Explained with ayahs 16–17
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کونسی قوم ہے ؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیف ہے چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ایک…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 30
اصل الفاظ ہیں اَوْ یُسْلِمُوْنَ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ دوسرے یہ کہ وہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
خلاصہ تفسیر
جو لوگ (سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے (مطلب یہ ہے کہ خیبر فتح کرنے کے لئے چلو گے جہاں غنیمت ملنے والی ہے تو یہ لوگ تم سے) کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں (وجہ اس درخواست کی مال غنیمت کی طمع تھی جس کا حاصل ہونا قرائن سے ان کو معلوم اور متوقع تھا بخلاف سفر حدیبیہ کے کہ اس میں زحمت بلکہ ہلاکت زیادہ متوقع تھی، اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا) کہ وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں (یعنی حکم اللہ کا یہ تھا کہ اس غزوہ میں صرف وہ لوگ جائیں جو حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان کے سوا اور کوئی نہ جائے خصوصاً…
Read the full tafseer →قل للمخلقین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونہم اویسلمون، ج فان تطیعوا یوتکم اللہ اجراً حسنا ج و ان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذراباً الیماً 16
منافقین کے لئے امتحان کی ایک کسوٹی
یہ ان مناففقین کے سامنے امتحان کے لئے ایک کسوٹی رکھ دی گئی ہے کہ ان کو آگاہ کردیا جائے کہ اگر تم فی الواقع اللہ و رسول کے وفادار ہو تو اس کا ثبوت تم اس طرح نہیں پہنچا سکتے کہ بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت حاصل کرنے کی توقع کرو بلکہ آگے وقت آ رہا ہے جب تمہیں ایک طاقتور گروہ سے جنگ کی دعوت دی جائے گی جس سے تمہیں اس عزم کے ساتھ جنگ کرنی پڑے گی کہ یا تو وہ اسلام قبول کرے یا تلوار۔ اگر تم نے یہ دعوت…
Read the full tafseer →1 6 ۔ 1 اس جنگجو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے بعض مفسرین اس سے عرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں مثلا ہوازن یا ثقیف جن سے حنین کے مقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی یا مسیلمۃ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی و عیسائی مراد لیے ہیں ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔
16۔ 2 یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ ملکر لڑو گے
۔ 16۔ 3 دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔
16۔ 4 یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقع پر تم نے مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14: دیہات کے ان لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ آپ لوگوں کا خیبر کی جنگ میں شامل ہونا تو اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے، البتہ اس کے بعد ایک وقت آئے گا جب آپ لوگوں کو سخت جنگجو قوموں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی، اس وقت اگر آپ نے سچا مومن بن کر اسقامت سے کام لیا تو آپ کا یہ گناہ دھل جائے گا، اور اللہ تعالیٰ آپ کو ثواب عطا فرمائیں گے، اس میں وہ تمام جنگیں داخل ہیں جن میں کسی بڑی طاقت سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا، اور دیہات کے ان لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، صحابہ کرام سے منقول ہے کہ دیہات کے لوگوں کو یہ دعوت آنخصرت ﷺ کے بعد حضرت صدیق اکبر ؓ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کے عہد خلافت میں اس وقت دی گئی…
Read the full tafseer →قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔۔ یعذبکم عذابا الیما (48 : 16) “ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح نہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔
اس کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جن کو اولی باس شدید “ بڑے زور آور ہیں ” کہا گیا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے یا خلفاء راشدین کے زمانے میں تھے۔ قریب بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ہی…
Read the full tafseer →4 یعنی ذرا صبر کرو۔ اس لڑائی میں تو نہیں جاسکتے لیکن آگے بہت معرکے پیش آنے ہیں۔ بڑی سخت جنگجو قوموں سے مسلمانوں کے مقابلے ہوں گے جن کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ قومیں مسلمان ہو کر یا جزیہ وغیرہ دے کر اسلام کی مطیع ہوجائیں۔ اگر واقعی تم کو شوق جہاد ہے تو اس وقت میدان میں آکر داد شجاعت دینا۔ اس موقع پر خدا کا حکم مانو گے تو اللہ بہترین بدلہ دے گا۔ (تنبیہ) " ان جنگجو قوموں " سے " بنو حنفیہ " وغیرہ مراد ہیں جو " مسلیمہ کذاب " کی قوم تھی یا " ہوازِن " و " ثقیف " وغیرہ جن سے " حنین " میں مقابلہ ہوا یا وہ مرتدین جن پر صدیق اکبر ؓ ' نے فوج کشی کی۔ یا فارس و روم اور کرد وغیرہ جن سے…
Read the full tafseer →آیت 16{ قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ } ”ان بدوئوں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تمہیں بلایا جائے گا ایک ایسی قوم کے ساتھ مقابلے کے لیے جو بہت طاقتور ہوگی ‘ یا تو تم ان سے قتال کرو گے یا وہ اطاعت قبول کرلیں گے۔“
ان الفاظ میں جنگوں کے اس طویل سلسلے کی طرف اشارہ ہے جو چند سال بعد سلطنت ِروما اور سلطنت ایران کے خلاف شروع ہونے والا تھا۔ گویا یہ انقلابِ محمدی ﷺ کی بین الاقوامی سطح پر پیش قدمی کے بارے میں پیشین گوئی ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کا پورا علاقہ تمہارے زیر تسلط آجانے…
Read the full tafseer →21 جنگجو قوم کونسی تھی ؟ ثقیف ہوازن اور بنو حنیفہ :۔ (یُسْلِمُوْنَ ) کے دو مطلب ہیں ایک وہ جو ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بغیر ہی آپ کی اطاعت قبول کرلیں گے اور جزیہ ادا کریں گے نیز اسلام کی راہ میں مزاحمت کرنا چھوڑ دیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ گویا حسد کا طعنہ دینے والے منافقوں کو سمجھایا یہ جارہا ہے کہ جب تک تم اپنے اموال اور اپنی جانوں کی قربانی سے یہ ثابت نہ کردو کہ تم اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مخلص ہو تو اموال غنیمت میں حصہ دار کیسے بن سکتے ہو ؟ اب اس کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ آئندہ بھی کئی مواقع پر جنگجو قوموں سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت تمہیں…
Read the full tafseer →19۔ (خواہ مسلمان ہو کر خواہ ذمی بن کر) (آیت) ” من الاعراب “۔ دوبارہ اس کی تصریح ہے کہ یہ منافقین شہری نہیں، دیہاتی تھے۔ اور دیہاتیوں کا درجہ کفر ونفاق شہریوں سے بڑھا ہوا تھا۔ (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا۔ (آیت) ” قوم ..... شدید “۔ اسی پیش گوئی میں صاف اشارہ رومہ اور ایران کی مسیحی ومجوسی باقاعدہ اور آلات جدید سے مسلح فوجوں اور لشکروں کی جانب ہے۔ بعض نے لشکر بنوحنیفہ بھی مراد لی ہے جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جہاد کیا تھا۔ اور فقہاء مفسرین نے اس سے خلیفہ اول ودوم کے خلیفہ راشد ہونے پر استدلال کیا ہے۔ ؛ فھو دلیل علی صحۃ امامۃ ابی بکر ؓ وعمر ؓ وعثمان ؓ لان ابابکر دعاھم الی قتال بنی حنیفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم او یسلمون فان تطیعوا یؤتکم اللہ اجرًا حسنًا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابًا الیمًا آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں سے جہاد کرنے کیلئے بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہیں ‘ تم کو ان سے اس وقت تک لڑناہو گا کہ وہ (اسلام کے) مطیع ہوجائیں ‘ پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا بدل (جنت) عطا فرمائے گا اور اگر (اس وقت بھی) روگردانی کرو گے جیسا کہ اس سے پہلے کرچکے ہو تو اللہ تم کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ (بجائے ضمیر غائب کے) دو بار مخلفین کا لفظ صراحت کے ساتھ…
Read the full tafseer →آپ ویل، اشجع، مزینہ اور جہینہ والوں سے فرما دیجیے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں سے لڑنے کی طرف بلائے جاؤ گے یعنی مسیلمہ کذاب کی قوم جو سخت لڑنے والے ہوں گے یا تو ان سے دین پر لڑتے رہو یا وہ مطیع اسلام ہوجائیں۔
سو اگر تم اطاعت کرو گے اور ان سے جہاد کرو گے اور توحید پر ثابت قدم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں اچھا معاوضہ دے گا اور اگر تم توبہ توحید اخلاص اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ جہاد کرنے سے منہ پھیرو گے جیسا اس سے قبل حدیبیہ میں منہ موڑ چکے ہو تو وہ دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →(1) قل للمخلفین من الاعراب…: اس آیت میں پیچھے رہنے والے اعراب کو تسلی دلائی ہے کہ آئندہ غزوات میں انہیں شرکت کا اور غنیمتیں حاصل کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا، تاکہ انہیں اطمینان ہوجائے کہ انہیں اسلامی لشکر کیساتھ خیبر میں جانے سے اس لئے منع نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام سے نکل گئے ہیں، بلکہ اس کا ایک خصا سبب ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ چناچہ آئندہ جس طرح دوسرے مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی انہیں بھی دی جائے گی۔ اس آیت میں ان کی اس دل شکنی کا مداوا فرمایا ہے جو خیبر میں شریک نہ کئے جانے سے ہوئی اور ان کے حی میں یہ عظیم خوش خبری بھی دی کہ وہ خیبر سے پیچھے رہ جانے کی کوتاہی کی…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:
یعنی ان سے کہیں جو صلح حدیبیہ کے موقع پر پیچھے چھوڑے گئے تھے (1) حضرت ابن عباس ؓ ، عطا بن ابی رباح، مجاہد، ابن ابی لیلی اور عطا خراسانی نے کہا : وہ ایرانی لوگ ہیں۔ کعب، حضرت حسن بصری اور عبدالرحمن بن ابی لیلی نے کہا : وہ رومی ہیں : حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے : وہ ایرانی اور رومی لوگ تھے۔ ابن جبیر نے کہا : مراد ہوازنثقفیف ہیں۔ عکرمہ نے کہا : مراد ہوازن ہیں۔ قتادہ نے کہا : مراد غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن او غطفان ہیں۔ (2) زہری اور مقاتل نے کہا : مراد بنو حنیفہ ہیں جو اہل یمامہ تھے (3) جو مسلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔ رافع بن خدیج نے کہا : اللہ کی قسم : ہم اس…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ (آپ فرما دیجئے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں میں سے کہ عنقریب ان کو ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا) عمر بن خطاب ؓ نے مدینہ کی دیہاتی جہینہ اور مزینہ کو بلایا جن کو نبی کریم ﷺ نے مکہ کی طرف نکلنے کیلئے بلایا تھا۔ اور عمر بن خطاب ؓ نے ان کو فارس کی لڑائی کی طرف بلایا اور فرمایا اگر تم اطاعت کرو گے جن کو عمر بلائیں گے تو یہ تمہاری طرف سے توبہ ہوجائے گی تمہارے نبی کریم ﷺ کے پیچھے رہ جانے کے جرم کی اور اللہ تعالیٰ تم کو اچھا اجر فرمائیں گے اور اگر تم نے روگردانی کی جب عمر نے تم کو…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لِّـلْمُخَلَّفِيْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ بدو لوگوں میں سے ] سَـتُدْعَوْنَ [ تم لوگ بلائے جاؤگے ] اِلٰى قَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کی طرف جو ] اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ [ سخت لڑائی والی ہے ] تُقَاتِلُوْنَهُمْ [ تم لوگ قتال کرو گے ان سے ] اَوْ يُسْلِمُوْنَ ۚ [ یا وہ تابعدار ہوں گے ] فَاِنْ تُطِيْعُوْا [ پھر اگر تم لوگ فرمانبرداری کروگے ] يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ [ تو دے گا تمہیں اللہ ] اَجْرًا حَسَـنًا ۚ [ ایک خوبصورت اجر ] وَاِنْ تَتَوَلَّوْا [ اور اگر تم لوگ روگردانی کروگے ] كَمَا [ اس کے مانند جو ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم نے روگردانی کی ] مِّنْ قَبْلُ [ اس…
Read the full tafseer →حدیبیہ کی شرکت سے بچھڑ جانے والے دیہاتیوں سے مزید خطاب
اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے بطور پیشین گوئی ان دیہاتیوں کو بتایا ہے جو حدیبیہ کی شرکت سے پیچھے رہ گئے تھے کہ عنقریب ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا جو بڑی قوت والے ہوں گے سخت جنگجو ہوں گے (خیبر کی جنگ میں تمہیں نہ لے جایا گیا جو حدیبیہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے لیے ایک قسم کی سزا ہے) جنگ لڑنے کے اور بھی مواقع آئیں گے آنے والی قوموں سے تم لڑتے رہو گے یا وہ فرمانبردار ہوجائیں گے جب تمہیں ان سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے بلایا جائے گا تو اس اطاعت کرو گے (یعنی دعوت دینے والے امیر کی فرمانبرداری کرو گے) اللہ تعالیٰ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ازالۃ الخفاء مقصد اول کی تیسری فصل جلد اول میں فرماتے ہیں۔
وقال اللہ تعالیٰ فی سورة الفتح، (آیت ) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم اویسلمون فان تطیعوا یؤتکم اللہ اجرا حسنا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابا الیما “۔
اللہ تعالیٰ نے سورة فتح (چھبیسویں پارہ) میں فرمایا۔
کہہ دو اے محمد ﷺ ! پیچھے چھوڑے ہوؤں کو جو بادیہ نشینوں سے (ہیں) کہ عنقریب بلائے جاؤ گے تم ایک ایسی قوم (کی لڑائی) کی طرف (جو) سخت لڑنے والی (ہوگی) تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے پس اگر اطاعت کرو گے تو دے گا خدا تم کو اچھا بدلہ اور اگر منہ پھیرو گے تم جیسے کہ منہ پھیرا تھا اس بلانے سے…
Read the full tafseer →ٖ 15:۔ ” قل للمخلفین “ حدیبیہ میں شریک نہ ہونے والوں کو غزوہ خیبر میں شریک ہونے سے روکدیا گیا کیونکہ اس میں شرکت سے ان کے ایمان کا امتحان نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے ان سے وعدہ کیا گیا کہ عنقریب ہی تہیں ایک نہایت ہی جنگجو اور بہادر قوم کے مقابلے میں جہاد کے لیے دعوت دی جائیگی تاکہ تم ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں او بمعنی الی ان ہے اور اس قوم سے اہل طائف مراد ہیں جن کا آپ نے سنہ 8 ہجری میں غزوہ حنین کے بعد محاصرہ کیا تھا۔ یا اس سے ہوازن اور ثقیف مراد ہیں جن سے مقام حنین میں جنگ ہوئی۔ اگر تم نے اس وقت اطاعت کی اور جہاد میں شریک ہوگئے تو اللہ تمہیں بہت اچھی جزا دے گا اور اگر حدیبیہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات
واقعہ حدیبیہ کی تفصیلات گزشتہ دردس میں گزر چکی ہیں ۔ چودہ یا پندرہ صحابہ ؓ کی جماعت حضور ﷺ کی قیادت میں عمرہ کے لیے تیار ہوئی ۔ آپ نے مدینہ کے اطراف میں رہنے والے منافق صفت گنوار دیہاتیوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے گھر مکہ میں جا رہے ہیں ، وہ ان کو زندہ سلامت واپس نہیں آنے دیں گے ، لہٰذا اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ جانا ہلاکت کو دعوت دینا ہے ، چناچہ وہ لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے ہمراہ چلنے پر تیارنہ ہوئے۔ پھر جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مکہ سے واپس مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں یہ سورة الفتح نازل ہوئی جس میں ایک طرف تو…
Read the full tafseer →قُلْ لِّـلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَـتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ 0 ۚ فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللہُ اَجْرًا حَسَـنًا 0 ۚ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَـمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 16
خلف پیچھے رہنا
وخَلَّفْتُهُ : تركته خلفي، قال فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ
[ التوبة/ 81] ، أي : مخالفین، وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا
[ التوبة/ 118] ، قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] ، والخالِفُ :
المتأخّر لنقصان أو قصور کالمتخلف، قال :
فَاقْعُدُوا مَعَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ جب تم غنیمت حاصل کرنے جاؤ گے تو یہ پیچھے رہ جانے والے تمہارے ساتھ جانے کو کہیں گے تو تم ان کو ساتھ نہ لے جانا اور کہہ دینا اللہ کا حکم نہیں پھر وہ تم کو حسد سے متہم کریں گے دراصل وہ نادان ہیں۔
حدیبیہ سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم الٰہی سے مژدہ دیا تھا کہ اب عنقریب تم کو ایک فتح اور غنیمت حاصل ہوگی اور اس میں وہی لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں تھے چناچہ جب آپ ذی الحجہ کے مہینے میں مدینہ میں واپس آئے اوائل محرم میں ساتویں سال خیبر 1 ؎ پر چڑھائی کی اور یہ لوگ بھی ساتھ چلنے کو آمادہ ہوئے۔ ان کو منع کردیا گیا۔ کلام اللہ سے مراد اس کا وعدہ اور حکم جو خاص…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْیُسْلِمُوْنَ ج فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا ج وَاِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 16)
(اعراب میں سے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے آپ کہہ دیجیے کہ عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلائے جاؤ گے جو بڑے زورآور ہیں، تم ان سے لڑو گے یا وہ اسلام لائیں گے، اور اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کہ تم اس سے پہلے روگردانی کرچکے ہو تو وہ تمہیں دردناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : منافق اور بہانہ ساز لوگ مشکل وقت میں پیچھے رہتے ہیں اور مفاد کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں۔ نبی ﷺ کے دور کے منافقین کا یہی کردار تھا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
اسی سورت کی آیت 10 کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اجر عظیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو فتح سے سرفراز فرمائے گا اور مال غنیمت سے ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں کو مال غنیمت کی خوشخبری دینے کے ساتھ اس موقعہ پر پیچھے رہنے والوں کا کردار بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم غنیمتیں حاصل…
Read the full tafseer →بنو حنیفہ یا اہل فارس :
آیت 16 : قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ (آپ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے) جو حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے۔ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ (عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہونگے) یعنی بنو حنیفہ جو مسیلمہ کی قوم تھی اور مرتدین جن سے ابوبکر ؓ نے جہاد کیا۔ کیونکہ مشرکین عرب اور مرتدین سے دو میں سے ایک بات ہی قبول کی جاتی تھی اسلام یا تلوار۔
ایک قول یہ بھی ہے :
یہ اہل فارس ہیں۔ فاروق اعظم ؓ نے ان قبائل کو ان سے لڑنے کے لئے بلایا۔
تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ (یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع ہوجائیں)…
Read the full tafseer →15 ۔” سیقول المخلفون “ یعنی یہ لوگ جو حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے۔ ” اذا انطلقتم “ اے مومنو ! تم چلے گئے۔ ” الی مغانم لتاخذوھا “ یعنی خیبر کی غنیمتیں۔ ” ذرونا نتبعکم “ خیبر کی طرف ہم تمہارے سال خیبر والوں کے قتال میں حاضر ہوں گے۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ جب مسلمان حدیبیہ سے لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے خیبر کی فتح کا وعدہ کیا اور اس کی غنیمتیں خاص ان کے لئے مقرر کیں جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے یہ غنیمت اہل مکہ کی غنیمت کا عوض تھی کیونکہ وہاں سے مسلمان صلح کر آئے تھے اور کچھ غنیمت نہ ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یریدون ان یبدلوا کلام اللہ “
حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” کلم اللہ “ بغیر الف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جب کہ جنگ اور قتال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا : (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید) یعنی عنقریب رسول اللہ ﷺ آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمہیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لئے تمہیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ) تقاتلونھم او یسلمون) یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
دلیل خلافت راشدہ
قول باری ہے (قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید۔ آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے) ایک روایت کے مطابق اس سے مراد فارس اور روم ہے بعض کا قول ہے کہ اس سے بنو حنیفہ مراد ہیں۔
یہ بات حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، اور حضرت عثمان ؓ کی خلافت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں بنو حنیفہ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے بلایا تھا اور حضرت عمر ؓ نے ارض فارس وروم کی فتح کے لئے ان کی خدمات طلب کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بدویوں پر اس شخص کی طاعت لازم قرار دی جو انہیں جنگ کے لئے…
Read the full tafseer →[ 35] منافقوں کے امتحان کے لیے کسوٹی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ان پیچھے چھوڑے گئے لوگوں سے کہ عنقریب ہی تمہیں ایک اور قوم کے خلاف جہاد کے لیے بلایا جائے گا۔ یہاں پھر ان کو مخلف کے وصف سے ذکر فرمایا گیا ہے، تاکہ ایک طرف تو ان کے اس طرز عمل کی شناعت و قباحت ظاہر ہو، اور یہ اس سے توبہ و تلافی کی کوشش کرسکیں، اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہو سکے کہ کسی شخص سے محض اس کی ذات اور اس کی شخصیت کے اعتبار سے کوئی تعرض نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس کی صفات و خصال کی بناء پر ہی اس سے معاملہ کرنا چاہئے، اور یہ اسلام کی تعلیمات مقدسہ میں سے ایک اہم تعلیم ہے کہ محض کسی کی ذات کو نہ دیکھو بلکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :-
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
(علامہ اقبال (رح) )
مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…
Read the full tafseer →ف 13 یا مسیلمہ کذاب کے قبیلہ بنو حنیفہ کے لوگ یا ہوا زن غطفان وغریہ قبائل جن سے حنین وغیرہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا وہ مرتدین جن پر آنحضرت کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے فوج کشی کی۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد بنو حنیفہ کو لیا ہے کیونکہ وہ جنگجو بھی تھے اور ان سے معرکہ بھی اس واقعہ کے بعد جلد ہی پیش آیا۔ (شوکانی)
14 اس سے بھی معلوم ہوا کہ وہ ایسے کافر ہونگے، جن سے جزیہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اسلام یا جنگ یہ تعریف عرب کے کافر قبائل پر ہی صادق آتی ہے۔
Read the full tafseer →(48:16) قل للمخلفین (بجائے ضمیر غائب کے) دوبارہ مخلفین کا لفظ صراحتہ کے ساتھ ذکر کرنے سے مذمت میں قوت پیدا کرنا اور تخلف کی سخت ترین قباحت ظاہر کرنا مقصود ہے۔
ستدعون : س مستقبل قریب کے لئے تدعون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ دعاء (باب نصر) عنقریب تم بلائے جاؤ گے (جہاد کرنے کے لئے)
اولی باس شدید باس شدید موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ اولی مضاف، مضاف مضاف الیہ مل کر صفت قوم کی۔
اولی والے۔ (بحالت نصب وجر) اولوا (بحالت رفع جیسے اولوالعزم) باس۔ لڑائی۔ دبدبہ۔ جنگ کی شدت۔ اصل میں تو اس کے معنی سختی اور آفت کے ہیں مگر لڑائی اور دبدبہ کے معنی میں کثرت سے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ قوم اولی باس شدید۔ سخت جنگجو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
لغات القرآن آیت نمبر (15 تا 17 ) ۔
انطلقتم (تم چلے) ۔ مغانم (مال غنیمت ) ۔ ذروا (چھوڑدو) ۔ تحسدون (تم حسد کرتے ہو) ۔ لا یفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) ۔ ستدعون (تم بہت جلد بلائے جائو گے ) ۔ اولی (والے) ۔ باس شدید (سخت لڑائی۔ بڑی جنگ) ۔ تقاتلون (تم جنگ کرو گے) ۔ یسلمون (وہ اسلام لاتے ہیں) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے ۔ تم نے منہ پھیرا) ۔ الاعمی (اندھا ) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی ) ۔ الاعرج (لنگڑا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (15 تا 17) ۔ ” صلح حدیبیہ کے بعد جب اہل ایمان جنوب کی طرف سے مطمئن اور صلح کی شرائط کے مطابق کفار قریش کے حملے سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے خیبر کے اس علاقے کی طرف توجہفرمائی جو یہودی سازشوں کا مرکز بن…
Read the full tafseer →(ف 1) اے محبوب تم ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دو کہ غزوہ خیبر میں تو تم ساتھ نہ جاؤ گے مگر خیر اگر تم دعوی ایمان واخلاص کا کرتے ہو اور تمہارا امتحان لیاجائے گا اور توبہ کروگے تو قبول کی جائے گی امتحان یوں ہوگا کہ تم ایک ایسی قوم سے جہاد کرنے کی طرف بلائے جاؤ گے جو نہایت مرد میدان شجاعت ہوگی، دلیر، خون خوار ہتھیاروں میں ڈوبی ہوئی سخت مزاج، تم ان سے یہاں قتال کرنا یا تو وہ سب ہلاک ہوجائیں یا مسلمان ہوجائیں، اگر اس امتحان میں تم پورے اترے اور تم نے اطاعت کی اور اخلاص اور سچے دل سے جہاد کیا تو خدا جنت میں ثواب حسن دے گا اور اگر جب بھی تم نے منہ پھیراجی سے پہلے غزوہ حدیبیہ میں اور توبہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
[10] حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو خیبر کے مقام پر چڑھائی کا حکم ہوا جہاں غدار یہودی آباد تھے جو بدعہدی کر کے جنگ احزاب میں کفار کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جو لوگ حدیبیہ نہیں گئے تھے اب خیبر کے معرکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے کہ وہاں خطرہ کم اور مال غنیمت کی امید زیادہ ہے۔
[11] اللہ کے فرمان سے مراد اس کا یہ حکم کہ خیبر بجزاہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص فرما دی تھی جیسا کہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے۔
[12] یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے۔[13] یعنی تم ہمیں مارے حسد کے ساتھ نہیں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فتح خبیر کی خوشخبری
1: ان آیات میں منافقین کا ذکر ہے ۔ کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ تو گئے نہیں ۔ مگر جب آپ حدیبیہ سے لوٹے اور راستے میں یہ سورت نازل ہوئی ۔ اور اس میں ان کو خوب ذلیل کیا گیا ۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو فتح خیبر کی خوشخبری سنائی ۔ تو کچھ رسوائی کو مٹانے کی غرض سے اور کچھ مغانم کے حصول کے لئے ان کے دلوں میں شرکت جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اور انہوں نے چاہا ۔ کہ یہ بھی اس میں آپ کے ساتھ دیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ کیا یہ لوگ کلام الٰہی کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو پہلے ہی قرار پاچکا ہے ۔ کہ اس جنگ میں صرف وہی لوگ جاسکیں گے ۔ جو حدیبیہ کے سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے ۔ اس لئے…
Read the full tafseer →(16) آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجئے کہ عنقریب ایسے لوگوں کے مقابلے کی دعوت دی جائے گی اور ایسے لوگوں سے لڑنے کو کہا جائے گا جو سخت جنگ جو ہوں گے کہ یا تو ان سے جنگ کرتے رہو یا وہ اسلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوجائیں پھر اگر تم اس وقت حکم بجا لائو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اچھا صلہ اور عمدہ اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اسی طرح روگردانی کی جس طرح تم اس سے پہلے حدیبیہ میں روگردانی کرچکے ہو تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت دردناک سزا دے گا۔ آئندہ فارس اور روم کے ساتھ ہونے والی لڑائیوں کی جانب اشارہ فرمایا۔
فارس اور روم پرانی حکومتیں تھیں اور اس زمانے کی مہذب قوموں میں شمار ہوتی تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 4۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو جو کہ اس واقعہ کے متعلق ہوا ہے کہ بجز اہل حدیبیہ کے خیبر اور کوئی نہ جائے، بالخصوص متخلفین بدل ڈالیں، یعنی مسلمانوں سے اس کی درخواست کرنا گویا یہ درخواست ہے کہ مسلمان خدا کے حکم کے خلاف کریں جو ان کے لئے شرعا ممتنع ہے اور باین معنی تبدیل کا فاعل مسلمان ہوں گے، لیکن چونکہ وہ لوگ بوجہ اس درخواست کے اس تبدیل کا سبب ہیں۔ لہذا ان کی طرف اس کی نسبت کی گئی، اور تبدیلی بالمعنی المذکور کے وقوع سے افعال وصفات الہیہ میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ وہ حکم تشریعی تھا لیکن مومنین کا آثم ہونا لازم آتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کی درخواست کرتے ہیں کہ تم گناہ کے…
Read the full tafseer →منافقین کے امتحن کے لیے ایک واضح اور حقیقی کسوٹی جس پر ان کو پرکھا جا سکتا ہے
16 ؎ کہا جاتا ہے کہ یار زندہ صحبت باقی۔ زندگی میں کیا جہاد کرنے کی ضرورت ایک ہی بار پیش آنے والی چیز ہے ؟ نہیں یہ آزمائش تو زندگی میں بار بار ہوتی رہے گی اور اب جب کہ جہاد جاری ہے اور اس کو ضرورت کے مطابق ہر وقت جاری رکھا جانا ضروری ہے ابھی ایک وقت گزرا تو دوسرا آگیا۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ انکو خبردار کردیں کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہو تو اس کا ثبوت تم فقط زبان ہی سے نہیں پہنچا کر ہم کو مطمئن کرسکتے اس کے لیے اس دارالعمل میں عمل ہی سے ثابت کرنا ہوگا اگر تم غنیمت چاہتے ہو تو تو تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
Injunctions and Related Issues
The reference in this passage is to the incident which took place in the 7th year of Hijrah after the Holy Prophet ﷺ returned from Hudaibiyah. When he intended to march on Khaibar, he took with him only those sincere Muslims who were with him at Hudaibiyah and participated in the Pledge of Ridwan. When Allah promised His Messenger ﷺ the conquest of Khaibar and great spoils, those Bedouin tribes who had contrived to remain behind when the Holy Prophet ﷺ went for ` Umrah, requested the Holy Prophet ﷺ to be allowed to join the Muslim army, either because they…
Read the full tafseer →30 The words au yuslimun in the original can have two meanings and both are implied: (1) 'That they should accept Islam"; and (2) 'that they should submit to the Islamic rule."
Read the full tafseer →