Ayah 47:1الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے (دوسروں
کو) روکا ‘ اللہ نے ان کے عمل کالعدم کر دئیے۔
وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکا جس کی وجہ سے لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے اور راہ اسلام پر چلنے سے باز رہے۔
اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ یعنی اللہ نے ان کے اعمال کو اکارت اور نابود کردیا۔ اعمال سے مراد ہیں ‘ وہ اعمال جو بظاہر بہت اچھے دکھائی دیتے ہیں جیسے غریبوں کو کھانا کھلانا ‘ قرابت داروں کے رشتۂ قرابت کو جوڑے رکھنا اور ان سے حسن سلوک کرنا اور قیدیوں کو رہا کرانا اور ہمسایہ کے حقوق کی نگہداشت کرنا۔ چونکہ کافروں کے اچھے اعمال کا مقصود خوشنودئ خدا کا حصول نہیں ہوتا ‘ اسلئے آخرت میں اللہ ان کا کوئی ثواب نہیں دے گا ‘ اللہ کی مہربانی سے دنیا میں ان کا اچھا بدلہ مل سکتا ہے۔ ضحاک نے اضلّ اعمالہم کا ترجمہ کیا : اللہ نے انکی خفیہ تدبیروں کو اکارت کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کے خلاف ان کی سیہ کاریوں کو نابود کردیا اور ان کی مکاریوں کا چکر انہی پر الٹ دیا۔
Ayah 47:2والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وھو الحق من ربھم کفر عنھم سیاتھم واصلح بالھم۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور وہ ان کے رب کے پاس سے امر واقعی ہے۔ اللہ ان کے اوپر سے ان کے گناہ اتار دے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا ‘
Ayah 47:3ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربھم کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر غلط راستے پر چلے اور اہل ایمان صحیح راستہ پر چلے ‘ جو ان کے رب کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کیلئے ان کے حالات بیان فرماتا ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ۔
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں تو تمام وہ امور داخل ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے ‘ ان میں خاص طور پر اس شریعت پر جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی ‘ ایمان لانا لازم قرار دیا ‘ اس سے شریعت محمدیہ پر ایمان لانے کی عظمت کا اظہار اور اس امر کی صراحت کرنی مقصود ہے کہ اس شریعت پر ایمان لائے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی اور اصل ایمان یہی ہے ‘ تمام ایمانیات اس میں داخل ہیں۔
وَھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِھِمْ یہ جملہ معترضہ ہے اور کلام مفید حصر ہے۔ بعض اہل علم نے کہا : اسکی حقانیت یہ ہے کہ یہ سب کا ناسخ ہے ‘ منسوخ نہیں ہے۔
کَفَّرَ ایمان اور اچھے اعمال کی وجہ سے اللہ ان کے گناہوں کو چھپا دے گا ‘ ان کے گناہوں پر پردہ ڈال دے گا۔
وَاَصْلَحَ بَالَھُمْ اور دنیا میں ان کے حالات درست رکھے گا ‘ دشمنوں پر فتح عنایت کرے گا ‘ گناہوں سے بچنے اور شیطان کے تسلط سے محفوظ رہنے کی اور طاعت الٰہیہ کی توفیق عطا فرمائے گا ‘ پھر آخرت میں دوامی راحت اور خوشنودئ خدا مرحمت کرے گا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی زندگی بھر ان کی حفاظت رکھے گا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا کہ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِسے مراد مکہ کے مشرک ہیں اور اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سے مراد انصار ہیں۔ میں کہتا ہوں : لفظ عام ہے (اس میں ہر کافر اور ہر مؤمن صالح داخل ہے) ۔
ذٰلِکَ یہ یعنی گمراہی اور تکفیر و اصلاح بال۔
الْبَاطِلَ یعنی شیطان۔
الْحَقَّ یعنی قرآن۔
یُضْرِبُ اللّٰہُ یعنی اللہ بیان کرتا ہے۔
اَمْثَالَھُمْ ان کے حالات ‘ یعنی ان لوگوں کے حالات یا مذکورۂ بالا دونوں فریقوں کے حالات ‘ یعنی لوگوں کو نصیحت پذیر بنانے کیلئے اللہ نے دونوں فریقوں کی مثال بیان کردی ‘ کفار کے اعمال کو اتباع شیطانی اور کافروں کے نامراد رہنے کو اعمال کا نابود ہونا اور مؤمنوں کے عمل کو اتباع حق اور ان کی کامیابی کو اسقاط معاصی فرمایا۔
Ayah 47:4فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا
بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا سو تمہارا جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو ‘ یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کر چکو تو خوب مضبوط باندھ لو ‘ پھر یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر ‘ جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں۔
فَاِذَا الَقِیْتُمُ ۔ لقیتم ‘ لقاء سے مشتق ہے اور لقاء (کا معنی ہے مقابلہ ‘ اس) سے مراد ہے لڑائی۔
فَضَرْبَ الرِّقَاب اصل ترجمہ تھا : فَاضْرِبُوا الرِّقَابَ ضَرْبًا خوب گردنیں مارو۔ گردن مارنے سے مراد ہے قتل کردینا۔ دوسرے اعضاء کو زخمی کردینے سے کبھی ہلاکت ہوجاتی ہے ‘ کبھی نہیں ہوتی اور گردن کاٹنے سے عام طور پر موت ہو ہی جاتی ہے ‘ اسلئے گردنیں کاٹنے کا حکم دیا ‘ یعنی قتل کر دو ۔
حَتّٰٓی اذآا اثخَنْتُمُوْھُمْ یہاں تک کہ جب تم خوب قتل کر چکو۔
اَثْخَنْتُمْ ۔ ثخین سے ماخوذ ہے ‘ ثخین کا معنی ہے دبیز ‘ موٹا۔ قتل کر چکو ‘ یعنی کثرت سے خونریزی کرو۔
فَشُدُّوا الْوَثَاق یعنی قتل سے رک جاؤ اور گرفتار کرلو اور مضبوطی کے ساتھ باندھ لو تاکہ بھاگ نہ جائیں۔ وِثاق اور وثاق بندھن جس سے کسی چیز کو باندھا جاتا ہے۔
فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ یعنی گرفتار کرنے کے بعد ان پر احسان رکھ کے بغیر معاوضہ لئے چھوڑ دو ۔
وَاِمَّا فِدَآءً اور یا وہ فدیہ اور رہائی کیلئے معاوضہ ادا کریں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے حکم کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں ‘ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ‘ آیت اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ اور آیت فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھَمْ اس کی ناسخ ہے۔ قتادہ ‘ ضحاک ‘ سدی اور ابن جریج کا قول یہی ہے۔ اوزاعی بھی اسی کے قائل ہیں ‘ اور ایک روایت میں امام ابوحنیفہ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔
میں کہتا ہوں : آیت فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھَمْ آیت مذکورہ کے حکم کی ناسخ نہیں ہوسکتی (دونوں کے احکام میں تضاد نہیں ہے) اور آیت اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ کا حکم (عام) مخصوص البعض ہے ‘ کیونکہ قیدیوں کو باندی غلام بنانا باتفاق علماء جائز ہے اور ان کو بطور ذمی باقی رکھنا امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور جب حکم مخصوص البعض ہوگیا تو قطعی نہ رہا ‘ باقی میں بھی ظنی ہوگیا ‘ اور آیت فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً قطعی ہے اور ظنی حکم ‘ قطعی حکم کو منسوخ نہیں کرسکتا۔
دوسرے علماء کے نزدیک آیت محکم ہے۔ اگر قیدی کافر ہوں ‘ مرد ہوں ‘ دیوانے نہ ہوں تو خلیفہ کو اختیار ہے کہ چاہے قتل کرا دے ‘ یا غلام بنا لے ‘ یا ان پر احسان کر کے بغیر معاوضہ لئے آزاد کر دے ‘ یا مالی معاوضہ لے کر چھوڑ دے ‘ یا مسلمان قیدیوں سے ان کا مبادلہ کرلے۔ حضرت ابن عمر اور اکثر صحابہ کا یہی قول ہے۔ حسن ‘ عطاء ‘ ثوری ‘ شافعی ‘ احمد بن حنبل ‘ اسحاق اور اکثر علماء کا مختار قول یہی ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ اور انکی حکومت مضبوط ہوگئی تو اللہ نے آیت فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً نازل فرما دی۔ زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ امام کو اختیار حاصل ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس پر عمل کیا اور آپ کے بعد خلفاء نے بھی۔
میں کہتا ہوں : اس صورت میں آیت مَا کَانَ لِنَّبِیِّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ منسوخ قرار دی جائے گی اور آیت فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً ناسخ مان لی جائے گی کیونکہ اول الذکر آیت غزوۂ بدر 02 ھ میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر 06 ھ میں کچھ قیدیوں کو بلامعاوضہ لئے آزاد کردیا تھا۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ اسی مسلح شخص کوہ تنعیم سے اتر کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ پر اچانک حملہ کردینا چاہتے تھے ‘ جب نیچے اتر کر آگئے تو حضور ﷺ نے ان کو پکڑوا لیا ‘ یعنی بغیر لڑائی کے وہ گرفتار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو زندہ چھوڑ دیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ان کو آزاد کردیا۔ اسی سلسلہ میں اللہ نے آیت وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِمْ نازل فرمائی ‘ رواہ مسلم۔
قیدیوں کے مسائل کے متعلق علماء کا اختلاف اور اس سلسلہ کی حدیث کا ذکر ہم نے سورة الانفال کی آیت مَا کَانَ لِنَّبِیِّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ کی تفسیر کے ذیل میں کردیا ہے۔
حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ حرب سے مراد ہیں اہل حرب ‘ لڑنے والے۔
اَوْزَارَھَا اپنے بوجھ ‘ یعنی اسلحہ۔ مراد یہ ہے کہ لڑائی ختم ہوجائے اور سوائے مسلم کے ‘ یا صلح کرنے والوں کے اور کوئی باقی نہ رہے۔ بعض نے کہا : اوزار سے مراد ہیں گناہ ‘ یعنی جنگی مشرک اپنے گناہوں کا بار اپنے اوپر سے اتار دیں ‘ مطلب یہ کہ کفر سے توبہ کرلیں ‘ مسلمان ہوجائیں۔ بعض اہل علم نے کہا (حرب سے مراد ہے تمہاری حرب اور اوزار سے مراد ہیں مشرکوں کے گناہ اور اعمال بد) مطلب یہ ہے کہ تمہاری لڑائی اور تمہارا جہاد مشرکوں کے گناہوں اور بدکاریوں کا بار اتار دیں ‘ وہ مسلمان ہوجائیں ‘ یعنی مشرکوں کو خوب قتل اور قید کرو تاکہ تمام ملتوں والے ملت اسلام میں داخل ہوجائیں۔
ا اللہ نے ضرب ‘ یا قید ‘ یا بلامعاوضہ رہائی اور معاوضہ لے کر آزادی ‘ یا ان تمام احکام کے مجموعہ کا نتیجہ انقطاع جنگ کو قرار دیا۔ یعنی یہ احکام اسلئے جاری کئے گئے کہ لڑائی کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے اور مشرکوں کا زور ٹوٹ جائے تو جنگ ہی کا خاتمہ ہوجائے اور ایسا حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت ہوجائے گا۔ حضرت عمران بن حصین راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جنگ کرتا رہے گا ‘ اپنے مقابلوں پر غالب رہے گا ‘ یہاں تک کہ ان کا آخری دشمن دجال مسیح سے جنگ کرے گا ‘ رواہ ابو داؤد۔ بغوی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : ” جب سے اللہ نے مجھے بھیجا ہے ‘ جہاد جاری ہے ‘ یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا “۔
ذلک ولو یشاء اللہ لا نتصر منھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض والذین قتلوا فی سبیل
ا اللہ فلن یضل اعمالھم۔ یہ (حکم جو مذکور ہوا) بجا لانا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لیتا ‘ لیکن تم میں سے بعض کی بعض کے ذریعے سے جانچ کرنے کیلئے اس نے یہ حکم دیا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ‘ اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا ‘
Ayah 47:5سیھدیھم ویصلح بالھم ان کو منزل مقصود تک پہنچائے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا۔
ذٰلِکَ مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی ان کے متعلق حکم یہی ہے۔ یا فعل محذوف ہے ‘ یعنی مشرکوں کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
وَلَوْ یَشَآءُ لاَ نْتَصَرَمِنْھُمْ یعنی اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے انتقام لے لیتا ‘ تمہارے جہاد کے بغیر ان کو ہلاک کردیتا۔
وَلٰکِنْ لیکن اس نے تم کو جنگ اور قتال کرنے کا حکم دیا۔
لِّیَبْلُوَا۔ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍتاکہ کافروں سے جنگ کرا کے مؤمنوں کی جانچ کرلے اور جہاد کر کے وہ ثواب کے مستحق ہوجائیں اور مؤمنوں سے جنگ کرا کے کافروں کی جانچ کرلے اور مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دے دے تاکہ کچھ لوگ کفر سے باز آجائیں اور بعض لوگ کفر پر قائم رہ کر دوزخ کے مستحق قرار پائیں۔
حاصل یہ کہ اللہ اگرچہ کافروں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ لیکن اس نے جو جہاد کا حکم دیا ہے ‘ یہ حکم پر حکمت اور منبی بر مصلحت ہے اور مصلحت یہ ہے کہ مؤمنوں اور کافروں کی جانچ ہوجائے۔
وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا یعنی مجاہدین جو راہ خدا میں مارے جائیں۔
فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ یعنی گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ان کے اچھے اعمال کو ضائع نہیں کر دے گا بلکہ گناہوں کو ساقط کر دے گا اور نیکیوں کا ثواب دے گا۔
اصفہانی نے ترغیب میں اور بزار و بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شہید تین ہیں : (1) ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کے ساتھ بامید ثواب لڑنے کیلئے اور مسلمانوں کے گروہ کی تعداد بڑھانے کیلئے نکلتا ہے اور چاہتا ہے کہ راہ خدا میں مارا جائے۔ یہ شخص اگر مرجائے گا یا مارا جائے گا تو اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا اور (قیامت کے دن) بڑی گھبراہٹ سے مامون رہے گا ‘ بڑی آنکھوں والی حوروں سے اس کا جوڑا لگایا جائے گا ‘ عزت کا لباس اس کو پہنایا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا۔ (2) دوسرا وہ شخص (شہید) ہے جو بامید ثواب اپنی جان و مال کے ساتھ (راہ خدا میں) نکلتا ہے اور قتل کرنا چاہتا ہے ‘ لیکن مارا جانا نہیں چاہتا۔ یہ شخص اگر مرجائے گا یا مارا جائے گا تو وہ ابراہیم خلیل اللہ کے ساتھ اللہ کے سامنے ایک بااقتدار بادشاہ کی مجلس صدق میں ہوگا۔ (3) تیسرا وہ شخص ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ بامید ثواب نکلا ‘ وہ چاہتا ہے کہ (دشمنوں کو) قتل کرے اور خود بھی مارا جائے۔ یہ شخص اگر مرجائے گا یا مارا جائے گا تو قیامت کے دن تلوار سونتے ہوئے ‘ کندھے پر رکھے ہوئے آئے گا۔ سب لوگ دو زانو بیٹھے ہوں گے اور یہ شہداء کہیں گے : ہم نے راہ خدا میں اپنے خون اور مال خرچ کئے ہیں ‘ ہمارے لئے جگہ کشادہ چھوڑ دو ۔ چناچہ یہ سب عرش کے نیچے پہنچ کر نور کے منبروں پر بیٹھ جائیں گے اور لوگوں کے فیصلے ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ اور نہ ان کو مرنے کا غم ہوگا ‘ نہ بزرخی فتنہ میں مبتلا ہوں گے ‘ نہ (صور اسرافیل سے) ان کو گھبراہٹ ہوگی ‘ نہ میزان ‘ حساب اور پل صراط کی فکر ہوگی۔ جو کچھ مانگیں گے ان کو دیا جائے گا ‘ جس معاملہ میں سفارش کریں گے ان کی سفارش مانی جائے گی ‘ جنت کا جو حصہ پسند کریں گے ان کو دیا جائے گا ‘ جنت میں جہاں چاہیں گے رہیں گے۔
ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ قتادہ نے کہا : ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ آیت اَلَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ احد کے دن نازل ہوئی۔ مسلمانوں میں زخمی اور شہدا پھیلے ہوئے تھے اور مشرکوں نے پکار کر کہا تھا : اعْلُ ہبَل (ہبل سربلند ‘ یا ہبل کی جے) اس کے جواب میں مسلمانوں نے نعرہ بلند کیا : اللہ اعلٰی واَجل (ا اللہ سب سے اونچا اور سب سے زیادہ بزرگی والا ہے) مشرکوں نے کہا : اِنَّ لَنَّا الْعُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ (عزّٰی دیوی ہماری ہے ‘ تمہاری کوئی عزّٰی نہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم کہو : اَللّٰہُ مَوْلٰنَا وَلا مَوْلٰی لَکُمْ (ا اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی کارساز نہیں) ۔
سَیَھْدِیْھِمْ یعنی اللہ دنیا میں ان کو ہدایت کے راستہ پر چلائے گا اور آخرت میں اونچے درجات کی رہنمائی کرے گا۔
وَیُصْلِحُ بَالَھُمْ یعنی دونوں جہان میں ان کے حالات کو درست رکھے گا۔ دنیا میں تو ان کے حالات کی درستی یہ ہوگی کہ جو مجاہد شہید نہیں ہوئے ان کو بھی شہداء کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا اور شہداء کا ثواب ان کو عطا کیا جائے گا کیونکہ وہ بھی لڑنے اور شہید ہونے کیلئے گھروں سے نکلے تھے۔ اور آخرت میں انکی اصلاح احوال یہ ہوگی کہ جو شہید ہوئے یا شہید نہ ہو سکے ‘ سب کے گناہ اللہ معاف کر دے گا اور نیکیاں قبول فرمائے گا اور جن لوگوں کے حقوق انکے ذمے ہوں گے ‘ اللہ (ثواب اور بدلہ دے کر) ان کو راضی کر دے گا۔
ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت سہل بن سعد کی روایت سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ‘ نیز بزار نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین (قسم کے) آدمیوں کی طرف سے قیامت کے دن اللہ (ان کا قرضہ) ادا کر دے گا : (1) وہ شخص جس کو اندیشہ ہو کہ دشمن مسلمانوں کے ممالک محروسہ پر حملہ کر دے گا اور اس کے پاس قوت نہ ہو ‘ اسلئے قرض لے کر ہتھیار خرید کر قوت حاصل کرلے اور قرض ادا کرنے سے پہلے مرجائے تو اللہ اس کی طرف سے اس کا قرض ادا کر دے گا۔ (2) وہ شخص جس کا مسلمان بھائی مرجائے اور اس کے پاس کفن دینے کو نہ ہو ‘ اسلئے قرض لے کر کفن خرید لے اور اداء قرض کی قدرت حاصل نہ ہو پائے اور اسی حالت میں مرجائے تو اس کا قرض بھی اللہ ادا کرے گا۔ (3) وہ شخص جس کو (نفسانی خواہش سے مغلوب ہو کر) ارتکاب زنا کا اندیشہ ہو ‘ اسلئے (کچھ قرض لے کر) کسی عورت سے نکاح کرلے اور اس طرح پاکدامن رہے اور ادائیگی قرض (پر قدرت حاصل ہونے) سے پہلے مرجائے تو اس کا قرض بھی اللہ ادا کر دے گا۔
طبرانی نے الاوسط میں اچھی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جب مخلوق جمع ہوگی اور جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں داخل کرنے کا فیصلہ ہوچکے گا تو ایک منادی پکارے گا : اے اہل جنت ! آپس کے حقوق سے دست بردار ہوجاؤ۔ اس کا ثواب (تمہارے لئے) اللہ کے ذمہ ہے۔
Ayah 47:6ویدخلھم الجنۃ عرفھا لم اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا۔
یعنی جنت کے اندر ان کو ان کے مکان بتادے گا کہ بغیر کسی راہ نما کے سیدھے وہ اپنے مکانوں میں پہنچ جائیں گے ‘ ایسا معلوم ہوگا کہ روز پیدائش سے وہ ان مکانوں میں رہتے چلے آئے ہیں۔ جس طرح لوگ دنیا میں اپنے مکانوں اور بیبیوں اور خادموں اور گھر والوں تک براہ راست ‘ بغیر کسی راہ نمائی کے پہنچ جاتے ہیں ‘ اس سے بھی زیادہ شناخت جنتیوں کو جنت کے اندر اپنے مکانوں اور درجہ کی ہوگی اور وہ براہ راست اپنے مکانوں اور گھر والوں تک پہنچ جائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر نے آیت کی یہی تشریح کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قسم ہے اس کی جس نے مجھے (دین) حق دے کر بھیجا ہے ! تم لوگ دنیا میں اپنی بیبیوں اور اپنے گھر والوں کو اس سے زیادہ شناخت نہیں کرتے ‘ جتنی شناخت اہل جنت اپنی بیبیوں اور اپنے گھر والوں کی رکھتے ہوں گے۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں اس کو بیان کیا ہے ‘ بیہقی نے البعث میں اور طبرانی ‘ نیز ابو یعلیٰ وغیرہ نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔
Ayah 47:7یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم۔ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔
Ayah 47:8والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم۔ اور جو لوگ کافر ہیں ‘ ان کیلئے تباہی ہے اور اللہ ان کے اعمال کو کالعدم کر دے گا۔
Ayah 47:9ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا ‘ سو اللہ نے انکے اعمال کو اکارت کردیا۔
اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یعنی اگر تم اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرو گے۔
یَنْصُرْکُمْ تو اللہ تم کو تمہارے دشمن پر فتح یاب کرے گا۔
وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ یعنی کافروں سے جہاد کرنے اور حقوق اسلام ادا کرنے میں تم کو ثابت قد م رکھے گا۔
فَتَعْسًا لَّھُمْ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کیلئے (ا اللہ کی رحمت سے) دوری ہے۔ ابو العالیہ نے تعسًا کا ترجمہ کیا : سقوط یعنی مغلوبیت ‘ گراوٹ۔ ضحاک نے کہا : ناکامی۔ ابن زید نے کہا : پراگندگی (یعنی شکست) ۔ فراء نے کہا : تعسًا مصدر ہے اور یہ جملہ دعائیہ ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے : دنیا میں ٹھوکر کھانا اور آخرت میں دوزخ میں گرنا۔ اگر کوئی شخص ٹھوکر کھا کر گرے اور لوگ اس کو اٹھانا نہیں چاہیں تو کہتے ہیں تعسًا۔ قاموس میں ہے : تعس (کا معنی ہے) ہلاکت ‘ ٹھوکر کھانا ‘ گرپڑنا ‘ شر ‘ دوری ‘ انحطاط۔
وَاَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ اور اللہ نے ان کے اعمال کالعدم کر دئیے کیونکہ وہ شیطان کی اطاعت کے زیر اثر تھے۔
ذٰلِکَ یہ ہلاکت اور تباہی۔
مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ یعنی قرآن کو انہوں نے پسند نہیں کیا تھا کیونکہ قرآن کے اندر جو توحید کی تعلیم اور انکی مرغوبات و نفسانی خواہشات کے مخالف اوامرو نواہی ہیں ‘ وہ ان کو ناپسند ہیں۔
فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ اس کو دوبارہ ذکر کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حبط عمل کفر کیلئے لازم ہے۔
Ayah 47:10افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمر اللہ علیھم وللکفرین امثالھا کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا انجام کیسا ہوا ؟ اللہ نے ان پر کیسی تباہی ڈالی ؟ اور ان کافروں کیلئے بھی اسی طرح کے معاملات ہونے والے ہیں۔
Ayah 47:11ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا وان الکفرین لا مولی لھم یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ مسلمانوں کا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا یعنی اہل مکہ کیا ملک میں چلے پھرے نہیں۔ استفہام انکاری ہے اور اس کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا یہ (گھروں سے) باہر نہیں نکلے اور ملک میں چلے پھرے نہیں۔
اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی گذشتہ پیغمبروں کی کافر امتیں۔
دَمَّرَ اللّٰہُ اللہ نے ان کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا۔
عَلَیْھِمْ یعنی ان کو اور ان کے اہل و عیال و مال کو۔
وَلِلْکٰفِرِیْنَ یعنی مکہ کے کافروں کیلئے۔
اَمْثَالُھَا اس سابق انجام سے ‘ یا اس عذاب سے ‘ یا اس ہلاکت سے چند گونہ بدانجامی ‘ یا عذاب ‘ یا ہلاکت ہونے والی ہے۔
ذٰلِکَ یہ یعنی مؤمنوں کی مدد اور کافروں پر قہر۔
بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی اللہ مؤمنین کا کارساز ہے ‘ مددگار ہے ‘ ان کی مدد کرے گا ‘ ان کو توفیق دے گا ‘ ان کے کاموں کو درست کر دے گا ‘ شیطانی خطرات کو ان سے دفع کر دے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا : اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ (تیرا تسلط میرے بندوں پر نہ ہوگا) ۔
وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے کفر اور شیطان کا تسلط مقرر کردیا گیا ہے۔
Ayah 47:12ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ‘ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے (درختوں اور محلوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں ‘ وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں جانوروں کی طرح کھا رہے ہیں اور (آخرت میں) دوزخ ان کا ٹھکانہ ہوگا۔
یَتَمَتَّعُوْنَ یعنی کچھ دنوں دنیا کے مزے اڑاتے ہیں۔
کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَام یعنی جانوروں کی طرح کھانے کی حرص کرتے ہیں ‘ منعم سے غافل ہیں ‘ اس کا شکر نہیں کرتے اور انجام بد سے نہیں ڈرتے۔
مَثْوًی فرودگاہ ‘ جائے قیام (ٹھکانہ) ۔
Ayah 47:13وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلا ناصر لھم اور
بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے جس کے رہنے والوں نے آپ کو (وطن سے) نکال باہر کیا ‘ بڑھی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان کو تباہ کردیا ‘ سو کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔
وَکَاَیِّنْ اور بہت سی۔
مِّنْ قَرْیَۃٍ ۔ قریۃ سے مراد ہیں اہل قریہ۔ مضاف کو حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ پر مضاف کے احکام جاری کر دئیے گئے۔
الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ یعنی جس بستی کے رہنے والوں نے آپ کو وطن سے نکال دیا۔ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں ‘ جن سے مجبور ہو کر آپ کو ہجرت کرنی پڑی۔ ترک وطن کے باعث اہل مکہ ہوئے ‘ اسلئے نکال دینے کی نسبت ان کی طرف کردی گئی۔
ابو یعلیٰ کی روایت ہے اور بغوی نے اسکو ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکل کر غار (ثور) کی طرف جانے لگے تو مکہ کی طرف رخ کر کے فرمایا : اللہ کے تمام شہروں میں تو اللہ کو زیادہ پیارا ہے اور مجھے بھی سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر مشرک مجھے یہاں سے نہ نکالتے (یعنی نکلنے پر مجبور نہ کردیتے) تو میں نہ نکلتا۔ اس پر آیت نازل ہوئی۔
فَلاَ نَاصِرَ لَھُمْ پس ان کا کوئی مددگار نہیں ہوا۔ گذشتہ واقعہ کا بیان ہے۔
Ayah 47:14افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوء عملہ واتبعوا اھواء ھم تو جو لوگ اپنے رب
کے واضح راستوں پر ہوں ‘ کیا وہ ان شخصوں کی طرح ہوسکتے ہیں ‘ جن کو اپنی بداعمالی خوبصورت معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں ؟
اَفَمَنْ کَان استفہام انکاری ہے ‘ یعنی دونوں فریق ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ مؤمن کا کارساز اللہ ہے اور کافر کا کوئی کارساز نہیں۔ مؤمن کا یقین (یعنی ایمان) دلیل یعنی قرآن پر مبنی ہے جو اس کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ بیّنۃ سے ہر دلیل بھی مراد ہوسکتی ہے ‘ خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی اور کافر کی نظر کے سامنے شرک اور بداعمالی خوبصورت شکل میں شیطان لے آتا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتا اور بتوں کی پوجا کرتا ہے۔ یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے ‘ اول فریق کو دوسرے فریق پر بلاشبہ عقلاً برتری حاصل ہے۔
Ayah 47:15مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من ماء غیر اسن وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ
وانھر من خمیر لذۃ للشربین وانھر من عسل مصفے ً جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ اسکی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں کبھی بگاڑ نہ ہوگا اور بہت سی نہریں ایسے دودھ کی ہیں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا ہوا نہ ہوگا ‘ اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کیلئے سراسر لذت ہی ہوں گی اور بہت سی نہریں نہایت صاف شہد کی ہیں۔
مَثَلُ الْجَنَّۃِ یعنی جنت کی عجب کیفیت۔ یہ جملہ متبداء ہے اور خبر محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح ہے : جنت موعود کی عجیب کیفیت تمہارے سامنے بیان کی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگلی آیت کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ اس کی خبر ہے ‘ پوراکلام اس طرح ہوگا : کیا جنت والوں کی حالت ان لوگوں کی حالت کی طرح ہوگی جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ حرف استفہام کو غیر ضروری قرار دے کر بالکل حذف کردیا گیا ‘ اس صورت میں یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ جو لوگ رب کے کھلے ہوئے راستہ پر چلنے والوں کو پرستاران ہوا و ہوس کی طرح قرار دیتے ہیں ‘ وہ گویا جنت اور دوزخ کو برابر سمجھتے ہیں۔ اٰسِنٌ اور اَسِنٌ وہ چیز جس کا نہ مزہ خراب ہو ‘ نہ بو۔ دنیا کا پانی اگر کچھ مدت ٹھہرا رہے گا تو اس کا مزہ بھی خراب ہوجاتا ہے اور بدبو دار بھی ہوجاتا ہے ‘ مگر جنت کی نہروں کا پانی ایسا نہیں ہوگا۔ اسی طرح دنیا میں جو معمولاً دودھ ہوتا ہے ‘ اس کا مختلف اسباب کے زیراثر مزہ خراب ہوجاتا ہے ‘ ترشی پیدا ہوجاتی ہے ‘ مگر جنت کی نہروں کا دودھ ہر بگاڑ سے پاک ہوگا۔
لَّذَّۃٍ صفت مشبہ کا صیغہ ہے ‘ یعنی لذیذ۔ اس کا مذکر لَذٌّ آتا ہے ‘ یا مصدر ہے اور مضاف محذوف ہے ‘ یعنی لذت والی۔ یا بطور مبالغہ لذیذ کو لذت فرما دیا ‘ یعنی سراسر لذت ہی لذت۔ نہ اس کی بو ناگوار ہوگی جیسی دنیوی شراب کی ہوتی ہے ‘ نہ نشہ اور خمار ہوگا (نہ دردسر ‘ نہ پینے کے بعد بکواس۔ مترجم) ۔
عَسَلٍ مُّصَفًّیط نہایت صاف شہد جس کے اندر نہ موم کی آمیزش ہوگی ‘ نہ مکھیوں کے فضلہ کی۔
حضرت معاویہ بن حیدہ نے بیان کیا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جنت کے اندر پانی کا دریا اور شہد کا دریا ہے اور دودھ کا دریا ہے اور شراب کا دریا ہے ‘ پھر (ہر ایک سے) نہریں نکالی گئی ہیں۔ روای البیہقی والترمذی ‘ ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کی نہریں مشک کے پہاڑ سے پھوٹ کر نکلتی ہیں۔ رواہ ابن حبان والحاکم والبیہقی والطبرانی وابن ابی حاتم۔
مسروق کا بیان ہے کہ جنت کی نہریں بغیر گڑھے کے (ہموار سطح پر) بہتی ہیں ‘ رواہ ابن المبارک والبیہقی۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شاید تم خیال کرتے ہو کہ جنت کی نہریں زمین کے گڑھے میں (بہتی) ہوں گی۔ نہیں ‘ خدا کی قسم ! وہ روئے زمین پر رواں ہوں گی۔ اس کے دونوں کنارے موتیوں کے خیمے ہوں گے اور اس کی مٹی خالص مشک ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سیحون اور جیحون اور فرات اور نیل سب جنت کی نہروں سے ہیں ‘ رواہ مسلم۔ حضرت عمرو بن عوف راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار (دریا) جنت کی نہریں (دریا) ہیں : نیل ‘ فرات ‘ سیحون اور جیحون۔ اور چار پہاڑ جنت کے پہاڑ ہیں : احد ‘ طور ‘ لبنان اور ورقان۔ کعب احبار نے کہا : جنت کے اندر دریائے نیل شہد کا دریا ہے اور دریائے دجلہ دودھ کا دریا ہے اور دریائے فرات شراب کا دریا ہے اور دریائے سیحون پانی کا دریا ہے (یعنی جنت کے اندر جن دریاؤں کے یہ دنیوی نام ہیں ‘ ان کی حقیقت شہد ‘ دودھ ‘ شراب اور پانی ہے) راوہ البیہقی۔
بغوی نے کعب احبار کا قول اس طرح بیان کیا ہے : دریائے دجلہ (جو جنت میں ہے) جنتیوں کے پانی کا دریا ہے اور فرات (نام) کا جو دریا ہے ‘ ان کے دودھ کا دریا ہے اور مصر کا دریا (یعنی نیل ‘ مراد جنتی نیل) جنتیوں کی شراب کا دریا ہے اور دریائے سیحون ان کے شہد کا دریا ہے اور یہ چاروں (جنتی) دریا ‘ دریائے کوثر سے نکلتے ہیں۔
ولھم فیھا من کل الثمرات ومغفرۃ من ربھم اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے
رب کی طرف سے بخشش ہوگی۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : دنیا میں کوئی پھل ایسا نہیں جو جنت میں نہ ہو ‘ میٹھا ہو یا کڑوا ‘ یہاں تک کہ حنظل بھی۔ رواہ ابن ابی حاتم وابن المنذر فی تفسیرہما۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جنت میں جو پھل ہیں ‘ دنیا میں ان کے صرف نام ہیں (جنت کے پھل کی حقیقت ‘ لذت ‘ کیفیت دنیا کے پھلوں میں نہیں ہے) رواہ ابن جریر وابن ابی حاتم ومُسَدّد فی مسندہ وہناد (فی الزہد) والبیہقی۔
حضرت ثوبان کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنتی آدمی جونہی جنت کا کوئی پھل درخت سے توڑے گا ‘ فوراً اس کی جگہ ویسا ہی دوسرا پھل لگ جائے گا۔
وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ اور ان کیلئے ان کے رب کی طرف سے معافی ہوگی ‘ یعنی ان کا رب کبھی ان سے ناراض نہیں ہوگا۔ دنیوی آقاؤں کی طرح معاملہ نہ ہوگا کہ کبھی وہ اپنے غلام سے راضی ہوتے ہیں ‘ کبھی ناراض۔
کمن ھو خالد فی النار وسقوا ماء حمیما فقطع امعاء ھم کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو
ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا ‘ سو وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ یہ جملہ متبداء محذوف کی خبر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا وہ شخص جو اس جنت میں ہمیشہ رہے گا ‘ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
کَمَنْ ھُوَ میں لفظ کے لحاظ سے مَنْ مفرد ہے ‘ اس لئے ھُوَ ضمیر مفرد راجع کردی گئی ‘ لیکن معنی کے اعتبار سے مَنْ جمع ہے ‘ اسلئے سُقُوْا کی ضمیر جمع لوٹائی گئی۔
فَقَطَّعَ اَمْعَآءَھُمْ یعنی کھولتے پانی کی انتہائی حرارت کی وجہ سے انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دبر سے نکل جائیں گی۔
ان المنذر نے بحوالۂ ابن جریج بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مؤمن اور منافق ‘ سب ہی جمع ہوتے تھے۔ حضور ﷺ جو کچھ فرماتے ‘ مؤمن تو اس کو کان لگا کر) سنتے اور یاد رکھتے اور منافق سنتے تھے مگر یاد نہیں رکھتے تھے (دل میں جگہ نہیں دیتے تھے) پھر جب حضور ﷺ کے پاس سے منافق نکل کر آتے تھے تو مؤمنوں سے پوچھتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی کیا فرمایا تھا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 47:16ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوا العلم ما ذا
قال انفا اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوا اھواء ھم اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو آپ کی (بات کی) طرف کان لگاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم سے کہتے ہی : رسول اللہ ﷺ نے ابھی کیا فرمایا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے چھاپ لگا دی ہے اور یہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَالخ یہ لوگ منافق تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو سنتے تو تھے ‘ لیکن لاپرواہی اور تغافل برتتے تھے ‘ اسی لئے نہ یاد رکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے ‘ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خیال میں اس کلام کو حق جانتے ہی نہ تھے۔
مَا ذَا قَال یعنی محمد ﷺ نے کیا کہا۔
اٰنِفًا ابھی۔ انف الشیءٍ کسی چیز کا اگلا حصہ ‘ اسی لئے ناک کو انف کہا جاتا ہے اور اس سے (مشتق) ہے اسْتَانَفَ اور اِءْتَنَفَ ۔ منافقوں کا یہ کلام یا واقعی حصول علم کیلئے ہوتا تھا ‘ یا بطور استہزاء۔
Ayah 47:17والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم اور جو لوگ راہ پر ہیں ‘ اللہ ان کو اور زیاہد ہدایت دیتا ہے اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دیتا ہے۔
زَادَھُمْ ھُدًی یعنی اللہ اپنے رسول کے ہر کلام کی وجہ سے ان کے اندر علم بصیرت اور شرح صدر بڑھاتا ہے۔
وَاٰتٰھُمْ تَقْوٰھُمْ یعنی حکم کے موافق عمل کرنے کی ان کو توفیق عطا کرتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دوزخ سے محفوظ رہنے کے طریقے ان پر واضح کردیتا ہے۔ سعید بن جبیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ ان کو ان کی پرہیزگاری کا ثواب عنایت فرمائے گا۔
Ayah 47:18فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ فقد جاء اشراطھا فانی لھم اذاجاء تھم
ذکرمھم سو یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعۃً آپڑے ‘ سو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں تو جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی ‘ اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا۔
فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی مکہ کے کافر انتظار نہیں کر رہے ہیں ‘ مگر اس بات کا کہ قیامت کی گھڑی ان پر ناگہاں آجائے۔ سوال انکاری ہے ‘ یعنی قیامت لامحالہ اچانک آئے گی اور یہ لوگ کیا اس گھڑی کے منتظر ہیں۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو توبہ نہ کرتے اور اطاعت کی طرف تیزی سے نہیں بڑھتے تو معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کیلئے یہ ساعت قیامت کے آنے کے منتطر ہیں ‘ لیکن اس وقت تو توبہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اطاعت کرنے کی استطاعت ہی نہ ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ (توبہ کرنے کیلئے) بس انتظار کرتے رہتے ہیں ایسے دولت مند ہوجائے کا جو سرکش بنا دے ‘ یا ایسے ناداری کا جو (تمام فرائض کو) فراموش کرا دے ‘ یا ایسی بیماری کا جو (ساری صحت کو) تباہ کر دے ‘ یا ایسے بڑھاپے کا جو خبطی بنا دے ‘ یا ایسی موت کا جو (ہر ایک کیلئے) تیار کردی گئی ہے ‘ یا دجال (کے سامنے آجانے) کا ‘ اور دجال ایسا شر ہے جو غائب ہے (اور جب تک وہ غائب رہے ‘ بہتری ہے) یا قیامت کا ‘ اور قیامت بہت سخت مصیبت اور بڑی تلخ (حقیقت) ہے۔
فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُھَا یعنی قیامت کی نشانیاں اور علامات آچکی ہیں : (1) چاند پھٹ چکا ‘ اللہ نے فرمایا ہے : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ (2) دھواں۔ (3) رسول اللہ ﷺ کی مبارک بعثت ہوگئی۔ مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت سہل بن سعد کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے درمیانی انگلی اور اس کے برابر کی انگلی کو جو انگوٹھے سے متصل ہے ‘ جوڑ کر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : میں قیامت کے ساتھ ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (متصل) بھیجا گیا ہوں۔ احمد ‘ ابن ماجہ اور ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت انس نے فرمایا : میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں ‘ جو میرے سوا کوئی اور تم سے نہیں بیان کرے گا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : قیامت کی علامات یہ ہیں کہ علم اٹھا لیا جائے گا ‘ جہالت کی کثرت ہوجائے گی ‘ زنا بڑھ جائے گا ‘ شراب خوری کثیر ہوجائے گی ‘ مرد کم ہوجائیں گے ‘ عورتیں اتنی زیادہ ہوجائیں گی کہ پچاس (پچاس) عورتوں کا ایک سر دھرا ہوگا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : علم کم ہوجائے گا اور جہالت کا غلبہ ہوجائے گا (متفق علیہ) ۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دوران گفتگو میں ایک بدوی آیا اور عرض کیا : قیامت کب ہوگی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے گی تو اس وقت قیامت کا انتظار کر۔ اس نے عرض کیا : امانت کے ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : جب معاملات (حکومت) ایسے لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں گے جو اہل نہیں ہیں تو قیامت ہونے کا منتظر رہ (بخاری) ۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مال فَے کو دولت اور امانت کو مال غنیمت اور زکوٰۃ کو تاوان قرار دے لیا جائے اور تحصیل علم کی غرض دین کے علاوہ (کچھ اور) ہو ‘ اور مرد اپنی بی بی کے کہے پر چلے اور ماں کی نافرمانی کرے ‘ دوست کو اپنا مقرب بنا لے ‘ اور باپ کو دور کر دے ‘ اور مسجدوں میں آوازیں اٹھنے لگیں (یعنی جھگڑے ہونے لگیں) اور فاسق ‘ قوم کے سردار ہوجائیں اور قوم کا کرتا دھرتا وہ ہو جو سب سے زیادہ رذیل ہو ‘ اور آدمی کی عزت اس غرض سے کی جائے کہ دوسرے لوگ اسکے شر سے محفوظ رہیں اور گانے والی عورتیں اور باجے کثیر ہوجائیں اور شرابیں (بکثرت) پی جائیں اور اس امت کے پچھلے لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں تو ایسے وقت انتظار کرو سرخ آندھیوں کا ‘ زلزلوں کا ‘ زمین کے اندر (بستیوں کے) دھنس جانے کا ‘ صورتیں مسخ ہوجانے کا اور پتھر برسنے کا ‘ بکثرت پے در پے نشانیوں کا جو اس طرح آئیں گی جیسے کسی ہار کا دھاگا کاٹ دیا جائے (اور اس کے دانے بکھر جائیں) رواہ الترمذی۔
حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میری امت پندرہ کام کرنے لگے گی تو ان پر مصیبت کا نزول ہوگا۔ حضور ﷺ نے ان کی گنتی بتائی اور فرمایا : دین کے علاوہ کسی اور غرض سے علم حاصل کیا جائے گا اور دوست سے حسن سلوک کیا جائے گا اور باپ پر ظلم کیا جائے گا اور شراب پی جائے گی اور ریشمی لباس پہنا جائے گا (ترمذی) ۔
فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُھَا گویا قیامت کے اچانک آجانے کی علت ہے۔
فَاَنّٰی لَھُمْ اِذَا جَآءَتْھُمْ ذِکْرٰھُمْ یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو اس وقت نصیحت پذیری کا موقع ان کیلئے کہاں ہوگا ‘ اس وقت تو نصیحت پذیری بےسود ہوگی۔
Ayah 47:19فاعلم انہ لا الہ الا اللہ تو آپ یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے اور کوئی قابل عبادت نہیں ہے۔
فَاعْلَمْ میں فَ سببیہ ہے ‘ یعنی جب آپ کو مؤمنوں کا خوش نصیب ہونا اور کافروں کا بدنصیب ہونا معلوم ہوگیا تو اے محمد ﷺ ! آپ کو اللہ کی وحدانیت اور نفس کی اصلاح احوال و اعمال کا جو علم حاصل ہوگیا ہے ‘ اس پر جمے رہئے ‘ قیامت کے دن یہی علم آپ کیلئے مفید ہوگا۔
واستغفر لذنبک اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی کی دراخوست کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ اگرچہ ہر گناہ سے
معصوم تھے ‘ کسی گناہ کا ارتکاب آپ سے ممکن ہی نہ تھا ‘ لیکن بندہ کی عبادت اللہ کی عظمت و جلال کے مقابلے میں بہرحال قاصر ہے (عبادت کا حق کون ادا کرسکتا ہے) اسی لئے حکم دیا کہ اپنے کو حق عبادت ادا کرنے سے قاصر سمجھتے ہوئے استغفار کیجئے اور آپ کی امت کو بھی آپ کی پیروی کرنی چاہئے۔ 1 رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس حکم کی تکمیل کی اور فرمایا : میرے دل پر (بعض اوقات) کچھ زنگ آجاتا ہے اور روزانہ سو مرتبہ میں اللہ سے معافی کا طلبگار ہوتا ہوں۔ رواہ مسلم واحمد و ابوداؤد والنسائی من حدیث الاغر المازنی۔
میں کہتا ہوں : دل پر زنگ (میل) آنے سے شاید وہ کیفیت مراد ہے جو امکان کی تاریکیوں کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے اور پھر صوفی اپنے تمام (وجود اور اس کے تابع) کمالات کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتا ہے (اور اس طرح امکان کی تاریکی مغلوب ہو کر دل سے دور ہوجاتی ہے) ۔
مجدد الف ثانی نے ایک بار فرمایا : جو شخص اپنے نفس کو فرنگی کافر سے بھی برا نہیں جانتا ‘ اس کی معرفت اس کیلئے حرام ہے۔ سوال کیا گیا : یہ کیسے ممکن ہے ‘ صوفی تو اپنے آپ کو کم سے کم پکا سچا مؤمن جانتا اور کافر کو لامحالہ کافر سمجھتا ہے اور کفر پر ایمان کی فضیلت دین کی ضروریات میں سے ہے۔ حضرت مجدد نے جواب دیا : ہر ممکن موجود ہے۔ ظلمت امکان سے کوئی ممکن خالی نہیں ‘ وجود اور اس کے تابع کمالات کا نور تو بارگاہ منان سے بطور مستعار ملا ہوا ہے ‘ وجود اور دوسرے وجودی کمالات کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب صوفی جو کرتا ہے ‘ وہ آیت اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَات الآی اَھْلِھَا کے حکم کی تعمیل میں کرتا ہے۔ صوفی جانتا ہے کہ وجود مستفاد من الرحمن ہے ‘ اس کا پہلو غالب ہے اور وہ اس کا نفس (ممکن بالذات ہونے کی وجہ سے) ہر ماسوا سے زیادہ برا ہے۔ چونکہ حیثیت اور لحاظ کا اختلاف ہے اور علم و ادراک کے درجات کا تفاوت ہے ‘ اسلئے اپنے نفس کو فرنگی کافر سے بھی بدتر جاننا فضیلت ایمان علی الکفر کے عقیدہ سے نہیں ٹکراتا۔ ہاں ! جو لوگ غافل ہیں ‘ وہ اپنے وجود و کمالات کو اپنے نفس کی جانب منسوب کرتے ہیں اور پکارتے ہیں : اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ (میں کافر سے بہتر ہوں) خیر ہونے کا یہ قول صحیح ہے ‘ لیکن انانیت حرام ہے (اپنے نفس کی طرف بہتر ہونے کی نسبت ایمان و توحید کے خلاف ہے ‘ مترجم) ۔
وللمؤمنین والمؤمنت اور (معافی طلب کیجئے) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے (گناہوں کے) لئے بھی ‘
یعنی ان کیلئے دعائے مغفرت کیجئے اور ان کو ایسے عمل پر آمادہ کیجئے جو باعث مغفرت ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اللہ کا اس امت پر بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے امت کی مغفرت کیلئے دعا کرنے کا حکم اپنے پیغمبر کو دیا ‘ اور آپ شفیع مستجاب الدعا تھے (اسلئے انشاء اللہ آپ کی دعا قبول ہوگی) ۔
وا اللہ یعلم متقلبکم ومثواکم اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کو جانتا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : متقلب یعنی مشاغل دنیوی میں گھومنا پھرنا اور پھیلنا۔ اور مثوٰی سے مراد ہے آخرت میں جنت یا دوزخ کی طرف جانا۔ مقاتل اور ابن جریر نے کہا : متقلبکم سے مراد ہے دن میں کاروبار میں مصروف رہنا اور مثوٰکم سے مراد ہے رات کو خواب گاہوں میں بستروں پر چلا جانا۔ عکرمہ نے کہا : متقلبکم یعنی پشت پدر سے رحم مادر میں آنا اور مثوٰکم سے مراد ہے زمین پر ٹھہرنا ‘ قیام کرنا۔ ابن کیسان نے کہا : متقلبکم یعنی پشت سے شکم میں آنا اور مثوٰکم یعنی قبروں میں قیام کرنا۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہارے تمام احوال کو جانتا ہے ‘ اس سے تمہاری کوئی کوئی حالت پوشیدہ نہیں ‘ اسلئے اس سے ڈرتے رہو۔
خطاب تمام انسانوں کو ہے ‘ مؤمن ہوں یا کافر۔
Ayah 47:20ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محکمۃ وذکرفیھا القتال رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت فاولٰی لھم۔ اور جو لوگ ایمان والے ہیں ‘ وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہیں نازل ہوئی ؟ سو جس وقت (صاف صاف مضمون کی) کوئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے (یعنی نفاق) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی رموت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ سو (اصل ات یہ ہے کہ) عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے۔
Ayah 47:21طاعۃ وقول معروف ان کی اطاعت اور بات چیت معلوم ہے۔
وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی جہاد کی انتہائی خواہش کی وجہ سے مسلمان کہتے ہیں۔
لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ یعنی کوئی ایسی سورت کیوں نہیں نازل کی گئی جس میں جہاد کا حکم ہوتا۔
فَاِذآا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْھَا الْقِتَالُلا یعنی جس میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة ٌ محکمۃٌ کا معنی علماء کے نزدیک یہ ہے کہ سوائے جہاد کی فرضیت کے کسی اور معنی کا اس میں احتمال نہیں ہے (کسی صحیح توجیہ و تاویل سے سوائے جہاد کے کوئی اور معنی مراد نہیں لئے جاسکتے) ۔
قتادہ نے کہا : جس سورت میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے ‘ وہ محکم ہے ‘ ناقابل منسوخی ہے بلکہ اسکے نزول سے پہلے جو صلح و ملاپ رکھنے کا حکم دیا گیا ہو ‘ سب کو حکم جہاد منسوخ کرنے والا ہے۔ حکم جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ جہاد کا حکم جس سورت میں نازل ہوا ‘ منافقوں پر اس سورت کا نزول سارے قرآن سے زیادہ شاق اور دشوار ہے۔
فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ مرض سے مراد بزدلی اور ضعف ‘ ایسے ڈرپوک لوگ۔
یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ انتہائی خوف اور بزدلی کی وجہ سے آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے الخ۔
فَاَوْلٰی لَھُمْ پاس ان کیلئے بہتر ہے۔
طَاعَۃٌ یعنی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم جہاد کی اطاعت۔
وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ یعنی بسر و چشم کہنا۔
فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرا لھم پس جب سارا کام تیار ہوجاتا ہے ‘ تو یہ لوگ اگر اللہ سے
سچے رہتے تو ان کیلئے بہتر ہوتا۔
عَزَمَ الْاَمْرُ ۔ الامر سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اصحاب الامر۔ یعنی جن کو قتال کا حکم دیا ‘ وہ لوگ جب جہاد پر سنجیدگی سے مستعد ہوگئے ‘ یا عزم کا معنی لازم ہوگیا ‘ فرض ہوگیا ‘ یعنی جب جہاد فرض ہوگیا (اس مطلب پر مضاف محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہوگی اور الامر کی طرف عزم کی نسبت مجازی نہیں ہوگی) ۔
فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰہَ یعنی جہاد کی انتہائی رغبت کا جو انہوں نے اظہار کیا ‘ اگر وہ اس میں سچے ثابت ہوتے تو ان کیلئے بہتر ہوتا۔
لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ یہ لَوْ صَدَقُوا کی جزا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک شرط کی جزا محذوف ہے ‘ اور یہ جملہ علیحدہ ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : جب جہاد لازم ہوگیا تو انہوں نے اپنے قول کو سچ نہ کر دکھایا (اور حکم جہاد کو ناگوار سمجھا اور اگر وہ اپنی رغبت جہاد کو سچ کردکھاتے تو ان کیلئے بہتر ہوتا) ۔
Ayah 47:22فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحاکم۔ سو اگر تم کنارہ کش رہو تو کیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع قرابت کر دو ؟
Ayah 47:23اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ‘ پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔
فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا یعنی اے بزدلو اور ڈرپوک لوگو ! اگر تم نے رسول کے اتباع سے روگردانی کی تو کیا تم سے یہ توقع کی جائے کہ تم کفر اور معاصی کی وجہ سے ملک میں تباہی پھیلاؤ گے۔
وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ اور اپنی قرابت داریاں منقطع کر دو گے ‘ یعنی اپنے مؤمن مجاہد رشتہ داروں کی مخالفت کرو گے۔ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ایسا نہ ہونا چاہئے کہ تم سے ملک میں فساد پھیلانے اور رشتہ داریاں منقطع کرنے کی توقع کی جانے لگے۔ 1
اُولٰٓءِکَ یعنی یہی زمین میں تباہی پھیلانے والے اور قرابت داریاں کرنے والے۔
الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ وہ لوگ ہیں کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ‘ خارج کردیا ہے۔
فَاَصَمَّھُمْاور کلام حق سننے سے بہرا کردیا ہے اور تصور حق دیکھنے سے اندھا بنا دیا ہے (اسلئے گوش حق نیوش سے وہ بہرے ہیں اور چشم حق بیں سے محروم ہیں) ۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرْضٌ سے منافق مراد ہیں اور مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ اور اَوْلٰی کا معنی ہے سخت ویل (ہلاکت ‘ خرابی) اولٰی بروزن اَفْعَلُ اسم تفضیل کا صیغہ ہے ‘ اس کا مادہ ویل (بمعنئ ہلاکت) یا ولی بمعنئ قرب ہے ‘ یا اس کا وزن فَعْلٰی ہے ‘ اس کا ماضی آلَ (رَجَعَ ) آتا ہے اور طاعَۃٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ مبتدا ہے جس کی خبر (خَیْرٌ لَّھُِمْ ) محذوف ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ منافق کہتے ہیں ” طاعۃ وقول معروف “ اللہ نے ان کے قول کو نقل کردیا ‘ اور فرمایا : اگر یہ بات یہ لوگ سچ کہتے اور سچ کردکھاتے تو ان کیلئے بہتر ہوتا ‘ لیکن انہوں نے جھوٹ کہا ‘ ایسی حالت میں اگر تم لوگوں کے حاکم بن جاؤ اور ان کے امور کے متولی بنا دئیے جاؤ تو تم سے بعید نہیں کہ ظلم کر کے ملک میں تباہی پیدا کر دو گے (اس مطلب پر تولّیتم کا معنی ہوگا : تم متولی ہوجاؤ ‘ حاکم ہوجاؤ) یہ آیت بنی امیہ اور بنی ہاشم کے حق میں نازل ہوئی۔ اس بات کی تاکید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت علی کی قرأت میں تولّیتم بصیغہ مجہول آیا ہے (گویا اس جگہ باب تفعل بمعنی تفعیل ہے اور تولّیتم بمعنی ولّیتم ہے) مطلب اس طرح ہوگا کہ اگر تم ظالم حاکم مقرر کر دو گے تو ملک میں تباہی پھیلاؤ گے اور فتنہ انگیزی میں ان کے ساتھ ہوجاؤ گے۔
ابن جوزی نے لکھا ہے کہ قاضی ابو یعلیٰ نے اپنی کتاب المعتمد میں صالح بن احمد بن حنبل کا بیان نقل کیا ہے ‘ صالح کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد سے کہا : ابا ! لوگ کہتے ہیں کہ ہم یزید بن معاویہ سے محبت کرتے ہیں۔ ابا نے فرمایا : بیٹے ! جو شخض اللہ پر ایمان رکھتا ہے ‘ کیا اس کیلئے یزید بن معاویہ سے محبت رکھنے کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ؟ اس شخص پر کسی طرح لعنت نہ کی جائے جس پر اللہ نے لعنت کی ہو۔ میں نے عرض کیا : اللہ نے اپنی کتاب میں کس جگہ یزید پر لعنت کی ہے ؟ امام احمد نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا ہے : فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِﷲْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمآی اَبْصَارَھُمْ ۔
Ayah 47:24افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ؟
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ یعنی کیا قرآن میں غور نہیں کرتے ‘ قرآن کے اندر جو نصیحتیں اور تنبیہات ہیں ‘ ان کو تلاش نہیں کرتے ‘ اگر تفحص اور تلاش سے کام لیتے تو حق ان پر واضح ہوجاتا۔ استفہام انکاری توبیخی ہے۔
اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا یہ استعارہ بالکنایہ ہے ‘ قلوب کو خزانہ سے تشبیہ دی ‘ اور ہر خزانہ کا مقفل ہونا لازم نہیں تو مناسب ضرور ہے۔ مشبہ بہ کی مناسبت کو مشبہ کیلئے ثابت کیا ہے ‘ پھر اقفال کی قلوب کی طرف اضافت کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ دلوں پر جو قفل پڑے ہیں ‘ وہ یہ مستعمل معمولی قفل نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی تالے ہیں جو قلوب کے مناسب ہیں (یعنی غفلت کے تالے ہیں ‘ لوہے پیتل کے نہیں ہیں) گویا بصورت کنایہ یہ بات بتائی کہ ان کے اندر استعداد ہی نہیں ہے ‘ ان کے دل نصیحت پذیری کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ اگر بالفرض یہ قرآن پر غور بھی کریں ‘ تب بھی نہیں سمجھ پائیں گے۔
قُلُوْبٍکی تنوین بعضیت کو ظاہر کر رہی ہے ‘ یعنی کچھ دل ایسے ہیں ‘ یا تنوین تنکیر ہے جو ابہام پر دلالت کر رہی ہے ‘ یعنی انکی قساوت اور سنگدلی کے درجات مبہم ہیں۔
بغوی نے بروایت ہشام بن عروہ ‘ عروہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا تلاوت فرمائی۔ ایک یمنی جوان نے یہ آیت سن کر کہا : کیوں نہیں ‘ بلاشبہ دلوں پر تالے پڑے ہیں (ا اللہ ہی ان کو کھولنے والا ہے) جب تک اللہ ہی ان کو دور نہ کر دے ‘ یہ تالے دلوں پر پڑے رہیں گے۔ حضرت عمر کو جوان کی یہ بات کھب گئی اور آپ کے دل میں جم گئی۔ جب آپ خلیفہ ہوئے تو اس کو اپنا مددگار مقرر کیا۔