Explained with ayahs 4–9
اطمینان و رحمت
سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 14
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ صاحب نے شاہد کا ترجمہ " اظہار حق کنندہ " فرمایا ہے اور دوسرے مترجمین اس کا ترجمہ " گواہی دینے والا " کرتے ہیں۔ شہادت کا لفظ ان دونوں مفہومات پر حاوی ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة احزاب، 82۔
سورة الْفَتْح 15
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة احزاب، حاشیہ 83۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو (اعمال امت پر قیامت کے دن) گواہی دینے والا (عموماً) اور (دنیا میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لئے) ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے (اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (کے دین) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو (عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کمالات کے ساتھ موصوف اور تمام نقائص اور عیوب سے پاک سمجھو اور عملاً بھی کہ اس کی اطاعت کرو) اور صبح و شام اس کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہو (اگر اس تسبیح کی تفسیر نماز سے کے جائے تو صبح شام کی فرض نمازیں مراد ہوں گی ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5۔ آگے آیات 21-8 کا مضمون
آگے کی آیات میں پہلے نبی ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا ہے پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے اہل ایمان پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوئیں ان کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر ان منافقین کے رویہ پر تفصیل سے تبصرہ کیا ہے جو اس موقع پر جھوٹے بہانے پیدا کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔ عمرہ کے لئے اس ڈر سے نہیں نکلے کہ مسلمانوں کو اس سفر سے پلٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ پھر ان جاں باز مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے نہایت بےسرو سامانی کے حال میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی اور اپنے اخاصو صدق نیت کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی ابدی خوشنودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
5: یعنی وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کے خلاف برے برے منصوبے بناتے ہیں، لیکن برائی کے پھیر میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک طرف ان کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اے نبی ﷺ ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا “۔
رسول اللہ ﷺ ان تمام لوگوں پر گواہ ہیں جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے۔ آپ شہادت دیں گے کہ جو پیغام آپ کو دے کر بھیجا گیا تھا آپ نے وہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہ لوگوں کا رد عمل یہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بعض مومن ہوئے۔ بعض نے کفر اختیار کیا اور بعض نے منافقت کا رویہ اختیار کیا۔ بعض لوگوں نے اصلاح قبول کی اور بعض بدستور…
Read the full tafseer →10 یعنی آپ اللہ کے فرمانبرداروں کو خوشی اور نافرمانوں کو ڈر سناتے ہیں اور خود اپنے احوال بتلاتے ہیں جیسے " انا فتحنا " سے یہاں تک تینوں قسم کے مضامین آچکے۔ اور آخرت میں بھی اپنی امت پر نیز انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 8 { اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا ‘ بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر۔“
یعنی محمد رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کے گواہ prosecution witness کے طور پر پیش ہو کر گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! تیرا دین جو مجھ تک پہنچا تھا میں نے وہ اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ لوگ اس کے بارے میں خود جوابدہ ہیں۔ اس عدالت اور اس میں ہونے والی گواہیوں کا نقشہ سورة النساء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : { فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا۔…
Read the full tafseer →8 اس آیت کی تشریح کے لئے سورة احزاب کی آیت نمبر 45 کے حواشی ملاحظہ فرما لیجئے۔
Read the full tafseer →7۔ چناچہ بشارت اور انذار کا ظہور تو اسی دنیا میں ہوا اور آپ ﷺ مومنین کے حق میں (آیت) ” مبشر “۔ ثابت ہوئے اور کافروں کے حق میں (آیت) ” نذیر “۔ لیکن آپ کے شاہد ہونے کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ جب آپ قیامت کے دن اعمال امت پر گواہی دیں گے۔ تشھد علی امتک یوم القیامۃ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔
فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →انا ارسلنک شاھدًا ومبشرًا ونذیرًا۔ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے
Read the full tafseer →اے محمد ہم نے آپ کو تبلیغ امت پر گواہی دینے والا اور مومنین کو جنت کی بشارت دینے والا اور کفاروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →انا ارسلنک شاھداً و مبشراً و نذیراً : سورت کے شروع سے یہاں تک رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کے لئے فتح و نصرت، مغفرت، تکفیر سیئات اور نجت میں داخلے کی بشارت اور وعدے کا بیان ہے، جس کے ساتھ منافقین و کفار کے لئے عذاب، غضب، لعنت اور جہنم میں داخلے کی وعید کا بیان ہے۔ اب یہاں سے اس فتح مبین کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل کا آغاز ہوتا ہے جس کی تمہید کے طور پر رسول اللہ ﷺ کا مقام و منصب بیان فرمایا، تاکہ مسلمان اسے پہچانیں اور آپ ﷺ کی اطاعت اور جاں نثاری میں کوئی دریغ نہ کریں۔ چناچہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو جن یا میں لوگوں کے سامنے حق کی شہادت دینے والا، اسے تمام لوگوں تک پہنچا دینے والا، آخرت میں ان پر پیغام حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
قتادہ نے کہا : ہم نے آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ انہوں نے حق کی تبلیغ کی (1) ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر گواہ بنا کر بھیجا کہ انہوں نے اطاعت یا معصیت میں سے جو اعمال کئے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے آپ کو ان کے لئے ان امور کو بیان کرنے والا بنا کر بھیجا جن کے ساتھ ہم نے آپ کو ان کی طرف بھیجا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز ان پر گواہی دیں گے۔ سورة النساء میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے یہ معنی واضح طور پر گزر چکا ہے
مبشرا جو اطاعت کرے اس کو جنت کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا اور آگ سے خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا گیا اسے جو نافرمانی کرے یہ قتادہ اور دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اناارسلنک شاھد ا “ (یعنی ہم نے آپ کو گواہی بناکر بھیجا) یعنی گواہی دینے والا اپنی امت پر اور گواہی دینے والاانبیاء (علیہم السلام) پر کہ انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا (آیت) ” مبشرا “ یعنی آپ خوشخبری دیتے ہیں جنت کی جس نے اللہ کی اطاعت کی (آیت ) ” ونذیرا “ یعنی لوگوں کو اس کی نافرمانی سے ڈراتے ہیں۔ (آیت ) ” لتؤمنوا باللہ ورسولہ “ (تاکہ وہ ایمان لائیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ) یعنی (وہ ایمان لائیں اس کے وعدے پر حساب پر اور موت کے بعد اٹھنے پر (آیت) ” وتعزروہ “ یعنی تم ان کی مدد کرو (آیت) ” وتوقروہ “ (اور ان کی تعظیم…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بھیجا آپ کو ] شَاهِدًا [ گواہ ہوتے ہوئے ] وَّمُبَشِّرًا [ اور بشارت دینے والا ] وَّنَذِيْرًا [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
رسول اللہ ﷺ شاہد اور مبشر اور نذیر ہیں
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی تین بڑی صفات بیان فرمائیں اول شاہد ہونا دوسرے مبشر ہونا تیسرے نذیر ہونا عربی میں شاہد گواہ کو کہتے ہیں، قیامت کے دن آپ اپنی امت کے عادل ہونے کی گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرہ ﴿ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ﴾ اور سورة الحج ﴿لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ مبشر ہیں جس کا معنی ہے بشارت دینے والا اور تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ آپ نذیر ہیں یعنی ڈرانے والے ہیں تبشیر یعنی ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ کی رضا اور اللہ کے انعامات کی بشارت دینا اور تنذیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انعام بعثت رسول اکرم ﷺ وحق تعظیم و توقیر وعہد اطاعت وفرمانبرداری :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا ...... الی ...... فسیؤتیہ اجرا عظیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان چار انعامات کا زکر فرمایا گیا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص تھے اب ان آیات میں اس انعام عظیم کا ذکر فرمایا گیا جو تمام امت پر بلکہ تمام انسانوں اور کل کائنات پر آنحضرت ﷺ کی بعثت و رسالت کے ذریعہ فرمادیا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ پر ایمان اور بیعت کس قدر بلند پایہ فضیلت ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں اور جس وقت وہ بیعت کرتے ہوئے اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8:۔” انا ارسلنک۔ الایۃ “ ایمان اور نصرت پیغمبر (علیہ السلام) کی ترغیب ہے شاہد کے معنی بتانے والے اور بیان کرنے والے کے ہیں (شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالقادر) نہ حاضر و ناظر۔ لہذا اس سے آنحضرت ﷺ کے علم غیب پر استدلال درست نہیں۔ ” لتومنوابالل “ امام ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراءت میں چاروں افعال بصیغہ غائب ہیں اس صورت میں مفہوم واضح ہے۔ باقی ائمہ قراءت کی روایتوں میں چار افعال بصیغہ کطاب ہیں۔ ” لتومنوا الخ “ میں خطاب رسول خدا ﷺ اور امت سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء “ (طلاق رکوع 1) ۔ یہ تغلیب مخاطب علی الغائب کے قبیل سے ہے اور آنحضرت ﷺ بھی اپنی رسالت پر ایمان لانے کے مکلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات
معاہدہ حدیبیہ میں کمزور شرائط کو مان کر صلح کی گئی تھی اس لیے ایمان والوں کے دلوں میں خلجان تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے رفع کیا اور ان پر خاص اطمینان نازل فرمایا ۔ ان کے ایمان میں اضافہ فرمایا ، اور بلند انعامات کی بشارت بھی دی ۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی معافی کا اعلان بھی فرمایا اور حاصل ہونے والے انعامات کو فوز عظیم قرار دیا ۔ اس کے بر خلامناق اور مشرک مردوں اور عورتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بدگمانی کرتے ہیں ۔ ان پر بری گردش پڑے گی ۔ خدا تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہوگی اور ان کے لیے جہنم بھی تیار ہے۔ پھر فرمایا فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ تمام آسمانی اور زمینی لشکر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا 8 ۙ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًاوَّمُبَشِّرًاوَّنَذِیْرًا۔ لِّـتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ ط وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الفتح : 8، 9)
(بےشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو، اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ )
آنحضرت ﷺ کا مرتبہ و مقام اور امت پر آپ کے حقوق
ان دونوں آیتوں میں پہلے نبی کریم ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا گیا ہے، پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے مومنوں پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے ان کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اس نے نبی آخر الزمان ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین اسلام کو باطل ادیان پر غالب کردے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ! ہم نے آپ ﷺ کو حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ کی بعثت کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور رسول ﷺ کی تعظیم اور معاونت کریں اور اللہ تعالیٰ کو صبح وشام یاد کرتے رہیں۔ قرآن مجید نے کئی مرتبہ بات بتلائی ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →آیت 8 : اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا (ہم نے آپ کو گواہی دینے والا) قیامت کے دن اپنی امت پر گواہی دیں گے۔ : شاہدًا یہ حال مقدرہ ہے۔ وَّمُبَشِّرًا (اور بشارت دینے والا) ایمان والوں کو جنت کی۔ وَّنَذِیْرًا (اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے) آگ سے کافروں کو ڈرانے والا۔
Read the full tafseer →7 ۔” وللہ جنود السموات والارض وکان اللہ عزیزا حکیما۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(انا ارسلنک) اے رسول کریم ! ﷺ ہم نے آپ کو بھیجا (شاھدا) گواہ بنا کر ” یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا نیز تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ (ومبشرا) جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لئے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انداز یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 16] پیغمبر ﷺ کے " شاھد " ہونے کا معنی و مطلب ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم نے آپ کو اے پیغمبر شاہد بنا کر بھیجا "۔ یعنی حق و صداقت کی شہادت اور گواہی دینے والا۔ پس حق وہی ہے جس کے حق ہونے کی شہادت و گواہی آپ ﷺ نے دی۔ اور صداقت بھی وہی ہے جسے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین متین اور قرآن حکیم اور آپ ﷺ کی ارشاد فرمودہ سنت مطہرہ نے صداقت قرار دیا ہو۔ اور جو اس کے خلاف ہوگا وہ کذب وزور اور باطل و مردود ہوگا۔ آپ ﷺ کی شان شہادت کا کامل اور پورا ظہور قیامت کے روز اس وقت ہوگا جبکہ آپ ﷺ اپنی امت پر گواہی دیں گے کہ انہوں نے اس دعوت حق پر داعیئِ حق کو کیا جواب دیا۔ جیسا کہ احادیث شفاعت میں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…
Read the full tafseer →ف 5 یا حق کی شادت دینے والا ‘ یعنی اپنے قول و عمل سے لوگوں کو بتانے والا کہ حق کیا ہے ؟ دیکھیے سورة بقرہ آیت 143 و سورة نساء آیت (4)
Read the full tafseer →(48:8) مبشرا۔ خوشخبری دینے والا۔ تبشیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ اس کا اصل ماخذ بشرۃ ہے۔ جس کے معنی ہیں کھال کی بالائی سطح۔ اور اندرونی سطح کو ادمہ کہتے ہیں ۔ انسان کو بشر اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی کھال ظاہر ہوتی ہے۔ دوسرے حیوانات کی طرح اون یا بادلوں میں چھپی ہوئی نہیں ہوتی۔ اسی سے بشارۃ و بشری (بمعنی مژدہ و خوشخبری) ماخوذ ہے کیونکہ دل خوش کن خبر سننے سے انسان کے جسم میں خون کا دوران ہوتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے چہرہ پر اثر پڑتا ہے اور چہر ہ کی جلد چمکنے لگتی ہے پس بشرت زیدا کے معنی ہوئے میں نے زید کو ایسی خوشخبری سنائی کہ جس کے سننے سے اس کے چہرہ کی کھال چمک گئی (المفردات)
مبشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 10 :
شاھد (گواہی دینے والا) تعزروا (تم مدد کرو) توقروا ( تم عزت واحترام کرو) تسبحوا (تم پاکی بیان کرو) ‘ بکرۃ ( صبح) اصیل (شام) یبایعون (بیچ دیتے ہیں۔ بیعت کرتے ہیں) ید اللہ ( اللہ کا ہاتھ) ‘ فوق (اوپر) ینکث ( وہ توڑ ڈالتا ہے) ‘ اوفی (اس نے پورا کیا) ‘ سیئوتی ( بہت جلد وہ دے گا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :
اس سے پہلی آیات کی تشریح میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو کفار مکہ بوکھلا گئے اور اس تصور سے کانپ اٹھے کہ اگر نبی کریم ﷺ اور بدر ‘ احمد ‘ خندق وغیرہ کے فاتح صحابہ کرام ؓ مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
بیعت رضوان اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔
(ف 1) اے محبوب حضور ﷺ ہم نے تم کو سب کی طرف رسول بناکربھیجا تم اپنی امت کے اوپر گواہ ہو، قیامت میں تبلیغ کی اور امت کے حالات کی گواہی دو گے مبشر ہو مسلمانوں کو جنت کی بشارت دیتے ہو نذیر ہو کافروں کو دوزخ سے ڈراتے ہو اے مسلمانو ! ہم نے اس لیے ان رسولوں کو تمہاری طرف بھیجا ہے کہ تم ان کی اطاعت کرو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور رسول کی نہایت مضبوطی وپابندی سے مدد کرو، اور ان کو تقویت دو ، اور انکی توقیر وتعظیم و تکریم بجالاؤ، ادب ملحوظ خاطر رکھو، اور خدا کے لیے تسبیح وتحلیل کہو، صبح وشام رات ودن عبادت کرو، صبح کی تسبیح میں باقی چاروں نمازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[6] مصیبت کے چکر میں مشرکین یوں آگئے کہ چند ہی روز میں قتل و گرفتاری سے ہر طرح مغلوب و مقہور ہو کر رہے اور منافقین کی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبے سے جل جل کر اور کڑھ کڑھ کر کٹی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 2: دوبارہ اس آیت کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے اعوان وانصار ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے ۔ کیونکہ اللہ کے پاس ایسے عساکر ہیں ۔ جن کا سامنا کرنا انسان کی طاقت اور وسعت سے باہر ہے ۔ پہلی دفعہ اس آیت کو مقام بشارت میں بیان کیا تھا ۔ اور وہاں غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ ان کے آقا و مولا کے پاس اعانت اور مدد کے بیشمار ذرائع ہیں ۔ اور ان گنت فرشتے ہیں وہ جو چاہے ان سے کام لے ۔
Read the full tafseer →(8) بلا شبہ ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہی دینے والے اور بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 4۔ یعنی پوری قدرت والا ہے اگر چاہتا کسی لشکر سے ان سب کی ایک دم سے صفائی کردیتا کہ یہ اس کے مستحق ہیں، لیکن چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے بمصلحت عقوبت میں توقف فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو شاہد ، بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے
8 ؎ زیر نظر آیت سورة الاحزاب میں آیت 45 کے طور پر گزر چکی ہے اور ہم نے اس کی وضاحت بھی اسی مقام پر کردی ہے جو عزوۃ الوثقی جلد ہفتم میں موجود ہے۔ آپ ﷺ کے ان اوصاف کے ساتھ مزید اوصاف بھی وہاں بیان کیے گئے ہیں۔ اس جگہ ان کا دوبارہ ذکر فرا کر گزشتہ دو کرداروں کی وضاحت فرما دی ہے کہ آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ایک گروہ کے کردار کو بشارت دینے والے اور دوسرے گروہ کیکردار کے لیے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ان دونوں ہی کرداروں پر آپ کی گواہی نہایت واضح اور غیر مبہم ہوگی۔ ان دونوں پر بھی جو آپ ﷺ کے ساتھ جانے والے اور ساتھ جانے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
Injunctions and Related Considerations
In the preceding verses, Allah referred to the favours he bestowed generously upon the Holy Prophet ﷺ and his Ummah, especially upon those who participated in the pledge of Ridwan. The Bestower of the favours is Allah and the medium is the Holy Prophet ﷺ . Therefore, in the current set of verses, the right of the Holy Prophet ﷺ and the obligation of the Ummah to honour and revere him is entrenched. First, three attributes of the Holy Prophet ﷺ are referred to: shahid, mubashshir, nadhir. Shahid means 'witness' and its sense here is the same as that of…
Read the full tafseer →14 Shah Waliyullah has translated shahid as "a bearer of witness to the truth", and other translators translate it as "a bearer of the witness". The word shahadat comprehends both these meanings. For explanation, sec E.N. 82 of Surah Al-Ahzab.
15 For explanation, see E.N. 33 of Surah Al-AhzaB.
Read the full tafseer →