Explained with ayahs 11–14
مجاہدین کی کامیاب واپسی
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہوجائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کردیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 20
یہ اطراف مدینہ کے ان لوگوں کا ذکر ہے جنہیں عمرے کی تیاری شروع کرتے وقت رسول اللہ ﷺ نے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، مگر وہ ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود صرف اس لیے اپنے گھروں سے نہ نکلے تھے کہ انہیں اپنی جان عزیز تھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلم، مُزَینہ، جُہَینہ، غِفار، اَشْجع، دِیل وغیرہ قبائل کے لوگ تھے۔
سورة الْفَتْح 21
اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہارے مدینہ پہنچنے کے بعد یہ لوگ اپنے نہ نکلنے کے لیے جو عذر اب پیش کریں گے وہ محض ایک جھوٹا بہانہ ہوگا، ورنہ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ دراصل کیوں بیٹھ رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کا اللہ کے رسول سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
خلاصہ تفسیر
جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ…
Read the full tafseer →سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنآ اموالنا واھلونا فاستغفرلنا ج یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم ط قل فمن یملک لکم من اللہ شیاء ان ارادیکم ضراً اوآرادبکم نفعاً ط بل کان اللہ بما تعملون خبیراً 11
منافقین کی پردہ داری
اب یہ وہ اصل بات ارشاد ہوئی ہے جس کے لئے اوپر کی تمہید استوار کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جب تم اس سفر سے بخیریت گھر پہنچو گے تو بدویوں میں سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے۔ جھوٹے عذرات لے کر تمہارے پاس آئیں گے کہ مال مویشی کی ذمہ داریوں اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کی مصروفیتوں نے ہمیں آپ کی ہمرکابی کے شرف سے محروم رکھا ہماری مجبوریوں پر نگاہ فرما کر اس کوتاہی کی معافی کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →11۔ 1 اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے غفار مزینہ جہینہ اسلم اور وئل مراد ہیں جب نبی ﷺ نے خواب دیکھنے کے بعد جس کی تفصیل آگے آئے گی عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی مذکورہ قبیلوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے ساز گار نہیں ہیں وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جاسکتے اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کرلیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے اس وقت مکہ جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے چناچہ یہ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے اللہ تعالیٰ ان کی بابت…
Read the full tafseer →7: حدیبیہ کے سفر میں جب آنحضرت ﷺ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے تو تمام مخلص صحابہ کرام تو خود ہی بڑے شوق کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے تھے، لیکن چونکہ یہ اندیشہ شروع ہی سے تھا کہ شاید قریش کے کافر لوگ راستہ روکیں، اور لڑائی کی نوبت آجائے، اس لئے آپ نے ایک بڑی جمعیت کے ساتھ سفر کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ کے آس پاس کے دیہات میں بھی یہ اعلان فرمادیا تھا کہ وہاں کے لوگ بھی ساتھ چلیں، ان میں سے جو حضرات مخلص مسلمان تھے، وہ تو آپ کے ساتھ آگئے، لیکن ان میں سے جو لوگ منافق تھے، انہوں نے یہ سوچا کہ جنگ کی صورت میں ہمیں لڑائی میں حصہ لینا پڑے گا، اس لئے مختلف بہانے کرکے رک گئے، اس آیت میں پیچھے رہنے…
Read the full tafseer →سیقول لک المخلفون ۔۔۔۔۔ بما تعملون خبیرا (11) بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (12) ومن لم یومن باللہ ۔۔۔۔۔ سعیرا (13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (14) سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ الا قلیلا (15) قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (16) (48 : 11 تا 16) “ اے نبی ﷺ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا ، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے…
Read the full tafseer →2 مدینہ سے روانہ ہوتے وقت آپ ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لیے ابھارا تھا۔ شاید قرائن سے آپ کو بھی لڑائی کا احتمال ہو۔ اس پر دیہاتی گنوار جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا، جان چرا کر بیٹھ رہے۔ اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) میں آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اس سے لڑیں گے ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں سب وہیں کھیت رہیں گے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے آپ کو مدینہ پہنچنے سے قبل راستہ میں بتلا دیا کہ تمہارے صحیح وسالم…
Read the full tafseer →دوسرے رکوع کی یہ آیات صلح حدیبیہ کے بعد حضور ﷺ کے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئیں ‘ بالکل اسی طرح جس طرح غزوئہ تبوک سے واپسی پر سورة التوبہ کی کچھ آیات نازل ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت بعد میں نازل ہونے والی ان آیات کو پہلے سے جاری سلسلہ کلام کو منقطع کر کے یہاں پر رکھا گیا ہے۔ آیات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر کا بالکل یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة التوبہ کے آغاز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ پہلے رکوع کا مضمون یہاں پر منقطع ہو رہا ہے اور اس مضمون کا تسلسل اب تیسرے رکوع کے مضمون کے ساتھ جا کر ملے گا۔
آیت 11 { سَیَقُوْلُ لَکَ…
Read the full tafseer →11 منافق کن وجو کی بناء پر صلح حدیبیہ کے سفر میں ساتھ نہیں گئے تھے :۔ جب آپ نے عمرہ کا ارادہ کیا تو مدینہ اور آس پاس کی بستیوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کرایا گیا تھا کہ جو شخص عمرہ کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ جانا چاہتا ہو وہ مدینہ پہنچ جائے۔ مگر آس پاس کی بستیوں کے کچھ قبائل مثلاً غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع کے لوگوں نے آپ کے ہمراہ جانے سے گریز کیا یہ لوگ دراصل منافق تھے اور اپنے خیال میں کسی بھلے وقت کے منتظر رہنے والوں میں سے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش مکہ تو مکہ سے یہاں آکر مسلمانوں کے بہت سے افراد کو میدان احد میں قتل کر گئے تھے اب یہ مختصر سی جمعیت جو خود اپنے جانی دشمنوں کے گھر پہنچ…
Read the full tafseer →12۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے سفارش کردیجئے کہ ہمارے اس عذر کی بناء پر ہم نے مؤاخذہ ترک جہاد کا نہ کیا جائے۔ استغفار کی درخواست باوجود عذر صحیح کے اگر غیر مخلص کی طرف سے ہو تو ریاء فی الاخلاص پر محمول ہوگی اور اگر مخلص کی طرف سے ہو تو اس کی بناء پر یہ ہے کہ عذر کا عذر ہونا اکثر امر اجتہادی ہوتا ہے اور اجتہاد کا مدار تحری پر ہوتا ہے، اس میں بعض اوقات تسویل نفسانی وشیطانی سے تامل یا عمل بمتقضاء تامل میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔ الہذا استغفار کی حاجت ہوتی ہے ؛۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” سیقول لک “۔ یعنی آپ کے مدینہ پہنچنے پر کہیں گے۔ سورة کا نزول دوران سفر ہی میں ہوا تھا۔ (آیت) ” شغلتنا اموالنا واھلونا “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا یقولون بالسنتھم ما لیس فے قلوبھم جو دیہاتی پیچھے رہ گئے ‘ وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال و عیال (کی مشغولیت) نے فرصت نہیں لینے دی ‘ اب ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کیلئے دعا کر دیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔
مِنَ الْاَعْرَاب حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا : اعراب سے مراد قبائل غفار ‘ مزینہ ‘ جہینہ ‘ نخع اور اسلم کے بدوی ہیں۔ جب حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو قریش سے لڑائی کا ڈر ان کے دلوں میں پیدا ہوگیا ‘ کیونکہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی تعداد…
Read the full tafseer →بنی غفار، اسلم اشجع، ودیل اور مزینہ و جہینہ کے لوگ جو غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ چلنے کے لیے فرصت نہ لینے دی ہمیں ان کے ضائع ہونے کا ڈر ہوا اس وجہ سے ہم آپ کے ساتھ نہ چلے سکے تو ہمارے لیے اس غلطی کی معافی کے لیے دعا کردیجیے۔
یہ لوگ صرف اپنی زبانوں سے طلب مغفرت کے لیے کہہ رہے ہیں ان کے دلوں میں یہ چیز موجود نہیں خواہ آپ ان کے لیے دعا کریں یا نہ کریں۔
آپ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ کون ہے جو عذاب الہی کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں قتل و غارت کرنا چاہے یا کہ تمہیں فتح و نصرت اور عافیت دینا چاہیے بلکہ حق…
Read the full tafseer →(1) سیقول لک المخلقون من الاعراب : رسول اللہ ﷺ نے جب عمرہ کے لئے جانے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ کے اردگرد کے اعراب کو ساتھ چلنے کے لئے کہا، تاکہ اہل مکہ مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر انہیں عمرہ سے نہ روکیں، مگر ان میں سے اکثر لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہ گئے۔ یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے مگر ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح جاگزیں نہیں ہوا تھا۔ اس کی دلیل آگے آنے والی آیات (قل للملخفین من الاعراب…“ ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ مظفر و منصور واپس روانہ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے دلوں میں عذر بہانے تیار کئے جو وہ آپ کی آمد پر آپ کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پہلے ہی راستے میں ان کے بہانوں…
Read the full tafseer →مجاہد اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد غفار، مزینہ، جہیبیہ، اشجع اور دیل کے بدو ہیں (1) یہ وہ بدو قبائل تھے جو مدینہ طیبہ کے قریب رہا کرتے تھے جب صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سفر کا ارادہ کیا تھا تو یہ گھروں میں بیٹھ رہے تھے جبکہ حضور ﷺ نے انہیں دعوت دی تھی کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں وہ قریش سے ڈر کی وجہ سے گھر میں بیٹھے رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا قربانی کے جانور ساتھ لئے تاکہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے انہوں نے گرافی محسوس کی اور کام کاج کا بہانہ بنایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ انہیں مخلفون کہا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی…
Read the full tafseer →1:۔ عبدبن حمید (رح) نے جویبر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا “ (جو دیہاتی پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال و عیال نے فرصت نہ لینے دی اب ہمارے لئے اس کوتاہی کی معافی کے لئے دعا کردیجئے) سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو خیبر کی طرف چلے تو دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے اور وہ اپنے گھر والوں سے جاملے جب ان کو (یہ خبر) پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کو فتح کرلیا ہے تو وہ بھی آپ کی طرف چل دیئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمادیا تھا کہ خیبر کے غنیمت کے مال میں سے…
Read the full tafseer →سَيَقُوْلُ لَكَ [ کہیں گے آپ سے ] الْمُخَلَّفُوْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ بدو لوگوں میں سے ] شَغَلَتْنَآ [ مصروف کیا ہم نے ] اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا [ ہمارے اموال اور ہمارے گھر والوں نے ] فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ [ تو آپ مغفرت مانگیں (اللہ سے ) ہمارے لیے ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہیں گے ] بِاَلْسِنَتِهِمْ [ اپنی زبانوں سے ] مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ وہ جو ان کے دلوں میں نہیں ہے ] قُلْ [آپ کہیے ] فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ [ تو کون اختیار رکھتا ہے تمہارے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (بچانے کا ) ] شَـيْـــــًٔا [ ذرا سا بھی ] اِنْ اَرَادَ بِكُمْ [ اگر وہ ارادہ کرے…
Read the full tafseer →آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں نہ جانے والے دیہاتیوں کی بدگمانی اور حیلہ بازی کا تذکرہ
معالم التنزیل 191 ج 4 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس سال صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے آس پاس دیہاتوں میں یہ منادی کرا دی کہ ہم عمرہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ بھی عمرہ کرلیں اور قریش مکہ کی طرف سے کوئی جنگ کی صورت پیدا ہوجائے یا وہ بیت اللہ سے روکنے لگیں تو ان سے نمنٹ لیا جائے آپ نے عمرہ کا احرام باندھا اور ھدی بھی ساتھ لی تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے روانہ نہیں ہو رہے اس وقت تک بڑی جماعت آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی (جن کی تعداد چودہ سو یا اس سے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔
علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں…
Read the full tafseer →10:۔ ” سیقول “ یہاں سے لے کر ” لایفقہون الا قلیلا “ تک ان منافقین پر زجر ہے جو صلح حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ ” المخلفون “ یعنی جو لوگ اللہ کے قہر سے پیچھے چھوڑ دئیے گئے۔ اور رفاقت پیغمبر (علیہ السلام) سے مھروم کردئیے گئے۔ جب آپ اس سفر سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ساتھ نہ جانے کے لیے کئی بہانے تراشیں گے مثلا کہیں گے کہ حضرت ہمارے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہم آپ کے ہمراہ نہ جاسکے، بیشک ہم سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے، اب آپ بھی ہم پر راضی ہوجائیں اور اللہ سے بھی ہمارے لیے معافی کی درخواست کریں۔ تائید : ” یقولون ان بیوتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں فتح مبین اور رسول خدا اور اہل ایمان پر کیے گئے انعات کا ذکر ہوا ۔ معاہدہ حدیبیہ کی کمزور شرائط کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں میں جو ایک قسم کا شک اور افسوس پیدا ہوگیا تھا ، اس کا ازالہ اللہ نے ایمان والوں کے دلوں میں تسلی اور اطمینان نازل فرما کر کیا اور اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ فرما دیا ۔ اللہ نے اہل ایمان کے مراتب عالیہ کا ذکر بھی کیا ۔ حضور ﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی اللہ نے اس کی حیثیت اور مرتبہ بھی بیان فرما دیا ۔ خدا تعالیٰ نے دین حق اور قرآنی پروگرام کی مخالفت کرنے والے مختلف طبقات کا ذکر بھی کیا ۔ ان میں منافق اور مشرک ہر دو…
Read the full tafseer →سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَہْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا 0 ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ 0 ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللہِ شَـيْـــــًٔا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا 0 ۭ بَلْ كَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا 11
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر : جس طرح کہ اعانت اور تعظیم کرنے والے گروہ کا ذکر خیر کیا تھا اسی طرح ان کے برعکس جماعت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال سیقول لک المخلفون الخ کہ بہت جلد پیچھے رہ جانے والے اے نبی ! ایسے یہ جھوٹے عذر کریں گے محض تمہارے ضرر سے بچنے کے لیے حالانکہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ ضرر یا نفع ان کو پہنچنا ہے اس کو کون روک سکتا ہے۔ یہ عذر کہ ہم اپنے مال و عیال کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہ تھے ان میں مصروف رہے غلط ہے اور اس پر ان کا کہنا بھی جھوٹ ہے کہ ہمارے لیے معافی مانگ کیونکہ دل میں اس بات کو گناہ ہی نہیں جانتے بلکہ ان میں یہ خیال تھا کہ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ جو مکہ جاتے ہیں سلامت نہ آئیں گے۔…
Read the full tafseer →سَیَقُوْلُ لَـکَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَـآ اَمْوَالُـنَا وَاَھْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْلَنَا ج یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ ط قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْــًٔا اِنْ اَرَادَبِکُمْ ضَرًّا اَوْاَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا ط بَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ (الفتح : 11)
(بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ آکر آپ سے کہیں گے کہ ہمیں اپنے اموال اور اہل و عیال کی ذمہ داریوں نے مشغول رکھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، ان سے کہئے کہ کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔
کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول ﷺ اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →پیچھے رہنے والے دیہاتی قبائل کا معاملہ :
آیت 11 : سَیَقُوْلُ لَکَ (عنقریب آپ سے کہیں گے) جب آپ حدیبیہ سے لوٹ کر جائیں گے۔ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ (جو دیہاتی آپ سے پیچھے رہ گئے) حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے دیہاتی ان قبائل سے تھے۔ غفار ٗ مزینہ ٗ جہینہ ٗ اسلم ٗ اشجع ٗ الدیل۔ وغیرہ اور اس کا سبب یہ ہوا۔ کہ جب آپ ﷺ نے عام الحدیبیہ عمرہ کی غرض سے مکہ جانے کا عزم فرمایا۔ تو آپ نے مدینہ کے اردگرد دیہاتی اور اہل بادیہ سے ساتھ چلنے کو کہا تاکہ قریش کی طرف سے اگر لڑائی پیش آئے یا وہ آپ کو بیت اللہ سے رکاوٹ پیدا کریں تو یہ معاونت کریں۔ آپ ﷺ نے احرام باندھ لیا اور ہدایا اپنے سامنے چلائے تاکہ یہ…
Read the full tafseer →واقعہ حدیبیہ اور بیعت رضوان
10 ۔” ان الذین یبایعونک “ اے محمد ! (ﷺ ) حدیبیہ میں کہ وہ فرار نہ ہوں گے۔ ” انما یباعیون اللہ “ اس لئے کہ انہوں نے اپنا آپ اللہ تعالیٰ کو جنت کے بدلہ میں بیچ دیا تھا۔ یزید بن ابوعبید فرماتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن اکوع ؓ سے پوچھا آپ لوگوں نے کس چیز پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی حدیبیہ کے دن ؟ تو انہوں نے فرمایا موت پر۔ معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ اے مخاطب ! تو مجھے درخت والے دن دیکھنا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں سے بیعت کررہے تھے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی کو نبی کریم ﷺ کے سر سے اٹھارہا تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے۔ فرمایا ہم نے آپ (علیہ السلام) سے موت پر بیعت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت کرلیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے سے روکے رکھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرلیں گے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم) ” یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 24] منافقوں کی عذرداری اور اس کا جواب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں مشغول کردیا تھا اپنے بالوں اور بال بچوں نے "۔ اور اس مجبوری کی وجہ سے ہم آپ ﷺ کے ساتھ نہ جاس کے ورنہ ضرور جاتے۔ لیکن اصل بات یہ نہ تھی بلکہ اصل میں ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ احرام کی چادریں پہن کر دشمن کے پاس اور اس کے گھر میں جانا یقینا موت کے منہ میں جانا ہے۔ اس لئے اپنے زبانی کلامی دعوؤں اور وعدوں اور آنحضرت ﷺ کے اعلان و ارشاد کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدہ و ایمان کی دولت انسان کو کس طرح جری، بےخوف اور بہادر بنا دیتی ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
اعرابی منافقین کا جنگ سے رہ جانا اور ان کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال کے لالچ میں جنگ پہ جانا منظور ہے مگر اللہ کے نام پر جنگ کرنا نامنظور ہے تو بتایا گیا ہے کہ مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دے کیونکہ ان کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ :-
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
(علامہ اقبال (رح) )
مطلب یہ ہے مسلمان کی شان اور اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ ” تو اللہ کے نزدیک بےحد عزیز و محترم ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کو تجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ یہ مدینہ منورہ کے گرد رہنے والے قبائل … غفار، مزینہ، جھینہ، اسلم اور اشجع وغیرہ … کے لوگ تھے۔
12 یعنی یہ منافق ہیں اور آپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں اس وقت جو آپ سے استغفار کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ظاہری ضدی ہے ورنہ حقیقت میں یہ اپنی کسی حرکت پر نادم نہیں ہیں۔
1 یعنی یہ تمہارا خیال قطعاً غلط ہے کہ تم گھروں میں بیٹھ رہے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائو گے اگر وہ تمہارے گھروں میں عذاب بھیجنا چاہے تو تم بچ نہیں سکتے۔
2 یعنی وہ جانتا ہے کہ تمہارا گھروں میں بیٹھے رہنا بال بچوں کی نگہداشت اور ان میں شغل کی وجہ سے نہ تھا۔ یہ برا بہانہ ہے۔ درحقیقت…
Read the full tafseer →(48:11) سیقول : س مستقبل قریب کے لئے یقول مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی المخلفون کے لئے۔
المخلفون۔ اسم مفعول جمع مذکر تخلیف (تفعیل) مصدر۔ پیچھے رہے ہوئے ۔ الاعراب : گنوار، بدو۔
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد عرب ہے اور اعراب دراصل اسی کی جمع ہے جو صحرا نشینوں کا قلم قرار پا گیا ہے۔ لیکن مجد الدین فیروزآبادی نے قاموس میں تصریح کی ہے کہ اعراب باد یہ نشین عربوں کو کہتے ہیں اس کا واحد نہیں ہے جمع اعاریب آتی ہے۔
قاضی شوکانی تفسیر فتح القدیر میں سورة براء ۃ میں رقمطراز ہیں :۔ کہ اعراب وہ ہیں جو صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔
المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام ؓ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(ف 2) جب نبی حضور ﷺ نے سال حدیبیہ بہ نیت عمرہ مکہ مکرمہ کا ارادہ فرمایا تو آپ نے بنی غفار، بنی اسلم، اشجع رئیس مزینہ وغیرہ قبائل اعراب سے کہلابھیجا کہ ہمارے ساتھ مکہ مکرمہ کو چلو، تو حوالی مدینہ کے گاؤں والے ، اور اہل بادیہ بخوف قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے، باوجودیکہ نبی حضور ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں، اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا، اور جان چرا کر بیٹھ کر رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم دیکھ لینا اب یہ اورا کے ساتھ اس سفر سے واپس آنے والے نہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے ان آیات میں اللہ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[9] مدینہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ اس پر بدوی عرب جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا جان چھڑا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں۔ سب وہیں کھیت رہیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ چاک کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستے میں بتلا دیا کہ وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 4: اس میں بیعت رضوان کا تذکرہ ہے ۔ جو جہاد کے لئے لی گئی ۔ فرمایا تو لوگ یہ نہ سمجھو ۔ کہ تم نے اپنا ہاتھ عہدہ میثاق کے لئے رسول ﷺ کے ہاتھ میں دیا ہے ۔ بلکہ تم رسول کی وساطت سے اللہ کے ساتھ اقرار کررہے ہو ۔ سو اس کا دست اعانت تمہارے لئے بڑھیگا ۔ اور ضرور تمہاری مدد کریگا
Read the full tafseer →(11) اے پیغمر دیہاتی جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور ہمارے بیوی بچوں نے ہم کو مشغول رکھا اور ہم کو فرصت نہ لینے دی اور ہم لگے رہ گئے اپنے مالوں میں اور گھروں میں سو آپ ہمارے لئے بخشش کی دعا کردیجئے یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ ان سے فرمادیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا تم کو کسی نفع اور فائدے سے بہرہ مند کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو۔ بلکہ بات یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سب سے باخبر ہے۔
مدینے کے آس پاس کے بعض قبائل بنی غفار مزینہ جھنیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 1۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں پس ثابت ہوا کہ واقع میں کوئی عذر دافع قضا و قدر نہیں، مگر جہاں شریعت نے مصلحت سمجھا بہت سے مواقع پر عذر واقعی کو رخصت کا مدار قرار بھی دے یا۔
Read the full tafseer →ایمان کا اظہار کرنے کے باوجود ایمان کی پروا نہ کرنے والوں کی پردہ داری
11 ؎ جو لوگ ایمان لانے اور ایمان کا وعدہ کرنے کے باوجود ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے بلکہ من مانیاں ہی کرتے رہتے ہیں ان کو اسلام کی زبان میں کیا کہتے ہیں ؟ منافق کا نام آپ نے سنا ہوگا ، بس اس کو منافق ہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ لوگ وہی ہیں جو بظاہر مسلمانوں کے ساتھ معاشرہ کے اندر ہی رہتے ہیں اور ان کو اسلام سے بزور بازو نکال کر باہر نہیں کیا جاتا ہاں ! ان کی گو شمالی کی جات ی ہے اور ان کو باز رہنے کی تلقین بھی برابر کی جاتی ہے اگرچہ ایسی عادات کے لوگ کم ہی حقیت کو قبول کیا کرتے ہیں کیونکہ ہر سنی ان سنی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
Related Considerations
Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah's Messenger ﷺ to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.
Read the full tafseer →20 This refers to the people living in the suburbs of Madinah whom the Holy Prophet had invited to accompany him in his march out for `Umrah, but they had not left their homes in spite of their claim to Faith just because they were afraid of death. Traditions show that these were the people of the tribes of Aslam, Muzainah, Juhainah, Ghifar, Ashja`, Dil and others.
21 This has two meanings: (1) "That after your returning to Madinah the excuse that these people will present for not going out with you, would only be a lame excuse, because they know in their hearts why they had stayed behind";…
Read the full tafseer →