Muhammad 47:37

Muhammad · from ayah 37

47:37

اِنْ یَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ ۟اِنۡ يَّسۡئَــلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کرکے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

If He should ask you for them and press you, you would withhold, and He would expose your unwillingness.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:37

اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کر لے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کرکے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر وه تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وه تمہارے کینے ﻇاہر کر دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے، اور تم سے سب کچھ سمیٹ لے تو تم بخل سے کام لو گے، اور وہ تمہارے دل کی ناراضیوں کو ظاہر کردے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر انہیں تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر وہ تم سے اس مال کو طلب کر لے پھر تمہیں طلب میں تنگی دے تو تمہیں (دل میں) تنگی محسوس ہوگی (اور) تم بخل کرو گے اور (اس طرح) وہ تمہارے (دنیا پرستی کے باعث باطنی) زنگ ظاہر کر دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر وہ تم سے ان کا مطالبہ کرے، پھر تم سے اصرار کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کینے ظاہر کر دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر وہ تم سے مال کا مطالبہ کرے پھر تم سے اس مطالبہ پر اصرار کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہارے دلوں کے کھوٹ ظاہر کردے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ تم سے مانگے اور سمیٹ کر مانگے تو تم سنجیلی کرو گے اور ورہ تمہارے کینوں کو ظاہر کر دے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر وہ تم سے کہیں تمہارے مال مانگ لیتا اور سب کے سب تم سے طلب کرلیتا تو تم بخل کرے لگتے اور اس طرح وہ نکال باہر کرتا تمہارے (دلوں کے کھوٹ اور) ناگواریوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور آخری درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے تو تم بخل کرنے لگو اور (اللہ) تمہاری ناگواری ظاہر کردے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر وہ تم سے ان (اموال) کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے (دلوں کے) کھوٹ کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تم پر تنگی کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ بخل تمہاری بد نیتی ظاہر کر کے رہے

— محترمہ رفعت اعجاز

If He were to ask you for your possessions and press you (in that regard), you would have grown niggardly, and Allah would have brought your failings to light.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If He were to ask you of it, and press you (to spend all your wealth), you would show miserliness, and He would expose your disgusts.

— Muhammad Taqi Usmani

If He were to ask you of it, and press you (to spend all your wealth), you would show miserliness, and He would expose your disgusts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If He would demand of you all of it and urge you, you would withhold. And He will expose your (secret) ill--wills.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If He should ask it of you and importune you, ye would hoard it, and He would bring to light your (secret) hates.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If He should ask you for them and press you, you would withhold, and He would expose your unwillingness.

— Saheeh International

Should He ask for your possessions you would be niggardly as it would be hard for you to give. Thus, He would make your malice become public.

— Muhammad Sarwar

If He should ask you for it and urge you, you will be niggardly, and He will bring forth your malice.

— Muhammad Habib Shakir

If He required it of you and importuned you, ye would be niggardly, and He will bring to light your secret malevolence.

— Abdul Majid Daryabadi

If He were to ask you for all of them, and press you, ye would covetously withhold, and He would bring out all your ill-feeling.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–38

سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لئے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بےپرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لئے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا فال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گذرتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة مُحَمَّد 44 یعنی اتنی بڑی آزمائش میں وہ تمہیں نہیں ڈالتا جس سے تمہاری کمزوریاں ابھر آئیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–37

(آیت) اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہی ہو سکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت، اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں اس آیت میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں اس وقت ان کو بچا بھی لیا تو پھر کیا، دوسرے وقت یہ چیزیں ہاتھ سے نکلیں گی اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو۔ وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ ، اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرتا مگر پورے قرآن میں زکوٰة و صدقات کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان یسئلکم ھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم 37 اللہ تعالیٰ بندوں کا امتحان لینے میں نہایت کریم ہے یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کل مال کا مطالبہ اس وجہ سے نہیں کرے گا کہ وہ ایسا کرے تو تمہارا سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا پھر تم لازماً بخل کرو گے اور اس طرح تمہارا وہ حسد اور کینہ جو تم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے سنیوں میں چھپائے ہوئے ہو سب پر آشکارا ہوجائے گا اوپر آیت 29 میں ان منافقین ہی کے لئے یہ دھمکی گزر چکی ہے کہ یہ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ اللہ ان کے حسد و کینہ پر ہمیشہ پردہ ڈالے رکھے گا۔ وہ ان کو کسی آزمائش میں ڈال کر جب چاہے ان کا سارا پول کھول دے۔ وہی بات یہاں دوسرے پہلو سے ارشاد ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی ضرورت سے زائد کل مال کا مطالبہ کرے وہ بھی اصرار کے ساتھ اور زور دے کر تو یہ انسانی فطرت ہے کہ تم بخل بھی کرو گے اور اسلام کے خلاف اپنے بغض وعناد کا اظہار بھی اور اس صورت میں خود اسلام کے خلاف بھی تمہارے دلوں میں عناد پیدا ہوجاتا کہ یہ اچھا دین ہے جو ہماری محنت کی ساری کمائی اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: اطاعت کا اصل تقاضا تو یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیں کہ اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردو تو تم اس پر بھی خوشی سے راضی رہو، لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اس حکم کو برداشت نہیں کرسکو گے۔ اور اس سے تمہارے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا ہوگی، اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا حکم نہیں دیتے۔ البتہ تمہارے مال کا کچھ حصہ وہ خود تمہارے فائدے کے لیے جہاد میں خرچ کرنے کو کہہ رہا ہے، اپنے فائدے کے لیے نہیں۔ چنانچہ اس سے تمہیں بخل نہیں کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اصغانکم (47 : 37) ” اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا “۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کس قدر حکیمانہ ہیں ، جس طرح اس سے اللہ کی رحمت اور مہربانیوں کا اظہار ہوتا ہے کہ دین اسلام میں جو فرائض و واجبات مقرر کئے گئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس میں انسانوں کی بشری کمزوریوں اور انسانی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ربانی نظام زندگی ہے۔ اور یہ انسانوں کے لئے ایک ربانی نظام تجویز کرتا ہے۔ یہ نظام ایک ربانی نظام اس زاویہ سے ہے کہ اس کے قواعد اللہ نے بنائے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگر اللہ تعالیٰ سختی کے ساتھ کل مال طلب کرنے لگے جو تم کو دے رکھا ہے تو کتنے مردان خدا ہیں جو کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر تو وہی ہوں گے جو بخل اور تنگدلی کا ثبوت دیں گے مال خرچ کرنے کے وقت ان کے دل کی خفگی باہر ظاہر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37{ اِنْ یَّسْئَلْکُمُوْہَا فَیُحْفِکُمْ تَـبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَـکُمْ } ”اگر وہ تم سے ان اموال کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے دلوں کے کھوٹ کو۔“ منافقین کے ساتھ عملی طور پر ایسا ہوتا بھی رہا کہ جب بھی کبھی مشکل حالات سے سابقہ پڑا ‘ ان کے دلوں کا کھوٹ فوراً ان کی زبانوں پر آگیا۔ جیسے غزوئہ احزاب کے موقع پر منافقین کے اندر کی خباثت ان الفاظ کے ساتھ ان کی زبانوں پر آگئی تھی : { مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا۔ الاحزاب : 12 کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور مستقبل کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 یَحْفِکُمْ : حفا کا لغوی معنی کسی چیز کی طلب میں مبالغہ اور اصرار ہے پھر اسی مبالغہ اور اصرار سے بعض دفعہ تنگ کرنے کے معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تم سے سارے ہی مال کا مطالبہ کرلیتا کیونکہ یہ مال اسی کا دیا ہوا تھا تو کتنے لوگ ایسے ہوسکتے ہیں جو فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر ایسے ہی لوگ ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے اور مال خرچ کرتے وقت ان کے دل کی کبیدگی اور گھٹن از خود ظاہر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39۔ یعنی تمہارے نہ خرچ کرنے سے جو ایک عمل ظاہری ہے، تمہاری گرانی طبع وناگواری کا پتہ چلتا ہے۔ (آیت) ” ان یسئلکموھا “۔ یعنی اگر وہ تم سے مال تمہارے ہی نفع واجر کے لئے بطور امتحان طلب کرے۔ (آیت) ” فیحفکم “۔ یعنی سارے کا سارا مال طلب کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–37

انما الحیوۃ الدنیا اوپر جہاد کا ذکر تھا اور چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہوسکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں، اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں، اس وقت اگر ان کو بچا بھی لیا تو کیا فائدہ ؟ آخر کار یہ سب چیزیں ہاتھ سے نکلنے ہی والی ہیں، اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو ۔ ولایسئلکم اموالکم اللہ تعالیٰ تمہارے اموال سے بےنیاز ہے اسی لئے اس نے تم سے زکوۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت ہی قلیل حصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور انتہا درجہ تک طلب کرتا رہے تو تم بخل کرنے لگو اور اللہ تمہاری چھپی ہوئی ناگواری ظاہر کر دے۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا یعنی اگر تم اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ گے۔ وَتَتَّقُوْا اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرو گے اور ممنوعات سے پرہیز کرو گے۔ یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ یعنی اللہ تمہارے ایمان اور تقویٰ کا ثواب آخرت میں عطا فرمائے گا ‘ اس صورت میں تمہاری یہ دنیوی زندگی آخرت کی کھیتی ہوجائے گی (جس کا حاصل آخرت میں ملے گا) اور لہو و لعب نہیں رہے گی۔ وَلاَ یَسْءَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ اور تمہارے مال تم سے طلب نہیں کرے گا ‘ یعنی وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیونکہ اگر وہ صدقہ میں تم سے انتہا درجہ تک تمہارے سب مال طلب کرنے لگے تو تم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ و خیرات کرنے سے کنجوسی کرنے لگو اور اس وقت حق تعالیٰ تمہارا بخل ظاہر کردے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان یسئلکموھا فیحفکم تبغلوا…:”فیحفکم“”اخفی یحفی احفاء“ (افعال) کا معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینا، یا کسی چیز کا اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے سارے اموال مانگ لے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ وہ سب اسی کے دیے ہوئے ہیں مگر یہ اس کا کرم ہے کہ وہ تم سے تمہارے اموال پورے کے پر وے نہیں مانگتا ، کیونکہ اگر وہ سب کے سب اصرار کے ساتھ مانگ لے تو بخل کرو گے اور تمہارا بخل تمہارے دل میں پیدا ہونے والے تمام تمام کینے ظاہر کر دے گا۔ جو سارا مال ماگننے کی وجہ سے تمہارے دل میں پیدا ہوں گے، کیونکہ مال تمہارا محبوب ہے اور جس کے محبوب کو اس سے مانگا جائے اس کے دل میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے : یعنی وہ تمہیں حکم نہیں دیتا کہ تم زکوۃ میں سارا مال ہی دے دو بلکہ اس نے بعض مال نکالنے کا حکم دیا ہے، یہ ابن عینیہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسکا معنی ہے وہ تمہارے اموال اپن ذات کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں مانگتا وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اس کا ثواب تمہاری طرف لوٹے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت محمد ﷺ علیہ التحیۃ والثنا رسالت کی تبلیغ پر تم سے کسی اجر کا سوال کرنے والے نہیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الفرقان 57) یعنی وہ تم سے اصرار کرتا ہے، یہ کہا جاتا ہے اور الحسب کا ایک ہی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–38

:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ وانتم الاعلون “ (سو تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے یعنی دو جماعتوں میں سے پہلے نہ جاؤ کہ جس کے ساتھیوں کو پچھاڑ دیا گیا اور ان کو دشمنی چھوڑ کر صلح کی پیشکش کرلی اور تم زیادہ قریب ہو اللہ کے نزدیک ان کی نسبت (آیت ) ” ولن یترکم اعمالکم “ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا) یعنی وہ ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ (آیت ) ” وانتم الاعلون “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْهَا [ اگر وہ مانگے تم سے اس (مال ) کو ] فَيُحْفِكُمْ [ پھر وہ اصرار کرے تم سے ] تَبْخَلُوْا [ تو تم لوگ کنجوسی کروگے ] وَيُخْرِجْ [ اور وہ نکالے گا ] اَضْغَانَكُمْ [تمہارے بغض کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنْ يَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ يُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ 0037﴾ (اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور انتہاء درجہ تک طلب فرمائے تو تم بخل کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ناگواری کو ظاہر فرما دے گا) یعنی تم اس صورت میں مال خرچ نہ کرو گے اور خرچ کرنے کا حکم ہوتے ہوئے خرچ نہ کرنے کی ظاہری بےعملی سے تمہارے اندر کی ناگواری ظاہر ہوجائے گی اور یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ حکم کے مطابق عمل کرنے پر دل سے راضی نہیں ہو مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے طور پر 1/40 خرچ کرنے کا حکم ہوا ہے اسے خرچ کرنے سے بھی جان چراتے ہیں دینداری کے دعویدار بھی پورا حساب کرکے پوری زکوٰۃ دینے کو تیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–38

بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔ (ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–37

30:۔ ” انما الحیوۃ الدنیا “ راہ خدا میں کرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ یہ دنیا تو محض ایک کھیل تماشا ہے اور آخرت کے مقابلے میں کوئی چیز ہی نہیں اگر تم ایمان وتقوی اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے بچ کر رہو گے، تو اللہ تمہیں نہایت عمدہ اجر دے گا اور وہ تم سے سارا مال بھی طلب نہیں فرماتا۔ بلکہ سارے مال میں سے تھوڑا سا حصہ طلب کرتا ہے اور وہ بھی تمہارے ہی فائدے میں خرچ ہوتا ہے۔ ” ان یسئلکموھا الخ “۔ یحفکم، یسئلکموھا پر معطوف ہے۔ یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ یہ سب کچھ اسی نے دیا ہے مگر پھر بھی سارا مال خرچ کرنے کا حکم نہیں فرماتا۔ اور اگر وہ تمہیں سارا مال خرچ کرنے کا حکم دے بھی دے، تو کوئی بھی اس پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–38

کفار کے لیے عدم معافی جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْہَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَيُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ۝ 37 حفی الإحفاء في السؤال : التّترّع في الإلحاح في المطالبة، أو في البحث عن تعرّف الحال، وعلی الوجه الأول يقال : أَحْفَيْتُ السؤال، وأَحْفَيْتُ فلانا في السؤال، قال اللہ تعالی: إِنْ يَسْئَلْكُمُوها فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا [ محمد/ 37] ، وأصل ذلک من : أَحْفَيْتُ الدابة : جعلتها حافیا، أي : منسحج الحافر، والبعیر : جعلته منسحج الخفّ من المشي حتی يرقّ ، وقد حَفِيَ حَفاً وحَفْوَة، ومنه : أَحْفَيْتُ الشّارب : أخذته أخذا متناهيا، والحَفِيُّ : البرّ اللطیف في قوله عزّ وجلّ : إِنَّهُ كانَ بِي حَفِيًّا [ مریم/ 47] ، ويقال :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–38

ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر) تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔ کفرواسلام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ یَّسْئَلْـکُمُوْھَا فَیُحْفِکُمْ تَبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَـکُمْ ۔ (محمد : 37) (اور اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور سمیٹ کر مانگے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کینوں کو ظاہر کردے گا۔ ) آیت کا صحیح مفہوم فَیُحْفِکُمْ احفاء سے مشتق ہے۔ اس کا معنی مبالغہ اور کسی کام میں آخر تک پہنچ جانا ہے یا کسی شے کا الحاح و اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا بھی ہے۔ اس لحاظ سے آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور نہایت مبالغے کے ساتھ اور الحاح و اصرار کے ساتھ پورے کا پورا مال طلب کرے تو اس کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ تم دینے میں بخل کرو گے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–38

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے اور پھر یقین کرے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا عارضی اور حقیر ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا کی حیثیت کھیل اور تماشا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح کھیل اور تماشا وقتی طور پر دل بہلانے کا سامان اور صحت کو برقرار رکھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے یہی حقیقت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے، لازم ہے کہ انسان دنیا میں دل لگانے کی بجائے اسے آخرت سنوارنے کا ذریعہ سمجھے تاکہ انسان جنت کی دائمی نعمتوں کا مالک قرار پائے۔ اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 37 : اِنْ یَّسْئَلْکُمُوْہَا فَیُحْفِکُمْ (اگر تم سے تمہارے مال طلب کرے پھر انتہاء درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے) وہ تم کو مشقت میں ڈال دے اور سارے مال کو طلب کرے۔ الاحفاء : کسی چیز میں مبالغہ اور اس کی غایت تک پہنچنا۔ عرب کہتے ہیں۔ احفاہ فی المسألۃ۔ جبکہ اصرار کا کوئی رخ نہ چھوڑے اور احفی شاربہ۔ جبکہ وہ ان کو جڑ سے منڈوائے۔ تَبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ (تو تم بخل کرنے لگو اور وہ نکال دے) یعنی اللہ تعالیٰ یا بخل۔ اَضْغَانَکُمْ (تمہاری ناگواری کو) جب کہ تم اس دینے سے رک جائو۔ یا وہ تم سے تمام مال کا سوال کرے کیونکہ مال کا مطالبہ کرنے کے وقت عداوت و کینہ ظاہر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36 ۔ پھر آخرت کی طلب پر ابھارا اور فرمایا ” انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو “ باطل اور دھوکہ ہے۔ ” وان تومنوا وتتقوا “ بےحیائیوں سے۔ ” یوتکم اجور کم “ آخرت میں تمہارے اعمال کی جزائ۔ ” ولا یسالکم “ تمہارا رب۔ ” اموالکم “ اجر دینے کے لئے بلکہ تم کو ایمان اور طاعت کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہیں اس پر ثواب میں جنت دے۔ اس کی نظیر اس کا قول ” ماارید منھم من رزق “ ہے اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ تم سے تمہارے اموال کا سوال نہیں کرتے۔ اس کی نظیر ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر “ ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی اللہ اور اس کا رسول تم سے تمہارے تمام اموال کا صدقات میں سوال نہیں کرتے وہ تو صرف تم سے تھوڑا سا یعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–38

37۔ 38۔ دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر دین کی لڑائی اور دین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائیدار اور چند روز کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھ دار کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوٰۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لئے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیز گاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبیٰ میں ایک کے دس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–38

یہ اللہ تعالٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے یعنی بدن کے لئے لعب اور قلوب کے لئے لہو، اس میں زہد کی ترغیتب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب وزینت، اپنی بیویوں، ماکو لات و مشروبات سے حصول لذت، اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بےفائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بےکاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کرلیتا ہے اور اس کی اجل آجاتی ہے۔ جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہوجاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 35–38

مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا منع ہے قول باری ہے (فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو، اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) مجاہد سے مروی ہے کہ ” قتال سے کمزور مت پڑو اور دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلائو۔ “ ہمیں عبداللہ بن محمد نے رویات بیان کی، انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ صلح کی درخواست میں تم پہل نہ کرو۔ قول باری (و انتم الاعلون) کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے۔” تم اس کے مقابلہ میں اللہ سے زیادہ قریب ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 91] اللہ تعالیٰ کے امتحان میں بھی کرم کا معاملہ، سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے امتحان میں بھی نہایت کرم کا معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے کرم کی وجہ سے تم لوگوں سے تمہارے کل مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگ لیتا تو تمہارا بھانڈا پھوٹ جاتا۔ اور تم لوگ ایسا نہ کر ستے۔ حالانکہ اس کو اس کا پورا حق ہے کہ وہ سب کا خالق اور مالک حقیقی ہے، مگر اس کے باوجود وہ تم سے تمہارے سب اموال کا سوال اور مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ اس میں سے کچھ مانگتا ہے۔ اور وہ بھی محض تمہارے بھلے کیلئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–38

ایمان والوں کو ہدایت تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔ 1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔ 2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–38

آیات 29 تا 38۔ اسرار معارف۔ کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔ حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔ علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–38

ف 3 یعنی اگر وہ زبردستی تم سے تمہارے اموال مانگے تو تم بخل کرو گے اور تمہارے دلوں کی خفگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:37) ان یسئلکموھا۔ جملہ شرط ہے ان شرطیہ یسئل مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ، واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وائو اشباع کا ہے ھا ضمیر مفعول ثانی واحد مؤنث غائب جو اموال کی طرف راجع ہے اگر وہ تم سے اسے (یعنی مال کو) طلب کرے۔ فیحفکم :عاطفہ ہے یحف مضارع مجزوم بوجہ عمل ان مقدرہ۔ واحد مذکر غائب احفاء (افعال ) مصدر۔ حو مادہ۔ یحف اصل میں یخفی تھا۔ ان کے عمل سےساکن ہوگیا۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ ی کی رعایت سےکو کسرہ دیا گیا۔ یحف ہوگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ پھر تم کو مانگنے پر تنگ کرے۔ تم سے مانگنے پر اصرار کرے۔ تم سے مانگنے میں زیادتی کرے۔ احقائ۔ کسی کام میں زیادتی کرنا۔ مثلاً…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–38

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 38 : لاتھنوا (تم سست نہ پڑو۔ بزدلی نہ دکھائو) تدعوا ( تم پکارنے لگو) ‘ السلم (صلح) الا علون ( تم بلندرہو گے) ‘ لن یتر ( ہرگز نقصان نہ پہنچے گا) ‘ یحفی (وہ طلب کرتے ہیں۔ بار بار مانگے گا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 38 : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہتا ہے تاکہ مومن اور غیر مومن کا فرق کھل کر سامنے آجائے۔ مومنوں کی آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کو مشکل حالات کی بھٹی سے گذار کر اسی طرح صاف ستھرا اور کندن بنادیا جائے جس طرح سونا آگ کی بھٹی میں جاکر نکھر جاتا ہے۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جب ان پر حالات کی آزمائش…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–38

زکوۃ کے دنیاوی اور اخروی فوائد۔ (ف 1) دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہوکردین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائدار اور چند روزہ کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ، ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھداری کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لیے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیزگاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبی میں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–38

[19] یعنی اگر اللہ تعالیٰ سختی کے ساتھ کل مال طلب کرنے لگے جو اس نے تم کو دے رکھا ہے تو کتنے اللہ کے بندے ہیں جو کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر تو وہی ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے۔ لیکن اللہ تمہیں اتنی بڑی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا جس سے تمہاری کمزوریاں ظاہر ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–38

یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر صدقات و خیرات دے کر تم اس کو ممنوں نہیں کرتے ہو ۔ بلکہ اسمیں کچھ تمہارا ہی فائدہ ہے ۔ اور یہ بخل تمہارے حق میں ہی مضرثابت ہوگا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ وہ بالکل بےنیاز ہے ۔ اگر تم اپنے فرائض کو ادا نہیں کرو گے ۔ تو وہ تمہاری دوسرے لوگوں کو لے آئے گا ۔ اور ان سے اپنے دین کی حمایت کا کام لے لے گا ۔ کیونکہ اس کو بہرحال اپنے دین کی بقاء اور تحفظ منظور ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) اگر تم تمہارے کل مال طلب کرنے لگے اور اس طلب کرنے میں میں مبالغہ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور اللہ تعالیٰ تمہارے بخل اور باطنی ناگواری کو ظاہر کردے۔ یعنی اگر تم سے زیادہ مال کا مطالبہ کیا جائے اور اس میں سختی سے کام لیا جائے تو سب نہ سہی اکثر بخل کرنے لگیں اور مال کی محبت میں جو کمزوریاں ہوتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ظاہر کردے تو ایسا نہیں۔ بعض حضرات نے یوں تفسیر کی کہ مال خرچ کرنے میں جو تاکید سنتے ہو تو یہ مطلب نہیں کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے اپنے لئے مانگتے ہیں بلکہ مانگتے ہیں تم سے فقراء کے لئے اور راہ دین کے قائم کرنے کے لئے اس مال میں کہ تنگ نہیں کرتے تم کو اور نہ بہت مانگتے ہیں تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 7۔ اگر اس میں جان اور مال کو تمتع کے لئے بچانا چاہئے تو وہ تمتع ہی کتنے دن کا ہے اور کیا اس کا حاصل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ تم سے تمہارے سارے مالوں کا مطالبہ کرتا تو تمہارا سارا بھانڈ پھوٹ جاتا 73 ؎ گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان لائو تو وہ تم کو اجر دے گا اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا یعنی وہ تمہارے مالوں کا تم سے مطالبہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ محتاج نہیں ہے اور زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ تم سے تمہارے مال کا مطالبہ کر دے تو تم بخل کرو گے۔ اس لئے یہ مضمون ذرا سمجھنے والا ہے۔ پہلی آیت کا مطلب جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا ہے اگر تم کو ایمان و یقین ہو تو تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال نہیں ماگنتا یعنی تمہارے مالوں کا محتاج نہیں بلکہ تم کو جو غریبوں ‘ مسکینوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–37

إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا (The worldly life is but play and pastime - 47:36.) As Muslims have been enjoined to fight in the cause of Allah, they will, for this purpose, have to make sacrifices of life and money. But the love of this world is the only thing that can prevent man from fighting. In this verse we are told that neither of these mundane benefits is permanent. After all, they all will perish and come to an end. Even if we succeed in saving them for now, they will be lost another time. The bounties of the next world are permanent and eternal: the believers need to develop love…

Read the full tafseer →