47. Surah Muhammad
محمدMuhammad · 38 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
اعلان نبوت کے بعد کفار و مشرکین کی طرف سے طرح طرھ کے اعتراضات، الزامات اور سوالات کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کو پریشان کیا جارہا تھا۔ پروپیگنڈہ اس قدر زہریلا اور تیز تھا کہ اس کا مقابلہ ایک تیز آندھی کے سامنے کھڑے ہونے کے برابر تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان حق و صداقت کا راستہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں ۔ کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرح کی سازشیں کررہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش تک کر ڈالی تھی لیکن حق و صداقت کی آواز سے ہر شخص متاثر ہوتا چلا جارہا تھا اور دین اسلام کی عظمت ہر ایک دل میں بیٹھتی چلی جارہی تھی۔ کفار مکہ اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آئے۔ ایک دن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے توعقبہ ابن ابی معیط نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گے میں اپنی چادر ڈال کر بل دینا شروع کیا جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دم گھٹنے لگا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دیکھا تو انہوں نے عقبہ کو دھکا دے کر فرمایا ؛ کیا تم اس شخص کو مار ڈالنا چاہتے ہو جو (اللہ کے گھر میں ) یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ (نسائی ۔ سیرت ابن ہشام) جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کرام (رض) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو کفار نے وہاں بھی اپنی سازشوں کا جا پھلا دیا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے سورة محمد کو نازل کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کفار کچھ بھی کرلیں گے لیکن اللہ کا دین سر بلند ہو کر رہے گا ۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ ٭فر مایا جو لوگ دین کی سچائی سے خود بھی رک رہے ہیں اور دوسروں کو بھی روک رہے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اعمال غارت کرکے ان کو جنت کی ابدی راحتوں سے محروم کردیا جائے گا۔ البتہ اگر وہ ان کی خطائیں معاف کی جاسکتی ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرما نبرداری کریں گے اللہ ان کو ایسی جنتی راحتیں عطا فرمائے گا جس میں صاف صاف شفاف پانی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی جو انتہائی لذیذ اور دل پسند ہوں گی۔ کھانے کے لیے ہر طرح کے بہترین پھل اور میوے ہوں گے۔ کفار و مشرکین کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی کا چشمہ ہوگا جس کا پانی پینے کے بعد ان کی آنتیں بھی با ہر آجائیں گی ۔ فرمایا لوگو ! دنیا میں تو بہ اور اطاعت کا موقع ہے اگر یہ نکل گیا تو پھر آخرت میں سوائے پچھتانے اور شرمندگی کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئیگا۔ ٭ کفار مکہ سے فرمایا گیا کہ کیا وہ اپنے سے پہلے لوگوں کے برے انجام سے بیخبر ہیں کہ جب انہوں نے کفر اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے ان کو غارت کر کے رکھ دیا ۔ کیونکہ اہل ایمان کا مالک تو اللہ ہے لیکن کافروں کا تو کوئی مولیٰ اور حمایتی نہیں ہے۔ ٭فرمایا یہ کفار دنیا کی چند روزہ زندگی کے عیش و آرام کے مزے اڑالیں اور جانوروں کی طرح خوب کھا پی لیں لیکن ان کا انجام بہت عبرت ناک اور بھیانک ہوگا۔ ٭ ان کفار کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذاریں گے ان کے لیے جنت میں صاف شفاف پانی کی نہریں ، دودھ ، شراب اور شہد کی صافس ستھری نہریں ہوں گی۔ ان کو کھانے کی ہر چیز اور ہر نعمت عطا کی جائے گی۔ ٭کفار کے لیے فرمایا کہ ان کو ایسا کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا جس کے پینے کے بعد ان کی آنتیں بھی باہر آجائیں گی اور ان کے منہ جھلس جائیں گے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین سے جو دکھاوے کے مسلمان ہیں تو پوچھا ہے کہ کیا وہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں ؟ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت اس طرح اچانک آجائے گی پھر کسی کو حسن عمل اور تو بہ کا موقع نصیب نہ ہوگا۔ ٭ فرمایا کہ جس طرح اہل ایمان اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کی آیتیں نازل ہوتے ہی ان پر عمل کیا جائے ۔ منافقین کا یہ حال ہے کہ جب اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوگئی ہے۔ فرمایا کہ منافقین بےفکر ہو کر نہ رہیں بہت جلد ان کی بدبختی کے دن شروع ہونے والے ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اسی لیے وہ بہرے گونگے بن کر رہ گئے ہیں نہ انہیں حق کی آواز سنائی دیتی ہے نہ ان کو سیدھا راستہ سوجھتا ہے۔ وہ جب اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ ان کی حرکتوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ اللہ ان کی ایک ایک حرکت اور سازش کو دیکھ رہا ہے۔ ان کو اپنی موت کے وقت معلوم ہوگا جب فرشتے ان کو روح کو قبض کر کے ان کے چہروں اور پیٹھ پر مارتے ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر وہ کام کرتے ہن جس سے اللہ ناخوش تھا اور ان کے نزدیک اللہ کی رضا و خوشنودی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ فرمایا کہ اللہ نے جہاد کا حکم اسی لیے دیا ہے تاکہ منافقین جو اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے حالات سب کے سامنے کھل کر آجائیں گے اور ہم بھی جانچ لیں گے کہ کس کے دل میں کتنا ایمان ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ا اے مومنو ! تم اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہو اور کسی حکم کی خلاف ورزی کرکے اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو کیونکہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے اور وہ اسی حال میں مر جاتے ہیں تو ان کی بخشش نہیں ہوتی۔ ٭فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان جہاد کی طرف آمادہ کرتے رہیے اور صلح کرنے میں ایسا انداز اختیارنے کیجئے جس کو کفار کمزوری سمجھیں گے کیونکہ اگر جہاد ہوگا تو اللہ اہل ایمان ہی کو غالب فرمائے گا۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اللہ تمہارے اجر وثواب میں ذرا بھی کمی نہ کرے گا ۔ لہذا تم جہاد سے کبھی اپنی جان مت چرانا، دنیا کی زند گی جو کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اس کی رنگینیوں میں کھو کر جہاد سے منہ مت پھیرنا۔ فرمایا کہ اگر تم نے ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کیا تو آخرت میں اس کا بہترین اجر وثواب عطا کیا جائے گا ۔ تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ بخل اور کنجوسی اختیار نہ کرو کیونکہ جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے کتراتے ہیں تو یہ ان کی شان کے خلاف ہے کیونکہ ایسا تو وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں آخرت اور اللہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ اللہ بےنیاز ذات ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ تمہاری ہی بھلائی کے لئے ہیں ۔ ٭ آخر میں فرمایا کہ یاد رکھو ! اگر تم نے جہاد سے جان چھڑائی یا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت نہ کی تو وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو اٹھادے جو اللہ کی باتوں کو مانیں گے اس کے راستے میں جان و مال کو بےدریغ خرچ کریں گے اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے اور اس پر ایمان لائے جو (حضرت) محمد ﷺ پر اتارا گیا ہے ۔ وہی سچا دین ہے جو ان کے رب کی طرف سے ہے۔ تو اللہ کی خطائوں کو ان سے دور کردے گا اور ان کی حالت کو درست کردے گا۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader
یہ اس لئے ہے کہ جنہوں نے کفر و انکار کیا (در حقیقت) انہوں نے باطل (جھوٹ) کی پیروی کی ۔ اور بیشک جو لوگ ایمان لائے انہوں نے ایک سچے دین کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ۔ اس طرح اللہ لوگوں کے سامنے ان کے حالات بیان کرتا ہے ۔
فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader
پھر جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب تم خوب قتل کر چکو تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے یا فدیہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں ۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے انتقام لے لیتا ۔ لیکن اس نے تمہیں جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں تو اللہ ان کے اعمال ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔
سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader
اللہ بہت جلد ان کو راہ ہدایت دکھائے گا اور ان کی حالت کو درست کردے گا ۔
وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader
اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں پہچان کرادی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرور گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader
اور جو لوگ کا فر ہیں ان کے لئے تباہی ہے (اور سب سے بڑی تباہی یہ ہے کہ ) وہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کافروں نے اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کو اعمال کو ضائع کردیا
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader
کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گذرے ہیں ( نا فر مانیوں کی وجہ سے ) ان کا انجام کیسا ہو ؟ اللہ نے (ان کفرو انکاری کی وجہ سے ) ان پر تباہی و بربادی مسلط کردی ۔ اور یہی حالات ان ( موجودہ) کافروں کے بھی ہونے والے ہیں
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader
سبب یہ ہے کہ اللہ تو اہل ایمان کا حمایتی و مددگار ہے اور کافروں کا کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ س (دنیا میں خوب) عیش و آرام سے کھار ہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں لیکن ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کتنی ہی آبادیاں ایسی گذر چکی ہیں جیسی آپ کی بستی ہے جس سے آپ کو (کافروں نے ) نکالا ہے جو طاقت و قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں لیکن جب ان کو ہلاک کیا گیا تو کوئی بھی ان کا مدد گار نہ بن سکا۔
اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ان سے پوچھئے کہ بھلا بتائو تو سہی جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے صاف اور کھلے راستے پر ہے وہ اس کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جس کا برا عمل ( بھی اس کی نظروں میں ) خوبصورت بنادیا گیا ہو اور جو لوگ اپنی خواہشات پر چلتے ہوں ؟
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader
وہ جنت جس کا اہل تقویٰ سے وعدہ کای گیا ہے وہ ایسی ہوگی اس میں نہریں بہتی ہوں گی جن کا مزہ تبدیل نہ ہوگا۔ دودھ کی ایسی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت مزیدار ہوں گی ۔ شہد کی ایسی نہریں بہتی ہوں گی جو نہایت صاف اور شفاف ہوں گی ۔ ان کے علاوہ ان سب اہل جنت کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور سب سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت کا سامان ہوگا۔ کیا ایسے اہل جنت کے برابر وہ ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلیں گے اور ان کو ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے اڑا کر رکھ دے گا۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader
ان میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں ( تو یہ منافق) ان لوگوں سے جن کو (کبھی توریت وغیرہ کا ) علم دیا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی ابھی کیا کہا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگادی ہیں جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader
لیکن وہ لوگ جنہیں اللہ کی طرف سے ہدایت مل گئی ہے اللہ ان کی ہدایت کو اور بڑھادیتا ہے اور ان کو تقویٰ کی توفیق دیتا ہے۔
فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader
کیا یہ لوگ اس گھڑی کے (قیامت کے) منتظر ہیں ؟ (یادرکھو) وہ اچانک آئے گی بیشک اس کی علامتیں توآہی چکی ہیں۔ پھر ان کو اس کے آنے کے بعد سمجھنے کا کہاں موقع ملے گا۔
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ اس بات کو جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ اور آپ اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں ‘ عورتوں کے لئے معافی مانگتے رہیے بیشک اللہ تمہارے آنے ‘ جانے اور ٹھکانے کو خوب جانتا ہے۔
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader
اور جب وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں کہتے ہیں کہ کوئی (جہاد کے لئے) آیت نازل کیوں نہ کی گئی ؟ لیکنجب ایسی سورت نازل کردی جاتی ہے کہ جس کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں تو آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں (منافقت کا) مرض ہے دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہوں گے جیسے ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوگئی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔
طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader
فرماں برداری کی اور بھلی بات ہی کہنی چاہیے۔ پھر جب (جہاد کا حکم) آجائے اور وہ اللہ کے سامنے سچے ثابت ہوجائیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader
کیا پھر (تم سے) بہی توقع نہیں ہے کہ اگر تمہیں (اقتدار ) و قوت حاصل ہوجائے تب تم زمین میں فساد ہی مچائو گے اور رشتہ داریوں کو منقطع کردو گے ؟
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ پھر ان کو بہرا بنادیا ہے۔ ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader
کیا وہ لوگ قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑگئے ہیں ؟
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader
بیشک جو لوگ صحیح راستہ واضح ہونے کے بعد اپنی پیٹھ پھیر کر (بھاگیں گے) تو (ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ) شیطان نے ان کو یہ غلط راستہ سمجھایا ہے اور ان کی امیدوں کو دراز کردیا ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader
(ان لوگوں کے منہ پھیر نے کی وجہ یہ تھی کہ ) ان منافقین نے ایسے لوگوں سے جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکامات کو ناپسند کرتے تھے ان سے کہا کہ ہم (اسلام کے خلاف) بعض چیزوں میں تمہاری بات مانیں گے۔ اور اللہ ان کے اس بھید کو اچھی طرح جانتا ہے۔
فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader
پھر اس وقت انکا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالتے ہوں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader
ان سے یہ سلوک اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے ایسے طریقے اختیار کئے ہوئے تھے جو اللہ کو ناراض کرنے والے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کو برا سمجھا تھا۔ اس لئے اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا ہے۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (منافقت کا ) مرض ہے وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اللہ انکے دلوں کے روگ ( کینہ پروری) کو ظاہر نہیں کرے گا ؟
وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader
اور اگر ہم چاہتے تو ( ان کے چہرے ہم) آپ کو دکھا دیتے پھر آپ ان کو انکی پیشانیوں سے پہچان لیتے اور آپ ان کو اب بھی ان کے انداز گفتگو سے پہچان سکتے ہیں۔ اور (آپ کہہ دیجئے کہ) اللہ تمہارے اعمال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader
اور البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کی جانچ نہ کرلیں۔ اور ہم تمہارے تمام اعمال کی جانچ کریں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے اس راستے سے روکا جس میں ان کے لئے ہدایت کا سامان تھا اور بہت کچھ واضح ہونے کے باوجود انہوں نے رسول کی نافرمانی کی تو انہوں نے اللہ کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا (ان کو یہ نقصان پہنچے گا) اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader
بیشک جن لوگوں نے کفر و انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور پھر (وہ اس حالت میں) مر گئے کہ وہ کافر تھے تو اللہ ان کی ہر گز بخشش نہ کرے گا۔
فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم ہمت نہ ہارو کہ تم ان کو صلح کی طرف بلانے لگو۔ تم ہی سر بلند رہو گے کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے اعمال ( کے اجرو ثواب) میں کمی نہ کرے گا۔
اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader
دنیا کی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقویٰ کی روش کو اختیار کیا تو وہ تمہیں اجروثواب عطاکرے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہ کرے گا۔
اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader
اور اگر وہ تم سے کل مال طلب کرنے لگے اور طلب کرنے میں انتہائی درجہ تک تم سے طلب کرے تو تم بخل اور کنجوسی کرنے لگو گے ( اس وقت) اللہ تمہارے دلوں کی ناگوار یوں کو ظاہر کردے گا۔
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader
سن لو ! تم لوگ تو ایسے ہو کہ جب تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے بلایاجاتا ہے تو تم میں سے بعض لوگ کنجوسی کرتے ہیں۔ اور جو شخص بخل اور کنجوسی کرے گا تو درحقیقت اپنے آپ سے بخل کرے گا۔ اللہ تو بےنیاز ہے جب کہ تم اس کے محتاج ہو۔ اور اگر تم نے اس سے منہ پھیرا تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ جو تم جیسے (بخیل اور کنجوس) نہ ہوں گے۔