Explained with ayahs 36–38
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لئے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بےپرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لئے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا فال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گذرتا ہے۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 42
یعنی آخرت کے مقابلے میں اس دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ چند روز کا دل بہلاوا ہے۔ یہاں کی کامرانی و ناکامی کوئی حقیقی اور پائیدار چیز نہیں ہے جسے کوئی اہمیت حاصل ہو۔ اصل زندگی آخرت کی ہے جس کی کامیابی کے لیے انسان کو فکر کرنی چاہیے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، تفسیر سورة عنکبوت، حاشیہ 102)۔
سورة مُحَمَّد 43
یعنی وہ غنی ہے، اسے اپنی ذات کے لیے تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے کہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(آیت) اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہی ہو سکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت، اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں اس آیت میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں اس وقت ان کو بچا بھی لیا تو پھر کیا، دوسرے وقت یہ چیزیں ہاتھ سے نکلیں گی اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو۔
وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ ، اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرتا مگر پورے قرآن میں زکوٰة و صدقات کے…
Read the full tafseer →انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم 36
بے حوصلہ لوگوں کی حوصلہ افزائی
یعنی دنیا کی محبت میں پھنس کر خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو۔ اس دنیا کے مال و متاع کی قدر و قیمت اگر کچھ ہے تو اسی شکل میں ہے جب اس سے آخرت کی کچھ کمائی کرلی جائے اگر کسی نے آخرت کی کمائی نہیں کی تو اس نے اپنی زندگی بوالہوسی و بےحاصل میں گزار دی۔ اطمینان رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ کی زندگی اختیار اور پانا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کا بھرپور صلہ دے گا اور تم اس دنیا کے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی…
Read the full tafseer →36۔ 1 یعنی ایک فریب اور دھوکا ہے، اس کی کسی چیز کی بنیاد ہے نہ اس کو ثبات اور نہ اس کا اعتبار۔
36۔ 2 یعنی وہ تمہارے مالوں سے بےنیاز ہے۔ اسی لئے اس نے تم سے زکوٰۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت قلیل حصے صرف ڈھائی فیصد کا اور وہ بھی ایک سال کے بعد اپنی ضرورت سے زیادہ ہونے پر، علاوہ ازیں اس کا مقصد بھی تمہارے اپنے ہی بھائی بندوں کی مدد اور خیر خواہی ہے نہ کہ اللہ اس مال سے اپنی حکومت کے اخراجات پورے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
13: مطلب یہ ہے کہ بزدلی کی وجہ سے دشمن کو صلح کی دعوت نہ دو ، ورنہ قرآن کریم نے خود سورة انفال : 61 میں فرمایا ہے کہ اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ۔ یعنی جب یہ صلح کسی بزدلی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ مصلحت کا تقاضا ہو تو صلح جائز ہے۔
14: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے تم جو کوشش بھی جہاد وغیرہ کے ذریعے کروگے، اسے اللہ تعالیٰ رائیگاں نہیں جانے دے گا، اور تمہیں سربلندی حاصل ہوگی، اور یہ بھی کہ تم جو کوئی نیک کام کرو گے جس میں جہاد بھی داخل ہے، چاہے دنیا میں فتح کی صورت میں اس کا نتیجہ نہ نکلے، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا پورا پورا…
Read the full tafseer →یہ تو ہے پہلا ٹچ اور دوسرا یہ کہ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ امن و عافیت تم جس دنیا کے لئے طلب کرتے ہو ، اس کی حیثیت کیا ہے ؟ ٹھیک ہے اس میں تمہیں بعض قربانیاں تو دینی ہوں گی ، لیکن آخرت میں کامل اجر تمہیں ملیں گے اور تم سے تمہارے مال بھی طلب نہ کرے گا۔
انما الحیوۃ الدنیا ۔۔۔۔۔۔ اموالکم (47 : 36) “ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا ”۔
اگر ہماری اس دنیاوی زندگی کے پیچھے کوئی اعلیٰ اور ارفع مقصد نہ ہو تو وہ یقیناً لہو و لعب ہے۔ اگر اس دنیا میں اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور اسلامی…
Read the full tafseer →3 یعنی آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت ایک کھیل تماشا جیسی ہے۔ اگر تم ایمان وتقویٰ اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشہ سے ذرا بچ کر چلو گے تو اللہ تم کو اس کا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہیں کرے گا۔ اسے کیا حاجت ہے۔ وہ تو خود دینے والا ہے کما قال (مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ 57 اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ 58) 51 ۔ الذاریات :58-57) اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہ ہے تمام مال اس کا ہے۔ مگر اس کے باوجود دین کے معاملہ میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک تھوڑا سا حصہ طلب کیا…
Read the full tafseer →آیت 36 { اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ} ”یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔“
آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کی حیثیت لہو و لعب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی حقیقت کو سورة آلِ عمران میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ } ”اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔“
{ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ } ”اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا“
{ وَلَا یَسْئَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ } ”اور تم سے تمہارے اموال نہیں…
Read the full tafseer →41 دنیا دار کے لئے دنیوی زندگی کھیل تماشا ہے :۔ یعنی یہ دنیا بس دلفریبیوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انسان زیادہ سے زیادہ مال و دولت اکٹھی کرنے کی ہوس رکھتا ہے اور مرتے دم ہی سب کچھ یہیں چھوڑ جاتا ہے۔ لہذا تمہیں آخرت کی کمائی کی فکر کرنی چاہئے جو دائمی اور پائیدار ہے۔ اور اس کے مقصد کے حصول کے لئے وہ تم سے تمہارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ تو خود غنی ہے اور ساری مخلوق پر خرچ کرتا ہے اسے تمہارے اموال کی کیا پروا یا ضرورت ہے۔ اگر کچھ تھوڑا سا مال تمہیں جہاد کی خاطر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ چناچہ مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن اپنی گرہ سے پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →38۔ (اپنے نفع کے لئے) (آیت) ” انما ..... لھو “۔ یعنی ایسی دنیا جو خیال آخرت سے الگ ہو، اس سے وابستہ نہ ہو۔ اس کی عمر ہی کیا ؟ اور اس کی بساط ہی کیا ؟ جو تم آخرت کے مقابلہ میں اسے عزیز رکھے ہوئے ہو قرآن مجید نے دنیوی زندگی کو لہو ولعب جہان بھی قرار دیا ہے۔ ہمیشہ آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ نامتناہی اور متناہی کا مقابلہ ہی کیا۔ (آیت) ” وان تؤمنوا وتتقوا “۔ اسی ایمان وتقوی کا ایک جزء جہاد کی سبیل اللہ بھی ہے۔ (آیت) ” یؤتکم اجورکم “۔ حق تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے گا نہ یہ کہ الٹا تم سے اپنے نفع کا طالب ہو۔ (آیت) ” ولا یسئلکم اموالکم “۔ مراد یہ ہے کہ مال جو جان سے کہیں ہلکی چیز ہے وہ تک بھی حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
انما الحیوۃ الدنیا اوپر جہاد کا ذکر تھا اور چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہوسکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں، اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں، اس وقت اگر ان کو بچا بھی لیا تو کیا فائدہ ؟ آخر کار یہ سب چیزیں ہاتھ سے نکلنے ہی والی ہیں، اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو ۔
ولایسئلکم اموالکم اللہ تعالیٰ تمہارے اموال سے بےنیاز ہے اسی لئے اس نے تم سے زکوۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت ہی قلیل حصے…
Read the full tafseer →انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو دنیوی زندگی تو بس لہو و لعب ہے۔
یعنی دنیوی زندگی باطل ہے ‘ بےسود ہے ‘ بےکار ہے ‘ اگر اس میں اللہ کی یاد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا ملعون ہے۔ اس میں جو کچھ ہے ‘ سوائے ذکر خدا کے ہر چیز ملعون ہے۔
وان تو منوا وتتقوا یؤتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم۔ اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تم کو اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →جو کچھ اس دنیوی زندگی میں ہے وہ سب لغو اور فانی خوشی ہے اور اگر تم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچتے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور تم سے صدقہ و خیرات میں تمہارے سارے مال بھی طلب نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →(1) انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو …: اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة عنکبوت کی آیت (64) کی تفسیر۔
جہاد سے روکنے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی زندگی ، اس کے مال و دولت اور اس کی دل فریبیوں سے محبت ہے، کیونکہ جہاد میں جان و مال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت کے مقابیل میں دنیا کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ چند دن کا کھیل اور دل لگی ہے، اس کی محبت میں پھنس کر اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو اور یقین رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو گے، جس میں جان و مال پیش کردینا بھی شامل ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دے گا اور تم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے : یعنی وہ تمہیں حکم نہیں دیتا کہ تم زکوۃ میں سارا مال ہی دے دو بلکہ اس نے بعض مال نکالنے کا حکم دیا ہے، یہ ابن عینیہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسکا معنی ہے وہ تمہارے اموال اپن ذات کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں مانگتا وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اس کا ثواب تمہاری طرف لوٹے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت محمد ﷺ علیہ التحیۃ والثنا رسالت کی تبلیغ پر تم سے کسی اجر کا سوال کرنے والے نہیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الفرقان 57)
یعنی وہ تم سے اصرار کرتا ہے، یہ کہا جاتا ہے اور الحسب کا ایک ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ وانتم الاعلون “ (سو تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے یعنی دو جماعتوں میں سے پہلے نہ جاؤ کہ جس کے ساتھیوں کو پچھاڑ دیا گیا اور ان کو دشمنی چھوڑ کر صلح کی پیشکش کرلی اور تم زیادہ قریب ہو اللہ کے نزدیک ان کی نسبت (آیت ) ” ولن یترکم اعمالکم “ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا) یعنی وہ ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ (آیت ) ” وانتم الاعلون “…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دینوی زندگی تو بس ] لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ [ کھیل اور تماشہ ہے ] وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا [ اور اگر تم لوگ ایمان لاؤ اور تقوی اختیار کرو ] يُؤْتِكُمْ [ تو وہ دے گا تم لوگوں کو ] اُجُوْرَكُمْ [ تمہاری اجرتیں ] وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ [ اور وہ نہیں مانگے گا تم سے ] اَمْوَالَكُمْ [ تمہارے مال ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 36 ۔ میں وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرتا ۔ مگر پورے قرآن میں زکوۃ و صدقات کے احکام اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بیشمار مواقع آئے ہیں ۔ اور خود اس آیت کے بعد اگلی آیت میں انفاق فی…
Read the full tafseer →دنیاوی زندگی لہو و لعب ہے، کنجوسی کا وبال بخل کرنے والے پر ہی ہے، اللہ غنی ہے اور تم فقراء ہو !
گزشتہ آیت میں مومنین سے خطاب تھا کہ تم سست نہ بنو اور کافروں سے صلح کرنے کی طرف نہ جھکو اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہ فرمائے گا ان آیات میں مسلمانوں کو چند تنبیہات فرمائی ہیں کچھ عام احوال سے اور کچھ فی سبیل اللہ اموال خرچ کرنے سے متعلق ہیں اول تو یہ فرمایا کہ دنیا کھیل ہے نفوس کو بہلانے والی چیز ہے سورة العنکبوت میں بھی یہ مضمون ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے ﴿وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ﴾ (اور بلاشبہ آخرت والا گھر ہی زندگی ہے) کھیل کود سے مقاصد حقیقیہ حاصل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔
(ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
30:۔ ” انما الحیوۃ الدنیا “ راہ خدا میں کرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ یہ دنیا تو محض ایک کھیل تماشا ہے اور آخرت کے مقابلے میں کوئی چیز ہی نہیں اگر تم ایمان وتقوی اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے بچ کر رہو گے، تو اللہ تمہیں نہایت عمدہ اجر دے گا اور وہ تم سے سارا مال بھی طلب نہیں فرماتا۔ بلکہ سارے مال میں سے تھوڑا سا حصہ طلب کرتا ہے اور وہ بھی تمہارے ہی فائدے میں خرچ ہوتا ہے۔ ” ان یسئلکموھا الخ “۔ یحفکم، یسئلکموھا پر معطوف ہے۔ یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ یہ سب کچھ اسی نے دیا ہے مگر پھر بھی سارا مال خرچ کرنے کا حکم نہیں فرماتا۔ اور اگر وہ تمہیں سارا مال خرچ کرنے کا حکم دے بھی دے، تو کوئی بھی اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
کفار کے لیے عدم معافی
جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ 0 ۭ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ 36
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ،
الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا،
قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ،
الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی:
أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122]
والرابعة : عبارة عن ارتفاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر)
تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔
کفرواسلام…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ ط وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ وَلاَ یَسْئَلْـکُمْ اَمْوَالَـکُمْ ۔ (محمد : 36)
(یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان کا حق ادا کرو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا، اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا۔ )
حیاتِ دنیا کی آخرت کے مقابلے میں حقیقت
سابقہ آیت کریمہ میں جس سرفروشی، وفاشعاری اور ایثار و قربانی کا حکم دیا گیا ہے اس کے راستے میں سب سے
بڑی رکاوٹ حیات دنیا ہے کیونکہ دنیا کی زندگی میں کبھی اپنے ذاتی مفادات، ہَوائے نفس پر مبنی ارمان اور مختلف حوالوں سے بننے والی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فہم القرآن
ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے اور پھر یقین کرے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا عارضی اور حقیر ہے۔
قرآن مجید بار بار انسان کو یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا کی حیثیت کھیل اور تماشا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح کھیل اور تماشا وقتی طور پر دل بہلانے کا سامان اور صحت کو برقرار رکھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے یہی حقیقت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے، لازم ہے کہ انسان دنیا میں دل لگانے کی بجائے اسے آخرت سنوارنے کا ذریعہ سمجھے تاکہ انسان جنت کی دائمی نعمتوں کا مالک قرار پائے۔ اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی…
Read the full tafseer →آیت 36 : اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ (اور یہ دنیوی زندگی تو محض ایک لہو ولعب ہے) بہت قلیل مدت میں منقطع ہوجاتی ہے۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا (اور اگر تم ایمان لائو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر۔ وَتَتَّقُوْا (اور تقویٰ اختیار کرو) یعنی شرک سے بچو۔ یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ (تو تم کو تمہارا اجر عطا کریگا) تمہارے ایمان وتقویٰ کا اجر۔ وَلَا یَسْئَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ (وہ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کریگا) وہ تمام مال کا مطالبہ نہ کرے گا۔ بلکہ چالیسواں حصہ ہوگا۔ لایسئل کا فاعل اللہ تعالیٰ یارسول اللہ ﷺ ہیں۔
قولِ سفیان بن عیینہ :
بہت میں سے تھوڑا سا (غیضًا من فیض)
Read the full tafseer →35 ۔” فلاتھنوا “ تم کمزور نہ ہو۔ ” وتدعوالی السلم “ یعنی تم صلح کی طرف نہ بلائو۔ ابتداء اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کو صلح کی طرف دعوت دینے سے منع کیا تھا اور ان کو کفار سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔ ” وانتم الاعلون “ غالب ہو۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آخری امر تمہارے لئے ہوگا۔ اگرچہ وہ بعض اوقات میں تم پر غالب آجائیں۔ ” واللہ معکم “ مدد ونصرت کے ساتھ۔ ” ولن یترکم اعمالکم “ تمہارے اعمال کے ثواب میں کچھ کمی نہ کریں گے۔ کہا جاتا ہے ” وترہ، یترہ، وتراً وترۃ “ جب اس کا حق کم ہوجائے ۔ ابن عباس ؓ قتادہ ، مقاتل اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نیک اعمال پر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
32۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
یہ اللہ تعالٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے یعنی بدن کے لئے لعب اور قلوب کے لئے لہو، اس میں زہد کی ترغیتب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب وزینت، اپنی بیویوں، ماکو لات و مشروبات سے حصول لذت، اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بےفائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بےکاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کرلیتا ہے اور اس کی اجل آجاتی ہے۔
جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہوجاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا منع ہے
قول باری ہے (فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو، اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) مجاہد سے مروی ہے کہ ” قتال سے کمزور مت پڑو اور دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلائو۔ “
ہمیں عبداللہ بن محمد نے رویات بیان کی، انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ صلح کی درخواست میں تم پہل نہ کرو۔ قول باری (و انتم الاعلون) کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے۔” تم اس کے مقابلہ میں اللہ سے زیادہ قریب ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت…
Read the full tafseer →[ 89] دنیاوی زندگی محض ایک کھیل اور تماشہ :
یعنی ایک قسم کا کھیل تماشا تو وہ ہوتا ہے جو چھوٹے بچے کھیلتے ہیں۔ اور ایک قسم کا کھیل تماشا دنیاوی دوڑ دھوپ اور اس کی اس چہل پہل میں ہے، جس میں سب دنیا مشغول و منہمک ہے۔ سو یہ تمام ہری بھری اور خوبصورت ولذیذ دنیا ہے جس میں حق و حقیقت سے غافل و بیخبر لوگ اور عقل و دانش مندی کے بڑے بڑے دعویدار مشغول و منہمک ہیں۔ اور جس طرح بچوں کا وہ کھیل جو فانی و زائل اور بےحقیقت و بےمقصد ہونے کے باوجود ان کو اپنے اصل کام سے غافل کئے ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کا چکا چوند کردینے والا یہ فانی اور زائل ہونے والا کھیل تماشا بھی ان لوگوں کو اپنے اصل مقصد اور حقیقی منزل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
ایمان والوں کو ہدایت
تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔
1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔
2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
آیات 29 تا 38۔
اسرار معارف۔
کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔
حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔
علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی آخرت کے مقابل ہمیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہٰذا دنیا میں پھنس کر اپنی آخرت برباد نہ کرو۔
2 یعنی اس کو تمہارے مال و دولت کی ضرورت نہیں۔ اگر زکوۃ و صدقات میں تھوڑا سا مال نکالنے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تو تموہارے ہی فائدے کے لئے دیا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : حق تعالیٰ نے ملک فتح کردیئے مسلمانوں کو تھوڑے ہی دنوں خرچ کرنا پڑا سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو برابر ہاتھ لگا۔ (موضح)
Read the full tafseer →(47:36) انما۔ بےشک، تحقیق۔ سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل الحیوۃ الدنیا موصوف وصفت مل کر ان کا اسم۔ لعب ولھو خبر اول۔ ثانی ان کی۔
ان کے عمل کی وجہ سے الحیوۃ پر نصب ہونے چاہیے تھی لیکن ما کافہ کی وجہ سے ان کے عمل لفظی کو روک دیا گیا ہے۔
لعب اس مادہ کی اصل لعاب ہے جس کے معنی منہ سے بہنے والی رال کے ہیں اور لعب یلعب لعب (باب فتح) کے معنی لعاب بہنے کے ہیں لیکن لعب (باب سمع) سے فلان یلعب۔ لعب کے معنی بغیر صحیح مقصد کے کوئی کام کرنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 38 :
لاتھنوا (تم سست نہ پڑو۔ بزدلی نہ دکھائو) تدعوا ( تم پکارنے لگو) ‘ السلم (صلح) الا علون ( تم بلندرہو گے) ‘ لن یتر ( ہرگز نقصان نہ پہنچے گا) ‘ یحفی (وہ طلب کرتے ہیں۔ بار بار مانگے گا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 38 :
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہتا ہے تاکہ مومن اور غیر مومن کا فرق کھل کر سامنے آجائے۔ مومنوں کی آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کو مشکل حالات کی بھٹی سے گذار کر اسی طرح صاف ستھرا اور کندن بنادیا جائے جس طرح سونا آگ کی بھٹی میں جاکر نکھر جاتا ہے۔
اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جب ان پر حالات کی آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
زکوۃ کے دنیاوی اور اخروی فوائد۔
(ف 1) دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہوکردین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائدار اور چند روزہ کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ، ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھداری کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لیے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیزگاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبی میں ایک…
Read the full tafseer →[18] یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت محض ایک کھیل تماشا ہے۔ اگر تم ایمان وتقویٰ اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے ذرا بچ کر چلو گے تو اللہ تم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہ کرے گا۔ اسے کیا حاجت ہے، وہ تو خود دینے والا ہے۔ اور اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہی ہے، تمام مال اسی کا ہے مگر اس کے باوجود دین کے معاملے میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک تھوڑا سا حصہ طلب کیا جاتا ہے، وہ بھی اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے فائدے کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
تم سربلند ہوں
2: یعنی جب یہ درست ہے ۔ کہ تم حق وصداقت کی مضبوط چٹان پر کھڑے ہو ۔ اور اللہ کی سچائی کا ساتھ دیتا ہے ۔ تو پھر تم مطلقاً نہ گھبراؤ اور کفر کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرو ۔ کیونکہ سربلندی اور تفوق تمہارے لئے متقدارات سے ہے ۔ اور ضروری ہے ۔ کہ تمام دنیا میں جب تک جہاد و قتال کی زندگی بسر کرو ۔ اللہ کی تائیدات تمہارے شامل حال رہیں ۔ اور تمہارا قدم جدھر کو اٹھے کامیابیاں اس کو چومنے کے لئے آگے بڑھیں ۔ یہ زندگی محض ایک تماشا اور کھیل ہے ۔
اس کی مسرتوں کو زیادہ اہمیت نہ دو ۔ اگر تم لوگ مومن رہے ۔ اور اتقاء کے دامن کو تم نے ہاتھ سے نہ دیا تو پھر اجروثواب سے تمہاری جھولیاں بھر دیگا ۔ اور وہ…
Read the full tafseer →(36) سوائے اس کے نہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو جب کا بہلانا اور ایک کھیل ہے اور اگر تم ایمان لے آئو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو وہ اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اجروثواب عطا فرمائے گا اور تم سے تمہارے مال طلب ہیں کرے گا۔
دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشا ہے اگر تم ایمان اور تقوے کی روش اختیار کرو گے اور ایمان اور تقویٰ کے پابند رہو گے تو تم کو اجروثواب بھی اپنے وقت پر ملے گا اور تم سے مال کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا یا کل مال طلب نہیں کرے گا۔
دوطرح معنی کئے گئے ہیں ہم نے دونوں کی رعایت کردی ہے یعنی ابتدائی دور میں جان اور مال دونوں ہی کی ضرورت ہے آگے چل کر مال کا مطالبہ بھی کم ہوجائے گا اور جب مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 7۔ اگر اس میں جان اور مال کو تمتع کے لئے بچانا چاہئے تو وہ تمتع ہی کتنے دن کا ہے اور کیا اس کا حاصل۔
Read the full tafseer →دنیا کی زندگی کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ یہ حباب آب سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی
63 ؎ دنیوی زندگی کی حقیقت کیا ہے ‘ ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔ اس زندگی میں تو جو وقت کسی کو میسر آیا ہے وہ وقت غنیمت جانتے ہوئے اپنی آخری زندگی کو سنوارنے کے لئے خرچ کرے تاکہ اس عارضی زندگی سے اپنی ابدی زندگی کیلئے کوئی توشہ جمع کرلے اگر اس سے وہ محروم رہ گیا اور دنیا کا مال دنیا ہی کے لئے جمع کرتا رہا اور دنیا ہی کی خاطر خرچ کرتا رہا تو یہ مہلت کا وقت تو اس نے گویا ضائع کردیا اور یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اس نے اپنا سارا وقت کھیل کود میں ضائع کردیا اور یہ بھنی غور کرو کہ کھیل کھیلنے والا آخر کتنی مدت تک کھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا (The worldly life is but play and pastime - 47:36.) As Muslims have been enjoined to fight in the cause of Allah, they will, for this purpose, have to make sacrifices of life and money. But the love of this world is the only thing that can prevent man from fighting. In this verse we are told that neither of these mundane benefits is permanent. After all, they all will perish and come to an end. Even if we succeed in saving them for now, they will be lost another time. The bounties of the next world are permanent and eternal: the believers need to develop love…
Read the full tafseer →42 That is, "As against the Hereafter, this world is no more than a means of temporary entertainment. The success or failure here is not anything real and enduring, which might in any way be important. The real life is life hereafter success in which should be man's main concern. (For further explanation, see E.N. 102 of Surah AI-`Ankabut).
43 That is, "Allah is Self-Sufficient: He dces not need taking anything from you for His own Self. If He tells you to expend something in His way, He dces so not for Himself but only for your own good."
Read the full tafseer →