Ayahs 46:1–6ترکیب : من قبل فی موضع جرای بکتاب منزل من قبل ھذا۔ الابالحق استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای الاخلقامتلبسا بالحق۔ واجل مسمی عطف علی الحق بتقدیر مضاف ای بتقدیر اجل مسمی او اثارۃ مجرورعطفا علی کتاب و من فی موضع نصب بیدعوا وھی نکرۃ موصوفۃ اوبمعنی الذی۔
تفسیر : احقاف ملک یمن میں ایک وادی ہے جہاں قوم عاد رہا کرتی تھی۔ یہ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ریتے کاٹیلا۔ اس وادی میں ریتے کے بہت ٹیلے ہیں زیادہ تحقیق جغرافیہ عرب میں بیان ہوتی ہے۔ اس بڑے حادثہ کا ذکر اس سورة میں تھا اس لیے اس کو سورة احقاف کہنے لگے۔ یہ سورة بھی باتفاق جمہور مکہ میں نازل ہوئی تھی سرکش قریش کو قوم عاد کی حالت بتا کر خوف دلانے کے لیے۔
حم کے معنی بیان کر آئے ہیں اس سورة میں بھی انہیں چاروں اصول ملیہ سے بحث ہے مگر ہر جگہ نئے عنوان اور نئے پیرائے سے اور اسی لیے یہ مضامین قرآن مجید میں مکرر واقع ہوئے کیونکہ یہ باتیں بڑی ہیں ان کو مختلف عنوان سے بیان کرنا چاہیے تاکہ ناظر کے ذہن نشین ہوجاوے۔ وہ چار اصول یہ ہیں : (1) اثبات نبوت آنحضرت ﷺ کس لیے کہ جب تک صدق قائل ثابت نہ ہوگا اس کی بات دل میں جگہ نہ پاوے گی۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات قرآن مجید کے آسمانی کتاب ہونے سے کیا تاکہ اس کتاب کی بھی وقعت ثابت ہوجاوے اور درحقیقت قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی معجزہ یا سند آنحضرت ﷺ کی نبوت کے لیے نہیں ہوسکتی اس لیے سب سے اول اسی اصل کا ذکر کرتا ہے فقال تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم کہ یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ عزیز و حکیم کے لفظوں میں اس کی صداقت کے لیے دو گواہ عدل بٹھا رکھے ہیں اول عزیز جس سے شوکت و حکومت شاہانہ کی طرف ہے اگر بغور دیکھئے تو تمام قرآن مجید کا طرز کلام یہ گواہی دے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ دوسرا گواہ حکیم کہ جو کچھ اس میں حکمتیں اور مصالح عباد ہیں اور مشرق و مغرب شمال و جنوب کے طبائع مختلفہ کے لیے یکساں نافع ہیں۔ کلام کی شان کہہ دیا کرتی ہے کہ یہ کس کا کلام ہے ؟
(2) اثبات صانع عالم یعنی اس جہان کے بنانے والے کا ثبوت اس جہان کی حالت ہی کو گواہ بنا کر اور اس کے صفات کاملہ کا ثبوت یہ بھی بڑا دقیق مسئلہ ہے۔ اس کو کن سہل لفظوں میں اور سہل طریقے سے بیان فرماتا ہے ماخلقنا السماوات الخ کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کی درمیانی چیزوں کو بنایا ہے ہمیں ان سب کے خالق ہیں اور کوئی نہیں اور اثبات کی دو دلیل ہیں : اول کہ اگر یہ بڑے بڑے کرے اور ان کے اندر کی یہ چیزیں ازخود ہوتیں تو ان میں یہ حق یعنی موزونیت نہ ہوتی اور باوجود گردش کے اب تک کئی بار ٹکرا گئے ہوتے۔ (دوم) اجل مسمٰی کہ یہ چیزیں ابدی نہیں بلکہ ان کی ایک عمر طبعی رکھی ہوئی ہے اس کے بعد یہ فنا ہوجاویں گے یہ بات اطوار واوضاع عالم میں نظر کرنے سے بخوبی ثابت ہوتی ہے۔ (3) توحید ‘ بت پرستی کی قباحت اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے قل ارایتم الخ کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں ان سے پوچھ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ کچھ نہیں۔ اب اگر کوئی دلیل نقلی رکھتے ہو تو کسی نبی کی کتاب یا ان سے کوئی روایت ہے وہ بیان کرو۔ اثارۃ 1 ؎ کے یہ معنی ہیں پھر فرماتا ہے اس سے گمراہ زیادہ کون ہے جو ایسی بیکار چیز کو پکارے کہ جو حشر تک اس کی بات کا جواب نہ دے اور نہ سن سکے یعنی بت اور جو ارواح طیبات ملائکہ وغیرہ کو پکارتے ہیں تو وہ الٹے ان کے دشمن ہوجاویں گے اور انکار کریں گے کہ ہم کو نہیں پکارتے تھے بلکہ شیاطین کو۔
1 ؎ ابوعبید وزجاج کہتے ہیں اس کے معنی ہیں من علم ای بقیۃ معنی باقی بچی ہوئی چیز اس کی تفسیر میں تین قول ہیں ایک یہ کہ اس کے معنی بقیہ کے ہیں اثیرہ اثارہ بقیہ۔ دوم اثر بمعنی روایت۔ سوم اثر بمعنی علامۃ۔ 12 منہ
Ayahs 46:7–10تفسیر : پہلی بات کا پھر اعادہ کرتا ہے یعنی مسئلہ نبوت کا۔ کس لیے کہ عرب میں سینکڑوں برس سے کوئی نبی نہیں آیا تھا بلکہ اس سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے۔ ہاں اہل کتاب سے کبھی کچھ انبیاء کا ذکر سنا کرتے تھے اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں بڑا شک و تردد تھا اور ہم کہہ چکے ہیں کہ باقی باتوں کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے طبائعِ عامہ کے نزدیک۔ پس اس کے قوی کرنے کو پھر اس میں کلام کرتا ہے فقال و اذاتتلی علیہم الخ کہ ان جہال کا عجب حال ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو صاف جاود ہے۔ عرب میں اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر چیز کو سحر کہتے تھے چونکہ قرآن مجید کی خوبیاں جو اہل زبان ہونے کے سبب ان کے اذہان میں آئیں اس کو اپنی طاقت وقدرت سے بڑھ کر سمجھ کر خدا کی طرف تو منسوب نہ کیا بلکہ جادو کہہ دیا۔ آنحضرت ﷺ سے بطور انکار و تعجب کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ام یقولون افتراہ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اس کو اپنی طبیعت سے بنالیا ہے ؟ کہہ دے اگر میں نے ایسا کیا ہے تو ضرور ایسے شخص پر ہلاکت نازل ہوتی ہے جیسا کہ توریت سفر استثناء کے اٹھارہویں باب میں مذکور ہے کہ جو کوئی نبی خدا کی طرف وہ بات منسوب کرے کہ جو اس نے نہیں کہی وہ قتل کیا جاوے گا۔ اور عقل بھی چاہتی ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو نظام ملی میں فرق آجاوے۔ پس مجھ کو اللہ کے عذاب سے کون بچا سکے یعنی اگر میں جھوٹا ہوتا تو سرسبز نہ ہوتا آسمانی بلا مجھ پر آتی۔ پس معلوم ہوا کہ تم جھوٹے ہو جھوٹی باتیں بناتے ہو وہ اللہ سے مخفی نہیں میرے تمہارے درمیان اس کی گواہی بس ہے۔
پھر ان کے تعجب کو دفع کرتا ہے فقال قل ماکنت بدعًا من الرسل کہ ان سے کہہ دے میں کوئی نیا یا انوکھا رسول نہیں ہوں جو مجھ سے بار بار معجزات طلب کرتے ہو اور میرے حوائجِ بشریہ پر طعن کرتے ہو کہ رسول ہو کر کھانا کھاتا ہے بازاروں میں خریدو فروخت کو جاتا ہے اس لیے اوصاف بشریت بیان کرتا ہے کہ کیسا ہی اولوالعزم نبی کیوں نہ ہو ان سے الگ نہیں ہوسکتا۔ فقال وما ادری مایفعل بی ولابکم آیت کے معنی میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے مگر صاف معنی یہ ہیں کہ دنیا میں حوادث پیش آنے والوں کی بابت کہ کل میرے ساتھ کیا ہوگا بیماری تندرستی وغیر ذلک اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا مجھے کیا معلوم ہے ؟ یہی مضمون ایک جگہ یوں آیا ہے وماتدری نفس ماذاتکسب غدًا کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کل کیا کرے گا ؟ ان امور میں آنحضرت ﷺ اسی قدر کے غیب داں تھے جس قدر کہ آپ کو بتلایا گیا اس سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے اور کفار کے امور اخروی میں لاعلمی تھی اپنے مطیعون کا جنتی مخالفوں کا جہنمی ہونا معلوم تھا۔ اور جس نے یہ معنی سمجھ کر اعتراض کیا ہے بڑی غلطی کی ہے۔ ان اتبع الامایوحٰی الی ومااناالانذیرمبین کہ میں صرف وحی کا متبع اور ڈر سنانے والا ہوں خدا نہیں ہوں نہ فرشتہ ہوں۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت کو اور دوسری طرح سے بیان فرماتا ہے قل ارایتم ان کان من عندا اللہ وکفرتم بہ و شہد شاھد من بنی اسرائیل الخ کہ قریش مکہ ذرا اس بات کو۔
Ayahs 46:11–14ترکیب : من جار قبلہ مجرورالجارمع مجرورھاخبر مقدم و کتاب موسیٰ مبتدء وخبر والجملۃ محل النصب علی الحال او مستانفۃ۔ اماماو رحمۃ قال الزجاج انھما حالان و قال الاخفش منتصبان علی القطع وقال ابوعبیدۃ ای جعلناہ اماما ورحمۃ۔ لسانا عرب یا حال من الضمیر فی مصدق العائدالی کتاب اللہ وبشرٰی فی محل النصب عطف علی محل لتنذرلانہ مفعول بہ کذاقال الزمحشری و قبل مرفوع ای ھو بشری و قیل معطوف علی مصدق۔
تفسیر : تو سوچو کہ اگر یہ منجانب اللہ ہو (جو ہے مگر اس طرح سے گفتگو علی سبیل الزام ہوا کرتی ہے) اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس پر گواہی دی تو بتاؤ تمہارا کیا درجہ ہوگا ؟ کیونکہ اس کے باطل ہونے پر بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ شاہد کا بیان شہد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ کے معنی میں علماء کے دو قول ہیں جمہور کا یہ قول ہے کہ اس گواہ سے مراد کہ جس نے گواہی اس پر دی (کیونکہ مثل کا لفظ زائد ہے اس سے مراد وہی شے ہے جبکہ کہتے ہیں مثلک لاتبخل مراد یہ کہ تم بخل نہیں کرتے) وہ عبداللہ بن سلام ؓ ہیں جو کتب سابقہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشین خبری دیکھ کر ایمان لائے۔ یہی حسن و مجاہد وقتادہ و عکرمہ وغیرہ کا قول ہے اور صحیح بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہے کہ جو سعد ابن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے۔ اور ترمذی و ابن جریر و ابن مردویہ نے بھی عبداللہ بن سلام ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی ہے۔ عباس ؓ بھی یہی فرماتے ہیں لیکن شعبی و مسروق اور ایک جماعت کہتی ہے۔ کوئی اور شاہد ہے نہ عبداللہ بن سلام ؓ کس لیے کہ سوہ مکیہ ہے اور عبداللہ بن سلام ؓ ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ کی وفات سے کل دو برس پیشتر ایمان لائے تھے نزول سورة کے وقت انہوں نے شہادت نہیں دی تھی۔ اس کے لیے دو جواب دیے گئے ہیں اول یہ کہ اس سورة میں صرف یہ آیت مدنیہ ہے دوم یہ کہ گو تمام سورة مکیہ ہے تب بھی یہ اعتراض نہیں وارد ہوسکتا کس لیے کہ شہد کا عطف کان پر ہے جو کل خیر شرط میں داخل ہے اس صورت میں ماضی بھی مستقبل کے معنی میں ہوجاتی ہے یعنی اگر یہ کتاب منجانب اللہ ہے اور کوئی بنی اسرائیل کا شاہد بھی اس کی شہادت دے اور حال یہ کہ تم انکار کرچکے پھر کہو تمہارا کیا درجہ ہو ؟ پس گو اس وقت تک عبداللہ بن سلام ؓ نے شہادت نہ دی تھی مگر اس پیشین گوئی کے مطابق بعد میں ادا کی صدق اللہ العلی العظیم۔ جہاں تک میں خیال کرتا ہوں میرے نزدیک شاہد سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں 1 ؎ اور تنوین تعظیم کے لیے ہے اور آپ نے توریت میں مثل ہونے کی شہادت دی ہے جیسا کہ توریت سفر استثنیٰ کے اٹھارہویں باب میں ہے۔ اور خدا وند نے مجھے کہا۔ 8 ا۔ میں ان کے لیے (بنی اسرائیل کے لئے) ان کے بھائیوں میں سے بنی اسماعیل میں سے جو بنی اسرائیل کے بھائی اور ہم جدی ہیں۔ تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا لکھی ہوئی کتاب اس کے پاس نہ آوے گی بلکہ الہام کے طور سے خدا اس کے دل پر نازل کرے گا بواسطہ جبرئیل اور اپنے مونہہ سے آپ اس کو ادا کریں گے چناچہ خدا نے بنی اسرائیل میں سے موسیٰ کے مانند حضرت محمد ﷺ کو پیدا کیا۔ اے بنی اسماعیل موسیٰ ( علیہ السلام) تو آپ کی شہادت دیں اور تم انکار کرو۔
قریش نے اس نالائقی پر یہ بھی کہہ دیا لوکان خیرًا ماسبقونا الیہ الخ کہ اگر یہ قرآن برحق ہوتا اور اس میں کچھ بہتری ہوتی تو کیا ہم سے پہلے یہ غریب لوگ اس کو قبول کرتے بلکہ سب سے پہلے ہم مانتے۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ دنیا میں کامیاب ہونا دینی فضائل کا حاصل کرلینا ہے۔ مکہ میں سب سے پہلے غریب لوگ ایمان لائے تھے منجملہ ان کے حضرت عمر ؓ کی ایک لونڈی بھی تھی اس کو اس بات پر مارتے مارتے تھک جاتے تھے مگر وہ دین سے باز نہ آتی تھی اس بات پر کفار قریش تمسخر کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن حق ہوتا تو سب سے پہلے ہم قبول کرتے کیا فلاں لونڈی ہم سے پہل کر جاتی ابن المنذر نے روایت کیا ہے۔
1 ؎ مسروق کا بھی یہی قول ہے 12۔ منہ
Ayahs 46:15–16ترکیب : احسانا انتصابہ علی المصدریۃ ای ان یحسن احسانا حتٰی غایۃ لعاش اشد جمع شدۃ عندسیبویہ وقیل لاواحد لہ قال رب الخ جواب لاذابلغ فی اصحاب الجنۃ الجاروالمجرور فی محل النصب علی الحال ای کائناً فی جملتھم وعدالصدق انتصابہ علی المصدریہ ای وعدھم اللہ وعدالصدق۔
تفسیر : اس کے جواب میں فرماتا ہے واذلم یہتدوابہ الخ یعنی جب ان کی سمجھ میں نہ آیا تو اس کو قدیمی 1 ؎ جھوٹ بتا دیا۔ اور قدیم کا جھوٹ بتانا بھی ان کا غلط ہے کس لیے کہ قدیم سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب یعنی توریت جو رہنما و رحمت تھی اور تمہارے نزدیک بھی افک یعنی جھوٹ نہ تھی وھذا کتاب مصدق اور یہ کتاب یعنی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے توحید و اصول شرائع و قصص انبیاء وامم سابقہ میں ایک دوسرے کے موافق ہے پھر یہ کیونکر جھوٹ ہوا ہاں یہ بات ہے کہ یہ عربی زبان میں ہے تاکہ بدکاروں کو ان کے بدنتیجہ سے ڈراوے اور نیکوں کو خوشخبری دے۔ اس کے بعد نیکی کے چند اصول بیان فرماتا ہے فقال ان الذین قالواربنا اللہ کہ جس نے اللہ کی ربوبیت و توحید کا اقرار کیا اور پھر وہ اس پر قائم بھی رہا۔ اس ایک جملہ میں بہت سی باتیں آگئیں۔ پس ایسے لوگوں کے لیے نہ کچھ غم ہے نہ آیندہ رنج ہوگا یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہا کریں گے۔ یہ ہے وہ خوشخبری نیکوں کے لیے جن کے لیے قرآن آیا سبحان اللہ کس لطف کے ساتھ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بتایا اور اس کے ضمن میں اصول حسنات اور اس کے ثمرات بھی بیان کردیے۔
اصول حسنات کا ذکر آگیا تھا اور اس کی ایک قسم یعنی حقوق اللہ کی بجاآوری بیان ہوچکی۔ بقولہ ان الذین قالواربنا اللہ تو مناسب ہوا کہ اس کی دوسری قسم بھی بیان ہو یعنی حقوق العباد تاکہ اس بیان کی تکمیل ہوجاوے اس لیے حقوق العباد میں سے جو سب سے زیادہ مؤکدتھے ان کو ذکر کرتا ہے۔ فقال ووصیناالانسان الخ کہ ہم نے انسان کو بتاکید 2 ؎ حکم دیا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے۔ نیکی کی تشریح نہیں کی بلکہ اس کو عرف پر چھوڑ دیا جو عرف میں نیکی سمجھی جاتی ہے کھانا کھلانا کپڑا پہنانا وغیرہ پھر اس کی طبیعت کو مادر ضعیفہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ بالخصوص اس پر زیادہ رحم کیا کرے اور اس کا حق زیادہ ہے مسئلہ رضاع فقال حملتہ امہ کرھًا کہ اس کی ماں نے تکلیف سے اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف سے جنا اور اڑھائی برس تک دودھ پلانے اور حمل میں رکھنے میں ایک ساتھ محنت کی۔ دو برس دودھ پلانے کے حولین کاملین اور چھ مہینے کم سے کم حمل کے۔ اس سے حمل کی اقل مدت چھ مہینے ثابت ہوئے۔ یہ امام 3 ؎ شافعی و امام ابویوسف و محمد کا قول ہے امام ابوحنیفہ کہتے ہیں اس آیت میں حمل و فصال سے مراد گود میں اٹھانا اور اتارنا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مدت رضاعت اڑھائی برس ہیں۔ اور اگر حمل و فصال کے وہی معنی مراد لیے جاویں توثلثون شہرا دونوں کی خبر ہے پس ثابت ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ مدت حمل اور دودھ پلانے کے اڑھائی برس ہے اور حولین کاملین اس کے منافی نہیں۔ کس لیے کہ حولین کاملین اس صورت میں جہاں باپ کو دودھ پلانے کی اجرت دینی پڑتی ہے اور اسی کی تعیین کے لیے حولین کاملین آیا کہ کب تک باپ سے اجرت لے کر دودھ پلایا جاوے نہ یہ کہ اصل مدت یہی ہے۔ پس احتیاط اسی میں ہے کہ رضاعت میں اڑھائی برس کے زمانہ کا لحاظ کیا جاوے یعنی اڑھائی برس تک جو بچہ کسی کا دودھ پیوے گا رضاعت ثابت ہوگی۔ حتیٰ اذابلغ اشدہ۔
یہاں تک کہ جب جوانی کو پہنچا اور چالیس برس کی عمر آئی قوائے بہیمیہ کا زور ٹوٹا تب اس نیک اور پاک روح کو اپنا اصلی وطن عالم قدس یاد آیا اور وہاں کے توشہ کی فکر ہوئی تو خدا سے دعا کرنے لگتا ہے رب اوزعنی ان اشکر الخ اے اللہ ! مجھے اپنی ان نعمتوں کی شکرگزاری کی توفیق عطا کر جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی تھیں اور مجھے اپنے پسندیدہ نیک کاموں کی بھی توفیق دے۔ اور میری نسل میں صالحیت عطا کر کہ تیری عبادت کریں اور مجھے بھی آرام دیں اور یادگار خیر پیچھے رہے۔ یہ تین باتوں کی دعا تھی اور چونکہ سعادت کے تین مرتبہ ہیں سب سے بڑھ کر سعادت نفسانیہ دوم بدنیہ سوم خارجیہ۔ اس لیے سب سے اول شکر کی درخواست کی جو دل سے متعلق ہے اور سعادت نفسانیہ ہے اس کے بعد عمل صالح کی جو سعادت بدنیہ ہے پھر اولاد کی نیک بختی کی جو سعادت خارجیہ ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شکر قلب کا فعل ہے اس لیے اعلی درجہ کی عبادت ہے اس کو اول میں لائے اس کے بعد اور اعمال صالحہ کو یہ بندگی اور فرض منصبی تھا اس کے بعد اپنے لیے منافع دنیا و دین طلب کئے اور دعا کے بعد انی تبت الیک وانی من المسلمین بھی کہہ دیا اس بات کے اعلان کے لیے کہ توبہ واسلام سرکاری حلقہ میں داخل ہونے کے لیے شرط ہیں ورنہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس کے بدلہ میں مژدہ سناتا ہے اولئک الذین نتقبل عنہم احسن ماعملوا کہ ان کے نیک اعمال کو ہم قبول کریں گے اور جو کچھ ان سے برائی ہوئی ہوگی اس سے درگزر کریں گے اور یہ لوگ بموجب وعدہ الٰہی جو سچا ہے جنتی ہوں گے۔
1 ؎۔ یعنی ہمیشہ سے لوگ ایسی باتیں بناتے آئے ہیں۔ 12۔ منہ
2 ؎۔ وصیت وقت اخیر حکم کا نام ہے چونکہ وہ بڑی مؤکد ہوتی اس لیے ہر مؤکد بات کو بلفظ وصینا کہنے لگے ہیں۔ 12 منہ
2 ؎۔ مگر حمل میں زیادہ سے زیادہ مدت حضرت عائشہ ؓ کے قول بموجب صرف دو برس ہوں گے میں کہتا ہوں زیادہ مدت حمل کی دو برس میں منحصر کرنا کچھ فائدہ نہیں دیتا کس لیے کہ جب لڑکا پیدا ہوگا اسی وقت سے اس کے احکام جاری ہوں گے خواہ دو ہو ویں یا کم ہاں کم مدت کا اندازہ کرنا چاہیے تاکہ صحیح النصب اور ولدالزنا میں فرق کیا جاوے۔ اسی طرح دودھ پلانے کی مدت زیادہ سے زیادہ کو مقرر کرنا چاہیے کم میں تو اختیار ہے۔ 12 منہ
فوائد : (1) جمہور نے حملہ وفصالہ دونوں کو مجموعی اور تخمینی مدت جو اکثر وقوع میں آتی ہے ثلاثون شہرا اڑھائی برس مراد لیے ہیں کہ اس عرصہ میں عورت حمل سے لے کر دودھ بڑھانے تک سب کاموں سے فارغ ہوجاتی ہے۔ پھر اس مدت کو باہم حمل و فصال پر جو تقسیم کیا تو بحکم آیت حولین کاملین پورے دو برس تو دودھ پلانے کے اور باقی چھ مہینے حمل کے کم از کم ٹھہرائے۔ یہ ایک اصل تھی پھر اس پر مسائل فقیہہ بہت سے متفرع ہوئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جب آیت میں اکثر یہ مدت دونوں کی بیان کی ہے یعنی ایک عام دستور تو پھر چھ مہینے کا حمل تو عام دستور نہیں یہ تو شاذونادر ہوتا ہے عام تو نو مہینے کا ہے اور دو برس پورے نہیں ہونے پاتے کہ بچے کا دودھ بڑھا دیتے ہیں اس عرصہ میں وہ کھانے پینے لگتا ہے ہاں اگر بچہ ضعیف ہے تو مہینے دو مہینے اور پلواتے ہیں دو برس پورے کرلیتے ہیں اس تقدیر پر آیت کے معنی تو بہت ٹھیک ہوگئے مگر وہ جو رضاعت و حمل کے اصول قرار دیے ہیں ان کے ثبوت کو احادیث و آثار صحابہ اور ان کا تعامل و فتویٰ بھی لینا چاہیے ورنہ صرف اس آیت سے ثبوت مشکل ہے۔
(2) بلغ اشدہ اشدزور جوانی۔ اس کی مدت میں علماء کے کئی قول ہیں۔ عطاء کہتے ہیں ابن عباس ؓ اٹھارہ برس کی عمر میں اشد حاصل ہونے کے قائل ہوئے ہیں۔ شاید بلوغ مراد لیا ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) کا قول ہے۔ اگر اشد سے بلوغ مراد لیا جاوے گا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علی اختلاف البلادوالا مزجۃ دس گیارہ سے لے کر اٹھارہ تک میں لڑکی بالغ ہوجاتی ہے اور چودہ سے لے کر اٹھارہ تک لڑکا بالغ ہوجاتا ہے اس میں کوئی خاص مدت متعین نہیں ہوسکتی اور جو اشد سے مراد عمدہ توانائی اور بھرپور جوانی لی جاوے تو یہ بیس سے لیکر تیس بتیس برس تک کا زمانہ ہے اکثر مفسر اسی لیے اس کی مدت 32 برس کہتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اشد کا زمانہ جوش جوانی کا ہے اور چالیس برس کا زمانہ استکمال قویٰ و مدرکات کا ہے۔
(3) حکماء کہتے ہیں عمر حیواں کے تین مرتبہ ہیں یہ اس لیے کہ اس کا بدن حرارت و رطوبت غریزیہ 1 ؎ بغیر بن نہیں سکتا اور یہ ظاہر ہے کہ اول عمر میں رطوبت غریزیہ غالب ہوتی ہے آخر میں ناقص ہوجاتی ہے اور زیادت سے نقصان تک آنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ بیچ میں ایک
استواء کا مرتبہ نکلے پس لامحالہ تین زمانہ ہوں گے۔ (1) یہ کہ رطوبت غریزیہ حرارت غریزیہ سے زائد ہو یہ وہ زمانہ ہے کہ اعضاء طول و عرض و عمق میں بڑھیں گے اس کو نشوونما کا زمانہ کہتے ہیں (2) یہ کہ رطوبت غریزیہ حرارت غریزیہ کے محفوظ رکھنے کو کافی ہو بلا زیادہ و نقصان اس کو سن وقوف او سن شباب کہتے ہیں۔ (3) مرتبہ یہ کہ رطوبت غریزیہ کم ہونے لگے اور حرارت اصلیہ کو پورے طور سے محفوظ نہیں رکھتی چراغ کا تیل کم ہونے لگے تو وہ بھی کم ہونے لگے۔ یہ نقصان بھی دو قسم ہے۔ ایک کم درجہ کا نقصان اس کو سن کہولت کہتے ہیں دوسرا نقصان ظاہر اور اس کو سن شیخوخۃ کہتے ہیں بڑھاپا۔
چالیس برس تک سن وقوف تھا یعنی برابر کا زمانہ اس کے بعد سے کہولت شروع ہوتی ہے انسان کے قوائے بدنیہ اور خواہش بہیمیہ گھٹنے لگتے ہیں اور برعکس بدن کے روح کا معاملہ ہے یعنی جو زمانہ جسم کی قوت کا ہے وہ زمانہ کمالات روحانی کی کمی کا ہے اور جو بدن کے گھٹنے کا ہے وہ کمالات روحانیہ کے بڑھنے کا ہے اس لیے حق سبحانہ فرماتا ہے فلمابلغ اربعین سنۃ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم قدس کی طرف انسان کی توجہ اس وقت سے ہونے لگتی ہے۔ سبحان اللہ کیا کیا اسرار کلام میں ودیعت رکھے ہیں۔
Ayahs 46:17–19ترکیب : والذی مبتداً المراد بہ الجنس اولئک خبرہ تعداننی نبونین مخففتین۔ ان اخرج مفعول ثان لعتدان وھما یستغیثان حال واللہ مفعول یستغیثان لانہ فی معنی یسئالان ویلک مصدرلم یستعمل فعلہ وقیل مفعول بہ الزمک اللہ ویلک۔
اہل سعادت کے بعد اہل شقاوت کا بھی اس کے مقابلہ میں ذکر کرتا ہے کہ نیک اولاد ایسی ہوتی ہے اور نالایق بیٹے ایسے ہوتے ہیں۔ پس فرماتا ہے والذی قال لوالدیہ اف لکما الخ ایک وہ بد ہے جو اپنے ماں باپ سے سخت کلامی کرتا ہے تف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تم مجھے مر کر باردگر زندہ ہونے کا وعدہ دیتے ہو کہ مر کر زندہ ہوں گا اور اپنے کئے کا وہاں بدلہ پاؤں گا۔ وقدخلت القرون اجی بہت سے قرن مجھ سے پہلے مرچکے ہیں ہم نے تو کسی کو بھی مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ ماں باپ خدا کی دہائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں اے کمبخت ! کیا بکتا ہے۔ توبہ کر ایمان لا ‘ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ مگر وہ ناخلف کہتا ہے ایسے ایسے افسانے بہت سے سنے ہیں پہلے سے لوگ ایسی باتیں بتاتے آئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک تو وہ لوگ تھے ایک یہ ہیں کہ ماں باپ تو ان کو دنیا و دین کی بھلائی کی کہتے ہیں اور یہ ان سے یہ کہتے ہیں پس یہ کون ہیں اولئک الذین یہ وہ بدبخت ازلی ہیں کہ جن پر نوشتہ ازلی پورا ہوگیا جیسا کہ ان سے پہلے اور بہت سے جن و انس کی جماعتوں پر ہوچکا کہ یہ زیاں کار ہیں۔ پس دونوں فریق نیک و بد اپنے اعمال کا بدلہ پاویں گے اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔
بعض کہتے ہیں پہلا کلام حتٰی اذابلغ اربعین الخ ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں اور والذی قال لوالدیہ اف عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ کے حق میں نازل ہوا ہے مگر یہ تخصیص محض تکلف ہے۔ کلام عام ہے جو کوئی ایسا ہو ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے اول کلام کو صدیق اکبر ؓ پر صادق آنا سمجھا اور مروان کو معاویہ ؓ نے حجاز کا عامل بنا کر بھیجا تھا وہ لوگوں کو یزید کی بیعت پر آمادہ کرتا تھا عبدالرحمان ؓ نے یہ دیکھ کر کہہ دیا یہ تو خلفائِ راشدین کا طریقہ نہیں بلکہ شاہانہ طریق ہے اس پر مروان نے خفا ہو کر کہہ دیا کہ عبدالرحمن وہ ہے کہ جس کے حق میں والذی قال لوالدیہ اف نازل ہوا ہے۔ مگر عائشہ صدیقہ ؓ نے سن کر مروان کو جھوٹا کہہ دیا اور اپنے بھائی عبدالرحمن ؓ کو اس کے اتہام سے بری کیا۔ اس قصہ کو بخاری نے نقل کیا ہے پھر اس سے یہ سمجھنا کہ یہ آیت عبدالرحمن ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے غلط سمجھ ہے۔
1 ؎ اصلیہ جو فطرت نے اس کو عطا کی تھی۔ 12 منہ
Ayahs 46:20–23ترکیب : راوہ الضمیر یعودالی مافی قولہ بماتعدناوقیل الی غیر مذکوریفسرہ بابعد عارضا منصوب علی الحال اوالتمیز العارض السحاب قالہ
تفسیر : اشقیاء کی بابت صرف اسی قدر بیان فرمایا تھا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا اب یہاں اس پورے بدلہ کو کسی قدر مشرح بیان فرماتا ہے۔ فقال و یوم یعرض الذین کفرو اعلی النار اور یاد کرو کہ جس دن منکر لوگ جہنم کے روبرو لائے جاویں گے تب ان سے کہا جاویگا اذھتبم طیباتکم کہ تم اپنے مزے دنیا میں حاصل کرچکے اور خوب برت چکے اب اپنے تکبر اور بدکاری کی وجہ سے ذلت کا عذاب اٹھائو۔ یعنی آخرت کو بھول گئے تھے دنیا کے عیش و آرام میں ایسے محو تھے کہ آخرت کے لیے کچھ بھی فکر نہ کی۔ واحدی فرماتے ہیں کہ فی الجملہ نفس کشی دنیا میں بہت عمدہ چیز ہے کہ اس کے بدلہ آخرت میں ملے گا۔ اور اسی لیے نیکوں پر دنیا میں عیش تلخ رہا ہے۔ معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں جبکہ مجھے نبی ﷺ نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو یہ ارشاد فرمایا تنعم یعنی عیش و تن پروری سے بچنا کیونکہ اللہ کے بندے تن پرور نہیں ہوتے ہیں (رواہ احمد) ایک بار حضرت عمر ؓ نے پانی مانگا تو کوئی شہد کا شربت لایا کہا یہ عمدہ ہے لیکن میں سنتا ہوں کہ خدا تعالیٰ شہوات کی برائی کرتا ہے فقال اذھتبم طیباتکم الآیہ میں ڈرتا ہوں کہ میری نیکیوں کا بدلہ مجھے دنیا ہی میں نہ مل جائے پس نہ پیا (رواہ رزین) لیکن لذات حلال اکل و شرب وغیرہ ممنوع بھی نہیں ہیں بقولہ تعالیٰ قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات مگر عیش و تجمل کے عادی ہونے سے خوف ہے کہ اس کا نفس بری باتوں کی طرف نہ لے جاوے۔
کفار مکہ بھی انہی شہوات و لذات پرستی میں ہدایت و آخرت کی طرف متوجہ نہ ہوئے جس لیے ان کو یوم یعرض الذین کفرواعلی النارا اذھتبم طیباتکم الآیہ سنا گیا اس لیے ان کو قوم عاد کا قصہ سنایا جاتا ہے جو لذات و نعمائِ دنیا میں ایسے غرق تھے کہ دارآخرت کی طرف مطلقاً متوجہ نہ ہوئے اور اپنے ہادی کا کہنا نہ مانا اس لیے ان پر ایک بلا نازل ہوئی جس سے وہ قوم برباد ہوئی۔ بلاشک عیش و تن پروری کا برا نتیجہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے کہ مال و دولت ‘ سلطنت و شوکت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے فقال و اذکر اخاعادالخ کہ قوم عاد کے بھائی ہود ( علیہ السلام) کو یاد کر جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا جو عمان و مہرہ کے درمیان ایک وادی ہے آخر نہ مانا غارت ہوئے۔
Ayahs 46:24–251 ؎ چند عرصہ سے قوم عاد پر قحط تھا یہ ایک خدا تعالیٰ کا ان کے بیدار کرنے کو چھوٹا سا کوڑا تھا اس پر بھی ویسے ہی گمراہ رہے اب ہلاکی کا وقت آیا تو سیاہ آندھی اٹھتی ہوئی نمودار ہوئی جس کو دیکھ کر وہ خوش ہوئے کہ ہمارے سامنے یہ بادل اٹھا ہے یہ ضرور پانی برسا دے گا وہ دراصل بادل نہ تھا سیاہ آندھی تھی جس کی نسبت وہ پیغمبر سے کہہ دیا کرتے تھے لا ہلاکت کا روز وہ لاتا کیوں نہیں ؟ پس ایسی سخت زور سے آندھی چلنی شروع ہوئی کہ آدمی اڑنے لگے ٹکرا کر مرگئے اور چیلوں کی طرح سے اوپر کو اڑے جاتے تھے بڑے بڑے درخت اڑاتے پھرتے تھے سات روز یہی بلا رہی بس ان کے مکانات باقی رہے وہ سب ہلاک ہوئے۔ 12 منہ
ابن عباس وبہ قال الجوہری۔
Ayah 46:26ترکیب : فیما مابمعنی الذی وان نافیۃ فتقدیر الکلام مکناھم فی الذی مامکناکم فیہ من کثرۃ المال وطول العمروقوۃ الابدان۔ وقیل ان زائدۃ ای ولقدمکناھم فیما مکنا کم فیہ الاول قول المبردوالثانی قول القتیبی۔ لولابمعنی ھلا ھم مفعول مقدم لنصرالذین فاعلہ اتخذوا الخ صلۃ الذین۔ قال الکسائی القربان مایتقرب بہ الی اللہ من طاعۃ ونسیکۃ والجمع قرابین کالرھبان والرھابین۔ و اول مفعول اتخذوالراجع الی الموصول المحذوف وثانیھما قربانًا والہۃ بدل اوعطف بیان اولہۃ وقربانًا حال او مفعول لہ علی انہ بمعنی التقرب۔ البیضاوی۔ وھذا ھوالصحیح الصریح۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے قصہ عاد کا۔ فرماتا ہے ولقدمکناھم الخ کہ اے قریش ! تم اپنے زور مال پر کیا گھمنڈ کرتے ہو ؟ اس قوم عاد کو جن کے ہلاک ہونے کا تم حال سن چکے ہو ہم نے اس قدر طاقت و قوت ‘ مال و ثروت ‘ عمر و راحت کے سامان عطا کئے تھے جو تم کو بھی نہیں دیے گئے باوجود اس کے دنیاوی امور میں کچھ احمق اور نادان بھی نہ تھے ان کو ہم نے کان دیے تھے کہ جن سے وہ اگلے امتوں کے حالات سنتے تھے ‘ آنکھ بھی دی تھی جن سے وہ ہر روز عجائبات قدرت دیکھا کرتے تھے ‘ دل بھی دیے تھے جن سے سمجھنے پر قادر تھے لیکن ان کے کان اور ان کی آنکھ اور ان کے دل ان کے کچھ کام نہیں آئے ان سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا ان کو دنیاوی لذات و شہوات میں صرف کیا کس لیے کہ انہوں نے آیات اللہ کا انکار کردیا اور ان پر وہ بلا آئی کہ جس کا وہ انکار و تمسخر کیا کرتے تھے۔ پیغمبر کہتا تھا کہ تم پر بلا آنے والی ہے وہ سن کر ہنستے تھے۔
Ayah 46:27ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ اب پھر کفار مکہ کی طرف روئے سخن کرتا ہے کہ اے مکہ والو ! ہم نے تمہارے آس پاس جنوب و شمال میں کس قدر بستیاں ہلاک کی ہیں جنوب میں قوم عاد کی بستیاں الٹی پڑی ہیں ان کے عمارات کے نشان اے قریش ! جب تم تجارت کے لیے وہاں جاتے ہودیکھتے ہو اور اسی طرح شمال و مغرب میں ثمود کی بستیاں اجڑی پڑی دکھائی دیا کرتی ہیں اور قوم لوط کی بستیاں سدوم وغیرہ کے بھی آثار تم دیکھا کرتے ہو۔ اور ان کو ہم نے یوں ہی یکبارگی ہلاک نہیں کردیا ہے بلکہ صرفناالایات لعلھم یرجعون اپنی نشانیاں ادل بدل کر بار بار دکھائیں کہ وہ رجوع ہوں مگر نحوست سر پر آچکی تھی کیوں مانتے انجام کار برباد ہوئے۔
Ayah 46:28فلولانصرھم پس ان کے ان معبودوں نے ان کی کیوں نہ مدد کی کہ جن کو انہوں نے وسیلہ بنا کر معبود سمجھ رکھا تھا اور جانتے تھے کہ یہ ہمارے کام آویں گے بل ضلواعنہم بلکہ وہ کھوئے گئے کہیں دکھائی بھی نہ دیے وذلک اور یہ بات کہ وہ معبود کام آویں گے افکہم ان کا ڈھکوسلا تھا وماکانوا یفترون معطوف علی افکہم۔ اور یہ منجملہ ان کے ان ڈھکوسلوں کے ایک ڈھکوسلا تھا۔ یعنی ایسے ایسے اور بھی خیالات باطل دماغ میں جما رکھے تھے جیسا کہ بت پرستوں میں اب تک ایسے صدہا خیالات فاسدہ مانے جاتے ہیں۔
اصول ثلاثہ۔ اثبات باری تعالیٰ و توحید ومعاد کے ضمن میں یہاں تک اور بہت سے اصول ملیہ ذکر ہوگئے سعادت و شقادت کے آثار ‘ ماں باپ کی خدمت گزاری کرنے نہ کرنے میں انسان کا میل طبعی ‘ دارآخرت کی طرف ہونا کما قال وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی الآیۃ گزشتہ قوموں کے عروج داد بار، خدا تعالیٰ کا اپنے ملک میں تصرفات کرنا سرکشوں کا انجام برا ہونا عقائدِ باطلہ سے سر پر بلا لینا وغیرہ۔
Ayahs 46:29–33ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔
تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو الخ۔
ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ بطن نخلہ میں 1 ؎ قرآن پڑھ رہے تھے کہ نو جن آئے جن میں سے ایک کا نام زویعہ ہے۔ جب قرآن کی آواز ان کے کان میں پڑی تو دلکش مضامین سن کر چونک پڑے اور کھڑے ہو کر سننے لگے جب آپ فارغ ہوئے تو اپنی قوم میں جاکر ان کو متنبہ کیا کہ اے قوم ! موسیٰ کے بعد ہم نے ایک کتاب سنی جو اگلی کتابوں کے اصول ملت میں مطابق و مصدق ہے ‘ راہ حق دکھاتی ہے۔ اے قوم اللہ کے داعی یعنی رسول کا کہا مانو ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ اور جو نہ مانے گا تو اللہ کے قبضہ سے باہر نکل نہ جائے گا کوئی اس کا حمایتی اس کو سزا سے بچا نہ سکے گا۔ نہ ماننے والے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ بخاری و مسلم و دیگر کتب احادیث
1 ؎ ایک جگہ کا نام ہے۔ 12 منہ
میں جنوں کا آنحضرت ﷺ کے پاس آنا اور ایمان لانا بکثرت مذکور ہے اور سلف سے خلف تک اہل اسلام وجود جن کے قائل ہیں اور ہم مقدمہ تفسیر میں اس مسئلہ کو خوب ثابت کر آئے ہیں۔ اہل کتاب بھی قائل ہیں مگر وہ جو برائے نام اہل کتاب ہیں اور فلسفہ جدید کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور موجودات کا انحصار فلسفہ جدیدہ میں محسوسات پر ہے وہ البتہ انکار کیا بلکہ تمسخر بھی کرتے ہیں جن کی تقلید میں بعض مسلمان بھی اس خبط میں پڑ کر عجب عجب تاویلیں کرنے لگے۔
قرآن مجید میں یہ بیان نہیں ہوا کہ وہ جن گھر سے کس تلاش میں نکلے تھے ؟ روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے قریب قریب جس طرح آفتاب کے برآمد ہونے کے وقت اور اس سے پہلے امارات ظاہر ہوتے ہیں ایسے ایسے عجائبِ امارات ظاہر ہوتے تھے کچھ عجب نہیں کہ جن اس ہادی کی تلاش میں نکلتے ہوں جس کی خبران یہودی 1 ؎ جنوں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کی توریت سے ملی ہے اور اس کے ظہور کا زمانہ ان کو امارات سے معلوم ہوگیا تھا۔ بعض 2 ؎ روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس وقت عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے بعض 3 ؎ سے یہ کہ صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ ابن مسعود ؓ صحابی ایک بار جبکہ جنوں کا قافلہ آپ کے پاس آیا جنگل میں حضرت ﷺ کے ساتھ گئے تھے۔ پھر تو کئی بار جن آئے اور تعلیم پا کر گئے بعض دفعہ کوئی بھی جنگل میں رات کے وقت آپ کے ساتھ نہیں گیا۔ مسلمان جن لوگوں کو یوں بھی دکھائی دے جنگلوں میں ملے ہیں ثقات سے اس بارے میں بہت کچھ منقول ہے فقیر نے بھی خود مشاہدہ کیا ہے۔
1 ؎۔ جن بھی انسان کی طرح مختلف ادیان و مذاہب کے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں نیک جن کو جہنم سے نجات پا کر فنا ہوجانا ہے نیک بدلہ ہے جنت نہیں۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں وہ بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ 12 منہ
2 ؎۔ امام احمد کی روایت سے۔ 12 منہ
3 ؎ بیہقی دلائل النبوۃ میں ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 46:34–35تفسیر : تفسیر اول سورة میں وہ دلائل بیان فرمائے تھے جو قادر حکیم مختار کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔ اس پر دو باتیں متفرع کی تھیں اول بت پرستوں کے قول کا ابطال۔ دوم اثبات توحید خالص۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت میں کلام کیا مخالفین کے جو شبہات تھے ان کے جواب دیے۔ اہل مکہ جو حضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے میں تامل کرتے تھے اس کا باعث دنیا پر غرور اور اس کے لذات و شہوات میں غرق ہونا تھا۔ اس لیے قوم عاد کا حال بیان کر کے دنیا کی بےثباتی اور تمرد کا بدنتیجہ سامنے کھڑا کردیا۔ پھر آپ کی نبوت کی تعمیم شروع کی انس کے لیے تو تھے ہی جن کے لیے بھی ثابت کی۔ اس کے بعد پھر مسئلہ معاد میں کلام کرتا ہے فقال اولم یروان اللہ الذی الخ کہ کیا نہیں دیکھتے یعنی نہیں جانتے کہ جس اللہ نے آسمان و زمین پیدا کردیے اور ان جیسے اور پیدا کرنے سے عاجز نہیں وہ مردوں کو باردگر زندہ نہیں کرسکتا ؟ بیشک وہ کرسکتا ہے بلکہ ہر بات پر قادر ہے۔
یہاں تلک تو امکان حشر کی دلیل تھی اس کے بعد اس کے موجود ہونے کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے فقال و یوم یعرض الذین کفروا کہ کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ یعنی اب تو اس کے قائل ہوئے وہ کہیں گے ہاں۔ پھر کہا جائے گا اب قائل ہونے سے کیا فائدہ۔ اپنے انکار کی وجہ سے عذاب چکھو۔ مطالبِ ثلٰثہ تمام کر کے آنحضرت ﷺ کے لیے چند نصائح اور تسلی بخش کلمات پر سورة کو تمام کرتا ہے فقال فاصبر کہ اے محمد ﷺ آپ صبر کیجئے ان کے برا بھلا کہنے اور تکالیف کو خیال میں نہ لایئے کیونکہ آپ سے پہلے اولوالعزم رسولوں نے ایسا ہی صبر کیا ہے اور ان کے کہنے سے عذاب کی جلدی نہ کرو کس لیے کہ وہ جس دن اپنے وعدہ کے دن اور وہاں کے مصائب کو دیکھیں گے تو دنیا کے تمام عیش و تجملات کو بھول جائیں گے باوجود زمانہ دراز تک شہوات پرستی کرنے کے یہ سمجھیں گے کہ گویا دن کی ایک گھڑی بھر ٹھیرے تھے۔ اس کے بعد فرماتا ہے بلاغ یعنی یہ خبر کا پہنچا دینا ہے اے محمد ﷺ ! آپ نے خدا کا حکم پہنچا دیا اب آپ کو کیا فکر ہے بدکار آپ ہلاک ہوں گے۔ کردنی خویش آمدنی پیش۔