Al-Fath 48:7

Al-Fath · from ayah 7

48:7

وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا ۟وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah belong the soldiers of the heavens and the earth. And ever is Allah Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:7

زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی کی ہیں آسمانوں اور زمین کو فوجیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ہی کے لئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ ہی کی ملک آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر ُ کل کے کل اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ اور اللہ زبردست ہے کمال حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ غالب و حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

To Allah belong the legions of the heavens and the earth. Allah is Most Mighty, Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belong the forces of the heavens and the earth, and Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belong the forces of the heavens and the earth, and Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah belong the armies of the heavens and the earth. And Allah is Ever All-Powerful, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is ever Mighty, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah belong the soldiers of the heavens and the earth. And ever is Allah Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

To God belong the armies of the heavens and the earth. God is Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And Allah's are the hosts of the heavens and the earth; and Allah is Mighty, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is ever Mighty, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

For to Allah belong the Forces of the heavens and the earth; and Allah is Exalted in Power, Full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–9

اطمینان و رحمت سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 13 یہاں اس مضمون کو ایک دوسرے مقصد کے لیے دہرایا گیا ہے۔ آیت نمبر 4 میں اسے اس غرض کے لیے بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلے میں لڑنے کا کام اپنے فوق الفطری لشکروں سے لینے کے بجائے مومنین سے اس لیے لیا ہے کہ وہ ان کو نوازنا چاہتا ہے۔ اور یہاں اس مضمون کو دوبارہ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو سزا دینا چاہے اس کی سرکوبی کے لیے وہ اپنے بیشمار لشکروں میں سے جس کو چاہے استعمال کرسکتا ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنی تدبیروں سے وہ اس کی سزا کو ٹال سکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

خلاصہ تفسیر وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا (جس کے دو اثر ہیں ایک بیعت جہاد کے وقت اس کی طرف مسابقت اور عزم و ہمت جیسا کہ بیعت رضوان کے واقعہ میں اوپر ذکر آ چکا ہے اور دوسرا اثر کفار کی بےجا ضد کے وقت اپنے جوش اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنا جس کا ذکر اس واقعہ کے جزو دہم میں تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے اور آگے بھی (آیت) فانزل اللہ سکینتہ علیٰ رسولہ میں آئے گا) تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو (کیونکہ دراصل اطاعت رسول ذریعہ ہے نور ایمان میں زیادتی کا اور اس واقعہ میں ہر پہلو سے مکمل اطاعت رسول کا امتحان ہوگیا کہ جب رسول نے دعوت جہاد کے لئے بلایا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وللہ جنود السموت ولارض ط وکان اللہ عزیز حکیماً 7 منافقین سے اظہار بیزاری یہی ٹکڑا صرف ایک لفظ عزیز کے فرق کے ساتھ اوپر آیت 4 میں بھی شامل ہے۔ وہاں یہ ایک خاص پہلو سے آیا ہے۔ یہاں یہ ان منافقین کے اظہار سے بیزاری و بےنیازی کے لئے وارد ہوا ہے کہ اگر یہ منافقین جہنم ہی کے ایندھن بننا چاہتے ہیں تو بن جائیں خس کم جہاں پاک، اللہ کو ان بزدل لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اس کے اپنے ہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے۔ اپنی حکمت کے تحت وہ ان لشکروں کو جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ کسی کی بزدلی اور پست ہمتی اس کے ارادوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

5: یعنی وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کے خلاف برے برے منصوبے بناتے ہیں، لیکن برائی کے پھیر میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک طرف ان کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

اس کے بعد اللہ کی حکمت کا ایک دوسرا پہلو سامنے آتا ہے ، جو اللہ نے اس واقعہ میں رکھا ہوا تھا یہ کہ منافقین اور منافقات کو سزا دے اور مشرکین اور مشرکات سے ایسے کاموں کا صدور ہو اور وہ سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔ ویعذب المنفقین والمنقت ۔۔۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا (6) واللہ جنود ۔۔۔۔۔ عزیز حکیما (48 : 7) ” اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہو اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی وہ سزا دینا چاہے تو کون بچا سکتا ہے۔ خدائی لشکر ایک لمحہ میں پیس کر رکھ دے۔ مگر وہ زبردست ہونے کے ساتھ حکمت والا بھی ہے۔ حکمت الٰہی مقتضی نہیں کہ فوراً ہاتھوں ہاتھ ان کا استیصال کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا } ”اور آسمانوں اور زمین کے لشکر ُ کل کے کل اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“ آیت 4 کے آخر پر بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ آیت 4 کا اختتام ”علیمًا حکیمًا“ پر ہوتا ہے ‘ جبکہ یہ آیت ”عزیزًا حکیمًا“ پر ختم ہو رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 یہ لشکر فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں غرضیکہ جتنے بھی باطنی اسباب ہیں۔ سب اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ ان سے یہ کام بھی لے سکتا ہے کہ میدان جنگ میں ان سے مسلمانوں کی مدد کرے اور کافروں کو پٹوا دے اور یہ کام بھی لے سکتا ہے کہ بدکردار لوگوں کے مکر و فریب کی چالوں کو انہی پر الٹ دے اور حالات ہی ایسے پیدا کردے کہ وہ خود ہی اپنے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جائیں۔ اور یہ سب کچھ اس کی اپنی حکمت اور صوابدید پر منحصر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اس لئے مصلحتوں اور حکمتوں ہی کے تقاضہ سے نزول عذاب میں توقف کررہا ہے حالانکہ وہ بربادی کفار پر ہر وقت ہر طرح قادر ہے۔ جب چاہے دم بھر میں صفایا کردے) (آیت) ” للہ جنود السموت والارض “۔ یہ الفاظ ابھی پہلے بھی گزر چکے ہیں، مگر وہاں ان سے مقصود تھا، مومنین کے غالب کرنے پر قادر ہونا جس کا حاصل تسلیہ ہے، اور اب مقصود ہے کفار کے مقہور کرنے پر قادر ہونا جس کا حاصل تہدید ہے۔ اس لئے یہاں (آیت) ” حکیما “۔ کے ساتھ (آیت) ” عزیزا “۔ فرمایا۔ (تھانوی (رح))

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–10

لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔ فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ جنود السموت والارض وکان اللہ عزیزًا حکیمًا اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں کے اور زمین کے لشکر۔ اور اللہ غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ یعنی اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں سارے جہان کے لشکر ‘ پس وہ اپنے نبی اور مؤمنوں کے دشمنوں کی سازشوں کو جس طرح چاہے گا ‘ دفع کر دے گا اور وہی سب پر غالب ہے ‘ اسلئے اس کے عذاب کو کافروں سے کوئی دور نہیں کرسکتا۔ اور وہی حکمت والا ہے ‘ جس طرح چاہتا ہے انتظام و تدبیر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور فرشتوں اور مومنین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے ان کے زریعہ سے اپنے بندوں میں جسکی چاہے وہ مدد کرے اور وہ کفار اور منافقین کو سزا دینے میں زبردست اور مسلمانوں کو بزرگی اور فضیلت عطا کرنے میں حکمت والا ہے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ اور اپنے نبی کی مدد فرمانے میں حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واللہ جنود السموت والارض …: یہ جملہ پہلے بھی گزر چکا ہے، یہاں اللہ کے جنود سے ڈرانا اور کفار و منافقین کو عذاب، غضب اور لعنت کی وعید سنانا مقصود ہے، جس کیساتھ عزیز کی صفت مناسبت رکھتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جیسے عذاب دینا چاہے یا ذلیل و رسوا کرنا چاہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی اس کے مقابلے میں غالب آسکتا ہے، مگر حکیم بھی ہے، اسلئے اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ انہیں ملہت دیتا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں، مگر جب پکڑتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے جس سے بچ کر کوئی نکل نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

یعنی انہوں نے گمان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ کی طرف نہیں لوٹیں گے اور نہ ہی آپ کے صحابہ میں سے کوئی واپس لوٹے گا یہ اس وقت ان کا گمان تھا جب آپ حدیبیہ کے لئے نکلے تھے اور ان کا یہ گمان تھا کہ مشرک تباہ و برباد کردیں گے جس طرح کہا : خلیل اور سیبویہ نے کہا : اس سے یہاں مراد فساد ہے۔ دنیا میں ان پر بری گردش ہوگی اور انہیں قتل کیا جائے گا اور انہیں قیدی بنا لیا جائے گا اور آخرت میں جہنم ہے ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا یعنی ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے فتحہ دیا۔ جوہری نے کہا : ساء یسوء …… سرد کی ضد ہے اس کا اسم السو ہے اسے علیھم دائرۃ السو بھی پڑھا گیا ہے یعنی شکست اور تکلیف جس نے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–7

1:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وعبدبن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم ؓ والترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) نے المعرفہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردے) نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھ زیادہ محبوب ہے ان چیزوں سے جو زمین پر موجود ہیں پھر آپ نے اس آیت کو ان پر پڑھا تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے بیان فرمادیا ہے جو کچھ وہ آپ کے ساتھ (معاملہ) فرمائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ اور اللہ کے ہیں آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر ] وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا [ اور اللہ بالا دست ہے حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

بشارات اہل حدیبیہ بعطاء نعمأدنیویہ واخرویہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ....... الی ....... عزیزا حکیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان بشارتوں اور کرامتوں پر مشتمل تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھیں اب ان آیات میں وہ کرامات اور بشارتیں ذکر فرمائی جارہی ہیں جو آپ ﷺ کے ہمرکاب رفقاء اور حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین “۔ کے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے کہ بضدھاتتبین الاشیاء “۔ نور کی نورانیت ظلمت و تاریکی کے ہی مقابلہ میں پہچانی جاتی ہے تو اولا اہل حدیبیہ کے فضائل بیان فرماتے گئے اور پھر بطور تکمیل مضمون انکے مقابل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

7:۔ ” ویعذب المنفقین۔ الایۃ “ یہ ” یدخل “ پر معطف ہے اور دوسری بشارت کا تیسرا ثمرہ اور وہ منافقوں اور مشرکوں کے دلوں کو تمہارے خلاف غیظ و حسد سے بھر دے گا اور ساتھ ہی ان پر تمہاری بہادری اور تمہارے ثبات و استقلال کا ان کے دلوں پر رعب طاری کردے گا اور تمہارے ہاتھوں ذلت آمیز شکست دے کر ان کو رسوا کن سزا دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا سے بد گمانی کرتے ہیں۔ اور جن کا خیال یہ ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر (علیہ السلام) اور مومنوں کی مدد نہیں کرے گا لیکن اس بدگمانی کا نتیجہ خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ دنیا میں اللہ ان کو اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور فرمائے گا اور وہ اللہ کے غضب و لعنت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–7

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فتح مبین کی خوش خبری سنائی اور ساتھ اپنی زبردست نصرت کا بھی یقین دلایا ۔ حضور ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کر رہے ہیں ۔ مگر آپ ادائیگی عمرہ کے صحیح وقت کا اندازہ نہ کرسکے اور خیال فرمایا کہ شاید یہ سعادت اسی سال حاصل ہوجائے گی لہٰذا آپ ڈیڑھ ہزار جماعت صحابہ ؓ کے ہمراہ مدینہ کی طرف چل پڑے ، مگر جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ بالآخر گفت و شنید کے بعد طے پایا ، کہ مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آ کر ایسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا۝ 7 جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلِلّٰہِ جُنُوْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 7) (اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے لشکر، اور اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ ) اہلِ باطل کے لیے مہلت منافقین اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اپنے رسول اور صاحب ایمان لوگوں کو اپنے اہل خانہ میں کبھی لوٹا کے نہیں لائے گا بلکہ وہ سب کے سب اہل مکہ کے ساتھ مقابلے میں مارے جائیں گے۔ تو پھر ان کے لیے عیش ہوں گے جو چاہیں گے سو کریں گے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان بدنصیبوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے نفاق اور کفر کے باجود اللہ تعالیٰ نے جو انھیں مہلت دے رکھی ہے کہ ابھی تک ان پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ ؓ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنانے کے بعد منافقین اور مشرکین کو دنیا اور آخرت کی ذلت سے آگاہ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے دور میں منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مرد اور مشرک عورتوں کو دنیا میں ان کے کیے کی سزا دی کیونکہ منافق اور مشرک اپنے اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے بارے میں برا سوچتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں لعنت کی اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مدینے کے منافق مرد اور منافق عورتوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کی طرف جا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور آسمان و زمین کا سب لشکر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے) پس وہ ان لوگوں کے مکر و فریب کو دور کرے گا جو اس کے پیغمبر ﷺ اور ایمان والوں سے مکر و فریب کر رہے ہیں۔ جس قدر وہ چاہے گا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ زبردست) غالب ہیں ان کی پکڑ کو لوٹایا نہیں جاسکتا۔ حَکِیْمًا (حکمت والا ہے) اپنی تدابیر و انتظامات میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” ویعذب المنافقین والمنافقات والمشرکین والمشرکات “ اس سے مدینہ میں منافقین اور مکہ میں مشرکین مراد ہیں۔ ” الظانین باللہ ظن السوئ “ کہ محمد ﷺ اور مومنین کی مدد نہ کی جائے گی۔ ” علیھم دائر ۃ السوء “ عذاب اور ہلاکت کے ساتھ ۔ ” وغضب اللہ علیھم والعنھم واعدلھم جھنم وسائت مصیرا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتکرار آگاہ فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر موجود لشکر، اسی کی ملکیت ہیں، تاکہ بندے اس حقیقت کو جان لیں کہ وہی عزت عطا کرنے والا اور وہی ذلت سے دو چار کرنے والا ہے۔ وہ عنقریب اپنے ان لشکروں کو فتح و نصرت سے ہم کنار کرے گا جو اس کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا : (وان جندنا لھم الغلبون) (الصفت : 37/183) ” اور بلاشبہ ہمارا لشکر ہی غالب آکر رہے گا۔ “ (وکان اللہ عزیزا) اور اللہ تعالیٰ طاقت ور، زبردست اور ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبہ کے باوجود، اپنی تخلیق و تدبیر میں حکمت والا ہے، وہ اپنی حکمت اور مہارت کے مطابق فعل سرانجام دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 15] اللہ تعالیٰ کے لشکر بےحساب ولاتعداد ۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کیلئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے "۔ پس اپنے دین کے دشمنوں کو وہ اپنے کسی بھی کشکر سے ملیا میٹ کرسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلی قوموں کو مختلف طریقوں سے تباہ کیا جا چکا ہے۔ اور وہ ایسا عزیز اور غالب ہے کہ کوئی اس کے ارادے میں حائل نہیں ہوسکتا۔ مگر وہ چونکہ نہایت حکمت والا بھی ہے اس لئے ان کفار و منکرین کو وہ فوری طور پر نہیں پکڑتا، بلکہ اپنی حکمت بےپایاں اور رحمت بےنہایت کے تقاضوں کے مطابق وہ ان کو ڈھیل دیے چلا جاتا ہے۔ اور جب چاہے پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ ارشاد عالی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–10

اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:7) وللّٰہ جنود السموت والارض وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔ (ملاحظہ ہو آیت 4 متذکرۃ الصدر) عزیزا غالب ، زبردست، قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ فائدہ : علامہ مودودی تفہیم القرآن میں رقمطراز ہیں :۔ یہاں اس مضمون کو ایک دوسرے مقصد کے لئے دوہرایا گیا ہے۔ آیت نمبر 4 میں اسے اس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں لڑنے کا کام اپنے مافوق الفطرت لشکروں سے لینے کے بجائے مؤمنین سے اس لئے لیا ہے کہ وہ ان کو آزمانا چاہتا ہے (جو امتحان میں ثابت قدم رہے ہوں) ۔ نبی کریم ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ہے ، کیونکہ آپ قیامت میں امت کے گواہ ہوں گے۔ اور دنیا میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–7

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 : فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 : جب نبی کریم ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کا ذکر صحابہ کرام ؓ سے کیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حدیبیہ کی لڑائی۔ (ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–9

[6] مصیبت کے چکر میں مشرکین یوں آگئے کہ چند ہی روز میں قتل و گرفتاری سے ہر طرح مغلوب و مقہور ہو کر رہے اور منافقین کی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبے سے جل جل کر اور کڑھ کڑھ کر کٹی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–8

ف 2: دوبارہ اس آیت کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے اعوان وانصار ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے ۔ کیونکہ اللہ کے پاس ایسے عساکر ہیں ۔ جن کا سامنا کرنا انسان کی طاقت اور وسعت سے باہر ہے ۔ پہلی دفعہ اس آیت کو مقام بشارت میں بیان کیا تھا ۔ اور وہاں غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ ان کے آقا و مولا کے پاس اعانت اور مدد کے بیشمار ذرائع ہیں ۔ اور ان گنت فرشتے ہیں وہ جو چاہے ان سے کام لے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور آسمان و زمین کے تمام لشکر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔ اس کا لشکر فرشتے اور دیگر مخلوقات جس سے چاہیں کام لیتے ہیں اور باوجود اتنی بڑی قوت کے کوئی کام بغیر مصلحت اور حکمت کے نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 4۔ یعنی پوری قدرت والا ہے اگر چاہتا کسی لشکر سے ان سب کی ایک دم سے صفائی کردیتا کہ یہ اس کے مستحق ہیں، لیکن چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے بمصلحت عقوبت میں توقف فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 3–7

اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے 7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

Bounties of Allah upon the Participants of Hudaibiyah In the first three verses of this Surah, reference was made to Allah's particular bounties bestowed upon the Holy Prophet ﷺ in the wake of the manifest victory. Some of the participants of Hudaibiyah congratulating the Holy Prophet ﷺ ، asked him that the favours are conferred exclusively upon him, but what is there in it for them? In response to this query, verses 4-7 were revealed. They distinctly refer to the good graces of Allah upon the participants of Hudaibiyah and the Pledge of Ridwan. These favours were generously bestowed upon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 Here the theme of verse 4 has been reiterated for another object. There, the object was to state that AIlah instead of employing His supernatural hosts to fight the disbelievers had employed the believers for it only because He willed to favor them. Here, the theme has been repeated to say that in order to punish the one whom Allah wills to punish He can employ whichever of His countless hosts He likes for the purpose; no one has the power to avert His punishment by his own plans.

Read the full tafseer →