47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsسراج البیان

Ayahs 47:1–2

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیئے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور محمد پر اترا ہے اسے مان لیا اور وہی ان کے رب کی طرف سے حق (یعنی سچا دین) ہے اس لئے ان کی بدیوں کو ان سے دور کیا اور ان کا حال سنوار (ف 1) دیا

سورة محمد 1: اس سورة کا آغاز کو سورة احقاف کے آخری مضمون کے ساتھ ایک باریک تعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اختتام سورت کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ جو لوگ فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے قوانین رشدوہدیات کو نہیں مانتے ۔ وہ ہلاک ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ اس حقیقت کے اظہار کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا ۔ کہ آخر یہ لوگ کچھ نیک کام بھی تو کرتے ہوں گے ۔ پھر کیونکر قرین عدل و انصاف ہے کہ ان کو ایک دم ہلاکت وموت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ بحیثیت نظام کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے اور اس طرح خیروبرکت کی اشاعت میں زبردست رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کے اعمال مقبول نہیں ہیں ۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت کے لئے سب سے ذہنیت کا درست ہونا ضروری ہے اور لازم ہے ۔ کہ ان کے تحریکات نیک اور بلند ہوں ۔ چونکہ یہ بات کفر و انکار کی حالت میں ممکن ہی ہیں ۔ اس لئے اعمال کا ضائع ہونا ناگریز اور طبعی ہے ۔ یعنی جہاں حسن عمل کے لئے یہ زیبا ہے ۔ کہ اس لقمن میں تمام غیر اللہ کی شخصیتوں کا انکار کردیا جائے وہاں ایک شخصیت ایسی ہے ۔ جس کا ماننا جس سے محبت رکھنا ، اور جس کی اطاعت کرنا راہ نجات ہے اور وہ شخصیت ہے جناب محمد رسول اللہ ﷺ ۔ حل لغات :۔ علی محمد ۔ ہوسکتا ہے اس تصریح سے اس طرف بھی اشارہ ہو ۔ کہ قرآن اس شخص پر اور اس آیت پر نازل ہوا ہے ۔ جو کائنات میں سب سے بہتر اور سب سے اعلی ہے ۔ الرقاب ۔ گردنیں ۔ اتختمو تدر اسحان سے ہے ۔ جس کے معنے خوب خونریزی کے ہیں ۔ منا ۔ احسان کرکے ۔ نداء ۔ زر فدیہ لے کر معاوضہ لے کر ۔
Ayahs 47:3–4

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو کافر ہیں وہ جھوٹی بات پر چلے اور جو ایمان لائے وہ اس دین حق کے پیرو ہوئے جو ان کے رب کی طرف سے ہے یوں اللہ لوگوں کو ان کے حال بتاتا ہے

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب تم کافروں سے لڑو ۔ تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان میں خونریزی کرچکو تو ان کی مشکیں باندھ لو ۔ اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر ۔ یہاں تک کہ لڑائی میں اپنے ہتھیار رکھ دے یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو (خود) ان سے بدلہ لے لیتا ۔ لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ تم میں سے بعض کو بعض سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کے اعمال (ف 1) وہ ہرگز نہ کھوئے گا

جہاد کی حقیقت 1: یہ آیات مقام جہاد میں نازل ہوئی ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لئے پہلے چند باتوں کو ذہن نشین کرلینا چاہیے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ :۔ (1) اسلام کی غرض دنیا میں تسکین و طمانیت کی فضا کو پیدا کرنا ہے ۔ اور نوع انسانی کو ایسے تکلفات پر مرکوز کرنا ہے ۔ جہاں رنگ وبو کے تمام اختلاف مٹ جاتے ہیں ۔ (2) ہر عقیدہ خیر کو اور ہر نظام برکات التیام کو پھیلانا ، نہ صرف جائز بلکہ انسانیت کے لئے ضروری ہے ۔ (3) تشدد کی تعریف یہ نہیں ہے کہ زندگی کے عمدہ پروگرام کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے قوت اور طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ بلکہ یہ ہے ۔ کہ بری باتوں کو پھیلانے کے لئے حرب اور جنگ کے معرکے قائم کئے جائیں ۔ (4) اسلام اس روش کو پسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔ کہ جبراً کسی شخص کو اسلام کے حقائق کی طرف مائل کیا جائے ۔ چناچہ وہ صاف طور پر کہہ چکا ہے ۔ کہ لا اکراہ فی الدین ۔ کہ مذہب کے باب میں بیڑاکراہ کو دخل نہیں ہے ۔ (5) باوجود اس کے کہ افراد کے معاملہ میں جبروتسخیر کی حکمت عملی جائز نہیں ۔ جب کوئی قوم اسلامی حقائق کو تسلیم نہ کرے ۔ اور اپنی قوت و طاقت سے افراد کے اس حق کو چھین لے ۔ کہ وہ آزادی کے ساتھ کسی مذہب کو قبول کرلیں ۔ تو پھر جہاد ضروری ہوجاتا ہے ۔ (6) جہاد بعض حالات میں دفاعی ہوتا ہے اور بعض حالات میں جارحانہ اور اس کی غرض وغایت بہرحال یہ رہتی ہے ۔ کہ مختلف انسانی جماعتوں اور طبقوں میں امن وسعادت کے توازن کو قائم رکھا جائے ۔ (7) جہاد بہر نوح ایک وسیلہ ہے ، مقصد نہیں ہے ۔ جب لوگوں کی روحانی اور اخلاقی قوتیں اس حد تک ترقی پذیر ہوجائیں ۔ کہ سچائی کو قبول کرنے کے لئے ان پر کسی نوع کی پابندی عائد نہ ہو ۔ تو اس وقت اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ان تصریحات کی روشنی میں آیات جہاد پر غور فرمائیے ۔ قرآ کہتا ہے ۔ اگر دشمنوں کا سامنا ہو ۔ اور جنگ کی آگ مشتعل ہو ۔ تو پھر مسلمان بہادر سپاہی کی طرح لڑے ! اور مغرور اور سرکش گردنوں کو اڑاتا ہوا نکل جائے ۔ اور شدید خونریزی سے بھی درگزر نہ کرے ! اور دشمنوں کو گرفتار کرلے ۔ پھر چاہے تو یونہی ممنون کرکے ان کو چھوڑ دے ۔ اور چاہے تو جذیہ لے ۔ یہ معرکہ کا رزار اس وقت تک گرم رہے ۔ جب تک کہ فضا امن وثانیت کی صورت میں اختیار کرلے ۔ اسی طرح شریر وتیں دب جائینگی ۔ اور مفسد عناصر کا قلع قمع ہوجائے گا ۔ اور پھر امکان نہیں رہے گا کر امن کی فضا میں کفرو معصیت کسی نوع کی ابتری پیدا کرسکے ۔ حل لغات :۔ حتی تطنع الحراب اوزارھا ۔ جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں ۔ کنیہ ہے امن و سکون سے ۔
Ayahs 47:5–7

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

انہیں ہدایت کریگا اور ان کا حال درست کریگا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انہیں بہشت میں داخل کریگاجو معلوم کروا دی ہے ان کو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کریگا اور تمہارے (ف 2) پاؤں جمائے رکھے گا

ف 2: اللہ کی مدد کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنا لہو تک بہادیا جائے
Ayahs 47:8–9

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہوئے ان کو ٹھوکر لگی اور اللہ نے ان کے اعمال کھودیئے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو اللہ نے نازل کیا ۔ انہوں نے اسے پسند نہ رکھا ۔ سو اللہ نے ان کے اعمال (ف 3) اکارت کردیئے

ف 3: یعنی منکرین کو اس لئے ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کہ ان کو اللہ کی حمایت حاصل نہ تھی ۔ اور مسلمان اس لئے ہمیشہ سر بلند رہے ۔ کہ یہ اللہ کی اعانت ونصرت پر یقین رکھتے تھے ۔
Ayahs 47:10–12

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا ۔ جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اللہ نے انہیں تہس نہس کردیا اور کافروں کو ایسی ہی سزا ملا کرتی ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ایمانداروں کا رفیق اللہ ہے اور کافروں کا کوئی رفیق نہیں

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو ایمان لائے اور نیک کام کئے ایسے باغوں میں داخل کریگا ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) فائدہ اٹھاتے ہیں اور جیسے چارپائے کھاتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں اور آگ (ف 1) ان کا گھر ہے

مردِ مومن کے رجحانات 1: مومن اور کافر کی توجہالت فکر میں یہ فرق ہے ۔ کہ مومن کے سامنے صرف حقیر اور ناچیز دنیا نہیں ہوتی ۔ اس کی نگاہ بلند ہوتی ہے ۔ جس سے عقبیٰ کی رفعتیں دیکھتا ہے ۔ مگر کافر صرف دنیا تک اپنی تگ دو کو محدود رکھتا ہے ۔ مومن جہاں جسم کی بالیدگی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ وہاں سرخ کی تازگی اور بشاشت بھی چاہتا ہے ۔ کافر کی توجہ صرف پیٹ اور اس کے مقتضبات کی طرف لگی رہتی ہے ۔ مومن اس لئے کھاتا پیتا اور مخلوط دنیا سے استفادہ کرتا ہے ۔ کہ آخرت کے لئے اپنے میں وقت ونشاط پاسکے ۔ اور کافروں کے دن دنیا کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے ۔ کہ اپنے جذبات شہوت وحرص کی تسکین کرسکے ۔ زیادہ وافصیح الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے گا ۔ کہ مومن کے سامنے زندگی کا ایک مقصد اور نصب العین ہوتا ہے ۔ اور کفار بالکل حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتا ہے ۔ اس کے سامنے کوئی اخلاقی اور روحانی نصب العین نہیں ہوتا ۔ پھر چونکہ دونوں میں غرض ومقصد کا بین تفاوت ہے اس لئے ضروری ہے ۔ کہ مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بھی دونوں میں فرق ہو ۔ چناچہ جس کی خواہشات دنیا میں بالکل ارزاں ترین جذبات کی تکمیل تک محدود ہیں جہنم میں جائے گا اور اس کا مادہ جسم آتش دوزخ کے اندر ہوگا ۔ جس کی پرورش کے لئے اس نے اپنی عمر کا کثیر ترین حصہ ضائع کیا تھا
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت ایسی بستیاں تھیں جو تیری اس بستی سے جس نے تجھے جلاوطن (ف 2) کیا زور میں بڑھی ہوئی تھیں ۔ ہم نے انہیں ہلاک کیا ۔ پھر کوئی ان کا مددگار نہ ہوا

ف 2: حضور ﷺ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اگر ان لوگوں نے آپ کو اپنے محبوب ترین شہر سے باہر نکال دیا ہے ۔ تو آپ گھبرائیں نہیں پہلی تو میں ان سے زیادہ تنومند اور مضبوط تھیں ۔ مگر ہم نے ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا ۔ اور کوئی چارہ ساز ان کی حمایت نہیں کرسکا ۔ اسی طرح ممکن ہے ۔ کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی اسی نوع کا سلوک روارکھنا پڑے ۔ اور ان کو بتانا ڑے ۔ کہ پیغمبر ﷺ کو اس کے گھر سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک کوئی معمولی جرم نہیں
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا (ف 1) جو لوگ اپنے رب کے کھلے رستے پر ہیں ۔ ان جیسے ہوجائیں گے جن کے برے عمل ان کو اچھے دکھلائے گئے ہیں اور وہ اپنی خواہشوں پر چلتے ہیں ؟

ف 1: یعنی اہل حق وصداقت ہمیشہ دلائل اور براہین کی روشنی میں اللہ کے دین کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوتے ۔ جوب بظاہر برائیوں کی سج دھج سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں عقل وخرد سے کام نہیں لیتے ۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

اس بہشت (ف 2) کا بیان جس کا متقیوں سے وعدہ ہوا ہے یہ ہے کہ وہاں انی مکی نہریں ہیں جس میں بدبو نہیں اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلا اور شراب کی نہریں جو پینے والوں کو لذت دیتی ہے اور صاف (جھاگ اتارے ہوئے) شہد کی نہریں ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کا میوہ ہے اور ان کے رب کی طرف سے معانی ۔ کیا یہ لوگ ان کی مانند ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیگے اور وہ کھولتا ہوا پانی پلائے جائینگے پھر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا

ف 2: یہ ان لوگوں کے درجہ کی تشریح ہے ۔ جن کا مطمح نظر صرف جذبہ حیوانیت کی تسکین وتکمیل نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ روح کی پاکیزگی کے لئے بھی کچھ کرتے ہیں ۔ ان کے لئے جو مقام تجویز کیا گیا ہے ۔ اس میں ہر نعمت وفور کے ساتھ موجود ہے وہاں صاف ، شیریں ، اور ٹھنڈے پانی کی نہریں ۔ خوش ذائقہ دودھ کے دریا ، اور نہایت لذیذ شراب اور رسل مصطفیٰ کی نہریں ہوں گی ۔ اور ہر قسم کے پھل اور میوے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مولا کی رضا دل کو میسر ہوگی ۔ واضح رہے ۔ کہ خدا گائے اور بھینس کے تھنوں میں دودھ پیدا کرسکتا ہے ۔ وہ بہشت میں نہروں میں بھی اس کو بہاسکتا ہے ۔ اور جس کی قدرت میں یہ ہے ۔ کہ وہ مکھیوں کو شہد جمع کرنے کی قابلیت عطا کردے ۔ وہ یقینا اس سے زیادہ عمدہ ذرائع بھی اختیار کرسکتا ہے ۔ اس لئے ان چیزوں پر اعتراض کرتا درحقیقت اپنی کوتاہ نظری کا ثبوت دینا ہے ۔ حل لغات : ۔ امین ۔ وہ پانی جس کا مزہ اور تو تبدیل ہوجائے عسل مصفی ۔ خالص شہد ۔
Ayahs 47:16–18

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور بعض ان میں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان سے جنہیں علم ملا ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی اس نے یہ کیا کہا تھا ؟ یہ وہی لوگ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں ۔ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگائی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیرو ہوئے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہدایت پائی وہ ان کی اور ہدایت بڑھاتا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا کرتا ہے

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

سو کیا یہ لوگ قیامت ہی کی راہ دیکھتے ہیں کہ ان پر اچانک آئے تو اس کی نشانیاں تو آچکی ہیں ۔ پھر جب وہ ان کے پاس آئیگی تو انکو نصیحت (ف 1) قبول کرنا کہاں سے نصیب ہوگا

اللہ کا قانون 1: رشدوہدایت اور ضلالت وگمراہی کے متعلق اس کا قانون یہ ہے ۔ کہ وہ کسی شخص کے اعمال میں مداخلت نہیں کرتا ۔ اور کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا ۔ کہ وہ اپنے لئے ان دوراہوں میں سے کسی ایک راہ کو ضرور اختیار کرے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے ۔ کہ وہ حقیقت حال سے آگاہ کردے ۔ پیغمبروں کے بھیجے ۔ اور کتابوں کو نازل کرے ۔ تاکہ انسان عقل وبصیرت کی روشنی میں اپنا نصیب العین تجویز کرے ۔ اور پھر سمجھ سوچ کر کسی پک ڈنڈی پر ہولے ۔ جب یہ ہوتا ہے کہ کو ئش شخص عمداً خواہشات کی پیروی کے جنون میں حق وصداقت کی آواز کو نہ سننا چاہے ۔ اور آفتاب کی طرح روشن حقائق کو ٹھکرا دے ۔ تو پھر وہ اس سے توفیق ہدایت کو چھین لینا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ کہ وہ بدبختی اور محرومی میں اس منزل تک پہنچ گیا ہے جہاں اب حصول ہدایت کے لئے کوئی موقع باقی نہیں رہا ۔ اور جب کوئی اللہ کا بندہ قبولیت وپذیرائی کے لئے آگے بڑھتا ہے ۔ اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے ۔ کہ حق و باطل میں کون راہ منزل مقصود تک لے جانے والی ہے ۔ تو پھ روہ اس کی اعانت کرتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہدایت کی راہوں کو روخن اور واضح کردیتا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ محسوس کرتا ہے کہ میرے ساتھ اللہ کی امداد ہے اور میں اس کی ہمدردیوں سے بدرجہ غایت بہرہ مند ہوں ۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

سو تو جان رکھ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی لغزش کی معافی (ف 2) مانگ اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لئے بھی اور اللہ تمہارے پھرنے کی (ف 3) کی جگہ اور تمہارا ہاتھ اٹھانا جانتا ہے

ف 2: فرمایا ۔ یہ مکہ والے کیوں بڑھ کر اور لپک کر رشتہ ہدیات کو نہیں تھام لیتے ؟ آخر رشتہ ہدایت کو تھام لیتے ! آخر یہ کس بات کے منتظر ہیں ۔ جہاں تک دلائل اور شواہد کا تعلق تھا ۔ وہ سب ان کی خدمت میں پیش کردیا گیا ۔ اور ان کو کئی بار بتا دیا گیا ۔ کہ بت پرستی گمراہی اور ذلت اور رسوائی کی راہ ہے اور انسانیت کی توہین اور تذلیل کا راستہ ہے ۔ اب کیا یہ چاہتے ہیں ۔ کہ قیامت اچانک آجائے ۔ اور ان کے اور مسلمانوں کے درمیان آخری فیصلہ صادر فرمادے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی رحمتیں تو آچکی ہیں ۔ اور جب وہ آجائیگی تو اس وقت ان کیلئے تذکیر ونصیحت کا کوئی امکان باقی نہیں رہیگا ۔ لفظ استغفار پیغمبر کے حق میں 3: لفظ استغفار کئی معانی کا حاصل ہے ۔ جہاں تک اس کا تعلق حضور ﷺ کے ساتھ ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ کو گناہوں کے عدم صدور کی توفیق عنایت فرمائے ۔ یقینی آپ کو نور وعرفان بخشے ۔ کہ گناہوں کے پرفریب پہلو آپ کی نظروں سے اوجھل اور ڈھکے رہیں ۔ اور آپ ان سے قطعاً متاثر نہ ہوں ۔ اور جہاں اس کا تعلق عام مومنین اور مومنات سے ہے ۔ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور خدا اسے دعامانگیں ۔ کہ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے ۔ حل لغات :۔ آنفرانھا ۔ پکی الامتیں ۔ اشراط ۔ جمع ہر شرط کی ۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ یوں کہتے ہیں (کہ جہاد کے متعلق) کوئی سورت کیوں نہ اتری ۔ پھر جب ایک صاف معنی سورت اتری اور اس میں لڑائی کا ذکر آیا تو انہیں جن کے دلوں میں مرض ہے دیکھتا ہے کہ تیری طرف یوں تکتے ہیں جیسے وہ تکتا ہے جس پر مرتے وقت موت (ف 1) کی بےہوشی طاری ہوتی ہے سو خرابی ہے ان کی

ف 1: ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ جو لوگ مخلص مسلمان ہیں ۔ ہمیشہ اللہ کے احکام کے منتظررہتے ہیں ۔ تاکہ بیش از بیش اس کے احکام کی اطاعت کرکے فضیلت کے درجات عالیہ کو حاصل کریں ۔ اگر جو کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں جہاد و قتال کا حکم ہو ۔ تو ان کی کیفیت مارے خوف کے ہوتی ہے ۔ کہ جیسے غش آگیا ہو ۔ فرمایا ۔ جب بعین بزدل کا یہ عالم ہو کہ جہاد کا نام بدن پر لزہ طاری کردے ۔ تو پھر اس زندگی سے موت زیادہ بہتر اور موزوں ہے ۔
Ayahs 47:21–24

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا اور معقول بات کہنا (بہتر ہے) پھر جب لڑائی کا پختہ ارادہ ہوگیا تو اس وقت اگر وہ اللہ کے آگے سچے رہیں تو ان کے لئے بہتر ہے

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم حاکم بنائے جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے توڑ دو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ۔ پھر انہیں بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

سو کیا وہ قرآن (ف 2) میں دھیان نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل لگے ہوئے ہیں

دعوت غوروفکر 2: قرآن حکیم دنیا میں وہ پہلی اور آخری کتاب ہے جو اپنے ماننے والوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے ۔ اور جس کی تعلیمات خالصاً دانائی اور علوم وفنون کی قطعیت پر مبنی ہیں ۔ یہ کتاب سب لوگوں سے کہتی ہے ۔ کہ تم فطرت کے حقائق کے متعلق سوچو اور غور کرو ۔ پھر یہ دیکھوں کہ ہماری تعلیمات کہاں تک اس کے موافق ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو ۔ کہ اس صحیفہ رشدوہدایت میں جو کچھ لکھا ہے ۔ وہ عین قرین عقل سے ۔ اور تجربہ کے مطابق لو اس کو تسلیم کرو ۔ ورنہ معقول اعتراض پیش کرو ۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس کے مخاطب ہی وہ لوگ ہیں ۔ جو بصیرت سے بہرو وافر ررکھتے ہیں ۔ اور جنگی نگاہوں کو ہیں ۔ اس کتاب کو آئندہ علوم کے ارتقاء سے نہ صرف کوئی خطرہ نہیں ۔ بلکہ قوی امید ہے کہ لوگ ان معلومات کی روشنی میں اس کے زیادہ قریب آجائیں گے ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ کیوں قرآن میں تدبر وفکر اور اندھی تقلید کے قفل لگ رہے ہیں ؟ کہ ان میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی ۔ حل لغات : ۔ مراص ۔ نفاق ۔ بزدلی اور غبن والولی لھم ۔ سو ان کے لئے ہلاکت زیادہ موزوں ہے ۔ ان کی کم بختی آنے والی ہے ۔
Ayahs 47:25–28

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بعد اس کے کہ ان پر ہدایت کھل چکی اپنی پیٹھوں پر الٹے پھرگئے (یعنی مرتد ہوگئے) شیطان نے ان کے دل میں بات بنائی اور انہیں دیر کے وعدے دیئے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو اللہ کے نازل کئے ہوئے سے بیزار ہیں کہ بعض امور میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور اللہ ان کی چھپ کر باتیں کرنا جانتا ہے

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

سو اب وقت کیا ہوگا ۔ جب فرشتے ان کی جان اس طرح نکالیں گے کہ ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے جاتے ہوں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی ۔ جس نے اللہ کو غصہ دلایا اور خود اس کی خوشنودی کو ناپسند کیا پس ان کے کام (ف 1) اللہ نے اکارت کردیئے

منافقین کا جہاد سے فرار 1: ان آیات میں اس گروہ کا ذکر ہے ۔ جن کو منافقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔ مگر بیاظن اہل کفر وشرک کے ساتھ ساز بازرکھتے تھے ۔ اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے ۔ کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا احتمال وامکان ہو ۔ تو اس وقت اپنی شام قوتوں کو صرف کردیا جائے ۔ اور اپنی دوستی کی وجہ سے دشمنوں کو مدد پہنچائی جائے ۔ فرمایا کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے مسلمانوں سے تعلقات مو وت واخوت منقطع کر رکھے ہیں ۔ اور میدان جہاد سے فرار اختیار کیا ہے ۔ تو محض اس لئے کہ یہ شیطان کے چکر میں آگئے ہیں ۔ اور اس نے اللہ کو ڈھیل دے دی ہے تاکہ اپنی تدبیروں میں وہ کامیاب ہوسکے ۔ ان لوگوں اور مفکرین کے درمیان گہرے تعلقات میں اور انہوں نے پوشیدہ پوشیدہ حدود امانت کا عہد کررکھا تھا ۔ مگر اللہ تعالیٰ ان خفیہ کاروائیوں کو جانتے ہیں ۔ اس لئے یہ قطعاً ممکن نہیں ہے کہ اس طرح یہ لوگ مسلمانوں کو نقصان پہنچاسکیں ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے کے لئے آئیں گے ۔ اور ان کے منہ اور پشت پر کوڑے برسائیں گے ۔ اس وقت ان کے پاس کیا عذر ہوگا ۔ اور کس طرح یہ لوگ اس تکلیف سے بچ سکیں گے ؟۔ حل لغات :۔ سولی لھم ۔ تجویز بنائی فاحبط اعمالھم ۔ یعنی چونکہ دوں میں کفر ونفاق کا مرض موجود تھا ۔ اس لئے اللہ نے ان کے سب اعمال عدم کردیئے ۔
Ayahs 47:29–30

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

جن کے دلوں میں مرض ہے کیا وہ گمان کرتے ہیں ۔ کہ اللہ ان کی دل کی عداوتوں کو ظاہر نہ کریگا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو وہ اشخاص تجھے دکھلادیں سو تو انہیں ان کی پیشانی سے پہچان لے اور آئندہ کو تو انہیں ان کی بات (ف 1) کے ڈھب سے پہچان لے گا ۔ اور اللہ تمہارے کام جانتا ہے

ف 1: کہ یہ منافقین یہ نہ خیال کریں ۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلی جذبات غم وغصہ کو جو مسلمانوں سے متعلق ہیں ۔ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ۔ بلکہ ہم جائیں ۔ تو آپ کو ان کے چہروں کو دیکھ کر اور ان کی گفتگو کو سن کر بھانپ جائیں ۔ کہ یہ منافق ہیں ۔ چناچہ مسد امام ابن جنبل میں ہے ۔ کہ حضور ﷺ نے ان سب کے نام ہم کو ایک صحبت میں بتا دیئے تھے ۔ اور ہم ان کو خوب پہچانتے تھے ۔
Ayahs 47:31–33

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم ضرور آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو معلوم کریں اور تمہاری خبروں کو آزمائیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکا ۔ اور رسول ﷺ کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان کو رستہ نظر آچکا تھا ۔ یہ اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو مٹا دیگا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ۔ اور اپنے اعمال (ف 2) کو برباد مت کرو

مدینہ کا دارالضرب 2: قرآن حکیم نے اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اصل پیش فرمائے ہیں ۔ اور بار بار یہ تاکید کیا ہے ۔ کہ اگر نجات چاہتے ہو ۔ اور دین ودنیا کی سعادتوں کو حاصل کرنے کے خواہان ہو ۔ تو ان دو عظیم المرتبت شخصیتوں کے ساتھ وفاداری کا عہد کرو ۔ یہ دو شخصیتیں اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور یہی دراصل ہیں ۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ہر دو اطاعت بیکار اور رائیگان جائیگی ۔ جس کو ادا کرنے میں احکام الٰہی اور سنت رسول ﷺ کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور وہ اعمال باطل میں جو اسوہ رسول کے موافق نہیں ہیں ۔ اور وہ روشنی تاریکی وظلمت کے مترادف ہے ۔ جو مشکوٰۃ نبوت سے مستفاد نہیں ہے ۔ یعنی اعمال وقدروقیمت اسلامی نقطہ سے یہ نہیں ہے ۔ کہ وہ کس درجہ وسیع اور کس حد تک مفید ہیں اور ان کو بروئے کار لانے میں کتنی مصیبتوں اور کلفتوں کو برداشت کیا کیا گیا ہے ۔ بلکہ معایر ان کا پرکھا یہ ہے ۔ کہ ان کے اوپر مدینہ کے دارالضرب کی مہر بھی مکی ہے یا نہیں ۔ جس طرح منبس سکے کی کوئی قیمت نہیں ۔ اسی طرح اسلامی بازار میں بدعات کی کوئی قیمت نہیں ۔ بلکہ ان کا مرتکب اسلامی قانون کے سامنے جواب دہ ہے ۔ حل لغات : اصغانھم جمع حففن بمعنے کینے والی عداوتیں لحن لقول ۔ انداز گفتگو ۔ طرف کلام شدتوا ۔ مخالفت کی اور عناد کا مظاہرہ کیا ۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ کافر ہی رہ کر مرگئے ۔ خدائے تعالیٰ ان کو بھی نہ (ف 1) بخشے گا

ف 1: یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایمان پر کفر کو ترجیح دی ۔ اور نور کے بدلے ظلمت کو خریدا ۔ اور اسی حالت محرومی وبدبختی میں مرگئے ۔ تو ان کے لئے بخشش کا کوئی موقع نہیں ۔ اور ان کے تمام اعمال چونکہ صحیح نقطہ نگاہ سے صادر نہیں ہوئے ۔ اس لئے مسترد کردیئے جائیں گے اور یہ کسی اجر کے بھی مستحق قرار نہیں دیئے جائیں گے ۔
Ayahs 47:35–36

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم بودے نہ ہوتے جاؤ اور صلح کی طرف نہ پکارنے لگو اور تم ہی غالب رہو گے اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تمہارے اعمال ضائع نہ کرے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور جو تم ایمان (ف 2) لاؤ اور ڈرو تو تمہاری اجرتیں دیگا اور تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا

تم سربلند ہوں 2: یعنی جب یہ درست ہے ۔ کہ تم حق وصداقت کی مضبوط چٹان پر کھڑے ہو ۔ اور اللہ کی سچائی کا ساتھ دیتا ہے ۔ تو پھر تم مطلقاً نہ گھبراؤ اور کفر کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرو ۔ کیونکہ سربلندی اور تفوق تمہارے لئے متقدارات سے ہے ۔ اور ضروری ہے ۔ کہ تمام دنیا میں جب تک جہاد و قتال کی زندگی بسر کرو ۔ اللہ کی تائیدات تمہارے شامل حال رہیں ۔ اور تمہارا قدم جدھر کو اٹھے کامیابیاں اس کو چومنے کے لئے آگے بڑھیں ۔ یہ زندگی محض ایک تماشا اور کھیل ہے ۔ اس کی مسرتوں کو زیادہ اہمیت نہ دو ۔ اگر تم لوگ مومن رہے ۔ اور اتقاء کے دامن کو تم نے ہاتھ سے نہ دیا تو پھر اجروثواب سے تمہاری جھولیاں بھر دیگا ۔ اور وہ تم سے تمہاری استطاعت سے زیادہ جہاد کے مصارف کے لئے مال طلب نہیں کرتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے ۔ کہ اگر تم عوام سے زیادہ کا مطالبہ کرے گا ۔ تو تم بخل کا اظہار کرنے لگے گے ۔ حل لغات :۔ الی السلم ۔ صلح کی طرف ولن یتر ۔ ویتر سے ہے ۔ جس کے معنی نقصان پہنچانے کے ہیں ۔
Ayahs 47:37–38

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اور اگر وہ تمہارے مال مانگے پھر تنگ کرے تو تم بخیل ہوجاؤ اور تمہارے دل کی خفگیاں ظاہر کردے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سنتے ہو تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے ۔ پھر تم میں کوئی ہے جو بخل کرتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے ، اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہارے سوا اور قوم بدل لائے گا ۔ پھر وہ تمہاری مانند نہ ہوگے

یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر صدقات و خیرات دے کر تم اس کو ممنوں نہیں کرتے ہو ۔ بلکہ اسمیں کچھ تمہارا ہی فائدہ ہے ۔ اور یہ بخل تمہارے حق میں ہی مضرثابت ہوگا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ وہ بالکل بےنیاز ہے ۔ اگر تم اپنے فرائض کو ادا نہیں کرو گے ۔ تو وہ تمہاری دوسرے لوگوں کو لے آئے گا ۔ اور ان سے اپنے دین کی حمایت کا کام لے لے گا ۔ کیونکہ اس کو بہرحال اپنے دین کی بقاء اور تحفظ منظور ہے ۔