47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

اعلان نبوت کے بعد کفار و مشرکین کی طرف سے طرح طرھ کے اعتراضات، الزامات اور سوالات کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کو پریشان کیا جارہا تھا۔ پروپیگنڈہ اس قدر زہریلا اور تیز تھا کہ اس کا مقابلہ ایک تیز آندھی کے سامنے کھڑے ہونے کے برابر تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان حق و صداقت کا راستہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں ۔ کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرح کی سازشیں کررہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش تک کر ڈالی تھی لیکن حق و صداقت کی آواز سے ہر شخص متاثر ہوتا چلا جارہا تھا اور دین اسلام کی عظمت ہر ایک دل میں بیٹھتی چلی جارہی تھی۔ کفار مکہ اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آئے۔ ایک دن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے توعقبہ ابن ابی معیط نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گے میں اپنی چادر ڈال کر بل دینا شروع کیا جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دم گھٹنے لگا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دیکھا تو انہوں نے عقبہ کو دھکا دے کر فرمایا ؛ کیا تم اس شخص کو مار ڈالنا چاہتے ہو جو (اللہ کے گھر میں ) یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ (نسائی ۔ سیرت ابن ہشام) جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کرام (رض) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو کفار نے وہاں بھی اپنی سازشوں کا جا پھلا دیا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے سورة محمد کو نازل کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کفار کچھ بھی کرلیں گے لیکن اللہ کا دین سر بلند ہو کر رہے گا ۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ ٭فر مایا جو لوگ دین کی سچائی سے خود بھی رک رہے ہیں اور دوسروں کو بھی روک رہے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اعمال غارت کرکے ان کو جنت کی ابدی راحتوں سے محروم کردیا جائے گا۔ البتہ اگر وہ ان کی خطائیں معاف کی جاسکتی ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرما نبرداری کریں گے اللہ ان کو ایسی جنتی راحتیں عطا فرمائے گا جس میں صاف صاف شفاف پانی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی جو انتہائی لذیذ اور دل پسند ہوں گی۔ کھانے کے لیے ہر طرح کے بہترین پھل اور میوے ہوں گے۔ کفار و مشرکین کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی کا چشمہ ہوگا جس کا پانی پینے کے بعد ان کی آنتیں بھی با ہر آجائیں گی ۔ فرمایا لوگو ! دنیا میں تو بہ اور اطاعت کا موقع ہے اگر یہ نکل گیا تو پھر آخرت میں سوائے پچھتانے اور شرمندگی کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئیگا۔ ٭ کفار مکہ سے فرمایا گیا کہ کیا وہ اپنے سے پہلے لوگوں کے برے انجام سے بیخبر ہیں کہ جب انہوں نے کفر اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے ان کو غارت کر کے رکھ دیا ۔ کیونکہ اہل ایمان کا مالک تو اللہ ہے لیکن کافروں کا تو کوئی مولیٰ اور حمایتی نہیں ہے۔ ٭فرمایا یہ کفار دنیا کی چند روزہ زندگی کے عیش و آرام کے مزے اڑالیں اور جانوروں کی طرح خوب کھا پی لیں لیکن ان کا انجام بہت عبرت ناک اور بھیانک ہوگا۔ ٭ ان کفار کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذاریں گے ان کے لیے جنت میں صاف شفاف پانی کی نہریں ، دودھ ، شراب اور شہد کی صافس ستھری نہریں ہوں گی۔ ان کو کھانے کی ہر چیز اور ہر نعمت عطا کی جائے گی۔ ٭کفار کے لیے فرمایا کہ ان کو ایسا کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا جس کے پینے کے بعد ان کی آنتیں بھی باہر آجائیں گی اور ان کے منہ جھلس جائیں گے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین سے جو دکھاوے کے مسلمان ہیں تو پوچھا ہے کہ کیا وہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں ؟ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت اس طرح اچانک آجائے گی پھر کسی کو حسن عمل اور تو بہ کا موقع نصیب نہ ہوگا۔ ٭ فرمایا کہ جس طرح اہل ایمان اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کی آیتیں نازل ہوتے ہی ان پر عمل کیا جائے ۔ منافقین کا یہ حال ہے کہ جب اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوگئی ہے۔ فرمایا کہ منافقین بےفکر ہو کر نہ رہیں بہت جلد ان کی بدبختی کے دن شروع ہونے والے ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اسی لیے وہ بہرے گونگے بن کر رہ گئے ہیں نہ انہیں حق کی آواز سنائی دیتی ہے نہ ان کو سیدھا راستہ سوجھتا ہے۔ وہ جب اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ ان کی حرکتوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ اللہ ان کی ایک ایک حرکت اور سازش کو دیکھ رہا ہے۔ ان کو اپنی موت کے وقت معلوم ہوگا جب فرشتے ان کو روح کو قبض کر کے ان کے چہروں اور پیٹھ پر مارتے ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر وہ کام کرتے ہن جس سے اللہ ناخوش تھا اور ان کے نزدیک اللہ کی رضا و خوشنودی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ فرمایا کہ اللہ نے جہاد کا حکم اسی لیے دیا ہے تاکہ منافقین جو اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے حالات سب کے سامنے کھل کر آجائیں گے اور ہم بھی جانچ لیں گے کہ کس کے دل میں کتنا ایمان ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ا اے مومنو ! تم اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہو اور کسی حکم کی خلاف ورزی کرکے اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو کیونکہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے اور وہ اسی حال میں مر جاتے ہیں تو ان کی بخشش نہیں ہوتی۔ ٭فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان جہاد کی طرف آمادہ کرتے رہیے اور صلح کرنے میں ایسا انداز اختیارنے کیجئے جس کو کفار کمزوری سمجھیں گے کیونکہ اگر جہاد ہوگا تو اللہ اہل ایمان ہی کو غالب فرمائے گا۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اللہ تمہارے اجر وثواب میں ذرا بھی کمی نہ کرے گا ۔ لہذا تم جہاد سے کبھی اپنی جان مت چرانا، دنیا کی زند گی جو کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اس کی رنگینیوں میں کھو کر جہاد سے منہ مت پھیرنا۔ فرمایا کہ اگر تم نے ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کیا تو آخرت میں اس کا بہترین اجر وثواب عطا کیا جائے گا ۔ تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ بخل اور کنجوسی اختیار نہ کرو کیونکہ جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے کتراتے ہیں تو یہ ان کی شان کے خلاف ہے کیونکہ ایسا تو وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں آخرت اور اللہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ اللہ بےنیاز ذات ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ تمہاری ہی بھلائی کے لئے ہیں ۔ ٭ آخر میں فرمایا کہ یاد رکھو ! اگر تم نے جہاد سے جان چھڑائی یا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت نہ کی تو وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو اٹھادے جو اللہ کی باتوں کو مانیں گے اس کے راستے میں جان و مال کو بےدریغ خرچ کریں گے اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

Ayahs 47:1–6

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے اور اس پر ایمان لائے جو (حضرت) محمد ﷺ پر اتارا گیا ہے ۔ وہی سچا دین ہے جو ان کے رب کی طرف سے ہے۔ تو اللہ کی خطائوں کو ان سے دور کردے گا اور ان کی حالت کو درست کردے گا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ جنہوں نے کفر و انکار کیا (در حقیقت) انہوں نے باطل (جھوٹ) کی پیروی کی ۔ اور بیشک جو لوگ ایمان لائے انہوں نے ایک سچے دین کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ۔ اس طرح اللہ لوگوں کے سامنے ان کے حالات بیان کرتا ہے ۔

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

پھر جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب تم خوب قتل کر چکو تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے یا فدیہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں ۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے انتقام لے لیتا ۔ لیکن اس نے تمہیں جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں تو اللہ ان کے اعمال ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

اللہ بہت جلد ان کو راہ ہدایت دکھائے گا اور ان کی حالت کو درست کردے گا ۔

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں پہچان کرادی گئی ہے۔

تشریح آیت نمبر 1 تا 6 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان کو اعمال صالحہ کی توفیق بھی نصیب ہوتی رہے گی ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر و انکار کیا انہوں نے باطل اور جھوٹ کی پیروی کی اور جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا انہوں نے حق و صداقت کا دامن تھام لیا۔ باطل ایک بےحقیقت چیز ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ باطل پر ست نہ صرف ایک فتنہ اور فساد کی جڑ ہے بلکہ وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگوں کو ختم کردینا اور ان کے خلاف جہاد کرنا ساری انسانیت کو سکون بخشنے کا ذریعہ ہے۔ لہذا جب تک یہ فتنہ دنیا سے مٹ نہ جائے اس وقت تک اس کا پیچھا کیا جائے۔ جب کفار کے دلوں میں اہل ایمان کی دھاک بیتھ جائے اور ان فسادیوں کا زور ٹوٹ جائے تو اس وقت ان کو گرفتار کر کے قیدی بنا لیا جائے لیکن ان قیدیوں کے ساتھ کوئی اس یا معاملہ نہ کیا جائے جو غیر انسانی اور ظالمانہ ہو بلکہ ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے تاکہ وہ اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر ایمان اور سچائی کے راستے پر آسکیں۔ اب ان کفار کو قید کرنے کے بعد مسلمانوں کے امیر اپنی ذھانت اور مصلحت کی بنیاد پر ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کر کرے ان کو چھوڑدیں یا فدیہ لے کر آزاد کردیں ۔ جب دشمن اپنے ہتھیار رکھ دے اور جنگ کے جو شعلے بھڑک رہے تھے وہ ٹھنڈے پڑجائیں اور کفار مسلمانوں کی مکمل اطاعت قبو ل کرلیں تو پھر قید و بند سلسلہ بھی ختم کردیا جائے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو اس جہاد میں شہید کردیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی جدو جہد ، کوشش اور نیک اعمال کو ضائع نہ کرے گا بلکہ ان کو راہ ہدایت عطا کر کے ان کے سارے کاموں کو درست فرمادے گا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جو ان کے لئے جانی پہچانی جیسی جگہ ہوگی۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں : الذین کفرو : جنہوں نے کفر اور انکار کیا یعنی وہ لوگ جنہوں نے دین اسلام کی تمام تر سچائیوں کو دیکھ کر محض اپنی ضد ہٹ دھرمی اور رسول دشمنی کی وجہ و سے انکاری کی کو اختیار کرکے رسول اللہ ﷺ کی قدر کرنے کی بجائے ان کے خلاف ختم نہ ہونے والی ایسی جنگ چھیڑ دی کہ اس میں سوائے بغض اور حسد کے اور کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ ایسے لوگوں کے لئے فرمایا گیا جب ایسے لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں اور جنگ چھیڑ دین تو ان سے لڑکا ان کا زور توڑ ڈالیں تاکہ وہ آئندہ دین اسلام کی دعوت و تبلیغ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں ۔ وصلو عن سبیل اللہ : اور وہ لوگ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں یعنی وہ ظلم و ستم کی انتہا کردیں کہ لوگوں کے لئے ایمان لانا مشکل ہوجائے اور جو ایمان لے آئیں ان کے لئے زمین کو تنگ کردیاجائے اور زبر دستی دین کے راستے سے ان کو روک دیا جائے۔ کفار مکہ اہل ایمان کے خلاف ایسا بھیانک پر پیگنڈا کرتے تھے کہ ایک ناواقف آدمی ان کو دہشت گرد سمجھ کر ان کے قریب آنے سے گھبراتا تھا۔ لوگوں کے دلوں میں بےبنیاد گمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تاکہ سننے والوں کو ہر بات الٹی نظر آئے۔ ہمارا موجودہ دور جس میں اسلام دشمنوں کے ہاتھوں میں ایسا میڈیا ہے یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات جس کے ذریعہ ایک مومن، عالم ، مخلص اور مجاہد کو دنیا کی نظروں میں ذلیل کرنے اور دین کی تعلیمات کے قریب آنے سے روکنے کے لئے دن رات کی طرفہ پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکناس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کا یہ آخری دین ہے جو اس نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔ اسی میں ساری دنیا کے دکھوں کا علاج ہے اور اللہ نے اس دین اور عظمت مصطفیٰ کو حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ اگر یہ کفار اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب ان پر آسمان سے ایسا قہر اور بلائیں نازل ہوں گی جن کے سامنے دشمنان اسلام بےبس ہو کر رہ جائیں گے۔ چونکہ اب ظلم انتہاؤں سے گذر گیا ہے لہذا یہ کفار اللہ سے معاملہ درست کرلیں گے اور تو بہ کرلیں گے ورنہ یہ دنیا اپنے بھیانک انجام تک پہنچ جائے گی اور چند ذہنی مریضوں اور اقتدار پر ستوں کی وجہ سے ساری دنیا کو عذاب جھیلنا پڑے گا۔ اضل اعمالھمـ: ان کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے یعنی وہ تما کام اور کوشش جنہیں وہ نیک اور بہتر سمجھ کر کررہے ہیں وہ تما کا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ضائع اور برباد کردیئے جائیں گے ۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ کفار قریش حج کے موقع پر خانہ کعبہ کی حفاظت اور حجاج کی خدمت کرتے تھے ، مہمانوں کی ٖضیافت ، پانی پلانے کے لئے مشقت ، مسکینوں کی امداد و اعانت ، پڑوسی کی رعایت، اور حفاظت ، سخاوت اور صدقہ خیرات کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک یہ کام بہت اچھے ہیں لیکن جب تک وہ نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان نہ لائیں گے اس وقت تک یہ اعمال سن کے کسی کام نہ آسکی گے بلکہ رسول دشمنی کی وجہ سے ان کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے نہ ان کا فائدہ دنیا میں نصیب ہوگا اور نہ آخرت میں ۔ جب تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے جو حق و صداقت کی روشنی ہے اور اس کو اللہ اللہ کے اخری نبی حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں اس وقت تک ان کی نجات نہیں ہوسکتی۔ اذ ا اثخنتمو ھم : ان آیات میں ایک بہت ہی اہم بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس کی تفصیل تو بہت ہے لیکن مختصر بات یہ ہے کہ عربوں میں عام رواج یہ تھا کہ جب ان کی کسی سے جنگ ہوتی تو وہ تما جنگی قیدیوں کو غلام اور ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا کرتے تھے۔ اور وہ بات میں آزاد تھی کہ وہ ان غلاموں کے ساتھ انسانی یا غیر انسانی جیسا چاہیں سلوک کریں اس میں کسی کو بولنے یا ٹوکنے کا کوئی اختیار نہ تھا لیکن جب کفار سے جنگوں کا آغاز ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ جو لوگ جنگ میں قید ہو کر آئیں ان کے لئے ضروری نہیں کہ ان کو غلام ضرور بنایا جائے۔ بلکہ اگر ضرورت ہو تو جنگی قیدیوں کو غلام بنا کر اہل ایمان میں تقسیم کردینا محتسب ہے لیکن اگر امیر جماعت چاہے تو جنگی قیدیوں پر احسان رکھ کر یا مسلمان جنگی قیدیوں کے بدلے ان جنگی قیدیوں کو رہا کرسکتا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ معاوضہ لے کر ان کو آزاد کردیا جائے خواہ وہ مالی معاوضہ ہو یا کسی قسم کی خدمت ہو۔ قرآن کریم نے اسلامی سلطنت کو کسی خاص اصول کا پابند نہیں کیا ہے۔ البتہ اگر امیر سلطنت جنگی قیدیوں کو غلام بنانا چاہے اور ان کو مسلمانوں میں تقسیم کردینا چاہے تو اس کو اس بات کی اجازت ہے لیکن کسی شخص کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں ہے کہ وہ ان غلاموں سے غیر انسانی اور ظلم وجبر کا کوئی معاملہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین اور ان کے بعد تمام صحابہ کرام نے اسی اصول کی پابندی کی ہے۔ چناچہ اسلامی تعلیمات اس بات کی گواہ ہیں کہ اس نے غلاموں کو نہ صرف تمام حقوق دیئے ہیں بلکہ غلاموں کے تمام حقوق کی ہمیشہ پاس داری کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے ۔ لہذا جس کا بھائی اس کے ہاتھ کے نیچے ہو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے ، اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اس کو اسیے کام کی زحمت نہ دے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو اور اگر کوئی ایسا سخت کام ہو تو وہ خود بھی اس غلام کی مدد کرے۔ (بخاری ۔ مسلم ۔ ابو دائود) ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر نے اپنے غلام کو تھپر مار دیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کردے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی زبان مبارک پر عین اس وقت کہ جب آپ اس دنیا سے تشریف لے جارہے تھے یہ الفاظ تھے ” الصلۃ ، الصلوۃ ، اتقو اللہ فیما ملکت ایمانکم “ نماز کا خیال رکھو ، نماز کا خیال رکھو اور اپنے ما تحت غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ (ابو دائود) اسی طرح کے بیشمار احادیث کے علاوہ قرآن کریم نے غلاموں کو آزاد کرنے کی تر غیب دیتے ہوئے غلاموں کو آزاد کرنا عبادت بنادیا چناچہ روزے کا کفارہ، قتل کرنے کا کفارہ ، ظہار کا کفارہ اور قسم کا کفارہ یہ بتا یا ہے کہ وہ اپنے غلام آزاد کردیں۔ اسی طرح زکوٰۃ خرچ کرنے کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں ان میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ غلاموں کی گردنیں چھڑائی جائیں۔ قرآن کریم اور احدیث کے ان کے ارشادات نے اہل ایمان کو اس بات کی طرف آمادہ کردیا کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کردیا جائے ۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ نے اس کثرت سے غلام آزاد کئے ہیں جن کی مثا ل ساری دنیا کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ ٭ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ستر غلام آزاد کئے ٭حضرت عثمان غنی ؓ نے بیس غلام آزاد کئے ٭ حضرت عباس ؓ نے ستر غلام آزاد کئے ٭ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے ایک ہزار غلام آزاد کئے ٭حضرت ذو الکلاع نے آٹھ ہزار غلام آزاد کئے (صرف ایک دن میں ) ٭ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے تیس ہزار غلام آزاد کئے (فتح العلوم ) اگر صحابہ کرام ، تابعین اور ان کے بعد کے حضرات کی یہ تفصیل بیان کی جائے کہ انہوں نے کتنے کتنے غلام آزاد کئے تھے تو شاید ایک کتاب بن جائے۔ لہذا یہ کہنا بالکل برحق ہے کہ اللہ کے حکم اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات نہ ہوتے تو شاید دنیا سے کبھی غلامی ختم نہ ہوتی۔ ہمارے دور میں کسی کو غلام نہ بنایا یہ بھی اسلام ہی کا فیض ہے کیونکہ شریعت نے یہ اصول متعین کردیا ہے کہ اگر دو قوموں کے درمیان یہ معاہدہ ہوجائے کہ نہ وہ ہمارے جنگی قیدیوں کو غلام بنائیں اور نہ ہم ان کے قیدیوں کو تو پھر اس معاہدہ کی پابندی ضروری ہوگی اور اگر ان دونوں میں جنگ ہوجائے تو کوئی بھی کسی جنگی قیدی کو غلام نہیں بنائے گا۔ الذین قتلو فی سبیل اللہ : جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے نہ صرف یہ کہ ان کے اعمال ضائع نہ ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام حالات کو درست فرمادے گا۔ ید خلھم الجنۃ عر فھا لھم : وہ اللہ ان کو ایسی جنت میں داخل کرادے گا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جسنے مجھے دین حق دے کر بھیجا کہ تم دنیا میں جس طرح اپنے بیوی بچوں اور گھروں کے پہنچانتے ہو اور ان سے انسیت و محبت محسوس کرتے ہو اس سے بھی زیادہ وہ جنت کی حوروں سے انسیت محسوس کروگے۔
Ayahs 47:7–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرور گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کا فر ہیں ان کے لئے تباہی ہے (اور سب سے بڑی تباہی یہ ہے کہ ) وہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کافروں نے اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کو اعمال کو ضائع کردیا

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گذرے ہیں ( نا فر مانیوں کی وجہ سے ) ان کا انجام کیسا ہو ؟ اللہ نے (ان کفرو انکاری کی وجہ سے ) ان پر تباہی و بربادی مسلط کردی ۔ اور یہی حالات ان ( موجودہ) کافروں کے بھی ہونے والے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

سبب یہ ہے کہ اللہ تو اہل ایمان کا حمایتی و مددگار ہے اور کافروں کا کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہے۔

تشریح آیات نمبر 7 تا 11 اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اگر تم نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد کرے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکار کی زندگی کو اپنا رکھا ہے وہ آج دنیا میں اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھ رہے ہیں اور زندگی کی راہوں میں بڑی تیزی سے چلتے نظر آرہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب یہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گریں اور جن کاموں کو وہ زندگی کی کامیابی سمجھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک بہتر عمل تھے وہ سب اس سے غائب ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر اس بات کو جو اللہ کی طرف سے نازل کی جاتی تھی اس کو برا سمجھتے تھے۔ ان کی اس روش نے ان کے اعمال کو غارت کر کے رکھ دیا ۔ اگر وہ زمین میں چل بھ کر دیکھتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان سے پہلے ایسے لوگوں کا کتنا برا انجام ہوا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کیا۔ اللہ نے ان کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیا جاس میں کافروں کے لئے کھلی ہوئی عبرت و نصیحت موجود ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تو ایمان والوں کا مالک و مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ اور ہمدرد نہیں ہے۔ غزوہ احد کے موقع پر ابو سفیان نے غرور تکبر کے ساتھ یہ کہا تھا کہ ۔ لنا عزی ولا عزی لکم ہمارے پاس عزی ہے تمہاری پاس کوئی عزی نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے اپنے نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ اس کو جواب دو کہ اللہ مولنا الا مولی لکم اللہ ہمارا مدد گار اور حامی و ناصر کوئی بھی نہیں ہے۔ اس موقع پر آپ نے اسی آیات کی تلاوت فرمائی۔
Ayahs 47:12–15

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ س (دنیا میں خوب) عیش و آرام سے کھار ہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں لیکن ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کتنی ہی آبادیاں ایسی گذر چکی ہیں جیسی آپ کی بستی ہے جس سے آپ کو (کافروں نے ) نکالا ہے جو طاقت و قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں لیکن جب ان کو ہلاک کیا گیا تو کوئی بھی ان کا مدد گار نہ بن سکا۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے پوچھئے کہ بھلا بتائو تو سہی جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے صاف اور کھلے راستے پر ہے وہ اس کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جس کا برا عمل ( بھی اس کی نظروں میں ) خوبصورت بنادیا گیا ہو اور جو لوگ اپنی خواہشات پر چلتے ہوں ؟

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

وہ جنت جس کا اہل تقویٰ سے وعدہ کای گیا ہے وہ ایسی ہوگی اس میں نہریں بہتی ہوں گی جن کا مزہ تبدیل نہ ہوگا۔ دودھ کی ایسی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت مزیدار ہوں گی ۔ شہد کی ایسی نہریں بہتی ہوں گی جو نہایت صاف اور شفاف ہوں گی ۔ ان کے علاوہ ان سب اہل جنت کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور سب سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت کا سامان ہوگا۔ کیا ایسے اہل جنت کے برابر وہ ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلیں گے اور ان کو ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے اڑا کر رکھ دے گا۔

تشریح آیات نمبر 12 تا 15 قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی اصولی بات کو زیر مطالعہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد وہ تمام کام کئے جو اللہ اور اس کے رسول کے پسندیدہ ہیں تو ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی یعنی ہر طرف سرسبزی و شادابی کے منظر ہوں گے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکاری کی زندگی اختیار کرکے جانوروں کے جیسے بےحسی کے انداز اپنا لئے ہوں گے ان کا ٹھکانا جہنم اور اس کی آگ ہوگی۔ مکہ کے کفار جنہیں اپنی قبائلی زندگی اور اس کی سرداریوں پر بڑا ناز تھا اور معمولی سی دولت اور سرداریوں پر انہیں اس قدر فخر و غرور تھا کہ اپنے سوا سب کو حقیر و ذلیل سمجھتے تھے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہیں جس طاقت وقوت پر ناز ہے تم سے پہلے ایسی زبردست قومیں گذری ہیں کہ جن کے پاس بیشمار مال و دولت کے ڈھیر تھے۔ وہ دنیا کی ترقی یا فتہ قومیں تھیں جن کی بلندو بالاعمارتیں ‘ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تجارتیں اور کاروبار اور عظیم سلطنتیں تھیں لیکن جب ان کی نافرمانیوں اور کفر و شرک کی وجہ سے ان پر اللہ کے قہر و غضب کا کوڑا برسایا گیا تو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹادی گئیں کہ آج دنیا بھر میں ان کے کھنڈرات نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ کفار مکہ نے آپ کو جس بستی یعنی بیت اللہ کی سرزمین سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا انہیں گذری ہوئی قوموں کے کھنڈرات کے آس پاس ‘ آتے جاتے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر وہ اللہ و رسول کی نافرمانیاں نہ کرتے تو آج بھی وہ دنیا میں عظیم قوتوں کے مالک ہوتے لیکن ان کی نافرمانیوں نے انہیں نشان عبرت و نصیحت بنادیا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ ایمان و صالح اور پاکیزہ زندگی گذارنے والے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والے نافرمان اللہ کی نظر میں ایک جیسے نہیں ہیں۔ دونوں کا انجام یکساں نہیں ہے۔ یہ اللہ کے نظام عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ وہ دونوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرے بلکہ نافرمانوں کے بدترین انجام کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لئے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا گیا ہے جن میں ہر طرف خوشی و مسرت ‘ راحت و آرام ‘ سکون قلب و اطمینان ‘ عزت و سر بلندیاں ہوں گی۔ جن میں صاف ستھرے اور پاکیزہ کبھی نہ سڑنے اور بدلنے والے پانی کی نہریں ہوں گی۔ شراب کی ایسی نہریں بہادی جائیں گی جن میں اعلیٰ ترین شراب ہوگی جس کو پینے کے بعدنہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ پینے والے کے قدم بہکیں گے۔ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ بھی تبدیل نہ ہوگا۔ صاف ستھرے شہد کی نہریں جو صاف ستھرا اور پاکیزہ شہد ہوگا۔ طرح طرح کے پھل ہوں گے جن کی لذت اور کیفیت کا اس دنیا میں اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ان تمام چیزوں کے علاوہ دنیا میں ان اہل ایمان کے جو بھی کوتاہیاں ہوچکی ہیں وہ نہ صرف یہ کہ ان کو معاف کردی جائیں گی بلکہ ان کا ذکر تک نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ اہل جنت کو اللہ کا بےحجابانہ یعنی بغیر کسی ظاہری رکاوٹ کے دیدار نصیب ہوگا۔ ان خوش نصیب جنت والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ کے نافرمانوں کا انجام یہ ہوگا کہاں کو ایسی جہنم میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ انہیں ایسا کھولتا ہوا پانی پینے کے لئے دیاجائے گا جس سے ان کی آنتوں کے ٹکڑے اڑجائیں گے اور ان کے لئے راحت و سکون کا کوئی سامان نہ ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی عارضی زندگی میں اپنی خواہشات کے غلام ہیں اور وہ دن رات صرف بےحس جانوروں جیسی زندگی گذارتے ہیں اور اسی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں جس طرف ان کی بےجا خواہشات ان کو دھکیلتی چلی جاتی ہیں تو وہ دنیا کے ناکامیاب اور آخرت کے اعتبار سے بد نصیب لوگ ہیں۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ سے حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے “ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک اس کی ہر خواہش اور تمنا اس دین کے تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں “۔ صحابہ کرام ؓ وہ پاکیزہ اور مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو اللہ کے اس دین کے تابع کرلیا تھا جو نبی کریم ﷺ لے تشریف لائے تھے۔ اس پر بعد کے نیک اور صالح بزرگ چلے اور آج ان کی زندگیاں ہمارے لئے مشعل راہ یہ دنیا میں بھی کامیاب رہے اور آخرت میں ان کا کیا اعلیٰ ترین مقام ہوگا اس کا تو اس دنیا میں رہتے ہوئے تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے اور ان جیسی کامیابیاں عطا فرمائے۔ اور کفرو شرک ‘ بدعات و خرافات اور بےدینی کے ہر انداز سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
Ayahs 47:16–20

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

ان میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں ( تو یہ منافق) ان لوگوں سے جن کو (کبھی توریت وغیرہ کا ) علم دیا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی ابھی کیا کہا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگادی ہیں جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

لیکن وہ لوگ جنہیں اللہ کی طرف سے ہدایت مل گئی ہے اللہ ان کی ہدایت کو اور بڑھادیتا ہے اور ان کو تقویٰ کی توفیق دیتا ہے۔

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس گھڑی کے (قیامت کے) منتظر ہیں ؟ (یادرکھو) وہ اچانک آئے گی بیشک اس کی علامتیں توآہی چکی ہیں۔ پھر ان کو اس کے آنے کے بعد سمجھنے کا کہاں موقع ملے گا۔

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اس بات کو جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ اور آپ اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں ‘ عورتوں کے لئے معافی مانگتے رہیے بیشک اللہ تمہارے آنے ‘ جانے اور ٹھکانے کو خوب جانتا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں کہتے ہیں کہ کوئی (جہاد کے لئے) آیت نازل کیوں نہ کی گئی ؟ لیکنجب ایسی سورت نازل کردی جاتی ہے کہ جس کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں تو آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں (منافقت کا) مرض ہے دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہوں گے جیسے ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوگئی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 : یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 : جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ ہوتا ہے ایسے لوگ ہر نیک بات کو نہ صرف غور سے سنتے ہیں بلکہ اپنے ہر عمل میں ڈھالنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ کے لئے کوئی وعظ و نصیحت کی بات فرماتے تو آپ کی محفل میں ایسے لوگ بھی آجاتے تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے ایمان قبول نہ کیا تھا وہ آپ کی باتوں کو بےدلی سے سنتے اور جب وہ محفل رسول ﷺ سے باہر نکلتے تو مخلص صحابہ کرام ؓ سے پوچھتے کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول نے کیا کہا تھا ؟ لیکن صحابہ کرام ؓ جو ایمان اور عمل صالح کے پیکر تھے اور ہر نیک بات کو سن کر اس پر عمل کرنے کے لئے بےچین ہو جیا کرتے تھے جنہیں نبی کریم ﷺ کی ہر بات پر اعتماد اور علم یقین حاصل تھا وہ آپ کے ارشادات کو سن کر نہ صرف اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہتے تھے بلکہ عمل کرنے میں بےتابانہ آگے بڑھتے چلے جاتے تھے۔ فرمایا کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کی باتوں پر پوری طرح دھیان نہیں دیتے درحقیقت اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے جس کی وجہ سے انہیں کسی نیک اور بھلی بات پر عمل کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بےعمل لوگ ہر وقت اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور انہیں قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں ہوتا حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی کہ قیامت اس قدر اچانک آئے گی کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے گا۔ فرمایا کہ اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کی بہت سی نشانیاں تو آچکی ہیں۔ خود نبی کریم ﷺ کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ بس اب قیامت ہی آئے گی کیونکہ آپ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرا مبعوث ہونا اور قیات کا آنا اس طرح ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی کو باہم ملا کر دکھایا کہ اس طرح۔ فرمایا کہ جب قیامت برپا ہوجائے گی تو پھر وہ وقت سوچنے ‘ سمجھنے اور عمل کرنے کا نہیں بلکہ فیصلے کا دن ہوگا۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ اللہ کے اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچانے کی جدوجہد جاری رکھئے اور بتا دیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اگر اس بھاگ دوڑ میں آپ سے یا آپکے جاں نثار صحابہ سے کوئی بھی کوتاہی یا لعزش ہوجائے تو آپ اپنے لئے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے استغفار کرتے رہیے۔ اللہ کو ہر کیفیت کا علم ہے اور وہ بہت معاف کرنے والا مہربان ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے پیک ہیں وہ تو یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی واضح سورت نازل کردی جائے جس میں انہیں کفار سے جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہو تو وہ اپنی جان اور مال سے اللہ کے راستے میں قربانیاں پیش کریں۔ جب اللہ کی طرف سے جہاد کرنے اور کفار و مشرکین کے ظلم و ستم کا جواب دینے کے لئے جہاد کا حکم دیا گیا تو اہل ایمان خوش ہوگئے لیکن جو ذہنی ‘ دماغی اور عملی مرض میں مبتلا تھے ان کا یہ حال ہوا کہ جہاد کا حکم سن کر ان پر موت کا سناٹا طاری ہوگیا اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان پر موت کی بےہوشی چھا گئی ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے برے اعمال کا وبال ان پر ضرور پڑے گا اور وقت پڑنے پر کھرے کھوٹے کا پتہ چل جائے گا۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے عرض ہے کہ ؛ پہلی بات تو یہ ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے وہی جانتا ہے کہ وہ قیامت کب واقع ہوگی البتہ نبی کریم ﷺ کو بعض علامات قیامت بتادی گئی تھیں جنہیں آپ نے تفصیل سے ارشاد فرمایا اور اس پر علمائے امت نے کافی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان میں سے چند علامتیں یہ ہیں۔ ٭ دنیا سے علم اٹھ جائے گا۔ جہالت عام ہوجائے گی اور لوگ علم دین کو کھانے کمانے کا ذریعہ بنا لیں گے۔ یعنی دنیا میں علوم تو بہت سے ہوں گے مگر علم حقیقی گھٹ جائے گا اور ہر طرف پڑھے لکھے لوگوں کی بھیڑ ہونے کے باوجود ہر طرف جہالت کاراج ہوگا۔ ٭ قوم کی نمائندگی کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو معاشرے کے ذلیل لوگ ہوں گے۔ ٭ مرد تھوڑے ہوں گے اور عورتوں کی کثرت ہوگی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار ایک مرد ہوگا (بخاری مسلم) ٭زکوۃ جو ایک عبادت ہے اس کو لوگ تاوان سمجھ کر اداکریں گے اور اس بات کو بھول جائیں گے کہ وہ اپنی عبادت کا ایک فرض ادا کررہے ہیں۔ ٭لوگ مال غنیمت کو ذاتی دولت سمجھ کر کھائیں گے اور امانت کو مال غنیمت قراردیدیا جائے گا ( یعنی اس کو حلال سمجھ کر کھائیں گے) ٭لوگ ماں باپ کے نافرمان اور بیوی کے اطاعت گذار ہوں گے لوگ اپنے دوستوں کو قریب اور باپ کو دور کردیں گے۔ ٭ایک شریر اور ظالم کا احترام اس خوف کی وجہ سے کیا جائے گا تاکہ اس سے کوئی شدید نقصان نہ پہنچے۔ ٭ہر طرف گانے بجانے (ناچ گانے) والی عورتوں کی کثرت ہوگی اور ہر گھر میں گانا بجانا عام ہوجائے گا۔ ٭کثرت سے شراب پی جانے لگے گی۔ ٭امت کے گذرے ہوئے (بزرگوں) لوگوں پر آنے والی نسل لعنت ملامت کرے گی۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی علامتیں ظاہر ہوجائیں گی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم سرخ آندھی اور زلزلے کا انتظار کرنا۔ لوگوں کی شکلیں صورتیں مسخ ہوجائیں گی زمین کے بہت بڑے علاقے زمین میں دھنس جائیں گے۔ آسمان سے پتھر برسیں گے اور مسلسل آفتیں اس طرح آئیں گی کہ جیسے موتی کی لڑی ٹوٹ جانے سے اس کے دانے بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کو سمجھاتے رہیے لیکن اگر وہ اتنا سب کچھ سننے کے باوجود اپنی بےعملی اور بےحسی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں تو آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے آپ اپنے اعلیٰ ترین مقصد دین کو پھیلانے کی جدوجہد کرتے رہیے۔ اگر اس راہ حق و صداقت میں کہیں کسی جگہ کوئی کمی رہ جائے کسی قسم کی کوتاہی ہوجائے تو مغفرت کرنے والے پروردگار سے اپنے لئے بھی اور اہل ایمان کے لئے بھی استغفار کیجئے۔ وہ معاف کرنے والا مہربان آقا ہے اور وہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے استغفار کرنے کے متعلق فرمایا ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ افضل الذکر لا الہ الا اللہ و افضل الدعاء الا ستغفار یعنی سب سے افضل ذکر کلمہ طیبہ ہے اور سب سے افضل دعا استغفار ہے نبی کریم ﷺ جو معصوم ہیں جب آپ یہ فرما رہے ہیں کہ میں دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں تو ہم گناہ گاروں کو غور کرنا چاہیے کہ ہم دن بھر میں کتنی مرتبہ اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی چاہتے ہیں ؟ اور استغفار کرتے ہیں ؟
Ayahs 47:21–28

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

فرماں برداری کی اور بھلی بات ہی کہنی چاہیے۔ پھر جب (جہاد کا حکم) آجائے اور وہ اللہ کے سامنے سچے ثابت ہوجائیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

کیا پھر (تم سے) بہی توقع نہیں ہے کہ اگر تمہیں (اقتدار ) و قوت حاصل ہوجائے تب تم زمین میں فساد ہی مچائو گے اور رشتہ داریوں کو منقطع کردو گے ؟

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ پھر ان کو بہرا بنادیا ہے۔ ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا وہ لوگ قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑگئے ہیں ؟

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ صحیح راستہ واضح ہونے کے بعد اپنی پیٹھ پھیر کر (بھاگیں گے) تو (ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ) شیطان نے ان کو یہ غلط راستہ سمجھایا ہے اور ان کی امیدوں کو دراز کردیا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

(ان لوگوں کے منہ پھیر نے کی وجہ یہ تھی کہ ) ان منافقین نے ایسے لوگوں سے جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکامات کو ناپسند کرتے تھے ان سے کہا کہ ہم (اسلام کے خلاف) بعض چیزوں میں تمہاری بات مانیں گے۔ اور اللہ ان کے اس بھید کو اچھی طرح جانتا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت انکا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالتے ہوں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

ان سے یہ سلوک اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے ایسے طریقے اختیار کئے ہوئے تھے جو اللہ کو ناراض کرنے والے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کو برا سمجھا تھا۔ اس لئے اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 : طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 : اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں نے سچائیوں کو دیکھنے کے باوجود بےحسی اور بےتوجہی کا انداز اختیار کیا ان کو زندگی کے اندھیروں اور آخرت میں ناکامی کے سواکچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ ایسے منافق لوگ اپنے ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں اور فرماں برداری کی باتیں کرنے میں بھی خوب چرب زبان ہوتے ہیں لیکن اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ زبان سے جس اطاعت و فرماں برداری کی باتیں کرتے ہیں وہ محض دکھاوا اور ریاکاری ہے جسے اللہ تو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی ڈھکی چھپی اور ظاہر حالت سے واقف ہے مومن بھی ان کی حرکتوں سے ان کے نفاق کو خوب پہچانتے ہیں چناچہ جب ایک طویل عرصے تک دشمنوں سے جنگ کرنے کی ممانعت تھی اس وقت تک تو منافقین اور اہل ایمان کو الگ الگ پہچاننا مشکل تھا کیونکہ نماز ‘ روزہ اور عبادات کو ایک ساتھ ہی ادا کیا جاتا تھا۔ جب اللہ کی طرف سے اہل ایمان کو جہاد کی اجازت دی گئی تب اہل ایمان تو خوش ہوگئے اور جس جاں نثاری کیلئے وہ تڑپ رہے تھے ان کو موقع مل گیا تھا لیکن نفاق کے روگی اور دل کے بیمار لوگ جہاد و قتال کے حکم سے بوکھلا کر رہ گئے اور ایسی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگے جیسے کسی پر موت کے وقت بےہوشی سی طاری ہو کر آنکھیں حلقوں میں ڈولنے لگے ہیں۔ اس کیفیت کو سورة نساء میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا “ کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ وہ (دشمنوں کو قتل کرنے یا انتقام لینے سے) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیں۔ نماز قائم کریں۔ زکوۃ ادا کرتے رہیں اور جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو ان میں کچھ لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان (کفار) سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ (ڈرنا چاہیے تھا) وہ لوگ کہتے ہیں کہ اے اللہ آپ نے ہمیں قتال (جہاد) کا حکم کیوں دے دیا۔ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی جاتی۔ (النساء آیت نمبر 77) “۔ منافقین کے سامنے جہاد کا حکم آتے ہی ان کا پول کھل گیا۔ حالانکہ کفر و شرک کے خلاف قتال اور جہاد کا حکم انسانی فلاح و بہبود کے لئے ہے اسی لئے فرمایا اگر تم جہادکاحکم آنے کے بعد منہ پھیرا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم جاہلیت کے اسی پرانے رنگ ڈھنگ پر آجائو گے جیسے تم صدیوں سے جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے تھے۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چڑھ دوڑتا تھا۔ ہر طرف قتل و غارت گری اور بدامنی کاراج تھا۔ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں ذبح کردیا کرتے تھے اسلام کی برکت سے اب یہ تمام باتیں ختم ہوچکی ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت برستی ہے جو دین کے بنیادی اصولوں سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور دین اسلام کی سچائیوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ تم اس قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے کیا تمہارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ؟ یہی لوگ یہود و نصاری کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ بعض باتوں میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنی دلی کیفیات کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ ان کے پوشیدہ رازوں تک سے واقف ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کو موت دہلیز پر لے آئیں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر گرز برسا رہے ہوں گے اور یہ کہتے ہوں گے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ تم ہمیشہ اس راستے پر چلے جو راستہ اللہ کو پسند نہیں تھا اور انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کو اہمیت نہیں دی اسی وجہ سے ان کا سب کیا کرایا غارت کردیا گیا جب وہ آخرت میں پہنچیں گے تو ان کے ہاتھ حسن عمل اور اسکے بہتر نتائج سے خالی ہوں گے۔
Ayahs 47:29–34

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (منافقت کا ) مرض ہے وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اللہ انکے دلوں کے روگ ( کینہ پروری) کو ظاہر نہیں کرے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ( ان کے چہرے ہم) آپ کو دکھا دیتے پھر آپ ان کو انکی پیشانیوں سے پہچان لیتے اور آپ ان کو اب بھی ان کے انداز گفتگو سے پہچان سکتے ہیں۔ اور (آپ کہہ دیجئے کہ) اللہ تمہارے اعمال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کی جانچ نہ کرلیں۔ اور ہم تمہارے تمام اعمال کی جانچ کریں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے اس راستے سے روکا جس میں ان کے لئے ہدایت کا سامان تھا اور بہت کچھ واضح ہونے کے باوجود انہوں نے رسول کی نافرمانی کی تو انہوں نے اللہ کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا (ان کو یہ نقصان پہنچے گا) اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر و انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور پھر (وہ اس حالت میں) مر گئے کہ وہ کافر تھے تو اللہ ان کی ہر گز بخشش نہ کرے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 : اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب اللہ اسکے عیبوں پر سے پردے چاک کردیتا ہے۔ اللہ کی اس مہلت اور ڈھیل کی وجہ سے اس کو یہ غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ اس کے تمام حالات اور دلی کیفیات تک سے اچھی طرح واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسی بات کو واضح کرنے کے لئے فرمایا ہے ” اگر کوئی شخص اسے دل میں کسی بات کو چھپاتا ہے تو اللہ (اسی وقت اس کے گناہ کو ظاہر نہیں ہونے دیتا) بلکہ اس کے وجود پر اس چیز کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔ اگر وہ کوئی بھلی اور نیک بات کرتا ہے تو وہ ظاہر ہو کر رہتی ہے اور اگر بری بات ہے تو وہ بھی چھپی نہیں رہتی (ابن کثیر) ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھلی اور بری بات ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ چھپی رہے بلکہ آخر کار وہ ظاہر ہو کر رہتی ہے۔ مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ پر خلوص دل سے ایمان لانے والوں کی اکثریت تھی لیکن بعض لوگ اپے دنیاوی مفادات کے لئے ایمان تو یل آئے تھے اور وہ دکھانے کے لئے تمام و کام کرتے تھے جو مخلص مسلمان نہایت عقیدت و محبت سے سر انجام دیتے تھے لیکن منافقین کے دلوں میں کینہ ‘ بغض ‘ حسد اور اسلام دشمنی کے جذبات بھی موجود تھے وہ اس منافقت کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور سمجھتے تھے کہ ان کی یہ منافقت اسی طرح چھپی رہے گی اور کسی پر ظاہر نہ ہو سکے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے لئے فرمایا ہے ” وہ منافقین جو اپنے دلی جذبوں کو پوشیدہ رکھنے کے لئے بڑا محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی اسلام دشمنی اور منافقت کا یہ مرض عرصہ تک چھپا رہے گا۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں شکلیں تک آپ کو دکھا سکتے ہیں ( لیکن اللہ کے قانون کے خلاف ہے اس لئے) آپ ان کو ان کی بعض علامتوں سے اور ان کی بناوٹی باتوں سے پہچان سکتے ہیں اور اللہ تو ان کے تمام کاموں سے اچھی طرح واقف ہے “۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا دستور تو یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے عیب اور برائیوں کو دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا لیکن اگر اس کی مصلحت ہوتی کہ دوسرے ان منافقوں کے شر سے بچ جائیں تو کبھی کبھی ضرورت کے وقت ظاہر بھی کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت عقبہ ان عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے چھتیں (36) آدمیوں کا نام لے کر بتایا کہ فلاں فلاں منافق ہیں اور ان کو آپ نے اپنی محفل سے نکل جانے کا حکم دیا۔ (مسند احمد) ویسے عام طور پر نبی کریم ﷺ نے منافقین کی خاص خاص نشانیوں کا ذکر کیا ہے تاکہ اہل ایمان اس طرح کی نشانیاں رکھنے والوں سے ہوشیار رہیں جو مسلمانوں سے محض دکھاوے کا تعلق رکھتے ہیں اور انہیں حقیقی اور قلبی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی بناوٹی باتیں ‘ انداز گفتگو اور اکھڑی اکھڑی باتیں ان کے دلی جذبات کی ترجمان ہیں جنہیں وہ چھپا ہی نہیں سکتے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا رہتا ہے خواہ وہ اللہ کے فرماں بردار ہوں یا فرماں بردار نہ ہوں۔ اس طرح آزمائش کی بھٹی سے نکلنے کے بعد منافق اور مومن بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ جو لوگ منافقت کے مرض میں مبتلا ہیں ان کی آزمائش یہ ہے کہ ان کو خوب ڈھیل اور سہولتیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ پوری آزادی سے اپنی منافقانہ کاروائیوں میں آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کا کینہ ‘ حسد ‘ جلن ‘ بغض اور اسلام دشمنی پر وی طرح کھل کر سامنے آجائے اور وہ اپنی آگ میں جل کر خود ہی ذلیل و رسوا ہوجائیں۔ اسکے برخلاف ان اہل ایمان کو جو جہاد اور صبر سے کام لیتے ہیں اس لئے آزمائش کی بھٹی سے گذارا جاتا ہے تاکہ وہ اس طرح کندن بن کر ابھریں جس طرح سونا آگ پر تپائے جانے کے بعد کندن اور صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔ یہ آزمائش انکے لئے ایک انعام کے طور پر ہوتی ہے تاکہ ان کو بھاری ذمہ داریوں کے قبول کرنے کا اہل بنا دیا جائے۔ وہ لوگ جو اللہ ‘ اس کے رسول اور دین اسلام سے دوسروں کو دور رکھنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں سچائی پھیر لیتے ہیں اور خود اپنے ہاتھوں کلہاڑی اپنے پاؤں پر مار لیتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اپنے اخلاص ‘ حسن عمل ‘ اللہ کی عبادت و بندگی ‘ اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری میں لگے رہیں۔ آخرت کے لئے جدوجہد کرتے رہیں اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کریں جن کا کام کفر کرنا اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکنا ہے کیونکہ اگر وہ کافر اسی طرح کفر پر ڈٹے رہے اور توبہ نہ کی تو ان کا انجام بہت برا ہوگا اور آخرت میں تو اللہ کی نظر کرم سے بھی محروم ہوں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حق و صداقت ‘ ایمان اور عمل صالح پر چلنے والوں کو اطمینان قلب ‘ ذہنی سکون ‘ عقل و فکر کی بلندی ‘ دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں عطا کی جاتی ہیں اور جو لوگ زندگی بھر جھوٹ ‘ فریب اور غلط فہمیوں میں زندگی گذارنے والے ہیں ہو سکتا ہے ان کو دنیا کی زندگی میں بعض فائدے مل جائیں لیکن آخرت جو انسان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے وہاں وہ اللہ کے ہر انعام و اکرام اور فضل و رحمت سے محروم رہیں گے۔
Ayahs 47:35–38

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ہمت نہ ہارو کہ تم ان کو صلح کی طرف بلانے لگو۔ تم ہی سر بلند رہو گے کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے اعمال ( کے اجرو ثواب) میں کمی نہ کرے گا۔

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقویٰ کی روش کو اختیار کیا تو وہ تمہیں اجروثواب عطاکرے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہ کرے گا۔

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اور اگر وہ تم سے کل مال طلب کرنے لگے اور طلب کرنے میں انتہائی درجہ تک تم سے طلب کرے تو تم بخل اور کنجوسی کرنے لگو گے ( اس وقت) اللہ تمہارے دلوں کی ناگوار یوں کو ظاہر کردے گا۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سن لو ! تم لوگ تو ایسے ہو کہ جب تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے بلایاجاتا ہے تو تم میں سے بعض لوگ کنجوسی کرتے ہیں۔ اور جو شخص بخل اور کنجوسی کرے گا تو درحقیقت اپنے آپ سے بخل کرے گا۔ اللہ تو بےنیاز ہے جب کہ تم اس کے محتاج ہو۔ اور اگر تم نے اس سے منہ پھیرا تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ جو تم جیسے (بخیل اور کنجوس) نہ ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 38 : لاتھنوا (تم سست نہ پڑو۔ بزدلی نہ دکھائو) تدعوا ( تم پکارنے لگو) ‘ السلم (صلح) الا علون ( تم بلندرہو گے) ‘ لن یتر ( ہرگز نقصان نہ پہنچے گا) ‘ یحفی (وہ طلب کرتے ہیں۔ بار بار مانگے گا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 38 : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہتا ہے تاکہ مومن اور غیر مومن کا فرق کھل کر سامنے آجائے۔ مومنوں کی آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کو مشکل حالات کی بھٹی سے گذار کر اسی طرح صاف ستھرا اور کندن بنادیا جائے جس طرح سونا آگ کی بھٹی میں جاکر نکھر جاتا ہے۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جب ان پر حالات کی آزمائش آئے تو وہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں اور کسی طرح کفار و مشرکین کا دبائو قبول کرکے ایسی صلح نہ کریں جس میں بزدلی اور کم ہمتی کا کوئی بھی انداز ہو کیونکہ تم سے اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تمہیں پوری طرح کفار پر غلبہ اور قوت عطا فرمائے گا۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور جب وہ تمہارے ساتھ ہے تو پھر وہ تمہاری کسی کوشش اور عمل کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ رہے وہ لوگ جو دنیا کی چمک دمک کے پیچھے دوڑ رہے ہیں تم ان کی طرف نہ دیکھو کیونکہ دنیا کی زندگی کھیل کود سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رونقیں یہیں رہ جائیں گی یہ سب عارضی زندگی کا سامان ہے حقیقی زندگی تو وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہوگی لہٰذا اعارضی اور وقتی زندگی کے تقاضوں اور دنیا کی محبت کو آخرت کی ابدی راحتوں پر غالب نہ آنے دیا جائے۔ اسی جذبے پر عظیم اجر وثواب عطا کیا جائے گا۔ البتہ ان تمام چیزوں کی بقا اس میں ہے کہ اپنی زندگی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ اپنے مال کو اللہ کی رضاوخوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔ اللہ تمہیں اسی طرف متوجہ کرتا ہے وہ تم سے تمہارا سارامال لینا نہیں چاہتا بلکہ کچھ مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ بھی اپنی ذات کے لئے نہیں کیونکہ وہ تو تمہارے مال و دولت سے بےنیاز ہے وہ تو تمام حاجت مندوں کو دیتا ہے اسے کسی کے مال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ تمہارے ہی فائدے کے لئے تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تمہارا معاشرہ اور اسلامی زندگی کی اقدار مضبوط ہو سکیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بچتا اور کنجوسی کا انداز اختیار کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی نفس کی غلامی کرتا ہے۔ فرمایا کہ مومنو ! تم صبر وا ستقلال سے ڈٹے رہو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو وہ ہر جگہ تمہارا ساتھ دے گا۔ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ کی مدد سے تم ہر جگہ غالب رہو گے اور کوئی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ اگر تم نے اس صراط مستقیم کو چھوڑ کر دوسروں کا طریقہ اختیار کرلیا تو پھر یاد رکھ اللہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے جس طرح وہ تمہارے مال و دولت کا محتاج نہیں ہے وہ اپنے دین کے غلبہ کے لئے بھی تمہارا محتاج نہیں ہے اگر تم نے صحیح طریقہ اختیار نہ کیا تو تمہارے بجائے وہ کسی دوسری قوم کو اٹھا کر کھڑا کردے گا اور اس سے اپنے دین کی سر بلندی کا کام لے لے گا جو تم سے بہتر طریقہ پر اپنا کام کرسکے گی۔ سورة محمد کی مذکورہ آیات کی تشریح سے یہ بات بالکل واضح طریقہ پر سامنے آگئی ہے کہ اسلام جو دین امن و سلامتی ہے اس میں صلح اور امن و آشتی کو بنیاد ہونا چاہیے لیکن اگر جنگ کرنے کا موقع ہو تو اس میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور کسی طرح کی بزدلی اور کم ہمتی کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ احکامات اس وقت دیئے جارہے ہیں جب مسلمان بہت تھوڑے سے تھے۔ اور صرف عرب کے کفار قریش ہی نہیں بلکہ اس وقت کی معلوم دنیا کی اکثریت مسلمانوں کو ایک خطرہ سمجھ رہی تھی جب حالات کو ان پر تنگ سے تنگ کردیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جب وہ کفار کا دبائو قبول کرتے ہوئے ایسی صلح کرلیتے جس میں بزدلی اور کم ہمتی نمایاں ہوتی۔ فرمایا کہ جہاد و قتال ہو یا صلح مندی ان تمام باتوں میں اللہ کی رضا و خوشنودی کو آگے رکھا جائے اور کوئی ایسا جذباتی انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے دشمن کو اہل ایمان کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے۔ بڑے صبر و استقلال سے ڈٹے رہیں اور وہ اس بات کو ثابت کردیں کہ دنیاوی مال و دولت کی کمی ان کے قدموں میں کوئی ڈگمگاہٹ پیدا نہیں کرسکتی۔ کیونکہ اصول کی بات یہہ کہ دنیا میں دو طاقت ور قوموں اور جماعتوں میں صلح ہوا کرتی ہے۔ کمزور اور طاقت ور کی صلح نہیں محض ایک وقتی مفاہمت کہلاتی ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ اور اہل ایمان کے درمیان ایک معاہدہ کیا جارہا تھا اس وقت اگر چہ آپ نے کفار کی وہ بہت سی شرطیں مان لی تھیں جو بظاہر آبرو مندانہ نہیں تھیں لیکن آپ کفار کو یہ موقع نہیں دینا چاہتے تھے کہ یہ صلح کا معاملہ ٹل جائے۔ صحابہ کرام ؓ جو اطاعت رسول کے پیکر تھے انہوں نے زبان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ہر ایک اپنے دل میں گھٹ رہا تھا کہ آخر ہم اس قدر دب کر صلح کیوں کریں ؟ لیکن آپ ﷺ نے کفار قریش سے معاہدہ کرلیا اور اس معاہدہ کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے واپسی کا حکم دیا۔ جب مسلمان مکہ مکرمہ سے کچھ ہی دور پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة فتح کی یہ آیات نازل کیں جن میں اس معاہدہ کو ” فتح مبین “ قرار دیا گیا تھا۔ صحابہ کرام ؓ تو ویسے ہی دل گرفتہ تھے جب ان کے سامنے ” فتح مبین “ کا لفظ آیا تو وہ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے کہ یہ کیسی فتح مبین ہے جس میں ایک ایسا معاہدہ کیا گیا ہے جس میں ذلت آمیز شرائط بھی موجود ہیں۔ لیکن بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ واقعی یہ ایک ایسی کھلی ہوئی فتح تھی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قریش جو مسلمانوں کو کوئی حیثیت نہیں دے رہے تھے انہوں نے صلح کرکے مسلمانوں کو ایک اگل برابر کی طاقت تسلیم کرلیا تھا۔ دوسرے یہ کہ اسلام کا مزاج امن و سلامتی کا ہے اس لئے اس صلح کے بعد آپ نے ساری دنیا کے بادشاہوں اور سربراہوں کو دین اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے خطوط لکھے۔ آس پاس کے قبائل کے پاس ایسے مبلغین کو بھیجا گیا جنہوں نے اسلام کا پیغام پہنچایا۔ معمولی سی کوشش کے بعد خیبر کے زرخیز علاقے کو فتح کیا۔ اس کے بعد تو ایسا لگتا تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے اور لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ مذکورہ آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ صلح میں خیر ہے لیکن ایسی صلح ہونی چاہیے جس میں بزدلی کا کوئی پہلو نہ ہو اور صلح میں حکمت و مصلحت سے کام لیا گیا ہو۔ اہل ایمان کو اسی بات پر آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ پوری طرح ایثار و قربانی سے کام لیں تاکہ اسلام کا یہ پودا ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے۔ ان آیات کے ساتھ ہی الحمد للہ سورة محمد کی آیات کا ترجمہ ‘ اس کی تشریح مکمل ہوئی۔