Explained with ayahs 11–14
مجاہدین کی کامیاب واپسی
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہوجائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کردیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 25
یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صاف الفاظ میں کافر اور ایمان سے خالی قرار دیتا ہے جو اللہ اور اس کے دین کے معاملہ میں مخلص نہ ہوں اور آزمائش کا وقت آنے پر دین کی خاطر اپنی جان و مال اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنے سے جی چرا جائیں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ یہ وہ کفر نہیں ہے جس کی بنا پر دنیا میں کسی شخص یا گروہ کو خارج از اسلام قرار دے دیا جائے، بلکہ وہ کفر ہے جس کی بنا پر آخرت میں وہ غیر مومن قرار پائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو، جن کے بارے میں یہ نازل ہوئی تھی، خارج از اسلام قرار نہیں دیا اور نہ ان سے وہ معاملہ کیا جو کفار سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
خلاصہ تفسیر
جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ…
Read the full tafseer →ومن لم یومن باللہ و رسولہ فانا اعتدنا للکفرین سعیراً 13
منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ
یہ انہی منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے اللہ و رسول کے حقوق ادا کرنے کے معاملے میں ایسے بزدل اور اسلام کے غلبہ کے بجائے اس کی تباہی کی آرزوئیں اپنے دلوں میں پرورش کر رہے ہیں وہ اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والے نہیں بلکہ کافر ہیں اور یہ کافر لوگ یاد رکھیں کہ ہم نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔
12۔ 2 بور، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جاسکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
9: ان منافقین کا خیال یہ تھا کہ مسلمان چاہے عمرے کے ارادے سے جارہے ہوں ؛ لیکن جنگ ضرور ہوگی، اور قریش کی طاقت اتنی بڑی ہے کہ مسلمان وہاں سے زندہ واپس نہیں آسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6 یعنی جس کو وہ بخشنا نہ چاہے، میں کیسے بخشواؤں، ہاں اس کی مہربانی ہو تو تم کو توبہ کی توفیق مل جائے اور بخشش ہوجائے۔ اس کی رحمت بہرحال غضب پر سابق ہے۔
Read the full tafseer →آیت 13 { وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا } ”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ رکھے تو ہم نے ان کافروں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔“
Read the full tafseer →15 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے بدظنی رکھے یا مسلمان ہونے کے باوجود اس کی ہمدردیاں اسلام دشمن گروہ کے ساتھ ہوں وہ ایماندار نہیں رہتا بلکہ غیر مومن ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اسی آیت کا اگلا حصہ یہ وضاحت کر رہا ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے اور اسے آخرت میں کافروں جیسا ہی عذاب ہوگا۔ اگرچہ اس دنیا میں ایمانداروں میں ہی ملا جلا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15۔ (چنانچہ مشرک بھی جو ہر طرح مستحق عذاب ہوچکتا ہے، اگر ایمان لے آوے تو بخش دیا جاتا ہے) (آیت) ” وللہ ..... الارض “۔ عالم ناسوت یا عالم آخرت۔ ہر عالم میں سکہ حکومت بس اسی خالق یکتاو بےہمتا کا چلتا ہے۔ وہی ایک مطلق الاختیار ہے۔ قوت مدبرہ سارے کائنات میں اسی ایک کی ہے۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء ویعذب من یشآء “۔ یعنی مغفور ہونے اور معذب ہونے دونوں کے اسباب اسی کے قوانین تکوینی کے ماتحت ہیں۔ ساری کائنات اور اس کے حوادث اسی کی مشیت کے مسخر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →ومن لم یؤمن باللہ ورسولہ فانا اعتدنا للکفرین سعیرا۔ اور جو شخص اللہ پر اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے گا ‘ سو ہم نے کافروں کیلئے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →اور جو شخص سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا سو ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ومن لم یومن باللہ و رسولہ …: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے متعلق براگمان رکھے، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے نقصان پر اور اپنی جان بچانے پر خوش ہو وہ مومن نہیں بلکہ کافر اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کلمہ اسلام کہنے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن کر رہنے کی وجہ سے دنیوی احکام میں انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا، مگر آخرت میں ان کے لئے کھلے کافروں سے بھی سخت عذاب تیار ہے، فرمایا :(ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار) (النسائ : 135)”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“
Read the full tafseer →یہ ان کے لئے وعید ہے اور اس امر کی وضاحت ہے کہ انہوں نے نفاق اپنا کفر کر کفر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدا وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء “ (بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور مومن اپنے گھر والوں کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کئے) یعنی انہوں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ ہرگز اپنے بندوں کو نہیں لوٹیں گے اور وہ عنقریب ہلاک ہوں گے اور یہ بات ان لوگوں نے کہی تھی جو اللہ کے نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ جھوٹ بولتے تھے جو وہ کہتے تھے اور فرمایا (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ [اور جو ایمان لایا ہی نہیں ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا [ تو بیشک ہم نے تیار کیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًا [ کافروں کے لیے ایک بھڑکتی آگ ]
Read the full tafseer →اس کے بعد کافروں کے لیے وعید بیان فرمائی ﴿ وَ مَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًا 0013﴾ (اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے سو ہم نے کافروں کے لیے دوزخ تیار کیا ہے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔
علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13:۔ ” ومن لم یومن۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں کی طرفح جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائیں ان کے لیے ہم نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے کیونکہ وہ کفر ہیں اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ ” وللہ ملک السموات۔ الایۃ “ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کائنات میں وہی متصرف و مختار ہے۔ وہ ایمان والوں اور معافی مانگنے والوں کو معاف فرماتا اور کفار و مشرکین اور منافقین کو سزا دیتا ہے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما کر ان پر مزید مہربانیاں فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں فتح مبین اور رسول خدا اور اہل ایمان پر کیے گئے انعات کا ذکر ہوا ۔ معاہدہ حدیبیہ کی کمزور شرائط کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں میں جو ایک قسم کا شک اور افسوس پیدا ہوگیا تھا ، اس کا ازالہ اللہ نے ایمان والوں کے دلوں میں تسلی اور اطمینان نازل فرما کر کیا اور اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ فرما دیا ۔ اللہ نے اہل ایمان کے مراتب عالیہ کا ذکر بھی کیا ۔ حضور ﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی اللہ نے اس کی حیثیت اور مرتبہ بھی بیان فرما دیا ۔ خدا تعالیٰ نے دین حق اور قرآنی پروگرام کی مخالفت کرنے والے مختلف طبقات کا ذکر بھی کیا ۔ ان میں منافق اور مشرک ہر دو…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًا 13
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر : جس طرح کہ اعانت اور تعظیم کرنے والے گروہ کا ذکر خیر کیا تھا اسی طرح ان کے برعکس جماعت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال سیقول لک المخلفون الخ کہ بہت جلد پیچھے رہ جانے والے اے نبی ! ایسے یہ جھوٹے عذر کریں گے محض تمہارے ضرر سے بچنے کے لیے حالانکہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ ضرر یا نفع ان کو پہنچنا ہے اس کو کون روک سکتا ہے۔ یہ عذر کہ ہم اپنے مال و عیال کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہ تھے ان میں مصروف رہے غلط ہے اور اس پر ان کا کہنا بھی جھوٹ ہے کہ ہمارے لیے معافی مانگ کیونکہ دل میں اس بات کو گناہ ہی نہیں جانتے بلکہ ان میں یہ خیال تھا کہ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ جو مکہ جاتے ہیں سلامت نہ آئیں گے۔…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْـکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا۔ (الفتح : 13)
(اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ )
منافقین سے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ
جن منافقین کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوا ہے پروردگار نے ان کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ طرزعمل اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ لوگ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ حقیقی ایمان جس میں رسول اللہ کی ہر بات یقین کا درجہ اختیار کرلیتی ہے اور ان کے ہر حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔
کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول ﷺ اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →ایمان باللہ اور ایمان بالرسل نہ ہو تو کافر :
آیت 13 : وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا ( اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا پس ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے) یہاں کافرین فرما دیا۔ ضمیر کے بجائے اسم ظاہر لایا گیا۔ تاکہ یہ کھول دیا جائے کہ جس کا ان دو چیزوں پر ایمان نہیں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول وہ کافر ہے۔ سَعِیْرًا کو نکرہ لائے کیونکہ وہ مخصوص آگ ہے جیسا کہ اس آیت میں نکرہ ہے۔ نارًا تلظّٰی۔ ] اللیل۔ 14[
Read the full tafseer →12 ۔” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابدا “ یعنی تم نے گمان کیا کہ دشمن ان کا قلع قمع کردیں گے۔ پس وہ نہ لوٹیں گے۔ ” وزین ذلک فی قلوبکم “ شیطان نے یہ گمان تمہارے دلوں میں مزین کردیا۔ ” وظننتم ظن السوئ “ کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی سر کا کھانا ہیں پس وہ نہ لوٹیں گے۔ پس تم ان کے ساتھ کہاں جارہے ہو ؟ تم انتظار کرو اس کا جوان کا معاملہ ہوگا۔ ” وکنتم قوما بورا “ ھلاک، خیر کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت کرلیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے سے روکے رکھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرلیں گے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم) ” یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 29] بےایمانوں کیلئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بےایمانوں کے لئے دوزخ کی انتہائی ہولناک آگ کا فیصلہ ہوچکا ہوا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اللہ اور اس کے رسول پر تو وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، کہ ہم نے ایسے کافروں اور منکروں کیلئے ایک بڑی ہی دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے "۔ سو کافروں اور منکروں کے لئے ایک بڑی ہولناک آگ تیار ہے۔ والعیاذ باللّٰہ اور ایسی ہولناک اور اس قدر خطرناک اور دہکتی بھڑکتی آگ کہ اس کا تصور کرنا بھی اس جہاں میں کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ سو کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایمان و یقین کی راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :-
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
(علامہ اقبال (رح) )
مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…
Read the full tafseer →ف 7 جیسا کہ تم نہیں لائے
Read the full tafseer →(48:13) ومن لم یؤمن باللّٰہ ورسولہ : من شرطیہ اور جملہ شرط ہے۔ لم یؤمن مجارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب اور جو ایمان نہیں لایا اللہ پر اور اس کے رسول پر۔
فانا اعتدنا للکفرین سعیرا۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے اعتدنا۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم اعتاد (افعال) مصدر ۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
سعیرا : بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے دھکتی ہوئی آگ، دوزخ سعر (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی (آگ یا جنگ) بھڑکانا۔
فائدہ : آیت ان مخلفین کے متعلق ہے جو ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود کسی نہ کسی بہانے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ عمرہ کے لئے نہیں گئے تھے۔ مولانا مودودی حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ :۔
یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔
المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام ؓ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(ف 2) جب نبی حضور ﷺ نے سال حدیبیہ بہ نیت عمرہ مکہ مکرمہ کا ارادہ فرمایا تو آپ نے بنی غفار، بنی اسلم، اشجع رئیس مزینہ وغیرہ قبائل اعراب سے کہلابھیجا کہ ہمارے ساتھ مکہ مکرمہ کو چلو، تو حوالی مدینہ کے گاؤں والے ، اور اہل بادیہ بخوف قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے، باوجودیکہ نبی حضور ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں، اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا، اور جان چرا کر بیٹھ کر رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم دیکھ لینا اب یہ اورا کے ساتھ اس سفر سے واپس آنے والے نہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے ان آیات میں اللہ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[9] مدینہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ اس پر بدوی عرب جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا جان چھڑا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں۔ سب وہیں کھیت رہیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ چاک کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستے میں بتلا دیا کہ وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
عارضی مسرتیں
2: غرض یہ ہے کہ یہاں کی عارضی مسرتوں میں منہک ہو کر تم آخرت کو بھول گئے ہو ۔ یاد رکھو ۔ کہ وہاں تمہارے سوائے جہنم کی اذیتوں کے اور کچھ نہیں ہوگا ۔ یہ نہیں ہوسکے گا ۔ کہ تمہارا مال اور تمہاری عزت و وجاہت تم کو اس کی گرفت سے چھڑا سکے یا امتیازات یہاں ختم ہوجائیں گے ۔ وہاں جو چیز کام آئیگی ۔ وہ محمد (ﷺ) کی غلامی ہے ۔ جس سے تم کو نفرت ہے ۔ اور اس ذات کے ساتھ گہری اور عمیق محبت ہے ۔ جو تم کو گوارا نہیں ۔
Read the full tafseer →(13) اورجوشخص اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا تو ہم نے ایسے منکروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 1۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں پس ثابت ہوا کہ واقع میں کوئی عذر دافع قضا و قدر نہیں، مگر جہاں شریعت نے مصلحت سمجھا بہت سے مواقع پر عذر واقعی کو رخصت کا مدار قرار بھی دے یا۔
Read the full tafseer →منافقین سے خطاب کہ اب تم بھی ہمارا فہصل کان کھول کر سن لو اور یاد رکھو
13 ؎ منافقین کے رازوں کو افشا کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تم لوگ اپنی عادتوں سے اگر باز نہ آئے اور اپنی اصلاح نہ کی تو تمہارا یہ ایمان تم کو کچھ فائدہ نہ دے گا بلکہ تمہارے لیے الٹا نقصان کا باعث ہوگا اس لیے تم بھی ہمارا فیصلہ اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو کہ جو شخص الہل اور اس کے رسول پر صحیح معنوں میں ایمان نہیں لاتا فقط منہ سے دعویٰ اسلام پر ہی اکتفا کرتا ہے وہ اپنی آخرت کی زندگی کے سلسلہ میں ہمارا فیصلہ سن لے کہ وہ کافر کافر ہی ہے اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے اس دنیوی زندگی کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
Related Considerations
Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah's Messenger ﷺ to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.
Read the full tafseer →25 Here, Allah in clear words is declaring alI such people disbelievers and devoid of the faith, who are not sincere with regard to AIlah and His Religion, who shirk endangering their interests, their lives and wealth for the sake of Allah's Religion when the time comes of their trial and test. But one should remember that this is not the .sort of disbelief on the basis of which somebody in the world may be regarded as excommunicated from Islam, but this is the disbelief because of which he will be declared a disbeliever in the Hereafter. The reason is that the Holy Prophet even after the…
Read the full tafseer →