Al-Fath 48:15

Al-Fath · from ayah 15

48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ ۚ— یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ؕ— قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ ۚ— فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ؕ— بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ۟سَيَـقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انْطَلَقۡتُمۡ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡهَا ذَرُوۡنَا نَـتَّبِعۡكُمۡ‌ ۚ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّبَدِّلُوۡا كَلٰمَ اللّٰهِ‌ ؕ قُلْ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ‌ ۚ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَـنَا‌ ؕ بَلۡ كَانُوۡا لَا يَفۡقَهُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا‏

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who remained behind will say when you set out toward the war booty to take it, "Let us follow you." They wish to change the words of Allah. Say, "Never will you follow us. Thus did Allah say before." So they will say, "Rather, you envy us." But [in fact] they were not understanding except a little.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:15

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ "تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے" یہ کہیں گے کہ "نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو" (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) جب تم غنیمت کے مال لینے کے لیے چلو گے تو یہ (حدیبیہ کے سفر سے) پیچھے رہنے والے تم سے کہیں گے کہ : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ وہ چاہیں گے کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ تم کہہ دینا کہ : تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ اللہ نے پہلے سے یوں ہی فرما رکھا ہے۔ اس پر وہ کہیں گے کہ : دراصل آپ لوگ ہم سے حسد رکھتے ہیں۔ نہیں ! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ایسے ہیں کہ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب تم (خیبر کے) اَموالِ غنیمت کو حاصل کرنے کی طرف چلو گے تو (سفرِ حدیبیہ میں) پیچھے رہ جانے والے لوگ کہیں گے: ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے پیچھے ہو کر چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ کے فرمان کو بدل دیں۔ فرما دیجئے: تم ہرگز ہمارے پیچھے نہیں آسکتے اسی طرح اﷲ نے پہلے سے فرما دیا تھا۔ سو اب وہ کہیں گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بات یہ ہے کہ یہ لوگ (حق بات کو) بہت ہی کم سمجھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تاکہ انھیں لے لو، ہمیں چھوڑو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے فوراً کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل دیں۔ آپ ان سے کہئے : تم ہرگز ہمارے ساتھ نہ جاؤ گے (کیونکہ) اللہ پہلے ہی ایسی بات فرما چکا ہے۔ پھر وہ کہیں گے (یہ بات نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (یہ بات بھی نہیں) مگر یہ لوگ حقیقت کو کم ہی سمجھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب تم غنیمتیں لینے کے لئے چلو گے تو یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دی جائے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں کہہ دو ، تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے بھی فرمائی تھی ! تو وہ کہیں گے کہ بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو۔ بلکہ یہی لوگ بہت کم سمجھتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عنقریب کہیں گے تم سے (اے مسلمانو !) وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا (اس سفر خیر و برکت سے ان کے اپنے سوء اختیار کی بناء پر) جب تم نکلو گے اموال غنیمت لینے کے لئے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ بدل دیں اللہ کے کلام (اور اس کے وعدوں) کو (اس وقت ان سے) کہنا کہ تم لوگ ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی یوں فرما دیا ہے اس پر وہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی (صحیح بات کو) سمجھتے نہیں مگر بہت ہی کم

— مولانا اسحاق مدنی

یہ پیچھے رہ جانے والے عنقریب جب تم غنیمتیں لینے چلو گے تو کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو ہم تمہارے ساتھ ہولیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل ڈالیں آپ کہہ دیجئے تم ہرگز ہم لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتے اللہ نے پہلے یوں ہی فرمادیا ہے۔ اس پر یہ لوگ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اصل یہ ہے کہ یہ لوگ بہت ہی کم بات سمجھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو !) عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے جب تم لوگ غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں آپ ﷺ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جائو گے یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ اس پر وہ کہیں گے : بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تم لوگ غنیمت لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیں کہ آپ کے ساتھ چلیں، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح اللہ نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے ”نہیں تم تو ہم سے حسد کرتے ہو ”۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When you press forth for the spoils, those who were left behind will say: “Let us accompany you.” They want to change the command of Allah. Say to them (in clear words): “You shall not accompany us. Thus has Allah already said.” Then they will say: “Nay; but you are jealous of us.” The truth is that they understand little.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who remained behind will say, when you will proceed to the spoils (of war) to receive them, :Let us follow you. They wish to change the words of Allah. Say, :You shall not follow us. Allah had said like this beforehand. Then they will say, :No, but you are jealous of us. On the contrary, they do not understand (the reality) but a little.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who remained behind will say, when you will proceed to the spoils (of war) to receive them, :Let us follow you. They wish to change the words of Allah. Say, :You shall not follow us. Allah had said like this beforehand. Then they will say, :No, but you are jealous of us. On the contrary, they do not understand (the reality) but a little.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who lagged behind will say, when you set forth to take the spoils, "Allow us to follow you." They want to change Allah's Words. Say: "You shall not follow us; thus Allah has said beforehand." Then they will say: "Nay, you envy us." Nay, but they understand not except a little.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who were left behind will say, when ye set forth to capture booty: Let us go with you. They fain would change the verdict of Allah. Say (unto them, O Muhammad): Ye shall not go with us. Thus hath Allah said beforehand. Then they will say: Ye are envious of us. Nay, but they understand not, save a little.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who remained behind will say when you set out toward the war booty to take it, "Let us follow you." They wish to change the words of Allah. Say, "Never will you follow us. Thus did Allah say before." So they will say, "Rather, you envy us." But [in fact] they were not understanding except a little.

— Saheeh International

The laggardly Bedouins will say, "When you leave to collect the spoils, let us follow you." They want to alter the command of God (that only the participating believers are entitled to such benefit). Tell them, "You can never follow us for such a purpose. God has said before and He will say again (what type of people you are). In fact, you are jealous of us." The truth is that they understand very little.

— Muhammad Sarwar

Those who are left behind will say when you set forth for the gaining of acquisitions: Allow us (that) we may follow you. They desire to change the world of Allah. Say: By no means shall you follow us; thus did Allah say before. But they will say: Nay! you are jealous of us. Nay! they do not understand but a little.

— Muhammad Habib Shakir

Those who lagged behind will presently, When ye march forth to take spoils, leave us, we shall follow say you. They intend to change the word of Allah. Say thou: ye shall by no means follow us; thus hath Allah said afore. Then they will say: Aye! ye envy us. Aye! little it is they are wont to understand.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who lagged behind (will say), when ye (are free to) march and take booty (in war): "Permit us to follow you." They wish to change Allah's decree: Say: "Not thus will ye follow us: Allah has already declared (this) beforehand": then they will say, "But ye are jealous of us." Nay, but little do they understand (such things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مال غنیمت کے طالب ارشاد الہٰی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب حضور ﷺ کو اور ان صحا بہ کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لئے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں ؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو کٹھن وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں یعنی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 27 یعنی عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب یہی لوگ، جو آج خطرے کی مہم پر تمہارے ساتھ جانے سے جی چرا گئے تھے، تمہیں ایک ایسی مہم پر جاتے دیکھیں گے جس میں ان کو آسان فتح اور بہت سے اموال غنیمت کے حصول کا امکان نظر آئے گا، اور اس وقت یہ خود دوڑے آئیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ یہ وقت صلح حدیبیہ کے تین ہی مہینے بعد آگیا جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی کے ساتھ اسے فتح کرلیا۔ اس وقت ہر شخص کو یہ بات صاف نظر آ رہی تھی کہ قریش سے صلح ہوجانے کے بعد اب خیبر ہی کے نہیں، بلکہ تیما، فَدَک، وادی القریٰ ، اور شمالی حجاز کے دوسرے یہودی بھی مسلمانوں کی طاقت کا مقابلہ نہ کرسکیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

خلاصہ تفسیر جو لوگ (سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے (مطلب یہ ہے کہ خیبر فتح کرنے کے لئے چلو گے جہاں غنیمت ملنے والی ہے تو یہ لوگ تم سے) کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں (وجہ اس درخواست کی مال غنیمت کی طمع تھی جس کا حاصل ہونا قرائن سے ان کو معلوم اور متوقع تھا بخلاف سفر حدیبیہ کے کہ اس میں زحمت بلکہ ہلاکت زیادہ متوقع تھی، اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا) کہ وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں (یعنی حکم اللہ کا یہ تھا کہ اس غزوہ میں صرف وہ لوگ جائیں جو حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان کے سوا اور کوئی نہ جائے خصوصاً…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سیقول الملخقون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا نتبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ ط قل لن تتبعونا کذلکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا، بل کانوا لایفھون الا قلیلاً 15 یعنی اس موقع پر تو یہ بزدل لوگ بہانے بنا کر اپنے گھروں میں بٹھ رہے لیکن آگے جب ایسے مواقع آئیں گے جن میں تم کو بغیر کسی جنگ کے بھرپور مال غنیمت حاصل ہونے کی توقع ہوگی تو یہ بھی بڑے شیر مرد بن کر تمہارے پاس آئیں گے کہ انہیں بھی ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح وہ چاہیں گے کہ اللہ نے ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے اس کو بھی بدل دیں اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت بھی حاصل کرلیں۔ فرمایا کہ جب اس طرح کا موقع آئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چناچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ ﷺ نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا آیت میں مغانم سے مراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ 15۔ 2 اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: صحابہ کرام نے حدیبیہ کے سفر میں جس جاں نثاری اور اطاعت کے جذبے سے کام لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے صلے میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مکہ مکرمہ کی فتح سے پہلے انہیں ایک اور فتح حاصل ہوگی، جس میں بہت سا مال غنیمت بھی حصے میں آئے گا، اس سے مراد خیبر کی فتح تھی، چنانچہ سن 7 ہجری میں جب آپ خیبر کے لئے روانہ ہورہے تھے تو صحابہ کرام کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق خیبر ضرور فتح ہوگا اور وہاں سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب یہ موقع آئے گا تو جو منافق حدیبیہ کے سفر میں حیلے بہانے کرکے پیچھے رہ گئے تھے، وہ خیبر کے سفر میں تمہارے ساتھ چلنا چاہیں گے کیونکہ انہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ یفقھون الا قلیلا (48 : 15) “ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں ”۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔ ممکن ہے فتح خیبر ہی ہو۔ اگر مراد خیبر نہ بھی ہو لیکن مراد یہی ہے کہ عنقریب مسلمان کسی مہم پر جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 " حدیبیہ " سے واپس ہو کر حضور ﷺ کو " خیبر " پر چڑھائی کرنے کا حکم ہوا۔ جہاں غدار یہود آباد تھے جو بد عہدی کر کے جنگ " احزاب " میں کافر قوموں کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خبر دی کہ وہ گنوار جو " حدیبیہ " نہیں گئے، اب " خیبر " کے معرکہ میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے۔ کیونکہ وہاں خطرہ کم اور غنیمت کی امید زیادہ ہے۔ آپ ان سے فرما دیں کہ تمہاری استدعا سے پیشتر اللہ ہم کو کہہ چکا ہے کہ تم (اس سفر میں) ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤ گے۔ اندریں صورت کیا تم ہمارے ساتھ جاسکتے ہو۔ اگر جاؤ گے تو یہ معنی ہوں گے کہ گویا اللہ کا کہا بدل دیا گیا جو کسی طرح ممکن نہیں۔ 2 یعنی اللہ نے کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 { سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ } ”اے مسلمانو ! عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے ‘ جب تم لوگغنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے ‘ کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں۔“ اس آیت میں فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ خیبر یہودیوں کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ مسلمانوں سے بد عہدی کی بنا پر جن دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر کو مدینہ سے نکالا گیا تھا وہ بھی خیبر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنا کر عسکری اعتبار سے خود کو بہت مضبوط کرلیا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 منافقوں کی غزوہ خیبر میں شمولیت کی خواہش کیوں تھی ؟ فتح خیبر کا واقعہ غزوہ حدیبیہ کے تین ماہ بعد محرم 7 ھ بعد میں پیش آیا۔ جلاوطن شدہ یہود یہیں اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ بنونضیر بھی مدینہ سے جلاوطن ہو کر یہیں مقیم ہوگئے تھے۔ انہی کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو ورغلا کر جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عہد شکنی پر مجبور کردیا تھا۔ اور وہ اتحادی کافروں سے مل گئے تھے۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد ان لوگوں کی سرکوبی ضروری تھی۔ یہ سفر نسبتاً آسان بھی تھا اور یہاں سے اموال غنیمت کی بھی بہت توقع تھی۔ غزوہ حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والے منافقوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ صلح حدیبیہ کے کچھ ہی روز بعد معرکہ خبیر پیش آیا۔ جس میں مسلمانوں نے دولت مندو پر قوت یہودیوں پر فتح عظیم پائی، آیت میں اسی پیش آنے والے واقعہ کا ذکر بصورت پیش خبری ہے۔ (آیت) ” سیقول المخلفون “۔ اخلاص منافقین کے اس قول میں بھی نہ ہوگا۔ اب جو ساتھ چلنے کو کہیں گے تو محض مال غنیمت کی حرص وطمع میں۔ (آیت) ”’ اذا .... لتاخذوھا “۔ جنگ ابھی نہ ہوئی ہے، نہ باسباب وقرائن ظاہر ابھی شروع ہونے کو ہے۔ قرآن مجید دعوی وتحدی کے ساتھ نہ صرف وقوع جنگ کی پیش گوئی کردیتا ہے، بلکہ نتیجہ جنگ یعنی مسلمانوں کی فتح اور یہود کی مغلوبیت وہزیمت کا بھی اتنے قبل سے اعلان کئے جارہا ہے ! بجز عالم الغیب والشہادۃ کے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–17

ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سیقول المخلفون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا نتبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ قل لن تتبعونا کذالکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا بل کانوا لا یفقھون الا قلیلا اور جو لوگ (حدیبیہ کو جانے سے) پیچھے رہ گئے تھے ‘ وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے جاؤ گے ‘ کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو ‘ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ وہ لوگ اللہ کے حکم کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ‘ اللہ نے پہلے ہی یوں فرما دیا ہے۔ تو وہ لوگ کہیں گے : (یہ بات نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو (مسلمان حس نہیں کرتے) بلکہ یہ لوگ خود بہت کم بات سمجھتے ہیں۔ نَتَّبِعْکُمْ یعنی ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو لوگ غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غفار اسلم اشجع مزنیہ اور جہینہ والے عنقریب جب خیبر کی غنیمتیں لینے چلو گے تو کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ خیبر کو چلیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو جو اس نے اپنے نبی کو دیا ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والوں کو خیبر چلنے کی اجازت نہ دی جائے اس کو تبدیل کر ڈالیں آپ ان قبیلہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم ہرگز خیبر کو ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اور اگر ساتھ ہو بھی لو گے تو تمہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا جیسا کہ ہم نے تمہیں کہہ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا ہے کہ اوروں کو مت لے جانا۔ چناچہ سورة توبہ میں یہ آیت گزر گئی قل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) سیقول المخلفون اذا نطلقتم الی مغانم…: اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (18، 19) میں آرہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انہوں نے اس سارے زوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جسکا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی طرف سے بےفکری ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھئای…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فرمائیے : تم قطعا ہمارے پیچھے نہیں آسکتے یونہی فرما دیا اللہ تعالیٰ نے پہلے سے پھر وہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (ان کا یہ خیال غلط ہے) اور حقیت وہ احکام الٰہی کے اسرار کو بہت کم سمجھتے ہیں۔ “ مراد خیبر کی غنیمتیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل حدیبیہ سے فتح خیبر کا وعدہ کیا تھا یہ حکم ان کے لئے ہی خاص تھا وہ غزوہ خیبر میں حاضر تھے یا غائب تھے اور اہل حدیبیہ میں سے حضرت جابر کے علاوہ کوئی غائب نہیں تھا رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے اسی طرح حصہ رکھا جس طرح ان لوگوں کا حصہ رکھا تھا جو غزوہ خیبر میں موجود تھے خیبر کی تقسیم کے ذمہ دار حضرت جبار بن صخرا انصاری جو بنی سلمہ سے تعلق رکھتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

3:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریدون ان یبدلوا کلم اللہ “ (وہ ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں) یعنی اللہ کی کتاب کو بدل دیں گے اور وہ جہاد میں جانے سے مسلمانوں کو روکتے تھے اور ان کو بھاگ جانے کا مشورہ دیتے تھے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی قوم اولی باس شدید “ (سخت لڑائی والے) سے مراد والے ہیں۔ 5:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس سے فارس اور روم والے مراد ہیں۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی قوم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ [ کہیں گے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] اِذَا انْــطَلَقْتُمْ [ جب تم لوگ روانہ ہوگے ] اِلٰى مَغَانِمَ [ غنیمت والے مالوں کی طرف ] لِتَاْخُذُوْهَا [ تاکہ تم لوگ حاصل کرو ان کو ] ذَرُوْنَا [ تم لوگ چھوڑو ہم کو ] نَتَّبِعْكُمْ ۚ [ تو تم تمہارے پیچھے (ساتھ ) چلیں گے ] يُرِيْدُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] اَنْ يُّبَدِّلُوْا [ کہ وہ بدل دیں ] كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے فرمان کو ] قُلْ [آپ کہہ دیجئے ] لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا [ تم لوگ ہمارے پیچھے ہرگز نہیں چلو گے ] كَذٰلِكُمْ [ اس طرح ] قَالَ اللّٰهُ [ کہا اللہ نے ] مِنْ قَبْلُ ۚ [ پہلے سے ] فَسَيَقُوْلُوْنَ [ تو وہ کہیں گے ] بَلْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو لوگ حدیبیہ والے سفر میں ساتھ نہ گئے تھے ان کی مزید بدحالی کا بیان ! صلح حدیبیہ کے بعد تھوڑی ہی سی مدت کے بعد خیبر فتح ہوگیا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب شرکاء حدیبیہ کو اموال غنیمت ملیں گے رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے اموال غنیمت شرکاء حدیبیہ کے لیے مخصوص فرما دئیے تھے تاکہ اموال کی محرومی کی تلافی ہوجائے جو انہیں اہل مکہ سے جنگ کرکے بطور غنیمت حاصل ہوسکتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے پہلے سے خبر دی کہ جب تم لوگ مغانم خیبر کے لیے چلو گے یعنی جنگ خیبر کے لیے روانہ ہونے لگو گے جس کا نتیجہ فتح اور اموال غنیمت حاصل ہونے کی صورت میں کچھ قتال ظاہر ہوگا تو یہ لوگ جو صلح حدیبیہ کی شرکت سے قصداً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔ علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ ” سیقول المخلفون “ یہ بھی منافقین کے لیے زجر ہے۔ ” مغانم “ سے غنائم خیبر مراد ہیں جن کا اللہ تعالیٰ بیعۃ الرضوان میں شریک ہونے والوں سے وعدہ فرمایا تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ” واثابہم فتحا قریبا ومغانم کثیرۃ یاخذونہا “ اور کلام اللہ سے یہی وعدہ الٰہی مراد ہے۔ معناہ ان یغیروا وعدہ لاھل الحدیبیۃ بغنیمۃ خیبر وذلک انہ وعدہم ان یعوضہم من مغانم مکۃ خیبر اذا قفلوا مراد عین لا یصیبون منہا شیئا۔ قالہ مجاھد وقتادۃ وعلیہ علمۃ اھل التاویل (بحر ج 8 ص 93) ۔ یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی غیر متلو کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ہو کہ غنائم خیبر خالصۃً اہل حدیبیہ کے لیے ہیں اور مخلفین کا ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–17

ربط آیات واقعہ حدیبیہ کی تفصیلات گزشتہ دردس میں گزر چکی ہیں ۔ چودہ یا پندرہ صحابہ ؓ کی جماعت حضور ﷺ کی قیادت میں عمرہ کے لیے تیار ہوئی ۔ آپ نے مدینہ کے اطراف میں رہنے والے منافق صفت گنوار دیہاتیوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے گھر مکہ میں جا رہے ہیں ، وہ ان کو زندہ سلامت واپس نہیں آنے دیں گے ، لہٰذا اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ جانا ہلاکت کو دعوت دینا ہے ، چناچہ وہ لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے ہمراہ چلنے پر تیارنہ ہوئے۔ پھر جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مکہ سے واپس مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں یہ سورة الفتح نازل ہوئی جس میں ایک طرف تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ۝ 0 ۚ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللہِ۝ 0 ۭ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللہُ مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا۝ 0 ۭ بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَہُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۝ 15 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ خلف پیچھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–17

تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ جب تم غنیمت حاصل کرنے جاؤ گے تو یہ پیچھے رہ جانے والے تمہارے ساتھ جانے کو کہیں گے تو تم ان کو ساتھ نہ لے جانا اور کہہ دینا اللہ کا حکم نہیں پھر وہ تم کو حسد سے متہم کریں گے دراصل وہ نادان ہیں۔ حدیبیہ سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم الٰہی سے مژدہ دیا تھا کہ اب عنقریب تم کو ایک فتح اور غنیمت حاصل ہوگی اور اس میں وہی لوگ شریک ہوں جو حدیبیہ میں تھے چناچہ جب آپ ذی الحجہ کے مہینے میں مدینہ میں واپس آئے اوائل محرم میں ساتویں سال خیبر 1 ؎ پر چڑھائی کی اور یہ لوگ بھی ساتھ چلنے کو آمادہ ہوئے۔ ان کو منع کردیا گیا۔ کلام اللہ سے مراد اس کا وعدہ اور حکم جو خاص…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْھَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ ج یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ ط قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ط بَلْ کَانُوْا لاَ یَفْقَہُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الفتح : 15) (عنقریب کہیں گے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ، جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف تاکہ انھیں حاصل کرلو کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں، ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے، یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے بھی فرمائی تھی، تو وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور بہانہ ساز لوگ مشکل وقت میں پیچھے رہتے ہیں اور مفاد کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں۔ نبی ﷺ کے دور کے منافقین کا یہی کردار تھا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی سورت کی آیت 10 کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اجر عظیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو فتح سے سرفراز فرمائے گا اور مال غنیمت سے ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں کو مال غنیمت کی خوشخبری دینے کے ساتھ اس موقعہ پر پیچھے رہنے والوں کا کردار بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم غنیمتیں حاصل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اہل حدیبیہ کے ساتھ غنائم کا عوض رہنے کا وعدہ : آیت 15 : سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ (عنقریب پیچھے رہنے والے کہیں گے) وہ لوگ جو حدیبیہ میں ساتھ نہ گئے تھے۔ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ (جب تم غنیمتیں لینے چلو گے) مغانم سے غنائم خیبر مراد ہیں۔ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ (ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں وہ لوگ یوں چاہتے ہیں۔ کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں) قراءت : حمزہ ٗ علی نے کَلِمَ اللّٰہ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو تبدیل کردیں جو اس نے اہل حدیبیہ کے ساتھ فرمایا۔ اور وہ وعدہ یہ تھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–16

11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مذمت کی، تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام، ایسی غنیمتیں حاصل کرنے لئے آگے بڑھیں گے، جس میں جنگ نہیں ہوگی، تو یہ لوگ ان سے صحبت اور مشارکت کی درخواست کریں گے۔ وہ کہیں گے۔ (ذرونا نتبعکم یریدون) ” ہمیں بھی اجازت دیں کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں، وہ چاہتے ہیں “ اس سے (ان یبدلو اکلم اللہ) ” کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ “ کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان غنائم کو شرعاً اور قدر اً صحابہ کرام یعنی اہل ایمان سے مختص کیا ہے۔ (قل) ان سے کہہ دیجئے (لن تتبعونا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 32] منافقوں کے دینوی طمع میں شرکت جہاد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب یہ لوگ تم سے کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ جانے دو ۔ تاکہ وہاں سے ملنے والی غنیمتوں میں ہم بھی حصے دار بن سکیں، پس ان کی سب کوششوں اور دوڑ دھوپ کی بنیاد مادی فوائد کا حصول ہے اور بس، اسی کے لئے یہ لوگ جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں، جہاں ان کو مادی فوائد و منافع کی توقع ہوگی، وہاں یہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے، اور اس میں پیش پیش ہوں گے اور جہاں ایسے نہیں ہوگا وہاں سے یہ بھاگنے اور پہلوتہی کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے کریں گے، اور بہانے تراشیں گے، سو مادہ پرستوں اور دنیا داروں کا کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–17

اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :- پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ اقبال (رح) ) مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–17

آیات 11 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 جب آنحضرت اور صحابہ کرام حدیبیہ سے واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ خیبر فتح ہوگا اور اس کا مال غنیمت صرف ان لوگوں کو ملے گا جو صلح حدیبیہ میں آنحضرت کے ساتھ گئے تھے چناچہ جب مسلمانوں نے خیبر کا رخ کیا تو یہ گنوار منافق بھی آپہنچے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ 10 اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی یہ بات ہے کہ خیبر کے سفر میں صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جائے جو حدیبیہ گئیت ہے اور بیعت رضوان میں ش ریک ہوئیت ہے یا آیت فاستاذنوا اللخروج نقل لن تخرجوا معنی ابدا ولن تقابلو معنی عدوا (توبہ 83) کی طرف اشارہ ہے مگر علمائے تفسیر نے پہلی تاویل کو زیادہ پسند فرمایا ہے۔ (قرطبی) 11 یعنی حسد کرتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:15) سیقول۔ مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے) ۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے۔ المخلفون : ملاحظہ ہو 48:11 ۔ مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی بہانے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ قافلہ کے ساتھ عمرہ کے لئے نہیں نکلے تھے۔ جو سفر بعد میں صلح حدیبیہ پر منتج ہوا۔ اذا جب۔ انطلقتم ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر حاضر۔ انطلاق (افتعال) مصدر۔ جب تم روانہ ہوگے۔ جب تم چلو گے۔ مغانم۔ جمع مغنم واحد ، وہ چیزیں جو مفت حاصل کی جائیں دشمن سے ہوں یا کسی اور سے۔ الغنم بمعنی بکریاں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ومن البقر والغنم حرمنا علیہم سحومھما (6:6) اور گائیوں اور بکریوں سے ان دونوں کی چربی ہم نے ان پر حرام کردی تھی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

لغات القرآن آیت نمبر (15 تا 17 ) ۔ انطلقتم (تم چلے) ۔ مغانم (مال غنیمت ) ۔ ذروا (چھوڑدو) ۔ تحسدون (تم حسد کرتے ہو) ۔ لا یفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) ۔ ستدعون (تم بہت جلد بلائے جائو گے ) ۔ اولی (والے) ۔ باس شدید (سخت لڑائی۔ بڑی جنگ) ۔ تقاتلون (تم جنگ کرو گے) ۔ یسلمون (وہ اسلام لاتے ہیں) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے ۔ تم نے منہ پھیرا) ۔ الاعمی (اندھا ) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی ) ۔ الاعرج (لنگڑا ) ۔ تشریح : آیت نمبر (15 تا 17) ۔ ” صلح حدیبیہ کے بعد جب اہل ایمان جنوب کی طرف سے مطمئن اور صلح کی شرائط کے مطابق کفار قریش کے حملے سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے خیبر کے اس علاقے کی طرف توجہفرمائی جو یہودی سازشوں کا مرکز بن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ ہوا تھا کہ نبی حضور ﷺ چھ ہجری ماہ ذی الحجہ میں حدیبیہ سے پھرے اور ماہ محرم 7 ہجری میں غزوہ خیبر کی طرف ارادہ کیا اور حکم ہوا کہ جو شخص حدیبیہ میں ہمارے ساتھ چلے اور سوائے اس کے کوئی ہمارے ساتھ جانے کا ارادہ نہ کرے، جب نبی حضور ﷺ کا ارادہ مستقیم ہو تو اس وقت پیچھے رہنے والوں نے عرض کیا کہ ہم کو بھی اجازت فرمائیے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں ، حضور حضور ﷺ نے ان کے قول کو قبول نہ فرمایا اسی وقت اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–18

[10] حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو خیبر کے مقام پر چڑھائی کا حکم ہوا جہاں غدار یہودی آباد تھے جو بدعہدی کر کے جنگ احزاب میں کفار کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جو لوگ حدیبیہ نہیں گئے تھے اب خیبر کے معرکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے کہ وہاں خطرہ کم اور مال غنیمت کی امید زیادہ ہے۔ [11] اللہ کے فرمان سے مراد اس کا یہ حکم کہ خیبر بجزاہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص فرما دی تھی جیسا کہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے۔ [12] یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے۔[13] یعنی تم ہمیں مارے حسد کے ساتھ نہیں لے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–16

فتح خبیر کی خوشخبری 1: ان آیات میں منافقین کا ذکر ہے ۔ کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ تو گئے نہیں ۔ مگر جب آپ حدیبیہ سے لوٹے اور راستے میں یہ سورت نازل ہوئی ۔ اور اس میں ان کو خوب ذلیل کیا گیا ۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو فتح خیبر کی خوشخبری سنائی ۔ تو کچھ رسوائی کو مٹانے کی غرض سے اور کچھ مغانم کے حصول کے لئے ان کے دلوں میں شرکت جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اور انہوں نے چاہا ۔ کہ یہ بھی اس میں آپ کے ساتھ دیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ کیا یہ لوگ کلام الٰہی کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو پہلے ہی قرار پاچکا ہے ۔ کہ اس جنگ میں صرف وہی لوگ جاسکیں گے ۔ جو حدیبیہ کے سفر میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے ۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) یہی لوگ جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب تم سے جب تم خیبر کی غنیمتیں حاصل کرتے چلو گے تو کہیں گے ہم کو چھوڑ یعنی ہم کو اجازت دو ہم بھی تمہارے ہمراہ چلیں یہ لوگ چاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کا کہا بدل دیں آپ کہہ دیجئے تم اس سفر میں ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اسی طرح فرمادیا ہے اس پر یہ لوگ کہیں گے یہ بات نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اور تم ہمارے بھلے سے جلتے ہو بلکہ یہ لوگ بات کو نہیں سمجھتے مگر بہت کم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب مکہ سے پھرے وہاں سے حکم ہوا کہ خیبر پر چلو اور ان لوگوں کے سوا کوئی ساتھ نہ چلے۔ مدینے میں تین دن رہ کر ارادہ کیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

ف 4۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو جو کہ اس واقعہ کے متعلق ہوا ہے کہ بجز اہل حدیبیہ کے خیبر اور کوئی نہ جائے، بالخصوص متخلفین بدل ڈالیں، یعنی مسلمانوں سے اس کی درخواست کرنا گویا یہ درخواست ہے کہ مسلمان خدا کے حکم کے خلاف کریں جو ان کے لئے شرعا ممتنع ہے اور باین معنی تبدیل کا فاعل مسلمان ہوں گے، لیکن چونکہ وہ لوگ بوجہ اس درخواست کے اس تبدیل کا سبب ہیں۔ لہذا ان کی طرف اس کی نسبت کی گئی، اور تبدیلی بالمعنی المذکور کے وقوع سے افعال وصفات الہیہ میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ وہ حکم تشریعی تھا لیکن مومنین کا آثم ہونا لازم آتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کی درخواست کرتے ہیں کہ تم گناہ کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

15 ؎ کہتے ہیں کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ بولے “۔ قرآن کریم نے ایک بار نہیں بار بار ایسی پیش گوئیاں کی ہیں اور جو پیش گوئیاں کی ہیں وہ اپنے وقت پر حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی ہیں۔ زیر نظر آیت میں بھی ایک پیش گوئی بیان کی گئی ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ یہ تو ایک وقت تھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اعلان کیا کہ اگر تم لوگ عمرہ کرنے کا شوق رکھتے ہو تو ہمارے ساتھ چلو جن کے مقدر میں سعادت تھی وہ ساتھ ہوگئے اور بدبختوں کی شامت آگئی اور بہانے کرنے لگے۔ جب تم لوگ بخیریت واپس آگئے تو ان لوگوں نے معذرتیں شروع کردیں۔ کیا یہ ایک ہی بار ایسا ہوا پھر کبھی زندگی میں ایسا نہیں ہوگا ، فرمایا کیوں نہیں زندگی میں ایسے مواقع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

Injunctions and Related Issues The reference in this passage is to the incident which took place in the 7th year of Hijrah after the Holy Prophet ﷺ returned from Hudaibiyah. When he intended to march on Khaibar, he took with him only those sincere Muslims who were with him at Hudaibiyah and participated in the Pledge of Ridwan. When Allah promised His Messenger ﷺ the conquest of Khaibar and great spoils, those Bedouin tribes who had contrived to remain behind when the Holy Prophet ﷺ went for ` Umrah, requested the Holy Prophet ﷺ to be allowed to join the Muslim army, either because they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 That is, `The time is approaching when these very people who were shirking accompanying you on the dangerous journey, would see you going on an expedition in which there would be the possibility of attaining easy victory and much booty. Then they would come running and request you to take them also along." Such a time came just three months after the truce of Hudaibiyah, when the Holy Prophet invaded Khaiber and took it easily. At that time everyone could see that after the truce with the Quraish not only Khaiber but the Jewish settlements of Taima, Fadak, Wadi-al-Qura' and others also of…

Read the full tafseer →