Al-Fath 48:2

Al-Fath · from ayah 2

48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَیَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ۟ۙلِّيَـغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That Allah may forgive for you what preceded of your sin and what will follow and complete His favor upon you and guide you to a straight path

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fath

All translations of 48:2

تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی تمام کوتاہیوں کو معاف کردے، اور تاکہ اپنی نعمت تم پر مکمل کردے، اور تمہیں سیدھے راستے پر لے چلے،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے اُن تمام اَفراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے٭ (جنہوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں) اور (یوں اسلام کی فتح اور امت کی بخشش کی صورت میں) آپ پر اپنی نعمت (ظاہراً و باطناً) پوری فرما دے اور آپ (کے واسطے سے آپ کی امت) کو سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھے، ٭ یہاں حذفِ مضاف واقع ہوا ہے۔ مراد ”ما تقدم من ذنب أمتک و ما تاخر“ ہے، کیونکہ آگے اُمت ہی کے لئے نزولِ سکینہ، دخولِ جنت اور بخششِ سیئات کی بشارت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مضمون آیت نمبر ۱ سے ۵ تک ملا کر پڑھیں تو معنی خود بخود واضح ہو جائے گا؛ اور مزید تفصیل تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ جیسا کہ سورۃ المؤمن کی آیت نمبر ۵۵ کے تحت مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ ”لِذَنبِکَ“ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے۔ لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاستَغفِر لِذَنبِکَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں:-۱: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) أی لذنب أمتک یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، ۴: ۳۵۹)۔۲: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: لذنب أمتک حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”واستغفر لذنبک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۵: ۳۲۴)۔ ۳: وَ قیل لذنبک لذنب أمتک فی حقک ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لذنبک یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، ۷: ۴۷۱)۔ ۴: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ”کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ (علامہ شوکانی، فتح القدیر، ۴: ۴۹۷)۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ اللہ تمہارے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخشے، تم پر اپنی نعمت تمام کرے، تمہارے لئے ایک بالکل سیدھی راہ کھول دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ اللہ معاف فرما دے آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں اور تاکہ وہ تکمیل فرما دے آپ پر اپنے انعام کی اور ڈال دے آپ کو سیدھی راہ پر

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ اللہ آپ کی (سب) اگلی پچھلی خطائیں معاف کردے اور آپ پر احسانات کی (اور زیادہ) تکمیل کردے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ اللہ بخش دے آپ کی کوئی کوتاہیاں جو پیچھے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں اور تاکہ اللہ اپنی نعمت کا اتمام فرما دے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی راہنمائی کرے سیدھے راستے کی طرف۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تا کہ اللہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو سیدھے راستہ پر چلائے

— محترمہ رفعت اعجاز

so that Allah may forgive you your shortcomings, whether earlier or later, and may complete His favours upon you and guide you to the Straight Way,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that Allah may forgive you of your previous and subsequent faults, and may complete His favour upon you, and may guide you to a straight path,

— Muhammad Taqi Usmani

so that Allah may forgive you of your previous and subsequent faults, and may complete His favour upon you, and may guide you to a straight path,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That Allah may forgive you your sins of the past and the future, and complete His favor on you, and guide you on the straight path,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That Allah may forgive thee of thy sin that which is past and that which is to come, and may perfect His favour unto thee, and may guide thee on a right path,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That Allah may forgive for you what preceded of your sin and what will follow and complete His favor upon you and guide you to a straight path

— Saheeh International

so that God will redeem the sins (which the pagans think you have committed against them) in the past or (you will commit) in the future. He will complete His favors to you, guide you to the right path,

— Muhammad Sarwar

That Allah may forgive your community their past faults and those to follow and complete His favor to you and keep you on a right way,

— Muhammad Habib Shakir

That Allah may forgive thee that which hath preceded of thy fault and that which may come later, and may accomplish the more His favour on thee, and may keep thee guided on the straight path.

— Abdul Majid Daryabadi

That Allah may forgive thee thy faults of the past and those to follow; fulfil His favour to thee; and guide thee on the Straight Way;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 48:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

ذی قعدہ سنہ006ہجری میں رسول اللہ ﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور حضور ﷺ نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کرلی جسے صحابہ کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی جس میں خاص قابل ذکر ہستی حضرت عمر فاروق کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آرہا ہے، انشاء اللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَتْح 2 جس موقع و محل پر یہ فقرہ ارشاد ہوا ہے اس نگاہ میں رکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں جن کوتاہیوں سے در گزر کرنے کا ذکر ہے ان سے مراد وہ خامیاں ہیں جو اسلام کی کامیابی و سر بلندی کے لیے کام کرتے ہوئے اس سعی و جہد میں رہ گئی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں پچھلے 19 سال سے مسلمان کر رہے تھے۔ یہ خامیاں کسی انسان کے علم میں نہیں ہیں، بلکہ انسانی عقل تو اس جدوجہد میں کوئی نقص تلاش کرنے سے قطعی عاجز ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کمال کا جو بلند ترین معیار ہے اس کے لحاظ سے اس میں کچھ ایسی خامیاں تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو اتنی جلدی مشرکین عرب پر فیصلہ کن فتح حاصل نہ ہو سکتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ، اس لیغفر کا لام اگر تعلیل یعنی بیان علت کے لئے لیا جائے تو حاصل اس کا یہ ہے کہ یہ فتح مبین آپ کو اس لئے دی گئی ہے تاکہ آپ کو یہ تین کمالات حاصل ہوجائیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، ان میں پہلی چیز تمام اگلی پچھلی لغزشوں اور خطاؤں کی معافی ہے۔ سورة محمد میں پہلے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ان کی طرف قرآن میں جہاں کہیں ذنب یا عصیان وغیرہ کے الفاظ منسوب کئے گئے وہ ان کے مقام عالی کی مناسبت سے ایسے کاموں کے لئے استعمال کئے گئے جو خلاف اولیٰ تھے مگر نبوت کے مقام بلند کے اعتبار سے غیر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک ومات خرویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراط مستقیماً وینصرک اللہ نصراً عزیزا (3-2) اس فتح مبین کے چند نتائج ’ ل ‘ یہاں غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے یہ فتح مبین جو عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو منتہی ہوگی مندرجہ ذیل باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں سرفراز فرمانے والا ہے۔ ایک یہ کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جائو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر کے اپنی رحمت سے نوازے گا۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت تمام کرنے والا ہے۔ تیسری یہ کہ ہدایت کی صحیح راہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول دے گا۔ چوتھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–3

2۔ 1 اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ ﷺ نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورة عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کو تاہیاں شمار کرلیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ ﷺ کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–3

2: جیسا کہ پیچھے سورة محمد کی آیت نمبر 19 کی تشریح میں عرض کیا گیا، آنحضرت ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، اور آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا تھا، لیکن کوئی معمولی قسم کی بھول چوک ہوجاتی تو آپ اس کو بھی اپنا قصور سمجھتے تھے، یہاں اسی قسم کے قصور مراد ہیں۔ 3: یعنی اب تک دین کی تبلیغ اور اس پر مکمل طور سے عمل کرنے میں کافروں کی طرف سے بڑی بڑی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں۔ اب اس فتح کے بعد سیدھا راستہ صاف ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 " حدیبیہ " کی صلح بظاہر ذلت و مغلوبیت کی صلح نظر آتی ہے اور شرائط صلح پڑھ کر بادی النظر میں یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ تمام جھگڑوں کا فیصلہ کفار قریش کے حق میں ہوا۔ چناچہ حضرت عمر ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ بھی صلح کی ظاہری سطح دیکھ کر سخت محزون و مضطرب تھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اسلام کے چودہ پندرہ سو سرفروش سپاہیوں کے سامنے قریش اور ان کے طرفداروں کی جمعیت کیا چیز ہے۔ کیوں تمام نزاعات کا فیصلہ تلوار سے نہیں کردیا جاتا۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں ان احوال و نتائج کو دیکھ رہی تھیں جو دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل تھے اور اللہ نے آپ ﷺ کا سینہ سخت سے سخت ناخوشگوار واقعات پر تحمل کرنے کے لیے کھول دیا تھا۔ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ } ”تاکہ اللہ بخش دے آپ کی کوئی کوتاہیاں جو پیچھے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں“ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے لفظ ”ذنب“ کی وضاحت کے لیے سورة محمد ﷺ کی آیت 19 کی تشریح ملاحظہ ہو۔ یہاں بھی ذَنْبِکَ آپ کی کوتاہیوں سے مراد وہ خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جو غلبہ اسلام کی اس جدوجہد میں رہ گئی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمان کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان ساری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے درگزر کر کے محض اپنے فضل سے ان کی تلافی کردی ہے اور آپ ﷺ کے لیے فتح و نصرت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ { وَیُتِمَّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 ذَنْبٌ ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کا انجام برا ہو (مفردات القرآن) اور بمعنی ہر وہ کام جس کے نتیجہ میں مذمت ہو (فقہ اللغۃ اور اس لفظ کا اطلاق اس قدر عام ہے کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے لے کر بڑے بڑے گناہوں پر بھی ہوسکتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ قتل ناحق ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔ سیدنا موسیٰ اللہ تعالیٰ سے فرماتے ہیں : ( وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ 14۝ۚ ) 26 ۔ الشعراء :14) اور میرے اوپر ان کا ایک گناہ (خون ناحق) ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ ڈالیں۔ اور رسول اللہ نے فرمایا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (جس سے آپ ﷺ کو آیندہ پھر نہ دبنا پڑے) (آیت) ” فتحامبینا “۔ مراد صلح حدیبیہ ہے۔ جس کے بعد اہل عرب کثرت سے اور جوق جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ نزلت ھذہ السورۃ الکریمۃ لما رجع رسول اللہ ﷺ من الحدیبیۃ (ابن کثیر) والاکثرون علی انہ صلح الحدیبیۃ (معالم) 6 ہجر ؁ ی کا ماہ رجب (مطابق مارچ 628 ء۔ ) تھا۔ اور حکومت مکہ پر ابھی بدستور مشرکین قریش کا قبضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا۔ اور آپ تقریبا چودہ سواحرام پوش صحابیوں کی جماعت کے ساتھ طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ شہر مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ ادھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک ہم نے آپ کو (اے نبی) ایک کھی فتح عطاء کی (یعنی) آپ کے جہاد کے ذریعہ ہم نے بزور شمشیر مستقبل میں مکہ وغیرہ کی فتح کا فیصلہ کردیا، تاکہ آپ کے جہاد کے صلہ میں آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف ریں، تاکہ تیری امت کو جہاد میں رغبت ہو اور مذکورہ آیت مئو ول ہے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں سے دلیل عقلی قطعی سے معصوم ہونے کی وجہ سے اور لام علت غائیہ کے لئے ہے لہذا اس کا مدخول مسبب ہے نہ کہ سبب اور (تاکہ) فتح مذکور کے ذریعہ اپنی نعمتوں کی آپ پر تکمیل کرے اور اس کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھائے (یعنی) آپ کو اس پر ثابت قدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی فروگذاشتیں معاف فرما دے۔ لِّیَغْفِرَ یہ فتح کی علت غائی (یعنی نتیجہ اور مقصد) ہے ‘ کافروں سے جہاد ‘ شرک کو مٹانے اور دین کو سربلند کرنے کی کوشش ‘ ناقص نفوس کو شروع میں زور اور قوت کے ساتھ کامل بنانا (یعنی کافروں پر بزور مسلمانوں کو غالب آنا) تاکہ آئندہ آہستہ آہستہ اختیار کر کے درجۂ کمال تک پہنچ سکیں اور کمزور مسلمانوں کو ظالموں کے ہاتھوں سے رہا کرانا ‘ ان تمام امور کا نتیجہ اور غایت مغفرت ہی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک لیغفر کا لام (غایت کیلئے نہیں بلکہ) لامِ کَےْ ہے (جس کا ترجمہ ہے تاکہ) مطلب یہ ہوگا کہ آپ کیلئے مغفرت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی یعنی وحی سے پہلے کی اور وحی کے بعد سے رحلت تک کی صورتی خطائیں معاف فرمائے اور تاکہ نبوت و اسلام اور مغفرت کے ذریعے سے آپ پر اپنے احسانات کی اور تکمیل فرما دے اور آپ کو سیدھے رستہ یعنی دین اسلام پر قائم رکھے اور آپ کے دشمنوں پر آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو۔ شان نزول : لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ (الخ) امام حاکم وغیرہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے روایت کیا ہے کہ سورة فتح اول سے آخر تک حدیبیہ کے واقعہ کے بارے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان نازل ہوئی ہے۔ اور امام بخاری و مسلم اور ترمذی و حاکم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر :”لیغفر“ کا لام ”لام عاقبت“ ہے، یعنی ہم نے آپ کو یہ فتح مبین عطا فرمائی تاکہ آپ کو اس کے نتیجے میں چار عظیم نعمتیں حاصل ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کا حق ادا کیا، میرا پیغام پہنچایا، جان مار کر محنت کی، اپنی زبان اور تلوار کے ساتھ جہاد کیا، مسلمانوں کی ایک مخلص ترین جماعت تیار کی، سختی کے موقع پر سختی اور نرمی کے موقع پر نرمی کی اور مختصر سے عرصے میں وہ کامیابی حاصل کی جو طویل مدتوں میں کوئی حاصل نہ کرسکا، حتیٰ کہ وہ کام پورا کر دکھایا جو ہم نے آپ کے ذمے لگایا تھا۔ اب آپ اپنی محنت کا پھل اٹھائیں گے، جس سے دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

ابن انباری نے کہا : فتحا مبینا پر کلام مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ فتح سے متعلق ہے گویا فرمایا : ہم نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے فتح کے ساتھ مغفرت کو جمع کردے اور اللہ تعالیٰ آپ کے لئے وہ چیز جمع کر دے جس سے دنیا و آخرت میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ ابو حاتم سبحساتی نے کہا : یہ لام قسم ہے : یہ غلط ہے کیونکہ لام مسکور نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ساتھ نصب دی جاتی ہے اگر یہ جائز ہے تو یہ بھی جائز ہوتا ہے اس کی تاویل لیقومن زید ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ سوال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کو مغفرت کی علت کیسے بنایا ہے ؟ میں کہوں گا : اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک “ 16:۔ ابن المنذر نے عامر وابو جعفر رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم “ سے مراد ہے تاکہ اللہ تعالیٰ وہ الزام دور فرما دیں جو آپ پر زمانہ جاہلیت میں لگائے گئے (آیت ) ” وما تاخر “ اور جو زمانہ اسلام میں لگائے گئے۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک “ کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ جو کچھ زمانہ جاہلیت میں آپ سے کوئی غلطی لغزش ہوئی (آیت ) ” وما تاخر “ اور جو زمانہ اسلام میں ہوئی اور اس کے بعد آپ نے اس کو نہیں کیا۔ جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ [ تاکہ معاف کرے آپ کے لیے اللہ ] مَا تَقَدَّمَ [ اس کو جو آگے ہوئی ] مِنْ ذَنْۢبِكَ [ آپ کی کمی بیشی میں سے ] وَمَا تَاَخَّرَ [اور اس کو جو پیچھے رہی ] وَيُتِمَّ [ اور تاکہ وہ تمام کرے ] نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ [ اپنی نعمت کو آپ پر ] وَيَهْدِيَكَ [ اور تاکہ وہ رہنمائی کرے آپ کی ] صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

پیغام تہنیت برائے سید المرسلین ﷺ بفتح مبین واعلان اتمام نعمت رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا فتحنالک فتحا مبینا ..... الی ...... نصرا عزیزا “۔ (ربط) جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا کہ سورة محمد ﷺ یا سورة قتال کا موضوع اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ تھا اور یہ کہ اہل ایمان کو منافقین کی سازشوں سے نہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے مادی وسائل کی قلت سے ڈرنا چاہئے، اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے، قوی کو ضعیف اور ضعیف کو قوی کرسکتا ہے غالب کو مغلوب ومفتوح اور مظلوم وبے سہارا قوم کو فتح ونصرت سے ہم کنار کرسکتا ہے تو اس سورة پاک میں مسلمانوں کو فتح مبین کی بشارت سنائی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” لیغفر لک “۔ ذنب (گناہ) سے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں، کیونکہ گناہ کا صدور انبیاء (علیہم السلام) سے محال ہے۔ اس لیے ذنب سے یہاں ترک اولی مراد ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مقام عالی کے اعتبار سے وہ ذنب ہے اگرچہ حقیقت میں ذنب نہیں۔ از قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین یا وہ امور مراد ہیں جنہیں آنحضرت ﷺ اپنی نظروں میں ذنب (گناہ) سمجھتے تھے اگرچہ وہ حقیقت میں گناہ نہ تھے بلکہ خلاف اولی بھی نہ تھے۔ والمراد بالذنب ما فرط من خلاف الاولی بالنسبۃ الی مقامہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فھو من قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین وقد یقال المراد ما ھو ذنب فی نظرہ العالی ﷺ وان لم یکن ذنبا ولا خلاف الاولی عندہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفتح ہے جو کہ اس کی پہلی اور اٹھارہویں آیت میں آمدہ لفظ فتح سے مآخوذ ہے۔ یہ سورة مدینہ منورہ میں نازل ہوئی بلکہ 6؁ھ میں حدیبیہ سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئی ، چونکہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے مدنی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة 560 الفاظ اور 2400 حروف پر مشتمل ہے۔ تاریخی پس منظر ہجرت کا چھٹا سال جا رہا تھا۔ 5؁ھ میں غزوہ احزاب پیش آ چکا تھا۔ اس سے پہلے بدر اور احد کی جنگیں ہوچکی تھیں ۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں واقع ہوچکی تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی تھی فریقین کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَيَہْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا۝ 2 ۙ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–3

ا ؎ ماتقدم الخ اس وقت سے پہلے اور اس سے پچھلے گناہ یا نبوت کے قبل ومابعد کے گناہ مراد ہیں جیسا کہ ابن جریر اور سفیان ثوری و مجاہد کہتے ہیں۔ عطا کہتے ہیں ماتقدم سے مراد آدم و حوا کے گناہ اور ماتاخر سے امت کے گناہ مراد ہیں۔ اس تقدیر پر حضرت ﷺ کی طرف حقیقۃً گناہ منسوب نہیں۔ پچھلے گناہ اب تک ظہور ہی میں نہیں آئے ان کے بخشنے کے یا تو یہ معنی ہیں کہ وعدہ ہے اگر صادر ہوں گے تو معاف کردیے جائیں گے یا گناہوں کی نوبت ہی نہ آوے گی توفیقِ الٰہی رفیق رہے گی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

لِّیَغْفِرَلَـکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَـہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مَّسْتَقِیْمًا۔ وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا۔ (الفتح : 2، 3) (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کرے، اور آپ کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے۔ اور آپ کو زبردست نصرت سے نوازے۔ ) اس فتحِ مبین کے چند نتائج ایک مؤرخ یا سیرت نگار جب چھٹی ہجری میں آنحضرت ﷺ کے معمولات کو دیکھتا ہے تو اسے صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے جس میں نشیب و فراز کی موجیں کبھی اٹھتی ہیں اور کبھی سکون سے بہنے لگتی ہیں کہ اچانک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : سورت محمد ﷺ کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہاری جگہ دوسری قوم لاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لانے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلی قوم کا سیاسی اقتدار اور سماجی اثر و رسوخ ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو موقع دیا جائے جس کی واضح مثال فتح مکہ میں پائی جاتی ہے۔ نبی معظم ﷺ نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کررہا ہوں جس میں سال اور وقت کا تعین واضح نہیں تھا۔ بیت اللہ کی زیارت کا شوق اور حالات کے تقاضے کے پیش نظر آپ ﷺ نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ تیاری کرو کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہاد سبب ِمغفرت : آیت 2 : لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ فتح سبب مغفرت نہیں ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ انا فتحنالک فتحا مبینا فاستغفر لیغفرلک اللّٰہ۔ اور اس کی مثل یہ آیت ہے اذا جاء نصراللّٰہ والفتح الی قولہ واستغفرہ۔ ] النصر۔ 1 تا 3[ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو۔ اس حیثیت سے کہ یہ دشمن کے خلاف جہاد ہے تو یہ سبب مغفرت ہے۔ اتمام نعمت (ایک قول ): فتح سبب مغفرت نہیں بلکہ اتمام نعمت اور زبردست نصرت کی تکمیل کے لئے تھی۔ لیکن جب ان نعمتوں کو شمار کیا تو ان نعمتوں کے ساتھ ملایا جو کہ ان سے بھی عظیم ترین نعمتیں تھیں۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہم نے فتح مکہ کو آپ کے لئے آسان کردیا۔ یا اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

انا فتحنالک فتحا کی تفسیر 1 ۔” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ اس فتح کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ ہے اور مجاہدہ (رح) فرماتے ہیں فتح خیبر ہے اور اکثر حضرات اس بات پر ہیں کہ صلح حدیبیہ ہے اور فتح کا معنی بند اور پیچیدہ چیز کھ کھلنا اور مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کی صلح مشکل تھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔ قتادہ (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ صلح حدیبیہ ہے۔ حضرت براء ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے حالانکہ فتح مکہ تو فتح ہے ہی، ہم تو حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے تھے، ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ چودہ سو تھے اور حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

تفسیر سورة الفتح اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو روکا جبکہ آپ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا، اس شرط پر کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہو کر حلیف بننا چاہیے ایسا کرسکتا ہے اور جو کوئی رسول اللہ ﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہیے وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہوگا، سرزمین کے طول و عرض مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–15

فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔ اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 2] " ما تقدم من ذنبک وما تاخر " سے مقصود و مراد ؟: یعنی خلاف اولیٰ قسم کے وہ امور جو اگرچہ فی نفسہا گناہ نہیں مگر آپ ﷺ کے مقام رفیع اور مرتبہئِ بلند کے پیش نظر ان کو بھی ذنب [ گناہ ] سے تعبیر فرمایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے " حسنات الابرار سیآت المقربین "۔ سو اس طرح کی آیات کریمہ کی تفسیر میں تمام ثقہ اور معتبر مفسرین کرام اور جمہور علمائے عظام یہی فرماتے ہیں " ای ما فرط منک من ترک الاولیٰ وتسمیتہٗ ذنبا بالنظر الیٰ منصبہ الجلیل " [ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی، جامع البیان، المراغی، محاسن التاویل، ابو السعود، ابن کثیر، خازن اور صفوۃ التفاسیر، وغیرہ وغیرہ ] اور جیسا کہ علامہ ابن کثیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تشریح : یہ آیات بھی اللہ کی شان نبی ﷺ کی استقامت اور مسلمانوں کی فرمانبرداری اتحاد یقین اور تنظیم کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے دب کر رہتے ہوئے معاہدہ کرنے کی صورت پیش کرتی ہے مگر درحقیقت حالات اس صورت سے پیش آئے کہ وہی دبنا اور کفار کے کہنے کے مطابق مان لینا، مسلمانوں کے لیے آئندہ کامیابی و کامرانی کا بہت بڑا ذریعہ بنے مثلاً ۔ 1 ۔ اہل مکہ نے مسلمانوں کی آزاد خود مختار قوم ہونے کا اقرار کیا۔ 2 ۔ کفار نے جب مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا تو ڈر گئے اور خود جنگ نہ کرنے اور صلح کرنے پر راضی ہوگئے۔ 3 ۔ مکہ مدینہ کے بند…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی مختصرواقعہ حدیبیہ۔ یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 5 اس فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ امام زہری کہتے ہیں، صلح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں ہوئی۔ شعبی کہتے ہیں کہ آنحضرت کو اس صلح سے جو کچھ ملا وہ کسی غزوہ میں نہیں ملا۔ حضرت برائن عازب کہتے ہیں :” تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو لیکن ہم اصل فتح بیعت رضوان کو سمجھتے ہیں جو حدیبیہ میں ہوئی۔ “ (شو کانی بحوالہ صحیحین) 6 اس فتح میں آنحضرت سے ایسے کام ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑی قدر رکھتے تھے، اس لئے اس فتح میں آنحضرت کو مغفور ہونے کی خشوخبری سنائی گئی اور ہمیشہ کے لئے بالفرض اگر آپ سے کوئی لغزش سر زد ہو تو اسے معاف فرما دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت اللہ تعالیٰ کی اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(48:2) لیغفرلک اللّٰہ۔ تاکہ اللہ آپ کو معاف کردے۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی شرح میں لکھتے ہیں :۔ لیغفر۔ یہ فتح کی علت غائی (یعنی نتیجہ اور مقصد) ہے۔ کافروں سے جہاد شرک کا مٹانے اور دین کو بلند کرنے کی کوشش، ناقص نفوس کو شروع میں زور اور قوت کے ساتھ کامل بنانا۔ (یعنی کافروں پر بزور مسلمانوں کا غالب آنا) ۔ تاکہ آئندہ آہستہ آہستہ اختیار کے ساتھ درجہ کمال تک پہنچ سکیں اور کمزور مسلمانوں کو ظالموں کے ہاتھوں سے رہا کرانا۔ ان تمام امور کا نتیجہ اور غایت مغفرت ہی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک لیغفر کالام (غایت کے لئے نہیں ہے بلکہ) لام کی ہے جس کا ترجمہ ہے تاکہ۔ مطلب یہ ہوگا کہ آپ کے لئے مغفرت کے ساتھ تکمیل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 : فتحنا (ہم نے فتح دی۔ ہم نے کھول دیا) ‘ فتحامبینا (کھلی فتح) یغفر ( وہ معاف کردیتا ہے) تقدم ( آگے بھیجا) ذنب (گناہ ۔ خطا) تاخر (پیچھے ہوا) ‘ یتم (وہ پورا کرتا ہے) ینصر ( وہ مدد کرتا ہے) ‘ نصرا عزیزا ( زبردست مدد ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 : نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے بیت اللہ کی کنجی لی اور صحابہ کرام ؓ سمیت آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا یعنی عمرہ ادا کیا۔ پھر کچھ انہوں نے اپنے سرمنڈوائے اور کچھ نے تھوڑے سے با کٹوائے۔ صحابہ کرام ؓ جانتے تھے کہ انبیاکرام (علیہ السلام) کے خواب وحی کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حدیبیہ کی لڑائی۔ (ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–3

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة محمد ﷺ حاشیہ 11 صفحہ 1229۔ [3] یہاں سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب فتح و کامرانی کا راستہ دکھانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

غفران ذنب کے ضمن میں اہل تفسیر نے حسب تاویلات کا ذکر کیا ہے :۔ (1) ذنبک سے مراد مسلمانوں کے گناہ اور حضور ﷺ چونکہ مخاطب اول ہیں ۔ اس لئے ان کی وساطت سے گناہوں کی بخشش عام کا کردہ سنایا ہے ۔ (2) مخاطب تو حضور ﷺ ہیں مگر ذنب کے معنے ترک اولیٰ کے ہیں ۔ معصیت اور نافرمانی کے نہیں ہیں ۔ (3) اس سے صغائر مراد ہیں ۔ جن کا صدور انبیاء سے ہوسکتا ہے ۔ (4) اس سے مقصود عصمت کا ثبوت ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ گناہوں کو آپ نظروں سے اوجھل کردیں ۔ مگر ان سب تاریکوں میں ایک نقص یہ ہے کہ ان کا تعلق نفس واقعہ سے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا ۔ آیات میں تو فتح مکہ کا مراوہ سنایا جارہا ہے ۔ اور درمیان میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) تاکہ اس فتح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی اور پچھلی تمام خطائیں تمام خطائیں معاف فرمادے اور تاکہ آپ پر اپنی نعمتیں پوری کردے اور تاکہ آپ کو سیدھی راہ پر لے چلے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اور پہلے سے بھی صراط مستقیم پر چلنا یقینی ہے لیکن اس میں کفار مزاحم و مصادم ہوتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! اس فتح مبین نے آپ ﷺ کے پہلے اور پچھلے الزامات حرف غلط کی طرح مٹا دیئے 2 ؎ { ذنب } کیا ہے ؟ اس کے متعلق گزشتہ سورة محمد کی آیت 19 میں ہم پوری وضاحت کرچکے ہیں اس لیے وہیں سے دیکھ لیں۔ اس جگہ قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو فتح مبین کی بشارت دینے کے معاً بعد یہ ارشاد فرمایا کہ { لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک و ماتاخر } جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مبین کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے ذہنوں اور دماغوں میں یہ صلح دب کر اور جھک کر کی گئی ہے جب اس کے نتائج ظاہر ہوں گے تو ان سب کو خود بخود تسلیم کرنا پڑے گا کہ فی الواقع صلح حدیبیہ ایک عظیم فتح تھی جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Analysis of Verses لِّيَغْفِرَ‌ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ‌ (so that Allah may forgive you of your previous and subsequent faults...." - 48:2). If the particle "lam" (translated above as 'so that' ) is taken to be for "ta'lil", it indicates the purpose for which, and the reason why, such a manifest Victory is given to the Holy Prophet ﷺ . It is mentioned in this verse that the victory was given to him to bless him with three different bounties. The first bounty is forgiveness of all his past and future shortcomings. Attention was drawn in Surah Muhammad that all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 If the context in which this sentence occurs is kept in view, one will certainly feel that the faults referred to here imply those shortcomings and weaknesses that had remained in the struggle that the Muslims had been making for the success and victory of Islam, under the leadership of the Holy Prophet, for the past nineteen years or so. These shortcomings are not known to any one because the intellect is absolutely helpless to find out any weakness in that struggle. But according to the highest standards of perfection in the sight of Allah there had remained some such weakness in it…

Read the full tafseer →