47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 47:1–3

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

وہ جو منکر ہوگئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے رستہ سے روکا تو ان کے اعمال اللہ نے برباد کردیے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کے طرف سے برحق نبی تھے تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کردے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جو منکر ہوئے وہ جھوٹ کے پیرو ہوئے اور وہ جو ایمان لائے تو اپنے رب کے برحق دین پر چلے۔ یوں بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کی حالتیں

ترکیب : الذین کفروامبتدء اضل اعمالہم خبرہ والذین مبتدء وھوالحق الجملۃ معترضۃ بین المبتدء وخبرہ وھو کفر الخ ذلک مبتدء بان الذین خبرہ فضرب الرقاب قال الزجاج اصلہ فاضربوا الرقاب ضرباً ۔ فحذف الفعل واقیم المصدر مقامہ مضافاً الی الفعول۔ وقیل ھو منصوب علی الاغراء حتی اذا غایۃ للامر بضرب الرقاب لالبیان غایۃ القتل۔ فامامنا الخ ای فاماتمون منااوتفدون فداء حتی متعلقۃ بشدوالوثاق۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں اور بیشتر مدینہ میں نازل ہوئی سورتوں میں احکام و جہاد یا منافقین کی بدکرداری اور اس کے برے نتائج بیان ہوئے ہیں یا مکارم اخلاق کی تاکید ہوتی ہے۔ سورة احقاف کے اخیر میں فرمایا تھا کہ فاسق ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ اس پر خیال گزرتا تھا کہ ان کے بعض اچھے اعمال بھی تو ہوتے ہیں خیرات وغیرہ اس کے جواب میں ارشاد فرما دیا الذین کفروا الخ کہ جو منکر ہوئے اور لوگوں کو یا اپنے آپ کو اللہ کے رستہ سے باز رکھا (ایمان ‘ صوم و صلوٰۃ ‘ جہاد و حسنات۔ اتباع نبی کریم ( علیہ السلام) سب کو سبیل اللہ کا لفظ شامل ہے ان کے اعمال برباد ہوگئے بوجہ بغاوت کے وہ کچھ بھی کام نہ آئیں گے دارآخرت میں۔ کس لیے کہ وہاں کوئی عمل بغیر ایمان و خلوص کے کام نہیں آتا ومن یعمل مثقال ذرۃ کے مخالف نہیں کس لیے کہ عمل سے مراد وہی عمل ہے جو ایمان و خلوص سے ہو وہ ذرہ برابر بھی ہوگا تو اس کا ثمرہ ملے گا خیال پیدا ہوتا تھا کہ اچھا کفر اور اللہ کے رستہ سے روکنے میں تو اعمال برباد ہوئے پھر اب وہ کونسا طریقہ ہے کہ جس سے یقینا نجات ہوجاوے۔ اس کا جواب دیتا ہے والذین امنوا الخ وہ لوگ جو اللہ اور دیگر ایمان لانے کی چیزوں پر ایمان لائے کتب سابقہ ‘ انبیائِ سابقین ‘ ملائکہ ‘ حشر پر اور اس کے ساتھ جو کچھ محمد ﷺ پر نازل ہوا حالانکہ وہ برحق ہے اس پر بھی ایمان لائے ان کو یقینا نجات ہے۔ کس لیے کہ کفر عنہم سیئاتہم ان سے جو کچھ برے کام سرزد ہوگئے ہیں ان کو مٹائے گا واصلح بالہم اور ان کے چال و شان کو درست کردے گا دنیا و آخرت میں خوشنود رہیں گے۔ پھر فرماتا ہے کافروں کے لیے ایسا اور محمد ﷺ پر ایمان لانے والے کے لیے ایسا کیوں تجویز ہوا ؟ اس لیے کہ کافروں نے باطل اور غلط کا اتباع کیا جس کا نتیجہ خسارہ دارین ہے اور ایمانداروں نے سچ کا اتباع کیا جس کا ثمرہ یہ ہے خدا نے ہر بات کھول دی ہے۔ چونکہ نجات کا دارومدار خدا کے پچھلے فرستادہ محمد ﷺ کی اتباع پر رکھا گیا ہے اس لیے اس جماعت کو (جو اس نبی پر ایمان لائے ہیں) فیاضی کرنا چاہیے اور دوسرے بھائیوں کے لیے اس راہ راست کے کانٹوں کو صاف کرنا چاہیے اس لیے فرماتا ہے فاذالقیتم الذین کفروا الخ کہ جنگ میں جب کافروں سے مڈ بھیڑ ہوجاوے جو اس رستہ کے لیے خار ہیں اور اس شمع ہدایت کو بجھانا چاہتے ہیں تو ان کی گردنیں ماروآخر جو ہاتھ لگیں ان کو باندھ لو پھر یا تو احسان کر ویا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔ یہ کارروائی کب تک جاری رہے ؟ اس وقت تک کہ ان کے اعداء کو لڑنے کی طاقت نہ ہے۔ ہتھیار ڈال کر اطاعت وامن کی خواستگاری کریں پھر اس کارخیر کی ترغیب دلاتا ہے۔ (1) ولویشاء اللہ الخ کہ اگر خدا چاہتا تو ان سے آپ بدلہ لے سکتا تھا لیکن بندوں کا بھی امتحان مقصود تھا کہ کون ہمارے حکم سے جان دیتا ہے ؟ (2) والذین قتلوا الخ جمہور نے قاتلواپڑھا ہے معروف کا صیغہ اور بعض نے قتلوا مجہول کا صیغہ پڑھا ہے اور بعض نے قتلوا کو معروف کا صیغہ پڑھا ہے۔ جمہور کی قرأت پر اور اس قتلوا کو معروف کا صیغہ پڑھنے والے کے نزدیک معنی صاف ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں لڑے ان کے اعمال ضائع نہ جائیں گے دنیا میں اللہ ان کو نیک باتوں کی توفیق وہدایت دے گا اور مرنے کے بعد جنت میں داخل کرے گا کہ جو ان کو بتائی گئی ہے 1 ؎ اور مجہول کے صیغہ میں یہ اشکال ہے کہ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو اب کس بات کی ہدایت ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ہوگی منکرو نکیر کے سوال و جواب کی سعادت اور دارالخلد کے منازل طے کر کے حقیقی منزل تک پہنچنے کی۔ (3) یا ایہا الذین آمنو الخ کہ اے ایماندارو ! اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کر کے اس کی مدد کروگے حالانکہ وہ مدد کا محتاج نہیں تو ہر کام میں خصوصاً اس کام میں تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا اور کفار کو پست کرے گا اور ان کی تدابیر کو رد کر دے گا۔ اس وعدہ کے بموجب خدا تعالیٰ نے اصحاب محمد ﷺ کو مخالفوں پر فتح یاب کیا اور دشمنوں کو سرنگوں کردیا اور آیندہ جو کوئی دین اللہ کی حمایت پر کمر باندھے اسی عنایت وعدہ کا مستحق ہے جب چاہے آزما کر دیکھ لے۔ ان آیات میں صرف فضرب الرقاب وامامُنًّاواما فداء کے معنی میں گفتگو کرنی باقی رہ گئی اور وہ یہ ہے۔ کیا جب کوئی کافر ملے مسلمان اس کی گردن مارنے پر مامور کیا گیا ہے ؟ مجاہد فرماتے ہیں یہ ایک خاص جنگ میں حکم ہوا تھا جو آنحضرت ﷺ کو اس وقت مخالفوں سے پیش آئی کہ جنگ میں گردن مارو اور جنگ اسی لیے ہوا کرتی ہے وہاں پھول اور پان نہیں بنٹا کرتے ہیں۔ الغرض ہر وقت کا حکم نہیں بلکہ جب کفار سے بقاعدہ شرعیہ جنگ قائم ہو اس وقت یہ حکم ہے کہ اس کی گردن مارو عام حکم نہیں کہ جب کوئی کہیں مل جائے مار ڈالا جائے اور جس نے یہ معنی سمجھ کر اسلام پر سفاکی کا عیب لگایا ہے یہ اس کی سمجھ کا عیب ہے۔ اسیران جنگ کے احکام : امامنا الخ اس آیت میں علمائے کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبہم من خلفھم وبقولہ اقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم یہی قول ہے قتادہ ضحاک و سدی وابن جریج واوزاعی واہل کوفہ کا 1 ؎۔ یہ کہتے ہیں جنگ میں جو کفار اہل اسلام کے قبضہ میں قید ہو کر آجاویں شاہ اسلام نہ ان کو احسان کر کے چھوڑ دے نہ فدیہ لے کر اب یا قتل کئے جاویں یا غلام بنائے جاویں۔ صاحب ہدایہ کہتے ہیں ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قیدیوں سے فدیہ نہ لیا جاوے صاحبین کہتے ہیں ان کے بدلہ میں مسلمان قیدی لے کر چھوڑنا درست اور یہی شافعی کا قول ہے لیکن مال لے کر نہ چھوڑنا چاہیے۔ سیر کبیر میں ہے اس کا بھی مضائقہ نہیں جبکہ مسلمانوں کو روپیہ کی حاجت ہو۔ تفسیر احمدی علماء کا ایک گروہ کہتا ہے آیت ہرگز منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ امام کو اختیار ہے خواہ فدیہ لے کر چھوڑ دے یا مفت چھوڑ دے۔ یہ دو باتیں تو آیت میں صاف مذکور ہیں۔ اور دو باتوں کا اختیار ہے گو آیت میں ان کا ذکر نہیں۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ یا غلام بنائے یا قتل کر ڈالے۔ یہی ابن عمر ؓ و حسن وعطاء کا قول ہے اکثر صحابہ وتابعین اسی طرف گئے ہیں اور سفیان ثوری و امام احمد و شافعی کا یہی مذہب ہے۔ ہمارے بعض معاصرین یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت جنگ بدر و غزوہ بنی المصطلق کے بعد نازل ہوئی ہے اس میں صرف دو ہی باتیں قیدیوں کے لیے قرار دی ہیں۔ یا مفت چھوڑ دینا یا فدیہ یعنی جرمانہ یا خرچہ لے کر چھوڑ دینا۔ غلام بنانے کا اس میں کہیں ذکر نہیں نہ قتل کرنے کا اور جہاں قتل کرنے اور غلام بنانے کا ذکر ہے وہ اس کے نزول سے پہلے کا ہے۔ 1 ؎ رسول نے یا قرآن نے بتائی یا مرنے سے پہلے ایماندروں کو بتائی اور دکھائی جاتی ہے۔ 12 منہ 1 ؎ انہیں میں امام ابوحنیفہ (رح) بھی ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 47:4–9

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

پھر جب تم کافروں سے بھڑجاؤ تو گردنیں مارو یہاں تک کہ جب ہنگامہ کارزار گرم کر چکو تو قیدیوں کی مشکیں باندھ لو پھر اس کے بعد یا تو احسان کرنا چاہیے یا جرمانہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے یہاں تک کہ جنگ اپنے 1 ؎ ہتھیار ڈال دے یہ ہے حکم۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا۔ لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرنے کا

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

ان کو عنقریب مقصود تک پہنچائیگا اور ان کی حالت درست کرے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جو ان کے لیے پہلے سے بتلا رکھی ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور وہ جو منکر ہوگئے ان پر پھٹکار ہے اور ان کا کیا اکارت کردیا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے برا سمجھا جو اللہ نے نازل کیا تھا پھر ان کے عمل برباد کردیئے۔

1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Ayahs 47:10–12

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

پھر کیا انہوں نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے اگلوں کا کیا انجام ہوا اللہ نے ان کو غارت کردیا اور منکروں کے لیے ایسا ہی کچھ ہوتا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ عذاب اس لیے کہ اللہ حمایتی ہے ایمان والوں کا اور کافروں کا کوئی بھی حمایتی نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ ایمانداروں نیک بختوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جنکے نیچے نہریں بہتی ہوـں گی اور وہ جو منکر ہوگئے دنیا برت رہے ہیں اور ایسا کھا رہے ہیں جیسا کہ چارپائے کھایا کرتے ہیں اور (آخر تو) ان کا ٹھکانا جہنم ہے

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ منکروں کو ہلاکی ہے اب اس ہلاکی کا ثبوت دیتا ہے فقال یسیروافی الارض کہ کیا قریش نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے اگلوں کا کیا انجام ہوا ؟ شام میں جاتے ہوئے قوم ثمود کے آثار اور یمن میں جاتے ہوئے قوم عاد کے امارات ان کو دکھائی دیا کرتے ہیں۔ ان کا انجام یہ ہوا دمر اللہ علیہم اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ اور قریش یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہلاکی اور بربادی انہیں کے لیے تھی بلکہ وللکافرین امثالہا کفار کے لیے خواہ عاد وثمود ہوں یا قریش مکہ ہوں ایسے ہی انجام ہوتے ہیں۔ امثالہا اے امثال العاقبۃ اور یہ کیوں ہے ذلک بان اللہ مولی الذین آمنوا الخ اس لیے کہ اللہ ایمانداروں کا حامی ہے اور کافروں کا کوئی بھی حامی نہیں پھر ان کو ایسے مصائب سے کون بچا سکتا ہے ؟ یہ تو کفرو ایمان کا دنیوی ثمرہ تھا اس کے بعد اخروی فرق بیان فرماتا ہے فقال ان اللہ یدخل الذین امنواوعملوا الصالحات جنت الخ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اس کے بعد نیک کام کئے ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن میں نہریں جاری ہوں گی اور کفاروبدکار لوگ دنیا میں چارپایوں کی طرح سے کھانے پینے میں مصروف ہیں نہ ان کو آخرت کی فکر نہ نیک باتوں کی طرف رغبت نہ برے افعال سے نفرت ان کا ٹھکانا آگ ہے اس میں رہا کریں گے۔ کفار یہ سن کر کہ اللہ ایمانداروں کا مددگار ہے طعن سے یہ کہتے تھے کہ وہ حمایت کہاں گئی ؟ ہم نے تو محمد ﷺ کو مکہ سے نکالدیا اس پر کچھ عجب نہیں کہ حضرت کو وطن ترک کرنے کا رنج بھی ہوا ہو۔ چناچہ ابویعلیٰ موصلی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکلنے اور غار میں چھپنے چلے تو مکہ کی طرف مڑ مڑ کر دیکھتے اور یہ کہتے تھے کہ بخدا سب شہروں سے تو میرے نزدیک محبوب ہے اگر یہ لوگ مجھے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا اس پر یہ آیت تسلی بخش نازل ہوئی وکاین من قریۃ الخ کہ اے محمد ﷺ بہت سے شہر جو تمہارے اس شہر سے (کہ جس نے تجھے نکال دیا یعنی مکہ نے) طاقت و زور میں بڑھ کر تھے سدوم و عمورہ وغیرہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا ان کا کوئی مددگار نہ اٹھا۔ پھر یہ اہل مکہ کیا گھمنڈ کرتے ہیں ذرا صبر کریں۔ چناچہ تھوڑے ہی دنوں میں بدر کی لڑائی نے ان متکبروں کا فیصلہ کردیا۔ اس کے بعد کفرو ایمان کا ایک اور فرق بیان فرماتا ہے فقال افمن کان الخ کہ کیا وہ شخص کہ جس کے پاس اس کے رب کی سند ہے یعنی کتاب و نبی اور وہ کون شخص ہے ایماندار ؟ اس کے برابر ہوگیا کہ جو محض اٹکل سے اپنے خیالات کا پیرو ہے اور بری باتوں کو بھلا سمجھ رکھا ہے وہ کون کافروبت پرست۔
Ayahs 47:13–14

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور ایسی بہت سی بستیاں کہ جو اس بستی سے بھی طاقتور تھیں کہ جس نے آپ کو نکال دیا ہے ہم نے ان کو ہلاک کیا پھر ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص کہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن طریقہ پر ہے اس کی برابر ہے کہ جس کی بدکاری اس کے نزدیک بھلی معلوم کرائی گئی اور وہ اپنی خواہشوں پر چلتے ہوں۔

ترکیب : الضمائر فی اخرجتک وھی للقریۃ وفی اھلکناھم ولاناصر لہم للاھل ای لاہل القریۃ۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ایسی ہے کہ اس میں صاف پانی کی نہریں ہیں اور (اسی طرح) نہریں دودھ کی کہ جس کا مزہ نہ بدلے اور مزیدار شراب کی نہریں ہیں صاف شہد کی نہریں ہیں اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی مغفرت ہے کیا یہ لوگ ان کے برابر ہیں جو آگ میں سدا رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جس سے ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی۔

ترکیب : قال سیبوبہ المثل بمعنی الوصف و الصفۃ علی ھذا مثل الجنۃ الخ مبتداء فیھا النہار الجملۃ خبرہ وقیل المثل علی معناہ فیحنذ تقدیر الکلام مثل الجنۃ (مبتداء) والخبرمحذوف وھوجنۃ تجری فیہا انھار وھذا ھو الممثل بہ کمایقال مثل زید رجل طویل اسمرفیذ کر عین صفات زیدفی رجل منکر لایکون ھوفی الحقیقۃ الازیداھذا قول الزجاج کمن ھوالکاف فی موضع رفع ای ام من فی ھذا النعیم کمن ھوخالد فی النار۔ تفسیر : جیسا کہ مومن و کافر کا فرق بیان فرمایا تھا اس طرح اب ان کے مقامات کا تقاوت بیان فرماتا ہے فقال مثل الجنۃ الخ وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی وہ پرہیز گاری پر ملتی ہے کسی کے حسب و نسب ‘ مال و جاہ سے نہیں ملتی) ایسی ہے کہ اس میں صاف پانی کی نہریں بہتی ہیں الخ جنت میں تین چیزیں بیان فرمائیں۔ اول یہ کہ اس میں چار قسم کی نہریں بہتی ہیں : (1) صاف پانی کی (2) ایسے دودھ کی جو کبھی نہ بگڑے (3) مزے دار شراب کی (4) شہد صاف کی۔ پانی کے وصف میں غیر آسن فرمایا یعنی جس کا رنگ و بو اور مزہ نہ بدلے کیونکہ پانی کے حق میں یہ باتیں عیب ہیں یعنی نہایت صاف اور معطر پانی گندے سڑے ہوئے بدرنگ پانی کی نہریں نہیں جیسا کہ دنیا میں ہوتی ہیں۔ اور دودھ کا عیب یہ ہے کہ وہ سریع الاستحالہ ہے جلد بگڑ جاتا ہے سو وہاں کا دودھ اس قسم کا نہ ہوگا۔ اور شراب میں عیب یہ ہے کہ وہ تلخ وکریہ الطعم ہوتی ہے وہاں کی شراب میں یہ بات نہ ہوگی بلکہ مزے دار ہوگی۔ اور شہد کا عیب یہ ہے کہ یہ میلا ہوتا ہے مکھیاں پتی کوڑا کرکٹ اس میں ملا ہوتا ہے وہاں کے شہد میں یہ بات نہ ہوگی بلکہ وہ مصفٰی ہوگا۔ پانی کی نہریں تو ہوا کرتی ہیں مگر دودھ اور شہد اور شراب کی نہروں کے کیا معنی ؟ کیا دراصل جنت میں ان چیزوں کی نہریں بہتی ہوں گی ؟ ظاہر الفاظ تو یہی کہہ رہے ہیں مگر بعض محققین کہتے ہیں یہ استعارات ہیں کس لیے کہ جنت کی کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کا مثل دنیا میں تلاش کرنے سے بھی دستیاب ہو سکے پھر وہاں کی نعمتیں بندوں کو سمجھائی کیونکر جاویں۔ اس لیے جن چیزوں کو وہاں کی چیزوں سے ذرا بھی مناسبت ہے ان کے پیرا یہ میں سمجھایا گیا۔ ان چیزوں کی نہریں بہنا کمال فرحت وتنعم کی دلیل ہے کہتے ہیں کہ فلاں بادشاہ نے جشن میں شرابوں سے حوض بھر دیے تھے۔ یا مراد کثرت و افراط ہے کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں یعنی بکثرت ہے واللہ اعلم۔ قوائے اربعہ عناصر اربعہ کی صورت میں جلوہ گر ہوں گی انسان کی چار قوتیں جن کی نہریں اس کے اندر بہتی ہیں بشرطیکہ ان کو ٹھیک طور پر بہنے دے جو فطرت نے ان کا بہاؤ رکھا ہے تو عالم قدس میں اپنی اپنی مناسب چیزوں میں ظہور کر کے ان کی نہریں بہیں گی روحانیہ نفسانیہ سبیعہ شہوانیہ یا یوں کہو کہ اس کے علوم و معارف حقیقہ کہ جن سے دل زندہ ہوتے ہیں پانی کی نہر ہوگی اور چونکہ ان علوم میں وہمیات و عادات و عقائدِ فاسدہ کے خس و خاشاک نہیں اس لیے وہ ماء غیر آسن یعنی صاف پانی ہوگا اور وہ علوم جو اخلاق و افعال سے متعلق ہیں اور ان ناقصوں کے کارآمد ہیں جو ریاضت اور سلوک سے کاملین میں ملنے کی صلاحیت رکھتے ہیں دودھ کی نہریں ہوں گی اور ذات وصفات باری تعالیٰ سے محبت و شراب کی نہریں ہوں گی جن میں تجلیات صفات و شہود و جمال ذات سے عشاق کو لذات ہیں اور حلاوات و ارادات قدسیہ و بوارق نوریہ اور لذات و جدانیہ شہد کی نہریں ہوں گی اور فضول سے یہ حلاوتیں اور جذبات بری ہیں اس لیے عسل مصفٰی ہوں گے۔ جنت میں دوسری چیز ہے کل الثمرات ہر قسم کے میوے۔ یہاں تک جنت جسمانی کا بیان تھا اب تیسری چیز روحانی بیان کرتا ہے و مغفرۃ من ربہم خدا کی بخشش و خوشنودی یہ تو پرہیز گاروں ایمانداروں کا مقام تھا اب کفار کا مقام بیان فرماتا ہے کمن ھو خالد فی النار کہ یہ لوگ ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی پلایا جاوے گا جس سے انتڑیاں کٹ کٹ کر کریں گی۔ فرماتا ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں یہ کلمہ اگر کوئی ذرا بھی طبیعت سلیمہ رکھتا ہے اس کے لیے بڑا ہی موثر ہے۔
Ayahs 47:16–19

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے جاتے ہیں تو علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کیا کہا تھا یہ وہ ہیں کہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور یہ اپنی خواہشوں پر چلتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور وہ جو رستہ پر آگئے ہیں اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا اور ان کو پرہیزگاری عطا کرتا ہے

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اور کیا وہ اس گھڑی ہی کا انتظار کرتے ہیں کہ ان پر ناگہاں آوے کیونکہ ان کی علامتیں تو ظاہر ہو چلی ہیں پھر جب وہ آگئی تو ان کا سمجھنا کیا مفید ہوگا

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پھر (اے رسول ! ) یقین کر کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اپنے گناہوں کی اور ایماندار مرد اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگئے اور اللہ کو تمہارا پھرنا اور ٹھکانا معلوم ہے۔

ترکیب : منہم خبر مقدم من یستمع مبتدء انفا بالمدوالقصرومعناہ الساعۃ وانتصابہ علی الظرفیۃ ای وقتاموتنفا اوحال من الضمیر فی قال قال الزجاج ھومن استانفت الشیء اذا ابتدائۃ وھوماخوذ من انف الشیء لماتقدم منہ۔ ان تاتیہم بغتۃ بدل اشتمال من الساعۃ۔ تفسیر : کمن ھوخالد فی النار میں گروہ اشقیا کا ذکر ہوا تھا اب یہاں ان کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے ان کا خلودفی النار ہونا ثابت ہوجاوے فقال و منہم من یستمع کہ ان اشقیا ہیں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اے محمد ﷺ تیری مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وعظ سننے کو بیٹھتے ہیں مگر ان میں عزت و عظمت نہیں۔ اس طرف دھیان نہیں کرتے ‘ رعونت وتکبر سے پھر باہر نکل کر اہل مجلس کے علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا فرمایا تھا۔ یہ مدینہ میں منافقوں کا گروہ تھا مجلس میں ادھر ادھر خیال رکھتے تھے بات دھیان دھر کر نہ سنتے تھے باہر نکل کر صحابہ ؓ سے پوچھتے تھے۔ عبداللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں منجملہ ان اہل علم کے کہ جن سے وہ باہر نکل کر پوچھتے تھے ایک میں تھا اس وقت کم سن لڑکا تھا فرماتا ہے اولئک الذین کہ یہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پر مہر ہے اور اپنی خواہشوں کے پیرو ہیں جو بات خواہش کے موافق ہوتی ہے اس کو بہت جلد سنتے اور دھیان دھرتے ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں یعنی ایماندار ان کو ان مجالس وعظ میں اور زیادہ ہدایت ہوتی ہے۔ انسان دنیا میں نیکی حاصل کرنے کو بھیجا گیا ہے۔ اب تک تو انہوں نے کوئی ذریعہ آخرت حاصل نہیں کیا پھر کب کریں گے ؟ کیا قیامت کے 1 ؎ منتظر ہیں کہ دفعۃً آجاوے۔ پس قیامت کے علامات تو آگئے۔ منجملہ آثار قیامت کے آنحضرت ﷺ کا مبعوث ہونا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے میرا مبعوث ہونا اور قیامت کا آنا اس طرح سے ہیں اور دونوں انگلیوں کو ملا کر دکھایا بیچ کی اور کلمہ کی انگلی کو یعنی قریب قریب ہے اور بھی علامات قیامت ظاہر ہونے لگے ‘ فسق و فجور کا رواج ‘ محبت و الفت کا اٹھ جانا ‘ وغیرہ وغیرہ۔ فرماتا ہے فانی لہم اذا جاء تہم ذکراھم کہ قیامت اگر آگئی تو پھر کہاں سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس لیے قیامت کے آنے سے پہلے سمجھنے اور سدھرنے کا ڈھنگ بتلاتا ہے فقال فاعلم انہ لا الہ الخ کہ اس بات کو جان کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس میں حکمت نظریہ کی تعلیم ہے اور یہی مقدم بھی ہے اس کے بعد عملی حصہ کو درست کرتا ہے واستغفرلذنبک اپنے گناہوں کی اور اپنے ساتھ اور ایماندار بھائیوں مرد وزن کی معافی خدا سے مانگو۔ معافی مانگنا حقیقت میں بندہ کا کمال عجز ہے جو رحم دلاتا ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی قومی بھی ہے کہ معافی میں اپنے بھائیوں کو بھی شریک کرتا ہے اس اولوالعزمی پر اور بھی رحم کا مستوجب ہوتا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کا کوئی ذکر نہیں کہ ان کو گناہ گار ٹھہرایا جاوے اور حضرت ﷺ کے گناہ بھی کیا ہیں صرف غفلات جو ہماری نیکیوں سے بڑھ کر ہیں۔ 1 ؎ ممکن ہے کہ الساعۃ سے مراد موت کی گھڑی ہو اور اس کی علامات انسانی تغیرات دمبدم اس کو متنبہ کر رہی ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 47:20–25

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور ایمان والے کہتے ہیں کس لیے کوئی سورت (جہاد کے لیے) نازل نہ کی گئی پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوگی اور اس میں لڑائی کا ذکر ہو تو دیکھ لینا جن کے دلوں میں مرض ہے آپ کی طرف ایسا تکیں گے جیسا کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو وہ مرے بھی نہیں

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا چاہیے پھر جب کوئی بات (جنگ) ٹھہر جائے پھر اس وقت اگر وہ اللہ سے سچے رہیں تو ان کے لیے بھی بہتر ہے

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پھر تم سے تو یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم ملک کے حاکم ہوجاؤ تو ملک میں فساد مچانے اور قرابت منقطع کرنے لگو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ نے لعنت کردی پھر ان کو بہرا اور اندھا بھی کردیا

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

پھر کیوں قرآن میں غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک وہ جو ہدایت ظاہر ہوجانے کے بعد بھی الٹے پھرگئے تو یہ بات ان کو شیطان نے بنائی اور پڑھائی ہے۔

ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔ تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول الذین آمنوا کہ نیک گروہ یعنی ایماندار تو اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم دیا جائے یعنی جہاد کرنا جو سب سے بڑھ کر سخت کام ہے تو ہم سعادت سمجھ کر اس کو بجا لاویں اور جب کوئی ایسی سورة نازل ہوجاوے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو جن کے دلوں میں کفرو نفاق کا مرض ہے ان کے تو ہوش اڑ جاتے ہیں اور اے محمد ﷺ ! تیری طرف ایسے بھیانک ہو کر دیکھتے ہیں کہ جیسا کوئی موت کے وقت دیکھا کرتا ہے۔ فرماتا ہے یہ ان کی بدنصیبی ہے ان کو فرماں برداری کرنی چاہیے اور نیک بات کہنی چاہیے اور جب کوئی بات جنگ کی بابت قرار پا جائے تو اللہ سے سچا ہونا چاہیے جو اس سے وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنا چاہیے (سورۃ محکمۃ۔ غیر منسوخۃ۔ اور المرادصریحۃ البیان فی امرالجہاد) اس امر میں منافق ایک یہ بھی عذر کیا کرتے تھے کہ ہم عرب سے کیونکر لڑیں ہماری ان سے قرابت ہے اور قطع رحم کرنا اور لڑ بھڑ کر فساد مچانا کوئی اچھی بات نہیں ہے اس لیے ہم جہاد سے حذر کرتے ہیں اس کے رد میں فرماتا ہے فہل عسیتم الخ اگر تم مالک ہوجاؤ اور ملک میں تم کو حکومت ہوجاوے تو پھر دیکھو پھر کس قدر فساد کرتے اور قطع رحم کرتے ہو۔ تولیتم کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ اس کو ولایت سے ماخوذو قرار دیا جاوے یعنی تم والی اور مالک ہوجاؤ اور دوسرے یہ کہ اس کو تولی بمعنی فرار سے ماخوذ مانا جاوے تب اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر تم جہاد سے پھر جائوگے اور تم پر اپنا کوئی حاکم نہ رہے گا۔ مخالفوں کے شر سے کوئی امن کی صورت نہ ہوگی تو ایسی ظلمت کے زمانہ میں ادنیٰ ادنیٰ بات پر خودسر ہو کر لڑوگے اور فساد مچاؤ گے رحم اور قرابت کا کچھ لحاظ نہ کرو گے جیسا کہ جاہلیت کے زمانہ میں عرب کی عادت تھی ذرا ذرا باتوں پر تلوار چلا کر ہزاروں خون ہوگئے ہیں۔ حقیقت میں جہاد و قتال نہ ہونے سے مسلمانوں میں سردار کا وجود جاتا رہا پھر ہزاروں مصائب اور آفات میں مبتلا ہوگئے۔ فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے جس لیے یہ بہرے ہوگئے۔ فوائدِ جہاد نہیں سنتے اور اندھے بھی ہیں خود بھی اس کے فوائد نہیں دیکھتے کاش قرآن میں غور کر کے مصالح جہاد کو سوچتے ان کے دلوں پر مہر اور قفل ہیں یہ توفیق کہاں ؟ ہدایت ظاہر ہونے پر جو منہ پھیرتے ہیں ان کو شیطان نے یہ حیلہ بازی سکھائی کہ جہاد میں یہ خرابی ہے اور اسی نے ان کو امید دلائی ہے کہ مدتوں جیو گے ابھی کیوں لڑ کر مرتے ہو۔ 1 ؎ بسیماھم ای لعلامۃ خاصۃ لونشاء لجعلنا علی المنافقین علامۃ عرفتھم بتلک العلامہ۔ 12 منہ۔
Ayahs 47:26–28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے ان سے کہ جنہوں نے برا جانا اللہ کے نازل کئے ہوئے کو یہ کہہ دیا کہ ہم بعض باتوں میں تمہارا کہنا مانیں گے اور اللہ جانتا ہے ان کی رازداری۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر جب کیا ہوگا کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہوں گے ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے جاتے ہوں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ چلے اس پر کہ جس سے اللہ ناراض ہے اور انہوں نے اللہ کی رضامندی کو برا جانا پھر اس نے بھی ان کے عمل اکارت کردیے

یہ تتمہ ہے کلام سابق کا۔ کہ یہ منافق جو ہدایت آنے کے بعد الٹے پھرگئے اس کا یہ سبب ہے کہ انہوں نے وحی یعنی قرآن کے دشمنوں سے وعدہ کرلیا تھا کہ ہم تمہاری کچھ باتیں مانیں گے اور یہ بات مخفی کہی تھی لیکن اللہ کو ان کی رازداری معلوم ہے۔ اسرارھم بکسر ہمزہ پڑھیں گے تو مصدر ہوگا یہ اہل کوفہ کی قرأت ہے اور بفتح ہمزہ پڑھیں گے جیسا کہ جمہور کی قرأت ہے تو یہ سر کی جمع ہوگا جس کے معنی ہیں بہت راز بہت بھید۔ قرآن کے دشمن کون تھے کہ جن سے منافقوں نے وعدہ کیا تھا ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں وہ قرآن کے دشمن عرب کے مشرک و کفار تھے مدینہ کے منافقوں نے مخفی طور پر ان سے یارانہ قائم رکھنے کے لیے کہلا بھیجا تھا کہ ہم محمد ﷺ پر بظاہر ایمان تو لائے ہیں مگر بعض باتوں میں تمہارا کہنا مانیں گے۔ وہ بعض کیا بات تھی وہ یہ کہ دل سے ہم بھی محمد ﷺ کو نبی نہیں جانتے اور یہ کہ اگر تمہارا غلبہ ہوا تو ہم تمہارے ساتھ ہوجاویں گے۔ مگر اس آیت کی ایک اور آیت میں پوری شرح ہے وہ آیت یہ ہے۔ الم ترالی الذین نافقوایقولون لاخوانہم الذین کفروامن اھل الکتاب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولانطیع فیکم احدابداوان قوتلتم لننصرنکم کہ منافق لوگ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی ساتھ نکلیں گے اور اس بات میں کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور جو تم سے لڑائی ہوگی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ پس کہنے والے منافق تھے اور قرآن کے دشمن مدینہ کے آس پاس والے یہود تھے اور وہ بات یہ تھی کہ درپردہ ہم تمہارے یارومددگار ہیں اس جرم میں یہ بھی راندہ دربار الٰہی ہوئے اس لیے ان کے خاتمہ کے حال سے خبردیتا ہے فکیف اذا الخ کہ اس وقت کیا حال ہوگا جبکہ ان کی روح نکالیں گے اور اس وقت ان کے منہ اور پیٹھوں پر کوڑے مارتے ہوں گے۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی ناپسند باتوں کا اتباع کیا اور اس کی رضامندی کی پروانہ کی اس لیے ان کے اعمال حبط ہوگئے۔ منافقین اپنے حال کو بھی مسلمانوں سے بہت مخفی رکھتے تھے کہ مبادا ہماری اندرونی خباثت نہ معلوم ہوجائے تاکہ مسلمان ہمیں ضرر نہ پہنچائیں اس بات کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ام حسب الخ ان کی باطنی دشمنی چھپی نہ رہے گی اگر ہم چاہیں تو ان کو معین کر کے بتادیں اور ان کی طرز گفتار سے بھی اے محمد ﷺ ! آپ پہچان لیں گے اور آزمایش ڈالیں گے اس میں خوب اچھے بروں کا امتیاز ہوجائے گا۔ یہ خدا کو اور اس کے رسول کو کوئی ضرر نہیں دے سکیں گے اس کے بعد مسلمانوں کو فرماتا ہے کہ زینہارتم ان کے کہنے میں نہ آنا اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنا۔ خلاف کرنے میں عمل حبط جاویں گے۔
Ayahs 47:29–32

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ کہ جنکے دلوں میں مرض (نفاق) ہے یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کی دبی دشمنی ظاہر 1 ؎ نہ کرے گا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کو تجھے کو دکھا بھی دیتے پھر آپ ان کو ان کے چہروں سے پہچان لیتے اور ضرور آپ ان کو ان کے طرز کلام سے بھی پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال سے بھی خوب واقف ہے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم کو آزمائیں گے یہاں تک کہ معلوم کرلیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے (کون ہیں) اور تمہاری اصلی حالت جانچ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک وہ جو کافر ہوئے اور اللہ کے رستہ سے روکتے رہے اور رسول سے مخالف ہوگئے بعد اس کے کہ ان پر ہدایت ظاہر ہوچکی تھی وہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے اور وہ جلد ان کے اعمال برباد کردے گا

1 ؎ الاضغان جمع ضغن جو دل میں بری بات رکھی جائے حسد بغض کینہ خیانت لحن القول بات کا پھیرنا کسی غرض کے لیے 12 منہ
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

ایمان والو ! اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عمل ضائع نہ کرو 2 ؎

2 ؎ معتزلہ اس آیت سے یہ بات نکالتے ہیں کہ گناہ کبیرہ سے اعمال حبط ہوتے ہیں۔ کسی نے عمر بھر نماز روزہ کیا اور ایک بار ایک چلو شراب کی پی لی تو گوا اس نے کبھی روز نماز کیا ہی نہ تھا۔ اہل سنت کے نزدیک یہ بات نہیں ہاں کفر و شرک سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں بایں معنی کہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا مستحق ہوگیا اعمال صالحہ کا کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس آیت سے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ نفل شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتے ہیں یعنی اس کو تمام کرنا ضروری ہوجاتا ہے ورنہ عمل کا باطل کرنا لازم آتا ہے اور آئمہ کا یہ قول نہیں۔ 12 منہ
Ayahs 47:34–38

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک وہ جو کافر ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روکتے رہے پھر وہ کافر ہی مرگئے تو ان کو ہرگز اللہ نہ بخشے گا

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پھر تم بودے بن کر صلاح نہ پکارو حالانکہ تم ہی غالب رہوگے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہاری کوششیں رائیگاں نہ کرے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگانی جو ہے تو کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تمہاری اجرت تمہیں دے گا اور وہ تم سے تمہاے مال طلب نہ کرے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

کیونکہ اگر وہ تم سے مال مانگے پھر تم کو گنگال کر دے تو تم بخل کرنے لگو اور تمہاری خیانت ظاہر کر دے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بلایا جاتا ہے پھر تم میں سے وہ بھی ہیں کہ جو بخل کرتے ہیں۔ اور جو کوئی بخل کرتا ہے تو اپنے نفس سے کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ اور دوسرے لوگ پیدا کر دے گا پھر وہ تمہاری طرح کے نہ ہوں گے۔

ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر) تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔ کفرواسلام کا انجام بتلا کر مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں آمادہ کرتا ہے فقال فلاتہنوا الخ کہ تم بودے نہ بنو اور دب کر صلح نہ کرو حالانکہ تم ہی غالب ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال تمہاری کوششیں برباد نہ کرے گا۔ اس آیت میں صاف حکم یہ ہے کہ کفار سے دب کر صلح کی درخواست نہ کرنی چاہیے ہاں ان جنحواللسلم فاجنح لہا اگر وہ صلح جھک کر کریں تو کرو ورنہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور جنگ کرنے میں کوشش کرو یا فتح پائوگے سو عین مراد ہے یا مارے جائوگے تو شہید ہو گے دنیا میں کیا رکھا ہے جس پر غش ہو۔ انما الحیوۃ الدنیا لہو ولعب دنیا کی زندگی کھیل کود ہے بیکار و ناپائیدار پھر اس حیات چند روزہ میں ان تو منواوتتقوا ایمان لاؤ پرہیز گاری کرلو یہی تو شہ ہے اس کو ساتھ لے چلو یوء تکم اجورکم اور آخرت میں تمہارے بدلے تم کو دیے جاویں گے اور اس میں کچھ خرچ نہیں ہوتا جس لیے کوئی ڈرے اور نیکی سے دور بھاگے ولایسئلکم اموالکم کے بھی معنی ہیں ان یسئلکموھا اگر وہ تم سے مانگے تو فیحفکم تو پھر سب کا سب لے تو تم بخل کرو اور تمہاری بخیلی ظاہر ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ دین میں مال کا ایسا خرچ نہیں کہ سب دیدیا جائے اگر مال پر کچھ ہے بھی تو بہت کم چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا پڑتا ہے۔ اگر خدا سب مانگے اور امتحان کرے تو مال کی وجہ سے تم اسلام سے نفرت کرنے 1 ؎ لگو۔ ان جملوں میں منافقوں پر تعریض ہے جو جہاد میں دینا بار سمجھتے تھے اس کے بعد صاف صاف طور پر بیان فرماتا ہے ھا انتم ھؤلاء تدعون الخ کہ دیکھو تم کو اللہ کی راہ میں صرف کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے جہاد میں جس سے سرکشوں اور بدی کا کڑوا درخت دنیا سے کاٹنا منظور ہے۔ پھر بعض تم میں سے بخل کرتے ہیں یعنی منافقین اور جو کوئی بخل کرتا ہے اپنے لیے کس لیے کہ جو کچھ یہاں دو گے وہاں پائوگے اور جو نہ دو گے اس سے اپنے آپ کو محروم کروگے۔ اور اللہ کو کچھ حاجت نہیں اس میں تمہارا ہی نفع ہے۔ حاجت مند تو تم ہو اور اگر تم نہ مانوگے تو تم کو ہٹا کر تمہاری جگہ ایک اور قوم اسلام میں داخل کرے گا جو نیک ہوں گے تم جیسے نہ ہوں گے۔ ترمذی وغیرہ نے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑی تو لوگوں نے پوچھا یا حضرت وہ کون ہیں جو ہماری جگہ آویں گے حضرت نے سلیمان فارسی ؓ کے کندھوں پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ اور اس کی قوم بخدا اگر دین ثریا کے پاس ہوتا تو آل فارس میں سے ایک شخص 2 ؎ اس کو وہیں سے حاصل کرتا بعض کہتے ہیں اس قوم سے مراد انصار ہیں بعض کہتے ہیں فارس و روم بعض کہتے ہیں اہل یمن۔ مجاہد کا قول بہت ٹھیک ہے وہ کہتے ہیں جس کو چاہے اسلام کا حامی اور انصار کر دے چناچہ ایسا ہوا عرب کے بعد ترک کھڑے ہوئے۔ 1 ؎ دین سے نفرت کرنے لگو کہ اس کی بدولت مفلس ہوں گے۔ 12 منہ 2 ؎ یہ بشارت امام ابوحنیفہ کے لیے ہے آپ فارسی الاصل تھے اور اسی پر بڑے بڑے ائمہ کا اتفاق ہے۔ 12 منہ