Al-Fath 48:4

Al-Fath · from ayah 4

48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ ؕ— وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا ۟ۙهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِىۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِيۡمَانًا مَّعَ اِيۡمَانِهِمۡ‌ ؕ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who sent down tranquillity into the hearts of the believers that they would increase in faith along with their [present] faith. And to Allah belong the soldiers of the heavens and the earth, and ever is Allah Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:4

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے (کل) لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت اتار دی، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ ہو۔ اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ علم و حکمت والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ ہو (یعنی علم الیقین، عین الیقین میں بدل جائے)، اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں زیادہ ہوجائیں اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ مزید اطمینان کا اضافہ کرلیں اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر طمانیت نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کی افروزنی ہو اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے سکینت (و اطمینان کی کیفیت) نازل فرمائی ایمان والوں کے دلوں میں تاکہ اور بڑھ جائے ان کا ایمان ان کے (پہلے) ایمان کے ساتھ اور اللہ ہی کے لئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ (اپنے ایمان کے ساتھ (ان کا) ایمان اور زیادہ ہوجائے اور اللہ ہی کی ملک آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کردی تاکہ وہ اضافہ کرلیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا } اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر تو اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who bestowed inner peace on the hearts of the believers so that they may grow yet more firm in their faith. To Allah belong the legions of the heavens and the earth; Allah is All-Knowing, Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) is such that He sent down tranquility into the hearts of the believers, so that they grow more in faith in addition to their (existing) faith__ And to Allah belong the forces of the heavens and the earth, and Allah is All-Knowing, All-Wise__

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) is such that He sent down tranquility into the hearts of the believers, so that they grow more in faith in addition to their (existing) faith__ And to Allah belong the forces of the heavens and the earth, and Allah is All-Knowing, All-Wise__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who sent down As-Sakinah into the hearts of the believers, that they may grow more in faith along with their faith. And to Allah belong the armies of the heavens and the earth, and Allah is Ever All-Knower, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who sent down peace of reassurance into the hearts of the believers that they might add faith unto their faith. Allah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is ever Knower, Wise -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who sent down tranquillity into the hearts of the believers that they would increase in faith along with their [present] faith. And to Allah belong the soldiers of the heavens and the earth, and ever is Allah Knowing and Wise.

— Saheeh International

It is God who has given confidence to the hearts of the believers to increase and strengthen their faith. To God belongs the armies of the heavens and the earth. He is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

He it is Who sent down tranquillity into the hearts of the believers that they might have more of faith added to their faith-- and Allah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is Knowing, Wise--

— Muhammad Habib Shakir

He it is Who sent down tranquillity into the hearts of the believers that they might increase belief Unto their belief. And Allah's are the hosts of the heavens and the earth and Allah is ever Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who sent down tranquillity into the hearts of the Believers, that they may add faith to their faith;- for to Allah belong the Forces of the heavens and the earth; and Allah is Full of Knowledge and Wisdom;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–9

اطمینان و رحمت سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کردیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کردیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کردینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہوجائے اور دلیل بھی سامنے آجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 6 " سکینت " عربی زبان میں سکون و اطمینان اور ثبات قلب کو کہتے ہیں، اور یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کے دل میں اس کے نازل کیے جانے کو اس فتح کا ایک اہم سبب قرار دے رہا ہے جو حدیبیہ کے مقام پر اسلام اور مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ اس وقت کے حالات پر تھوڑا سا غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ وہ کس قسم کی سکینت تھی جو اس پورے زمانے میں مسلمانوں کے دلوں میں اتاری گئی اور کیسے وہ اس فتح کا سبب بنی۔ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عمرے کے لیے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا، اگر مسلمان اس وقت خوف زدگی میں مبتلا ہوجاتے اور منافقین کی طرح یہ سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحا موت کے منہ میں جانا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

خلاصہ تفسیر وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا (جس کے دو اثر ہیں ایک بیعت جہاد کے وقت اس کی طرف مسابقت اور عزم و ہمت جیسا کہ بیعت رضوان کے واقعہ میں اوپر ذکر آ چکا ہے اور دوسرا اثر کفار کی بےجا ضد کے وقت اپنے جوش اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنا جس کا ذکر اس واقعہ کے جزو دہم میں تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے اور آگے بھی (آیت) فانزل اللہ سکینتہ علیٰ رسولہ میں آئے گا) تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو (کیونکہ دراصل اطاعت رسول ذریعہ ہے نور ایمان میں زیادتی کا اور اس واقعہ میں ہر پہلو سے مکمل اطاعت رسول کا امتحان ہوگیا کہ جب رسول نے دعوت جہاد کے لئے بلایا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وللہ جند السموت والارض ط وکان اللہ علیماً حکیما 4 وعدہ نصرت کی دلیل اوپر والی آیت میں جس نصرت کا وعدہ فرمایا گیا ہے یہ اس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ یہ اللہ ہی کی نصرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے مومنوں کے دلوں میں یہ حوصلہ پیدا کیا کہ وہ تمہاری دعوت پر عمرہ کے لئے تمہارے ہم رکاب ہوگئے تاکہ جو دولت ایمان ان کو حاصل تھی اس پر وہ اپنی اس حوصلہ مندی اور بنی کی رفاقت سے مزید اضاصہ کرلیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ سفر اگرچہ عمر کے لئے تھا لیکن اس کا ارادہ نبی ﷺ نے نہایت خطرناک حالات میں فرمایا تھا۔ قریش سے بزابر جنگ کی حالت قائم تھی اور اب تک ان کے حوصلہ کا یہ عالم تھا کہ وہ برابر امنڈا منڈ کر مدینہ پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی اس اضطراب کے بعد جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی جس سے ان کے دلوں کو اطمینان سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ 4۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلًا فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

4: جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، صحابہ کرام ؓ کفار کے خلاف بہت غم و غصے اور جوش کی حالت میں تھے، اور انہیں صلح کی شرائط ماننا بھی بہت بھاری معلوم ہورہا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت یہی منظور تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کردیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی ﷺ کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ ﷺ اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور ﷺ نے اس شرط کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اطمینان اتارا۔ یعنی باوجود خلاف طبع ہونے کے رسول کے حکم پر جمے رہے۔ ضدی کافروں کے ساتھ ضد نہیں کرنے لگے۔ اس کی برکت سے ان کے ایمان کا درجہ بڑھا اور مراتب عرفان و ایقان میں ترقی ہوئی۔ انہوں نے اول بیعت جہاد کر کے ثابت کردیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایمان کا ایک رنگ تھا اس کے بعد جب پیغمبر (علیہ السلام) نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اللہ کے حکم سے صلح منظور کرلی تو ان کے ایمان کا دوسرا رنگ یہ تھا کہ اپنے پر جوش جذبات و عواطف کو زور سے دبا کر اللہ و رسول کے فیصلہ کے آگے گردن انقیاد خم کردی۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ 3 یعنی وہ ہی جانتا ہے کہ کس وقت قتال کا حکم دینا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ } ”وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کردی تاکہ وہ اضافہ کرلیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت اور طمانیت ہی تھی جس کے باعث صحابہ کرام رض اپنی جانیں قربان کردینے کے فیصلے پر پورے سکون قلب کے ساتھ جازم رہے۔ پھر اسی سکینت کے سہارے صحابہ کرام رض اس کڑے امتحان سے بھی سر خرو ہو کر نکلے جو اس خاص موقع پر انہیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے حوالے سے درپیش تھا۔ اس موقع پر اصل صورت حال یہ تھی کہ صحابہ رض میں سے کوئی ایک فرد بھی صلح کے حق میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے جذبات کی دو انتہائیں :۔ حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہوئیں اور دونوں ہی اپنی انتہا کو پہنچیں اور دونوں ہی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا نتیجہ تھیں۔ پہلے خون پر بیعت لی گئی جس سے مسلمانوں میں جنگ کے لئے اس قدر اشتعال پیدا ہوگیا کہ وہ کافروں کے مقابلہ میں سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس کے بعد مسلمان دراصل صلح کے حق میں ہی نہ تھے چہ جائیکہ نہایت توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے آمادہ ہوں۔ ان باتوں پر سیدنا ابو جندل کا واقعہ مزید اشتعال دلانے والا تھا جس سے سب مسلمانوں کے دل بھر آئے تھے اور اگر ان کے اختیار میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (چنانچہ جب مصلحت قتال کی ہوگی، حکم قتال کا دے گا ہر حکم بہرصورت اس علیم کے علم کا مل اور حکیم کی حکمت کامل کے ماتحت ہی ہوگا۔ (آیت) ” انزل السکینۃ “۔ سکینۃ کے معنی تسلی اور اطمینان قلب کے ہیں۔ اور یہی شے استقامت اور صبروثبات کی بنیاد ہے۔ اور یہ لفظ اہل لغت کی تحقیق میں نور اور قوت اور روح کا جامع ہے۔ السکینۃ السکون والطمانیۃ (کشاف) فسروھا بشیء یجمع نورا وقوتا وروحا بحیث یسکن الیہ ویتسلی بہ الحزین (روح) اس موقع خاص پر سکینت الہی کا ظہور دو طرح پر ہوا۔ ایک تو یوں کہ بیعت جہاد کے وقت صحابہ باوجود اس کے کہ گھر سے نکلتے وقت کوئی خیال بھی قتال کا نہ تھا۔ عزم جہاد پر ثابت ومستعدر رہے دوسرے اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک ہم نے آپ کو (اے نبی) ایک کھی فتح عطاء کی (یعنی) آپ کے جہاد کے ذریعہ ہم نے بزور شمشیر مستقبل میں مکہ وغیرہ کی فتح کا فیصلہ کردیا، تاکہ آپ کے جہاد کے صلہ میں آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف ریں، تاکہ تیری امت کو جہاد میں رغبت ہو اور مذکورہ آیت مئو ول ہے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں سے دلیل عقلی قطعی سے معصوم ہونے کی وجہ سے اور لام علت غائیہ کے لئے ہے لہذا اس کا مدخول مسبب ہے نہ کہ سبب اور (تاکہ) فتح مذکور کے ذریعہ اپنی نعمتوں کی آپ پر تکمیل کرے اور اس کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھائے (یعنی) آپ کو اس پر ثابت قدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم واللہ جنود السموت والارض وکان اللہ علیمًا حکیمًا وہ (ا اللہ) وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا ہے تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کو ایمان اور زیادہ ہوجائے۔ اور آسمان و زمین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ سکینہ سے مراد ہے اللہ کے حکم کی تعمیل پر ثبات اور اطمینان ‘ یعنی مسلمانوں کے دلوں کو اس مقام پر ثابت و اطمینان عطا فرمایا ‘ جہاں دلوں میں تردد پیدا ہوجاتا ہے اور قدم ڈگمگانے لگتے ہیں ‘ جبکہ کافروں کے دلوں میں حمیت جاہلیت پیدا کردی۔ اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِھِمْ ضحاک نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ اللہ ایسا ہے جس نے حدیبیہ کے دن سچے مومنوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ ان کے سابقہ ایمان باللہ و بالرسول کے ساتھ ان کی تصدیق یقین اور علم میں زیادتی پیدا ہو فرشتے اور مومن سب اللہ ہی کے لشکر ہیں اور وہ اپنے دشمنوں میں سے جس پر چاہے ان کو مسلط کردے اور حق تعالیٰ فتح و مغفرت ہدایت و نصرت اور انزال سکینہ وغیرہ کو خوب جاننے والا اور ان تمام امور میں حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھو الذی انزل الکسینۃ فی قلوب المومنین :”الکسینۃ“ سے مراد وہ سکون و اطمینان اور ثبات قلب ہے جس کا اتارنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر اس فتح مبین کے حصول تک مومنوں کے دلوں پر مسلسل جاری رکھا اور جو اس فتح کا اہم سبب بنا، ورنہ اگر مسلمان مدینہ سے عمرہ کے لئے نکلتے وقت منافقین کی طرح سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحاً موت کے منہ میں جانا ہے، یا راستے میں جب اطلاع ملی کہ قریش لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمت ہار جاتے، یا حدیبیہ میں پہنچنے پر جس طرح کفار نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور چھاپے اور شب خون مار مار کر انہیں اشتعال دلانے کی کوشش کی ، پھر جب عثمان ؓ کی شہادت کی خبر پھیلی، ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سے مراد سکون و طمانیت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی سکینہ کا لفظ ہے اس سے طمانیت ہے مگر جو سورة بقرہ میں ہے ایمان کی زیادتی کا معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ مبعوث کیا گیا (1) جب لوگوں نے آپ ﷺ کے اس بارے میں تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نماز پر زائد کردیا جب انہوں نے اس حکم میں آپ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ کو زائد کیا، جب انہوں نے اس امر میں آپ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر روزوں کو زائد کردیا جب انہوں نے اس مسئلہ میں نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حج کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المؤمنین “ (وہ خدا وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا میں ” السکینۃ “ سے مراد ہے رحمت (آیت ) ” لیزدادو ایمانا مع ایمانہم “ (تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہوجائے) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ بھیجا جب ایمان والوں نے اس کی تصدیق کی تو اس نے ان کے لئے نماز زیادہ کردی جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو ان کے لئے روزے زیادہ کردیئے جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو ان کے لئے حج…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُوَ الَّذِيْٓ [وہ، وہ ہے جس نے ] اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ [ اتارا سکون کی کیفیت کو ] فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کے دلوں میں ] لِيَزْدَادُوْٓا [ تاکہ وہ لوگ زیادہ ہوں ] اِيْمَانًا [ بلحاظ ایمان کے ] مَّعَ اِيْمَانِهِمْ ۭ [ اپنے ایمان کے ساتھ ] وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کے ہیں ] جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ زمین اور آسمانوں کے سارے لشکر ] وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا [اور اللہ علم والا ہے حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

بشارات اہل حدیبیہ بعطاء نعمأدنیویہ واخرویہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ....... الی ....... عزیزا حکیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان بشارتوں اور کرامتوں پر مشتمل تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھیں اب ان آیات میں وہ کرامات اور بشارتیں ذکر فرمائی جارہی ہیں جو آپ ﷺ کے ہمرکاب رفقاء اور حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین “۔ کے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے کہ بضدھاتتبین الاشیاء “۔ نور کی نورانیت ظلمت و تاریکی کے ہی مقابلہ میں پہچانی جاتی ہے تو اولا اہل حدیبیہ کے فضائل بیان فرماتے گئے اور پھر بطور تکمیل مضمون انکے مقابل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” ھو الذی “ یہ دوسری بشارت ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہی نے اس صلح کے ذریعے تمہارے دلوں کو سکون و اطمینان کی نعمت عطا کی اور تمہیں ثابت قدم رکھا یعنی انتہائی جوش و خروش اور مشرکین کے خلاف فرط غیظ کے باوجود تمہارے دلوں کو مضبوط کردیا اور تمہیں جنگ کرنے سے باز رکھا۔ جس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے مشرکین کے دلوں پر تمہاری جرات و شجاعت کا رعب بیٹھ جائیگا۔ تائید : ” سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “ (انفال رکوع 2) ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانہم یہ دوسری بشارت کا ثمرہ ہے۔ ہم نے ایمان والوں کے دل میں سکون و اطمینان اس لیے ڈال دیا تاکہ ان کے یقین و ایمان میں مزید قوت و شدت پیدا ہوجائے اور وہ دشمن کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–7

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فتح مبین کی خوش خبری سنائی اور ساتھ اپنی زبردست نصرت کا بھی یقین دلایا ۔ حضور ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کر رہے ہیں ۔ مگر آپ ادائیگی عمرہ کے صحیح وقت کا اندازہ نہ کرسکے اور خیال فرمایا کہ شاید یہ سعادت اسی سال حاصل ہوجائے گی لہٰذا آپ ڈیڑھ ہزار جماعت صحابہ ؓ کے ہمراہ مدینہ کی طرف چل پڑے ، مگر جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ بالآخر گفت و شنید کے بعد طے پایا ، کہ مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آ کر ایسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ السَّكِيْنَۃَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِہِمْ۝ 0 ۭ وَلِلہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۝ 4 ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ علماء کی ایک جماعت اس آیت سے استدلال کر کے یہ کہتے ہیں کہ ایمان کم زیادہ ہوتا ہے مگر محققین جن میں حضرت امام ابوحنیفہ (رح) بھی ہیں یہ کہتے ہیں کہ ایمان ایک تصدیق قلبی ہے وہ کیفیت زیادہ کم نہیں ہوتی پھر آیات و احادیث میں جو زیادہ ہونا آیا ہے اس سے علم الیقین عین الیقین مراد ہے یا باعتبار اس کے کہ جس پر ایمان لایا یعنی پہلی دو باتوں پر ایمان تھا پھر تیسری نازل ہوئی اس پر بھی ہوا۔ چناچہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس بارے میں بعض آثار بھی نقل کئے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ ط وَلِلّٰہِ جُنُوْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 4) (وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایک اور ایمان کا اضافہ کرلیں، اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ ) وعدہ نصرت کے ایفاء کی ایک جھلک اوپر والی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس وعدے کے ایفاء کی ایک جھلک ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہوگی، وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام ؓ کو فتح مکہ کی خوشخبری سنانے کے ساتھ جنت کی خوشخبری بھی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حدیبیہ کے مقام پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور مومنوں پر اطمینان اور سکون نازل فرمایا تاکہ مومنوں کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اور قوتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” یَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا “ کے الفاظ فرما کر صحابہ کرام ؓ کو بتلایا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور توفیق شامل حال تھی اس لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صلح کے سبب سکون اتارا : آیت 4 : ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ (وہی اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو) السکینہ کا لفظ سکون مصدر سے اسی طرح ہے جیسا البہتان سے البہیتۃ ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں صلح کے سبب سکون و اطمینان اتارا۔ تاکہ ان کا یقین مزید بڑھ جائے۔ ایک قول یہ ہے : السکینۃ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین و اعتماد اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کا نام ہے۔ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکنیت نازل کی۔ سکنیت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کردینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کردیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کیلئے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ ان مصائب کو سامنا کرسکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لئے مستعد رہے، اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 6] مسلمانوں کے لئے سکون و اطمینان کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے مسلمانوں کو سکنیت اور حوصلہ مندی کی نعمت سے سرفراز فرمایا "۔ سو یہ بھی ان خاص انعامات میں سے ہے جن سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو نوازا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے ساتھیوں نے ان نہایت مشکل اور کٹھن حالات میں نہایت سکون و اطمینان اور صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور کفار کی طرف سے سخت اشتعال انگیزیوں کے باوجود انہوں نے کسی بھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا جو ان کے کاز کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے بالکل نہتے اور احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود خون عثمان کا بدلہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تشریح : یہ آیات بھی اللہ کی شان نبی ﷺ کی استقامت اور مسلمانوں کی فرمانبرداری اتحاد یقین اور تنظیم کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے دب کر رہتے ہوئے معاہدہ کرنے کی صورت پیش کرتی ہے مگر درحقیقت حالات اس صورت سے پیش آئے کہ وہی دبنا اور کفار کے کہنے کے مطابق مان لینا، مسلمانوں کے لیے آئندہ کامیابی و کامرانی کا بہت بڑا ذریعہ بنے مثلاً ۔ 1 ۔ اہل مکہ نے مسلمانوں کی آزاد خود مختار قوم ہونے کا اقرار کیا۔ 2 ۔ کفار نے جب مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا تو ڈر گئے اور خود جنگ نہ کرنے اور صلح کرنے پر راضی ہوگئے۔ 3 ۔ مکہ مدینہ کے بند…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد عام مسلمان بہت رنجیدہ و غمگین تھے لیکن جب اللہ و رسول کی رضا اسی صلح میں پائی تو خوش ہوگئے اور بعد کے حالات سے ان پر صلح حدیبیہ کا فتح مبین ہونا عیاں ہوتا چلا گیا حتی کہ ان کے دل بالکل مطمئن ہوگئے۔ 11 یعنی جوں جوں اللہ و رسول کی بتائی باتیں حقیقت بن کر ان کے سامنے آتی گئیں، اللہ و رسول پر ان کا ایمان بڑھتا گیا۔ ایمان میں یہ اضافہ کو مصدق بہ کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ اور رسول کی کسی بات میں شک نہ تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ نفس ایمان میں اضافہ تسلیم کیا جائے کہ دلائل کی کثرت سے ایمان میں مزید پختگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان میں کمی و بیشی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:4) ھو ای اللّٰہ۔ السکینۃ۔ تسکین، تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزون فعلیہ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے جو عزم یعزم کا مصدر ہے اور بطور اسم بمعنی ارادہ کی پختگی۔ مستقل مزاجی ہے۔ سید محمد مرتضی زبیدی لکھتے ہیں :۔ سکینہ وہ اطمینان اور سکون ، چین، قرار ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے۔ یہ اس کے لئے زیادتی ایمان ، یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کردیتا ہے ، اسی وجہ سے حق سبحانہ نے ” یوم الغار “ اور ” یوم حنین “۔ جیسے قلق و…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–7

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 : فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 : جب نبی کریم ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کا ذکر صحابہ کرام ؓ سے کیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام ؓ کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حدیبیہ کی لڑائی۔ (ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[4] سکینت سے مراد ہے سکون و اطمینان۔ [5] یعنی باوجود خلاف طبع ہونے کے رسول کے حکم پر جمے رہے، ضدی کافروں کے ساتھ ضد نہیں کرنے لگے۔ اس کی برکت سے ان کے ایمان کا درجہ بڑھا۔ انہوں نے اوّل بیعت جہاد کر کے ثابت کردیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایمان کا رنگ تھا۔ اس کے بعد جب پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اللہ تعالیٰ کے حکم سے صلح منظور کرلی تو ان کے ایمان کا دوسرا رنگ تھا کہ اپنے پرجوش جذبات کو دبا کر اللہ کے رسول کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

غفران ذنب کے ضمن میں اہل تفسیر نے حسب تاویلات کا ذکر کیا ہے :۔ (1) ذنبک سے مراد مسلمانوں کے گناہ اور حضور ﷺ چونکہ مخاطب اول ہیں ۔ اس لئے ان کی وساطت سے گناہوں کی بخشش عام کا کردہ سنایا ہے ۔ (2) مخاطب تو حضور ﷺ ہیں مگر ذنب کے معنے ترک اولیٰ کے ہیں ۔ معصیت اور نافرمانی کے نہیں ہیں ۔ (3) اس سے صغائر مراد ہیں ۔ جن کا صدور انبیاء سے ہوسکتا ہے ۔ (4) اس سے مقصود عصمت کا ثبوت ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ گناہوں کو آپ نظروں سے اوجھل کردیں ۔ مگر ان سب تاریکوں میں ایک نقص یہ ہے کہ ان کا تعلق نفس واقعہ سے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا ۔ آیات میں تو فتح مکہ کا مراوہ سنایا جارہا ہے ۔ اور درمیان میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل اور ضبط و اطمینان نازل فرمایا تاکہ وہ اس ایمان کے جو ان کو پہلے سے حاصل تھا ایمان میں اور بڑھ جائیں اور ٓسمان و زمین کے تمام لشکر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چین سے رسول کے حکم پر رہے ضدیوں کے ساتھ ضد نہ کرنے لگے اس میں ان کو ایمان کا درجہ بڑھا۔ سکینہ کی بحث سورة انفال اور سو رہ براۃ میں گزر چکی ہے کہ یہ ایک حالت ہے جو اہل ایمان کے قلوب میں ڈال دی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کو پریشانی کے وقت اطمینان اور چین حاصل ہوجاتا ہے۔ اس سورت میں نزول سکینہ کا دو جگہ ذکر آیا ہے ایک اس موقعہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 3–7

اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے 7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

Bounties of Allah upon the Participants of Hudaibiyah In the first three verses of this Surah, reference was made to Allah's particular bounties bestowed upon the Holy Prophet ﷺ in the wake of the manifest victory. Some of the participants of Hudaibiyah congratulating the Holy Prophet ﷺ ، asked him that the favours are conferred exclusively upon him, but what is there in it for them? In response to this query, verses 4-7 were revealed. They distinctly refer to the good graces of Allah upon the participants of Hudaibiyah and the Pledge of Ridwan. These favours were generously bestowed upon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 "Sakinat" in Arabic is calmness and tranquillity and peace of mind. Here AIIah calls its being sent into the hearts of the believers an important factor in the victory that Islam and the Muslims achieved at Hudaibiyah. From a study of the conditions of the tuns one comes to know what kind of a Sakinat it was that was sent down into the hearts of the Muslims during that period and how it became a source of victory. If at the time when the Holy Prophet expressed his intention to go for 'Umrah to Makkah, the Muslims had become terror-stricken and started behaving like the hypocrites as if they…

Read the full tafseer →