Explained with ayahs 18–19
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ حضرت عبدالرحمن نے واپس آکر یہ قصہ حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا پھر حضرت سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 34
یہ اشارہ ہے خیبر کی فتح اور اس کے اموال غنیمت کی طرف۔ اور یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ انعام صرف ان لوگوں کے لیے مخصوص فرما دیا تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے، ان کے سوا کسی کو اس فتح اور ان غنائم میں شریک ہونے کا حق نہ تھا۔ اسی بنا پر جب رسول اللہ ﷺ صفر 7 ھ میں خیبر پر چڑھائی کرنے کے لیے نکلے تو آپ نے صرف ان ہی کو اپنے ساتھ لیا۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں حضور ﷺ نے حبش سے واپس آنے والے مہاجرین اور بعض دوسی اور اشعری صحابیوں کو بھی اموال خیبر میں سے کچھ حصہ عطا فرمایا، مگر وہ یا تو خمس میں سے تھا، یا اصحاب رضوان کی رضا مندی سے دیا گیا۔ کسی کو حق کے طور…
Read the full tafseer →(آیت) وَّمَغَانِمَ كَثِيْرَةً يَّاْخُذُوْنَهَا، مراد اس سے خیبر کا مال غنیمت ہے جس سے مسلمانوں کو سہولت اور فراغ بالی حاصل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
لقد ؓ عن المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثا بھم فتحاً قریباً ومغانم کثیرۃ یا خذونھا وکان اللہ عزیزاً حکیماً 19-18
جاں بازوں کا صلہ
نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر چکنے کے بعد اس بیعت کے حقوق سے گریز اختیار کرنے والوں کے ذکر کے بعد یہ ان لوگوں کا بیان ہے جنہوں نے نہایت نازک حالات میں آپ کے ہاتھ پر حدیبیہ میں جہاد کی بیعت کی اور اس بیعت کا پورا پورا حق ادا کیا۔ ان بیعت کرنے والوں کے ذکر کا آغاز ہی لقد ؓ عن المومنین کے الفاظ سے فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جانبازوں کی اس بیعت ہی نے اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ایسی قدر کی جگہ پائی کہ ان کے لئے ابدی خوشنودی کا…
Read the full tafseer →19۔ 1 یہ وہ غنیمتیں ہیں جو خیبر سے حاصل ہوئیں یہ نہایت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا اسی حساب سے یہاں سے مسلمانوں کو بہت بڑی تعداد میں غنیمت کا مال حاصل ہوا جسے صرف اہل حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
15: یہ اسی بیعت رضوان کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے حدیبیہ کے مقام پر ببول کے ایک درخت کے نیچے لی تھی، اور جس کا ذکر سورت کے تعارف میں آچکا ہے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان حضرات نے یہ بیعت دل سے پورے عزم کے ساتھ کی تھی، وہ منافقوں کی طرح جھوٹا عہد کرنے والے نہیں تھے۔
16: اس سے مراد خیبر کی فتح ہے، اس سے پہلے مسلمان دو طرفہ خطرے سے دوچار تھے، جنوب میں قریش مکہ کی طرف سے ہر وقت حملوں کا خطرہ رہتا تھا جس کا سد باب حدیبیہ کی صلح کے ذریعے ہوا، اور شمال میں خیبر کے یہودی تھے جو ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں نے حدیبیہ کے موقع پر…
Read the full tafseer →ومغانم کثیرۃ یاخذونھا (48 : 19) “ اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ عنقریب حاصل کریں گے ” یا تو فتح کے ساتھ یہ اموال ملے اگر مراد فتح خیبر ہو ، یا فتح کے بعد ملنے والے اموال غنیمت ۔ اگر ہم خود اس صلح ہی کو فتح قرار دیں کیونکہ اس مصالحت کی وجہ سے مسلمان کئی دوسری فتوحات کے لئے فارغ ہوگئے۔
وکاین اللہ عزیزا حکیما (48 : 19) “ اور اللہ زبردست اور حکیم ہے ”۔ یہ تمام آیات کا نتیجہ ہے یعنی اللہ کی رضا ، فتح اور بیشمار اموال غنیمت کے وعدے میں اللہ کی قوت ، قدرت اور حکمت و تدبیر کار فرما ہے۔ اور قوت اور حکمت ہی سے اللہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔
اس اعلان کے بعد کہ اللہ کی ذات ان بیعت کرنے والوں…
Read the full tafseer →10 یعنی فتح خیبر جو حدیبہ سے واپسی کے بعد فوراً مل گئی اور مال غنیمت بہت آیا جس سے صحابہ آسودہ ہوگئے۔
11 یعنی اپنے زور و حکمت سے حدیبیہ کی کسر یہاں نکال دی۔ اور اسی طرح کا قصہ فتح مکہ اور حنین میں ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 19 { وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا } ”اور بہت سے اموالِ غنیمت جو وہ حاصل کریں گے۔ اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →27 یعنی حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے میں اور بہرحال صلح ہوجانے میں اللہ کی بیشمار حکمتیں تھیں لہذا اس نے وہی کام ہونے دیا جو اسے منظور تھا۔ رہا بیعت کرنے والوں کی جانثاری کا صلہ تو وہ غنائم خیبر کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ اور اللہ کے ہاں ان کے لئے جو صلہ ہے وہ تو بہت زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →23۔ وہ اپنی قدرت سے جس کو بھی چاہے اور اپنی حکمت سے جب بھی چاہے فتح و غلبہ دے دیتا ہے۔ (آیت) ” مغانم کثیرۃ یاخذونھا۔ مشہور مسیحی سیرت نگار سرولیم میور نے لکھا ہے کہ اتنا مال غنیمت اس سے قبل کبھی مسلمانوں کو نہیں ملا تھا۔ کھجور، تیل، شہد، جو کے عظیم الشان ذخیرے، بھیڑوں کے گلے، اونٹوں کی قطاریں، اور ان سب کے علاوہ بکثرت نقدی اور زیورات یہ سب ہاتھ لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…
Read the full tafseer →ومغانم کثیرۃً یاخذونھا وکان اللہ عزیزًا حکیمًا اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی دیں جن کو لوگ لے رہے ہیں۔ اور اللہ بڑا زبردست (اور) بڑی حکمت والا ہے۔
تَحْتَ الشَّجَرَۃِ یعنی حدیبیہ میں درخت کے نیچے ‘ اسی آیت کی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔ اس آیت سے مقصود مؤمنوں کی تعریف اور مدح ہے اور گذشتہ کلام سے ایفاء بیعت پر برانگیختہ کرنا مقصود ہے۔
صحیحین میں آیا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا : ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔
مسلم نے حضرت ام بشر کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ جو کوئی اس درخت کے نیچے بیعت کرچکا ‘ وہ…
Read the full tafseer →اور اس فتح میں بہت سی غنیمتیں دیں جن کو یہ لوگ لے رہے تھے اور حق تعالیٰ دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست اور رسول اکرم اور اپنے صحابہ کرام کو فتح و غنیمت عطا کرنے میں حکمت والے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) ومغانم کثیرۃ یاخذونھا : اس سے مراد خیبر اور یہود کی دوسری بستیاں ہیں جو کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ صفی الرحمٰن مبارک پوری لکھتے ہیں :”خیبر مدینہ سے شمال کی طرف اسی (80) میل کے فاصلے پر ایک بہت بڑا شہر تھا ، جس میں کئی قلعے اور بہت سے باغات تھے۔ ابن اسحاق نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس آکر مدینہ میں ذوالحجہ اور محرم کا کچھ حصہ ٹھہرے، پھر محرم کے باقی دنوں میں خیبر کی طرف نکلے۔“ (الرحیق المختوم) ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں :(افتحنا خبیر ولم نعنم ذھبا ولا فضۃ ، انما غنمنا البقر و الابل والمتاع والحوائط) (بخاری المغازی، باب غزوۃ خبیر، 2323)”ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
یہ بیعت رضوان ہے یہ حدیبیہ میں ہوئی۔ اختصار کے ساتھ حدیبیہ کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ مصطلق سے واپسی پر شوال میں مدینہ طیبہ میں مقیم رہے اور ذی قعدہ میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ کی طرف نکلے آپ نے مدینہ طیبہ کے پڑوس میں رہنے والے بدوں کو بھی اس سفر میں شریک ہونے کی دعوت دی تو ان میں سے اکثر اس میں شریک نہ ہوئے نبی کریم ﷺ مہاجرین، انصار اور عربوں میں سے جو آپ کے ساتھ شریک ہوئے انہیں لے کر روانہ ہوئے مجموعی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کے علاوہ بھی قول کیا گیا ہے جس کی وضاحت بعد میں آئے گی آپ نے قربانی کے جانور بھی ساتھ لئے رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
واما قولہ تعالیٰ : (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین “
بیت الرضوان کا تذکرہ :
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم قیلولہ کرنے والے تھے اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی اے لوگو ! بیعت کے لئے آؤ جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے (کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرو) ہم رسول اللہ ﷺ کے طرف دوڑ کر آئے اور آپ ببول کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ہم نے آپ سے بیعت کی اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین اذیبایعونک “ (بےشک اللہ مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے) حضرت عثمان ؓ کے لئے آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو…
Read the full tafseer →وَّمَغَانِمَ كَثِيْرَةً [ اور بہت سی غنیمتیں کا ] [يَّاْخُذُوْنَهَا ۭ : تم لوگ حاصل کرو گے جن کو ] [وَكَانَ اللّٰهُ : اور اللہ ہے ] [عَزِيْزًا حَكِيْمًا : بالادست حکمت والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
بیعت رضوان والوں کی فضیلت، ان سے فتح و نصرت اور اموال غنیمت کا وعدہ
ان آیات میں بیعت رضوان کا ذکر ہے حضرات صحابہ کرام ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر بیعت لی تھی کہ جنگ ہونے کی صورت میں ہم ہر طرح سے آپ کا ساتھ دیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے جم کر لڑیں گے اللہ جل شانہٗ نے اعلان فرما دیا کہ جن مومنین نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ ان حضرات کے لیے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ مل گیا رہتی دنیا تک کے لیے قرآن پڑھنے والے تمام اشخاص و افراد کے سامنے بار بار اعلان سامنے آتا رہے گا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بیعت کرنے والوں سے راضی ہے حضرت جابر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
17:۔ ” لقد ؓ “ حصہ اول کے مضامین میں سے بشارت مؤمنین کا اعادہ ہے۔ اور ” المومنین “ سے وہ صحابہ کرام ؓ مراد ہیں جنہوں نے مقام حدیبیہ کے ایک درخت کے نیچے رسول خدا ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، یہ بیعت، بیعۃ الرضوان کے نام سے مشہور ہے، کیونکہ اس بیعت میں شریک ہونے والوں کے لیے اللہ کی رضا اور خوشنودی کا پروانہ نازل ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اہل مکہ کے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا۔ ان کی واپسی میں دیر ہوگئی اور یہ خبر پھیل گئی کہ مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا ہے جب یہ خبر آنحضرت ﷺ پہنچی تو فرمایا قتل عثمان کا فوری بدلہ لیے بغیر ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چناچہ آپ نے تمام صحابہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…
Read the full tafseer →وَّمَغَانِمَ كَثِيْرَۃً يَّاْخُذُوْنَہَا 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا 19
غنم
الغَنَمُ معروف . قال تعالی: وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما [ الأنعام/ 146] . والغُنْمُ : إصابته والظّفر به، ثم استعمل في كلّ مظفور به من جهة العدی وغیرهم . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنفال/ 41] ، فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالًا طَيِّباً [ الأنفال/ 69] ، والمَغْنَمُ : ما يُغْنَمُ ، وجمعه مَغَانِمُ. قال : فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثِيرَةٌ [ النساء/ 94] .
( غ ن م ) الغنم
بکریاں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترکیب : اذ ظرف لرضی تحت الشجرۃ ظرف لیبایعونک ومغانم منصوب لکونہ معطوفاعلی فتحا قریبا ای اثابھم مغانم اواتاھم مغانم ولتکون ھذہ الکفۃ اوالغنیمۃ والعطف علی محذوف ھو علۃ الکف ای فعل مافعل من التعجیل والکف لتکون نافعۃ لھم و آیۃ لھم وقیل ان الواومزیدۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ اور اس کے بعدان اعراب کی محرومی ذکر کی تھی کہ جو شریک نہ ہوئے تھے۔ اب ان اہل صدق و ایمان کی بیعت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا فقال لقدرضی اللہ عن المؤمنین کہ اللہ ایمانداروں سے خوش ہوگیا کہ جو اے محمد ﷺ ! تجھ سے درخت تلے بیعت کر رہے تھے پھر ان کے دلوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْیُبَایِعُوْنَـکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا۔ وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 18، 19)
(اللہ راضی ہوگیا مومنوں سے جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے ایک درخت کے نیچے، تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، تو اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔ اور بہت سی غنیمتوں سے بھی جن کو وہ حاصل کریں گے اور اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ )
صحابہ کرام کا اعزاز اور ان کی قربانیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
فہم القرآن
ربط کلام : معذور لوگوں کو جہاد سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد جہاد میں شریک ہونے والے مجاہدین کے لیے انعام کا اعلان۔
قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب بیان ہے کہ کبھی واقعہ کی جزیات پہلے بیان کی جاتی ہیں اور اس کا مرکزی مضمون بعد میں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کے دل میں جستجو پیدا ہو اور وہ فکری طور پر لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتا ہوا واقعہ کے مرکزی مضمون اور اس کی اصل روح تک پہنچ جائے۔ اس لیے صلح حدیبیہ سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کیا اور اب واضح الفاظ میں صلح حدیبیہ کا ذکر کیا جاتا ہے جسے بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس صلح پر اپنی تائید اور خوشنودی کا اظہار…
Read the full tafseer →آیت 19 : وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا (اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے) یہ غنائم خیبر ہیں۔ سرزمین خیبر کھیتیوں اور اموال والی زمین ہے۔ اس کو آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں تقسیم فرما دیا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست) وہ حفاظتوں والا ہے کہ اس پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔ حَکِیْمًا (بڑا حکمت والا ہے) جس میں وہ فیصلہ کرتا ہے اس کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد
18 ۔” لقد ؓ عن المومنین اذ یبایعونک “ حدیبیہ میں اس بات پر کہ وہ قریش سے قتال کریں گے اور بھاگیں گے نہیں۔ ” تحت الشجرۃ “ اور یہ ببول کا درخت تھا۔ سعید ابن المسیب (رح) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ فرماتے ہیں پس جب ہم آئندہ سال نکلے تو ہم اس کو بھول گئے، پس ہم اس پر قادر نہ ہوسکے اور روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ درخت کے ختم ہونے کے بعد وہاں سے گزرے تو فرمایا کہاں تھا ؟ تو بعض کہنے لگے یہاں تھا اور بعض کہنے لگے وہاں تھا۔ پس جب ان کا اختلاف زیادہ ہوگیا تو آپ…
Read the full tafseer →19۔ اللہ کے نزدیک اس صلح میں بڑی مصلحتیں تھیں جن مصلحتوں کے سمجھنے سے انسان کی عقل قاصر ہے علاوہ اور مصلحتوں کے یہ کتنی بڑی مصلحت تھی کہ اس صلح کی جو باتیں ظاہر میں مسلمانوں کو شاق اور گراں معلوم ہوئیں آخر کو انجام ان باتوں کا مسلمانوں کے حق میں بہت اچھا ہوا چناچہ صلح حدیبیہ کی یہ شرط کہ جو شخص مشرکوں کی طرف سے صلح کی مدت کے اندر مسلمان ہو کر مسلمانوں کی طرف چلا آئے گا وہ مشرکوں کے حوالہ کردیا جائے گا بڑی سخت اور ناگوار شرط مسلمانوں کو معلوم ہوتی تھی اور اس شرط کے موافق ابو جندل اور ابو بصیر کا مشرکوں کے حوالہ کرنا مسلمانوں کو ابتدا میں شاق گزرا لیکن جب ابو بصیر اور ابو جندل نے کچھ لوگ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ “ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ ﷺ کی آمت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
بیعت رضوان صحابہ کرام ؓ کے پختہ ایمان پر دلالت کرتی ہے
قول باری ہے (لقد ؓ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھوں پر بیعت کررہے تھے) اس میں ان مسلمانوں کے ایمان کی صحت پر دلالت موجود ہے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر حضور ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔
آیت سے ان کی بصیرت کی پختگی پر بھی دلالت ہورہی ہے۔ یہ لوگ متعین افراد تھے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ان کی تعداد پچیس سو تھی اور حضرت جابر ؓ کے قول کے مطابق پندرہ سو تھی۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سچ مچ اہل ایمان تھے اور اللہ کے دوست تھے…
Read the full tafseer →[ 46] شرکائے حدیبیہ کیلئے بہت سی غنیمتوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے نواز دیا ان کو دوسری بہت سی غنیمتوں سے جن کو یہ بآسانی حاصل کریں گے صلح حدیبیہ کی اس عظم الشان فتح [ یعنی فتح مبین ] کے بعد، جس میں فتح مکہ بھی آگئی، اور اس سے پہلے فتح خیبر بھی، جس میں یہود کی بہت سی اور عظیم الشان غنیمتوں سے ان حضرات کو نوازا گیا تھا، جو بیعت الرضوان کے اس شرف عظیم سے مشرف ہوئے تھے [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] سو یہ صلہ و بدلہ تھا ان کی بےمثال اطاعت و اتباع کا، پس صدق و اخلاص اور خاص کر اپنے خالق ومالک کے ساتھ صدق و اخلاص انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور کرنے والی چیز ہے، وباللّٰہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بہترین انعامات کی خوشخبری
تشریح : نبی مکرم ﷺ کا مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ جانا اور پھر حالات و واقعات کے مطابق بیعت رضوان کا واقعہ پیش آنا یہ سب تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مگر یہ منظر کہ کس ذوق و شوق اور رضائے الہٰی و رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مومنین اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے تمام دنیاوی عیش و عشرت سے بےنیاز بیعت رسول ﷺ کے لیے جمع ہونے لگے۔ بڑا ہی دلکش منظر تھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے انتہائی خوش ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم نے ان پر اپنی نعمتیں برسادیں۔
پہلی نعمت : تو یہ کہ ان کو سکون دل عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
آیات 18 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔
بیعت رضوان کا درخت۔
یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…
Read the full tafseer →ف 4 ومعالم کثیرۃ “ بدل من فتحاً قریباً والوائو مقحمۃ) چناچہ حدیبیہ کے تین اور بعد ہی رسول اللہ خیبر کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا۔ بہت سا مال غنیمت مانوں کے ہاتھ آیا اور اس کے علاوہ بہت سے باغ بھی ملے اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا ان مسلمانوں پر جنہوں نے حدیبیہ کی کٹھن مہم میں آنحضرت کا ساتھ دیا تھا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(48:19) ومغانم کثیرۃ۔ واؤ عاطفہ۔ مغانم کثیرۃ موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی اثاب کا۔ مغانم پر تنوین بوجہ غیر منصرب ہونے کے نہیں آئی (ملاحظہ ہو آیت متذکرۃ الصدر) منصوب بوجہ فتحا قریبا کے معطوف ہونے کے ہے اور بہت سی نعمتیں بھی دے گا جن کو وہ لیں گے (یاخذنھا۔ اس میں ضمیر فاعل مومنون کی طرف راجع ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مغانم کثیرۃ کی طرف راجع ہے) ان مغانم سے مراد خیبر کی فتح اور اس کے اموال غنیمت ہیں ۔
(اور یہ انعام صرف ان مؤمنوں کے لئے مخصوص تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے)
عزیزا حکیما : کان کی خبر۔ زبردست، حکمت والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔
رضی (راضی ہوگیا) ۔ تحت الشجرۃ (درخت کے نیچے) ۔ السکینتہ (اطمینان و سکون) ۔ اثاب (اس نے بدلہ دیا۔ پلٹا دیا) ۔ عجل (اس نے جلدی کی ) ۔ کف (اس نے روک لیا) ۔ اخری (دوسری) ۔ لم تقدروا ( تم نے قابو نہیں پایا) ۔
تشریح : آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش نے اس غلط فہمی کا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ اہل ایماں عمرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کفار قریش کو سفارتی سطح پر سمجھانے کی کوشش کی اور بتا دیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے جنگ کرنا نہیں۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
بیعت کرنے والوں کا ذکر۔
(ف 1) حدیبیہ چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اسی لیے اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں اس بیعت کا سبب اسباب ظاہریہ پیش آیا کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی ؓ کو اشراف قریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ نبی ﷺ بیت اللہ کی زیارت کے لیے بقصد عمرہ تشریف لائے ہیں آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے ، اور یہ بھی فرمایا دیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب فرمائے گا قریش اس بات پر متفق رہے کہ نبی ﷺ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی ؓ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ…
Read the full tafseer →[14] یعنی فتح خیبر جو حدیبیہ سے واپسی کے فوراً بعد مل گئی اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ خیبر مدینہ سے سو میل کے فاصلے پر شام کے راستے پر یہودیوں کی ایک مستحکم گڑھی تھی جہاں دولت مند یہودیوں کی ایک بستی آباد تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 2: ببول کے درخت کے نیچے سرفروشوں کی ایک مخلص جماعت نے حضرت عثمان ؓ کے انتقام لینے کے لئے یعنی ایک مسلمان کی عزت و حرمت پر جان نچھاور کردینے کے لئے ایک عہد کیا تھا ۔ یہ عہد بیعتہ رضوان سے موسوم ہوا ۔ اور اب تک قرآن کے لازوال اوراق میں اس عہد کا تذکرہ ہے ۔ اور ہمیشہ تک ان کی اس وفاداری اور خلوص کا چرچا رہے گا ۔ باقی صفحہ
یہ پاکبازلوگ وہ تھے ۔ جن پر اللہ نے اپنا فضل وکرم کیا ۔ اور ان کو اپنی رضا کا تمغہ عنایت فرمایا ۔ کیونکہ انہوں نے اس کو خوش کرنے کے لئے اپنی زندگی تک قربان کردینے کا تہیہ کرلیا ۔ فرمایا ۔ اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی ۔ اور فتح خیبر کی خوش خبری سنائی
حل لغات :۔ حرج ۔ مضائقہ…
Read the full tafseer →(19) اور بکثرت غنیمتیں بھی دیں جن کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 6۔ جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش نہیں ہوا۔
1۔ مراد اس سے فتح خیبر ہے۔
Read the full tafseer →بعض سرایا و غزوات میں دشمنوں سے بہت نتائج حاصل ہونے کی پیش گوئی
19 ؎ فتح مکہ کی اطلاع کے بعد ایک مزید فتح کی پیش گوئی بیان کی جا رہی ہے کہ فتح مکہ کے علاوہ مسلمانوں کو ایک ایسی فتح بھی نصیب ہوگی جس میں مسلمانوں کو اتنا مال غنیمت حاصل ہوگا کہ ان کی ساری خشکی دور ہوجائے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ یہ لوگ مسلمانوں ہی کی خاطر یہ مال جمع کرتے رہے تھے۔ زیر نظر آیت میں جن اموال غنیمت کی طرف اشارہ دیا گیا ہے یہ اشارہ بلاشبہ جنگ خیبر پر ہی صادق آتا ہے کیونکہ جو اموال جنگ خیبر سے مسلمانوں کو ملے وہ اگر اکٹھے کیے جائیں تو اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں ان سب کی غنائم اکٹھی کی جائیں تو بھی خیبر سے ملنے والے…
Read the full tafseer →وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا (and many spoils that they would receive...48:19) This clause refers to the great booty that fell into the hands of Muslims during the conquest of Khaibar.
Read the full tafseer →34 The reference is to the conquest of Khaiber and its rich spoils and this verse expressly points out that AIlah had reserved this reward only for those People who had taken part in the Bai at Ridwan; apart from them no one else was entitled to take part in the victory and have a share in the spoils. That is why when the, Holy Prophet marched out to attack Khaiber in Safar, A.H. 7, he took only those people with him. No doubt afterwards he gave some of the spoils of Khaiber to those emigrants also who returned from Habash and to some Companions from the Dus and Ash'ar tribes as well, but…
Read the full tafseer →