہے، جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ دیا کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیاجائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرات باقی نہیں رہی، اس کو فرمایا…
Read the full tafseer →[15] مراد مشرکین مکہ ہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کی رو سے کفار مکہ اور مسلمان یہ پابندی قبول کرچکے تھے کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ اس سے مسلمانوں کو یہ فائدہ پہنچا کہ ان کو خیبر کے یہودیوں کے خلاف اقدام کے لئے ایک اچھا موقع مل گیا اور یہودی یہ خیال کر کے کہ اب ان کو اہل
مکہ کی پشت پناہی نہیں حاصل ہو سکے گی بڑی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس طرح صلح حدیبیہ نے مسلمانوں کے لئے ایک قریبی فتح کی راہ کھول دی اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ صلح مسلمانوں کی شکست نہیں بلکہ درحقیقت ایک عظیم فتح اور آئندہ کی فتوحات کا دیباچہ ہے۔
[16] یعنی اللہ تعالیٰ نے خیبر کی یہ نقد غنیمت مسلمانوں کو اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 2: ببول کے درخت کے نیچے سرفروشوں کی ایک مخلص جماعت نے حضرت عثمان ؓ کے انتقام لینے کے لئے یعنی ایک مسلمان کی عزت و حرمت پر جان نچھاور کردینے کے لئے ایک عہد کیا تھا ۔ یہ عہد بیعتہ رضوان سے موسوم ہوا ۔ اور اب تک قرآن کے لازوال اوراق میں اس عہد کا تذکرہ ہے ۔ اور ہمیشہ تک ان کی اس وفاداری اور خلوص کا چرچا رہے گا ۔ باقی صفحہ
یہ پاکبازلوگ وہ تھے ۔ جن پر اللہ نے اپنا فضل وکرم کیا ۔ اور ان کو اپنی رضا کا تمغہ عنایت فرمایا ۔ کیونکہ انہوں نے اس کو خوش کرنے کے لئے اپنی زندگی تک قربان کردینے کا تہیہ کرلیا ۔ فرمایا ۔ اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی ۔ اور فتح خیبر کی خوش خبری سنائی
حل لغات :۔ حرج ۔ مضائقہ…
Read the full tafseer →(20) اور اللہ تعالیٰ تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرماچکا ہے جن کو تم حاصل کرو گے پس اس نے جلدی عطا کی یہ تم کو یعنی فی الحال اور سردست یہ خیبر کی غنیمت تم کو عطا کی اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا یہ اس لئے کیا کہ علاوہ اور مقاصد کے یہ واقعہ مسلمانوں کے لئے قدرت کا ایک نمونہ ہوجائے نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو سیدھی راہ چلائے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی سب کے دل میں رعب پیدا کردیا کہ ان کو زیادہ دراز دستی کی ہمت نہ ہوئی، اور اس سے تمہارا نفع دنیوی بھی مقصود تھا تاکہ آرام ہو۔
3۔ مراد اس سے سڑک سے توکل و وثوق باللہ ہے یعنی ہمیشہ کے لئے اس کو سوچ کر اللہ پر اعتماد سے کام لیا کرو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے بہت سی غنیمتیں دینے کا تم سے وعدہ کیا ہے جو یقینا پورا ہوگا
20 ؎ صلح حدیبیہ کے بعد کے حالات کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت اس صلح کے بعد حالات بہت تیزی سے بدلنے شروع ہوگئے اور اہل اسلام نے جس طرف منہ کیا فتح پر فتح ہوتی چلی گئی لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے اور اموال سے بیت المال بھی بھر گیا اور لوگ بھی سیر ہوگئے اور ہر سو خوش حالی کا دور دورہ شروع ہوگیا اور لڑائیاں کرنے والوں اور سازشیوں سب نے اپنے اپنے ہاتھ روک لیے اور مکمل طور پر فراوانی کا دور دورہ ہوگیا اور مسلمانوں نے امن و آرام پایا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو اس صلح کو فتح مبین قرار…
Read the full tafseer →ذِهِ (Allah had promised you many spoils that you would receive, so He gave these to you sooner - 48:20). The phrase "many spoils" mentioned here refers to the sizeable spoils that fell into the hands of Muslims in the conquests which followed the victory at Khaibar, in the rest of Arabia and the neighbouring countries. This verse embodies a prophecy that Muslims will achieve other great victories after the victory of Khaibar, and in consequence many spoils until the end of the world. However, before those numerous conquests, the conquest of Daibar was given first, the spoils of which were…
Read the full tafseer →35 This refers to the other victories that the Muslim achieved successively after Khaiber.
36 This implies the treaty of Hudaibiyah which has been described as "a manifest victory" in the beginning of the Surah.
37 That is, "He restrained the disbelieving Quraish from attacking you at Hudaibiyah although from all appearances they were in a much better position and yours was a much weaker side militarily." Furthermore, it also implies that no enemy power could muster courage to attack Madinah in those days, whereas after the departure of 1,400 soldiers the Madinah front had become very weak,…
Read the full tafseer →