Explained with ayahs 11–14
مجاہدین کی کامیاب واپسی
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہوجائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کردیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 26
اوپر کی شدید تنبیہ کے بعد اللہ کے غفور و رحیم ہونے کا ذکر اپنے اندر نصیحت کا ایک لطیف پہلو رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اب بھی اپنی غیر مخلصانہ روش کو چھوڑ کر تم لوگ اخلاص کی راہ پر آجاؤ تو اللہ کو تم غفور و رحیم پاؤ گے۔ وہ تمہاری پچھلی کوتاہیوں کو معاف کر دے گا اور آئندہ تمہارے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جس کے تم اپنے خلوص کی بنا پر مستحق ہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
خلاصہ تفسیر
جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ…
Read the full tafseer →وللہ ملک السموت والارض یغفرلمن یشآء و یعذب من یشآء وکان اللہ غفوراً رحیما 14
اور یہ لوگ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خدا کی پکڑ سے کوئی اور بچانے والا نہیں ہوگا۔ آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے کوئی دوسرا اس کی اس بادشاہی میں شریک نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہے گا بخشے گا جس کو چاہے گا سزا دے گا۔
وکان اللہ غفوراً رحیماً البتہ یہ اطمینان ہر شخص کو رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ لوگوں کو پکڑنا اور سزا دینا نہیں بلکہ ان پر مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو چاہئے کہ وہ غلط سہارے ڈھونڈنے کے بجائے اس کی رضا طلبی کی وہ راہ اتخیار کریں جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے لوگوں کے لئے…
Read the full tafseer →14۔ 1 اس میں متخلفین کے لیے توبہ وانابت الی اللہ کی ترغیب ہے کہ اگر وہ نفاق سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
9: ان منافقین کا خیال یہ تھا کہ مسلمان چاہے عمرے کے ارادے سے جارہے ہوں ؛ لیکن جنگ ضرور ہوگی، اور قریش کی طاقت اتنی بڑی ہے کہ مسلمان وہاں سے زندہ واپس نہیں آسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6 یعنی جس کو وہ بخشنا نہ چاہے، میں کیسے بخشواؤں، ہاں اس کی مہربانی ہو تو تم کو توبہ کی توفیق مل جائے اور بخشش ہوجائے۔ اس کی رحمت بہرحال غضب پر سابق ہے۔
Read the full tafseer →آیت 14{ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔“
{ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ } ”وہ بخشے گا جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گا۔“
{ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →16 یعنی وہ جسے چاہے فائدہ پہنچا سکتا ہے خواہ حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوں۔ اسی طرح وہ جسے چاہے ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اس لئے یہ کائنات ساری کی ساری اس کی مملوک ہے اور ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت ہیں۔ جن میں وہ ہر طرح سے تصرف کرسکتا ہے۔ ہاں اگر تم اپنی کرتوتوں اور بدباطنی سے باز آجاؤ تو وہ تمہیں معاف بھی کردے گا۔ کیونکہ حقیقتاً وہ اپنے بندوں پر مہربانی کا سلوک کرنے سے ہی خوش ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15۔ (چنانچہ مشرک بھی جو ہر طرح مستحق عذاب ہوچکتا ہے، اگر ایمان لے آوے تو بخش دیا جاتا ہے) (آیت) ” وللہ ..... الارض “۔ عالم ناسوت یا عالم آخرت۔ ہر عالم میں سکہ حکومت بس اسی خالق یکتاو بےہمتا کا چلتا ہے۔ وہی ایک مطلق الاختیار ہے۔ قوت مدبرہ سارے کائنات میں اسی ایک کی ہے۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء ویعذب من یشآء “۔ یعنی مغفور ہونے اور معذب ہونے دونوں کے اسباب اسی کے قوانین تکوینی کے ماتحت ہیں۔ ساری کائنات اور اس کے حوادث اسی کی مشیت کے مسخر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →واللہ ملک السموت والارض یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء وکان اللہ غفورًا رحیمًا اور تمام آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے۔ اور اللہ بڑا غفور ‘ رحیم ہے۔
وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اس جملہ میں درپردہ اظہار ہے اس امر کا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ان کا ایمان ہی نہیں ہے ‘ کیونکہ اس طرح کی بدگمانیاں اور رسول کے ساتھ نہ جانا تقاضائے ایمان کے خلاف ہے۔ شرط کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی کسی کا ایمان نہ لانا ہم کو ضرر نہیں پہنچاتا ‘ اس سے ہمارا نقصان نہیں ہوتا۔
فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا۔ سعیرًا کی تنوین ہولناکی کو ظاہر…
Read the full tafseer →اور تمام آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش و نباتات اللہ کے ہیں، وہ مومنین میں سے اپنے فضل سے جس کے چاہے بڑے گناہ معاف کردے اور جسے چاہے کفر و نفاق پر موت دے کر پر سے عذاب دے۔
یا یہ کہ جو مغفرت کا اہل ہوتا ہے اسے معاف کردیتا ہے اور جو سزا کا مستحق ہوتا ہے اسے سزا دیتا ہے اور حق تعالیٰ تائب کے صغیرہ و کبیرہ گناہ کو معاف فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحیم ہے۔
Read the full tafseer →(1) وللہ ملک السموت والارض : یہ ان پیچھے چھوڑ دیے جانے والے اعراب کو فرمایا جن کا اوپر ذکر ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اگر تم نے نفاق پر اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد پر جانے سے گریز پر اصرار کیا تو کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو عذاب دینا چاہے اس سے تمہیں بچا سکے، یا اگر وہ تمہاری ندامت اور توبہ کا تمہیں معاف کر دے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
(2) یغفرلمن یشآء و یعذب من یشآئ…: اس میں ان اعراب کو توبہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب دی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیچھے بیٹھ رہنے سے توبہ کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف…
Read the full tafseer →وہ اپنے بندوں سے غنی ہے، اللہ تعالیٰ نے احکام کو مکلف بنا کر انہیں آزمایا تکہ جو ایمان لائے اس کو ثواب دیں او جو کفر و نافرمانی کرے اسے سزا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدا وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء “ (بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور مومن اپنے گھر والوں کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کئے) یعنی انہوں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ ہرگز اپنے بندوں کو نہیں لوٹیں گے اور وہ عنقریب ہلاک ہوں گے اور یہ بات ان لوگوں نے کہی تھی جو اللہ کے نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ جھوٹ بولتے تھے جو وہ کہتے تھے اور فرمایا (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کی حکومت ] يَغْفِرُ [ وہ بخش دیتا ہے ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَيُعَذِّبُ [ اور وہ عذاب دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَكَانَ اللّٰهُ [ اور اللہ ہے ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہمیشہ رحم کرنے والا ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان مالکیت اور مغفرت اور مواخذہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (اور اللہ ہی کے لیے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا) ﴿ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ ﴾ (وہ مغفرت فرمائے جس کی چاہے اور عذاب دے جس کو چاہے) ﴿ وَ كَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 0014﴾ (اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور کفر پر جمے رہے اور جھوٹے منہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے استغفار کیجیے اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دے گا کافر کی توبہ بغیر ایمان کے قبول نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔
علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13:۔ ” ومن لم یومن۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں کی طرفح جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائیں ان کے لیے ہم نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے کیونکہ وہ کفر ہیں اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ ” وللہ ملک السموات۔ الایۃ “ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کائنات میں وہی متصرف و مختار ہے۔ وہ ایمان والوں اور معافی مانگنے والوں کو معاف فرماتا اور کفار و مشرکین اور منافقین کو سزا دیتا ہے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما کر ان پر مزید مہربانیاں فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں فتح مبین اور رسول خدا اور اہل ایمان پر کیے گئے انعات کا ذکر ہوا ۔ معاہدہ حدیبیہ کی کمزور شرائط کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں میں جو ایک قسم کا شک اور افسوس پیدا ہوگیا تھا ، اس کا ازالہ اللہ نے ایمان والوں کے دلوں میں تسلی اور اطمینان نازل فرما کر کیا اور اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ فرما دیا ۔ اللہ نے اہل ایمان کے مراتب عالیہ کا ذکر بھی کیا ۔ حضور ﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی اللہ نے اس کی حیثیت اور مرتبہ بھی بیان فرما دیا ۔ خدا تعالیٰ نے دین حق اور قرآنی پروگرام کی مخالفت کرنے والے مختلف طبقات کا ذکر بھی کیا ۔ ان میں منافق اور مشرک ہر دو…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 14
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر : جس طرح کہ اعانت اور تعظیم کرنے والے گروہ کا ذکر خیر کیا تھا اسی طرح ان کے برعکس جماعت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال سیقول لک المخلفون الخ کہ بہت جلد پیچھے رہ جانے والے اے نبی ! ایسے یہ جھوٹے عذر کریں گے محض تمہارے ضرر سے بچنے کے لیے حالانکہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ ضرر یا نفع ان کو پہنچنا ہے اس کو کون روک سکتا ہے۔ یہ عذر کہ ہم اپنے مال و عیال کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہ تھے ان میں مصروف رہے غلط ہے اور اس پر ان کا کہنا بھی جھوٹ ہے کہ ہمارے لیے معافی مانگ کیونکہ دل میں اس بات کو گناہ ہی نہیں جانتے بلکہ ان میں یہ خیال تھا کہ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ جو مکہ جاتے ہیں سلامت نہ آئیں گے۔…
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَغْفِرُلِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الفتح : 14)
(اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، اور اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحیم ہے۔ )
ایسے لوگوں کو جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ بخشش اور عذاب اس کے اختیار میں ہے، کوئی اس کی مرضی کیخلاف نہ کسی کو پکڑ سکتا ہے اور نہ چھوڑ سکتا ہے، وہی جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے چھوڑ دے۔ البتہ ایک غیرمعمولی بات یہ ہے کہ وہ جذبات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔
کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول ﷺ اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →آیت 14 : وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور تمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے) ان کو ایک قادر حکیم کی طرح چلا رہے ہیں۔ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے بخش دے) وہ عذاب و مغفرت اپنی مشیئت و حکمت سے کرتے ہیں۔ مغفرت ایمان والوں کی اور عذاب کفار کو۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے) اس کی رحمت اس کے غضب سے سبقت کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →13 ۔” ومن لم یومن باللہ ورسولہ فانا اعتدنا للکافرین سعیرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (یغفر لمن یشاء) ” وہ جسے چاہے بخش دے “ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ (ویعذب من یشاء) ” اور وہ جسے چاہے عذاب دے “ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے خم کو ہیچ جانا۔ (وکان اللہ غفور رحمیا) ” اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 30] اصل بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی "۔ یعنی اصل اور حقیقی بادشاہی۔ سو وہ اپنی اس کائنات اور مخلوق میں جو چاہے کرے۔ کوئی نہ اس کو روک سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی اعتراض کرسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے۔ اور نہ کسی کے لیے اس کی مغفرت و بخشش کو روک سکتا ہے۔ کہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف تنہا وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس غلط کہتے اور شرکیہ بات کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو مختلف لوگوں اور مرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :-
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
(علامہ اقبال (رح) )
مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…
Read the full tafseer →ف 8 اس میں اشارہ فرمایا ہے کہ اب بھی اپنی منافقانہ روش چھوڑ کر مخلص مومن بن جائو تو اللہ کی رحمت کے دامن میں آسکتے ہو۔
Read the full tafseer →(48:14) للّٰہ ملک السموت والارض : للّٰہ میں لام استحقاق کا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے۔
لمن یشائ۔ یعنی کسی کی مغفرت کرنا یا کسی کو سزا دینا صرف اور صرف اس کی مشیت پر منحصر ہے اس پر نہ مغفرت واجب ہے اور نہ سزا دینا لازم ہے۔
غفورا۔ بہت بخشنے والا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ کان کی خبر ہونے کے ہے۔
رحیما : بڑا مہربان۔ نہایت رحم ولا۔ رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔
المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام ؓ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(ف 2) جب نبی حضور ﷺ نے سال حدیبیہ بہ نیت عمرہ مکہ مکرمہ کا ارادہ فرمایا تو آپ نے بنی غفار، بنی اسلم، اشجع رئیس مزینہ وغیرہ قبائل اعراب سے کہلابھیجا کہ ہمارے ساتھ مکہ مکرمہ کو چلو، تو حوالی مدینہ کے گاؤں والے ، اور اہل بادیہ بخوف قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے، باوجودیکہ نبی حضور ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں، اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا، اور جان چرا کر بیٹھ کر رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم دیکھ لینا اب یہ اورا کے ساتھ اس سفر سے واپس آنے والے نہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے ان آیات میں اللہ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[9] مدینہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ اس پر بدوی عرب جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا جان چھڑا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں۔ سب وہیں کھیت رہیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ چاک کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستے میں بتلا دیا کہ وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
عارضی مسرتیں
2: غرض یہ ہے کہ یہاں کی عارضی مسرتوں میں منہک ہو کر تم آخرت کو بھول گئے ہو ۔ یاد رکھو ۔ کہ وہاں تمہارے سوائے جہنم کی اذیتوں کے اور کچھ نہیں ہوگا ۔ یہ نہیں ہوسکے گا ۔ کہ تمہارا مال اور تمہاری عزت و وجاہت تم کو اس کی گرفت سے چھڑا سکے یا امتیازات یہاں ختم ہوجائیں گے ۔ وہاں جو چیز کام آئیگی ۔ وہ محمد (ﷺ) کی غلامی ہے ۔ جس سے تم کو نفرت ہے ۔ اور اس ذات کے ساتھ گہری اور عمیق محبت ہے ۔ جو تم کو گوارا نہیں ۔
Read the full tafseer →(14) اورتمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں کا اور زمین کا وہ جس کو چاہے معاف کردے اور بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور عذاب کرے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی کافر اگرچہ مستحق عذاب ہے لیکن وہ ایسا غفوررحیم ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی بخش دیتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ چناچہ مومن کے لئے مغفرت اور کافر کے لئے عذاب چاہا اور اسی طرح ٹھہرایا۔
3۔ یعنی کافر گو مستحق سزا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا غفور و رحیم ہے کہ وہ اگر ایمان لے آئے تو اس کو بھی بخش دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں ، زمین کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے جزا و سزا کیلئے اس کا قانون قائم ہے
14 ؎ ان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ لیکن اگر تم باز نہ آئے تو کیا ہوگا ؟ تم کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ وہی کچھ ہوگا جو خالی دعویٰ کرنے والوں اور دعویٰ کرلینے کے بعد عملی طور پر مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ہم کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ آسمانوں اور زمین میں اصل حکم ہمارا ہی چلتا ہے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے بس ہم نے جو ڈھیل دے رکھی ہے کہ ہر برا فعل کا نتیجہ تیار کرنے کے لیے ایک قانونبنا دیا ہے اور ہمارا قانون خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
Related Considerations
Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah's Messenger ﷺ to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.
Read the full tafseer →26 The mention of Allah's being All-Forgiving and All-Merciful after the foregoing warning, contains in it a subtle aspect of admonition. It means this: 'Even now if you give up your insincere attitude and way of life and adopt sincerity, you will fmd Allah All- Forgiving and All-Merciful. He will forgive you your previous shortcomings and will treat you according to the quality of your sincerity in the future."
Read the full tafseer →