آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورة احزاب میں گذر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لئے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں جیسے ارشاد ہے آیت (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 17
اشارہ ہے اس بیعت کی طرف جو مکہ معظمہ میں حضرت عثمان ؓ کے شہید ہوجانے کی خبر سن کر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے حدیبیہ کے مقام پر لی تھی۔ بعض روایات کی رو سے یہ بیعت علی الموت تھی، اور بعض روایات کے مطابق بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ ہم میدان جنگ سے پیٹھ نہ پھیریں گے۔ پہلی بات حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے، اور دوسرے حضرات ابن عمر، جابر بن عبداللہ اور معقل بن یسار ؓ سے۔ مآل دونوں کا ایک ہی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے رسول پاک ﷺ کے ہاتھ پر بیعت اس بات کی کی تھی کہ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کا معاملہ اگر صحیح ثابت ہوا تو وہ سب یہیں اور اسی وقت قریش سے نمٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو (اعمال امت پر قیامت کے دن) گواہی دینے والا (عموماً) اور (دنیا میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لئے) ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے (اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (کے دین) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو (عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کمالات کے ساتھ موصوف اور تمام نقائص اور عیوب سے پاک سمجھو اور عملاً بھی کہ اس کی اطاعت کرو) اور صبح و شام اس کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہو (اگر اس تسبیح کی تفسیر نماز سے کے جائے تو صبح شام کی فرض نمازیں مراد ہوں گی ورنہ…
Read the full tafseer →ان الذین یبایعونک انمایبا یعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ج ومن اونی بما عھد علیہ اللہ فستیرتیہ اجراً عظیماً 10
رسول کے ہاتھ پر بیعت کی ذمہ داریاں
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تائید ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر سمع و طا اعت کی بیعت کرتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ تم سے بیعت نہیں کرتے بلکہ درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیعت کے وقت ان کے ہاتھوں کے اوپر جو ہاتھ ہوتا ہے وہ تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ بیعت کر کے ان کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کریں گے اور اپنے عمل سے اس عہد کو توڑیں گے جس کو اپنے قول سے انہوں نے باندھا ہے تو یاد…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا ہے اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے التوبہ۔ 111 یہ اسی طرح ہے جیسے (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ) 4۔ النساء :80)
10۔ 2 آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہے جو نبی ﷺ نے حضرت عثمان شہادت کی خبر سن کر ان کا انتقام لینے کے لئے حدیبیہ میں موجود 14 یا 15 سو مسلمانوں نے لی تھی۔
10۔ 3 نَکْث، (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے…
Read the full tafseer →6: یہ اسی بیعت رضوان کی طرف اشارہ ہے جو حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر مشہور ہونے موقع پر آنحضرت ﷺ نے لی تھی جس کا واقعہ سورت کے تعارف میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ان الذین یبایعونک ۔۔۔۔ فوق ایدیھم (48 : 10) ” اے نبی ﷺ جو تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا “۔ یہ بات مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہونے والی بیعت کو بہت ہی نازل اور ذمہ دارانہ بناتی ہے کہ لوگوں کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے اس عقد میں اللہ کا بھی ہاتھ تھا۔ اللہ یہ بیعت لینے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھ کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا اور اللہ کی ذات ! کس قدر عظیم ذات ہے اللہ ، اللہ جو صاحب جلال و اکرام ہے ! اس کا ہاتھ !
اس شعور اور تصور سے انسان کے دل سے اس عہد کو توڑنے کا خیال ہی نکل جاتا ہے۔ چاہے رسول اللہ اس دنیا سے اٹھ ہی کیوں نہ…
Read the full tafseer →1 لوگ حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بیعت کرتے تھے اس کو فرمایا کہ نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنا گویا خدا سے بیعت کرنا ہے کیونکہ حقیقت میں نبی خدا کی طرف سے بیعت لیتا ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل و تاکید بیعت کے ذریعہ سے کراتا ہے۔ فہذا کما قال (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ ) 4 ۔ النسآء :80) وَکَمَا قَالَ ۔ (وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8 ۔ الانفال :17) جب بیعت نبوی کی حقیقت یہ ہوئی تو یقینا خدا تعالیٰ کا دست شفقت و حمایت ان کے ہاتھوں کے اوپر ہوگا۔ (تنبیہ) حضور ﷺ صحابہ سے بھی اسلام پر کبھی جہاد پر کبھی کسی دوسرے امر پر بیعت لیتے تھے۔ اگر بطریق مشروع ہو تو…
Read the full tafseer →آیت 10 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ } ”اے نبی ﷺ ! یقینا وہ لوگ جو آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔“
{ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ } ”ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔“
اس بیعت کے اندر گویا تین ہاتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ‘ بیعت کرنے والے شخص کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔
{ فَمَنْ نَّـکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ } ”تو اب جو کوئی اس کو توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اپنے اوپر ہی لے گا۔“
{ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا } ”اور جو کوئی پورا کرے گا اس معاہدے کو جو وہ…
Read the full tafseer →10 بیعت رضوان خون پر بیعت تھی :۔ یہ بیعت اس شرط پر لی جارہی تھی کہ اگر شہادت عثمان ؓ کی خبر درست ہو تو مسلمان ان کا قصاص لینے کے لئے جانیں لڑا دیں گے اور جب تک یہ مقصد پورا نہ ہوجائے ان میں کوئی زندہ واپس نہ جائے گا۔ اس کی بیعت کی صورت یہ تھی کہ بیعت کرنے والا نیچے ہاتھ رکھتا تھا۔ اور رسول اللہ اس کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھ کر عہد لیتے تھے۔
سیدنا عثمان ؓ کی بیعت کی صورت :۔ سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خبر چونکہ یقینی نہ تھی بس افواہ ہی تھی اور ان کے زندہ سلامت ہونے کا امکان موجود تھا۔ لہذا آپ نے سیدنا عثمان ؓ کی طرف سے بھی خود ہی بیعت کی۔ اپنا ہی ایک ہاتھ نیچے رکھا اور دوسرا اوپر رکھ کر بیعت مکمل…
Read the full tafseer →9۔ (اور آپ سے ان کی بیعت گویا حق تعالیٰ ہی سے ان کی بیعت ہوئی) (آیت) ” ان الذین یبایعونک “۔ یہ بیعت صحابہ نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر عزم جہاد پر کی تھی، جب یہ خبر اڑی تھی کہ حضرت عثمان ؓ جو بحیثیت سفیر رسول مکہ میں گئے ہوئے تھے، انہیں مشرکوں نے شہیدکرڈالا۔ اور اس پر یہ رائے ٹھہری تھی کہ اب مشرکوں سے جنگ ناگزیر ہوگئی ہے۔ (آیت) ” انما یبایعون اللہ “۔ یہ اس لئے کہ حقیقۃ ان کا مقصود طاعت الہی ہی پر بیعت کرنا تھا۔ (آیت) ” یداللہ فوق ایدیھم “۔ یہ بھی بیعت ہی سے کنایہ ہے۔ اس لئے گویا ماقبل کی اور تاکید ہوگئی۔ اکدہ تاکیدا علی طریق التخییل (کشاف) موکد لہ علی سبیل التخییل (بیضاوی) یرید ان ید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔
فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں ‘ وہ
درحقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ یعنی اے محمد ﷺ ! حدیبیہ میں آپ کے ہاتھ پر یہ بیعت (معاہدہ) کر رہے ہیں کہ میدان جنگ سے فرار نہیں کریں گے ‘ اور اس وقت تک لڑتے رہیں گے کہ فتح یاب ہوں یا مارے جائیں۔
اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کر رہے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کا اصل مقصد اللہ ہی سے معاہدہ کرنا ہے۔
یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ یہ جملہ استینا فیہ ہے اور کلام کی بناء استعارۂ تخییلیہ پر ہے۔ اوپر کی آیت…
Read the full tafseer →حدیبیہ کے دن جو درخت کے نیچے بیعت الرضوان ہوئی اب اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتا ہے تقریبا پندرہ سو صحابہ کرام سے آپ نے اس درخت کے نیچے بیعت لی کہ خیرا خواہی میں مدد کریں گے اور یہ کہ جہاد سے نہ بھاگیں گے۔
چناچہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ حدیبیہ کے دن جو آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں حق تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں۔
اور اللہ کی طرف سے نصرت وثواب ان کی سچائی اور بیعت کے پورا کرنے کے ساتھ ہے جو شخص اس بیعت کو توڑے گا سو اس کے توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر بیعت میں اللہ سے عہد کیا ہے تو عنقریب ہم اسے جنت میں بہت بڑا ثواب دیں گے۔
چناچہ ان لوگوں میں سے کسی نے…
Read the full tafseer →(1) ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ : سیاق کے لحاظ سے اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے اور مفسرین نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے، اگرچہ ”یبایعونک“ کے لفظ میں ہر وہ بیعت شامل ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کی گئی، خواہ بیعت رضوان ہو یا اس سے پہلے یا بعد کی کوئی بیعت۔ اسے بیعت اس لئے کہتے ہیں کہ مسلمان اس عہد کے ذریعے سے اپنی جان اور اپنا مال جنت کے بدلے میں فروخت کردیتا ہے۔ اسلام کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا وہ اپنی جان اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرچکا، جیسا کہ فرمایا :(ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون وعداً علیہ…
Read the full tafseer →یعنی اے محمد ﷺ جو لوگ حدیبیہ میں آپ کی اطاعت کرتے ہیں اس امر کی وضاحت کی کہ ان کی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت یہ اللہ تعالیٰ کی بیعت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (النسا 80) یہ بیعت، بیعت رضوان ہے جس کی وضاحت اس سورت میں انشاء اللہ آجائے گی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب دینے میں ہاتھ ان کی وفا میں ہاتھ سے بڑھ کر ہے جس قدر وہ اطاعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہدایت دینے میں بڑھ کر ہے۔ کلبی نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کا احسان اس سے بڑھ کر ہے جو انہوں بیعت کی ہے۔ ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قوت اور نصرت ان کی قوت اور نصرت سے بڑھ کر ہے جس نے بیعت…
Read the full tafseer →1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یبایعونک “ (جو لوگ آپ سے بیت کررہے ہیں) یعنی حدیبیہ کے دن۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یبایعونک “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے زمانہ میں آپ سے بیعت کی۔
3:۔ ابن مردویہ نے ابراہیم بن محمد بن المنتشر (رح) سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ یہ نبی اکرم ﷺ کی بعیت تھی جب آپ یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ “ (جو لوگ آپ سے بعیت کررہے ہیں بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ سے بعیت کررہے ہیں اور نبی کریم…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ [ بیشک جو لوگ بیعت کرتے ہیں آپ سے ] اِنَّمَا [ (تو ) کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ [ وہ لوگ بیعت کرتے ہیں اللہ سے ] يَدُ اللّٰهِ [ اللہ کا ہاتھ ] فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ۚ [ ان کے ہاتھوں کے اوپر (ہوتا ) ہے ] فَمَنْ نَّكَثَ [ پھر جس نے عہد شکنی کی ] فَاِنَّمَا يَنْكُثُ [ تو وہ تو بس عہد شکنی کرتا ہے ] عَلٰي نَفْسِهٖ ۚ [ اپنے آپ کے خلاف ] وَمَنْ اَوْفٰى [ اور جس نے پورا کیا ] بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ [ اس کو اس نے معاہدہ کیا جس پر ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] فَسَيُؤْتِيْهِ [ تو وہ (اللہ ) دے گا اس کو ] ااَجْرًا عَظِيْمًا [ ایک اجر عظیم ]
ترکیب : (آیت ۔…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا اللہ ہی سے بیعت کرنا ہے
جس وقت مقام حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کا قیام تھا اور حضرات صحابہ ؓ آپ کے ساتھ تھے اس وقت مکہ والوں کے آڑے آجانے کی وجہ سے حضرت عثمان ؓ کی وفات کی خبر سے کچھ ایسی فضاء بن گئی تھی کہ جیسے جنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر حضرات صحابہ ؓ سے بیعت لی جس میں یہ تھا کہ جم کر جہاد کریں گے پشت پھیر کر نہ بھاگیں گے بیعت کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ آپ سے جو بیعت کر رہے ہیں انکی یہ بیعت اللہ تعالیٰ ہی سے ہے آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور دعوت قبول کرنے والوں کو خود بھی اللہ کے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انعام بعثت رسول اکرم ﷺ وحق تعظیم و توقیر وعہد اطاعت وفرمانبرداری :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا ...... الی ...... فسیؤتیہ اجرا عظیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان چار انعامات کا زکر فرمایا گیا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص تھے اب ان آیات میں اس انعام عظیم کا ذکر فرمایا گیا جو تمام امت پر بلکہ تمام انسانوں اور کل کائنات پر آنحضرت ﷺ کی بعثت و رسالت کے ذریعہ فرمادیا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ پر ایمان اور بیعت کس قدر بلند پایہ فضیلت ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں اور جس وقت وہ بیعت کرتے ہوئے اپنا…
Read the full tafseer →9:۔ ” ان الذین “ یہ جہاد اور بیعت میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب ہے۔ بیعت سے بیعت رضوان مراد ہے جس کا ذکر آرہا ہے جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں حقیقت میں وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس بیعت اور اطاععت پیغمبر (علیہ السلام) سے اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ (النساء پ 5) ۔ ” ید اللہ فوق ایدیہم “ یہ پہلے مضمون کی دوسری تعبیر ہے اور اسی کی تاکید ہے بطریق تخییل، کیونکہ اللہ تعالیٰ جوارح سے منزہ ہے اور مفہوم یہ ہے کہ عقد بیعت حقیت میں اللہ سے ہے۔ لما قال سبحانہ (انما یبایعون اللہ) اکدہ علی طریقۃ التخییل فقال تعالیٰ (ید اللہ فوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات
معاہدہ حدیبیہ میں کمزور شرائط کو مان کر صلح کی گئی تھی اس لیے ایمان والوں کے دلوں میں خلجان تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے رفع کیا اور ان پر خاص اطمینان نازل فرمایا ۔ ان کے ایمان میں اضافہ فرمایا ، اور بلند انعامات کی بشارت بھی دی ۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی معافی کا اعلان بھی فرمایا اور حاصل ہونے والے انعامات کو فوز عظیم قرار دیا ۔ اس کے بر خلامناق اور مشرک مردوں اور عورتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بدگمانی کرتے ہیں ۔ ان پر بری گردش پڑے گی ۔ خدا تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہوگی اور ان کے لیے جہنم بھی تیار ہے۔ پھر فرمایا فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ تمام آسمانی اور زمینی لشکر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ 0 ۭ يَدُ اللہِ فَوْقَ اَيْدِيْہِمْ 0 ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰي نَفْسِہٖ 0 ۚ وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰہَدَ عَلَيْہُ اللہَ فَسَيُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا 10 ۧ
بيع
البَيْع : إعطاء المثمن وأخذ الثّمن، والشراء :
إعطاء الثمن وأخذ المثمن، ويقال للبیع :
الشراء، وللشراء البیع، وذلک بحسب ما يتصور من الثمن والمثمن، وعلی ذلک قوله عزّ وجل :
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، وقال عليه السلام : «لا يبيعنّ أحدکم علی بيع أخيه» «3» أي : لا يشتري علی شراه .
وأَبَعْتُ الشیء : عرضته، نحو قول الشاعر :
75-
فرسا فلیس جو ادنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَـکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ ج فَمَنْ نَّـکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 10)
(اے پیغمبر ! بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے، ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا، تو جس نے اس عہد کو توڑا تو اس عہدشکنی کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا، اور جو عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ )
آنحضرت ﷺ کے مقام کی وضاحت اور اس کا مفہوم
اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ آپ کی اطاعت کی جائے اس لیے آپ ﷺ کی اطاعت کی فضیلت اور اس کا اجر بیان کیا گیا ہے۔
آپ ﷺ سے جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر تھا۔ جو بیعت کرنے کے بعد اسے توڑ دے اس کا نقصان اسی کو ہوگا اور جو بیعت کرکے اس پر قائم رہے اللہ تعالیٰ اسے بہت جلد اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ بعض مفسرین نے اس بیعت سے مراد دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی بیعت لی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بیعت کے تقاضے بھی وہی ہیں جو اس بیعت کے ہیں جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر چودہ سو (1400)…
Read the full tafseer →بیعت ِرضوان کا تذکرہ :
آیت 10 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ (جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں) بیعت سے یہاں بیعت رضوان مراد ہے۔ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ (وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں) جب فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں۔ تو بطریقہ تخییل اس کو اور مؤکد کرتے ہوئے فرمایا۔ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ (اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے) مراد یہ ہے کہ وہ دست ِرسول اللہ ﷺ جو کہ بیعت کیلئے بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر بلند ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہاتھ ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی ذات جوارح اور صفاتِ اجسام سے پاک ہیں۔ معنی یہ ہے۔ اس بات کو خوب پختہ کرنا مقصود ہے کہ…
Read the full tafseer →9 ۔” لتومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ “ یعنی تم اس کی مدد ونصرت کرو۔ ” وتوقروہ “ تم اس کی تعظیم کرو۔ یہ تمام ضمیریں نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہیں اور یہاں وقف ہے۔ ” وتسبحوہ “ یعنی تم اللہ کی تسبیح کرو۔ مراد ہے کہ اس کے لئے نماز پڑھو۔ ” بکرۃ واصیلا “ صبح اور شام کو۔ ابن کثیر اور ابوعمرو رحمہما اللہ نے ” ولیومنوا یعزروہ، یوقروہ ، ویسبحوہ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ان سب میں اللہ تعالیٰ کیف رمان ” فی قلوب المومنین “ کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے ان سب میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…
Read the full tafseer →یہ بیعت، جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ‘ ” بیعت رضوان “ ہے ‘ اس میں صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں، حقیقت امر یہ ہے کہ وہ (یبایعون اللہ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا : (ید اللہ فوق ایدیھم) ” اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 20] رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو اس سے اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی عظمت شان بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اور اس سے ملنے والے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت بھی سامنے آجاتے ہیں سو اس ارشاد سے رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی عظمت شان اس طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل اللہ سے بیعت کرنا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ اللہ کے نمائندے اور اس کے رسول ہیں، [ صفوۃ وغیرہ ] ۔ اسی لئے رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا { من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ ج ومن تولی فما ارسلنک علیہم حفیظا } [ النسائ : 80 پ 5]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…
Read the full tafseer →ف 8 کیونکہ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی …“ اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے جو نبی ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام کو ایک درخت کے نیچے جمع کر کے لی اور وہ اس وقت جب آپ نے حضرت عثمان کو کفارے گفتگو کرنے کے لئے مکہ معظمہ بھیجا اور انہوں نے حضرت عثمان کو روک لیا اور ادھر مسلمانوں میں مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان شہید کردیئے گئے۔ یہ بیعت اس بات پر تھی کہ مرتے دم تک میدان جہاد سے نہیں بھاگیں گے۔ صیحیحن میں حضرت جابر اور دوسری روایات کے مطابق مسلمانوں کی اس وقت تعداد چودہ پندرہ سو کے درمیان تھی اس کی کچھ تفصیل آئندہ آیات میں آرہی ہے۔ (قرطبی)
9 یا مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →(18:10) یبایعونک۔ مضارع جمع مذکر غائب مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر بیع مادہ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ (جو) تیری بیعت کر رہے تھے یا کرتے ہیں ۔
انما : ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ سے مرکب ہے۔ بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔
نکث۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نکث مصدر (باب ضرب و نصر) بمعنی (عہد) توڑنا۔ فسخ کرنا۔ (کمبل یا سوت) اوھیڑنا۔ ینکث علی نفسہ وہ عہد کو اپنے نفس کے نقصان کے لئے ہی توڑتا ہے۔ یعنی اس کی عہد شکنی کا وبال اسی کی جان پر ہوگا۔
ای فلا یعود ضرر نکثہ الاعلیہ۔
اوفی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر۔ (اور جس نے) ایفاء وعدہ کیا۔ عہد کو پورا کیا۔ یعنی بیرت کے وعدہ پر قائم رہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 10 :
شاھد (گواہی دینے والا) تعزروا (تم مدد کرو) توقروا ( تم عزت واحترام کرو) تسبحوا (تم پاکی بیان کرو) ‘ بکرۃ ( صبح) اصیل (شام) یبایعون (بیچ دیتے ہیں۔ بیعت کرتے ہیں) ید اللہ ( اللہ کا ہاتھ) ‘ فوق (اوپر) ینکث ( وہ توڑ ڈالتا ہے) ‘ اوفی (اس نے پورا کیا) ‘ سیئوتی ( بہت جلد وہ دے گا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :
اس سے پہلی آیات کی تشریح میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو کفار مکہ بوکھلا گئے اور اس تصور سے کانپ اٹھے کہ اگر نبی کریم ﷺ اور بدر ‘ احمد ‘ خندق وغیرہ کے فاتح صحابہ کرام ؓ مکہ…
Read the full tafseer →شان مصطفیٰ کریم حضور ﷺ ۔
(ف 1) اے محبوب حضور ﷺ آپ سے بیعت کرتے وقت تو وہ گویا اللہ سے بیعت کرتے ہیں آپ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے گویا اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے یعنی دست رحمت وثواب شفقت۔ یعنی گویا خدا ان سے عہد کرتا ہے کہ جنت ورحمت دے گا وہ وعہد ہرگز ٹوٹ نہیں سکتا، پھر فرمایا جو کوئی اس بیعت کے معاہدہ کو توڑے گا اس کا گناہ کود پائے گا سزا بھگتے گا خدا کا کیا کرے گا اور جو شخص وہ عہد جو اس نے اللہ سے باندھا ہے پورا کرے گا اور باوفا ہوگا صادق القول نکلے گا توعنقریب خدا اس کو اجرعظیم دے گا جنت میں ثواب عطا فرمائے گا یہ بیعت رضوان کا حال ہے اس آیت میں اللہ نے اپنے محبوب کی فضیلت بدرجہ غایت…
Read the full tafseer →[7] اشارہ ہے اس بیعت کی طرف جس کا ذکر حاشیہ 1 میں گزر چکا ہے۔
[8] لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بیعت کرتے تھے۔ اس کو فرمایا کہ نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنا گویا اللہ سے بیعت کرنا ہے کیونکہ حقیقت میں نبی اللہ ہی کی طرف سے بیعت لیتا ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل و تاکید بیعت کے ذریعے سے کراتا ہے۔ بقول اقبال
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 4: اس میں بیعت رضوان کا تذکرہ ہے ۔ جو جہاد کے لئے لی گئی ۔ فرمایا تو لوگ یہ نہ سمجھو ۔ کہ تم نے اپنا ہاتھ عہدہ میثاق کے لئے رسول ﷺ کے ہاتھ میں دیا ہے ۔ بلکہ تم رسول کی وساطت سے اللہ کے ساتھ اقرار کررہے ہو ۔ سو اس کا دست اعانت تمہارے لئے بڑھیگا ۔ اور ضرور تمہاری مدد کریگا
Read the full tafseer →(10) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں ان بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے پھر جو شخص عہد شکنی کرتا ہے تو وہ اپنے ہی ضرر اور اپنی ہی ذات کی برائی کے لئے عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس نے اس پر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم اور بہت بڑانیگ عطا فرمائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہاتھ ملاتے تھے وقت قول کے وقت اول قول مسلمان کا قول ہوتا تھا پھر جس بات کا تقیید منظور ہوا لڑائیوں میں مرتے دم تک نہ بھاگنے کا۔
صلح حدیبیہ کے متعلق چند امور ذہن نشین کرلینے چاہئیں تاکہ سورة…
Read the full tafseer →ف 6۔ ید اللہ فوق ایدیھم سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بیعت کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لینا ضرور ہے، یا یہ کہ شیخ بیعت لینے والے کا ہاتھ اوپر ہی ہونا ضرور ہے مطلق بیعت بمعنی ضمان طاعت سے۔ اور ید اللہ میں حقیقی معنی متشابہات میں سے ہیں۔ اس میں زیادہ تفتیش نہ کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کی بیعت کرنے کی ذمہ داریاں کتاب اللہ کی روشنی میں
10 ؎ گزشتہ سے گزشتہ آیت میں نبی کریم ﷺ کی گواہی اور بشیر ونذیر ہونے کی وضاحت تھی اور اس کے بعد ایمان والوں کو مقامف نبوت و رسالت سے آگاہ کیا گیا اور پھر توحید و رسالت کی الگ الگ تفہیم کرائی گئی اور زیر نظر آیت میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت فرمائی جار ہی ہے اور اس ذمہ داری کے قبول کرنے کا احساس کرایا جا رہا ہے تاکہ کوئی بات اس سلسلہ میں مبہم نہ رہ جائے۔ اس سورت کی شروع کی آیت میں (رح) جس فتح مبین کی خوشخبری سنائی گئی ہے اس کے متعلق وضاحت بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور پھر یہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ حدیبیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
Injunctions and Related Considerations
In the preceding verses, Allah referred to the favours he bestowed generously upon the Holy Prophet ﷺ and his Ummah, especially upon those who participated in the pledge of Ridwan. The Bestower of the favours is Allah and the medium is the Holy Prophet ﷺ . Therefore, in the current set of verses, the right of the Holy Prophet ﷺ and the obligation of the Ummah to honour and revere him is entrenched. First, three attributes of the Holy Prophet ﷺ are referred to: shahid, mubashshir, nadhir. Shahid means 'witness' and its sense here is the same as that of…
Read the full tafseer →17 The reference is to the pledge that the Holy Prophet took from his Companions at Hudaibiyah at the rumor that Hadrat `Uthman had been killed at Makkah. According to some traditions it was a pledge unto death, and according to others it was an undertaking that they would not nut away from the battlefield. The first thing has been reported from Hadrat Salamah bin Akwa' and the second from Hadrat Ibn `Umar, Jabir bin `Abdullah and Ma'qil bin Yasar. The purport of both is the same. The Companions had pledged allegiance on the Holy Prophet's hand with the express object that if the news of…
Read the full tafseer →