Al-Fath 48:9

Al-Fath · from ayah 9

48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ ؕ— وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِیْلًا ۟لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا

تاکہ (مسلمانو) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

That you [people] may believe in Allah and His Messenger and honor him and respect the Prophet and exalt Allah morning and afternoon.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:9

تاکہ اے لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ (مسلمانو) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان (کے دین) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ رسول کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ تم (اے لوگوں !) ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم تعظیم (و توقیر) کرو اس کی اور تسبیح کرو اس کی صبح و شام (یعنی ہمہ وقت)

— مولانا اسحاق مدنی

(اس لئے) تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح میں لگے رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ (اے مسلمانو !) تم ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو } اور تاکہ تم اللہ کی تسبیح کرو صبح وشام۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تا کہ (مسلمانو !) تم لوگ اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی عزت کرو اور صبح شام اس (اللہ) کی تسبیح کرتے رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so that (all of) you may all believe in Allah and His Messenger, and support him, and revere him, and celebrate Allah's glory, morning and evening.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that you (O people,) believe in Allah and His Messenger, and support him and revere him, and pronounce His (Allah‘s) purity morning and evening.

— Muhammad Taqi Usmani

so that you (O people,) believe in Allah and His Messenger, and support him and revere him, and pronounce His (Allah‘s) purity morning and evening.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In order that you (O mankind) may believe in Allah and His Messenger and that you Tu`azziruh and Tuwaqqiruh, and Tusabbihuh Bukrah and Asila.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That ye (mankind) may believe in Allah and His messenger, and may honour Him, and may revere Him, and may glorify Him at early dawn and at the close of day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That you [people] may believe in Allah and His Messenger and honor him and respect the Prophet and exalt Allah morning and afternoon.

— Saheeh International

so that you (people) may believe in God and His Messenger, help, and respect God and glorify Him in the morning and the evening.

— Muhammad Sarwar

That you may believe in Allah and His Apostle and may aid him and revere him; and (that) you may declare His glory, morning and evening.

— Muhammad Habib Shakir

That ye may believe in Allah and His apostle, and may assist Him and honour Him, and may hallow Him at dawn and evening.

— Abdul Majid Daryabadi

In order that ye (O men) may believe in Allah and His Messenger, that ye may assist and honour Him, and celebrate His praise morning and evening.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–9

اطمینان و رحمت سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 16 بعض مفسرین تُعَزِّرُوْہُ اور تُوَقِّرُوْہُ کی ضمیروں کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو اور تُسَبِّحُوہُ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ " تم رسول کا ساتھ دو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو "۔ لیکن ایک ہی سلسلہ کلام میں ضمیروں کے دو الگ الگ مرجع قرار دینا، جبکہ اس کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے، درست نہیں معلوم ہوتا۔ اسی لیے مفسرین کے ایک دوسرے گروہ نے تمام ضمیروں کا مرجع اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا ہے اور ان کے نزدیک عبارت کا مطلب یہ ہے کہ " تم اللہ کا ساتھ دو ، اسکی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو (اعمال امت پر قیامت کے دن) گواہی دینے والا (عموماً) اور (دنیا میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لئے) ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے (اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (کے دین) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو (عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کمالات کے ساتھ موصوف اور تمام نقائص اور عیوب سے پاک سمجھو اور عملاً بھی کہ اس کی اطاعت کرو) اور صبح و شام اس کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہو (اگر اس تسبیح کی تفسیر نماز سے کے جائے تو صبح شام کی فرض نمازیں مراد ہوں گی ورنہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

5۔ آگے آیات 21-8 کا مضمون آگے کی آیات میں پہلے نبی ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا ہے پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے اہل ایمان پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوئیں ان کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر ان منافقین کے رویہ پر تفصیل سے تبصرہ کیا ہے جو اس موقع پر جھوٹے بہانے پیدا کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔ عمرہ کے لئے اس ڈر سے نہیں نکلے کہ مسلمانوں کو اس سفر سے پلٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ پھر ان جاں باز مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے نہایت بےسرو سامانی کے حال میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی اور اپنے اخاصو صدق نیت کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی ابدی خوشنودی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

5: یعنی وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کے خلاف برے برے منصوبے بناتے ہیں، لیکن برائی کے پھیر میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک طرف ان کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

اے نبی ﷺ ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا “۔ رسول اللہ ﷺ ان تمام لوگوں پر گواہ ہیں جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے۔ آپ شہادت دیں گے کہ جو پیغام آپ کو دے کر بھیجا گیا تھا آپ نے وہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہ لوگوں کا رد عمل یہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بعض مومن ہوئے۔ بعض نے کفر اختیار کیا اور بعض نے منافقت کا رویہ اختیار کیا۔ بعض لوگوں نے اصلاح قبول کی اور بعض بدستور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 تُعَزِّرُوْہُ اور تُوَقِّرُوْہُ کی ضمیریں اگر اللہ کی طرف راجع ہوں تو اللہ کی مدد کرنے سے مراد اس کے دین اور پیغمبر کی مدد کرنا ہے اور اگر رسول کی طرف راجع ہوں تو پھر کوئی اشکال نہیں۔ 12 یعنی اللہ کی پاکی بیان کرتے رہو۔ خواہ نمازوں کے ضمن میں یا نمازوں سے باہر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ } ”تاکہ اے مسلمانو ! تم ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو۔“ { وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } ”اور تاکہ تم اللہ کی تسبیح کرو صبح وشام۔“ اس آیت کے پہلے حصے میں ایمان کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہے ‘ اس کے بعد دوسرے فقرے وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ میں ہُ کی دونوں ضمیریں ”رسول ﷺ“ کے لیے ہیں ‘ اور اس کے بعد وَتُسَبِّحُوْہُ میں ہُ کی ضمیر اللہ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 اس آیت میں (تُسَبِّحُوْہُ ) میں ہ کی ضمیر کا مرجع تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔ رہیں (تُعَزِّرُوْہُ ) اور ( َتُوَقِّرُوْہُ ) میں ہ کی ضمیریں تو ان کا مرجع بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہونا چاہئے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بالکل ساتھ ساتھ ہیں اور پہلی دو ضمیروں کا مرجع رسول اللہ کی طرف ہونے کے لئے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر بنا کر اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ کے دین کی بھرپور مدد کرو۔ اور اللہ کے احکام اور اس کی حرمت والی چیزوں کا پورا ادب اور تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح وتحمید بیان کرو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ اس تسبیح و تقدیس کی تفسیر نماز سے بھی کی گئی ہے۔ اس صورت میں مراد اس سے فرض نمازیں ہوں گی۔ یرید تصلوالہ (معالم) اور مطلق ذکر بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں مراد ذکر مندوب ہوگا۔ (آیت) ” بکرۃ واصیلا “۔ بعض نے صبح وشام سے مراد وعموم اوقات یعنی دوام لی ہے۔ یحتمل ان یکون اشارۃ الی المداومۃ (کبیر) (آیت) ” تعزروہ “۔ اس کی مدد کرو، یعنی اللہ کے دین کی مدد کرو۔ (آیت) ” تو قروہ “۔ یعنی اللہ کی تعظیم عقیدہ میں بھی کرو اور عمل سے بھی، عقیدۃ یوں کہ اسے جامع کمالات واصاف حسنہ سمجھو۔ ہر عیب، ہر نقص سے پاک و بالاتر۔ اور عملا یوں کہ اس کی اطاعت کرو، آیت میں ضمیر واحد چاروں جگہ حق تعالیٰ ہی کی جانب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–10

لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔ فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لتؤمنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوا بکرۃ واصیلا تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ تُعَزِّرُوْہُ اس کی مدد کرو۔ تُوَقِّرُوْہُ اس کی تعظیم کرو۔ تُسَبِبحُوْہُ نازیبا صفات سے اس کی پاکی کا اظہار کرو ‘ یا تسبیح سے مراد ہے نماز پڑھنا۔ تینوں جگہ ہُ ضمیریں اللہ کی طرف راجع ہیں اور ان کی مدد کرنے سے مراد ہے اللہ کے نازل کردہ دین اور اللہ کے رسول کی مدد کرنا۔ اللہ کی مدد کرنے کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف ہر طرح کی طاقت کی نسبت کرو ‘ کسی دوسرے کی طرف طاقت کو منسوب نہ کرو اور لاحول ولا قوۃ الاّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول محمد پر ایمان لاؤ اور اس کی دشمن کے مقابلہ میں تلوار سے مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی نمازیں پڑھنے میں لگے رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ …: ”تعزیر“ کا معین ہے تعظیمکے ساتھ مدد کرنا۔ (راغب) اور ”توقیر“ وقار سے نکلا ہے، تعظیم کرنا۔ اس بات پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ”تسبحوہ“ (اس کی تسبیح کرو) سے مراد اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے، کیونکہ تسبیح اللہ کے سوا کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اکثر مفسرین کے مطابق اس سے پہلے دونوں الفاظ ”تعززروہ“ اور ”توقروہ“ میں بھی ضمیر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہونا چاہیے تاکہ تمام ضمیروں میں موافقت رہے۔ مطلب یہ ہوگا ”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (اللہ) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔“ اللہ کی مدد سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

قتادہ نے کہا : ہم نے آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ انہوں نے حق کی تبلیغ کی (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر گواہ بنا کر بھیجا کہ انہوں نے اطاعت یا معصیت میں سے جو اعمال کئے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے آپ کو ان کے لئے ان امور کو بیان کرنے والا بنا کر بھیجا جن کے ساتھ ہم نے آپ کو ان کی طرف بھیجا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز ان پر گواہی دیں گے۔ سورة النساء میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے یہ معنی واضح طور پر گزر چکا ہے مبشرا جو اطاعت کرے اس کو جنت کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا اور آگ سے خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا گیا اسے جو نافرمانی کرے یہ قتادہ اور دوسرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اناارسلنک شاھد ا “ (یعنی ہم نے آپ کو گواہی بناکر بھیجا) یعنی گواہی دینے والا اپنی امت پر اور گواہی دینے والاانبیاء (علیہم السلام) پر کہ انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا (آیت) ” مبشرا “ یعنی آپ خوشخبری دیتے ہیں جنت کی جس نے اللہ کی اطاعت کی (آیت ) ” ونذیرا “ یعنی لوگوں کو اس کی نافرمانی سے ڈراتے ہیں۔ (آیت ) ” لتؤمنوا باللہ ورسولہ “ (تاکہ وہ ایمان لائیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ) یعنی (وہ ایمان لائیں اس کے وعدے پر حساب پر اور موت کے بعد اٹھنے پر (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی تم ان کی مدد کرو (آیت) ” وتوقروہ “ (اور ان کی تعظیم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّتُؤْمِنُوْا [ تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ] بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ [ اللہ پر اور اس کے رسول پر ] وَتُعَزِّرُوْهُ [ اور تاکہ تم لوگ تقویت دو ان کو ] وَتُوَقِّرُوْهُ ۭ [ اور تعظیم کرو ان کی ] وَتُسَـبِّحُوْهُ [ اور تاکہ تم لوگ تسبیح کرو اس (اللہ ) کی ] بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا [ صبح وشام ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

رسول اللہ ﷺ شاہد اور مبشر اور نذیر ہیں ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی تین بڑی صفات بیان فرمائیں اول شاہد ہونا دوسرے مبشر ہونا تیسرے نذیر ہونا عربی میں شاہد گواہ کو کہتے ہیں، قیامت کے دن آپ اپنی امت کے عادل ہونے کی گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرہ ﴿ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ﴾ اور سورة الحج ﴿لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ مبشر ہیں جس کا معنی ہے بشارت دینے والا اور تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ نذیر ہیں یعنی ڈرانے والے ہیں تبشیر یعنی ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ کی رضا اور اللہ کے انعامات کی بشارت دینا اور تنذیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

انعام بعثت رسول اکرم ﷺ وحق تعظیم و توقیر وعہد اطاعت وفرمانبرداری : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا ...... الی ...... فسیؤتیہ اجرا عظیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان چار انعامات کا زکر فرمایا گیا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص تھے اب ان آیات میں اس انعام عظیم کا ذکر فرمایا گیا جو تمام امت پر بلکہ تمام انسانوں اور کل کائنات پر آنحضرت ﷺ کی بعثت و رسالت کے ذریعہ فرمادیا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ پر ایمان اور بیعت کس قدر بلند پایہ فضیلت ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں اور جس وقت وہ بیعت کرتے ہوئے اپنا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

8:۔” انا ارسلنک۔ الایۃ “ ایمان اور نصرت پیغمبر (علیہ السلام) کی ترغیب ہے شاہد کے معنی بتانے والے اور بیان کرنے والے کے ہیں (شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالقادر) نہ حاضر و ناظر۔ لہذا اس سے آنحضرت ﷺ کے علم غیب پر استدلال درست نہیں۔ ” لتومنوابالل “ امام ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراءت میں چاروں افعال بصیغہ غائب ہیں اس صورت میں مفہوم واضح ہے۔ باقی ائمہ قراءت کی روایتوں میں چار افعال بصیغہ کطاب ہیں۔ ” لتومنوا الخ “ میں خطاب رسول خدا ﷺ اور امت سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء “ (طلاق رکوع 1) ۔ یہ تغلیب مخاطب علی الغائب کے قبیل سے ہے اور آنحضرت ﷺ بھی اپنی رسالت پر ایمان لانے کے مکلف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربط آیات معاہدہ حدیبیہ میں کمزور شرائط کو مان کر صلح کی گئی تھی اس لیے ایمان والوں کے دلوں میں خلجان تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے رفع کیا اور ان پر خاص اطمینان نازل فرمایا ۔ ان کے ایمان میں اضافہ فرمایا ، اور بلند انعامات کی بشارت بھی دی ۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی معافی کا اعلان بھی فرمایا اور حاصل ہونے والے انعامات کو فوز عظیم قرار دیا ۔ اس کے بر خلامناق اور مشرک مردوں اور عورتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بدگمانی کرتے ہیں ۔ ان پر بری گردش پڑے گی ۔ خدا تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہوگی اور ان کے لیے جہنم بھی تیار ہے۔ پھر فرمایا فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ تمام آسمانی اور زمینی لشکر اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ۝ 0 ۭ وَتُسَـبِّحُوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۝ 9 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًاوَّمُبَشِّرًاوَّنَذِیْرًا۔ لِّـتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ ط وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الفتح : 8، 9) (بےشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو، اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ ) آنحضرت ﷺ کا مرتبہ و مقام اور امت پر آپ کے حقوق ان دونوں آیتوں میں پہلے نبی کریم ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا گیا ہے، پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے مومنوں پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے ان کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اس نے نبی آخر الزمان ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین اسلام کو باطل ادیان پر غالب کردے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ! ہم نے آپ ﷺ کو حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ کی بعثت کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور رسول ﷺ کی تعظیم اور معاونت کریں اور اللہ تعالیٰ کو صبح وشام یاد کرتے رہیں۔ قرآن مجید نے کئی مرتبہ بات بتلائی ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 9 : لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (تاکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو) اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو خطاب ہے۔ وَتُعَزِّرُوْہُ (اور اس کی مدد کرو) نصرت سے ان کو قوت پہنچائو۔ وَتُوَقِّرُوْہُ (اور اس کی تعظیم کرو) وَتُسَبِّحُوْہُ (اور اس کی تسبیح میں لگے رہو) : یہ التسبیح سے ماخوذ ہے۔ یا السبحۃ سے ہے۔ اور ضمائر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ اور اللہ کی تعزیر سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی معاونت ہے۔ ضمیر کا مرجع : جن لوگوں نے ضمائر کو مختلف قرار دیا انہوں نے پہلی دو ضمیریں نبی اکرم ﷺ کی طرف لوٹائیں ہیں انہوں نے بہت بعید بات کہی ہے۔ قراءت :…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

(انا ارسلنک) اے رسول کریم ! ﷺ ہم نے آپ کو بھیجا (شاھدا) گواہ بنا کر ” یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا نیز تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ (ومبشرا) جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لئے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انداز یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 17] بعثت رسول ﷺ کا اولین مقصد دولت ایمان سے سرفرازی : سو ارشاد فرما گیا کہ " تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور اس طرح تم سعادت دارین سے سرفراز ہو سکو کہ پہلا اور بینادی حق ہے انسان پر اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول معظم ﷺ کا، کہ ان پر سچے دل سے ایمان لایا جائے۔ اسی پر دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی کا دارومدار ہے۔ ورنہ آخرت کیا اس سے پہلے خود یہ دنیا بھی انسان کیلئے ایک عذاب ہے کہ ایمان و یقین کے اس نور مبین سے محرومی کی صورت میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں کہ ایسے میں انسان اپنے مقصد زندگی سے غافل، اپنے آغاز و انجام سے بیخبر اور اپنے خالق ومالک کی معرفت سے عارفی و محروم ہو کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–10

اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:9) لتؤمنوا باللّٰہ ورسولہ میں لام تعلیل کا ہے۔ یعنی آپ کا رسول بنا کر بطور شاہد، مبشر، نذیر بھیجنا بدیں وجہ تھا۔ کہ اے لوگو ! تم ایمان لاؤ تؤمنوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر سے۔ نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا۔ ورسولہ ای وبرسولہ اور اس کے رسول پر (بھی ایمان لاؤ) اس کا عطف جملہ سابقہ لتؤمنوا باللّٰہ پر ہے۔ وتعزروہ۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ لتؤمنوا باللّٰہ پر ہے اور اسی طرح اگلے دو جملوں کا عطف بھی اسی جملہ پر ہے۔ تعزروا مجارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا تعزیر (تفعیل) مصدر بمعنی ادب اور تعظیم کے ساتھ مدد کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–10

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 10 : شاھد (گواہی دینے والا) تعزروا (تم مدد کرو) توقروا ( تم عزت واحترام کرو) تسبحوا (تم پاکی بیان کرو) ‘ بکرۃ ( صبح) اصیل (شام) یبایعون (بیچ دیتے ہیں۔ بیعت کرتے ہیں) ید اللہ ( اللہ کا ہاتھ) ‘ فوق (اوپر) ینکث ( وہ توڑ ڈالتا ہے) ‘ اوفی (اس نے پورا کیا) ‘ سیئوتی ( بہت جلد وہ دے گا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 : اس سے پہلی آیات کی تشریح میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو کفار مکہ بوکھلا گئے اور اس تصور سے کانپ اٹھے کہ اگر نبی کریم ﷺ اور بدر ‘ احمد ‘ خندق وغیرہ کے فاتح صحابہ کرام ؓ مکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

بیعت رضوان اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ (ف 1) اے محبوب حضور ﷺ ہم نے تم کو سب کی طرف رسول بناکربھیجا تم اپنی امت کے اوپر گواہ ہو، قیامت میں تبلیغ کی اور امت کے حالات کی گواہی دو گے مبشر ہو مسلمانوں کو جنت کی بشارت دیتے ہو نذیر ہو کافروں کو دوزخ سے ڈراتے ہو اے مسلمانو ! ہم نے اس لیے ان رسولوں کو تمہاری طرف بھیجا ہے کہ تم ان کی اطاعت کرو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور رسول کی نہایت مضبوطی وپابندی سے مدد کرو، اور ان کو تقویت دو ، اور انکی توقیر وتعظیم و تکریم بجالاؤ، ادب ملحوظ خاطر رکھو، اور خدا کے لیے تسبیح وتحلیل کہو، صبح وشام رات ودن عبادت کرو، صبح کی تسبیح میں باقی چاروں نمازیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–9

[6] مصیبت کے چکر میں مشرکین یوں آگئے کہ چند ہی روز میں قتل و گرفتاری سے ہر طرح مغلوب و مقہور ہو کر رہے اور منافقین کی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبے سے جل جل کر اور کڑھ کڑھ کر کٹی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حضور ﷺ کے تین منصب 3: شاہد سے مراد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ تمام حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اور تمام سچائیوں کو بالمو جبہ دیکھ رہے ہیں ۔ آپ کی تعلیمات میں خصوصیت کی بات یہ ہے کہ ان میں محض حق وصداقت پر گواہی اور شہادت ہے ۔ کسی فرقہ یا جماعت کے خیالات کی تائید یا تردید نہیں ۔ یقینی آپ نے پہلی اور آخری دفعہ اس عقیدے کا اعلان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کی رحمتیں عام ہیں ۔ تمام قومیں اس کے فضل وکرم سے بہرہ مند ہوتی ہیں ۔ اور الہام ووحی کے لئے بنی اسرائیل یا دوسری قوموں کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ آپ کا مشن یہ ہے کہ کائنات انسانی میں جہاں کہیں بھی اور صداقت ہو ۔ کسی صورت اور کسی پیریہ بیان میں ہو اس کی حقانیت پر شہادت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) تاکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اس کے دین کی مدد کرو اور اس کا ادب ملحوظ رکھو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو۔ آپ کو گواہی دینے والا یعنی اور رسولوں پر یا اپنی امت پر بشارت دینے والا یعنی ہر ایمان لانے اور نیک اعمال بجا لانے والے کو آپ نجات کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ڈرانے والا یعنی ہر منکر اور معاند کو خدا کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو اور اس کا ادب ملحوظ رکھو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو ۔ ادب محلوظ رکھنا یعنی اس کے احکام بجا لائو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو موصوف بالکمالات منزہ عن النقائص سمجھو اور عملا بھی کہ اطاعت کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تاکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی عزت و تعظیم کرو 9 ؎ زیرنظر آیت میں مسلمانوں کو براہ راست خطاب کیا گیا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ خالق ہے ، رسول اس کی مخلوق ہے اس لیے دونوں کو ایک مقام پر نہ رکھو بلکہ اللہ کو اس کا مقام دو اور رسول ﷺ کو ان کا مقام کیونکہ اسی چیز کو ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دونوں پر ایمان لانا ایک دوسرے کے لیے بھی لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے کسی ایک کو مان کر اور دوسرے سے انکار کر کے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

Injunctions and Related Considerations In the preceding verses, Allah referred to the favours he bestowed generously upon the Holy Prophet ﷺ and his Ummah, especially upon those who participated in the pledge of Ridwan. The Bestower of the favours is Allah and the medium is the Holy Prophet ﷺ . Therefore, in the current set of verses, the right of the Holy Prophet ﷺ and the obligation of the Ummah to honour and revere him is entrenched. First, three attributes of the Holy Prophet ﷺ are referred to: shahid, mubashshir, nadhir. Shahid means 'witness' and its sense here is the same as that of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 According to some commentators the verse means: ".... and help the Messenger, and honour him, and glorify Allah morning and evening", and according to others: "... and help Allah, and honour Him and glorify Him morning and evening. " Glorifying Allah morning and evening does not mean glorifying Him only in the morning and the evening but at all times. It is just like saying about something that it is well-known in the east and the west when one actually means to say that it is well-known everywhere in the world.

Read the full tafseer →