45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ زبردست ‘ حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

ترکیب : حم امامتبدا تنزیل الکتاب خبرہ والتقدیر تنزیل الکتاب اوقسم و تنزیل الکتاب جواب القسم اوان فی السماوات العزیز الحکیم صفۃ اللہ تعالیٰ ویجوزان یکون صفۃ الکتاب۔ لایات منصوبۃ لکونھا خبر ان فی السماوات الخ خبرھا۔ آیات بالرفع علی انہ مبتداوفی خلقکم خبرہ وہی جملۃ مستانفۃ۔ ویقراء بکسرالتاء ایضا علیٰ ان مضمرۃ خدلت لدلالۃ ان الاولی علیھا ولیست معطوفۃ علی آیات الاولی لمافیہ من العطف علی عالمین واختلاف اللیل بالجر معطعوفاً علی المجرور بفی و آیات توکیدوا جازقوم ان یکون ذلک من باب العطف علی عالمین وما نحلا لمجرور للعطف علے اختلاف وکذ اتصریف الریاح۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی انہیں تین مسائل سے بحث ہے نبوت ‘ توحید معاد۔ اس سے پہلے دخان میں اول مسئلہ نبوت میں کلام تھا یہاں بھی افتتاح سورة میں اسی مسئلہ میں ایک عجب لطف کے ساتھ کلام کیا ہے وہ یہ کہ حم میں کسی خاص 1 ؎ بات کی طرف اشارہ کرکے یا اپنی ذات وصفات و حمیت کی قسم کھا کر یہ بتاتا ہے کہ یہ کتاب اللہ زبردست کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو بڑا حکیم ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا مقتضٰی تھا کہ بندوں کو بحرضلالت سے نجات دے اس کے بعد مسئلہ توحید و اثبات باری میں کلام کرتا ہے۔ 1 ؎ ح سے اس کی حقانیت مراد ہے یعنی عالم وجود میں جو کچھ اس کے سوا ہے عدم کے رنگ میں اور بطلان کی رسیوں میں رنگا اور بندھا ہوا ہے مگر وہ ہی حق و ثابت ہے اور م سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ عام اور اس کی سب چیزیں اس کے مظاہر اور اس کے جمال کے آئینہ ہیں پھر جو اس کا یا اس کی توحید کا انکار کرتا ہے اندھا ہے۔ ان آیتوں میں غور سے نہیں دیکھتا پھر ان فی السماوات سے لیکر یعقلون تک کئی آئینہ پیش کر کے اپنی ذات بابرکات کو مختلف جلوئوں میں دکھایا ہے۔ اور ممکن ہے کہ ح اس کی حیات کی طرف اور م سے محمد ﷺ کی طرف اشارہ ہو کہ ہماری حیات کی قسم ! محمد ﷺ کو ہم نے بھیجا ہے یا ہماری حیات کا بڑا روشن آئینہ محمد ﷺ ہیں جس نے ایک عالم کو اللہ دکھا دیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ عالم باطن میں یہ دونوں حرف کسی حقیقت کا مرکز ہوں جو ہدایت میں اثر رکھتی ہوں یہاں ان سے ان کو یاد کیا ہو جیسا کہ حفظ و حمایت کہ ہم محمد ﷺ اور اس کے دین کی حفاظت کریں گے ح سے حفظ م سے حمایت اور م کے درمیان ملانے سے درمیانی زمانہ میں حمایت کی حاجت یا زور مراد ہے۔ اور حی قیوم کی طرف بھی اشارہ ہے ح سے حی م سے قیوم کی طرف۔ 12 منہ۔
Ayahs 45:3–5

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمانداروں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور (نیز) تمہارے پیدا کرنے میں اور جانوروں کے پھیلانے میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے (بڑی بڑی )

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور نیز رات دن کے پلٹنے میں اور آسمان سے روزی کی چیز نازل کرنے میں کہ اس سے خشک ہوئی زمین کو شاداب کیا کرتا ہے۔ اور ہوائوں کے بدلنے میں عقلمندوں کے لیے (بڑی) نشانیاں بھی۔

فقال ان فی السموات الخ یہ (1) آئینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنا جمال دیکھتا ہے مگر کئی طرح سے۔ اس لیے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے وجود و توحید کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ آیات فرمایا کیونکہ ان کی مقدار اور حرکات الوان مختلفہ انوار کی کمی زیادتی ہر ایک بات ایک نشانی ہے اول اس لیے کہ یہ اجسام حوادث سے خالی نہیں اور جو حوادث سے خالی نہیں وہ حادثہ ہے پس یہ تمام اجسام حادث ہیں اور ہر حادث کے لیے ایک محدث ضرور ہے۔ (دوم) یہ کہ یہ اجسام اجزاء سے مرکب ہیں اور یہ اجزاء باہم متماثل ہیں پھر ایک جزء کو ایک جگہ میں اور ایک خاص بات میں کون خاص کرنے والا ہے وہی اللہ ہے نہ طبیعت اجسام کیونکہ اس میں پھر بھی کلام ہوگا۔ (سوم) یہ افلاک وستارے و زمین اگر ازخود ہیں تو یا ہمیشہ سے ہیں یعنی قدیم یا حادث ہیں قدیم تو ہیں نہیں کیونکہ قدیم تغیرات سے پاک ہوتا ہے اور ان میں تغیرات ضرور ہوتے ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کی لاکھوں برسوں کی عمر ہو اس لیے پہلے لوگوں نے ان کو قدیم سمجھ لیا ہے پس حادث ہیں کس لیے کہ باوجود اشتراک جسمانیت کے پھر مختلف الالوان و الحرکات والا بعاد ہونا حدوث کی دلیل اور کسی قادر مختار کے لیے برہان ہے اس کے بعد اور چند نشانیاں ذکر کرتا ہے (2) آدمیوں کا پیدا ہونا۔ (3) زمین پر مختلف قسم کے جانوروں کا پایا جانا۔ (4) رات دن کا بدلنا (5) اوپر سے پانی برسانا پھر اس سے مختلف نباتات پیدا کرنا۔ (6) ہوائوں کا بدلنا۔ یہ سب نشانیاں ہیں نہ اندھوں کے لیے بلکہ آنکھوں والوں کے لیے جن کو اہل ایمان و اہل یقین کہتے ہیں۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ ہیں اللہ کی آیتیں کہ جو ہم آپ کو ٹھیک طور سے سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے

دلائل یقینہ بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے تلک آیات اللہ نتلوھاعلیک بالحق یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو اے محمد ـ ﷺ آپ کو بہت اچھی طرح سے سنائی جاتی ہیں۔ یہاں سے پھر مسئلہ نبوت کی طرف رجوع کیا دلائل وجود و توحید باری بیان فرما کر۔ اور مناسبت یہ ہے کہ جس کتاب میں اس کیفیت کے ساتھ توحید وجود باری کے ایسے دلائل ہوں وہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید اور جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ خدا کا رسول برحق ہے یعنی محمد ﷺ ۔ فبای حدیث بعداللہ و آیۃ یومنون پھر کس بات پر ایمان لاویں گے جبکہ اللہ یعنی اس کے کلام پر ایمان نہ لائے اور اس کی آیات بینات پر یقین نہ لائے۔ پھر آگے ان کے انکار کی کیفیت اور اس کی سزا جو دارآخرت میں ہوگی بیان فرماتا ہے اس مناسبت سے مسئلہ معاد کا بھی بڑے عمدہ محل پر ذکر ہوگیا یہی وہ بلاغت ہے جو حدِّ اعجاز کو پہنچ گئی۔
Ayahs 45:7–11

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر چھوٹے گناہگار کا ستیاناس ہوجائے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتیں سن کر جو اس کے اوپر پڑی جاتی ہیں غرور میں آکر ہٹ کرتا ہے، گویا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہ تھا پھر اس کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری دے

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی کو نہیں پاتا ہے تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے۔ ایسوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

(اور) ان کے سامنے جہنم ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا ان کے کچھ بھی کام نہ آوے گا اور نہ وہ معبود کام آئیں گے جن کو اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھا تھا۔ اور ان کو بڑا ہی عذاب ہوگا۔

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ (قرآن) ہدایت ہے اور وہ جو اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں ان کو سخت دردناک عذاب کی سنا ہوتی ہے۔

فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ جگہ اس کی ہے اس کے بعد اس کے جرم کی کافی سزا بیان فرماتا ہے فبشرہ بعذاب الیم کہ اس کو عذاب الیم کا مژدہ سنا۔ اس کے بعد دوسری قسم کے انکار کا ذکر کرتا ہے واذا علم من آیاتنا الخ کہ اس کو جب ہماری کوئی آیت معلوم ہوتی ہے تو انکار ہی نہیں بلکہ اس پر تمسخر اور ٹھٹھا بھی کرتا ہے اس کو ذلیل کرنے کے لیے یہ پہلے سے بھی بڑھ کر جرم ہے اس لیے اس کی سزا بھی زیادہ بیان کرتا ہے کہ اس کے لیے ذلت دینے والا عذاب ہے اور ان کے آگے جہنم ہے اور ان کی کمائی اور ان کے معبود ان کے وہاں کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس بحث کو تمام کرکے پھر اصل بات کی طرف رجوع کرتا ہے کہ ھذا ھدی یہ قرآن مجید جس کا انکار اور جس پر ٹھٹھا کرتے ہیں ہدایت ہے پھر جو ہدایت کا انکار کرے اس کو سخت عذاب ہے من رجز والرجز اشدا لعذاب بدلیل قولہ تعالیٰ و لئن کشفت عناالرجز۔
Ayahs 45:12–15

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے روزی تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو اپنے کرم سے تمہارے کام پر لگا دیا ہے البتہ اس میں فکر کرنے والوں کی (بڑی) نشانیاں ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

(اے رسول ! ) ایمانداروں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کے وقائع کی پروا نہیں کرتے ان کو معاف کریں ان لوگوں کو جو کچھ کیا کرتے تھے اس کا آپ بدلہ دے گا

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک کام کرتا ہے اپنے ہی لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا کرتا ہے تو اپنے سر پر وبال لیتا ہے پھر تم کو تو لوٹ کر اپنے رب کے پاس جانا ہے۔

ترکیب : جمیعا حال من مافی السماوات الخ و تاکید لہ ومنہ متعلق بمحذوف ای کائنامنہ اوبسخر اوحال من مافی السماوات اوخبر لمبتدء محذوف لتجری اللام متعلقہ بیغفروا و قریٔ لنجزی بالنون۔ تفسیر … دریا کا مسخر ہونا : پھر مسئلہ توحید پر دلائل بیان کرتا ہے اور عرب کے روزمرہ کی بات میں اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں فقال اللہ الذی سخر لکم البحر کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے دریا کو بس میں کردیا کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور روزی تلاش کرتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے دریا میں کہ سوائے پانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے ہوائوں کے ذریعہ سے لاکھوں من بوجھ لے کر پانی عمیق پر سے گزرتے ہیں اور ہوا بھی وہ شے ہے کہ اگر مخالف ہوجاوے تو یہی ہلاک کرنے کو بس ہے اب وہ کون ہے کہ جس کے بس میں کرہ ماء اور کرہ ہوا ہے ؟ ہر چیز کا مسخر ہونا : وسخرلکم مافی السماوات ومافی الارض جمیعًا منہ اس پر کیا موقوف ہے جس قدر چیزیں آسمان و زمین میں ہیں آفتاب ‘ ستارے ‘ بارش ‘ آندھی ‘ حجر ‘ شجر ‘ حیوانات سب تمہارے لیے بس میں کردیے اور کام پر لگا رکھے ہیں۔ مطلب یہ کہ سب چیزوں سے تم کو فوائد حاصل ہیں اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں فکر کرنے والوں کو اگر صرف ایک روٹی بہم پہنچنے کے سامانوں کو غور کیا جائے تو بیساختہ بول اٹھے کہ یہ سب کاری گری اسی قادر مختار کی ہے۔ ان دلائل سے خدا تعالیٰ کا وجود اور اس کا وحدہ لاشریک لہ ہونا اور محسن و مربی ہونا کمال درجہ پر ثابت ہوگیا اور اس کا حلم بھی ظاہر ہوا کہ بندوں کی سرکشیاں دیکھتا ہے اور ایسا قادر ہے مگر پھر بھی درگزر کرتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ قل للذین امنوا ایمانداروں سے کہہ دے وہ بھی حلم و مغفرت کی عادت سیکھیں اور ان لوگوں سے جو اللہ کے وقائع کے قائل نہیں اور اس کے مصائب سے نہیں ڈرتے جو اعدائِ دین پر نازل ہوئی تھیں ان سب کو وہ جھوٹ جانتے ہیں اور ایمانداروں سے سختی سے پیش آتے ہیں ‘ سخت کلامی بدگوئی ‘ بدمزاجی ‘ بدمعاملگی ‘ دست درازی مومنوں پر کرتے ہیں ‘ درگزر کریں انتقام کے درپے نہ ہوا کریں۔ کفار مکہ مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے مسلمان بھی انہیں کے ملک اور انہیں کے قوم کے لوگ تھے غصہ آتا تھا کہ ان سے لڑ مریں ماریں مرجاویں مگر صبر کرنے کا حکم ہوا۔ یہ مسئلہ جہاد کے مخالف نہیں ہے کس لیے کہ جہاد تنہا اپنے دشمن سے بدلہ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک مجموعی طاقت اسلامیہ کا فعل ہے جو اس کے موقع پر بضرورت عمل میں لائی جاتی ہے۔ لیجزی معاف کریں تاکہ اللہ خود اس قوم کفار کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اگر تم نے آپ بدلہ لے لیا تو پھر خدا نہیں لے گا۔ تم صبر کرو تمہاری طرف سے وہ بدلہ لے گا۔ قوما سے بعض مفسرین کے نزدیک مسلمان مراد ہیں تب یہ معنی ہوئے اے ایماندارو ! معاف کیا کرو تاکہ اللہ ایک قوم یعنی ایمانداروں کو ان کے اعمال کا نیک بدلہ دے منجملہ ان کے اعمال حسنہ کے یہ معاف کرتا ہے۔ اور معاف کرنا اس لیے چاہے کہ من عمل صالحا فلنفسہ الخ جو کوئی نیک کام کرے گا اس کا آپ عمدہ پھل پاوے گا اور جو کوئی بدی کرتا ہے اپنے سر پر بوجھ دھوتا ہے پھر تم کیوں ان کی بدی سے ڈرتے ہو اور کس لیے ان سے الجھتے ہو جہاں نیک بات کہنے اور بدی سے منع کرنے میں فتنہ و فساد ہو وہاں سکوت کرنا اولیٰ ہے جیسا کہ یہ آیت اس طرف ایماء کر رہی ہے۔
Ayahs 45:16–21

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت دی تھی اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی بھی دی تھی اور ان کو دنیا پر بزرگی بھی دی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے کھلے (کھلے) احکام بھی دیے ان پر انہوں نے اختلاف کیا تو علم آنے کے بعد صرف آپ کی ضد سے۔ بیشک آپ کا رب ان میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا جن چیزوں میں کہ وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر تجھ کو دین کے رستہ پر قائم کیا پھر آپ اسی پر چلئے اور نادانوں کی خواہشوں پر نہ چلئے

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

کیونکہ وہ اللہ کے سامنے آپ کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور ظالم آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوا کرتے ہیں اور اللہ تو پرہیز گاروں کا رفیق ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لیے بصیرت اور ہدایت ہے اور یقین کرنے والوں کے لیے رحمت

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا گناہ کرنے والوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ان کو ایمان داروں نیک کام کرنے والوں کے برابر کردیں گے ان کا جینا اور مرنا برابر ہے وہ بہت ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔

ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور کتب انبیاء بھی مراد ہوں اور حکومت بھی اس کے نافذ کرنے کے لیے عطا کی تھی اور نبوت کا سلسلہ بھی ان میں قائم کیا کہ یکے بعد دیگرے بہت سے نبی ان میں پیدا ہوئے اور دنیا کی بھی ان کو فراخ دستی عطا کی اور فضلناھم علی العالمین ان کو اس عہد کے سب لوگوں پر عزت و بزرگی بھی دی تھی۔ اور بینات امر بھی عطا کئے تھے یعنی معجزات و کرامات اکثر لوگ ان میں ایسے ہوتے تھے کہ مستجاب الدعوات تھے اور ان کی بزرگی و خدا پرست کی دلیلیں ان کے کشف و کرامات ہوتے تھے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حلال و حرام ‘ طہارت و نجاست کے صاف صاف احکام و دستورات ہیں۔ بعض کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبریں۔ یہ بھی بنی اسرائیل کے علماء کو دی گئی تھیں جن سے ان کو آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کا انتظار تھا۔ خیر یہ سب کچھ تو دیا مگر پھر بنی اسرائیل کی ناشکری دیکھئے فما اختلفوالامن بعد ماجائھم العلم جان بوجھ کر آپس میں اختلاف ڈال دیا ‘ بہت سے فرقے بن گئے۔ سلطنت کے بھی کئی ٹکڑے ہوگئے اور یہ کیوں کیا بغیابینہم محض باہمی سرکشی و عداوت سے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تمام نعمتیں ان سے چھینی گئیں اور ان کے جرم کی سزا اور اختلافی امور کا فیصلہ آخرت میں ہوگا اور یہ نعمت اے محمد ﷺ تجھے عطا ہوئی کماقال ثم جعلناک علی شریعۃ من الامر کہ جب ان میں اختلاف پڑا اور وہ دینی نعمت ان کے ہاتھ سے جاتی رہی اور دنیا ظلمات و جہالت سے بھر گئی تو اس محسن قدیم نے اے محمد ﷺ تجھے مبعوث کیا اور تجھ کو شریعت دی گئی سو اے کفار و مشرکین اے اہل کتاب آنحضرت ﷺ کی نبوت کوئی نئی بات نہیں پھر کیوں تعجب کرتے ہو ؟ پھر آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے فاتبعہا آپ اس شریعت کا اتباع کیجئے ان نادانوں کی خواہشوں کو نہ دیکھئے جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ تیرے کچھ کام نہ آویں گے اللہ کے مقابلے میں۔ ہاں یوں یہ ستمگار آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں ‘ ہوا کریں۔ اللہ پرہیزگاروں کا رفیق و مددگار ہے۔ یہ قرآن ایمان والوں کے لیے بینائی و ہدایت و رحمت ہے۔ سبحان اللہ مسئلہ نبوت کو کس عمدہ اسلوب سے ثابت کیا اور کس موقعہ پر کلام کو تمام کیا۔ اس کے بعد بدی کر کے اس پر دلیری کرنے والوں کو تنبیہ کرتا ہے ام حسبوا الخ کہ کیا بدی کرنے والے یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم ان کو دنیا و دین میں نیکوں کے برابر کردیں گے کہتے ہیں صاحب جب یہ بخشے جاویں گے تو ہم کیا جنت سے پیچھے رہ جائیں گے یہ ہرگز نہ ہوگا سوامحیاھم و مماتہم کیا ان کی اور ان کی حیات و موت برابر ہے ؟ نہیں نیکوں کی حیات بھی عمدہ موت بھی بہتر بدوں کی دونوں خراب۔ ابن عباس ؓ یا یہ معنی کہ گو زندگی میں تو ایمانداروں کے برابر ہیں رزق میں ‘ تندرستی میں ‘ پھر کیا موت میں بھی برابر ہوجاویں گے۔ موت وحیات دونوں میں برابر ہونگے ؟ نہیں یا یہ کہو کہ بدوں کی موت وحیات دونوں یکساں ہیں نہ اس جہان میں خیر نہ وہاں خیر اور مومنوں کی دونوں برابر ہیں یہاں بھی خیر وہاں بھی خیر۔
Ayahs 45:22–26

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو درستی سے بنایا اور تاکہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تو نے اس کو بھی دیکھا کہ جو اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور اللہ نے باوجود سمجھ کے اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا پھر اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت کرسکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارا یہی دنیا کا جینا ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کرتا ہے حالانکہ ان کو اس کی کچھ بھی حقیقت معلوم نہیں محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری کھلی کھلی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آئو اگر تم سچے ہو

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو اللہ ہی تم کو زندہ کرتا ہے پھر تم کو مارتا ہے پھر وہی تم سب کو قیامت میں جمع کرے گا جس میں کچھ بھی شبہ نہیں لیکن اکثرآدمی جانتے ہی نہیں۔

تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کافرو مومن درجات سعادت میں برابر نہیں تو اس کے اب دلائل بیان فرماتا ہے : فقال و خلق اللہ الخ یہ اول دلیل ہے کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو برحق بنایا اگر نیک و بد برابر ہوجائیں تو یہ انتظام عالم درہم برہم ہوجاوے (2) ولتجزی کل نفسالخ اس کا عطف بالحق پر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق ظاہر کرنے کے لیے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے ظلم نہ ہو یعنی مقصود اس عالم کے پیدا کرنے سے عدل و رحمت کا ظاہر کرنا ہے اور یہ جب ہی پورا ہوگا کہ قیامت برپا ہو اور وہاں نیک و بد کا پورا انصاف ہو کر پوری جزاء و سزا دی جاوے۔ (3) افریت من اتخذالہہ ھواہ یہاں کلام کا دوسرا طرز پلٹ دیا اور استفہام انکاری کے طور سے پوچھتا ہے کہ اے محمد ﷺ یا اے مخاطب ! تو نے اس کو بھی دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش نفسانی کو معبود بنا رکھا ہے خواہش کے بندے ہیں جو وہ حکم دیتی ہے اسی کے بجالانے پر کمربستہ ہیں۔ یعنی بد اور نیک کیونکر برابر ہوسکتے ہیں۔ بد نے خواہش نفسانی کے آگے سرجھکا رکھا ہے نیک و مومن نے اپنے اللہ کے آگے۔ (4) واضلہ اللہ علی علم اس کا عطف اتخذ پر ہے کہ اس کو بھی دیکھا کہ جس کو اللہ نے علم سے گمراہ کردیا۔ یعنی بد خو ہے تو ازلی گمراہ ہے علی علم یعنی اللہ جانتا تھا کہ اس کی روح صلاحیت قبول نہیں کرسکتی۔ واضح ہو کہ ارواح بشریۃ مختلف ہیں بعض نورانی علوی ہیں اور بعض مکدر ظلمانی سفلی ہیں جن کو لذائذِ جسمانیہ و شہوات نفسانیہ کی طرف بڑا سخت میلان ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ویسا ہی کرتا ہے جو اس کی ماہیت و جوہر کے لائق ہو۔ پس علی علم کے یہ معنی ہوئے۔ اور اسی کی تائید ہے اس جملہ میں وختم علی سمعہ الخ کہ اللہ نے اس کے کانوں اور دل پر مہر کردی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا یہ اس کے پردے ہیولانے و حجابات ظلمانی ہیں پھر اس کو حق کیونکر دکھائی دے کیونکر سنائی دے کیونکر دل میں جمے۔ ایسے کو کون ہدایت کرسکتا ہے اللہ کے بعد یعنی اس کے گمراہ کرنے کے بعد مطلب یہ کہ کافر و بد کار کی ذات واصالت میں قصور ہے برخلاف مومن صالح کے کہ اس کی ذات یعنی جوہر روح میں نورانیت رکھی ہوئی ہے پھر دونوں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں۔ اس میں یہ بھی رمز ہے کہ یہ خدا کے گمراہ کردہ ہیں آنحضرت ﷺ سے ہدایت پر نہ آنا آنحضرت ﷺ کی منقصت ثابت نہیں کرتا۔ علی علم کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ باوجود کہ اس کافر و بد کو سمجھ بوجھ دی نیک و بد میں امتیاز کرنے کا ملکہ دیا مگر اس نے سب کو بیکار کردیا۔ بگاڑا تجھے خوبصورت بناکے۔ (5) وقالواماھی الاحیاتنا الدنیا الخ یعنی مہر کرنے کا یہ اثر ہوا کہ دار آخرت کو بھول گئے اسی چند روزہ زندگی پر پھول گئے کہ صرف یہی زندگی ہے یہی ایک مرنا جینا ہے۔ اور خدا کو بھی بھول گئے ومایہلکنا الا الدھر اور کہہ دیا کہ ہم کو صرف زمانہ ہلاک کرتا ہے خدا کوئی نہیں گردش ایام سے قوائے بدنیہ تحلیل ہوتے ہوتے اس مرتبہ ہوجاتے ہیں کہ ایک روز اس کا چراغ حیات گل ہوجاتا ہے۔ فرماتا ہے یہ حمقاء دہر کو نہیں جانتے عقلی گھوڑے دوڑاتے ہیں درصل ان گردش ایام کا مالک اللہ ہے اسباب پر نظر ہے مسبب الاسباب پر نہیں۔ (6) واذاتتلی الخ اور یہاں تک ان پر خباثت غالب آئی ہے کہ جب ان کو اللہ کی کھلی کھلی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو حشر کے بارے میں یہ حجت کرتے ہیں کہ ہمارے مرے باپ دادا کو لے آؤ تو جانیں۔ فرماتا ہے قل اللہ کہ کہہ دے اللہ تم کو زندہ رکھتا ہے وہی موت دے گا پھر وہی قیامت میں سب کو جمع کرے گا لیکن اکثر کو خبر نہیں۔
Ayahs 45:27–33

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کو ہے اور جس روز کہ قیامت برپا ہوگی اس دن جھٹلانے والے تباہ ہوں گے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور ہر فرقے کو گھٹنوں پر سر ڈالے ہوئے دیکھے گا ہر ایک جماعت کو ان کے دفتر کی طرف بلایا جاوے گا (کہیں گے) آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا دفتر تم پر سچ سچ بول رہا ہے کیونکہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اس کو ہم لکھ لیا کرتے تھے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ ہے صریح کامیابی

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور وہ کہ جنہوں نے کفر کیا (ان کو کہا جائے گا) کہ کیا تم کو ہماری آیتیں نہیں سنائی جایا کرتی تھیں پھر تم نے غرور کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جبکہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شبہ نہیں تو تم کہہ دیا کرتے تھے ہم نہیں جانتے کیا چیز ہے قیامت ہم تو اس کو صرف خیالی بات جانتے ہیں اور ہم کو یقین نہیں

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان پر ان کے اعمال کی برائی ظاہر ہوجاوے گی اور ان پردہ آفت آپڑے گی کہ جس سے ٹھٹھا کرتے تھے۔

ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔ تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ اتنی بڑی چیزوں پر قادر ہے پھر انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرنا اس کے نزدیک کیا مشکل ہے۔ الغرض وہ قادر مطلق ہے۔ یہ امکان حشر کی دلیل تھی۔ ویوم تقوم الساعۃ الخ سے لے کر آخر تک اس کے واقع ہونے کا بیان ہے اور اس کے ضمن میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس روز کیا ہوگا ؟ وہ یہ کہ اس روز مبطل یعنی حق کو جھوٹا کہنے والے اور جھوٹ سمجھنے والے یا اپنی سعادت کے حصہ کو باطل و غلط کرنے والے۔ الغرض بد اور ناکارہ لوگ خسارہ پاویں گے عمر گرانما یہ لے کر جو دنیا میں جنس سعادت خریدنے آئے تھے اس کو بری چیزوں کے خریدنے میں برباد کردیا۔ اب مالک کے سامنے جو حساب ہوا تو معلوم ہوا کہ خسارہ میں پڑے۔ اور اس دن ہر گروہ ادب سے تخت رب العزت کے سامنے سرنگوں یا گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا۔ لیث کہتے ہیں الجثو الجلوس علی الرکب کما یجثی بین یدی الحاکم۔ مورج کہتے ہیں کہ اس کے معنی زبان قریش میں خاضعۃ کے ہیں یعنی باادب۔ اور ہر ایک گروہ کو ان کے نامہ اعمال دینے کو بلایا جاوے گا بعض کہتے ہیں کتاب منزل کی طرف بلائیں گے کہ مقابلہ کیا جاوے اس کے موافق عمل کیا تھا یا مخالف۔ مطلب یہ کہ حساب شروع ہوگا دفتر الٰہی ہر بات سچ سچ کہہ دے گا کیونکہ جو تم اے بندو ! کرتے تھے اس کو ہم اس میں لکھ لیتے تھے یعنی وہ عالم مثال میں منقش ہوجاتا تھا یعنی اس کا چھاپا چھپ جاتا تھا سو وہ یہ دفتر ہے پس نیک جنت میں آرام پاویں گے جو رحمت الٰہی ہے یعنی اس کی رحمت کا مظہر ہے۔ اس جملہ میں لفظ رحمت نے جنت کی حقیقت بھی بیان کردی کہ وہ مظہر رحمت ہے دنیاوی باغ نہیں ہے۔ اور جو بد ہوں گے یعنی کافروں سے کہا جاوے گا کیا تم کو آیات الٰہی نہیں سنائی جایا کرتی تھیں مگر تم نے سرکشی کی اور تم بڑے مجرم تھے۔ اور جب تم سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت بلاشک آوے گی تو تم اے کافرو ! یہی کہہ دیا کرتے تھے کہ ہم کو یقین نہیں ہاں ایک وہم سا ہے۔ کفار کے اس بارے میں دو فریق تھے بعض تو صریح انکار کرتے تھے جن کا پہلی آیتوں میں ذکر ہوا بقولہ وقالواماھی الاحیاتنا الدنیا اور بعض کو شک و تردد تھا جن کا اس جگہ ذکر ہے اس کے بعد ان کا انجام بتلاتا ہے فقال و بدالہم سیئات کہ ان کے اعمالِ بد کی برائی ان کے سامنے ظاہر ہو کر آوے گی عذاب کی شکل میں اور جس سے وہ دنیا میں تمسخر کیا کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑے گا یعنی عذاب۔
Ayahs 45:34–37

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا آج کے دن ہم تم کو فراموش کریں گے جیسا کہ تم نے اپنے آج کے دن کے ملنے کو فراموش کردیا تھا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں۔

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو ہنسی میں اڑایا تھا اور تم کو دھوکے میں ڈال دیا تھا دنیا کی زندگی نے۔ پھر آج نہ وہ یہاں سے نکل سکیں گے اور نہ ان کا عذر قبول ہوگا۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس اللہ ہی کو سب خوبی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب جہان کا رب ہے۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کی عزت ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

ترکیب : اضاف اللقاء الی الیوم تو سعالانہ اضاف الی الشیء ماھو واقع فیہ کمکراللیل کماقدمراعرابہ فی اکثر المواضع و ماوٰ کم الجملۃ معطوفہ علی الیوم الخ و کذ الاھم یستعتبون ای لایطلب منھم العتبٰی وھوالرجوع الی طاعۃ اللہ۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا کہ ان کے اعمال کی برائی جو ان پر پڑے گی منجملہ اس کے ایک یہ بات ہوگی کہ جہنم میں ڈال کر ان سے یہ عتاب آمیز کلام کیا جاوے گا جس سے ابدی مایوسی ٹپکتی ہے اور جو کچھ آس تھی وہ بھی ٹوٹ جاوے گی۔ تین جملے بیان ہوئے۔ اول الیوم ننساکم کہ آج ہم تم کو بھول جاویں گے یعنی بمنزلہ بھولے ہوئے کے کردیں گے ‘ سخت بےپروائی کریں گے۔ جیسا کہ تم آج کے دن کے سامان اور اس کے پیش آنے سے غافل و بیخبر و بےپروا ہوگئے تھے۔ نسیان سے وہ ذات مقدس پاک ہے ایسے الفاظ کا اس کی نسبت استعمال مجازاً ہے جیسا کہ متعدد مقامات میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ (دوم) وماوکم النار اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے۔ (سوم) ومالکم من ناصرین تمہارا کوئی مددگار بھی نہ ہوگا کہ تم کو اس بلا سے چھڑائے۔ اس کے بعد ان کے تین جرم بھی بیان ہوتے ہیں جن پر ان کو یہ سزا ملی۔ اول دین حق کا انکار اور پھر اس پر اصرار دوم اس سے تمسخر اور ٹھٹھا کرنا ان دونوں جرموں کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے اذلکم بانکم اتخذتم آیات اللہ ھزوًا۔ سوم حبِّ دنیا میں ڈوب جانا اور آخرت سے مطلقا غافل ہوجانا۔ اس جہاں فانی کی زینت اور لذات میں ایسا مبتلا ہونا کہ انہیں باقی سمجھ لینا اور ان کے مقابلہ میں دوسرے عالم کی پروا تو کیا اس سے منکر ہوجانا۔ یہ ہے دنیا کا دھوکا جس میں لاکھوں مبتلا ہیں۔ بوڑھے ہوگئے ہیں سفر درپیش ہے اور ایسا کہ پھر کر یہاں کبھی نہیں آنا مگر دنیاوی مال وجاہ اور اس کے فراہم کرنے میں ایسے بےہوش ہیں کہ آگے کی کچھ بھی خبر نہیں رہی کیا خوب کہا ہے کسی دانا نے۔ ؎ بدنیا دل نہ بنددہر کہ مرداست کہ ایں دنیا سراپا رنج ودرد است برو بارے بگورستاں گزرکن کہ ایں دنیا حریفاں راچہ کرد است سو یہ بڑا جرم ہے اس کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے وغرتکم الحیاۃ الدنیا کہ تم کو حیات دنیا نے فریب میں ڈال رکھا تھا۔ ان کے بعد سزا کو تمام کرتا ہے فالیوم لایخرجون منہا کہ آج اس جہنم سے چھٹکارا نہیں نہ کوئی عذر قبول ہوگا۔ ان مباحث روحانیہ کو ذکر کرکے سورة کو حمد باری پر تمام کرتا ہے فقال فللہ الحمد رب السماوات الخ کہ اللہ کو سب ستایش اور خوبیاں ہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب یعنی خالق اور پرورش کرنے والا ہے اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے عزت و بڑائی ہے اور وہ زبردست بھی ہے حکمت والا بھی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کبریائی میری چادر ہے اور عظمت ازار پھر جو کوئی میرے مقابلہ میں ان کا طالب ہوگا ان کو میں جہنم میں ڈال دوں گا۔ رواہ مسلم و ابودائود و ابن ماجہ۔ مرادر ارسد کبریاء و منی کہ ملکش قدیم است و دانش غنی