Al-Fath 48:12

Al-Fath · from ayah 12

48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤی اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّزُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ۖۚ— وَكُنْتُمْ قَوْمًا بُوْرًا ۟بَلۡ ظَنَـنۡـتُمۡ اَنۡ لَّنۡ يَّـنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰٓى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا وَّزُيِّنَ ذٰ لِكَ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۖۚ وَكُنۡـتُمۡ قَوۡمًا ۢ بُوۡرًا‏

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:12

(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھا تھا کہ رسول ﷺ اور دوسرے مسلمان کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے، اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کیے تھے، اور تم ایسے لوگ بن گئے تھے جنہیں برباد ہونا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول ﷺ اور اہلِ ایمان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم) اب کبھی بھی پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں آئیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں (تمہارے نفس کی طرف سے) خُوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم نے بہت ہی برا گمان کیا، اور تم ہلاک ہونے والی قوم بن گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ تم نے گمان کیا کہ رسول اور ایمان والے کبھی اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنادی گئی اور تم نے گمان کیا، برا گمان اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسول اور مومن کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت اچھا لگا اور تم بہت برا گمان سوچ رہے تھے۔ اور تم ہو ہی ہلاک ہوجانے والے لوگ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور ان کے ساتھیوں کو اب کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا نصیب نہ ہوگا اور یہ بات تمہارے دلوں میں رچ بس گئی ہے اور تم نے برے برے گمان کئے اور بالاخر ہلاک ہونے والے بنے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اصل وجہ یہ نہیں جو تم بیان کر رہے ہو) بلکہ تم لوگوں نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ رسول اور دوسرے مسلمان تو اپنے گھر والوں کی طرف کبھی کسی طرح لوٹ کر آہی نہیں سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو لبھا رہا تھا اور تم نے بڑے برے گمان قائم رکھے تھے اور تم تو تھے ہی برباد ہونے والے لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں لوٹ کر کبھی نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں کو خوش نما بھی معلوم ہوئی تھی اور تم نے برے برے گمان قائم کئے اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہل ِایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور اسی وجہ سے تم نے برے برے خیال کیے اور آخر کار تم ہلاکت میں پڑگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(But the truth is not what you say.) You had imagined that the Messenger and the believers would never return to their families, and this notion was embellished in your hearts. You harboured an evil thought, and you are an immensely evil people.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But you thought that the Messenger and the believers would never ever return to their families, and it seemed good to your hearts, and you thought an evil thought and became a people who are ruined (by their selfishness).

— Muhammad Taqi Usmani

But you thought that the Messenger and the believers would never ever return to their families, and it seemed good to your hearts, and you thought an evil thought and became a people who are ruined (by their selfishness).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, but you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, and that was made fair seeming in your hearts, and you did think an evil thought and you became a Bura."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but ye deemed that the messenger and the believers would never return to their own folk, and that was made fairseeming in your hearts, and ye did think an evil thought, and ye were worthless folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined."

— Saheeh International

You thought the Messenger and the believers would never ever return to their families and this attracted your hearts and caused you to develop evil suspicions. You are a wrong doing people.

— Muhammad Sarwar

Nay! you rather thought that the Apostle and the believers would not return to their families ever, and that was made fairseeming to your hearts and you thought an evil thought and you were a people doomed to perish.

— Muhammad Habib Shakir

Yea! ye imagined that the apostle and the believers would never return to their households, and that became fair-seeming in your hearts, and ye bethought an evil thought, and ye became a people doomed.

— Abdul Majid Daryabadi

"Nay, ye thought that the Messenger and the Believers would never return to their families; this seemed pleasing in your hearts, and ye conceived an evil thought, for ye are a people lost (in wickedness)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–14

مجاہدین کی کامیاب واپسی جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہوجائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کردیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 23 یعنی تم اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ رسول اور اس کے ساتھ دینے والے اہل ایمان جس خطرے کے منہ میں جا رہے ہیں اس سے تم نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ تمہاری نگاہ میں یہ بڑی دانشمندی کا کام تھا۔ اور تمہیں اس بات پر بھی خوش ہوتے ہوئے کوئی شرم نہ آئی کہ رسول اور اہل ایمان ایک ایسی مہم پر جا رہے ہیں جس سے وہ بچ کر نہ آئیں گے۔ ایمان کا دعوی رکھتے ہوئے بھی تم اس پر مضطرب نہ ہوئے بلکہ اپنی یہ حرکت تمہیں بہت اچھی معلوم ہوئی کہ تم نے اپنے آپ کو رسول کے ساتھ اس خطرے میں نہیں ڈالا۔ سورة الْفَتْح 24 اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ قَوْماً بُوْراً۔ بور جمع ہے بائر کی۔ اور بائر کے دو معنی ہیں ایک، فاسد، بگڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

خلاصہ تفسیر جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابداً وذین ذلک فی قلوبکم و ظننتم ظن السوہ وکنتم قوماً بوراً 12 منافقین کے دلوں کا اصلی بھید اوپر والی آیت میں ان کے دلوں کے جس بھید کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ اصل چیز جس نے تم کو اس سفر سے روکا وہ تمہارا یہ گمان تھا کہ اب کے قریش ان مسلمانوں کو کچا ہی کھا جائیں گے اور کبھی ان کو اور ان کے پیغمبر کو اپنے اہل و عیال کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔ وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء یعنی یہ گمان چونکہ تمہارا ایک دل پسند گمان تھا اس وجہ سے تم نے اپنے دلوں میں اس کو اچھی طرح آراستہ کیا اور سنت الٰہی کے مطابق یہ تمہارے دلوں میں اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 12۔ 2 بور، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جاسکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

9: ان منافقین کا خیال یہ تھا کہ مسلمان چاہے عمرے کے ارادے سے جارہے ہوں ؛ لیکن جنگ ضرور ہوگی، اور قریش کی طاقت اتنی بڑی ہے کہ مسلمان وہاں سے زندہ واپس نہیں آسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (48 : 12) “ بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دل کو بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو ”۔ یوں اللہ ان لوگوں کو عریاں کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ ان کی نیت اور دلوں کا حال ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے جو اندازے لگا رکھے تھے وہ بھی ان کو بتا دئیے گئے ۔ اللہ کے بارے میں ان کے دلوں میں جو سوئے ظن تھا وہ بھی بتا دیا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ اپنے ساتھیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں ۔ لہٰذا مدینہ کو واپس آنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ان لوگوں کے منہ میں جا رہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی واقع میں تمہارے نہ جانے کا سبب یہ نہیں جو بیان کر رہے ہو بلکہ تمہارا خیال یہ تھا کہ اب پیغمبر اور مسلمان اس سفر سے بچ کر واپس نہ آئیں گے۔ یہی تمہاری دلی آرزو تھی اور یہ غلط اور تخمینہ تمہارے دلوں میں خوب جم گیا تھا۔ اسی لیے اپنی حفاظت اور نفع کی صورت تم نے علیحدہ رہنے میں سمجھی۔ حالانکہ یہ صورت تمہارے خسران اور تباہی کی تھی اور اللہ جانتا تھا کہ یہ تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 { بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَہْلِیْہِمْ اَبَدًا } ”بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہل ِایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے“ تمہارا خیال تھا کہ ان لوگوں کا دماغ چل گیا ہے جو خود چل کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور یہ کہ قریش ِ مکہ انہیں جیتے جی کبھی واپس نہیں آنے دیں گے۔ { وَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ } ”اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا۔“ { وَکُنْتُمْ قَوْمًام بُوْرًا } ”اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔“ اس سے پہلے سورة محمد میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 منافقوں کا گمان کہ مسلمان بچ کر نہ لوٹ سکیں گے :۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نہ تمہارا اللہ پر اعتماد ہے اور نہ اس کے وعدوں پر۔ تمہارا بس یہ گمان تھا کہ یہ مٹھی بھر لوگ بچ کر واپس نہ آسکیں گے۔ اور تمہارا یہ گمان ہی نہ تھا تمہاری آرزو بھی یہی تھی۔ تمہیں اس بات پر مطلق شرم نہ آئی کہ تم اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے معاملہ میں کس قدر بدباطنی سے ایسی سوچ سوچ رہے تھے۔ پھر دوسرا جرم یہ کر رہے ہو کہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے بنا کر اور اللہ کے رسول سے استغفار کی التجا کرکے اپنی بدباطنی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہو۔ تمہارا یہ خبث باطن اور جھوٹ آخر تمہیں تباہ کرکے رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ یعنی اپنے ان خیالات کفریہ کی بناء پر ہر طرح مستحق عذاب وہلاکت ہوگئے۔ (آیت) ” بل قلوبکم “۔ یعنی تم اس خیال میں مگن تھے کہ اب کی سردارن مکہ ان بےسرو سامان مسلمانوں کا بالکل قلع قمع ہی کردیں گے۔ اور انہیں زندہ سلامت واپس ہی نہ آنے دیں گے۔ (آیت) ” ظننتم ..... قلوبکم “۔ خطاب منافقین کو ہے۔ (آیت) ” وظننتم ظن السوء “۔ حق تعالیٰ سے بدگمانیاں یہی تھیں کہ اب کفر وشرک کو فروغ ہوگا، اور اسلام کی بات نیچی ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–17

ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدًا وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء وکنتم قومًا بورًا بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور (ان کے ہمراہی) مؤمن اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوئی تھی اور تم نے برے برے گمان کئے تھے۔ اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے۔ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ یعنی مکہ کے مشرک اللہ کے رسول ﷺ اور تمام مؤمنوں کو ہلاک کردیں گے ‘ کوئی بھی گھر لوٹ کر نہیں آئے گا۔ دوسرے بَلْ کا ‘ جو اضراب کیلئے ہے ‘ پہلے اضراب کے مضمون پر عطف ہے۔ وَزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوبِکُمْ یعنی مسلمانوں اور رسول کی تباہی کی پسندیدگی تمہارے دلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ یہ ہے کہ اے گروہ منافقین تم نے یہ سمجھا کہ رسول اکرم اور مومنین حدیبیہ سے مدینہ منورہ کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں پختہ ہوگئی تھی اسی وجہ سے تم پیچھے رہے اور تم نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد نہیں کرے گا اور تم برباد ہی ہو کہ تمہارے دل فاسد اور سخت ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) بل ظنتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون…: یعنی تمہارے پیچھے رہنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ تم نے سمجھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان، جو احرام باندھ کر جا رہے ہیں، پورا اسلحہ بھی ساتھ لے کر نہیں جا رہے اور اس دشمن کے پاس جا رہے ہیں جس نے سینکڑوں میل دور سے آکر مدینہ میں ان کے کئی آدمی قتل کردیے اور سخت نقصان پہنچایا، یہ وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے، کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔ (2) وزین ذلک فی قلوبکم، یعنی تمہیں اپنے پیچھے رہنے پر کوئی ندامت بھی نہ تھی، بلکہ دل میں خوش تھے کہ ہم نے بہت اچھا کیا کہ ساتھ نہیں گئے۔”یہ بات تمہارے دلوں میں مزین کردی گئی“ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے فعل مجہول ”زین“ کا لفظ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ گمان اس لئے تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھی بہت تھوڑے ہیں وہ واپس نہیں پلٹیں گے۔ اسم اشارہ سے مراد نفاق ہے۔ تزیین شیطان کی طرف سے تھی یا اللہ نے ان کے دلوں میں یہ چیز پیدا کردی تھی ظن سوء یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا بورا سے مراد ہلاک ہونے والے، یہ مجاہد کا قول ہے (1) قتادہ نے کہا : وہ فسادی لوگ ہیں وہ بھلائی میں سے کسی چیز کے قابل نہیں (2) جوہری نے کہا : بور سے مراد ایسا آدمی ہے جو فسادی ہے ہلاک ہونے والا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں۔ عبداللہ بن زبعری سہمی نے کہا : اے اللہ کے رسول : جب میں گمرہ اور تباہ حال تھا اس وقت میری زبان سے جو چاق کئے اب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدا وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء “ (بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور مومن اپنے گھر والوں کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کئے) یعنی انہوں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ ہرگز اپنے بندوں کو نہیں لوٹیں گے اور وہ عنقریب ہلاک ہوں گے اور یہ بات ان لوگوں نے کہی تھی جو اللہ کے نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ جھوٹ بولتے تھے جو وہ کہتے تھے اور فرمایا (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ [ بلکہ تم لوگوں نے گمان کیا کہ ] لَّنْ يَّنْقَلِبَ [ ہرگز نہیں پلٹیں گے ] الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ [ یہ رسول اور مومن لوگ ] اِلٰٓى اَهْلِيْهِمْ [ اپنے گھر والوں کی طرف ] اَبَدًا [ کبھی بھی ] وَّزُيِّنَ [ اور سجا دیا گیا ] ذٰلِكَ [ اس (خیال ) کو ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں میں ] وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ښ [ اور تم لوگوں نے گمان کیا برائی کا گمان ] وَكُنْتُمْ [ اور تم لوگ تھے ہی ] قَوْمًۢا بُوْرًا [ایک تباہ ہونے والی قوم ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو جھوٹی عذر خواہی اور حیلہ بازی کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ضرر یا نفع پہنچانا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والے کسی فیصلے کے بارے میں کچھ اختیار رکھتا ہو، جب اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلنے کے لیے حکم ہوگیا تو ساتھ جانا ضروری تھا، آپ کے ساتھ نہ جانے کی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرر پہنچ جائے تو اس کو کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا بات وہ نہیں ہے جو بطور معذرت پیش کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی سب خبر ہے تم تو یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی اہل ایمان جو سفر میں جا رہے ہیں یہ کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے دشمن ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔ علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” بل ظننتم۔ الایۃ “ یقولون بالسنتہم لخ کیلئے بمنزلہ تفسیر ہے۔ ان کے دلوں میں کچھ اور ہے لیکن زبانوں سے کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ اس خیال کی بناء پر سفر عمرہ میں آپ کے ہمراہ نہیں گئے تھے کہ مشرکی کے تمام قبائل مل کر پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کا وہیں خاتمہ کردیں گے اور ان میں سے کوئی بھی اپنے گھروں کو زندہ سلامت واپس نہیں آسکے گا۔ اس لیے اگر ہم بھی ان کے ہمراہ گئے تو وہیں مارے جائیں گے۔ اور اس خیال کو انہوں نے نہایت معقول سمجھا اور یہ بات ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگئی اور وہ اس بدگمانی میں مبتلا ہوگئے کہ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کی مدد نہیں کرے گا۔ اصل میں یہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں فتح مبین اور رسول خدا اور اہل ایمان پر کیے گئے انعات کا ذکر ہوا ۔ معاہدہ حدیبیہ کی کمزور شرائط کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں میں جو ایک قسم کا شک اور افسوس پیدا ہوگیا تھا ، اس کا ازالہ اللہ نے ایمان والوں کے دلوں میں تسلی اور اطمینان نازل فرما کر کیا اور اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ فرما دیا ۔ اللہ نے اہل ایمان کے مراتب عالیہ کا ذکر بھی کیا ۔ حضور ﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی اللہ نے اس کی حیثیت اور مرتبہ بھی بیان فرما دیا ۔ خدا تعالیٰ نے دین حق اور قرآنی پروگرام کی مخالفت کرنے والے مختلف طبقات کا ذکر بھی کیا ۔ ان میں منافق اور مشرک ہر دو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓى اَہْلِيْہِمْ اَبَدًا وَّزُيِّنَ ذٰلِكَ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ۝ 0 ۚ ۖ وَكُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا۝ 12 ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ انقلاب قَلْبُ الشیء :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

تفسیر : جس طرح کہ اعانت اور تعظیم کرنے والے گروہ کا ذکر خیر کیا تھا اسی طرح ان کے برعکس جماعت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال سیقول لک المخلفون الخ کہ بہت جلد پیچھے رہ جانے والے اے نبی ! ایسے یہ جھوٹے عذر کریں گے محض تمہارے ضرر سے بچنے کے لیے حالانکہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ ضرر یا نفع ان کو پہنچنا ہے اس کو کون روک سکتا ہے۔ یہ عذر کہ ہم اپنے مال و عیال کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہ تھے ان میں مصروف رہے غلط ہے اور اس پر ان کا کہنا بھی جھوٹ ہے کہ ہمارے لیے معافی مانگ کیونکہ دل میں اس بات کو گناہ ہی نہیں جانتے بلکہ ان میں یہ خیال تھا کہ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ جو مکہ جاتے ہیں سلامت نہ آئیں گے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلْ ظَنَنْـتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَھْلِیْھِمْ اَبَدًاوَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئٍ صلے ج وَکُنْتُمْ قَوْمًا م بُوْرًا۔ (الفتح : 12) (بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور ان پر ایمان لانے والے اب کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں آراستہ کردی گئی، اور تم نے برے برے گمان کیے، تم ہو ہی بدباطن لوگ۔ ) منافقین کے دل کی حالت کا افشاء سابقہ آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ زبان سے جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کے دلوں میں نہیں۔ اور دلوں میں کیا ہے، اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔ کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول ﷺ اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کے گمان کا پردہ چاک : آیت 12 : بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَہْلِیْہِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ (بلکہ تم نے یہ سمجھا کہ رسول اور مؤمنین اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہ آویں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوئی تھی) یعنی شیطان نے دلوں میں مزین کیا۔ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ (اور تم نے برے برے گمان کیے) کہ کفر غالب آجائے گا اور فساد ظاہر ہوگا۔ وَکُنْتُمْ قَومًام بُوْرًا (اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے) بور جمع بائر کی ہے۔ جیسا عائذو عوذ۔ یہ بار الشیٔ سے لیا گیا جس کا معنی ہلاک ہونا اور بگڑنا آتا ہے۔ اور تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔ ” سیقول ک المخلفون من الاعراب ‘ ‘ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی بنو غفار، مزینہ، جہینہ، اشجع اور اسلم کے بدولوگ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حدیبیہ کے سال مکہ کی طرف عمرہ کے ارادہ سے جانے کا ارادہ کیا تو مدینہ کے اردگرد بدو اور دیہاتی لوگوں سے بھی کوچ کا مطالبہ کیا تاکہ وہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلیں قریش سے بچائو کے لئے کہ وہ کہیں جنگ کا ارادہ نہ کرلیں یا آپ علیہ اسلام کو بیت اللہ سے روک دیں تو آپ (علیہ السلام) نے عمرہ کا احرام باندھا اور اپنے ساتھ ہدی کو ہانکا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آپ (علیہ السلام) جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے تو اس سفر سے بہت سے بدو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–16

11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت کرلیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے سے روکے رکھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرلیں گے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم) ” یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 27] منافقوں کے گمان بد اور اس کی تزیین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگوں نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ اللہ کے رسول اور دوسرے اہل ایمان کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کی طرف واپس آہی نہیں سکیں گے، اور تمہارے اس برے گمان کو کھبا دیا گیا تھا تمہارے دلوں کے اندر "۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو تو ہوشیار و دانش مند سمجھ رہے تھے اور سچے و مخلص مسلمانوں کو سادہ لوح اور فریب خوردہ قرار دے رہے تھے کہ یہ لوگ تو اپنے دین کی حقانیت اور خڈائی مدد کے سہارے اور غرے پر اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے جا رہے ہیں۔ اور اس طرح یہ قریش کیلئے ایک تر نوالہ ثابت ہوں گے اور ان کی تعداد کی قلت کو تم لوگ "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–17

اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :- پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ اقبال (رح) ) مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–17

آیات 11 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی سب کے سب قریش کے ہاتھوں مارے جائیں گے اور ایک یخص بھی زندہ بچ کر نہ آئے گا 4 یعنی شیطان نے تمہارے دلوں میں یہ خیال خوشنما بنا کر ڈال دیا تھا اور تم نے اسے قبول کرلیا۔ 5 یعنی یہ گمان کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ہرگز مدد ہیں کرے گا۔ 6 یعنی اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کرلیں۔ یہ ’ دبائر “ ‘ کی جمع ہے اور ” بائر “ اس غلط کا کار آدمی کو کہتے ہیں جس میں کسی قسم کی خیر نہ ہو۔ اس لئے یہ لفظ نہایت شریر اور فسادی آدمی پر بھی بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:12) بل ظننتم : بل حرف اضراب ظننتم ماضی جمع مذکر۔ ظن (باب نصر) مصدر سے۔ تم نے خیال کیا۔ تم نے یقین جانا۔ بات صرف یہی نہیں تھی کہ تم کو تمہارے اموال و اہل و عیال نے مشغول رکھا۔ یا تم اہل مکہ سے لڑنے سے کراتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تم یہ یقین بھی کر رکھا تھا (کہ رسول اور اس کے ہمراہی مومن کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کو نہیں آئیں گے) ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابدا : ان مصدریہ ینقلب مضارع منفی تاکید بلن۔ صیغہ واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) منصوب بوجہ عمل لن۔ انقلاب (انفعال) مصدر بمعنی لوٹنا۔ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ ابدا ہمیشہ، زمانہ مستقبل غیر محدود۔ ظرفیت کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–14

لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام ؓ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–14

(ف 2) جب نبی حضور ﷺ نے سال حدیبیہ بہ نیت عمرہ مکہ مکرمہ کا ارادہ فرمایا تو آپ نے بنی غفار، بنی اسلم، اشجع رئیس مزینہ وغیرہ قبائل اعراب سے کہلابھیجا کہ ہمارے ساتھ مکہ مکرمہ کو چلو، تو حوالی مدینہ کے گاؤں والے ، اور اہل بادیہ بخوف قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے، باوجودیکہ نبی حضور ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں، اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا، اور جان چرا کر بیٹھ کر رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم دیکھ لینا اب یہ اورا کے ساتھ اس سفر سے واپس آنے والے نہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے ان آیات میں اللہ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–14

[9] مدینہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ اس پر بدوی عرب جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا جان چھڑا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں۔ سب وہیں کھیت رہیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ چاک کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستے میں بتلا دیا کہ وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

منافقین کی بزدلی 1: یعنی ایک طرف تو مسلمانوں کی جماعت حضور ﷺ کے ساتھ تھی ۔ جو حضور ﷺ کی مصیبت میں نکل کھڑی ہوئی تھی ۔ اور ایک منافقین تھے جن کی بزدلی اور بددلی کے جذبات غالب تھے ۔ کہ یہ لوگ مکہ کی طرف بڑھے تو ہیں ۔ اگر قریش کی فوجوں کے ساتھ تصادم ہوگیا ۔ تو پھر واپس نہیں لوٹیں گے گویا ان کے دلوں میں مایوسی تھی ۔ اور اللہ کے متعلق حسن نش موجود نہ تھا تھا ۔ فرمایا ۔ یہ محض تمہارا ظن تھا ۔ جو شیطان نے تیقن کی شکل میں سنوار کر تمہارے سامنے پیش کیا ۔ اور تم نے تسلیم کرلیا حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی جماعت ہو ۔ جسے ہلاکت اور بربادی پسند ہے ۔ تم نے اس بات پر غور نہیں کیا ۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) یہ بات نہیں ہے بلکہ تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ اب رسول اور ان کے ہمراہی مسلمان اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں آراستہ اور خوش نما کردی گئی ہے یعنی یہ گمان تم کو اچھا اور بھلا بھی معلوم ہوا کیونکہ دل کی خواہش کے مطابق تھا اور تم نے طرح طرح کی بدگمانیاں کیں اور برے برے گمان کئے اور تم لوگ ہوگئے ہلاک و برباد ہونے والے۔ یعنی اصل اقعہ یہ ہے کہ تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ اب پیغمبر اور مسلمان مکہ سے واپس آنے ہی کے نہیں کیونکہ وہاں جنگ ہوگی اور یہ وہاں سب کے سب کام آجائیں گے وہاں کفار کی تعداد زیادہ ہوگی اور یہ کم ہوں گے لہٰذا اب لوٹ کر آنے کا کوئی سوال نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–13

ف 1۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں پس ثابت ہوا کہ واقع میں کوئی عذر دافع قضا و قدر نہیں، مگر جہاں شریعت نے مصلحت سمجھا بہت سے مواقع پر عذر واقعی کو رخصت کا مدار قرار بھی دے یا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

12 ؎ منافقین کو ہم دوہری پوزیشن کے لوگوں سے موسوم کرتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ یہ ذومعنی باتوں کے کرنے والے اور ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھرنے والے ہوتے ہیں اور اس معاملہ میں یہ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ باتوں ہی باتوں میں ایک جگہ اور ایک ہی گفتگو کے دوران یہ سب کچھ کرجاتے ہیں اور مخالف فریق کو اپنے حق میں برابر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بظاہر اس میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ غور کرو کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اپنے گھروں سے عمرہ کی خاطر نکلے تھے اس وقت ان کی کیا حالت تھی اور جب سب کے سب بخر ﷺ یت واپس تشریف لے آئے تو انہوں نے کس طرح ان کا استقبال کیا اور کیا کیا معذرتیں کیں۔ زیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

Related Considerations Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah's Messenger ﷺ to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 That is,"You were delighted to think that you had saved yourselves from the danger into which the Messenger and his believing supporters were going. You thought you had done so by dint of your great wisdom; and you also did not feel any compunction in rejoicing at the thought that the Messenger and the believers would not return alive from their expedition. You did not feel uneasy in spite of your claim to the Faith but were pleased to think that you did not put yourselves in the danger by accompanying the Messenger. " 24 The word ba- ir (pl.bur in the original) has two meanings: (1) A…

Read the full tafseer →