Al-Fath 48:18

Al-Fath · from ayah 18

48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا ۟ۙلَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا

(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Certainly was Allah pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muhammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquillity upon them and rewarded them with an imminent conquest

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:18

اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کردی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بیشک اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اسے معلوم ہوگیا لہذا اس نے ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب کہ وہ تم سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا تو اتاری ان پر طمانیت اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ راضی ہوگیا ان (خوش نصیب) ایمانداروں سے جو بیعت کر رہے تھے آپ ﷺ سے (اے پیغمبر !) اس درخت کے نیچے سو اللہ نے جان لیا جو کچھ (صدق و اخلاص) ان کے دلوں میں تھا اور اس نے نازل فرما دی ان پر سکون (و اطمینان) کی کیفیت اور اس نے نواز دیا ان کو اس کے (صلہ و) عوض میں قریب ہی ملنے والی ایک عظیم الشان فتح (و کامرانی) سے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ خوش ہوا ان مسلمانوں سے جب کہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے درخت کے نیچے اور اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا سو اللہ نے ان میں اطمینان پیدا کردیا اور ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح بھی دے دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا } تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کردی اور انہیں (بدلے میں) ایک قریبی فتح بخشی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ﷺ جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا اور جو سچائی اور خلوص ان کے دل میں تھا وہ اللہ کو معلوم تھا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت فرمائی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah was much pleased with the believers when they swore fealty to you under the tree. He knew what was in their hearts. So He bestowed inner peace upon them and rewarded them with a victory near at hand

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah was pleased with the believers when they were pledging allegiance with you (by placing their hands in your hands) under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them, and rewarded them with a victory, near at hand,

— Muhammad Taqi Usmani

Allah was pleased with the believers when they were pledging allegiance with you (by placing their hands in your hands) under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them, and rewarded them with a victory, near at hand,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed, Allah was pleased with the believers when they gave the pledge to you under the tree, He knew what was in their hearts, and He sent down As-Sakinah upon them, and He rewarded them with a near victory.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah was well pleased with the believers when they swore allegiance unto thee beneath the tree, and He knew what was in their hearts, and He sent down peace of reassurance on them, and hath rewarded them with a near victory;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Certainly was Allah pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muhammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquillity upon them and rewarded them with an imminent conquest

— Saheeh International

God is pleased with the believers for their pledging obedience to you under the tree. He knew whatever was in their hearts, thus, He granted them confidence and rewarded them with an immediate victory

— Muhammad Sarwar

Certainly Allah was well pleased with the believers when they swore allegiance to you under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquillity on them and rewarded them with a near victory,

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly well-pleased was Allah with the believers when they sware fealty Unto thee under the tree, and he knew that which was in their hearts, wherefore He sent down tranquillity on them, and rewarded them with a victory near at hand.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah's Good Pleasure was on the Believers when they swore Fealty to thee under the Tree: He knew what was in their hearts, and He sent down Tranquillity to them; and He rewarded them with a speedy Victory;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ حضرت عبدالرحمن نے واپس آکر یہ قصہ حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا پھر حضرت سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 32 یہاں پھر اسی بیعت کا ذکر ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجعمین سے لی گئی تھی۔ اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خوش خبری سنائی ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہوگیا جنہوں نے اس خطرناک موقع پر جان کی بازی لگا دینے میں ذرہ برابر تامل نہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سرفروشی کی بیعت کر کے اپنے صادق الایمان ہونے کا صریح ثبوت پیش کردیا۔ وقت وہ تھا کہ مسلمان صرف ایک ایک تلوار لیے ہوئے آئے تھے۔ صرف چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ جنگی لباس میں بھی نہ تھے بلکہ احرام کی چادریں باندھے ہوئے تھے۔ اپنے جنگی مستقر (مدینہ) سے ڈھائی سو میل دور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر تحقیق اللہ ان مسلمانوں سے (جو آپ کے ہم سفر ہیں) خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے (جہاں میں ثابت قدم رہنے پر) بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ (اخلاص اور عہد کو پورا کرنے کا عزم) تھا اللہ کو وہ بھی معلوم تھا اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے ان (کے قلب) میں اطمینان پیدا کردیا (جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش یا تردد نہیں ہوا۔ یہ تو معنوی نعمتیں ہوئیں) اور (اس کے ساتھ کچھ محسوس نعمتیں بھی دی گئیں جن میں معنوی نعمتیں بھی شامل تھیں، چنانچہ) ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی (مراد اس فتح سے فتح خیبر ہے) اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

لقد ؓ عن المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثا بھم فتحاً قریباً ومغانم کثیرۃ یا خذونھا وکان اللہ عزیزاً حکیماً 19-18 جاں بازوں کا صلہ نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر چکنے کے بعد اس بیعت کے حقوق سے گریز اختیار کرنے والوں کے ذکر کے بعد یہ ان لوگوں کا بیان ہے جنہوں نے نہایت نازک حالات میں آپ کے ہاتھ پر حدیبیہ میں جہاد کی بیعت کی اور اس بیعت کا پورا پورا حق ادا کیا۔ ان بیعت کرنے والوں کے ذکر کا آغاز ہی لقد ؓ عن المومنین کے الفاظ سے فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جانبازوں کی اس بیعت ہی نے اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ایسی قدر کی جگہ پائی کہ ان کے لئے ابدی خوشنودی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لیے رضائے الہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ 18۔ 2 یعنی ان کے دلوں میں جو صدق و صفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ اکرام کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔ 18۔ 3 یعنی وہ نہتے تھے جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے اس لیے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے اس کے باوجود جب نبی ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کا بدلہ لینے کے لیے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنی تامل سب لڑنے کے لیے تیار ہوگئے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–19

15: یہ اسی بیعت رضوان کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے حدیبیہ کے مقام پر ببول کے ایک درخت کے نیچے لی تھی، اور جس کا ذکر سورت کے تعارف میں آچکا ہے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان حضرات نے یہ بیعت دل سے پورے عزم کے ساتھ کی تھی، وہ منافقوں کی طرح جھوٹا عہد کرنے والے نہیں تھے۔ 16: اس سے مراد خیبر کی فتح ہے، اس سے پہلے مسلمان دو طرفہ خطرے سے دوچار تھے، جنوب میں قریش مکہ کی طرف سے ہر وقت حملوں کا خطرہ رہتا تھا جس کا سد باب حدیبیہ کی صلح کے ذریعے ہوا، اور شمال میں خیبر کے یہودی تھے جو ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں نے حدیبیہ کے موقع پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 245 ایک نظر میں یہ پورا سبق مومنین کی باتوں پر مشتمل ہے۔ مومنین کے ساتھ مکالمہ ہے۔ اس مجموعے کے ساتھ مکالمہ جس نے درخت کے نیچے حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ، اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ حاضر تھا اور اس کا گواہ تھا ، اور اس بیعت کی تصدیق و توثیق کرنے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ صحابہ کرام ؓ کا وہ گروہ جنہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو یہ فر ما رہا ہے : لقد ؓ ۔۔۔۔۔۔ فتحا قریبا (48 : 18) “ اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا ، اس لیے اس نے ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 وہ کیکر کا درخت تھا حدیبیہ میں۔ غالباً " لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ " الخ فرمانے کی وجہ ہی سے اس بیعت کو " بیعت الرضوان " کہتے ہیں۔ شروع سورت میں اس کا مفصل قصہ گزر چکا۔ 9 یعنی ظاہر کا اندیشہ اور دل کا توکل، حسن نیت، صدق و اخلاص اور جب اسلام وغیرہ۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے " مافی قلوبہم " سے یہ ہی مراد لیا ہے مگر ابو حیان کہتے ہیں کہ صلح اور شرائط صلح کی طرف سے دلوں میں جو رنج و غم اور اضطراب تھا وہ مراد ہے اور آگے " فانزل السکینۃ علیہم " اس پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب آئندہ آیات میں اسی مضمون کا تسلسل ہے جو پہلے رکوع میں { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَط } آیت 10 کے الفاظ سے شروع ہوا تھا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حکمت الٰہی کے پیش نظر اس مضمون کا سلسلہ درمیان سے منقطع کرکے بعد میں نازل ہونے والی آیات کو وہاں جگہ دے دی گئی اور اب آیت 18 سے دوبارہ وہی مضمون شروع ہو رہا ہے۔ آیت 18 { لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ”اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے ‘ درخت کے نیچے ‘ تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 صحابہ کرام ؓ پر طعن کرنے والے ؟ اس آیت کا آغاز ( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ ) سے ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان پڑگیا یعنی ایسی مخلصانہ اور سرفروشانہ بیعت جس پر اللہ نے ان لوگوں کو اپنی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا۔ اور بعض احادیث میں صراحت سے یہ مذکور ہے کہ اس بیعت میں حصہ لینے والے سب جنتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ان صحابہ کرام کے ایمان میں بھی شک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ بلاشبہ یہ لوگ بیعت رضوان کے وقت تو اسلام کے وفادار اور اس کے لئے مخلص تھے مگر بعد میں بےوفاثابت ہوئے۔ گویا ان لوگوں نے پہلا الزام تو ان عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ پر لگایا تھا۔ دوسرا اللہ تعالیٰ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ اشارہ فتح خبیر کی جانب ہے۔ خیبر، مدینہ سے سومیل کے فاصلہ پر، شام کے راستہ پر یہود کی ایک مستحکم گڑھی تھی، اور یہیں دولت مند پر قوت یہود کی ایک بستی بھی آباد تھی، اس جنگ میں کل 19 مسلمان شہید ہوئے، یہود کے 93 آدمی کام آئے۔ اور زمین حجاز پر ان کا سب سے زیادہ مضبوط قلعہ مسخر ہوگیا۔ (آیت) ” اذ یبایعونک “۔ اس بیعت کا ذکر ہے جو آپ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں مسلمانوں سے عزم جہاد پر حضرت عثمان ؓ کی خبرشہادت سن کرلی تھی، اسی بیعت کا مشہور نام بیعت الرضوان ہے۔ (آیت) ” لقد ..... ال مومنین “۔ یہ ان خوش نصیب مومنین کیلئے مستقل پروانہ رحمت ہے ... اللہ اللہ، محض جہاد پر اصل جہاد کا اجر دے دیا۔ آیت ان اصحاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–26

ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد ؓ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثابھم فتحًا قریبًا۔ بیشک اللہ مسلمانوں سے خوش ہوا ‘ جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت (الشجرہ) کے نیچے بیعت کر ہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ‘ اللہ کو وہ بھی معلوم تھا۔ پس اللہ نے ان کیلئے اطمینان پیدا کردیا اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح عنایت کی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب اللہ تعالیٰ اصحاب بیعۃ الرضوان سے اپنی خوشنودی کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ درخت سمرہ کے نیچے جہاد میں ثابت قدم رہنے پر رسول اکرم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ اخلاص اور عزم علی الوفاء تھا اللہ تعالیٰ وہ بھی جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا اور حمیت کو ختم کردیا اور ان کے لگے ہاتھ فتح خیبر بھی دے دی۔ شان نزول : لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ) ابن ابی حاتم نے سلمہ بن اکوع سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم دوپہر کو لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اکرم کے منادی نے آواز دی کہ لوگو بیعت روح القدس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لقد ؓ عن المومنین…: اس سے پہلے ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ میں حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دینے کے بعد اس سے پیچھے رہنے والوں کا حال بیان فرمایا، اب دوبارہ بیعت کرنے والوں پر اپنی رضا کا اور دوسری بشارتوں کا ذکر فرمایا۔ (2) اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کو بیعت کے وقت ہی کائنات کی سب سے بڑی نعمت مل گئی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں، جیسا کہ فرمایا :(ورضوان من اللہ اکبر) (التوبۃ : 82)”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنوید سب سے بڑی ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لقد ؓ المومنین…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

یہ بیعت رضوان ہے یہ حدیبیہ میں ہوئی۔ اختصار کے ساتھ حدیبیہ کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ مصطلق سے واپسی پر شوال میں مدینہ طیبہ میں مقیم رہے اور ذی قعدہ میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ کی طرف نکلے آپ نے مدینہ طیبہ کے پڑوس میں رہنے والے بدوں کو بھی اس سفر میں شریک ہونے کی دعوت دی تو ان میں سے اکثر اس میں شریک نہ ہوئے نبی کریم ﷺ مہاجرین، انصار اور عربوں میں سے جو آپ کے ساتھ شریک ہوئے انہیں لے کر روانہ ہوئے مجموعی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کے علاوہ بھی قول کیا گیا ہے جس کی وضاحت بعد میں آئے گی آپ نے قربانی کے جانور بھی ساتھ لئے رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

واما قولہ تعالیٰ : (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین “ بیت الرضوان کا تذکرہ : 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم قیلولہ کرنے والے تھے اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی اے لوگو ! بیعت کے لئے آؤ جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے (کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرو) ہم رسول اللہ ﷺ کے طرف دوڑ کر آئے اور آپ ببول کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ہم نے آپ سے بیعت کی اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) لقد ؓ عن المؤمنین اذیبایعونک “ (بےشک اللہ مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے) حضرت عثمان ؓ کے لئے آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ [ بیشک راضی ہوگیا اللہ ] عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ان مومنوں سے ] اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ [ جب وہ بیعت کرتے تھے آپ سے ] تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ اس درخت کے نیچے ] فَعَلِمَ [ تو اس نے جانا ] مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ اس کو جو ان کے دلوں میں تھا ] فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ [ تو اس نے اتاری سکون کیفیت ان پر ] وَاَثَابَهُمْ [ اور اس نے بدلے میں دیا ان کو ] فَتْحًا قَرِيْبًا [ ایک قریبی فتح ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–20

بیعت رضوان والوں کی فضیلت، ان سے فتح و نصرت اور اموال غنیمت کا وعدہ ان آیات میں بیعت رضوان کا ذکر ہے حضرات صحابہ کرام ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر بیعت لی تھی کہ جنگ ہونے کی صورت میں ہم ہر طرح سے آپ کا ساتھ دیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے جم کر لڑیں گے اللہ جل شانہٗ نے اعلان فرما دیا کہ جن مومنین نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ ان حضرات کے لیے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا تمغہ مل گیا رہتی دنیا تک کے لیے قرآن پڑھنے والے تمام اشخاص و افراد کے سامنے بار بار اعلان سامنے آتا رہے گا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بیعت کرنے والوں سے راضی ہے حضرت جابر ؓ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–26

بیعت الرضوان و فضائل اہل بیعت مع بشارت انعام خداوندی بعطاء غنائم و غلبہ اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ؓ عن ال مومنین ....... الی ...... بکل شیء علیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان اعراب ومتخلفین کا ذکر تھا جو جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرکے حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے انکی باطنی گندگی اور قبائح کے ذکر کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے جس وعید اور تنبیہ کے وہ مستحق تھے بیان کی گئی تھی اب اس گروہ کے بالمقابل ان مخلصین ومطیعین اور جانثاروں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم زندگی کے آخری سانس تک رسول خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آخری دم تک ہر طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

17:۔ ” لقد ؓ “ حصہ اول کے مضامین میں سے بشارت مؤمنین کا اعادہ ہے۔ اور ” المومنین “ سے وہ صحابہ کرام ؓ مراد ہیں جنہوں نے مقام حدیبیہ کے ایک درخت کے نیچے رسول خدا ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، یہ بیعت، بیعۃ الرضوان کے نام سے مشہور ہے، کیونکہ اس بیعت میں شریک ہونے والوں کے لیے اللہ کی رضا اور خوشنودی کا پروانہ نازل ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اہل مکہ کے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا۔ ان کی واپسی میں دیر ہوگئی اور یہ خبر پھیل گئی کہ مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا ہے جب یہ خبر آنحضرت ﷺ پہنچی تو فرمایا قتل عثمان کا فوری بدلہ لیے بغیر ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چناچہ آپ نے تمام صحابہ ؓ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–23

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَۃَ عَلَيْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا۝ 18 ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–20

ترکیب : اذ ظرف لرضی تحت الشجرۃ ظرف لیبایعونک ومغانم منصوب لکونہ معطوفاعلی فتحا قریبا ای اثابھم مغانم اواتاھم مغانم ولتکون ھذہ الکفۃ اوالغنیمۃ والعطف علی محذوف ھو علۃ الکف ای فعل مافعل من التعجیل والکف لتکون نافعۃ لھم و آیۃ لھم وقیل ان الواومزیدۃ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ اور اس کے بعدان اعراب کی محرومی ذکر کی تھی کہ جو شریک نہ ہوئے تھے۔ اب ان اہل صدق و ایمان کی بیعت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا فقال لقدرضی اللہ عن المؤمنین کہ اللہ ایمانداروں سے خوش ہوگیا کہ جو اے محمد ﷺ ! تجھ سے درخت تلے بیعت کر رہے تھے پھر ان کے دلوں کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْیُبَایِعُوْنَـکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا۔ وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 18، 19) (اللہ راضی ہوگیا مومنوں سے جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے ایک درخت کے نیچے، تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، تو اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔ اور بہت سی غنیمتوں سے بھی جن کو وہ حاصل کریں گے اور اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ ) صحابہ کرام کا اعزاز اور ان کی قربانیوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–19

فہم القرآن ربط کلام : معذور لوگوں کو جہاد سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد جہاد میں شریک ہونے والے مجاہدین کے لیے انعام کا اعلان۔ قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب بیان ہے کہ کبھی واقعہ کی جزیات پہلے بیان کی جاتی ہیں اور اس کا مرکزی مضمون بعد میں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کے دل میں جستجو پیدا ہو اور وہ فکری طور پر لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتا ہوا واقعہ کے مرکزی مضمون اور اس کی اصل روح تک پہنچ جائے۔ اس لیے صلح حدیبیہ سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کیا اور اب واضح الفاظ میں صلح حدیبیہ کا ذکر کیا جاتا ہے جسے بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس صلح پر اپنی تائید اور خوشنودی کا اظہار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت بیعت ِرضوان : آیت 18 : لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ (تحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا۔ جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے) اسی آیت کی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان رکھا گیا۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ نبی اکرم ﷺ جب حدیبیہ میں نزول فرما ہوئے تو آپ نے حواس بن امیہ الخزاعی کو اہل مکہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اس پر حملہ کا ارادہ کیا۔ تو احابیش اس میں رکاوٹ بن گئے۔ جب وہ واپس لوٹے تو رسول اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو بلایا تاکہ ان کو قاصد بنا کر بھیجیں۔ آپ نے عرض کیا مجھے ان کی طرف سے خطرہ ہے کیونکہ ان کے ساتھ میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” لیس علی الاعمیٰ حرج “ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے میں۔ ” ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ومن یطع اللہ ورسولہ یدخلہ جات تجری من تحتھا الانھار ومن یتول یعذبہ عذابا الیما “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

18۔ ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ بیعت کرنے والے ایمانداروں سے خوش ہوا اس واسطے اس بیعت کا نام بیعت رضوان مشہور ہے صحیح 1 ؎ مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جن لوگوں نے یہ بیعت کی ہے ان میں سے کوئی شخص دوزخ میں نہ جائے گا ‘ صحیح 2 ؎ مسلم میں جابر ؓ کی دوسری روایت ہے کہ جس پیڑ کے نیچے یہ بیعت ہوئی وہ پیڑ کی کر کا تھا اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ سوائے ایک شخص جد بن قیس انصاری کے اور سب موجودہ لوگوں نے بیعت کی یہ وہی جد بن قیس ہے جس کا ذکر سورة توبہ میں گزر چکا کہ تبوک کے سفر میں بھی یہ شخص شریک نہیں ہوا۔ معتبر سند سے طبقات ابن 3 ؎ سعد میں نافع سے روایت ہے کہ عمر ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–21

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کردیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ” بیعت رضوان “ کہا جاتا ہے اور سے ” بیعت اہل شجرہ “ بھی کہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہ ﷺ کی آمت کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے آئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 18–19

بیعت رضوان صحابہ کرام ؓ کے پختہ ایمان پر دلالت کرتی ہے قول باری ہے (لقد ؓ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھوں پر بیعت کررہے تھے) اس میں ان مسلمانوں کے ایمان کی صحت پر دلالت موجود ہے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر حضور ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ آیت سے ان کی بصیرت کی پختگی پر بھی دلالت ہورہی ہے۔ یہ لوگ متعین افراد تھے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ان کی تعداد پچیس سو تھی اور حضرت جابر ؓ کے قول کے مطابق پندرہ سو تھی۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سچ مچ اہل ایمان تھے اور اللہ کے دوست تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 41] بیعت رضوان والوں کیلئے اجر عظیم کا ذکر وبیان : سو اس سے بیعت رضوان والوں کے لیے رضاء خداوندی کے عظیم الشان اجر و انعام کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور لقد کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ راضٰ ہوگیا ان ایمان والوں سے جو آپ ﷺ کے ہاتھ پر [ اے پیغمبر !] بیعت کر رہے تھے، پس اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوگئیں، ایک یہ کہ جن حضرات نے اس بیعت میں شرکت فرمائی تھی وہ سب کے سب سچے پکے مومن تھے، اور دوسرے یہ کہ ان کو اللہ پاک کی رضا کا سرٹیفکیٹ مل گیا، اور اللہ ان سے راضی ہوگیا، اسی لئے اس بیعت کو بیعت رضوان یعنی رضاء خداوندی والی بیعت کہا جاتا ہے، اور آیت کریمہ کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–21

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بہترین انعامات کی خوشخبری تشریح : نبی مکرم ﷺ کا مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ جانا اور پھر حالات و واقعات کے مطابق بیعت رضوان کا واقعہ پیش آنا یہ سب تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مگر یہ منظر کہ کس ذوق و شوق اور رضائے الہٰی و رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مومنین اللہ کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے تمام دنیاوی عیش و عشرت سے بےنیاز بیعت رسول ﷺ کے لیے جمع ہونے لگے۔ بڑا ہی دلکش منظر تھا کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے انتہائی خوش ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم نے ان پر اپنی نعمتیں برسادیں۔ پہلی نعمت : تو یہ کہ ان کو سکون دل عطا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–26

آیات 18 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ جل شانہ یقینا ان مومنین سے راضی ہوگیا اور ان کی جاں سپاری کے جذبہ کو قبول فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جب وہ آپ سے موت پر بیعت کر رہے تھے وہ اس لیے راضی ہوا کہ وہ ان کے قلبی خلوص کو جانتا تھا لہذا اس نے ان کے دلوں پر اطمینان نازل فرمایا۔ بیعت رضوان کا درخت۔ یہ ایک ببول کا درخت تھا مقام حدیبیہ پر جس کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی بعد میں لوگوں نے وہاں نماز پڑھنا شروع کردی اور زیارت کو جانے لگے مگر کسی نے حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت رضوان کی تھی وہ فرماتے تھے کہ ہم جب دوبارہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یہ اسی بیعت رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ نافع سے روایت ہے کہ جس درخت کے نیچے یہ بیعت ہوئی تھی لوگ اس کی زیارت کے لئے جانے لگے حضرت عمر کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس درخت کو کٹوا دیا ابو دائود ترمذی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” جس شخص نے اس بیعت میں حصہ لیا وہ ہرگز دوزخ میں نہ جائے گا۔ (شوکانی) جب ان صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دے دی ہے کہ میں ان سے خوش ہوں پھر وہ بڑا خبیث فرقہ ہے جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان کے ساتھ بغض و عداوت رکھے۔ (امام الہند) 3 تسلی سے مراد وہ قلبی اطمینان ہے۔ جس کی بنا پر ایک شخص کسی تردد کے بغیر اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:18) لقد۔ لام تاکید کا ہے قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور ماضی ہی کے ساتھ تقریب کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال سے نزدیک بنا دیتا ہے۔ سو لقد رضی اللّٰہ تحقیق اللہ راضی ہوا ہے۔ عن المؤمنین۔ یہاں مؤمنین سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اذ۔ ظرف زمان۔ جب ۔ جس وقت۔ یبایعونک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ بیعت کرتے ہیں۔ وہ بیعت کر رہے تھے۔ (مضارع بمعنی ماضی۔ البیع کے معنی بیچنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً شراء بمعنی بیع۔ وشروہ بثمن بخس وراھم معدودۃ اور اس کو تھوڑی سی قیمت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–21

لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ رضی (راضی ہوگیا) ۔ تحت الشجرۃ (درخت کے نیچے) ۔ السکینتہ (اطمینان و سکون) ۔ اثاب (اس نے بدلہ دیا۔ پلٹا دیا) ۔ عجل (اس نے جلدی کی ) ۔ کف (اس نے روک لیا) ۔ اخری (دوسری) ۔ لم تقدروا ( تم نے قابو نہیں پایا) ۔ تشریح : آیت نمبر (18 تا 21 ) ۔ ” صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش نے اس غلط فہمی کا زبردست پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ اہل ایماں عمرہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کفار قریش کو سفارتی سطح پر سمجھانے کی کوشش کی اور بتا دیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے جنگ کرنا نہیں۔ آخر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–19

بیعت کرنے والوں کا ذکر۔ (ف 1) حدیبیہ چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اسی لیے اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں اس بیعت کا سبب اسباب ظاہریہ پیش آیا کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی ؓ کو اشراف قریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ نبی ﷺ بیت اللہ کی زیارت کے لیے بقصد عمرہ تشریف لائے ہیں آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے ، اور یہ بھی فرمایا دیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب فرمائے گا قریش اس بات پر متفق رہے کہ نبی ﷺ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی ؓ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–18

[10] حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو خیبر کے مقام پر چڑھائی کا حکم ہوا جہاں غدار یہودی آباد تھے جو بدعہدی کر کے جنگ احزاب میں کفار کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جو لوگ حدیبیہ نہیں گئے تھے اب خیبر کے معرکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے کہ وہاں خطرہ کم اور مال غنیمت کی امید زیادہ ہے۔ [11] اللہ کے فرمان سے مراد اس کا یہ حکم کہ خیبر بجزاہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص فرما دی تھی جیسا کہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے۔ [12] یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے۔[13] یعنی تم ہمیں مارے حسد کے ساتھ نہیں لے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

جہاد کب تک جاری رہے گا ؟ 1: جہاد اسلامی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ اس وقت تک جاری رہیگا ۔ جس وقت تک کہ دنیا میں کفر موجود ہے ۔ اور کفر کے ساتھ آویزش ہے ۔ جب تک تاریکی اور ظلمت کا دور دورہ ہے ۔ جب تک مظالم کی حکومت ہے ۔ جب تک جبرواستبداد انسانوں میں تحقیر ومنافرت کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔ جب تک کہ ہیئت اجتماعیہ کو آزادی اور استقلال کی نعمتیں میسر نہیں ۔ جب تک کہ غلامی اور بندگی موجود ہے ۔ جب تک کہ انسان انسانوں پر ظلم وجور سے حکومت کرتے ہیں ۔ جب تک کہ زمین پر ذرہ بھر بھی ناانصافی موجود ہے ۔ جہاد کے معنے ایسی مساعی کو جاری رکھنے کے ہیں جن کی وجہ سے ظالم کا سر کچلاجائے ۔ سزاعنہ کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی ہوا جب کہ وہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے اور جو خلوص اور توکل ان بیعت کرنے والوں کی دلوں میں تھا اللہ تعالیٰ کو وہ بھی معلوم تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں پر سکینہ نازل فرمایا یعنی ان میں اطمینان قلب پیدا کردیا اور ان کو اس جرات ایمانی کے بدلے میں ایک ایسی فتح عنایت کی جو بہت ہی قریب تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

ف 6۔ جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش نہیں ہوا۔ 1۔ مراد اس سے فتح خیبر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بیعت رضوان میں شامل ہونے والوں کے لیے جنت کی واضح الفاظ میں بشارت 18 ؎ بیعت رضوان وہی ہے جس کا ذکر پیھے گزر چکا ہے جو میدان حدیبیہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے لی تھی جب یہ افواہ مشہور ہوئی کہ عثمان ؓ کو کفار مکہ نے شہید کردیا ہے۔ یہ بیعت آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کرلی تھی اسی لیے اسے بیعت الشجرہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ بہانے تراشنے والوں اور دوہری پوزیشن کے لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایمان کے مدعی ہونے کے باوجود کفر کو اسلام پر ترجیح دیتے ہیں اس لیے زیرنظر آیت میں ان جانبازوں اور سرفروشوں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے سردھڑ کی بازی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary لَّقَدْ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَ‌ةِ (Allah was pleased with the believers when they were pledging allegiance with you by placing their hands in your hands under the tree,...48:18). The reference in this verse is to the same pledge that was given at Hudaibiyah and which was referred to earlier in verse 10. Verse [ 18] reinforces verse [ 10.]. In verse [ 18] Allah announces that those sincere participants who took this solemn oath have obtained His pleasure. Therefore, the oath came to be known as bai` at-ur-Ridwan (that is, the pledge…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32 Here again the pledge taken from the Companions at Hudaibiyah has been mentioned. This is called Bai 'at Ridwan. for AIIah in this verse has given the good news that he became well pleased with those who on this dangerous occasion did not show the least hesitation in offering their lives for the cause of Islam and gave an express proof of their being true in their faith by taking the pledge on the hand of the Holy Prophet. The Muslims at this time were equipped only with a sword each. numbered only 1,400, were unprepared for warfare, but were donning the pilgrim garments, were 25 miles…

Read the full tafseer →