Explained with ayahs 4–9
اطمینان و رحمت
سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 11
اطراف مدینہ کے منافقین کو تو اس موقع پر یہ گمان تھا، جیسا کہ آگے آیت 12 میں بیان ہوا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی اس سفر سے زندہ واپس نہ آسکیں گے۔ رہے مکہ کے مشرکین اور ان کے ہم مشرب کفار، تو وہ اس خیال میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو عمرے سے روک کر وہ گویا آپ کو زک دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان دونوں گواہوں نے یہ جو کچھ بھی سوچا تھا اس کی تہہ میں درحقیقت اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ بدگمانی کام کر رہی تھی کہ وہ اپنے نبی کی مدد نہ کرے گا اور حق و باطل کی اس کشمکش میں باطل کو حق کا بول نیچا کرنے کی کھلی چھوٹ دے دے گا۔
سورة الْفَتْح 12
یعنی جس انجام بد سے وہ بچنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خلاصہ تفسیر
وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا (جس کے دو اثر ہیں ایک بیعت جہاد کے وقت اس کی طرف مسابقت اور عزم و ہمت جیسا کہ بیعت رضوان کے واقعہ میں اوپر ذکر آ چکا ہے اور دوسرا اثر کفار کی بےجا ضد کے وقت اپنے جوش اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنا جس کا ذکر اس واقعہ کے جزو دہم میں تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے اور آگے بھی (آیت) فانزل اللہ سکینتہ علیٰ رسولہ میں آئے گا) تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو (کیونکہ دراصل اطاعت رسول ذریعہ ہے نور ایمان میں زیادتی کا اور اس واقعہ میں ہر پہلو سے مکمل اطاعت رسول کا امتحان ہوگیا کہ جب رسول نے دعوت جہاد کے لئے بلایا اور…
Read the full tafseer →ویعذب المنفقین والمنفقت والمشرکین و المشرکت الظانین باللہ ظن السوہ علیھم دآئرۃ السوء ج وغضب اللہ علیھم ولعنھم واعدلھم جھنم وسآءت مصیراً (6)
اللہ تعالیٰ کے امتحان کا دوسرا پہلو
یہ اس امتحا ن کے دوسرے پہلو کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ جس امتحان سے اہل ایمان کے لئے فوز عظیم کی راہ کھولتا ہے وہی امتحان لازماً منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کے لئے سب سے بڑی تباہی یعنی دوزخ کی راہ کھولتا ہے اس لئے کہ اس سے ان کے کھوٹ ابھر کر سامنے آجاتے ہیں اور اللہ کی حجت ان تمام ہوجاتی ہے۔
الظالین باللہ ظن السوء سے ان منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت 14 میں بدین الفاظ آیا ہے۔ بل طننتم ان…
Read the full tafseer →6 ۔ 1 یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر مہتم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ (ابن کثیر)
6۔ 1 یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو انہی کا مقدر بننے والی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
5: یعنی وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کے خلاف برے برے منصوبے بناتے ہیں، لیکن برائی کے پھیر میں وہ خود پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک طرف ان کے منصوبے ناکام ہوں گے، اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد اللہ کی حکمت کا ایک دوسرا پہلو سامنے آتا ہے ، جو اللہ نے اس واقعہ میں رکھا ہوا تھا یہ کہ منافقین اور منافقات کو سزا دے اور مشرکین اور مشرکات سے ایسے کاموں کا صدور ہو اور وہ سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔
ویعذب المنفقین والمنقت ۔۔۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا (6) واللہ جنود ۔۔۔۔۔ عزیز حکیما (48 : 7) ” اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہو اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور…
Read the full tafseer →6 یعنی مومنین کے دلوں میں صلح کی طرف سے اطمینان پیدا کر کے اسلام کی جڑ مضبوط کردی اور اسلامی فتوحات و ترقیات کا دروازہ کھول دیا جو انجام کار سبب ہے کافروں اور منافقوں پر مصیبت ٹوٹنے اور ان کو پوری طرح سزا ملنے کا۔
7 " بڑی اٹکلیں " یہ کہ مدینے سے چلتے وقت منافق (بجز ایک جد بن قیس کے) مسلمانوں کے ساتھ نہیں آئے، بہانے کر کے بیٹھ رہے۔ دل میں سوچا کہ مڈ بھیڑ ضرور ہو کر رہے گی۔ یہ مسلمان لڑائی میں تباہ ہوں گے۔ ایک بھی زندہ واپس نہ آئے گا۔ کیونکہ وطن سے دور، فوج کم، اور دشمن کا دیس ہوگا ہم کیوں ان کے ساتھ اپنے کو ہلاکت میں ڈالیں اور کفار مکہ نے یہ خیال کیا کہ مسلمان بظاہر " عمرے " کے نام سے آرہے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 6 { وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْئِ } ”اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بہت ُ برے گمان رکھنے والے ہیں۔“
یہ الفاظ سورة الاحزاب کی آخری آیت کے الفاظ سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں۔ سورة الاحزاب 5 ہجری میں نازل ہوئی تھی جبکہ سورة الفتح 6 ہجری میں۔
{ عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ } ”انہی پر مسلط ہے برائی کا دائرہ۔“
یعنی برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ہیں۔
{…
Read the full tafseer →6 منافقوں کا گمان کہ اب مسلمان کبھی واپس نہ آسکیں گے :۔ غزوہ حدیبیہ میں کوئی منافق شریک نہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ اس غزوہ میں اموال غنیمت کا کوئی قصہ ہی نہ تھا۔ اور مسلمان محض رضائے الٰہی کے لئے عمرہ کرنے جارہے تھے تو کافروں نے مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور حالات کشیدہ ہوتے گئے تو یہ خبریں مدینہ میں پہنچ رہی تھیں۔ چناچہ منافقوں نے خوب بغلیں بجانا شروع کردیں کہ پہلے تو قریش مکہ یہاں اپنے وطن سے بہت دور آکر لڑائی کرتے تھے لیکن اب مسلمان خود ان کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ اب یہ وہاں سے بچ کر کبھی نہ آسکیں گے۔ اس صلح سے اور مسلمانوں کے بخیر و عافیت واپس مدینہ پہنچ جانے سے منافقوں کی دل…
Read the full tafseer →4۔ (اور اللہ سے بدگمانی کے تحت میں تکذیب رسول اور جملہ عقائد کفر وشرک داخل ہیں) (آیت) ” ویعذب ..... المشرکت “۔ عذاب منافق و مشرک دونوں کو کفر مشترک کی پاداش میں ہوگا ..... مشرکین ومشرکات کا جرم تو ظاہر ہی ہے کہ وہ رسول اور صحابہ رسول کی مزاحمت کررہے تھے اور منافقین اس جرم میں شریک اس حیثیت سے تھے کہ وہ بھی اسلام سے اپنے بغض وعناد کی بنا پر آرزو منداسی کے تھے کے مسلمان جنگ سے زندہ بچ کر واپس نہ آئیں (آیت) ” ظآنین ..... السوء “۔ غلبہ اسلام ومسلمین کے جو وعدے تھے، مشرکین ومنافقین انہیں سب جھوٹ سمجھ رہے تھے۔
5۔ برا وقت تو دنیا میں ہی میں پڑا تھا۔ لیکن اب اس سے کہیں بڑھ کر عذاب آخرت کا ہے۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔
فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →ویعذب المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت الظانین باللہ ظن السوء علیھم
دائرۃ السوء وغضب اللہ علیھم ولعنھم واعدلھم جھنم وسائت مصیرا اور تاکہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو کہ اللہ کے بارے میں بڑے برے گمان رکھتے ہیں۔ ان پر بڑا برا وقت پڑنے والا ہے (آخرت میں) اللہ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کو رحمت سے دور کر دے گا اور ان کیلئے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہی برا ٹھکانہ ہے۔
یُعَذِّبَ کا عطف یدخل پر ہے ‘ یہ بھی عطاء سکینہ کی علت کا جزو ہے۔ جب مؤمنوں نے صلح حدیبیہ اور دوسرے امور میں اللہ کے حکم کی تعمیل کی تو منافقوں اور مشرکوں نے اہل ایمان کے دین پر…
Read the full tafseer →اور تاکہ ان کے دنیوی گناہوں کو معاف کردے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے کہ ان لوگوں نے جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کرلیں اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے محفوظ رہے۔
جب عبداللہ بن سلول نے مومنین کی یہ فضیلت سنی تو دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ واللہ ہم بھی ان ہی جیسے ہیں تو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کیا ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا اگلہ حصہ نازل فرمایا۔
تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے خیالات رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا اور ان پر برا وقت پڑنے والا ہے اور…
Read the full tafseer →(1) ویعذب المنفقین والمنفقت…: اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت کی بدولت ایمان والے مجاہد مردوں اور عروتوں کے جنت میں داخلے کے ذکر کے بعد ان لوگوں کو عذاب دینے کا ذکر فرمایا جو اس غزوہ کے نتیجے میں اللہ کے غضب اور لعنت کا نشانہ بنے اور جہنم ان کا ٹھکانا بنی۔ منافقین و کافر کو یہ عذاب مسلمانوں کی تول اورں کے ساتھ بھی دیا گیا، جیسا کہ فرمایا (قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم) (التوبۃ : 13)”ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور مسلسل خوف اور رسوئای کے ساتھ بھی اور مسلمانوں کی کامیابیاں اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی صورت میں بھی۔ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یعنی انہوں نے گمان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ کی طرف نہیں لوٹیں گے اور نہ ہی آپ کے صحابہ میں سے کوئی واپس لوٹے گا یہ اس وقت ان کا گمان تھا جب آپ حدیبیہ کے لئے نکلے تھے اور ان کا یہ گمان تھا کہ مشرک تباہ و برباد کردیں گے جس طرح کہا : خلیل اور سیبویہ نے کہا : اس سے یہاں مراد فساد ہے۔
دنیا میں ان پر بری گردش ہوگی اور انہیں قتل کیا جائے گا اور انہیں قیدی بنا لیا جائے گا اور آخرت میں جہنم ہے ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا یعنی ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے فتحہ دیا۔ جوہری نے کہا : ساء یسوء …… سرد کی ضد ہے اس کا اسم السو ہے اسے علیھم دائرۃ السو بھی پڑھا گیا ہے یعنی شکست اور تکلیف جس نے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وعبدبن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم ؓ والترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) نے المعرفہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردے) نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھ زیادہ محبوب ہے ان چیزوں سے جو زمین پر موجود ہیں پھر آپ نے اس آیت کو ان پر پڑھا تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے بیان فرمادیا ہے جو کچھ وہ آپ کے ساتھ (معاملہ) فرمائیں گے اور…
Read the full tafseer →وَّيُعَذِّبَ [ اور تاکہ وہ عذاب دے ] الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ [ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو ] وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ [ اور شرک کرنے والے مردوں کو اور شرک کرنے والی عورتوں کو ] الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ [ گمان رکھنے والے اللہ کے بارے میں ] ظَنَّ السَّوْءِ ۭ [برائی کا گمان ] عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ۚ [ ان پر برائی کی گردش (آفت ) ہے ] وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ [ اور غضب کیا اللہ نے ان پر ] وَلَعَنَهُمْ [ اور اس نے لعنت کی ان کو ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [ اور اس نے تیار کیا ان کے لیے ] جَهَنَّمَ ۭ [ جہنم کو ] وَسَاۗءَتْ [ اور وہ بری ہے ] مَصِيْرًا [بلحاظ لوٹنے کی جگہ کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ
یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
بشارات اہل حدیبیہ بعطاء نعمأدنیویہ واخرویہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ....... الی ....... عزیزا حکیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان بشارتوں اور کرامتوں پر مشتمل تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھیں اب ان آیات میں وہ کرامات اور بشارتیں ذکر فرمائی جارہی ہیں جو آپ ﷺ کے ہمرکاب رفقاء اور حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین “۔ کے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے کہ بضدھاتتبین الاشیاء “۔ نور کی نورانیت ظلمت و تاریکی کے ہی مقابلہ میں پہچانی جاتی ہے تو اولا اہل حدیبیہ کے فضائل بیان فرماتے گئے اور پھر بطور تکمیل مضمون انکے مقابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7:۔ ” ویعذب المنفقین۔ الایۃ “ یہ ” یدخل “ پر معطف ہے اور دوسری بشارت کا تیسرا ثمرہ اور وہ منافقوں اور مشرکوں کے دلوں کو تمہارے خلاف غیظ و حسد سے بھر دے گا اور ساتھ ہی ان پر تمہاری بہادری اور تمہارے ثبات و استقلال کا ان کے دلوں پر رعب طاری کردے گا اور تمہارے ہاتھوں ذلت آمیز شکست دے کر ان کو رسوا کن سزا دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا سے بد گمانی کرتے ہیں۔ اور جن کا خیال یہ ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر (علیہ السلام) اور مومنوں کی مدد نہیں کرے گا لیکن اس بدگمانی کا نتیجہ خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ دنیا میں اللہ ان کو اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور فرمائے گا اور وہ اللہ کے غضب و لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فتح مبین کی خوش خبری سنائی اور ساتھ اپنی زبردست نصرت کا بھی یقین دلایا ۔ حضور ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کر رہے ہیں ۔ مگر آپ ادائیگی عمرہ کے صحیح وقت کا اندازہ نہ کرسکے اور خیال فرمایا کہ شاید یہ سعادت اسی سال حاصل ہوجائے گی لہٰذا آپ ڈیڑھ ہزار جماعت صحابہ ؓ کے ہمراہ مدینہ کی طرف چل پڑے ، مگر جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ بالآخر گفت و شنید کے بعد طے پایا ، کہ مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آ کر ایسا…
Read the full tafseer →وَّيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ الظَّاۗنِّيْنَ بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ 0 ۭ عَلَيْہِمْ دَاۗىِٕرَۃُ السَّوْءِ 0 ۚ وَغَضِبَ اللہُ عَلَيْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ 0 ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا 6
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
تفسیر : ابھی فرمایا تھا عزیزاحکیما اب یہاں اپنی حکمت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ساتھ زبردست ہونا بھی بتاتا ہے فقال انا ارسلناک الخ کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر نیک و بد کاموں میں (جو لوگوں کے نزاع ہیں کوئی توحید کا قائل ہے ‘ کوئی بت پرستی کرتا ہے ‘ کوئی کسی بات کو اچھا کہتا ہے کوئی برا اور دلائلِ فریقین باہم متعارض ہیں اس لیے دنیا ظلمات میں گھری ہوئی تھی) شہادت دیویں آپ ہی کی گواہی پر اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہے پس آپ اچھے کام کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں کہ آخرت میں عمدہ نتائج ملیں گے اور برے کام کرنے والوں کو خوف دلاتے ہیں کہ ان باتوں کا انجام بد ہے دنیا کی بربادی اور آخرت…
Read the full tafseer →وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰـفِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ الظَّـآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْئِ ط عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ ج وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَلَعَنَھُمْ وَاَعَدَّلَہُمْ جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا۔ (الفتح : 6)
(اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں، برائی کی گردش ان ہی پر ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور اس نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے اور نہایت برا ٹھکانہ ہے۔ )
حق و باطل کی کشمکش میں اہل حق سرافراز اور اہل باطل موردعذاب ہوتے ہیں
حق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : صحابہ ؓ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنانے کے بعد منافقین اور مشرکین کو دنیا اور آخرت کی ذلت سے آگاہ کردیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے دور میں منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مرد اور مشرک عورتوں کو دنیا میں ان کے کیے کی سزا دی کیونکہ منافق اور مشرک اپنے اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے بارے میں برا سوچتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں لعنت کی اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مدینے کے منافق مرد اور منافق عورتوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کی طرف جا رہے ہیں…
Read the full tafseer →حکمت کے تقاضے :
آیت 6 : وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ (اور تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہیں آسمان و زمین کے تمام لشکر۔ ان کو ایک دوسرے پر اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق جب چاہتے ہیں مسلط کردیتے ہیں اور اس کے تقاضہائے حکمت میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر ایمان والوں کے دلوں میں سکون پیدا کیا اور ان سے فتوح کا وعدہ فرمایا اور یہ وعدہ صرف اس لئے فرمایا تاکہ مومن اللہ تعالیٰ کے انعام کو معلوم کر کے شکر گذار ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس پر ثواب سے…
Read the full tafseer →5 ۔” لیدخل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ویکفر عنھم سیئا تھم ودکان ذلک عنداللہ فوا عظیما “ اور تحقیق ہم نے حضرت انس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ جب آیت ” لیغفرلک اللہ “ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا آپ (علیہ السلام) کے لئے مبارک ہو۔ پس ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو آیت نازل ہوئی ” لیدخل المومنین والمومنات جنات “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکنیت نازل کی۔ سکنیت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کردینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کردیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کیلئے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ ان مصائب کو سامنا کرسکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لئے مستعد رہے، اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 11] منافقوں اور مشرکوں کے لئے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو "۔ تاکہ یہ لوگ دنیا میں بھی کہ اسلام کی عظمت و سربلندی اور مسلمانوں کے غلبہ و عروج سے جلتے بھنتے رہیں اور مزید یہ کہ اس طرح یہ لوگ قتل و قید اور غلامی وغیرہ کی ذلتیں بھی اٹھائیں۔ اور آخرت میں بھی وہاں کا ہولناک عذاب بھگتیں کہ وہاں کی دائمی آگ کا ایندھن بنیں جو سب سے بڑا خسارہ اور ہمیشہ کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس امتحان کے دوسرے پہلو کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جس امتحان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کیلئے جنت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…
Read the full tafseer →ف 2 منافقین سے مراد مدینہ منورہ کے منافین ہیں اور مشرکوں سے مراد مکہ معظمہ کے مشرکین۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذلت و رسوائی کی سزا دی اور وہ اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غلط توقع رکھتے تھے کہ آنحضرت اور صحابہ کرام جو غزوہ حدیبیہ میں آپ کے ساتھ گئے ہیں وہ مدینہ واپس نہیں آسکیں گے اور مشرکین ان کو تباہ و برباد کردیں گے اور مشرکین نے یہ سمجھ رکھات ھ کہ اللہ ہرگز اپنے دین کو مٹنے سے نہ بچا سکے گا اور کفر کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ (قرطبی وغیرہ)
3 جس سے بچنے کے لئے انہوں نے ہزار جتن کئے۔
Read the full tafseer →(48:6) ویعذب : واؤ عاطفہ۔ یعذب کا عطف بھی یدخل پر ہے۔ کیونکہ یہ بھی عطاء سکینہ کی علت کا جزو ہے (جب مومنوں نے صلح حدیبیہ اور دوسرے امور میں اللہ کے حکم کی تعمیل کی تو منافقوں اور مشرکوں نے اہل ایمان کے دین پر طنز کیا۔ اور مسلمانوں کو غضب آلود کردیا۔ اور اللہ کے متعلق بدگمانی کی اور یہی سبب ہوگیا ان پر اللہ کے عذاب نازل ہونے کا)
المنفقین : منافق کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ، دوزخی کرنے والے۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والے سے گوہ داخل ہوتی ہے اور شکاری اس سوراخ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتی ہے (تبریزی) نفاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 :
فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔
تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 :
جب نبی کریم ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کا ذکر صحابہ کرام ؓ سے کیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حدیبیہ کی لڑائی۔
(ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[6] مصیبت کے چکر میں مشرکین یوں آگئے کہ چند ہی روز میں قتل و گرفتاری سے ہر طرح مغلوب و مقہور ہو کر رہے اور منافقین کی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبے سے جل جل کر اور کڑھ کڑھ کر کٹی۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ انزل اشکینہ ۔ غلبہ اور تفوق کا یقین اور اللہ کی مطلب مدد کا احساس تحمل پیدا کیا ۔
1: خدا کے ساتھ سوء ظن کے کئی معنے ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کی اعانت اور نصرت پر بھروسہ نہ ہو ۔ اس کی باتوں پر اعتماد نہ ہو ۔ اور یہ بھی کہ اس کی ذات کے ساتھ مشرکانہ عقیدوں کو وابستہ قرار دیا جائے ۔ فرمایا ۔ ان لوگوں کو اس گناہ کی پاداش میں یہ سزا دی جائیگی ۔ کہ یہ دنیا میں مصائب اور کلفتوں میں گرفتار ہوں گے ۔ اور آخرت میں ان پر اللہ کا غضب بھڑی کے گا ۔ اس کی رحمت سے یہ دور رہیں گے ۔ اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →(6) نیز اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور ان مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو سخت سزا دے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت برے برے گمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں کیا کرتے ہیں ان لوگوں پر بری گردش واقع ہونے والی ہے اور اللہ تعالیٰ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان پر لعنت کرے گا اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردے گا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جہنم تیار کررکھی ہے اور وہ جہنم بہت ہب برا ٹھکانا ہے۔ یعنی سکینہ کی محرومی کا یہ اثر مرتب ہوا کہ منافق اپنے نفاق پر اور مشرک اپنے شرک پر قائم رہے اور کافر اپنے کفر پر جمے رہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کی…
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ مشرکین چند ہی روز بعد مقتول و ماخوذ ہوئے اور منافقین کی تمام عمر حسرت اور پریشانی میں کٹی کہ اسلام بڑہتا تھا اور وہ گھٹتے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے
7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
Bounties of Allah upon the Participants of Hudaibiyah
In the first three verses of this Surah, reference was made to Allah's particular bounties bestowed upon the Holy Prophet ﷺ in the wake of the manifest victory. Some of the participants of Hudaibiyah congratulating the Holy Prophet ﷺ ، asked him that the favours are conferred exclusively upon him, but what is there in it for them? In response to this query, verses 4-7 were revealed. They distinctly refer to the good graces of Allah upon the participants of Hudaibiyah and the Pledge of Ridwan. These favours were generously bestowed upon…
Read the full tafseer →11 The hypocrites living in the suburbs of Madinah were thinking, as has been stated in verse 12 below, that the Holy Prophet and his Companions would not return alive from that journey. As for the polytheists of Makkah and their pagan companions, they were thinking that they had successfully put to rout the Holy Prophet and his Companions by preventing them from performing `Umrah. In fact, whatever these two groups had thought they had this misunderstanding about Allah that He would not help His Messenger and in the conflict between the Truth and falsehood would allow falsehood to defeat and…
Read the full tafseer →