Explained with ayahs 16–17
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کونسی قوم ہے ؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیف ہے چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ایک…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 31
یعنی جس آدمی کے لیے شریک جہاد ہونے میں واقعی کوئی صحیح عذر مانع ہو اس پر تو کوئی گرفت نہیں، مگر ہٹے کٹے لوگ اگر بہانے بنا کر بیٹھ رہیں تو ان کو اللہ اور اس کے دین کے معاملہ میں مخلص نہیں مانا جاسکتا اور انہیں یہ موقع نہیں دیا جاسکتا کہ مسلم معاشرے میں شامل ہونے کے فوائد تو سمیٹتے رہیں، مگر جب اسلام کے لیے قربانیاں دینے کو وقت آئے تو اپنی جان و مال کی خیر منائیں۔
اس مقام پر یہ بات جان لینی چاہیے کہ شریعت میں جن لوگوں کو شریک جہاد ہونے سے معاف رکھا گیا ہے وہ دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو جسمانی طور پر جنگ کے قابل نہ ہوں، مثلا کم سن لڑکے، عورتیں، مجنون، اندھے، ایسے مریض جو جنگی…
Read the full tafseer →(آیت) لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب اوپر کی آیات میں جہاد کی شرکت سے ہٹنے والوں کے لئے عذاب کی وعید آئی (آیت) وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا، تو کچھ معذور لوگ جو صحابہ کرام میں تھے ان کو فکر ہوئی کہ ہم تو شرکت جہاد کے قابل نہیں، کہیں ہم بھی اس وعید میں شامل نہ ہوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اندھے، لنگڑے اور بیمار کو حکم جہاد سے مستثنیٰ کردیا گیا (قرطبی) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Read the full tafseer →لیس علی الاعمی حرج ولا علی اعراج حرج ولا علی المریض حرج و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر ج و من یتول یعذبہ عذاباً الیماً 17
معذورین کا ابیان
یہ ان معذورین کا بیان ہے جن کی جہاد سے غیر حاضری نفاق پر محمول نہیں کی جائے گی۔ فرمایا کہ اندھے لنگڑے اور مریض پر کوئی الزام نہیں ہے اگر وہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں، بشرطیکہ وہ صدق دل سے اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے تو اپنی اس مجبورانہ کوتاہی خدمت کے سبب سے جنت سے محروم نہیں کئے جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو بہشت میں داخل کرے گا اور اگر وہ اللہ و رسول سے اعراض کی روش اختیار کریں گے تو وہ بھی…
Read the full tafseer →17۔ 1 بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری۔ یہ دونوں عذر لازمی ہیں۔ ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنٰی کردیا گیا ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں وہ عارضی عذر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14: دیہات کے ان لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ آپ لوگوں کا خیبر کی جنگ میں شامل ہونا تو اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے، البتہ اس کے بعد ایک وقت آئے گا جب آپ لوگوں کو سخت جنگجو قوموں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی، اس وقت اگر آپ نے سچا مومن بن کر اسقامت سے کام لیا تو آپ کا یہ گناہ دھل جائے گا، اور اللہ تعالیٰ آپ کو ثواب عطا فرمائیں گے، اس میں وہ تمام جنگیں داخل ہیں جن میں کسی بڑی طاقت سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا، اور دیہات کے ان لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، صحابہ کرام سے منقول ہے کہ دیہات کے لوگوں کو یہ دعوت آنخصرت ﷺ کے بعد حضرت صدیق اکبر ؓ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کے عہد خلافت میں اس وقت دی گئی…
Read the full tafseer →اندھا اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے ۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔
اصل اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔
اصل بات تو اطاعت اور معصیت کی ہے اور جذبہ اطاعت اور نیت معصیت ایسے امور ہیں جن کا تعلق دل اور نفسیات سے ہے۔ ظاہری اشکال اور ظاہری عذرات سے نہیں ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اس کی جزاء جنت ہے اور جو منہ پھیرے گا اسے یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب الیم اس کے…
Read the full tafseer →6 یعنی جہاد ان معذور لوگوں پر فرض نہیں۔
7 یعنی تمام امور اور معاملات میں عام ضابطہ یہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17{ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ} ”ہاں کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ ہی کسی لنگڑے پر اور نہ ہی کسی مریض پر کوئی تنگی ہے۔“
اگر جسمانی لحاظ سے کوئی معذور شخص جہاد میں حصہ نہیں لیتا تو اس کی معذوری کے پیش نظر اس پر اس حوالے سے کوئی سختی نہیں کی جائے گی۔
{ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ داخل کرے گا اس کو ان باغات مین جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔“
{ وَمَنْ یَّـتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”اور جو…
Read the full tafseer →22 جہاد فرض عین نہیں :۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق تو محض حیلے بہانے کرتے ہیں۔ اصل معذور لوگ جنہیں جہاد سے رخصت ہے وہ ہیں جو جسمانی طور پر تندرست نہ ہوں۔ مثلاً اندھے، لنگڑے، اپاہج، بیمار، نابالغ، بچے اور ضعیف و ناتواں بوڑھے بزرگ مجنون اور فاتر العقل قسم کے لوگ۔ علاوہ ازیں کچھ اور عذر بھی شریعت کی نگاہ میں مقبول ہیں۔ مثلاً غلام یا ایسا تندرست جو تنگدستی کی وجہ سے سامان جنگ بھی مہیا نہ کرسکتا ہو۔ یا مثلاً ایسا شخص جس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اپنے بیٹے کی خدمت کا محتاج ہو۔ واضح رہے کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر جہاد میں شامل نہیں ہوسکتا۔…
Read the full tafseer →21۔ اطاعت وعراض دونوں راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ان دونوں کے ثمرات، نجات و عذاب بھی بالکل واضح ہیں۔ (آیت) ”‘ لیس .... المریض حرج “۔ یعنی یہ شرکت جہاد کا حکم علی الاطلاق ہر فرد کیلئے نہیں ہے۔ جو معذور یابیمار ہیں، وہ اس حکم سے شروع ہی سے مستثنی ہیں۔ عتاب تو صرف ان پر ہے جو بلاکسی عذر قوی کے خواہ مخواہ غیر حاضر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ومن یطع اللہ ورسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر ومن یتول یعذبہ عذابًا الیمًا نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانے گا تو اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ اور جو شخص (حکم سے) روگردانی کرے گا تو اللہ اسکو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
حَرَجٌ تنگی ‘ سختی اور ترک جہاد کا عذاب۔
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہِ یعنی جہاد وغیرہ میں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلے گا۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّ یعنی باوجود قدرت کے جو اطاعت سے…
Read the full tafseer →چناچہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو یہ محتاج لوگ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس جہاد سے پیچھے رہنے والے کو اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب سے ڈرایا ہے سو اب ہمارا کیا ہوگا ہم تو جہاد میں چلنے کی طاقت نہیں رکھتے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ جہاد میں عدم شرکت پر اندھے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے باقی جو شخص ظاہر و باطن میں حق تعالیٰ کی پیروی کرے گا اور دشمن سے قتال کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جس کے درختوں اور بالاخانوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔…
Read the full tafseer →(1) لیس علی الاعمی حرج …: ان تینوں میں سے اندھے اور لنگڑے کا عذر دائمی ہے اور بیمار کا عارضی، جو بیماری ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب کے بعد فرمایا کہ نابینا، لنگڑا اور بیمار اگر جہاد کے لئے نہ نکلیں تو ان پر کوئی حرج نہیں۔
(2) ومن یطع اللہ ورسولہ…: جو شخص واقعی عذر کی وجہ سے جہاد کے لئے نہ نکل سکے مگر خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا مطیع اور خیر خواہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ ایسے لوگ پیچھے رہنے کے باوجود جہاد میں شریک ہی سمجھے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة توبہ کی آیت (91):(ما علی المحسنین من سبیل) کی تفسیر…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب یہ آیت نازل تو اپاہج لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہمارا کیا حال ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی وہ لوگ جو نابینا ہونے، اپاہج ہونے اور کمزور ہونے کی بناء پر جہاد سے پیچھے رہتے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔ سورة برأۃ اور دوسری سورتوں میں اس بارے میں گفتگو مفصل گزر چکی ہے۔ عرج اس بیماری کو کہتے ہیں جو ایک ٹانگ کو لاحق ہوتی ہے جب ایک میں تکلیف موثر ہے تو دونوں ٹانگوں میں مرض بدرجہ اولی موثر ہوگی مقاتل نے کہا : مراد اپاہج لوگ ہیں جو حدیبیہ کی مہم میں شریک نہیں ہو سکے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معذور قرار دیا تھا۔ یعنی ان میں سے جو تمہارے ساتھ خیبر جانا چاتا ہے وہ…
Read the full tafseer →1:۔ الطبرانی نے سند حسن کے ساتھ زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے لکھا کرتا تھا اور میں قلم کو اپنے کان پر رکھتا تھا اچانک قتال کا حکم ہوا (پھر) اچانک ایک اندھا آیا اور اس نے کہا میرے لئے کیا حکم ہے اور میں نابینا ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” لیس علی الاعمی حرج “ الایہ پھر فرمایا یہ آیت جہاد کے بارے میں ہے ان پر کوئی جہاد نہیں جب وہ طاقت نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى [ نہیں ہے اندھے پر ] حَرَجٌ [ کوئی گناہ ] وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ [ اور نہ لنگڑے پر ] حَرَجٌ [ کوئی گناہ ہے ] وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ ۭ [ اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے ] وَمَنْ يُّطِعِ [ اور جو اطاعت کرے گا ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [ اللہ اور اس کے رسول کی ] يُدْخِلْهُ [ تو وہ داخل کرے گا اس کو ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۚ [ نہریں ] وَمَنْ يَّتَوَلَّ [اور جو روگردانی کرے گا ] يُعَذِّبْهُ [ تو وہ عذاب دے گا اس کو ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ ایک دردناک عذاب ]
Read the full tafseer →معذوروں سے کوئی مواخذہ نہیں، فرمانبرداروں کے لیے جنت اور رو گردانی کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے
تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ ﴿ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا 0016﴾ نازل ہوئی جس میں حکم جہاد سن کر رو گردانی کرنے والوں کے لیے عذاب کی وعید ہے تو جو لوگ اپاہج قسم کے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارا کیا بنے گا ہم تو جہاد میں شرکت نہیں کرسکتے اس پر آیت کریمہ ﴿لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى ﴾ (آخر تک) نازل ہوئی جس میں یہ بتادیا کہ جو لوگ مجبوری کی وجہ سے جہاد میں نہ جاسکے مثلاً نابینا ہوں یا لنگڑے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ازالۃ الخفاء مقصد اول کی تیسری فصل جلد اول میں فرماتے ہیں۔
وقال اللہ تعالیٰ فی سورة الفتح، (آیت ) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم اویسلمون فان تطیعوا یؤتکم اللہ اجرا حسنا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابا الیما “۔
اللہ تعالیٰ نے سورة فتح (چھبیسویں پارہ) میں فرمایا۔
کہہ دو اے محمد ﷺ ! پیچھے چھوڑے ہوؤں کو جو بادیہ نشینوں سے (ہیں) کہ عنقریب بلائے جاؤ گے تم ایک ایسی قوم (کی لڑائی) کی طرف (جو) سخت لڑنے والی (ہوگی) تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے پس اگر اطاعت کرو گے تو دے گا خدا تم کو اچھا بدلہ اور اگر منہ پھیرو گے تم جیسے کہ منہ پھیرا تھا اس بلانے سے…
Read the full tafseer →16:۔ ” لیس علی الاعمی “ یہ لوگ معذوف ہونے کی وجہ سے زجر و عتاب سے مستثنی ہیں۔ اندھے، لنگڑے اور بیمار۔ جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں ان کے لیے جنت کی دائمی اور ابدی نعمتیں ہیں اور جو اطاعت سے اعراض کریں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات
واقعہ حدیبیہ کی تفصیلات گزشتہ دردس میں گزر چکی ہیں ۔ چودہ یا پندرہ صحابہ ؓ کی جماعت حضور ﷺ کی قیادت میں عمرہ کے لیے تیار ہوئی ۔ آپ نے مدینہ کے اطراف میں رہنے والے منافق صفت گنوار دیہاتیوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے گھر مکہ میں جا رہے ہیں ، وہ ان کو زندہ سلامت واپس نہیں آنے دیں گے ، لہٰذا اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ جانا ہلاکت کو دعوت دینا ہے ، چناچہ وہ لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے ہمراہ چلنے پر تیارنہ ہوئے۔ پھر جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مکہ سے واپس مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں یہ سورة الفتح نازل ہوئی جس میں ایک طرف تو…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ 0 ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0 ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّ يُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 17 ۧ
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18]
( ع م ی ) العمی ٰ
یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ جب تم غنیمت حاصل کرنے جاؤ گے تو یہ پیچھے رہ جانے والے تمہارے ساتھ جانے کو کہیں گے تو تم ان کو ساتھ نہ لے جانا اور کہہ دینا اللہ کا حکم نہیں پھر وہ تم کو حسد سے متہم کریں گے دراصل وہ نادان ہیں۔
حدیبیہ سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم الٰہی سے مژدہ دیا تھا کہ اب عنقریب تم کو ایک فتح اور غنیمت حاصل ہوگی اور اس میں وہی لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں تھے چناچہ جب آپ ذی الحجہ کے مہینے میں مدینہ میں واپس آئے اوائل محرم میں ساتویں سال خیبر 1 ؎ پر چڑھائی کی اور یہ لوگ بھی ساتھ چلنے کو آمادہ ہوئے۔ ان کو منع کردیا گیا۔ کلام اللہ سے مراد اس کا وعدہ اور حکم جو خاص…
Read the full tafseer →لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ یُدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْـہُ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 17)
(نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ، اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جو روگردانی کرے گا تو اللہ اس کو ایک دردناک عذاب دے گا۔ )
معذورین کا بیان
جہاد و قتال جب اسلامی ریاست کی بقاء اور اسلام کی سربلندی کا ناگزیر تقاضا بن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں جہاد میں شمولیت نہ کرنے والوں کو اذّیت ناک عذاب کی وعیدسنائی گئی ہے۔ اب ان لوگوں کو مستثنیٰ قراردیا جاتا ہے جو جہاد کرنے سے معذور ہیں۔
اندھے، لنگڑے اور مریض پر جہاد فرض نہیں۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور قتال فی سبیل اللہ سے جان بوجھ کر اعراض کیا اللہ تعالیٰ اسے اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس فرمان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قتال فی سبیل اللہ ہر مسلمان پر فرض نہیں۔ اسی اصول کے پیش نظر نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو قتال فی سبیل اللہ…
Read the full tafseer →آیت 17 : لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ (نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے) اس میں غزوہ سے پیچھے رہنے والے معذورین حقیقیہ کو مستثنیٰ فرمایا گیا۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٗ ( اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا) جہاد وغیرہ دیگر امور میں۔ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَنْ یَّتَوَلَّ (اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور جو شخص روگردانی کرے گا) طاعت سے منہ موڑے گا۔ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا (اس کو…
Read the full tafseer →اولی باس شدید سے کون لوگ مراد ہیں
16 ۔” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ ابن عباس ؓ مجاہد اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اہل فارس ہیں اور کعب (رح) فرماتے ہیں اہل روم ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں اہل فارس وروم ہیں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ہوازن وثقیف ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہوازن وغطفان ہیں حنین کے دن۔ زہری، مقاتل رحمہما اللہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ اہل یمامہ میں سے بنو حنیفہ ہیں جو مسیلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔
رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ ہم یہ آیت پڑھتے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بنو حنیفہ کے قتال کی طرف…
Read the full tafseer →17۔ اوپر بناوٹی عذر والوں کا ذکر تھا اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو حقیقت میں صاحب عذر ہیں جیسے اندھے لنگڑے اور بیمار کہ ان لوگوں کو دین کی لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھا رہنا جائز ہے ‘ بناوٹی عذر والوں کو سمجھانے کے بعد آخر فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور رسول کے حکم پر چلے گا اس کے بدلہ میں جنت پائے گا اور جو کوئی اس کے برخلاف کرے گا تو سخت عذاب بھگتے گا۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی شخص کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جب کہ جنگ اور قتال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا : (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید) یعنی عنقریب رسول اللہ ﷺ آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمہیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لئے تمہیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ) تقاتلونھم او یسلمون) یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
دلیل خلافت راشدہ
قول باری ہے (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید۔ آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے) ایک روایت کے مطابق اس سے مراد فارس اور روم ہے بعض کا قول ہے کہ اس سے بنو حنیفہ مراد ہیں۔
یہ بات حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، اور حضرت عثمان ؓ کی خلافت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں بنو حنیفہ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے بلایا تھا اور حضرت عمر ؓ نے ارض فارس وروم کی فتح کے لئے ان کی خدمات طلب کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بدویوں پر اس شخص کی طاعت لازم قرار دی جو انہیں جنگ کے لئے…
Read the full tafseer →[ 38] رُوگردانی پر عذاب الیم کی سزا کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اس موقع پر بھی پھرگئے جیسا کہ تم پہلے پھرگئے تھے تو وہ تم کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں ذلت و رسوائی کی شکل میں، اور آخرت میں عذاب دوزخ کی شکل میں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اب یہ دونوں راہیں تمہارے سامنے ہیں، تم ان میں سے جو چاہو اختیار کرلو، اور اسی کے مطابق اس پر ملنے والے اپنے صلہ و بدلہ کا اتنظار کرو، اگر تم نے صدق دل سے اطاعت و فرمانبرداری کی تو اللہ تمہیں عمدہ اجر وثواب اور صلہ و بدلہ سے نوازے گا، اور اگر تم پھرگئے جیسا کہ اس سے پہلے عمرہ کے موقع پر پھرگئے تھے تو وہ تمہیں دردناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :-
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
(علامہ اقبال (رح) )
مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی یہ وہ معذور لوگ ہیں جن پر جہاد میں شریک ہونا فرض نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(48:17) اعمی : اندھا۔ عمی سے جس کے معنی بینائی کے مفقود ہوجانے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے بینائی دل کی جاتی رہے یا آنکھوں کی دونوں کے لئے عمی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ اصل میں تو حرج کے معنی کسی چیز کے مجتمع ہونے کی جگہ کے ہیں اور ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہا جاتا ہے۔
لیس علی الاعمی حرج اندھے پر کوئی گناہ نہیں مطلب یہ کہ جو اندھا ہو (یا اسے کوئی اور صحیح عذر مانع ہو) تو اس کے لئے جہاد میں شریک نہ ہونے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
الا عرج۔ لنگڑا۔ ح ر ج مادہ۔ عروج (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ہموار زمین پر ایسے چلنا جیسے کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
لغات القرآن آیت نمبر (15 تا 17 ) ۔
انطلقتم (تم چلے) ۔ مغانم (مال غنیمت ) ۔ ذروا (چھوڑدو) ۔ تحسدون (تم حسد کرتے ہو) ۔ لا یفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) ۔ ستدعون (تم بہت جلد بلائے جائو گے ) ۔ اولی (والے) ۔ باس شدید (سخت لڑائی۔ بڑی جنگ) ۔ تقاتلون (تم جنگ کرو گے) ۔ یسلمون (وہ اسلام لاتے ہیں) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے ۔ تم نے منہ پھیرا) ۔ الاعمی (اندھا ) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی ) ۔ الاعرج (لنگڑا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (15 تا 17) ۔ ” صلح حدیبیہ کے بعد جب اہل ایمان جنوب کی طرف سے مطمئن اور صلح کی شرائط کے مطابق کفار قریش کے حملے سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے خیبر کے اس علاقے کی طرف توجہفرمائی جو یہودی سازشوں کا مرکز بن…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول :
جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو جو لوگ اپاہج وصاحب عذر تھے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا حال ہوگا ہمارا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
[10] حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو خیبر کے مقام پر چڑھائی کا حکم ہوا جہاں غدار یہودی آباد تھے جو بدعہدی کر کے جنگ احزاب میں کفار کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جو لوگ حدیبیہ نہیں گئے تھے اب خیبر کے معرکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے کہ وہاں خطرہ کم اور مال غنیمت کی امید زیادہ ہے۔
[11] اللہ کے فرمان سے مراد اس کا یہ حکم کہ خیبر بجزاہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص فرما دی تھی جیسا کہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے۔
[12] یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے۔[13] یعنی تم ہمیں مارے حسد کے ساتھ نہیں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
جہاد کب تک جاری رہے گا ؟
1: جہاد اسلامی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ اس وقت تک جاری رہیگا ۔ جس وقت تک کہ دنیا میں کفر موجود ہے ۔ اور کفر کے ساتھ آویزش ہے ۔ جب تک تاریکی اور ظلمت کا دور دورہ ہے ۔ جب تک مظالم کی حکومت ہے ۔ جب تک جبرواستبداد انسانوں میں تحقیر ومنافرت کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔ جب تک کہ ہیئت اجتماعیہ کو آزادی اور استقلال کی نعمتیں میسر نہیں ۔ جب تک کہ غلامی اور بندگی موجود ہے ۔ جب تک کہ انسان انسانوں پر ظلم وجور سے حکومت کرتے ہیں ۔ جب تک کہ زمین پر ذرہ بھر بھی ناانصافی موجود ہے ۔ جہاد کے معنے ایسی مساعی کو جاری رکھنے کے ہیں جن کی وجہ سے ظالم کا سر کچلاجائے ۔ سزاعنہ کے…
Read the full tafseer →(17) ہاں اندھے اور نابینا پر کچھ گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ مریض اور بیمار پر کوئی گناہ ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اطاعت وفرماں برداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایس بہشتوں اور باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور جو شخص روگردانی کرے اور پلٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو درد ناک عذاب کی سزا دے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد ان معذور لوگوں پر فرض نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 4۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو جو کہ اس واقعہ کے متعلق ہوا ہے کہ بجز اہل حدیبیہ کے خیبر اور کوئی نہ جائے، بالخصوص متخلفین بدل ڈالیں، یعنی مسلمانوں سے اس کی درخواست کرنا گویا یہ درخواست ہے کہ مسلمان خدا کے حکم کے خلاف کریں جو ان کے لئے شرعا ممتنع ہے اور باین معنی تبدیل کا فاعل مسلمان ہوں گے، لیکن چونکہ وہ لوگ بوجہ اس درخواست کے اس تبدیل کا سبب ہیں۔ لہذا ان کی طرف اس کی نسبت کی گئی، اور تبدیلی بالمعنی المذکور کے وقوع سے افعال وصفات الہیہ میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ وہ حکم تشریعی تھا لیکن مومنین کا آثم ہونا لازم آتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کی درخواست کرتے ہیں کہ تم گناہ کے…
Read the full tafseer →معذور لوگ تو بہرحال معذور ہیں لیکن پھرجانے والوں کے لیے عذاب تیار کھڑا ہے
17 ؎ معذور ہونا اور بہانے تراش کر معذور بننا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اندھے ، لنگڑے اور مریض لاریب جہاد سے مستثنیٰ ہیں لیکن اگر کوئی آنکھوں والا اندھا بن کر رہ جائے اور کوئی اچھا بھلا فرضی طور پر لنگڑانے لگے اور دل کا روگی بیمارہونے کا بہانہ کرے تو کیا اس کے بہانہ کو عذر مان لیا جائے گا ؟ فرمایا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا معذور معذور ہے اور بہانے تراشنے والوں کو معذور تصور کر کے نہیں چھوڑا جاسکتا اور جنت بہرحال ان ہی لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے سچے فرمانبردار ہوں گے کیونکہ جنت مقام ہی…
Read the full tafseer →لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ (There is no blame on the blind, nor is there any blame on the lame, nor is there any blame on the sick...48:17) Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that when some sincere Muslims who were physically unable to fight read the concluding clause of verse 16: وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا .
“ And if you turn away, as you had turned away before, He will punish you with a painful punishment. [ 48:16] " they expressed their concern about the warning. Verse [ 17] was revealed to exempt them from the injunction of jihad.…
Read the full tafseer →31 That is, the one who has a genuine excuse for not joining Jihad is not accountable, but if the able-bodied, strong people make excuses for not joining it, they cannot be regarded as sincere with regard to AIIah and His Religion, and they cannot be given the opportunity to take advantage of the gains as members of the Muslim community, but when time comes for making sacrifices for Islam, they should lag behind and seek the safety of their lives and properties." Here, one should know that two kinds of the people have been exempted from Jihad duty by the Shari ah: (1) Those who are not…
Read the full tafseer →