Explained with ayahs 1–3
ذی قعدہ سنہ006ہجری میں رسول اللہ ﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور حضور ﷺ نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کرلی جسے صحابہ کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی جس میں خاص قابل ذکر ہستی حضرت عمر فاروق کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آرہا ہے، انشاء اللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْفَتْح 1
صلح حدیبیہ کے بعد جب فتح کا یہ مژدہ سنایا گیا تو لوگ حیران تھے کہ آخر اس صلح کو فتح کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ایمان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو مان لینے کی بات تو دوسری تھی۔ مگر اس کے فتح ہونے کا پہلو کسی کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت سن کر پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ فتح ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں (ابن جریر)۔ ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی سوال کیا۔ آپ نے فرمایا ای والذی نفس محمد بیدہ انہ لفتح۔ " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے " (مسند احمد۔ ابوداؤد)۔ مدینہ پہنچ کر ایک اور صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا " یہ کیسی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے (اس صلح حدیبیہ سے) آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی (یعنی صلح حدیبیہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ سبب ہوگئی ایک فتح مطلوب یعنی فتح مکہ کا، اس لحاظ سے یہ صلح ہی فتح ہوگئی، اور فتح مکہ فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ فتح سے مقصود شریعت اسلام میں کوئی حکمرانی نہیں بلکہ دین اسلام کا غلبہ مقصود ہوتا ہے، اور فتح مکہ سے یہ مقصود بڑی حد تک حاصل ہوگیا، کیونکہ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہم بھی اطاعت کرلیں گے، جب مکہ فتح ہوا تو چاروں طرف سے عرب کے قبائل امنڈ پڑے اور خود یا بواسطہ اپنے وفود کے اسلام لانا شروع کیا (رواہ البخاری عن عمر بن سلمہ) چونکہ غلبہ…
Read the full tafseer →1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
انا فتحنا لک فتحاً مبینا 1
معاہدہ مدعیہ کے فتح مبین ہونے کے چند پہلو
فتح مبین سے یہاں مراد معاہدہ حدیبیہ ہے، اس کے سوا کسی اور فتح کو مراد لنیے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس کو فتح مبین قرار دینے کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ مثلاً
ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت 24 سے واضح ہوگا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح انداز ہکر لیا تھا اس وجہ سے وہ معاہدہ کے دل سے خواہشمند تھے۔ البتہ اپنی ناک…
Read the full tafseer →1۔ 1 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ اور 14 سو کے قریب صحاب اکرام رضوان علیہم اجمعین عمرے کی نیت سے مکہ تشریف لے گئے، لیکن مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر کافروں نے آپ ﷺ کو روک لیا عمرہ نہیں کرنے دیا، آپ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تاکہ قریش کے سرداروں سے گفتگو کر کے انہیں مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ کریں کفار مکہ نے اجازت نہیں دی اور مسلمانوں نے آئندہ سال کے وعدے پر واپسی کا ارادہ کرلیا وہیں اپنے سر بھی منڈوا لئے اور قربانیاں کرلیں۔ نیز کفار سے بھی چند باتوں کا معاہدہ ہوا جنہیں صحابہ کرام کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے…
Read the full tafseer →1: صحیح روایات کے مطابق یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی جس کا واقعہ سورت کے تعارف میں گذر چکا ہے۔ اگرچہ بظاہر صلح کی شرائط ایسی نظر نہیں آرہی تھیں۔ جنہیں ”کھلی ہوئی فتح“ کہا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جن حالات میں یہ صلح ہوئی ہے، ان میں یہ ایک بڑی اور کھلی ہوئی فتح کا پیش خیمہ ہے، اور آخر کار اسی کے نتیجے میں مکہ مکرمہ فتح ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی…
Read the full tafseer →9 اس سورت کی مختلف آیات میں متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ بغرض سہولت فہم ان کو مختصراً یہاں لکھ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (الف) آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ ہم مکہ میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوئے اور عمرہ کر کے حلق و قصر کیا۔ آپ ﷺ نے یہ خواب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان فرمایا۔ گو آپ ﷺ نے مدت کی تعیین نہیں فرمائی تھی، مگر شدت اشتیاق سے اکثروں کا خیال اس طرف گیا کہ امسال عمرہ میسر ہوگا اتفاقاً آپ ﷺ کا قصد بھی عمرہ کا ہوگیا۔ (ب) آپ ﷺ تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمیوں کو ہمراہ لے کر بغرض عمرہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور " ہدی " بھی آپ کے ساتھ تھی۔ یہ خبر مکہ پہنچی تو قریش نے بہت سا مجمع کر…
Read the full tafseer →آیت 1 { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“
Read the full tafseer →1 آپ کو بیت اللہ کے طواف کا خوب میں آنا :۔ جنگ احزاب کے بعد قریش کی مسلمانوں پر بالا دستی کا تصور ختم ہوچکا تھا تاہم ابھی تک بیت اللہ پر قریش کا ہی قبضہ تھا۔ مسلمان جب سے ہجرت کرکے مدینہ گئے تھے ان میں سے کسی نے حج، عمرہ یا طواف کعبہ نہیں کیا تھا جس کے لئے ان کے دل ترستے رہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ کو خواب آیا کہ آپ بہت سے مسلمانوں کی معیت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے۔
1400 صحابہ کے ساتھ مکہ کو روانگی :۔ لہذا آپ نے عمرہ کا اعلان فرما دیا۔ چونکہ اس سفر سے جنگی مقاصد یا غنائم کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لہذا آپ کی معیت صرف ان صحابہ کرام ؓ نے ہی اختیار کی جو محض رضائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (جس سے آپ ﷺ کو آیندہ پھر نہ دبنا پڑے) (آیت) ” فتحامبینا “۔ مراد صلح حدیبیہ ہے۔ جس کے بعد اہل عرب کثرت سے اور جوق جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ نزلت ھذہ السورۃ الکریمۃ لما رجع رسول اللہ ﷺ من الحدیبیۃ (ابن کثیر) والاکثرون علی انہ صلح الحدیبیۃ (معالم) 6 ہجر ی کا ماہ رجب (مطابق مارچ 628 ء۔ ) تھا۔ اور حکومت مکہ پر ابھی بدستور مشرکین قریش کا قبضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا۔ اور آپ تقریبا چودہ سواحرام پوش صحابیوں کی جماعت کے ساتھ طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ شہر مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ ادھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک ہم نے آپ کو (اے نبی) ایک کھی فتح عطاء کی (یعنی) آپ کے جہاد کے ذریعہ ہم نے بزور شمشیر مستقبل میں مکہ وغیرہ کی فتح کا فیصلہ کردیا، تاکہ آپ کے جہاد کے صلہ میں آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف ریں، تاکہ تیری امت کو جہاد میں رغبت ہو اور مذکورہ آیت مئو ول ہے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں سے دلیل عقلی قطعی سے معصوم ہونے کی وجہ سے اور لام علت غائیہ کے لئے ہے لہذا اس کا مدخول مسبب ہے نہ کہ سبب اور (تاکہ) فتح مذکور کے ذریعہ اپنی نعمتوں کی آپ پر تکمیل کرے اور اس کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھائے (یعنی) آپ کو اس پر ثابت قدم…
Read the full tafseer →انا فتحنالک فتحًا مبینًا بیشک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی۔
امام احمد ‘ بخاری ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن حبان اور ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تھے۔ میں نے ایک بات کے متعلق تین بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ‘ لیکن حضور ﷺ نے جواب نہیں دیا۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا : عمر ! تیری ماں تجھے توئے ‘ تو نے تین بار رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ‘ لیکن حضور ﷺ نے کسی بار جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : پھر میں نے اپنے اونٹ کو بڑھایا اور دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ گیا۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میرے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوگی (جس میں شاید مجھ پر عتاب…
Read the full tafseer →ہم نے آپ کو واضح فتح دی اور صلح حدیبیہ بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ ہم نے آپ کے لیے واضح فیصلہ کردیا یہ کہ ہم نے آپ کو اسلام اور نبوت کے ذریعہ سرفرازی عطا فرمائی اور مخلوق کو بھی اس طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔
Read the full tafseer →(انا فتحنالک فتحا مبیناً : لفظ ”فتحاً“ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقیناً یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چناچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس ؓ نے ”انا فتحنا لک فتحا مبیناً“ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ (بخاری، التفسیر، سورة الفتح :3833) اور برئا بن عازب ؓ نے فرمایا :”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ (بخاری، المغازی، باب غزوہ الحدیبۃ :3150) زید بن اسلم اپنے والد سے…
Read the full tafseer →اس فتح کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ بخاری شریف میں ہے محمد بن بشار، غندر سے، وہ شعبہ سے وہ قتادہ سے وہ حضرت انس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے (1) ۔ حضرت جابر ؓ نے کہا : ہم فتح سے مراد یوم حدیبیہ ہی شمار کیا کرتے تھے۔ فراء نے کہا : فتح سے مراد فتح مکہ لیا کرتے تھے (2) جبکہ فتح مکہ تو فتح ہے اور ہم فتح سے مراد بیعت رضوان لیتے جو حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہماری تعداد چودہ سو تھی اور حدیبیہ ایک کنواں ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ قتال کے بغیر فتح ہوئی صلح بھی فتح کی صورت ہے (3) مجاہد نے کہا : اس سے مراد حدیبیہ کے مقام پر جانور قربان کرنا اور اپنے سر کا حلق…
Read the full tafseer →1:۔ احمد والبخاری الترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے میں نے آپ سے ایک چیز کے بارے میں تین مرتبہ پوچھا آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا میں نے تین مرتبہ اصرار کیا مگر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ (یہ سوچ) کر میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور تمام لوگوں سے آگے نکل گیا اور میں ڈرا کہ میرے بارے میں کوئی قرآن نازل نہ ہوجائے میں نے دیر نہیں کی کہ ایک چیخنے والے نے مجھے چیخ کربلایا میں واپس آیا اور میں نے گمان کیا کہ میرے میں کوئی چیز نازل ہوگئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر آج رات ایک ایسی سورة نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک…
Read the full tafseer →اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ [ بیشک ہم نے فیصلہ کیا آپ کے لیے ] فَتْحًا مُّبِيْنًا [ ایک کھلا فیصلہ ]
نوٹ۔ ا : اس سورة میں متعدد واقعات کی طرف اشارے ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سورة کے نزول کے وقت کے سیاسی حالات ذہن میں واضح ہوں ۔ اس لیے پہلے ان حالات کو سمجھ لیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا فرمایا ہے۔ نبی کا خواب وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور آگے چل کر آیت ۔ 27 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے خود توثیق کردی ہے کہ یہ خواب ہم نے دیکھایا تھا ۔ اس لیے یہ ایک الہی اشارہ تھا جس کی پیروی کرنا ضروری تھا ۔ جبکہ بظاہر اسباب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فتح مبین کا تذکرہ، نصر عزیز اور غفران عظیم کا وعدہ
یہ سورة الفتح کی ابتدائی آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اس سورت میں فتح مبین کا اور صلح حدیبیہ کا اور فتح خیبر کا تذکرہ ہے اور آخر میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی توصیف اور تعریف ہے اس سورت کا ابتدائی حصہ سفر میں نازل ہوا۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ منورہ کے لیے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے دلوں میں اس بات کا رنج تھا کہ عمرہ نہ کرسکے اس وقت سورة الفتح نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ جب آپ نے ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
پیغام تہنیت برائے سید المرسلین ﷺ بفتح مبین واعلان اتمام نعمت رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا فتحنالک فتحا مبینا ..... الی ...... نصرا عزیزا “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا کہ سورة محمد ﷺ یا سورة قتال کا موضوع اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ تھا اور یہ کہ اہل ایمان کو منافقین کی سازشوں سے نہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے مادی وسائل کی قلت سے ڈرنا چاہئے، اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے، قوی کو ضعیف اور ضعیف کو قوی کرسکتا ہے غالب کو مغلوب ومفتوح اور مظلوم وبے سہارا قوم کو فتح ونصرت سے ہم کنار کرسکتا ہے تو اس سورة پاک میں مسلمانوں کو فتح مبین کی بشارت سنائی جارہی…
Read the full tafseer →2:۔ پہلا حصہ : ” انا فتحنا “ سنہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ہیں، کچھ لوگ سر منڈا رہے ہیں اور کچھ بال چھوٹے کرا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب صحابہ ؓ کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اس کے بعد ماہ ذیقعدہ میں آپ صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ زیارت بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوئے مقام حدیبیہ میں موجود صحابہ ؓ کی تعداد چودہ سو تھی۔ جب آپ یہاں پہنچے تو آپ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اپنا پیغام دے کر مکہ روانہ فرمایا تاکہ وہ آپ کا پیغام قریش کو پہنچائیں۔ پیغام یہ تھا کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفتح ہے جو کہ اس کی پہلی اور اٹھارہویں آیت میں آمدہ لفظ فتح سے مآخوذ ہے۔ یہ سورة مدینہ منورہ میں نازل ہوئی بلکہ 6ھ میں حدیبیہ سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئی ، چونکہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے مدنی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة 560 الفاظ اور 2400 حروف پر مشتمل ہے۔
تاریخی پس منظر
ہجرت کا چھٹا سال جا رہا تھا۔ 5ھ میں غزوہ احزاب پیش آ چکا تھا۔ اس سے پہلے بدر اور احد کی جنگیں ہوچکی تھیں ۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں واقع ہوچکی تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی تھی فریقین کو…
Read the full tafseer →اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا 1 ۙ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من…
Read the full tafseer →ترکیب : لیغفر اختلف الاقوال فی اللام۔ قال ابوالعباس المبردہی لام کے معناھا انا فتحنالک فتحًا مبینا لکی یجتمع لک مع المغفرۃ تمام النعمۃ فے الفتح۔
تفسیر : ابن جریر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہجرت کے چھٹے سال نبی ﷺ عمرہ کرنے مکہ چلے اور مشرکوں نے بمقام حدیبیہ آپ کو روک دیا اور اس بات پر فیصلہ ٹھیرا کہ اگلے سال آپ عمرہ کریں اور آنحضرت ﷺ نے وہیں اپنی قربانی ذبح کردی۔ اس سے صحابہ ؓ کی ایک جماعت کو رنج تھا جن میں عمر بن الخطاب ؓ بھی تھے پھر جب قربانی کر کے مدینہ کو واپس چلے تب یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی جس میں ان شکستہ دل مسلمانوں کو مژدہ ہے کہ یہ صلح تمہارے لیے فتح و ظفر ہے۔ چناچہ بخاری نے براء ؓ…
Read the full tafseer →اِنَّا فَتَحْنَالَـکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ (الفتح : 1)
(اے پیغمبر ! بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی۔ )
فتح مبین سے مراد معاہدہ حدیبیہ ہے اور اس معاہدے کی تفصیل
نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام صلح حدیبیہ کے بعد جب مدینہ منور واپس جارہے تھے تو سجنان یا کراع الغمیم کے مقام پر یہ سورة نازل ہوئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس میں جس فتح مبین کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ معاہدہ حدیبیہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمان جب معاہدہ ٔ حدیبیہ سے واپس لوٹے ہیں تو ان کے دل رنج و غم سے معمور تھے اور وہ اس معاہدے کو مسلمانوں کی شکست سمجھ رہے تھے۔ چناچہ جب اس سورة کی پہلی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : سورت محمد ﷺ کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہاری جگہ دوسری قوم لاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لانے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلی قوم کا سیاسی اقتدار اور سماجی اثر و رسوخ ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو موقع دیا جائے جس کی واضح مثال فتح مکہ میں پائی جاتی ہے۔
نبی معظم ﷺ نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کررہا ہوں جس میں سال اور وقت کا تعین واضح نہیں تھا۔ بیت اللہ کی زیارت کا شوق اور حالات کے تقاضے کے پیش نظر آپ ﷺ نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ تیاری کرو کہ…
Read the full tafseer →فتح مبین کی خوشخبری :
آیت 1 : اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا الفتح۔ کسی شہر پر زبردستی کامیابی نمبر 2۔ لڑائی کے ساتھ صلح۔ نمبر 3۔ صلح بغیر لڑائی کیونکہ وہ بند ہوتی ہے جب تک کامیابی نہ پائی جائے جب کامیابی پالی تو گویا اس نے اس کو کھول لیا۔
پھر ایک قول یہ ہے :
کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔
: یہ سورت اس وقت اتری جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے حدیبیہ والے سال مدینہ منورہ کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آپ سے فتح کا وعدہ کیا گیا اور اس میں لفظ ماضی کا لایا گیا کیونکہ وہ اپنے یقینی وقوع میں ہوچکی ہوئی بات کی طرح تھی۔ اس سے خبر دینے والے کی عظمت و شان ٹپک رہی ہے۔ کہ زمانہ کی لگام کے قبضہ قدرت میں ٹھیک اسی…
Read the full tafseer →خواص سورة فتح
1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص رمضان کی پہلی رات نفلوں میں یہ سورة پڑھے وہ اس سال ہر قسم کی آفت و مصیبت سے محفوظ رہے گا۔
2، ایک عارف کہتے ہیں جو آدمی رمضان کا چاند دیکھتے ہی تین بارسورئہ فتح پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو فراخ دست رکھیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہرچیز کا خلاصہ اور مغزہوتا ہے اور قرآن شریف کا مغزمفصل ہے۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے سات لمبی ایتیں تورات کی جگہ پر اور آیات مثانی انجیل کی اور زبور کی جگہ مرحمت فرمائی ہیں۔ اور مجھے مفصل سے اعزازوفضیلت بخشی ہے۔ جو شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر سورة الفتح
اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو روکا جبکہ آپ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا، اس شرط پر کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہو کر حلیف بننا چاہیے ایسا کرسکتا ہے اور جو کوئی رسول اللہ ﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہیے وہ ایسا کرسکتا ہے۔
اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہوگا، سرزمین کے طول و عرض مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فتح مبین سے کیا مراد ہے ؟
قول باری ہے (انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی) ایک روایت کے مطابق اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے آپ کے لئے ایک واضح فیصلہ کیا۔ زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے غلبے اور کافروں پر ان کی بالادستی کی صورت میں انہیں عطا کیا تھا۔
اور لفظ قضاء علی الاطلاق فتح کے مفہوم کو شامل نہیں ہوتا۔ اگر فتح مکہ مراد لینا درست ہوجائے تو یہ فتح بزور شمشیرہوئی تھی کیونکہ صلح کے طور پر حاصل ہونے والی فتح پر لفظ فتح کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگرچہ مشروط صورت میں کبھی صلح کے لفظ سے فتح کے مفہوم کی تعبیر ہوجاتی ہے۔
اگر…
Read the full tafseer →[ 1] فتح مبین اور اس سے مقصود و مراد ؟:
اگرچہ بعض حضرات نے اس کو فتح مکہ پر محمول فرمایا ہے۔ اور فتح کے نام سے مشہور بھی وہی ہے۔ اور فتح کا لفظ بولنے سے ذہن اسی طرف متوجہ ہوتا ہے مگر صحیح اور راحج قول کے مطابق اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اور یہی وہ فتح ہے جس نے فتح مکہ کی راہ ہموار کی۔ اور صلح حدیبیہ کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد دوسرے بہت سے اہم فوائد کے علاوہ فتح مکہ کا اعزاز بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ وغیرہ صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تم لوگ تو فتح مکہ کو فتح قرار دیتے ہو مگر ہمارے نزدیک اصل فتح صلح حدیبیہ ہے۔ اور قصہ صلح حدیبیہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تشریح : یہ آیات بھی اللہ کی شان نبی ﷺ کی استقامت اور مسلمانوں کی فرمانبرداری اتحاد یقین اور تنظیم کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ صلح حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے دب کر رہتے ہوئے معاہدہ کرنے کی صورت پیش کرتی ہے مگر درحقیقت حالات اس صورت سے پیش آئے کہ وہی دبنا اور کفار کے کہنے کے مطابق مان لینا، مسلمانوں کے لیے آئندہ کامیابی و کامرانی کا بہت بڑا ذریعہ بنے مثلاً ۔
1 ۔ اہل مکہ نے مسلمانوں کی آزاد خود مختار قوم ہونے کا اقرار کیا۔
2 ۔ کفار نے جب مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیکھا تو ڈر گئے اور خود جنگ نہ کرنے اور صلح کرنے پر راضی ہوگئے۔
3 ۔ مکہ مدینہ کے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو کھلم کھلافتح دی
مختصرواقعہ حدیبیہ۔
یہ واقعہ حدیبیہ آپ کی فتح ہے یہ واقعہ سن 6 ہجری میں پیش آیا اور رسول اللہ نے خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور احرام سے فارغ ہوکر کسی نے بال کٹائے کسی نے حلق کرایا اور آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اس کی چابی آپ کے ہاتھ آئی آپ نے واقعہ بیان فرمایا تو سب کو جانے کا شوق پیدا ہوا کہ انبیاء کو خواب تو وحی ہوتا ہے جب سب صحابہ جانے لگے تو آپ بھی تیار ہوگئے وقت کی تعین تو تھی نہیں امکان ہوسکتا تھا کہ اس کا ظہور فورا ہو مگر اس کی تکمیل فتح مکہ کے روز ہوئی لیکن آپ کا یہ سفر بھی فتح کہ لایا کہ اکثر صحابہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 5 اس فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ امام زہری کہتے ہیں، صلح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں ہوئی۔ شعبی کہتے ہیں کہ آنحضرت کو اس صلح سے جو کچھ ملا وہ کسی غزوہ میں نہیں ملا۔ حضرت برائن عازب کہتے ہیں :” تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو لیکن ہم اصل فتح بیعت رضوان کو سمجھتے ہیں جو حدیبیہ میں ہوئی۔ “ (شو کانی بحوالہ صحیحین)
6 اس فتح میں آنحضرت سے ایسے کام ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑی قدر رکھتے تھے، اس لئے اس فتح میں آنحضرت کو مغفور ہونے کی خشوخبری سنائی گئی اور ہمیشہ کے لئے بالفرض اگر آپ سے کوئی لغزش سر زد ہو تو اسے معاف فرما دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت اللہ تعالیٰ کی اس…
Read the full tafseer →(48:1) انا۔ بیشک ہم۔ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ ان اور ضمری جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم۔
فتحنا : ماضی جمع متکلم فتح (باب فتح) مصدر۔ ہم نے کھولا۔ ہم نے فتح دی ۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دو قسم پر ہے :۔
(1) جس کا آنکھ سے ادراک ہوسکے۔ جیسے فتح الباب : اس نے دروازہ کھولا اور جیسے فلما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔
(2) جس کا ادراک بصیرت سے ہو۔ جیسے فتح الہم (یعنی ازالہ غم، اس کی بھی چند قسمیں ہیں :۔
(ا) ایک وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی سے ہو۔ جیسے مال وغیرہ دے کر غم و اندوہ اور فقر و فاقہ و احتیاج کو زائل کرنا جیسے کہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 :
فتحنا (ہم نے فتح دی۔ ہم نے کھول دیا) ‘ فتحامبینا (کھلی فتح) یغفر ( وہ معاف کردیتا ہے) تقدم ( آگے بھیجا) ذنب (گناہ ۔ خطا) تاخر (پیچھے ہوا) ‘ یتم (وہ پورا کرتا ہے) ینصر ( وہ مدد کرتا ہے) ‘ نصرا عزیزا ( زبردست مدد ) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں یہ خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے بیت اللہ کی کنجی لی اور صحابہ کرام ؓ سمیت آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا یعنی عمرہ ادا کیا۔ پھر کچھ انہوں نے اپنے سرمنڈوائے اور کچھ نے تھوڑے سے با کٹوائے۔ صحابہ کرام ؓ جانتے تھے کہ انبیاکرام (علیہ السلام) کے خواب وحی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حدیبیہ کی لڑائی۔
(ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں…
Read the full tafseer →[1] 6 ھ میں رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا اور آپ ﷺ تقریباً 1400 احرام پوش صحابہ کرام کے ساتھ مکہ روانہ ہوگئے۔ مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ اہل مکہ کی طرف سے مزاحمت کی اطلاع ملی۔ آپ ﷺ نے آگے بڑھنے کی بجائے وہیں قیام فرمایا اور ایک قاصد کے ہاتھ اہل مکہ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں بلکہ عمرہ ادا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ جواب نہ آیا تو آپ ﷺ نے سیّدنا عثمان ؓ کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ ان کی واپسی میں بھی تاخیر ہوئی اور یہ خبر مشہور ہوگئی کہ سفیر رسول ﷺ شہید کر دئیے گئے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے ایک درخت کے…
Read the full tafseer →سورة الفتح
1: یہ سورة صلح حدیبیہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ اور اس میں فتح مکہ کے کھلے لفظوں میں پیشگوئی کی گئی ہے ۔ اس میں بتلایا گیا ہے کہ آپ لوگ یہ نہ سمجھیں ۔ کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ کیا گیا ہے ۔ وہ شکست اور ہزیمت پر منتج ہوگا ۔ یہ تمہیں ہے ۔ کامیابی کی اور بیش خیمہ ہے ۔ مظفر اور منصوبہ ہونے کا اس کے بعد غفران ذنب کی بشارت ہے ۔ اور اتمام نعمت کی خوشخبری ہے ۔ اور اس حقیقت کا اظہار ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سعادت اور برکت کی راہوں پر گامزن ہونے کے برابر توفیق مرحمت فرماتا رہے گا ۔ اور کسی حالت میں بھی نصرت واعانت سے دریغ نہیں کریگا ۔
حل لغات :۔ مصراعزیزا ۔ یعنی ایسی مدد جو عزت اور غلبہ…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر ہم نے آپ کو صاف اور کھلی ہوئی فتح دی۔
Read the full tafseer →ف 8۔ آپ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لاتے تھے کہ راہ میں یہ سورت نازل ہوئی، کل یا اکثر علی اختلاف القولین اور سب واقعات (جن کی طرف اس سورة میں اشارہ ہے) ذیقعدہ 6 ھ میں واقع ہوئے۔
9۔ یعنی صلح حدیبیہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ سبب بن گئی ایک فتح مطلوب یعنی فتح مکہ کی، پس گویا یہ صلح ہی فتح تھیا ور فتح مکہ کو فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ غایت فتح کی غلبہ ہوتا ہے اسلام کا لوگوں کے اسلام سے یا استسلام سے، اور یہی اس کا اثر مطلوب ہے اور فتح مکہ سے اسلام کو اس لئے نہایت غلبہ ہوا کہ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہم بھی اطاعت کرلیں گے۔ چناچہ جب مکہ فتح ہوا تو چاروں…
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو ایک شاندار فتح عطا فرما دی ہے
1 ؎ اس فتح سے کونسی فتح مراد ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور سب کے حالات ، واقعات اکٹھے کیے جائیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد آخری فتح یعنی ” صلح حدیبیہ “ ہی کا نام صادق آتا ہے۔ چننچہ صحیح بخاری میں ہے کہ : (قال شعبۃ سمعت قتادۃ عن انس انا فتحنالک فتحاً مبیناً قال الحدیبیۃٌ ) ” شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے انس ؓ سے وہ کہتے تھے (انا فتحنالک فتحاً مبیناً ) سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ “ (بخاری کتاب التفسیرپارہ…
Read the full tafseer →Preliminary Remarks
According to the consensus of scholarly opinion of Sahabah (Companions ؓ of the Holy Prophet ﷺ), Tabi` in (Pupils of Sahabah) and the leading authorities on Qur'anic commentary, the Surah was revealed when, after signing the Treaty of Hudaibiyah, the Holy Prophet ﷺ was on his way back to Madinah, in the 6th year of Hijrah in the month of Dhul-Qa` dah. In other words, the Holy Prophet ﷺ with a party of his Companions ؓ set out for Makkah with the intention of performing the ` Umrah. When he approached the sanctuary of Makkah he halted at a place called Hudaibiyah.
The…
Read the full tafseer →1 When after the treaty of Hudaibiyah this good news of the victory was announced, the people wondered as to how the treaty could be called a victory. The Muslims did believe in this Divine Revelation as true on the basis of their Faith, but no one could understand what aspect of the victory it had. On hearing this verse, Hadrat 'Umar asked: "Is it a victory, O Messenger of Allah?" The Holy Prophet replied: "Yes." (lbn Jarir) Another Companion came before the Holy Prophet and he also put the same question; whereupon the Holy Prophet replied: "By Him in Whose hand is the life of Muhammad, this…
Read the full tafseer →