Explained with ayahs 1–3
ذی قعدہ سنہ006ہجری میں رسول اللہ ﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور حضور ﷺ نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کرلی جسے صحابہ کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی جس میں خاص قابل ذکر ہستی حضرت عمر فاروق کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آرہا ہے، انشاء اللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 5
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " تم کو بےمثل نصرت بخشے "۔ اصل میں لفظ نصراً عزیزاً استعمال ہوا ہے۔ عزیز کے معنی زبردست کے بھی ہیں اور بےنظیر، بےمثل اور نادر کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ اس صلح کے ذریعہ سے اللہ نے آپ کی ایسی مدد کی ہے جس سے آپ کے دشمن عاجز ہوجائیں گے۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ شاذ و نادر ہی کبھی کسی کی مدد کا ایسا عجیب طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر جو چیز لوگوں کو محض ایک صلح نامہ اور وہ بھی دب کر کیا ہوا صلح نامہ نظر آتی ہے، وہی ایک فیصلہ کن فتح بن جانے والی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَــصْرًا عَزِيْزًا، یہ تیسری نعمت ہے جو اس فتح مبین پر مرتب ہوئی کہ حق تعالیٰ کی امداد و اعانت جو آپ کو ہمیشہ حاصل رہی ہے اس وقت اس مدد کا ایک بڑا درجہ آپ کو دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک ومات خرویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراط مستقیماً وینصرک اللہ نصراً عزیزا (3-2)
اس فتح مبین کے چند نتائج
’ ل ‘ یہاں غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے یہ فتح مبین جو عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو منتہی ہوگی مندرجہ ذیل باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں سرفراز فرمانے والا ہے۔
ایک یہ کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جائو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر کے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت تمام کرنے والا ہے۔
تیسری یہ کہ ہدایت کی صحیح راہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول دے گا۔
چوتھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 1 اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ ﷺ نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورة عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کو تاہیاں شمار کرلیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ ﷺ کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2: جیسا کہ پیچھے سورة محمد کی آیت نمبر 19 کی تشریح میں عرض کیا گیا، آنحضرت ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، اور آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا تھا، لیکن کوئی معمولی قسم کی بھول چوک ہوجاتی تو آپ اس کو بھی اپنا قصور سمجھتے تھے، یہاں اسی قسم کے قصور مراد ہیں۔
3: یعنی اب تک دین کی تبلیغ اور اس پر مکمل طور سے عمل کرنے میں کافروں کی طرف سے بڑی بڑی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں۔ اب اس فتح کے بعد سیدھا راستہ صاف ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی…
Read the full tafseer →1 یعنی اللہ کی ایسی مدد آئیگی جسے کوئی نہ روک سکے گا نہ دبا سکے گا۔ اور اسی کی مدد سے فتح و ظفر تیرے قدموں کے ساتھ ساتھ ہوگی۔ سورة " نصر " میں فرمایا کہ جب خدا کی طرف سے مدد اور فتح آجائے اور لوگ دین الٰہی میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں تو اللہ کی تسبیح وتحمید اور اس سے استغفار کیجیے۔ ظاہر ہے کہ اس فتح مبین پر بھی آپ نے استغفار کیا ہوگا تو اس کے جواب میں " لِیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ " الخ کا مضمون اور بھی زیادہ صاف ہوجاتا ہے۔ نبہ علیہ ابن جریر (رح) تعالٰی۔
Read the full tafseer →آیت 3 { وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا } ”اور اللہ آپ کی مدد کرے گا ‘ بہت زبردست مدد۔“
اب آپ ﷺ کی جدوجہد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی مدد شامل ہوگی جسے کوئی شکست نہیں دے سکے گا۔
Read the full tafseer →3 صلح حدیبیہ میں اللہ کے چار احسانات :۔ اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار چیزیں عطا فرمائیں۔ (1) سابقہ اور آئندہ لغزشوں کی معافی، (2) اتمام نعمت، اتمام نعمت سے مراد یہ ہے کہ آئندہ اب مسلمانوں پر ہنگامی فضا مسلط نہ رہ سکے گی اور وہ اپنی جگہ ہر طرح کے خوف اور بیرونی مداخلت سے محفوظ و مامون رہ کر پوری طرح اسلامی تہذیب وتمدن اور اسلامی قوانین و احکام کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرسکیں گے اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ بجا لاسکیں گے، (3) اس مقام پر آپ کو سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب آپ کو فتح و کامرانی کی راہ دکھانا ہے۔ یعنی اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ نے آپ کے لئے وہ راہ ہموار کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (جس سے آپ ﷺ کو آیندہ پھر نہ دبنا پڑے) (آیت) ” فتحامبینا “۔ مراد صلح حدیبیہ ہے۔ جس کے بعد اہل عرب کثرت سے اور جوق جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ نزلت ھذہ السورۃ الکریمۃ لما رجع رسول اللہ ﷺ من الحدیبیۃ (ابن کثیر) والاکثرون علی انہ صلح الحدیبیۃ (معالم) 6 ہجر ی کا ماہ رجب (مطابق مارچ 628 ء۔ ) تھا۔ اور حکومت مکہ پر ابھی بدستور مشرکین قریش کا قبضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا۔ اور آپ تقریبا چودہ سواحرام پوش صحابیوں کی جماعت کے ساتھ طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ شہر مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ ادھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک ہم نے آپ کو (اے نبی) ایک کھی فتح عطاء کی (یعنی) آپ کے جہاد کے ذریعہ ہم نے بزور شمشیر مستقبل میں مکہ وغیرہ کی فتح کا فیصلہ کردیا، تاکہ آپ کے جہاد کے صلہ میں آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف ریں، تاکہ تیری امت کو جہاد میں رغبت ہو اور مذکورہ آیت مئو ول ہے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں سے دلیل عقلی قطعی سے معصوم ہونے کی وجہ سے اور لام علت غائیہ کے لئے ہے لہذا اس کا مدخول مسبب ہے نہ کہ سبب اور (تاکہ) فتح مذکور کے ذریعہ اپنی نعمتوں کی آپ پر تکمیل کرے اور اس کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھائے (یعنی) آپ کو اس پر ثابت قدم…
Read the full tafseer →وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ اور اللہ آپ کو (ایسا) غلبہ دے۔
ایک شبہ ینصر کا عطف لیغفر پر ہے اور مغفرت ‘ فتح پر مرتب ہے (یعنی فتح پہلے اور مغفرت اس کے بعد ہے) خواہ اس کو جہاد اور کوشش کا نتیجہ قرار دیا جائے یا شکر اور استغفار کا سبب ‘ بہرحال مغفرت کا ترتب فتح پر ہوگا اور چونکہ ینصر کا عطف یغفر پر ہے ‘ اسلئے ضروری ہے کہ نصرت کا ترتب بھی فتح پر ہو (یعنی فتح کے بعد نصرت کا وقوع ہو) مگر معاملہ برعکس ہے۔ نصرت ‘ فتح پر مقدم ہے کیونکہ سبب فتح ‘ نصرت ہے۔
ازالہ
اگر فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے تو ظاہر ہے کہ صلح بتعمیل حکم خداوندی ہوئی اور تعمیل حکم خداوندی ‘ نزول نصرت کا سبب ہے اور اگر فتح سے مراد فتح مکہ ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2۔ 3) تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی یعنی وحی سے پہلے کی اور وحی کے بعد سے رحلت تک کی صورتی خطائیں معاف فرمائے اور تاکہ نبوت و اسلام اور مغفرت کے ذریعے سے آپ پر اپنے احسانات کی اور تکمیل فرما دے اور آپ کو سیدھے رستہ یعنی دین اسلام پر قائم رکھے اور آپ کے دشمنوں پر آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو۔
شان نزول : لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ (الخ)
امام حاکم وغیرہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت کیا ہے کہ سورة فتح اول سے آخر تک حدیبیہ کے واقعہ کے بارے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان نازل ہوئی ہے۔ اور امام بخاری و مسلم اور ترمذی و حاکم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے…
Read the full tafseer →وینصرک اللہ نصراً عزیزاً : چوتھی اور آخری نعمت یہ ہے کہ ”نصر عزیز“ کا ذکر اپنے سب سے باعظمت نام ”اللہ“ کے ساتھ فرمایا، تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائیگا جس سے آپ کو عزت و قوت اور غلبہ حاصل ہوگا اور آپ کے دشمن عاجز اور مغلوب ہوجائیں گے۔ یہاں مبالغے کے لئے ”عزیز“ کی نسبت ”نصر“ کی طرف فرمائی ہے، ورنہ عزیز تو اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ نے ہونا ہی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں :”فلان نھارہ صائم ولیلہ قائم“ ”فلاں کا دن روزہ رکھنے والا اور رات قیام کرنے والی ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ابن انباری نے کہا : فتحا مبینا پر کلام مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ فتح سے متعلق ہے گویا فرمایا : ہم نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے فتح کے ساتھ مغفرت کو جمع کردے اور اللہ تعالیٰ آپ کے لئے وہ چیز جمع کر دے جس سے دنیا و آخرت میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ ابو حاتم سبحساتی نے کہا : یہ لام قسم ہے : یہ غلط ہے کیونکہ لام مسکور نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ساتھ نصب دی جاتی ہے اگر یہ جائز ہے تو یہ بھی جائز ہوتا ہے اس کی تاویل لیقومن زید ہے۔
زمحشری نے کہا : اگر تو یہ سوال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کو مغفرت کی علت کیسے بنایا ہے ؟ میں کہوں گا : اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “
30:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “ اور اللہ آپ کو ایسا غلبہ دے گا جس میں عزت ہی عزت ہوے اس سے مکہ خیبر اور طائف کا فتح ہونا مراد ہے (یعنی یہ شہر اللہ کی مدد سے فتح ہوں گے )
Read the full tafseer →وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ [ اور تاکہ مدد کرے آپ کی اللہ ] نَــصْرًا عَزِيْزًا [ ایک زبر دست مدد ]
نوٹ ۔ 3 زیر مطالعہ آیت ۔ 6 ۔ میں اللہ کے بارے میں برا گمان کرنے والوں کا ذکر ہے ۔ اس میں منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آگے آیت ۔ 12 ۔ میں کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اب واپس نہیں لوٹیں گے ۔ یہاں پر منافقین اور منافقات کے ساتھ مشرکین اور مشرکات کا جوڑ اس گہری قلبی وذہنی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے ، جس طرح ایک مشرک اپنے رب کی بندگی کا مدعی ہوتے ہوئے دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا ہے اسی طرح ایک منافق بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مدعی ہوتے ہوئے اسلام کے مخالفین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ
یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
پیغام تہنیت برائے سید المرسلین ﷺ بفتح مبین واعلان اتمام نعمت رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا فتحنالک فتحا مبینا ..... الی ...... نصرا عزیزا “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا کہ سورة محمد ﷺ یا سورة قتال کا موضوع اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ تھا اور یہ کہ اہل ایمان کو منافقین کی سازشوں سے نہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے مادی وسائل کی قلت سے ڈرنا چاہئے، اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے، قوی کو ضعیف اور ضعیف کو قوی کرسکتا ہے غالب کو مغلوب ومفتوح اور مظلوم وبے سہارا قوم کو فتح ونصرت سے ہم کنار کرسکتا ہے تو اس سورة پاک میں مسلمانوں کو فتح مبین کی بشارت سنائی جارہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” لیغفر لک “۔ ذنب (گناہ) سے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں، کیونکہ گناہ کا صدور انبیاء (علیہم السلام) سے محال ہے۔ اس لیے ذنب سے یہاں ترک اولی مراد ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مقام عالی کے اعتبار سے وہ ذنب ہے اگرچہ حقیقت میں ذنب نہیں۔ از قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین یا وہ امور مراد ہیں جنہیں آنحضرت ﷺ اپنی نظروں میں ذنب (گناہ) سمجھتے تھے اگرچہ وہ حقیقت میں گناہ نہ تھے بلکہ خلاف اولی بھی نہ تھے۔ والمراد بالذنب ما فرط من خلاف الاولی بالنسبۃ الی مقامہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فھو من قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین وقد یقال المراد ما ھو ذنب فی نظرہ العالی ﷺ وان لم یکن ذنبا ولا خلاف الاولی عندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفتح ہے جو کہ اس کی پہلی اور اٹھارہویں آیت میں آمدہ لفظ فتح سے مآخوذ ہے۔ یہ سورة مدینہ منورہ میں نازل ہوئی بلکہ 6ھ میں حدیبیہ سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئی ، چونکہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے مدنی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة 560 الفاظ اور 2400 حروف پر مشتمل ہے۔
تاریخی پس منظر
ہجرت کا چھٹا سال جا رہا تھا۔ 5ھ میں غزوہ احزاب پیش آ چکا تھا۔ اس سے پہلے بدر اور احد کی جنگیں ہوچکی تھیں ۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں واقع ہوچکی تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی تھی فریقین کو…
Read the full tafseer →وَّيَنْصُرَكَ اللہُ نَــصْرًا عَزِيْزًا 3
نصر
النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
[ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ
[ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً
[ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116]
( ن ص ر ) النصر والنصر
کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی
إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی
عزیز
، وَالعَزيزُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ا ؎ ماتقدم الخ اس وقت سے پہلے اور اس سے پچھلے گناہ یا نبوت کے قبل ومابعد کے گناہ مراد ہیں جیسا کہ ابن جریر اور سفیان ثوری و مجاہد کہتے ہیں۔ عطا کہتے ہیں ماتقدم سے مراد آدم و حوا کے گناہ اور ماتاخر سے امت کے گناہ مراد ہیں۔ اس تقدیر پر حضرت ﷺ کی طرف حقیقۃً گناہ منسوب نہیں۔ پچھلے گناہ اب تک ظہور ہی میں نہیں آئے ان کے بخشنے کے یا تو یہ معنی ہیں کہ وعدہ ہے اگر صادر ہوں گے تو معاف کردیے جائیں گے یا گناہوں کی نوبت ہی نہ آوے گی توفیقِ الٰہی رفیق رہے گی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لِّیَغْفِرَلَـکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَـہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مَّسْتَقِیْمًا۔ وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا۔ (الفتح : 2، 3)
(تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کرے، اور آپ کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے۔ اور آپ کو زبردست نصرت سے نوازے۔ )
اس فتحِ مبین کے چند نتائج
ایک مؤرخ یا سیرت نگار جب چھٹی ہجری میں آنحضرت ﷺ کے معمولات کو دیکھتا ہے تو اسے صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے جس میں نشیب و فراز کی موجیں کبھی اٹھتی ہیں اور کبھی سکون سے بہنے لگتی ہیں کہ اچانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : سورت محمد ﷺ کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہاری جگہ دوسری قوم لاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لانے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلی قوم کا سیاسی اقتدار اور سماجی اثر و رسوخ ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو موقع دیا جائے جس کی واضح مثال فتح مکہ میں پائی جاتی ہے۔
نبی معظم ﷺ نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کررہا ہوں جس میں سال اور وقت کا تعین واضح نہیں تھا۔ بیت اللہ کی زیارت کا شوق اور حالات کے تقاضے کے پیش نظر آپ ﷺ نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ تیاری کرو کہ…
Read the full tafseer →آیت 3 : وَّ یَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو) طاقتور ٗ محفوظ کہ کبھی بھی اس کے بعد عاجزی و جھکائو نہ ہو۔
Read the full tafseer →2 ۔” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر…ولید خل المومنین والمومنات جنات۔ الایۃ “
محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا، فسبح بحمد ربک واستغفرہ “ کی طرف لوٹ رہی ہے ۔” ماتقدم من ذنبک “ جاہلیت میں رسالت سے پہلے اور ” وما تاخر “ اس سورت کے نزول کے وقت تک اور کہا گیا ہے کہ ” وما تاخر “ ان میں سے جو آگے ہوں گے اور یہ ان لوگوں کے طریقہ پر جو انبیاء (علیہم السلام) سے صغائر کے صادر ہونے کو ممکن قرار دیتے ہیں اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں ” ماتقدم “ جو جاہلیت میں عمل کیے اور ” ماتاخر “ ہر وہ چیز جو ابھی عمل میں نہیں آئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر سورة الفتح
اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو روکا جبکہ آپ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا، اس شرط پر کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہو کر حلیف بننا چاہیے ایسا کرسکتا ہے اور جو کوئی رسول اللہ ﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہیے وہ ایسا کرسکتا ہے۔
اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہوگا، سرزمین کے طول و عرض مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 5] نصر عزیز سے سرفرازی کی عنایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور تاکہ وہ مدد فرمائے آپ کی بڑی ہی زبردست مدد اور نادر وبے مثال مدد جس کے بعد پھر نہ مغلوبیت ہو، اور نہ ہی اس جیسی مدد کسی اور کو مل سکے۔ سو آپ ﷺ کو ایسی ہی نادر و بےمثال مدد سے نوازا گیا جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ ۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اور اس طرح کی مدد ظاہر ہے آپ ﷺ کو اسی صورت میں حاصل ہوسکتی تھی جبکہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ جائے اور بیت اللہ مسلمانوں کی تھویل میں آجائے۔ یہاں پر نصر یعنی مدد کی صفت " عزیز " بیان فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تشریح : یہ آیات بھی اللہ کی شان نبی ﷺ کی استقامت اور مسلمانوں کی فرمانبرداری اتحاد یقین اور تنظیم کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے دب کر رہتے ہوئے معاہدہ کرنے کی صورت پیش کرتی ہے مگر درحقیقت حالات اس صورت سے پیش آئے کہ وہی دبنا اور کفار کے کہنے کے مطابق مان لینا، مسلمانوں کے لیے آئندہ کامیابی و کامرانی کا بہت بڑا ذریعہ بنے مثلاً ۔
1 ۔ اہل مکہ نے مسلمانوں کی آزاد خود مختار قوم ہونے کا اقرار کیا۔
2 ۔ کفار نے جب مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا تو ڈر گئے اور خود جنگ نہ کرنے اور صلح کرنے پر راضی ہوگئے۔
3 ۔ مکہ مدینہ کے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ایسی مدد جس کے بعد آپ کا کوئی دشمن آپ کو نیچا نہ دکھا سکے۔
Read the full tafseer →(48:3) وینصرک اللّٰہ نصرا عزیزا جملہ ہذا کا عطف بھی لیغفرلک اللّٰہ پر ہے ل ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر نصرا عزیزا موصوف صفت مل کر مفعول ثانی۔ نصرا عزیزا۔ ایسی مدد (نصرت) کہ آپ ہمیشہ غالب رہیں گے اور کسی قسم کی کمزوری روپذیر نہ ہوگی۔
ترجمہ : اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست نصر فرمائے۔
صاحب تفسیر مظہری وینصرک اللّٰہ کی تفسیر میں ایک شبہ اور اس کے ازالہ میں رقمطراز ہیں :۔ ایک شبہ : ینصر کا عطف لیغفر پر ہے اور مغفرت فتح پر مرتب ہے (یعنی فتح پہلے اور مغفرت اس کے بعد ہے) خواہ اس کا جہاد اور کوشش کا نتیجہ قرار دیا جائے یا کہ شکر اور استغفار کا سبب، بہرحال مغفرت کا ترتب فتح پر ہوگا۔ اور چونکہ ینصر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 :
فتحنا (ہم نے فتح دی۔ ہم نے کھول دیا) ‘ فتحامبینا (کھلی فتح) یغفر ( وہ معاف کردیتا ہے) تقدم ( آگے بھیجا) ذنب (گناہ ۔ خطا) تاخر (پیچھے ہوا) ‘ یتم (وہ پورا کرتا ہے) ینصر ( وہ مدد کرتا ہے) ‘ نصرا عزیزا ( زبردست مدد ) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے بیت اللہ کی کنجی لی اور صحابہ کرام ؓ سمیت آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا یعنی عمرہ ادا کیا۔ پھر کچھ انہوں نے اپنے سرمنڈوائے اور کچھ نے تھوڑے سے با کٹوائے۔ صحابہ کرام ؓ جانتے تھے کہ انبیاکرام (علیہ السلام) کے خواب وحی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حدیبیہ کی لڑائی۔
(ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة محمد ﷺ حاشیہ 11 صفحہ 1229۔
[3] یہاں سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب فتح و کامرانی کا راستہ دکھانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
غفران ذنب کے ضمن میں اہل تفسیر نے حسب تاویلات کا ذکر کیا ہے :۔ (1) ذنبک سے مراد مسلمانوں کے گناہ اور حضور ﷺ چونکہ مخاطب اول ہیں ۔ اس لئے ان کی وساطت سے گناہوں کی بخشش عام کا کردہ سنایا ہے ۔ (2) مخاطب تو حضور ﷺ ہیں مگر ذنب کے معنے ترک اولیٰ کے ہیں ۔ معصیت اور نافرمانی کے نہیں ہیں ۔ (3) اس سے صغائر مراد ہیں ۔ جن کا صدور انبیاء سے ہوسکتا ہے ۔ (4) اس سے مقصود عصمت کا ثبوت ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ گناہوں کو آپ نظروں سے اوجھل کردیں ۔ مگر ان سب تاریکوں میں ایک نقص یہ ہے کہ ان کا تعلق نفس واقعہ سے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا ۔ آیات میں تو فتح مکہ کا مراوہ سنایا جارہا ہے ۔ اور درمیان میں…
Read the full tafseer →(3) اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائے جو باعزت فتح کو شامل ہو اور آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو اور جو غلبہ قوی ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تجھ کو اس تحمل سے درجے بڑھے اور یہ بات اللہ نے کسی بندے کو نہیں فرمائی کہ اگلے پچھلے گناہ بخشے اگرچہ بہت بندے بخشے اس میں نڈر کردینا ہے۔
آپ کے گناہوں سے مراد وہی شان برتر کے نامناسب کام جو صورۃ خطا سمجھی جائے خواہ معنی وہ خطا نہ ہو اور کوئی ایسی خطا ہو جو صورۃ خطا ہو اور حقیقت میں خطانہ ہو وہ خطا معصومیت کے منافی نہیں۔ ایسی ہی خطائوں کو فرمایا کہ اگلی پچھلی سب بخش دیں صلح حدیبیہ کے ساتھ ان آیتوں کا تعلق ہے۔
بعض علمائے فتح مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 2۔ یعنی جس کے بعد پھر آپ کو کبھی دبنا ہی نہ پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
اس صورت حال کو ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ سے تعبیر کیا جاتا ہے
7 ؎ اس سفر پر جانے والوں نے ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اس طرح روکنے والوں کے حصہ میں سوائے بددلی کے کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ اپنی زبان کی حرکتوں کو روک نہ سکے اور اپنے شکوک و شبہات کا بدستور اظہار کرتے رہے اور پھر بحمد اللہ سارے مسلمان جب بخیر و خیریت واپس عمرہ کے ثواب و اجر کے ساتھ لوٹ آئے تو اس وقت بھی ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کے چہرے ان کی ساری حالت کو واضح کر رہے تھے یہ تو ان کی دنیا کی حالت تھی اور جس طرح انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کیا اس کا حال ان کو آخرت…
Read the full tafseer →وَيَنصُرَكَ اللَّـهُ نَصْرًا عَزِيزًا (and so that Allah may support you with a mighty support - 48:3.) This is the third bounty which follows naturally from the preceding circumstance of the manifest victory. The Holy Prophet has always had help from Allah, but on this occasion he received a very large share.
Read the full tafseer →5 Another translation can be: "Bestow on you an unprecedented victory," for the word aziz in the original may mean mighty as well as unprecedented and unparalleled. According to the first meaning, the sentence means: "By means of this treaty AIIah has helped you in a way as to make your enemies helpless"; and according to the second, it means: "Seldom has this novel method ever been adopted to help somebody, that a thing which apparently is a mere peace treaty, and that too a treaty concluded from a weak position, would turn into a decisive victory."
Read the full tafseer →