Al-Fath 48:5

Al-Fath · from ayah 5

48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَیُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ ؕ— وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًا ۟ۙلِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ‌ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا

(یہ) اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔ اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And] that He may admit the believing men and the believing women to gardens beneath which rivers flow to abide therein eternally and remove from them their misdeeds - and ever is that, in the sight of Allah, a great attainment -

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:5

(اُس نے یہ کام اِس لیے کیا ہے) تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی برائیاں اُن سے دور کر دے اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔ اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناه دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ بسے رہیں گے، اور ان کی برائیوں کو ان سے دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ سب نعمتیں اس لئے جمع کی ہیں) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور (مزید یہ کہ) وہ ان کی لغزشوں کو (بھی) ان سے دور کر دے (جیسے اس نے ان کی خطائیں معاف کی ہیں)۔ اور یہ اﷲ کے نزدیک (مومنوں کی) بہت بڑی کامیابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے اور ان سے ان کی برائیاں دور کرے اور یہ ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کی برائیاں دور کردے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان ہمیں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو جھاڑ دے اور اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی یہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ وہ داخل فرما دے (اپنے کرم سے) ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی (طرح طرح کی اور بےمثل) نہریں جن میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا اور تاکہ اللہ مٹا دے ان سے ان کی برائیاں اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (اور حقیقی) کامیابی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(اور یہ اس لئے) تاکہ وہ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایسے باغوں میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں ان میں یہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کے گناہ ان سے دور کردے اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ وہ داخل کرے اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(He did this) to admit the believers, both men and women, to Gardens beneath which rivers flow, wherein they shall abide, and to efface their evil deeds from them. That, in Allah's sight, is the supreme triumph.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that He admits believing men and believing women to the gardens beneath which rivers flow, to live therein for ever, and so that He may write off their evil deeds, which is a great achievement in Allah‘s sight,

— Muhammad Taqi Usmani

so that He admits believing men and believing women to the gardens beneath which rivers flow, to live therein for ever, and so that He may write off their evil deeds, which is a great achievement in Allah‘s sight,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That He may admit the believing men and the believing women to Gardens under which rivers flow to abide therein forever, and He may expiate from them their sins; and that is with Allah supreme success,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may bring the believing men and the believing women into Gardens underneath which rivers flow, wherein they will abide, and may remit from them their evil deeds - That, in the sight of Allah, is the supreme triumph -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And] that He may admit the believing men and the believing women to gardens beneath which rivers flow to abide therein eternally and remove from them their misdeeds - and ever is that, in the sight of Allah, a great attainment -

— Saheeh International

So that He would admit the believers (both male and female) to the gardens wherein streams flow, to live therein forever. He will redeem them. This is the greatest triumph in the sight of God,

— Muhammad Sarwar

That He may cause the believing men and the believing women to enter gardens beneath which rivers flow to abide therein and remove from them their evil; and that is a grand achievement with Allah

— Muhammad Habib Shakir

He hath ordained war in order that He may cause the believing men and the believing women enter Gardens whereunder rivers flow, as abiders therein, and that He may expiate from them their misdeeds. And that is with Allah ever an achievement mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

That He may admit the men and women who believe, to Gardens beneath which rivers flow, to dwell therein for aye, and remove their ills from them;- and that is, in the sight of Allah, the highest achievement (for man),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–9

اطمینان و رحمت سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 9 قرآن مجید میں بالعموم اہل ایمان کے اجر کا ذکر مجموعی طور پر کیا جاتا ہے، مردوں اور عورتوں کو اجر ملنے کی الگ الگ تصریح نہیں کی جاتی۔ لیکن یہاں چونکہ یکجائی ذکر پر اکتفاء کرنے سے یہ گمان پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید یہ اجر صرف مردوں کے لیے ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے متعلق الگ صراحت کردی کہ وہ بھی اس اجر میں مومن مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جن خدا پرست خواتین نے اپنے شوہروں، بیٹوں، بھائیوں اور باپوں کو اس خطرناک سفر پر جانے سے روکنے اور آہ و فغان سے ان کے حوصلے پست کرنے کے بجائے ان کی ہمت افزائی کی، جنہوں نے ان کے پیچھے ان کے گھر، ان کے مال، ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

خلاصہ تفسیر وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا (جس کے دو اثر ہیں ایک بیعت جہاد کے وقت اس کی طرف مسابقت اور عزم و ہمت جیسا کہ بیعت رضوان کے واقعہ میں اوپر ذکر آ چکا ہے اور دوسرا اثر کفار کی بےجا ضد کے وقت اپنے جوش اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنا جس کا ذکر اس واقعہ کے جزو دہم میں تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے اور آگے بھی (آیت) فانزل اللہ سکینتہ علیٰ رسولہ میں آئے گا) تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو (کیونکہ دراصل اطاعت رسول ذریعہ ہے نور ایمان میں زیادتی کا اور اس واقعہ میں ہر پہلو سے مکمل اطاعت رسول کا امتحان ہوگیا کہ جب رسول نے دعوت جہاد کے لئے بلایا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لیدخل المومنین و المومنت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ویکفرعنھم سیاتھم، وکان ذلک عند اللہ فوزاً عظیماً (5) ازدیاد ایمان کا صلہ یہ لیزدادو ایماناً مع ایمانھم کا صلہ بیان ہوا ہے اور اسلوب بیان بدیست کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نور باطن میں اضافہ کی راہیں جو کھولتا ہے تو اس لئے کہ اس طرح وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور ان سے ان کے سارے گناہ دور فرما دے گا یعنی یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ تمام تر نفع ہی نفع ہے۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں ممکن ہے کہ کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ سنا لیغفرلک اللہ تو انہوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ ﷺ سے کہا آپ ﷺ کو مبارک ہو ہمارے لیے کیا ہے جس پر اللہ نے آیت لیدخل المومنین نازل فرما دی (صحیح بخاری باب غزوہ الحدیبیۃ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

4: جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، صحابہ کرام ؓ کفار کے خلاف بہت غم و غصے اور جوش کی حالت میں تھے، اور انہیں صلح کی شرائط ماننا بھی بہت بھاری معلوم ہورہا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت یہی منظور تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کردیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی ﷺ کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ ﷺ اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور ﷺ نے اس شرط کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جب حضور ﷺ نے (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا) 48 ۔ الفتح :1) پڑھ کر صحابہ کو سنائی تو انہوں نے آپ کی خدمت میں مبارکباد عرض کی اور کہا، یا رسول اللہ ! یہ تو آپ ﷺ کے لیے ہوا۔ ہمارے لیے کیا ہے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں یعنی اللہ نے اطمینان و سکینہ اتار کر مومنین کا ایمان بڑھایا۔ تاکہ انہیں نہایت اعزازو اکرام کے ساتھ جنت میں داخل کرے اور ان کی برائیوں اور کمزوریوں کو معاف فرما دے۔ حدیث میں ہے کہ جن اصحاب نے حدیبیہ میں بیعت کی ان میں سے ایک بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (تنبیہ) مومنات کا ذکر تعمیم کے لیے ہے۔ یعنی مرد ہو یا عورت کسی کی محبت اور ایمانداری ضائع نہیں جاتی۔ احادیث سے ثابت ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَیُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ } ”تاکہ وہ داخل کرے اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ‘ اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو۔“ { وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا } ”اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 جذبات میں سکون اللہ کی طرف سے :۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں آیت نمبر 2 کے تحت درج شدہ حدیث ملاحظہ فرما لیجئے۔ یعنی حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں نے جو کمال صبر اور اللہ اور اس کے رسول کی بےچون و چرا اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مسلمانوں کو بھی بہت اجر ملے گا اور ان مسلمان عورتوں کو بھی جنہوں نے کسی نہ کسی صورت میں اس غزوہ میں حصہ لیا تھا۔ کیونکہ مجاہدین کو بہ طیب خاطر روانہ کرنے، بعد میں گھر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری میں عورتوں کا جتنا حصہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ بالخصوص ان حالات میں کہ رسول اللہ صحابہ کی ایک کثیر تعداد کو ساتھ لے جارہے ہوں اور مدینہ کے ارد گرد دشمن ہی دشمن موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یہاں یہ تعلیم ہے کہ فوری، ظاہری، مادی فتح نہیں بلکہ جنت کے امتحان میں کامیابی ہی اصلی کامیابی ہے۔ (آیت) ” لیدخل ..... سیاتھم “۔ یعنی یہ ادخال جنت اور کفارۂ سیئات جو کچھ بھی ہوگا۔ سب اطاعت امر ہی کی بدولت ہوگا ..... گویا اس کلیہ کا اثبات کہ فضیلت ومقبولیت کا مدار اطاعت ہی ہے۔ (آیت) ” ال مومنین وال مومنت “۔ اس تصریح نے یہ بتادیا کہ وجوب اطاعت احکام اور پھر اس کے ثمرہ میں حصول قرب وفضیلت کے لحاظ سے مرد و عورت ہر دو جنس یکساں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–10

لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔ فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیدخل المؤمنین والمؤمنات جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ویکفر عنھم سیاتھم وکان ذلک عند اللہ فوزا عظیما تاکہ اللہ مسلمان مردوں ور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کے گناہ دور کرے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔ لیدخل اور یکفر کا تعلق لیزدادوا سے ہے ‘ یا لیزدادوا سے بدل اشتمال ہے ‘ یا حرف عطف محذوف ہے اور انزل سے متعلق ہے ‘ یا لیغفر سے بدل اشتمال ہے اور فتحنا سے متعلق ہے۔ اور جملہ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ معترضہ ہے۔ وَکَانَ ذٰلِکَ یعنی یہ جنت کا داخلہ اور گناہوں کا کفارہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

نبی اکرم کی یہ کرامت و فضیلت سن کر مومنوں نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو فتح و مغفرت اور کرامت عطا کی ہے وہ آپ کو مبارک ہو باقی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیں کیا صلہ ملے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(2) لیدخل المومنین : سب سے واضح اور صحیح بات یہی ہے کہ لیدخل کا لام ھوالذی انزل السکینۃ کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادہ ہوجائیں اور تاکہ اس کی سکینت اور ایمان کی زیادتی کے ذریعے اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن عورتون کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں والمومنت : مومن عورتوں کا ذکر خاص طور پر یہاں اس لئے فرمایا کہ جہاد کا اجر صرف مردوں کے ساتھ خاص نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ مومن عورتیں بھی جہاد میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں، خاوندوں، بیٹوں، باپوں اور دوسرے عزیزوں کے جہاد پر نکلنے میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ نے سکینہ کو نازل فرمایا تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو پھر یہ زیادتی انہیں جنت میں داخل کرنے کے سبب ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے میں لام اسی کے متعلق ہے جس کے متعلق اللہ کا لام ہے۔ اسم اشارہ سے مراد مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا وعدہۃ اور گناہوں کی بخشش ہے۔ یہ غم سے نجات اور ہر مطلب میں کامیابی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جب نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ پر اس آیت کو پڑھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو تو وہ ہمارے لئے کیا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ حصہ پڑھا انہوں نے عرض کی : آپ کو مبارک ہو تو یہ آیت نازل ہوئی (المائدۃ 3) جب پڑھا تو امت کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی، جب پڑھا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–7

1:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وعبدبن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم ؓ والترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) نے المعرفہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردے) نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھ زیادہ محبوب ہے ان چیزوں سے جو زمین پر موجود ہیں پھر آپ نے اس آیت کو ان پر پڑھا تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ کو مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے بیان فرمادیا ہے جو کچھ وہ آپ کے ساتھ (معاملہ) فرمائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّيُدْخِلَ [ تاکہ وہ داخل کرے ] الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ [ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ] جَنّٰتٍ [ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے نہریں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ [ اور تاکہ وہ دور کردے ان سے ] سَيِّاٰتِهِمْ ۭ [ ان کی برائیوں کو ] وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ [ اور یہ ہے اللہ کے نزدیک ] فَوْزًا عَظِيْمًا [ ایک عظیم کامیابی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

بشارات اہل حدیبیہ بعطاء نعمأدنیویہ واخرویہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ....... الی ....... عزیزا حکیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان بشارتوں اور کرامتوں پر مشتمل تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھیں اب ان آیات میں وہ کرامات اور بشارتیں ذکر فرمائی جارہی ہیں جو آپ ﷺ کے ہمرکاب رفقاء اور حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین “۔ کے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے کہ بضدھاتتبین الاشیاء “۔ نور کی نورانیت ظلمت و تاریکی کے ہی مقابلہ میں پہچانی جاتی ہے تو اولا اہل حدیبیہ کے فضائل بیان فرماتے گئے اور پھر بطور تکمیل مضمون انکے مقابل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” لیدخل۔ الایۃ “ یہ دوسری بشارت کا دوسرا ثمرہ ہے۔ اللہ نے مومنوں کے دلوں میں سکون و طمانیت کا جذبہ پیدا کیا تاکہ وہ ثابت قدم رہیں اور جم کر دشمن کا مقابلہ کریں اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت کی پر تکلف اور دائمی نعمتیں عطا فرمائے اور ان کے سارے گناہ معاف کرے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائے۔ ” من زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز “ (ال عمرن 185) ۔ یا اس سے مراد وہ مومنین ہیں جو اس صلح کے دوران ایمان لائیں گے یعنی ہم نے مومنوں کے دلوں میں لڑائی نہ کرنے کا خیال مضبوط کردیا تاکہ صلح ہوجائے اور اس طرح اللہ بہت سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–7

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فتح مبین کی خوش خبری سنائی اور ساتھ اپنی زبردست نصرت کا بھی یقین دلایا ۔ حضور ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کر رہے ہیں ۔ مگر آپ ادائیگی عمرہ کے صحیح وقت کا اندازہ نہ کرسکے اور خیال فرمایا کہ شاید یہ سعادت اسی سال حاصل ہوجائے گی لہٰذا آپ ڈیڑھ ہزار جماعت صحابہ ؓ کے ہمراہ مدینہ کی طرف چل پڑے ، مگر جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ بالآخر گفت و شنید کے بعد طے پایا ، کہ مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آ کر ایسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا وَيُكَفِّرَ عَنْہُمْ سَيِّاٰتِہِمْ۝ 0 ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللہِ فَوْزًا عَظِيْمًا۝ 5 ۙ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : لیدخل متعلقہ بقولہ انا فتحناوقیل متعلقۃ بینصرک وقیل متعلقۃ بمحذوف ینا سب المقام جنات مفعول فیہ خالدین حال من المؤمنین ویکفر معطوف علی یدخل و یعذب ایضا معطوف علیہ وغضب ولعن واعد عطف علی احد مع ان الواوفی الاخیرین فی محل الفاء لیدل علی استقلال الکل فی الوعید۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وکان اللہ علیما حکیما۔ اب زمینی لشکر سے اسلام کو فتحیاب کرنے کی حکمت بتلاتا ہے۔ فقال لیدخل تاکہ ان جاں فشاں ایمانداروں کو جنت میں داخل کرے اور ان کے مساعی جمیلہ کو ان کے گناہوں کا کفارہ کر دے جو اللہ کے نزدیک بڑی بہتری اور انسان کی کامیابی 2 ؎ ہے۔ اس سے زیادہ انسان کے لیے اور کیا مراد و تمنا ہوسکتی ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَیُکَفِّرَصژڑ عَنْہُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَاللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 5) (تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔ ) کفار سے مسلمانوں کا تصادم مسلمانوں کی تربیت کے لیے ہے اس سے پہلے ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کو کافروں کے مقابلے میں خطرناک صورتحال سے دوچار کرتا ہے جس کا نتیجہ عموماً…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام ؓ کو فتح مکہ کی خوشخبری سنانے کے ساتھ جنت کی خوشخبری بھی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حدیبیہ کے مقام پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور مومنوں پر اطمینان اور سکون نازل فرمایا تاکہ مومنوں کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اور قوتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” یَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا “ کے الفاظ فرما کر صحابہ کرام ؓ کو بتلایا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور توفیق شامل حال تھی اس لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 5 : لِّیُدْ خِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَیُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا (تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی جس میں وہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ اور تاکہ ان کے گناہوں کو دور کر دے اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ھوالذی انزل السکینۃ “ اطمینان ووقار۔ ” فی قلوب المومنین “ تاکہ ان کے دل پریشان نہ ہوں۔ اس سے جوان پر مصائب آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں سکینہ کا لفظ ہے اس سے اطمینان مراد ہے سوائے اس کے جو سورة البقرہ میں ہے۔ ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو لاالہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ بھیجا۔ پس جب انہوں نے اس کی تصدیق کرلی تو ان کو نماز کا حکم زائد کیا۔ پھر زکوٰۃ پھر روزے پھر حج پھر جہاد۔ حتیٰ کہ ان کے لئے ان کے دین کو مکمل کردیا۔ پس جب بھی کسی چیز کا حکم دیئے جاتے تو وہ اس کی تصدیق کرتے تو ان کی تصدیق میں تصدیق زیادہ ہوتی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکنیت نازل کی۔ سکنیت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کردینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کردیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کیلئے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ ان مصائب کو سامنا کرسکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لئے مستعد رہے، اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 6] مسلمانوں کے لئے سکون و اطمینان کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے مسلمانوں کو سکنیت اور حوصلہ مندی کی نعمت سے سرفراز فرمایا "۔ سو یہ بھی ان خاص انعامات میں سے ہے جن سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو نوازا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے ساتھیوں نے ان نہایت مشکل اور کٹھن حالات میں نہایت سکون و اطمینان اور صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور کفار کی طرف سے سخت اشتعال انگیزیوں کے باوجود انہوں نے کسی بھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا جو ان کے کاز کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے بالکل نہتے اور احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود خون عثمان کا بدلہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–10

اللہ کا فضل اور اللہ کا عذاب تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی کاملیت، انسان کی عظمت (جو اللہ نے دی) خلیفۃ اللہ ہونے کا اعزاز اور پھر انسان کی سزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سزا و جزا صرف آخرت میں ہی نہیں ملتی بلکہ کافی حد تک دنیا میں بھی بدلہ ملتا رہتا ہے۔ کیونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، اس لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ گناہ اور بھول چوک میں فرق ہے بہرحال اللہ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا والی حامی و ناصر بنا لیتے ہیں تو پھر ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے ” جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:5) لیدخل۔ میں لام تعلیل کا ہے یدخل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ۔ ادخال (افعال) مصدر۔ تاکہ وہ داخل کرے۔ اس کا تعلق لیزدادوا سے ہے۔ المومنین والمؤمنت۔ معطوف علیہ معطوف مل کر مفعول فعل یدخل کا۔ جنت مفعول فیہ اسی فعل کا۔ تجری من تحتھا الانھر صفت جنت کی خلدین فیہا۔ حال ہے المؤمنین والمؤمنت سے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔ ویکفر۔ اس کا عطف لیدخل پر ہے واؤ عاطفہ ہے۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام مقدرہ) واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر۔ وہ دور کر دے۔ وہ ساقط کردے۔ سیئاتھم : مضاف مضاف الیہ مل کر مفول یکفر کا۔ ان کے گناہ۔ ان کی برائیں۔ یدخل اور یکفر کی ضمیر فاعل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–7

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 : فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 : جب نبی کریم ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کا ذکر صحابہ کرام ؓ سے کیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حدیبیہ کی لڑائی۔ (ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[4] سکینت سے مراد ہے سکون و اطمینان۔ [5] یعنی باوجود خلاف طبع ہونے کے رسول کے حکم پر جمے رہے، ضدی کافروں کے ساتھ ضد نہیں کرنے لگے۔ اس کی برکت سے ان کے ایمان کا درجہ بڑھا۔ انہوں نے اوّل بیعت جہاد کر کے ثابت کردیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایمان کا رنگ تھا۔ اس کے بعد جب پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اللہ تعالیٰ کے حکم سے صلح منظور کرلی تو ان کے ایمان کا دوسرا رنگ تھا کہ اپنے پرجوش جذبات کو دبا کر اللہ کے رسول کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

غفران ذنب کے ضمن میں اہل تفسیر نے حسب تاویلات کا ذکر کیا ہے :۔ (1) ذنبک سے مراد مسلمانوں کے گناہ اور حضور ﷺ چونکہ مخاطب اول ہیں ۔ اس لئے ان کی وساطت سے گناہوں کی بخشش عام کا کردہ سنایا ہے ۔ (2) مخاطب تو حضور ﷺ ہیں مگر ذنب کے معنے ترک اولیٰ کے ہیں ۔ معصیت اور نافرمانی کے نہیں ہیں ۔ (3) اس سے صغائر مراد ہیں ۔ جن کا صدور انبیاء سے ہوسکتا ہے ۔ (4) اس سے مقصود عصمت کا ثبوت ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ گناہوں کو آپ نظروں سے اوجھل کردیں ۔ مگر ان سب تاریکوں میں ایک نقص یہ ہے کہ ان کا تعلق نفس واقعہ سے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا ۔ آیات میں تو فتح مکہ کا مراوہ سنایا جارہا ہے ۔ اور درمیان میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) یہ سکینہ اس لئے نازل فرمایا اور کمال ایمانی کو اس لئے ترقی دی تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغوں اور ایسی بہشتوں میں دالخ فرمائے جن کے پائیں اور جن نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے اور اس لئے تاکہ ان کے گناہ ان سے زائل کرد اور دور کردے اور یہ جنت میں داخل ہونا اور گناہوں کا معاف ہوجانا اللہ کے ہاں بہت بڑی کامیابی اور مراد پانی ہے۔ یعنی نزول سکینہ سے جو اثرات قلوب پر مرتب ہوئے وہ اثرات موجب ہوئے وہ اثرات موجب ہوئے جنت میں داخل ہوکر ہمیشگی اختیار کرنا اور گناہوں کا بالکل معاف ہوجانا یہی باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 3–7

اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے 7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

Bounties of Allah upon the Participants of Hudaibiyah In the first three verses of this Surah, reference was made to Allah's particular bounties bestowed upon the Holy Prophet ﷺ in the wake of the manifest victory. Some of the participants of Hudaibiyah congratulating the Holy Prophet ﷺ ، asked him that the favours are conferred exclusively upon him, but what is there in it for them? In response to this query, verses 4-7 were revealed. They distinctly refer to the good graces of Allah upon the participants of Hudaibiyah and the Pledge of Ridwan. These favours were generously bestowed upon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 In the Qur'an generally mention of the rewards for the believers is made collectively and separate mention is not made of the rewards for the men and the women But here, since the general mention of giving the rewards could cause the doubt that this reward may perhaps be only meant for the men. Allah has made a separate mention of the believing women, saying that they too would be equal partners in this reward with the believing men. The reason is obvious. Those God-fearing women who encouraged their husbands, sons, brothers and fathers to proceed on the dangerous journey instead of…

Read the full tafseer →