47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 47:1–11

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکا (اللہ نے) ان کے اعمال برباد کردیئے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور وہ اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل فرمایا گیا ہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے (اللہ نے) ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ، انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور یہ کہ جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لئے ان کے حالات بیان فرماتے ہیں

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

پس جب تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو (ان کی) گردنیں مارو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو (جو گرفتار ہوں انہیں) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کرکے (چھوڑ دو ) اور یا معاوضہ لے کر ، یہاں تک کہ لڑائی (فریق مقابل) اپنے ہتھیار پھینک دے۔ یہ (حکم) ہے اور اگر اللہ چاہتے تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتے و لیکن تاکہ تم میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے (مقابلہ کروا کے) آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ فرمائیں گے

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

ان کو سیدھے رستے پر چلائیں گے اور ان کی حالت درست رکھیں گے

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں داخل فرمائیں گے جس سے ان کو شناسا کررکھا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کریں گے اور تم کو ثابت قدم رکھیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں تو ان کے لئے ہلاکت ہے اور ان کے اعمال کو برباد کردیں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کو ناپسند کیا سو اس نے ان کے اعمال کو برباد کردیا

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے دنیا میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی۔ اور کافروں کے لئے ایسا ہی ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ایمان والوں کا کارساز اللہ ہے اور یہ کہ کافروں کا کوئی کار ساز نہیں

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات بھی شاندار یہ سب اس لیے کہ کفار کی طرف سے نازل ہونے والے حق کا اتباع اختیار کیا لہذا اس کا انجام انعامات ہوئے اور اس طرح کی مثالیں اللہ لوگوں کی ہدایت ک لیے بیان فرماتے ہیں جبکہ کفار ومومنین دوقومیں ہیں جو دوراستوں پر گامزن ہیں اور کفار اسلام کی راہ روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اگر ایسا ہوا اور مقابلہ ہوجائے کہ مسلمان اسلام کو پھیلانے کی سعی کرتا ہے تو خوب جم کر لڑو اور انہیں بےدریغ قتل کر وہاں انہیں جب شکست ہوجائے تو پھر جو قابو آجائیں انہیں قید کرلو یعنی مقصد بندے مارنا نہیں بلکہ کفار کو اس بات سے روکنا ہے کہ وہ کفر پھیلا کر اسلام کا راستہ روکیں ۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرکے قیدیوں کو چھوڑ دو فدیہ لے کر آزاد کردو اور اگر ہتھیار ڈال دیں مسلمان ہوکریاجذبہ دینا قبول کرلے توقتال نہ ہوگا۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں امام المسلمین کا اختیار۔ جنگی قیدیوں کے بارے سورة انفال میں بدر کے قیدیوں کے بارے اور اس سورة کی آیات سے علماء تفسیر نے تمام بحثوں کا حاصل یہ لکھا ہے کہ وقت کا تقاضا اور مسلمانوں کی مصلحت کو سامنے رکھ کر حاکم کو اختیار ہے کہ انہیں قتل کردے یا غلام بنالیاجائے تیسرے یہ کہ معاوضہ لے کر آزاد کردیاجائے یا ان پر احسان کرکے انہیں آزاد کردے یہ فیصلہ موقع کے مطابق ہوگا عہد نبوری سے خلفائے راشدین تک ان چاروں فیصلوں پر حالات کے مطابق عمل کیا گیا ۔ اسلام اور غلامی۔ غلام کا لفظ جب آتا ہے تو اہل مغرب کو وہ غلام نظر آتے ہیں جو انگریزوں نے افریقہ سے پکڑ کر زنجیریں اور بیڑیاں ڈال کر جہازوں میں جانوروں کی طرح بھر کر امریکہ میں جاکرفروخت کیے جبکہ اسلام میں غلام وکوصرف آزادی سلب کرکے اس قدر حقوق دیے گئے کہ غلامی بھائی چارے کی صورت اختیار کرگئی ان کو آزاد کرنے کی فضیلت اس قدر بیان کی گئی کہ بیشمار غلام لوگوں نے آزاد کیے کمالات کی راہ ان پر کھلی رکھی تئی تو مشہور علماء حق اور امام انہیں میں سے ہوئے حتی کہ غلامی سے لوگ حکمرانی تک بھی پہنچے لہذا اسلام میں غلامی کو اہل مغرب کی غلامی سمجھنا درست نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق بہترین صورت حال ہے ورنہ اللہ چاہتا تو ان سے بدلہ لیتا یعنی قتل کے علاوہ اور ان پر عذاب نازل کرنے کے علاوہ کوئی راہ نہ چھوڑتا مگر اس سے جنگ تک ہمیشہ کے لیے ختم فرما کر جہاد کا حکم دیا جو اس کی بہت بڑی رعایت ہے کہ آپ سے پہلے کفار ہمیشہ تباہ ہوا کرتے تھے جنگ اور جہاد۔ اور جنگ بھی عذاب الٰہی کا ایک نمونہ ہے مگر جہاد لوگوں کو مارنے کے لیے نہیں بلکہ ظلم سے روکنے کے لیے ہے نیز مومن کے لیے امتحان ہے کہ کون راہ حق میں جان قربان کرنے کو نکلتا ہے اور کافر کے لیے بھی کہ ظلم سے رک کر اسلام قبول کرنے کا موقع ملتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں کام آجاتے ہیں اور شہید ہوگئے ان کے اعمال ٹھکانے لگ گئے اللہ ان کی یہ محنت ضائع نہ فرمائے گا بلکہ ان کے اعمال سنوار دے گا اور اس جنت میں داخل فرمائے گا ، جن کے بارے انہیں بتایا گیا تھا اے جماعت مومنین اگر تم اللہ کے دین کی مدد میں کمربستہ رہو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ اللہ کی مدد شرط۔ یہاں کفار کے مقابلے میں اللہ کی مدد جو ہم شب وروز طلب کیا کرتے ہیں کیسے حاصل ہوبتادیا کہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی دین اسلام جو رسول اللہ کے ارشادات اور لایا ہوا دین اس کی مدد کرو گے کہ خود اس پر عمل کی بھرپور کوشش کرو گے اور دوسروں تک پہنچانے کا پورا اہتمام کروگے تو اللہ کریم تمہاری مدد فرمائیں گے اور تمہیں ثابت قدمی نصیب ہوگی کہ کفار کا سیاسی یامعاشی غلبہ تم پر نہ ہوسکے گا مگر افسوس آج ہم دین سے عملا دور اور کفار کے نقش قدم پر چل کر اللہ سے مدد کی دعا کرتے ہیں اللہ ہمیں سیدھے رست پر چلنے کی توفیق دے۔ رہے کافر تو وہ اپنے کفر کے سبب ہی تباہ ہوگئے اور ان کی ساری محنت جس کی بنیاد کفر پر تھی اکارت گئی ۔ دنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں عذاب پایا اس لیے کہ احکام الٰہی سے تو انہیں چڑ تھی لہذا ان سے اگر کوئی بھلائی کا کام صادر ہوا بھی تو وہ ضائع ہوگیا۔ اور یہ نتائج اس قدر واضح ہیں کہ یہ لوگ بھی دنیا میں گھوم پھر کر ظاہرا اپنے سے پہلے کافروں کا انجام اور ان کی بربادی کے نشانات دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے انہیں کس طرح برباد کردیا اور کافروں کو یہی کچھ تو ملتا ہے اس لیے کہ ایمان داروں کا تو اللہ کارساز ہے ان کی نگہبانی فرماتا ہے جبکہ کفار اس پر ایمان نہ لاکر اس کی نگہبانی سے تو محروم ہوئے اور دوسرا کوئی ایسا ہے نہیں جو ان کی مدد کرسکے۔ صرف اللہ کریم ہی ہیں جو اس روز فیصلہ فرمائیں گے۔
Ayahs 47:12–19

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ، ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا کے) فائدے اٹھاتے ہیں اور وہ اس رطح کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں آپ کی اس بستی سے جس کے رہنے والوں نے آپ کے بےگھر کردیا ہے ، طاقت میں بڑھی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان کو ہلاک کردیا تو کوئی ان کا مددگار نہ تھا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہو وہ ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جن کی برائیاں ان کو بھلی معلوم ہوتی ہوں اور جو اپنے نفس کی خواہشوں پہ چلتے ہوں

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے ، اسکی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہوں گی جو خراب نہیں ہوگا اور بہت سی نہریں ایسے دودھ کی ہوں گی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوگا اور بہت سی نہریں ایسی شراب کی ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت لذیذ ہوگی اور بہت سی نہریں بالکل صاف شہد کی ہوں گی اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہوگی۔ کیا یہ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے کردے گا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ آپ نے ابھی کیا فرمایا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور یہ اپنے نفس کی خواہشوں پہ چلتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پر ہیں (اللہ) ان کو زیادہ ہدایت دیتے ہیں اور ان کو پرہیزگاری عطا فرماتے ہیں

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو کیا یہ قیامت کو دیکھ رہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے ۔ سو اس کی نشانیاں تو آچکی ہیں تو جب یہ (قیامت) ان کے سامنے آکھڑی ہوئی تو اس وقت ان کو نصیحت کہاں سے ہوگی

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے سے باخبر ہیں

آیات 12 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور کوئی ان کی مدد نہ کرسکایہ بھی اپنی باری پہ ضرور اپنے کیے کا پھل پائیں گے بھلا جو انسان اللہ کی طرف سے واضح راستے پر ہو اور اللہ کی اطاعت میں سرگرم کوئی بدکار اس جیساتو نہیں ہوسکتا جس پر اللہ کا یہ عذاب ہو کر اسے برائی ہی بھلی لگنے لگی۔ اور اپنی خواہشات نفس کا پیروکار دونوں میں کس قدر فرق ہے کہ پہلی قسم کے لوگوں سے یعنی تقوی اختیار کرنے والوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا وہ اللہ کی ایک عجیب و غریب نعمت ہے کہ اسمیں ہمیشہ تروتازہ پانی اور ہمیشہ کے لیے خوش ذائقہ دودھ اور بہترین ذائقہ اور لذت والے شراب اور شفاف شہد کی نہریں ہیں یعنی دنیا سے محض نام کی مشابہت ہے ورنہ وہاں کا پانی دودھ اور شہد خصوصیات اور ذائقے میں اثرات میں اس سے کروڑوں گنابہتر اور بالکل الگ ہے ۔ نیز ہر طرح کے پھیل خوبصورت باغوں میں سجے ہوئے ہیں اور سب سے بڑی نعمت پروردگار کی طرف سے بخشش ہے جو انہیں نصیب ہوگی کہ یہ لوگ وہاں سے کبھی نکالے نہ جائیں گے بھلاوہ لوگ ان کی برابری کرسکتے ہیں جنہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہوگا اور پینے کا پانی تک ایسا کھولتا ہوا ہوگا حلق سے اترے گا تو انتڑیاں کاٹ دے گا ان بدبختوں میں ایسے منافق بھی ہیں کہ آپ کی خدمت میں تو بظاہر آپ کی باتوں پر بڑے متوجہ نظر آتے ہیں مگر جب مجلس سے باہرجاتے ہیں تو ان صحابہ کرام جو اہل علم ہیں یعنی آپ کے ارشادات جن کے لیے ذریعہ علم بنے کہتے ہیں کہ آپ نے ابھی ابھی کیا فرمایا تھا یعنی مذاق اڑاتے ہیں کہ ہم نے تو قابل توجہ نہیں سمجھا یہ ایسے لوگ ہیں جن کی برائی کے نتیجے میں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور اس کے نتیجے میں یہ خواہشات نفس کے پیروکار بن گئے ارشادات نبوی کا اعجاز۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا ان کے لیے ہم آپ کے ارشادات عالیہ کو ایمان میں زیادتی کا سبب بنادیانیز انہیں ان ارشادات عالیہ سے علم بھی حاصل ہو اور توفیق عمل یعنی تقوی میں زیادتی بھی کہ ارشادات نبوی کا اعجاز یہ کہ صرف طریق کار کا پتہ ہی نہیں چلتا بلکہ اس کے ساتھ توفیق عمل اور خلوص بھی عطا ہوتا ہے یہی کیفیت شرف صحابیت کہلاتی ہے اور شیخ کی بات میں اس کی خوشبو ہونی چاہیے کہ سننے والے کو توفیق عمل بھی ارزاں ہو اور اس کی عملی زندگی میں تبدیلی آئے یہ لوگ کیا قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ واقعی قیامت آجائے تو دیکھنے کے بعد ایمان قبول کریں گے وہ تو قبول کرنے کی فرصت نہ دے گی اور اچانک واقع ہوجائے گی اور جہاں تک اس کی نشانیوں کا تعلق ہے تو ان میں سے کچھ تو ظاہر ہوگئیں جیسے خود آپ کی بعثت اور شق قمر سوا نہیں بھی قبول کرنا چاہیے اگر قیامت واقع ہوگئی تو نصیحت حاصل کرنے کی فرصت نہ دے گی اور اسی طرح قیامت کے قائم ہونے سے قبل موت بھی چھوٹی قیامت ہے اور عندالموت بھی کافر کے لیے توبہ کا وقت گذرچکا ہوتاجب موت کی نشانیاں ظاہر ہوجائیں تو کافر کی توبہ قبول نہیں ہوتی جان لیجئے کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ علم۔ یہاں واعلم فرمایا یعنی اس بات کا علم ہونا چاہیے تو علم سے مراد وہ بات جو بندے کا حال بن جائے ورنہ محض سن کر عمل نہ کرنا علم نہ ہوگا یہ محض خبر کے درجے میں ہوگا لہذا واعلم سے مراد دین پر کامل اور مکمل عمل ہوگا اس کے ساتھ اپنی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔ نبی کی خطا۔ انبیاء (علیہم السلام) خطاؤں سے پاک ہیں اور آپ تو امام الانبیاء ہیں انبیاء سے صرف اجتہاد ترک اولی کا صدور بعض اوقات ممکن ہے جو گناہ نہیں مگر ان کے بلند منصب کے باعث اسے بھی خطاکہہ دیا گیا اور مومنین سے جو خطائیں بتقاضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہیں ان کے لیے بخشش طلب کیجئے سب خواتین وحضرات کے لیے کہ اللہ کریم تمہارے تمام احوال و کیفیات سے واقف ہے۔ علماء تفسیر فرماتے ہیں کہ اگر لا الہ الا اللہ اور استغفار کی تسبیحات کی جائیں تو دنیا سے رغبت کم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 47:20–28

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور ایمان والے لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی ؟ سو جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے ، تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری (نفاق) ہے آپ ان کو دیکھتے ہیں وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو۔ پس ان کے لئے خرابی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

فرمانبرداری اور اچھی بات کہنا (خوب ہے) ۔ پھر جب (جہاد کا) فیصلہ پکا ہوگیا تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم کو اقتدار مل جائے تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا پھر ان کو بہرہ کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

تو کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر ان کے قفل لگ رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ پھیر کر ہٹ گئے شیطان نے انہیں یہ کام خوبصورت کرکے دکھایا اور انہیں لمبی عمر کا وعدہ دیا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے ہوا کہ انہوں نے ایسے لوگوں سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کرتے ہیں کہا کہ بعض باتوں میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے۔ اور اللہ ان کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوں گے ، ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کو جو طریقہ اللہ کی ناراضگی کا سبب تھا یہ اسی پر چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے ، تو اس نے ان کے اعمال کو برباد کردیا

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔ محکمات۔ قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اس لیے یہاں محکمات کا لفظ بڑھادیا گیا ان کی بدنصیبی اور ان کی بدبختی آگئی طاعت اور فرمانبرداری کے بڑے دعوے تھے اور بڑی خوبصورت باتیں کرتے تھے مگر جب عمل کا وقت آیاتوبغلیں جھانکنے لگے اور اب جبکہ جہاد کی تیاری ہوچکی اور سب اسباب فرائم کردیے گئے اب بھی توبہ کرلیتے اور اللہ سے کیے گئے وعدہ ایمان کو سچاثابت کرکے دکھاتے تو بھی ان کے حق میں بہتر یہی تھا۔ جہاد سے گریز کے نتائج۔ کہ اگر تم لوگ تاویلیں گھڑ کر جہاد سے جان چراتے رہو تو پھر دنیا میں فساد پیدا ہوگا بدکار اور بےدین صاحب اختیار بن جایں گے جو قطع رحمی کریں گے یعنی دوسروں کا کیا حال ہوگا جبکہ وہ اپنے عزیزوں کے حقوق بھی ماریں گے اور اپنوں پر بھی ظلم کریں گے تو دوسرے ان کے ظلم سے کب بچیں گے اور اس کے ذمہ دار جہاد نہ کرنے کی وجہ سے تم ہوگے یاد رہے کہ کفر وشرک اور برائی کے خلاف عملا جہاد کا حکم ہمیشہ کے لیے ہے اور اگر جہاد ترک کرکے تاویلیں گھڑی جائیں اور صرف دعاؤں پر ٹرخا دیاجائے تو جو نتیجہ کتاب اللہ نے ارشاد فرمایا ہے وہ بدقسمتی سے آج ہمارے سامنے ہے اور ہم بھگت رہے ہیں ۔ اللہ کریم معاف فرمائے کہ بدکار تو ظالموں کی مدد کر رہے ہیں اور آج کے اکثر نیک کہلانے والے صرف دعا پر اکتفا کرکے بیٹھ رہے کاش اللہ کریم ہم سب کو صحیح سمجھ اور توفیق عمل عطا فرمائے۔ آمین۔ شخص معین پر لعنت۔ جہاد سے جی چرانے والے اور دنیا پر برائی پھیلانے کا سبب بننے والے لوگ ہی ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے یعنی جن کو رحمت سے محروم اور دور کردیا گیا ہے اور علماء کا ارشاد ہے کہ کسی شخص معین پر لعنت نہ کی جائے ۔ اس طرح جائز ہے جیسے ظالموں پر لعنت ہو یاجھوٹے پر لعنت ہو اور اس لعنت کے سبب ان کی شنوائی بھی جاتی رہی اور کان حق کی آواز سن نہیں پاتے اور آنکھوں سے بینائی کھوگئی کہ وہ حق سے محروم ہوگئیں کیا یہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یعنی دھیان نہیں دیتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں یہاں یہ لوگ ان دونوں مصیبتوں میں مبتلا ہیں کہ دھیان ہی نہیں دیتے اور نہ قلوب میں وہ استعداد باقی ہے کہ جہاد سے انکار یاحیلہ سازی کی سزا ہے بیشک جو لوگ ہدایت کا دلائل سے واضح ہونا پاکر آپ کی ذات ستودہ صفات کی بعثت اور نزول وحی کے بعد بھی اسلام سے دور اور کفر کی طرف پھر رہے ہیں ۔ انہیں شیطان نے اپنے عجیب و غریب جال میں پھانس لیا ہے اور انہیں ایسی خواہشات اور لمبی امیدوں میں الجھادیا ہے جو کبھی پوری نہ ہوں اور اسی میں عمر کھپ جائے اس وجہ سے یہ اسلام دشمنوں سے بھی کہتے ہیں جن میں علماء یہود سرفہرست تھے کہ ہم بعض باتوں میں تمہارا کہا مان لیں گے جیسے وہ آپ کی اطاعت سے منع کرتے تو منافقین کہتے کہ ظاہرا تو ہم ایسا نہ کریں گے کہ دنیا کے نقصان کا اندیشہ اور مسلمانوں سے جو فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ نہ ہوسکے گا ہاں اندر سے اور باطنا ہم ان کی اطاعت نہ کریں گے یعنی اندر سے مخالف ہی رہیں گے اللہ ان کے رازوں سے واقف ہے اور اس وقت کیا حال ہوگا جب ملائکہ روح قبض کرنے کو آئیں گے تو ان کو منہ پر ماریں گے اور ان کی پیٹھوں پر بھی یعنی ابھی دنیا میں زندہ ہوں گے کہ عندالموت ہی مارپڑنا شروع ہوجائے گی ۔ اس لیے کہ انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو اللہ کو ناپسند ہے یعنی ظلم کا اور جہاد سے بھاگے اور جہاد اور شہادت جس میں اللہ کی رضاتھی اسے ناپسند کیا اور اس سے جان چھڑائی لہذا ایسے لوگوں سے اگر کوئی بھلا کام بھی ہوا ہو تو وہ اکارت گیا۔
Ayahs 47:29–38

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ اللہ ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہیں کریں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ آپ کو دکھا بھی دیتے تو آپ ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور آپ انہیں ان کے انداز گفتگو سے پہچان لیں گے۔ اور اللہ تم سب کے اعمال سے واقف ہیں

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم سب لوگوں کو ضرور آزمائیں گے تاکہ جو تم میں جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ، ان کو معلوم کریں اور تمہارے حالات کو پرکھیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر راستہ واضح ہوچکا تھا۔ یہ لوگ اللہ کا ہرگز کوئی نقصان نہ کرسکیں گے اور وہ (اللہ) ان کی کوششوں کو مٹا دیں گے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع مت ہونے دو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے روکتے رہے پھر وہ کافر ہی مر گئے تو اللہ ان کو کبھی نہ بخشیں گے

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم ہمت مت ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے۔ اور اللہ تمہارے ساتھ ہیں اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کریں گے

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیا کی زندگی محض اک کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجردے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا (یعنی اجردولت کی بناء پر نہیں ملے گا)

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ (اللہ) تم سے یہ (یعنی تمہارے مال) طلب کرے پھر اس میں شدت کردے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ظاہر کردے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

ہاں تم ایسے ہی لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو بعض تم میں سے بخل کرتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے سو بیشک وہ خود سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ بےنیاز ہیں اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو وہ (اللہ) تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا فرمادیں گے پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے

آیات 29 تا 38۔ اسرار معارف۔ کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔ حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔ علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے تاکہ جہاد کرنے والوں کا پتہ چل جائے اور جہان ان سے وقف ہوا اور تمہارے اپنے وعدوں پر قائم رہنے کے باعث تمہارے دعوئے ایمان کی اور رسول اللہ کی اطاعت کی باتوں کی تصدیق ہوجائے۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی اور رسول اللہ کی مخالفت کی حالانکہ انہیں دلائل ومعجزات کے ساتھ یا اہل کتاب کو خود اپنی کتابوں میں پیش گوئیوں میں بھی ہدایت کی راہ تو واضح ہوچکی تھی اس کے باوجود اپنی حرکات سے بازنہ آئے کہ علماء یہودیہ کہا کرتے تھے کہ اہل علم تو ہم ہیں جب ہم ہی تعاون نہ کریں گے تو بھلایہ دین کیسے پھیلاسکیں گے لیکن وہ سب جان لیں کہ وہ اللہ کے دین اور سلام کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بلکہ اس کے کردار کی وجہ سے ان کے اپنے اعمال اکارت جائیں گے اور اے ایمان والو تم ان باتوں کی پرواہ نہ کرو بلکہ اللہ کی اور رسول اللہ کی مثالی اطاعت کرو تاکہ تمہارے اعمال ضائع نہ ہوں اور ان پر پھل آئے۔ کفرتو ایسی مصیبت ہے کہ جس کسی نے اختیار کیا اس نے اللہ سے دشمنی لی اور اس کی راہ سے روکنے لگا پھر اسے توبہ نصیب نہ ہوئی اور کفر پر ہی مرگیا تو ایسے لوگوں کو اللہ کبھی نہ بخشے گا لہذا تم اے مسلمانوں ان کے مقابلے میں اسلام پر ڈٹ کر رہو اور کبھی ڈھیلے نہ پڑو یابزدلی ظاہر نہ کرو بلکہ انہیں اس فساد سے روکنے کے لیے صلح کی دعوت دو کہ اسلام زیادتی سے روکتا ہے محض بندے مارنااسلام کا مقصد نہیں لیکن اگر باز نہ آئیں اور مقابلے کی صورت پیدا ہوئی توجیت تمہاری ہی ہوگی کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو اور تمہاری محنت کو ضائع نہ جانے دے گا۔ معیت باری تعالی۔ اللہ کی ذاتی معیت سب سے اعلی مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) میں صرف آقائے نامدار کو حاصل ہے اور غیر صحابہ میں سیدنا ابوبکر کو کہ فرمایا ان اللہ معنا۔ اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے علاوہ ازیں جہاں بھی معیت باری کا ذکر ہے وہ معیت صفاتی ہے یامعیت ذاتی ہے اور بندے کی طرف سے صفات کا بیان ہے یہاں بھی صورت حال وہی ہے مگر بندے کا وصف جہاد اور کفر وکافر سے مقابلہ اسلام پر فخر اور رسول اللہ کی اطاعت میں دین اسلام کے غلبہ کی کوشش میں فتح کی بشارت بھی ہے اور معیب باری کی عظمت کا وعدہ بھی ۔ سبحان اللہ مجاہد وہ خوش نصیب ہے کہ اس صفت کے باعث اسے اتنااعلی مقام نصیب ہے کہ اور جہاں صفات انسانی کا بیان ہے انبیاء (علیہم السلام) کے بعد یوں لگتا ہے جیسے یہ لوگ اولیاء کاملین ہی ہیں مگر یہاں ہر ہرمجاہد کو وعدہ دیاجارہا ہے اگر جہاد میں قربانی دینا پڑتی ہے تو زندگی جائے یامالی قربانی ہو آخر دنیا ہی کی چیزیں قربان ہوتی ہیں اور دنیا کی حیثیت محض ایک تماشا کی ہے کہ نتائج عمال بہ مرتب ہوں گے سو اگر تم ایمان اختیار کرو اور خلوص دل سے اطاعت کا راستہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں اس کا بدلہ دیں گے اور کوئی مال دولت طلب نہ فرمائیں گے یعنی اس اجر کو تم مال دے کر نہیں پاسکتے بجز ایمان وعمل صالح کے۔ اور اگر اللہ مال ہی طلب فرمانے لگتے تو انسان بوجہ طبعی کمزوریوں کے تنگ آجاتے اور مال دینے میں بھی بخل کرنے لگتے۔ اور یوں انسانی مزاج کا بخل اور اس کی کمزوری ظاہر ہوجاتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا اگر زکوۃ یا انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیاتوبہت معمولی اور تھوڑے سے مال کے خرچ پر اپنی رضامندی کا وعدہ فرمایا اور جب تمہیں اس تھوڑے خرچ کا حکم بھی ملتا ہے تو تم ہی میں سے یہ لوگ جو ایمان نہیں لائے بخل کرنے لگتے ہیں اور کفار کہا کرتے تھے کہ مال ہم کماتے ہیں بھلاکسی کے کہنے پر کیوں خرچ کریں جہاں اپنی خواہش ہوگی کریں گے لیکن جو کوئی بخل کرتا ہے اس سے اللہ کے دین کو تونقصان نہیں ہوسکتا ہاں خود بخیل کا نقصان ہوتا ہے کہ اللہ تو بےنیاز ہے کسی کے مال و اطاعت کی اسے کوئی ضرورت نہیں اور تم اے انسانو ہمیشہ اس کے محتاج ہو ہر کام میں ہر بات می اور ہر معاملے میں اور یاد رکھو اگر تم سب لوگ بھی اسلام کی مدد سے ہاتھ کھینچ لو اور پھر جاؤ تو تمہاری جگہ کسی اور قوم کو توفیق عطا کردے گا اور کہ وہ اسلام کو اپنائیں اور اس کے غلبہ کے لیے جانیں دیں۔ نبی (علیہ السلام) کی غلامی کا حق ادا کریں اور پھر وہ لوگ کبھی نہ پھیریں گے۔ مقام ابوحنیفہ۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر خدانخواستہ ہم سے یہ حرکت سرزد ہوجائے کہ اسلام سے روگردانی کریں تو کون سی قوم یہ جگہ لے گی تو آپ نے حضرت سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارکر فرمایا یہ اور ان کی قوم اگر دین ثریا پر بھی ہوتاتوفارس کے کچھ لوگ وہاں بھی پہنچ کر حاصل کرتے شیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ اس کی مصداق امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں کہ اہل فارس میں سے کوئی علم کے اس مرتبہ پر نہیں پہنچا جہاں یہ لوگ پہنچے۔