Muhammad 47:38

Muhammad · from ayah 38

47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۚ— فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ ۚ— وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ— وَاللّٰهُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚ— وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ ۙ— ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ ۟۠هٰۤاَنۡـتُمۡ هٰٓؤُلَاۤءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌ۚ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ ‌ ۚ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ الۡغَنِىُّ وَاَنۡـتُمُ الۡفُقَرَآءُ ‌ۚ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا يَسۡتَـبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَـكُم

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Here you are - those invited to spend in the cause of Allah - but among you are those who withhold [out of greed]. And whoever withholds only withholds [benefit] from himself; and Allah is the Free of need, while you are the needy. And if you turn away, He will replace you with another people; then they will not be the likes of you.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:38

دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اِس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

خبردار! تم وه لوگ ہو کہ اللہ کی راه میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وه تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

دیکھو ! تم ایسے ہو کہ تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں، اور جو شخص بھی بخل کرتا ہے وہ خود اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ بےنیاز ہے، اور تم ہو جو محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یاد رکھو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بُخل کرتے ہیں، اور جو کوئی بھی بُخل کرتا ہے وہ محض اپنی جان ہی سے بخل کرتا ہے، اور اﷲ بے نیاز ہے اور تم (سب) محتاج ہو، اور اگر تم (حکمِ الٰہی سے) رُوگردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ بدل کر دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سنو ! تم وہ لوگ ہو کہ تم بلائے جاتے ہو، تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ ہی بےپروا ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سنو ! تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ، پھر تم میں سے کوئی بخل کرنے لگتا ہے حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بےنیاز ہے اور تم ہی اس کے محتاج ہو اور اگر تم نہ مانو گے تو اللہ تمہاری جگہ (دوسرے لوگ) لے آئے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آگاہچ تم وہ لوگ ہو کر تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بجیلی کرتے ہیں اور جو بجیلی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ وہ اپنے ہی سے بخیلی کرتا ہے، اللہ بالکل بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہاں تو تم وہی ہو کہ تمہیں دعوت دی جا رہی ہے کہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں (تاکہ خود تمہارا بھلا ہو) تو تم میں سے کچھ بخل سے کام لیتے ہیں حالانکہ جو کوئی بخل کرتا ہے وہ دراصل اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے کیونکہ اللہ بےنیاز ہے (ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے) اور تم ہی سب اس کے محتاج ہو اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تمہیں بلایا جاتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنیکے لئے سو تم میں بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ (درحقیقت) خود اپنے سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو کسی کا محتاج نہیں بلکہ تم (سب اس کے) محتاج ہو۔ اور اگر تم روگردانی کروگے تو (اللہ) تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔ } اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اللہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, you are those who are called upon to spend in Allah's Way, but some of you are niggardly. Whoever is niggardly is in fact niggardly to himself. For Allah is All-Sufficient, whereas it is you who are in need of Him. If you turn away, He will replace you by a people other than you, and they will not be like you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yes, you are such that you are called upon to spend in Allah‘s way, but some of you withhold in miserliness_ and he who withholds in miserliness withholds against himself_ and Allah is the Need-Free, and you are the needy. And if you turn away, He will replace you by some other people, then they will not be like you.

— Muhammad Taqi Usmani

Yes, you are such that you are called upon to spend in Allah‘s way, but some of you withhold in miserliness_ and he who withholds in miserliness withholds against himself_ and Allah is the Need-Free, and you are the needy. And if you turn away, He will replace you by some other people, then they will not be like you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Here you are now invited to spend in Allah's cause; but among you are those who withhold (stingily). And whoever acts stingily is but stingy toward himself. For Allah is indeed free of needs, while you are the needy. And if you turn away, He will replace you with other people; then they will not be like you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! ye are those who are called to spend in the way of Allah, yet among you there are some who hoard. And as for him who hoardeth, he hoardeth only from his soul. And Allah is the Rich, and ye are the poor. And if ye turn away He will exchange you for some other folk, and they will not be the likes of you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Here you are - those invited to spend in the cause of Allah - but among you are those who withhold [out of greed]. And whoever withholds only withholds [benefit] from himself; and Allah is the Free of need, while you are the needy. And if you turn away, He will replace you with another people; then they will not be the likes of you.

— Saheeh International

It is you who are asked to spend for the cause of God, but some of you behave in a niggardly way. Whoever behaves miserly does so against his own soul. God is Self-sufficient and you are poor. If you were to turn away from Him, He would just replace you with another people, who will not be like you.

— Muhammad Sarwar

Behold! you are those who are called upon to spend in Allah's way, but among you are those who are niggardly, and whoever is niggardly is niggardly against his own soul; and Allah is Self-sufficient and you have need (of Him), and if you turn back He will bring in your place another people, then they will not be like you.

— Muhammad Habib Shakir

Behold! ye are those who are called to expend in the way of Allah, then there are of you some who are niggardly. And whosoever is niggardly is niggardly only to himself. And Allah is Self-sufficient, and ye are the needy. And if ye turn away, He will substitute for you another people, and then they will not be the likes of you.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, ye are those invited to spend (of your substance) in the Way of Allah: But among you are some that are niggardly. But any who are niggardly are so at the expense of their own souls. But Allah is free of all wants, and it is ye that are needy. If ye turn back (from the Path), He will substitute in your stead another people; then they would not be like you!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–38

سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لئے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بےپرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لئے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا فال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گذرتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة مُحَمَّد 44 یعنی اتنی بڑی آزمائش میں وہ تمہیں نہیں ڈالتا جس سے تمہاری کمزوریاں ابھر آئیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ۚ، اس آیت میں حق تعالیٰ کے غنی الاغنیا ہونے کو اس طرح واضح کیا ہے کہ اللہ کو تمہارے اموال کی تو کیا خود تمہارے وجود کی بھی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم سب کے سب ہمارے احکام کی تعمیل چھوڑ دو تو جب تک ہمیں دنیا کو اور اس میں اسلام کو باقی رکھنا ہے ہم اپنے دین حق کی حفاظت اور اپنے احکام کی تعمیل کیلئے دوسری ایسی قوم پیدا کردیں گے جو تمہاری طرح احکام شرعیہ سے گریز اور اعراض نہ کرے گی بلکہ ہماری مکمل اطاعت کرے گی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ مراد اس سے عجمی لوگ ہیں، اور حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اس سے مراد فارس اور روم ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھانتم ھولاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ، طو اللہ الغنی وانتم الفقرآء وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکوانوآء امثالکم 38 بخیلوں کو دھمکی ھانتم ھولاء کے اسلوب کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے یہ ان منافقین کے حال پر افسوس اور حسرت کا اظہار ہے کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کی جو دعوت دی جاتی ہے تو تم بخالت کر رہے ہو گو یا کسی اور کر دے رہے ہو حالانکہ خدا سے بخالت کرنا خود اپنے سے بخالت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم سے مانگتا ہے تو اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی لئے مانگتا ہے کہ وہ اس کے صلہ میں تم کو ابدی بادشاہی بخشے اللہ بالکل بےنیاز ہے، محتاج اگر ہو تو تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38۔ 1 یعنی کچھ حصہ زکوٰۃ کے طور پر اور کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ 38۔ 2 یعنی اپنے ہی نفس کو انفاق فی سبیل اللہ کے اجر سے محروم رکھتا ہے۔ 38۔ 3 یعنی اللہ تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب اس لیے نہیں دیتا کہ وہ تمہارے مال کا ضرورت مند ہے نہیں وہ تو غنی ہے بےنیاز ہے وہ تو تمہارے ہی فائدے کے لیے تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس سے ایک تو تمہارے اپنے نفسوں کا تزکیہ ہو دوسرے تمہارے ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری ہوں تیسرے تم دشمن پر غالب اور برتر رہو اس لیے اللہ کی رحمت اور مدد کے محتاج تم ہو نہ کہ اللہ تمہارا محتاج ہے۔ 38۔ 4 یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ۔ 35۔ 5 بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور رسول کے اطاعت گزار اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرنے سے بخل کرو گے تو اس کا نقصان تم ہی کو پہنچے گا، اول تو اس لیے کہ اس کے نتیجے میں جہاد نہ ہوسکے گا، اور دشمن غالب آجائے گا، یا مثلاً زکوٰۃ نہ دینے کی صورت میں فقر و فاقہ عام رہے گا، اور دوسرے اس لیے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال بھگتنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آخر میں ان کی واقعی صورت حالات ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ ان حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت ہے۔ قرآن اپنے خوبصورت انداز میں ان کے دلوں کے بخل کا علاج کرتا ہے ۔ جس طرح قرآن نے جانی قربانی کے سلسلے میں ان کی تربیت کی۔ ھانتم ھولاء ۔۔۔۔ یکونوا امثالکم (47 : 38) ” دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ قرآن کریم اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ایک حصہ خدا کے دیے ہوئے مال کا اس کے راستہ میں اپنے نفع کی خاطر۔ 6 یعنی تمہارا دینا خود اپنے فائدہ کے لیے ہے۔ نہ دو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ اللہ کو تمہارے دینے نہ دینے کی کیا پروا۔ 7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ یعنی " مال خرچ کرنے کی جو تاکید سنتے ہو یہ نہ سمجھو کہ اللہ یا اس کا رسول مانگتا ہے۔ نہیں یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے۔ پھر ایک کے ہزار ہزا رپاؤ گے۔ ورنہ اللہ کو اور اس کے رسول کو کیا پروا ہے۔ 9 یعنی اللہ تعالیٰ جس حکمت و مصلحت سے بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کا حاصل ہونا کچھ تم پر منحصر نہیں۔ فرض کیجیے تم اگر بخل کرو اور اس کے حکم سے روگردانی کرو گے وہ تمہاری جگہ کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 { ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔“ { فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ } ”پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے ‘ اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ترغیب کے باوجود جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے جی چراتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں بخل کر کے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور نقصان بھی ایسا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

43 دوسروں سے مراد اہل فارس ہیں :۔ اللہ اگر تمہیں جہاد میں یا دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی وہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں تو ایک ایک کا ہزار ہزار ملے گا اور اگر تم بخل کرو گے اور جہاد کی ضرورتوں پر خرچ نہ کرو گے تو اس کا سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ اور کافروں کے سامنے تمہیں ذلیل و رسوا ہونا پڑے گا۔ اللہ کے نافرمان الگ بنو گے۔ اللہ کو اپنے لئے تمہارے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بےنیاز ہے اور محتاج تم ہی ہو۔ اور اگر تم جان و مال کے خرچ کرنے میں بخل کرنے سے کام لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئے گا جو جان اور مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

40۔ (اور اس نے تمہاری حاجت مندی ہی کی رعایت سے اس کے رفع کرنے کے لئے احکام تمہارے حق میں نازل فرمائے ہیں) (آیت) ” لتنفقوا فی سبیل اللہ “۔ یہ انفاق فی سبیل اللہ “۔ ہمیشہ بندوں ہی کے نفع کے لئے، اور انہیں کی مصلحتوں کی رعایت سے ہوتا ہے۔ (آیت) “ فانما یبخل عن نفسہ “۔ اور ایسا شخص خرچ نہ کرکے اپنے ہی کو نفع دائمی سے محروم کردیتا ہے۔ (آیت) ” واللہ الغنی “۔ وہ ہر طرح بےنیاز وغیرمحتاج ہے۔ اس کا احتمال ہی نہیں کہ تمہارے بخل سے نقصان کچھ اس کا ہو۔ دنیا میں بہت سی مشرک جاہلی قوموں نے خود خدا تعالیٰ کی ذات کو محتاج تکمیل مانا ہے۔ اس قسم کی آیتیں برابر ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہیں۔ 41۔ (عدم تعمیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل تم کو تمہارے اموال کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض اس میں بھی بخل کرنے لگتے ہیں اس کے بعد فرمایا ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ یعنی جو شخص اس میں بخل کرتا ہے وہ کچھ اللہ کا نقصان نہیں کرتا بلکہ خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے کہ آخرت کے اجر وثواب سے محرومی اور ترک فرض کا وبال ہے۔ وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا امثالکم اور اگر تم روگرداں ہوجائو تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے، بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والے ہوں گے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھانتم ھؤلاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم میبخل ومن یبخل فانما یبخل عنہ نفسہٖ وا اللہ الغنی وانتم الفقرء ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے تم کو بلایا جاتا ہے ‘ سو بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے ‘ وہ خود اپنے سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ تو کسی کا محتاج نہیں اور تم سب محتاج ہو۔ ھٰٓاَنْتُمْ ھآؤُلَآءِ ۔ ھا حرف تنبیہ ہے ‘ انتم مبتدا ہے ‘ ہٰؤلاء اسکی خبر ہے ‘ یا ھٰؤلاء منادیٰ ہے ‘ حرف ندا محذوف ہے اور تَدْعُوْنَ خبر ہے ‘ یا ہٰؤلاء اسم موصول ہے ‘ تدعون صلہ ہے اور موصل صلہ مل کر انتم کی خبر ہے۔ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا تم کو بلایا جا رہا ہے کہ اتنا مال راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو اس پر بھی بعض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کنجوسی کرتے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی کرتا ہے تو وہ ثواب و عزت سے بخل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے وہ تمہارے اموال وغیرہ کا محتاج نہیں ہے تم ہی اس کی رحمت و مغفرت اور اس کی جنت کے محتاج ہو۔ اور اگر اللہ اور رسول کی اطاعت اور اس امر صدقہ سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہیں ختم کر کے تمہاری جگہ تم سے بہترین اور اطاعت گزار دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نافرمان اور اطاعت خداوندی سے منہ موڑنے والے نہ ہوں گے۔ بلکہ تم سے بہتر اور زیادہ اطاعت گزار ہوں گے۔ اور کہا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھانتم ھولآء تدعون لتنفقوا…:”ھا“ حرف تنبیہ ہے، خبردار یاد رکھو، سن لو۔”انتم“ مبتدا اور ”ھولآئ“ اس کی خبر ہے جو ”الذین“ کے معنی میں ہے اور ”تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ ”ھولآئ“ کا صلہ ہے۔ یعنی یاد رکھو تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ (2) ومن یبخل فلما یبخل عن نفسہ : یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے وہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بخل کیا ہے اور اسے مال نہیں دیا، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اور اپنے آپ پر وہ مال خرچ نہیں کر رہا، کیونکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اے مومنو ! تم ہی وہ ہو جن کو دعوت دی جاتی ہے۔ یعنی تم جہاد اور بھلائی کے راستہ میں خرچ کرو۔ یہاں علی کے معنی میں ہے یعنی اجر وثواب اسے روکتا ہے یعنی وہ تمہارے اموال کا محتاج نہیں تم اموال کے محتاج ہو یعنی ایسی قوم لے آئے گا جو تمہاری نسبیت اللہ تعالیٰ کے زیادہ محتاج ہوں گے امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی : صحابہ نے پوچھا : ہماری جگہ کن لوگوں کو بدل دیا جائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا ” یہ اور اس کی قوم “ اور یہ اور اس کی قوم “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ اس میں سند میں اعتراض کی گنجائش ہے۔ عبداللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–38

:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ وانتم الاعلون “ (سو تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے یعنی دو جماعتوں میں سے پہلے نہ جاؤ کہ جس کے ساتھیوں کو پچھاڑ دیا گیا اور ان کو دشمنی چھوڑ کر صلح کی پیشکش کرلی اور تم زیادہ قریب ہو اللہ کے نزدیک ان کی نسبت (آیت ) ” ولن یترکم اعمالکم “ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا) یعنی وہ ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ (آیت ) ” وانتم الاعلون “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هٰٓاَنْتُمْ [ ہاں ہاں تم لوگ تو ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ وہ لوگ ہو ] تُدْعَوْنَ [ جن کو دعوت دی جاتی ہے ] لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ [ کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں ] فَمِنْكُمْ مَّنْ [ تو تم میں وہ بھی ہے جو ] يَّبْخَلُ ۚ [ کنجوسی کرتا ہے ] وَمَنْ يَّبْخَلْ [ اور جو کنجوسی کرتا ہے ] فَاِنَّمَا يَبْخَلُ [ تو وہ تو بس کنجوسی کرتا ہے ] عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ [ اپنی جان سے ] وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ [ اور اللہ ہی بےنیاز ہے ] وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ ۚ [ اور تم لوگ محتاج ہو ] وَاِنْ تَتَوَلَّوْا [ اور اگر تم لوگ منہ موڑو گے ] يَسْتَبْدِلْ [ تو وہ بدلے میں ہے ] قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ [ کسی قوم کو تمہارے علاوہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس مضمون کو بعد والی آیت میں بیان فرمایا ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 1ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ﴾ (خبردار تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں۔ ) ﴿وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ (اور جو شخص بخل اختیار کرے گا کنجوس بنے گا تو وہ خود اپنے ہی سے بخل کرتا ہے یعنی اپنی ہی جان کو خرچ کرنے کے منافع سے محروم رکھتا ہے خرچ نہ کرنے کا ضرر خود اسی کو پہنچتا ہے۔ ) ﴿وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو) اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–38

بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔ (ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ ” ھا انتم “ زجر برائے منافقین۔ تمہیں جب اللہ کی راہ میں کرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں حالانکہ اپنے ہی فائدے کے کام میں کرچ کرنا ہے۔ اس لیے جو خرچ نہیں کرتا وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور خرچ نہ کر کے بہت سے دینی اور دنیوی فوائد سے محروم رہتا ہے۔ اور اللہ جو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہارے مال کا محتاج ہے، وہ تو بےنیاز ہے اور تم سب محتاج اور ضرورتمند ہو اور وہ تمہاری حاجات و ضروریات ہی میں تمہیں خرچ نہ کرو، تو وہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی اور فرخدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے گی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–38

کفار کے لیے عدم معافی جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَاۗءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0 ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ۝ 0 ۚ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ۝ 0 ۭ وَاللہُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ۝ 0 ۚ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ۝ 0 ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ۝ 38 ۧ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–38

ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر) تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔ کفرواسلام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج فَمِنْـکُمْ مَّنْ یَّـبْخَلُ ج وَمَنْ یَّـبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ ط وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ ج وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ لا ثُمَّ لاَ یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَـکُمْ ۔ (محمد : 38) (آگاہ ! تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اور تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کررہے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کے محتاج ہو، اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–38

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے اور پھر یقین کرے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا عارضی اور حقیر ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا کی حیثیت کھیل اور تماشا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح کھیل اور تماشا وقتی طور پر دل بہلانے کا سامان اور صحت کو برقرار رکھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے یہی حقیقت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے، لازم ہے کہ انسان دنیا میں دل لگانے کی بجائے اسے آخرت سنوارنے کا ذریعہ سمجھے تاکہ انسان جنت کی دائمی نعمتوں کا مالک قرار پائے۔ اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 38 : ہٰٓاَنْتُمْ ہائتنبیہ کے لئے ہے۔ ہٰٓؤُلَآئِ یہ موصول الذین کے معنی میں ہے۔ اس کا صلہتدْعَوْنَ ہے یعنی ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو بلایا جاتا ہے۔ یعنی تم ہی وہ لوگ ہو جن کو بلایا جاتا ہے۔ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو) اس سے مراد غزوہ یا زکوٰۃ کے سلسلہ میں خرچ کرنا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ الدلیل علی انہ لو احفاکم لبخلتم وکرہتم العطاء اس بات کی دلیل کہ اگر وہ تمام کے خرچ کا حکم دیتا تو تم بخل کرتے اور عطاء کو ناپسند کرتے۔ تمہیں صرف چالیسواں حصہ دینے کا کہا گیا۔ فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ (بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں) یَبْخَلُ ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37 ۔ اسی قول کی طرف ابن عینیہ (رح) گئے ہیں۔ اس پر آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ ” ان یسالکموھا فیحفکم “ یعنی تمہیں مشقت میں مبتلا کردے اور تمام کا سوال کرکے تم کو مشقت میں ڈال دیں۔ کہا جاتا ہے ” احفی فلان فلانا “ جب وہ اس کو مشقت میں ڈال دے اور سوال میں مشقت میں ڈالنا۔ ” تبخلوا “ اس میں پس تم اس کو نہ دیتے۔ ” ویخرج اضغانکم “ تمہارے بغض و دشمنی کو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ اموال کے سوال کرنے میں کینوں کا نکلنا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–38

37۔ 38۔ دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر دین کی لڑائی اور دین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائیدار اور چند روز کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھ دار کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوٰۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لئے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیز گاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبیٰ میں ایک کے دس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–38

یہ اللہ تعالٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے یعنی بدن کے لئے لعب اور قلوب کے لئے لہو، اس میں زہد کی ترغیتب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب وزینت، اپنی بیویوں، ماکو لات و مشروبات سے حصول لذت، اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بےفائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بےکاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کرلیتا ہے اور اس کی اجل آجاتی ہے۔ جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہوجاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 35–38

مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا منع ہے قول باری ہے (فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو، اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) مجاہد سے مروی ہے کہ ” قتال سے کمزور مت پڑو اور دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلائو۔ “ ہمیں عبداللہ بن محمد نے رویات بیان کی، انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ صلح کی درخواست میں تم پہل نہ کرو۔ قول باری (و انتم الاعلون) کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے۔” تم اس کے مقابلہ میں اللہ سے زیادہ قریب ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 94] بخیلوں کے بخل پر تعجب اور افسوس کا ذکر وبیان : سو منافقوں کے حال پر حسرت و افسوس کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کا یہ کیا حال ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے کچھ لوگ بخل سے کام لیتے ہیں۔ یعنی جب تم لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اپنے مال اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی راہ میں جہاد کے لئے خرچ کرو کہ یہی وہ راہ ہے جسے اپنا کر تم ایک طرف سے اس کے قرب اور اس کی رضا کے عظیم الشان شرف سے مشرف ہو سکو گے، اور دوسری طرف تمہیں سچی عزت و عظمت بھی نصیب ہوگی۔ سو اس میں منافقوں کے حال پر افسوس اور حسرت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کرم و احسان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–38

ایمان والوں کو ہدایت تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔ 1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔ 2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–38

آیات 29 تا 38۔ اسرار معارف۔ کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔ حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔ علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–38

ف 3 یعنی اگر وہ زبردستی تم سے تمہارے اموال مانگے تو تم بخل کرو گے اور تمہارے دلوں کی خفگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:38) ھانتم ھولائ۔ ھا حرف تنبیہ ہے انتم مبتدا اور ھولاء خبر ہے ھا تنبیہ کو مکرر تاکید کے لئے لایا گیا ہے دیکھو تم وہ لوگ ہو۔ تدعون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر تم پکارتے جاتے ہو، تم بلائے جاتے ہو یا بلائے جائو گے۔ لتنفقوا۔ لام تعلیل کے لئے ہے۔ تنفقوا مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل ) جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ کہ تم (اپنے مال) خرچ کرو۔ فمنکم من یبخل میں من تبعیضیہ ہے۔ اور من موصولہ۔ یبخل اس کا صلہ۔ پس تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں (یعنی فرض کردہ مصارف از قسم زکوٰۃ وغیرہ میں بھی بخل کرتے ہیں) ۔ یبخل عن نفسہ ۔ ای یبخل علی نفسہ۔ بخل یبخل (باب سمع) فعل لازم۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–38

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 38 : لاتھنوا (تم سست نہ پڑو۔ بزدلی نہ دکھائو) تدعوا ( تم پکارنے لگو) ‘ السلم (صلح) الا علون ( تم بلندرہو گے) ‘ لن یتر ( ہرگز نقصان نہ پہنچے گا) ‘ یحفی (وہ طلب کرتے ہیں۔ بار بار مانگے گا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 38 : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہتا ہے تاکہ مومن اور غیر مومن کا فرق کھل کر سامنے آجائے۔ مومنوں کی آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کو مشکل حالات کی بھٹی سے گذار کر اسی طرح صاف ستھرا اور کندن بنادیا جائے جس طرح سونا آگ کی بھٹی میں جاکر نکھر جاتا ہے۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جب ان پر حالات کی آزمائش…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–38

زکوۃ کے دنیاوی اور اخروی فوائد۔ (ف 1) دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہوکردین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائدار اور چند روزہ کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ، ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھداری کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لیے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیزگاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبی میں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–38

[19] یعنی اگر اللہ تعالیٰ سختی کے ساتھ کل مال طلب کرنے لگے جو اس نے تم کو دے رکھا ہے تو کتنے اللہ کے بندے ہیں جو کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر تو وہی ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے۔ لیکن اللہ تمہیں اتنی بڑی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا جس سے تمہاری کمزوریاں ظاہر ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–38

یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر صدقات و خیرات دے کر تم اس کو ممنوں نہیں کرتے ہو ۔ بلکہ اسمیں کچھ تمہارا ہی فائدہ ہے ۔ اور یہ بخل تمہارے حق میں ہی مضرثابت ہوگا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ وہ بالکل بےنیاز ہے ۔ اگر تم اپنے فرائض کو ادا نہیں کرو گے ۔ تو وہ تمہاری دوسرے لوگوں کو لے آئے گا ۔ اور ان سے اپنے دین کی حمایت کا کام لے لے گا ۔ کیونکہ اس کو بہرحال اپنے دین کی بقاء اور تحفظ منظور ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) آگاہ ہو تم لوگ ایسے ہو کہ جب تم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی ہی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے ہاں ! تم سب اس کے محتاج ہو اور اگر روگردانی اختیار کروگے تو وہ تمہاری جگہ غیروں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے بخیل و نافرمان نہ ہوں گے اور وہ تمہاری مانند اور تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ یعنی تمام مال کا مطالبہ تو بہت بڑی بات ہے تمہاری حالت تو یہ ہے کہ زکوٰۃ جو محض چالیسواں حصہ ہے مال کا اسی کے لئے بھی بلائے جاتے ہو حالانکہ وہ چالیسواں حصہ تمہارے ہی غریب بھائیوں پر خرچ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 7۔ اگر اس میں جان اور مال کو تمتع کے لئے بچانا چاہئے تو وہ تمتع ہی کتنے دن کا ہے اور کیا اس کا حاصل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اور بخل سے کام مت لو کہ بخیل کے لئے رسوائی ہے 83 ؎ انسان بعض خصلتوں کا ایک مجموعہ ہے۔ خصلتیں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی۔ اچھی خصلتوں کو اخلاق حسنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بری خصلتوں کو اخلاق ذمیمہ سے جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے اس لئے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے اور ان خصلتوں کو اپنانے والے اللہ کے حضور گنہگار ٹھہرتے ہیں۔ ان اخلاقی ذمیمہ کو رذائل کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اور بخل ان رذائل میں سے ایک ہے۔ رذائل کی فہرست بہت طویل ہے تاہم اس کی مختصر ترتیب اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ جھوٹ ‘ جھوٹی قسمیں کھانا ‘ وعدہ خلافی ‘ خیانت اور بد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ "... you are called upon to spend in Allah's way, but some of you withhold in miserliness". Further the verse reads: وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ (and he who withholds in miserliness withholds against himself - 47:38) it means that any person practising miserliness will himself suffer loss or detriment because he will have to carry the burden of failing to fulfill his obligation and thus will be deprived of reward in the Hereafter. This point is made even more clear by saying "_ and Allah is the Need-Free,…

Read the full tafseer →