47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsمعارف القرآن

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے اور روکا اوروں کو اللہ کی راہ سے کھو دئیے اللہ نے ان کے کئے کام

خلاصہ تفسیر جو لوگ (خود بھی) کافر ہوئے اور (دوسروں کو بھی) اللہ کے راستہ سے روکا (جیسا رؤسائے کفار کی عادت تھی کہ جان و مال سے ہر طرح کی کوشش اسلام کا راستہ روکنے میں کرتے تھے سو) خدا نے ان کے عمل کالعدم کردیئے (یعنی جن کاموں کو وہ نیک سمجھ رہے ہیں بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں بلکہ ان میں سے بعضے کام اور الٹے موجب عتاب ہیں جیسے اللہ کے راستے پر چلنے سے روکنے میں خرچ کرنا، کما قال تعالیٰ (آیت) فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرة الخ) اور (برخلاف ان کے) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور (ان کے ایمان کی کیفیت تفصیلی یہ ہے کہ) وہ اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور وہ (جو نازل کیا گیا ہے وہ) ان کے رب کے پاس سے (آیا ہوا) امر واقعی (بھی) ہے (جس کا ماننا ہے بھی ضروری سو) اللہ تعالیٰ ان کے گناہ ان پر سے اتارے گا (یعنی معاف کر دے گا) اور (دونوں جہان میں) ان کی حالت درست رکھے گا (دنیا میں تو اس طرح کہ ان کو اعمال صالحہ کی توفیق بڑھتی جاوے گی اور آخرت میں اس طرح کہ ان کو عذاب سے نجات اور جنت میں داخلہ ملے گا اور) یہ (جو مومنین کی خوشحالی اور کفار کی بدحالی بیان کی گئی) اس وجہ سے ہے کہ کافر تو غلط راستہ پر چلے اور اہل ایمان صحیح راستہ پر چلے جو ان کے رب کی طرف سے (آیا) ہے، (اور غلط راستہ کا موجب ناکامی ہونا اور صحیح راستہ کا سبب کامیابی ہونا ظاہر ہے اس لئے وہ ناکام ہوئے اور یہ کامیاب ہوئے اور اگر اسلام کے صحیح راستہ ہونے میں کوئی شبہ ہو تو من ربہم سے اس کا جواب ہوگیا کہ دلیل اس کی صحیح ہونے کی یہ ہے کہ وہ من جانب اللہ ہے اور من جانب اللہ ہونا تمام معجزات نبویہ سے بالخصوص اعجاز قرآنی سے ثابت ہے اور) اللہ تعالیٰ اسی طرح (جیسے یہ حالت بیان فرمائی) لوگوں کے (نفع و ہدایت کے) لئے ان (مذکورین) کے حالات بیان فرماتا (تاکہ ترغیب و ترہیب کے دونوں طریقوں سے ہدایت کی جائے) معارف و مسائل سورة محمد ﷺ کا دوسرا نام سورة قتال بھی ہے کیونکہ جہاد و قتال کے احکام اس میں بیان ہوئے ہیں۔ ہجرت مدینہ کے فوراً بعد ہی یہ سورت نازل ہوئی یہاں تک کہ اس کی ایک (آیت) وکاین من قریة کے متعلق حضرت ابن عباس سے یہ منقول ہے کہ وہ مکی آیت ہے کیونکہ اس کا نزول اس وقت ہوا ہے جبکہ آپ ہجرت کی نیت سے مکہ معظمہ سے نکلے اور مکہ مکرمہ کی بستی اور بیت اللہ پر نظر کر کے آپ نے فرمایا کہ ساری دنیا کے شہروں میں مجھے تو ہی محبوب ہے اگر اہل مکہ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں خود اپنے اختیار سے مکہ مکرمہ کو نہ چھوڑتا، اور اصطلاح مفسرین کی مطابق جو آیات سفر ہجرت مدینہ کے دوران میں نازل ہوئی ہیں وہ مکی کہلاتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ سورت ہجرت مدینہ کے فوراً بعد نازل ہوئی ہے اور یہیں پہنچ کر کفار سے جہاد و قتال کے احکام نازل ہوئے ہیں (آیت) وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، سبیل اللہ سے مراد اسلام ہے اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ میں ان کفار کے وہ اعمال مراد ہیں جو فی نفسہ نیک کام ہیں جیسے مساکین کی امداد و اعانت، پڑوسی کی حمایت و حفاظت، سخاوت اور صدقہ خیرات وغیرہ کہ یہ اعمال اگرچہ اپنی ذات میں نیک اور اچھے عمل ہیں لیکن آخرت میں ان کا فائدہ ایمان لانے کے ساتھ مشروط ہے کافروں کے ایسے نیک اعمال آخرت میں ان کے کچھ کام نہ آئیں گے البتہ دنیا میں ہی ان کو ان کے نیک کاموں کے بدلے میں راحت و آرام دے دیا جاتا ہے۔
Ayahs 47:2–3

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام اور مانا اس کو جو اترا محمد ﷺ پر اور وہی ہے سچا دین ان کے رب کی طرف سے ان پر سے اتاریں ان کی برائیاں اور سنوارا ان کا حال

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو منکر ہیں وہ چلے جھوٹی بات پر اور جو یقین لائے انہوں نے مانی سچی بات اپنے رب کی طرف سے یوں بتلاتا ہے اللہ لوگوں کو ان کے احوال۔

(آیت) وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ ، اگر پہلے جملے میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آ چکا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی بھی شامل ہے مگر اس دوسرے جملے میں اس کو بالتصریح ذکر کرنے میں یہ بتلانا منظور ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد اس پر ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کیا جائے۔ (آیت) وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ ، لفظ بال کبھی شان اور حال کے معنی میں آتا ہے اور کبھی قلب کے معنی میں یہاں دونوں معنے لئے جاسکتے ہیں، پہلے معنی لئے جاویں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کو یعنی دنیا و آخرت کے تمام کاموں کو درست کردیا اور دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو درست کردیا حاصل اس کا بھی وہی ہوگا کہ تمام کام درست کردیئے کیونکہ کاموں کی درستگی قلب کی درستگی کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مظبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجئیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار۔ یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ ان کے کئے کام

خلاصہ تفسیر (اوپر کی آیات میں اہل ایمان کا مصلح ہونا اور کفار کا مفسد ہونا بیان ہوا ہے اس کی مناسبت سے کفر و کفار کا فساد رفع کرنے کے لئے اس آیت میں احکام جہاد کا ذکر ہے) سو جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خونریزی کر چکو (جس کی حد یہ ہے کہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائے اور قتال بند کرنے سے مسلمانوں کی مضرت یا کفار کے غلبہ کا خوف نہ رہے) تو (اس وقت کفار کو قید کر کے) خوب مضبوط باندھ لو پھر اس کے بعد (تم کو دو باتوں کا اختیار ہے) یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دینا اور یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینا (اور یہ قید اور قتل کا حکم اس وقت تک ہے) جب تک کہ لڑنے والے (دشمن) اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں (مراد اس سے اسلام یا استسلام ہے) یعنی یا تو اسلام قبول کرلیں یا مسلمانوں کا ذمی ہو کر رہنا قبول کرلیں تو پھر نہ قتل جائز ہے نہ قید۔ معارف و مسائل اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائے تو اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ کے چھوڑ دیا جائے دوسرے یہ کہ ان سے کوئی فدیہ لے کر چھوڑا جائے۔ فدیہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے کچھ مسلمان ان کے ہاتھ میں قید ہوں تو ان سے تبادلہ کرلیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ مال کا فدیہ لے کر چھوڑا جائے۔ یہ حکم بظاہر اس حکم کے خلاف ہے جو سورة انفال کی آیت میں گزر چکا ہے جس میں غزوہ بدر کے قیدیوں کو معاوضہ لے کر چھوڑ دینے کی رائے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اس عمل پر اللہ تعالیٰ کا عذاب قریب آ گیا تھا اگر یہ عذاب آتا تو اس سے بجز عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے کوئی نہ بچتا کیونکہ انہوں نے فدیہ لے کر چھوڑنے کی رائے سے اختلاف کیا تھا جس کی پوری تفصیل معارف القرآن جلدچہارم میں صفحہ 282 سے 288 تک لکھی گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت انفال نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا بھی ممنوع کردیا تو بلا معاوضہ چھوڑنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا۔ اور سورة محمد کی آیت مذکورہ نے ان دونوں چیزوں کو جائز قرار دیا ہے اس لئے اکثر صحابہ اور ائمہ فقہاء نے فرمایا کہ سورة محمد کی اس آیت نے سورة انفال کی آیت کو منسوخ کردیا تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور حسن اور عطاء اور اکثر صحابہ و جمہور فقہاء کا یہی قول ہے اور ائمہ فقہاء میں سے ثوری، شافعی، احمد، اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور ابن عباس نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی قلت تھی اس وقت من وفداء کی ممانعت آئی اور پھر جب مسلمانوں کی شوکت و تعداد بڑھ گئی تو سورة محمد میں من وفداء کی اجازت دے دیگئی۔ تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہی قول صحیح اور مختار ہے کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل فرمایا اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے اس پر عمل فرمایا اس لئے یہ آیت سورة انفال کی آیت کے لئے ناسخ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورة انفال کی آیت غزوہ بدر کے وقت نازل ہوئی جو ہجرت کے دوسرے سال میں ہوا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے 6 ہجری غزوہ حدیبیہ میں جن قیدیوں کو بلا معاوضہ آزاد فرمایا ہے وہ سورة محمد کی اس آیت مذکورہ کے مطابق ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی آدمی اچانک جبل تغیم سے اترے جو رسول اللہ ﷺ کو بیخبر پا کر قتل کرنے کا ارادہ کر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو زندہ گرفتار کرلیا پھر بلا معاوضہ آزاد کردیا۔ اسی پر سورة فتح کی یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وہوالذی کف ایدیہم عنکم و ایدیکم عنہم ببطن مکة من بعد ان اظفرکم علیہم، امام اعظم ابوحنیفہ کا مشہور مذہب ان کی ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ جنگی قیدیوں کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر آزاد کرنا جائز نہیں اسی لئے علماء حنفیہ نے سورة محمد کی آیت مذکورہ کو امام اعظم کے نزدیک منسوخ اور سورة انفال کی آیت کو ناسخ قرار دیا ہے مگر تفسیر مظہری نے یہ واضح کردیا کہ سورة انفال کی آیت پہلے اور سورة محمد کی آیت بعد میں نازل ہوئی ہے اس لئے وہی ناسخ اور انفال کی آیت منسوخ ہے اور امام اعظم کا مختار مذہب بھی جمہور صحابہ و فقہاء کے مطابق آزاد کردینے کے جواز کا نقل کیا ہے جبکہ مسلمانوں کی مصلحت اس میں ہو، اور فرمایا کہ یہی اصح اور مختار ہے، علماء حنفیہ میں سے علامہ ابن ہمام فتح القدیر میں اسی طرف مائل ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قدوری اور ہدایہ کی روایت کے مطابق امام اعظم کے نزدیک قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد نہیں کیا جاسکتا اور یہ ایک روایت ہے، امام اعظم ابوحنیفہ سے مگر انہی سے دوسری روایت سیر کبیر میں جمہور کے قول کے مطابق جواز کی منقول ہے اور یہی ان دونوں روایتوں میں اظہر ہے اور امام طحاوی نے معانی الآثار میں اسی کو ابوحنیفہ کا مذہب قرار دیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة محمد اور سورة انفال کی دونوں آیتیں جمہور صحابہ دائمہ کے نزدیک منسوخ نہیں، مسلمانوں کے حالات اور ضرورت کے تابع امام المسلمین کو اختیار ہے کہ ان میں جس صورت کو مناسب سمجھے اختیار کرلے۔ قرطبی نے رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو کبھی قتل کیا گیا ہے اور کبھی غلام بنایا گیا اور کبھی فدیہ لے کر چھوڑا گیا اور کبھی بغیر فدیہ کے آزاد کردیا گیا۔ فدیہ لینے میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کے بدلے میں مسلمان قیدی آزاد کرا لئے جائیں اور یہ بھی کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑا جائے، دونوں قسم کی صورتیں رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے عمل سے ثابت ہیں اس تفصیل کو نقل کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں جن آیتوں کو ناسخ منسوخ کہا گیا درحقیقت وہ سب محکم ہیں ان میں سے کوئی منسوخ نہیں، اس لئے کہ جب کفار قید ہو کر ہمارے قبضے میں آئیں تو امام المسلمین کو چار چیزوں کا اختیار ہے کہ مناسب سمجھے تو قتل کر دے اور مصلحت مسلمانوں کی سمجھے تو ان کو غلام اور لونڈی بنا لے، اور فدیہ لے کر چھوڑنے میں مصلحت ہو تو فدیہ مال کا یا مسلمان قیدیوں کا لے کر چھوڑ دے یا بغیر کسی معاوضہ کے آزاد کر دے۔ قرطبی نے یہ تفصیل نقل کر کے لکھا ہے وہذا القول یرویٰ من اہل المدینتہ و الشافعی و ابی عبیدہ وحکاہ الطحاوی مذھبا عن ابی حنیفتہ و المشھود ما قدمناہ، یعنی علمائے مدینہ کا یہی قول ہے اور یہی قول امام شافعی اور ابوعبید کا ہے اور امام طحاوی نے ابوحنیفہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے اگرچہ مشہور مذہب ان کا اس کے خلاف ہے (قرطبی ص 228 ج 16) جنگی قیدیوں کے متعلق امام المسلمین کو چار اختیار مذکور الصدر تقریر سے واضح ہوگیا کہ جنگی قیدیوں کے قتل اور استرقاق یعنی غلام بنا لینے کا جو امام المسلمین کو اختیار ہے اس پر تو تمام امت کا اجماع ہے اور فدیہ لے کر یا بلا معاوضہ آزاد کرنے میں اگرچہ کچھ اختلافات ہیں مگر جمہور کے نزدیک یہ دونوں صورتیں بھی جائز ہیں۔ اسلام میں غلامی کی بحث یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد چھوڑ دینے میں تو فقہاء کا کچھ اختلاف ہے بھی، قتل کرنے اور غلام بنانے کی اجازت میں کوئی اختلاف نہیں سب کا اجماع ہے کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، پھر قرآن کریم میں ان دو صورتوں کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا ؟ اور صرف آزاد چھوڑنے کی دو صورتوں ہی کا بیان کیوں کیا گیا ہے ؟ اس سوال کا جواب امام رازی نے تفسیر کبیر میں یہ دیا ہے کہ یہاں صرف ان دو صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر جگہ اور ہر وقت جائز ہوں، غلام بنانے کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ عرب کے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت نہیں ہے، اور قتل بھی اپاہجوں وغیرہ کا جائز نہیں اس کے علاوہ قتل کا ذکر اوپر آ بھی چکا ہے (تفسیر کبیر ص 508 ج 7) دوسری بات یہ ہے کہ جہاں تک قتل کرنے اور غلام بنانے کا تعلق ہے اس کا جواز بہت معروف و مشہور تھا، سب کو معلوم تھا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں اس کے برخلاف آزاد چھوڑ دینے کو غزوہ بدر کے موقع پر ممنوع کردیا گیا تھا، اب اس مقام پر آزاد چھوڑنے کی اجازت دینا ہی مقصود تھا اس لئے اسی کی دو صورتوں یعنی من اور فداء کا ذکر کردیا گیا، اور جو صورتیں پہلے سے جائز تھیں انہیں اس موقع پر بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس لئے ان آیات میں ان سے سکوت اختیار کیا گیا، لہٰذا ان آیات سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طرح درست نہیں ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد قتل یا غلام بنانے کی اجازت منسوخ کردی گئی ہے، ورنہ اگر غلام بنانے کا حکم منسوخ ہوگیا ہوتا تو قرآن و حدیث میں کسی ایک جگہ تو اس کی ممانعت مذکور ہوتی، اور اگر یہ آیت ہی ممانعت کے قائم مقام تھی تو آنحضرت ﷺ اور آپ کے بعد قرآن و حدیث پر جان دینے والے صحابہ کرام نے بیشمار غزوات میں جنگی قیدیوں کو غلام کیوں بنایا ؟ روایات حدیث و تاریخ میں غلام بنانے کا ذکر اس کثرت اور معنوی تواتر کے ساتھ آیا ہے کہ اس کا انکار مکابرہ کے سوا کچھ نہیں۔ رہا یہ اشکال کہ اسلام، جو حقوق انسانیت کا سب سے بڑا محافظ ہے، اس نے غلامی کی اجازت کیوں دی ؟ سو درحقیقت یہ اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی جائز کی ہوئی غلامی کو دیگر مذاہب و اقوام کی غلامی پر قیاس کرلیا گیا ہے حالانکہ اسلام نے غلاموں کو جو حقوق عطا کئے اور معاشرے میں ان کو جو مقام دیا اس کے بعد وہ صرف نام کی غلامی رہ گئی ورنہ حقیقت میں وہ بھائی چارہ بن گیا ہے، اور اگر اس کی حقیقت اور روح پر نظر کی جائے تو بہت سی صورتوں میں جنگی قیدیوں کے ساتھ اس سے بہتر سلوک ممکن نہیں، مشہور مستشرق موسیو گستاؤلیبان اپنی کتاب تمدن عرب میں لکھتا ہے ”غلام کا لفظ جب کسی ایسے یوروپین شخص کے سامنے بولا جاتا ہے جو تیس سال کے دوران لکھی ہوئی امریکی روایتوں کو پڑھنے کا عادی ہے تو اس کے دل میں ان مسکینوں کا تصور آجاتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، ان کے گلوں میں طوق پڑے ہیں اور انہیں کوڑے مار مار کر ہنکایا جا رہا ہے، ان کی غذا ان کی سدرمق کے لئے بھی کافی نہیں اور انہیں رہنے کے لئے تاریک کوٹھڑیوں کے سوا کچھ میسر نہیں، مجھے یہاں اس سے بحث نہیں کہ یہ تصویر کس حد تک درست ہے اور انگریزوں نے چند سالوں سے امریکہ میں جو کچھ کیا ہے یہ باتیں اس پر صادق آتی ہیں یا نہیں ؟.... لیکن یہ بالکل یقینی بات ہے کہ اہل اسلام کے یہاں غلام کا تصور نصاریٰ کے یہاں غلام کے تصور سے بالکلیہ مختلف ہے“۔ (منقول از دائرة المعارف القرآن العشرین الفرید وجدی، ص 279 ج 4 مادہ ”استرقاق“) حقیقت یہ ہے کہ بہت سی صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں قیدیوں کو غلام بنانے سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا، کیونکہ اگر غلام نہ بنایا جائے تو تین ہی صورتیں عقلاً ممکن ہیں، یا قتل کردیا جائے، یا آزاد چھوڑ دیا جائے یا دائمی قیدی بنا کر رکھا جائے، اور بسا اوقات یہ تینوں صورتیں مصلحت کے خلاف ہوتی ہیں، قتل کرنا اس لئے مناسب نہیں ہوتا کہ قیدی اچھی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ آزاد چھوڑ دینے میں بعض مرتبہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ دارالحرب میں پہنچ کر وہ مسلمانوں کے لئے دوبارہ عظیم خطرہ بن جائے، اب دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں، یا تو اسے دائمی قیدی بنا کر آج کل کی طرح کسی الگ تھلگ جزیرے میں ڈال دیا جائے یا پھر غلام بنا کر اس کی صلاحیتوں سے کام لیا جائے اور اس کے حقوق انسانی کی پوری نگہداشت کی جائے، ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ ان میں سے بہتر صورت کونسی ہے ؟ بالخصوص جبکہ غلاموں کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر وہ ہے جو ایک معروف حدیث میں سرکار دو عالم ﷺ نے بالفاظ ذیل بیان فرمایا ہے۔ اخوانکم جعلہم اللہ تحت ایدیکم فمن کان اخوہ تحتیدیہ فلیطعمہ مما یا کل ولیلبسہ مما یلبس و لا یکلفہ ما یغلبہ فان کلفہ، مایغلبہ فلیعنہ، (بخاری، مسلم، ابوداؤد وغیرہ) تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے زیردست کردیا ہے، پس جس کا بھائی اس کے زیردست ہو اسے چاہئے کہ اس کو بھی اسی میں سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسی میں سے پہنائے جسے وہ خود پہنتا ہے اور اس کو ایسے کام کی زحمت نہ دے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو، اور اگر اسے ایسے کام کی تکلیف دے تو خود بھی اس کی مدد کرے۔ معاشرتی اور تمدنی حقوق کے اعتبار سے اسلام نے غلاموں کو جو مرتبہ عطا کیا وہ آزاد افراد کے قریب قریب مساوی ہے، چناچہ دوسری اقوام کے برخلاف اسلام نے غلاموں کو نکاح کی نہ صرف اجازت دی بلکہ آقاؤں کو (آیت) انکحوا الایامی منکم۔ والی آیت کے ذریعہ اس کی تاکید کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ آزاد عورتوں سے بھی نکاح کرسکتا ہے، مال غنیمت میں اس کا حصہ آزاد مجاہدین کے برابر ہے اور دشمن کو امان دینے میں اس کا قول اسی طرح معتبر ہے جس طرح آزاد افراد کا، قرآن و حدیث میں ان کے ساتھ حسن سلوک کے اتنے احکام آئے ہیں کہ ان کو جمع کرنے سے ایک مستقل کتاب بن سکتی ہے، یہاں تک کہ حضرت علی کا رشاد ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے جو الفاظ آخری وقت تک زبان مبارک پر جاری تھے اور جس کے بعد آپ خالق حقیقی سے جا ملے، وہ یہ الفاظ تھےالصلوٰة الصلوٰةاتقوا اللہ فیما ملکت ایمانکم۔ ترجمہنماز کا خیال رکھو، نماز کا خیال رکھو، اپنے زیر دست غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو (ابو داؤد۔ باب فی حق المملوک) غلاموں کے تعلیم و تربیت کے جو مواقع اسلام نے فراہم کئے ہیں ان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں اسلامی سلطنت کے تقریباً تمام صوبوں میں علم و فضل کے مرجع اعلیٰ سب کے سب غلاموں میں سے تھے جس کا واقعہ متعدد کتب تاریخ میں مذکور ہے، پھر اس نام کی غلامی کو بھی رفتہ رفتہ ختم یا کم کرنے کے لئے غلاموں کو آزاد کرنے کے اتنے فضائل قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں کہ شاید ہی کوئی نیکی اس کی ہمسری کرسکے، مختلف فقہی احکام میں غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے بہانے ڈھونڈے گئے ہیں۔ کفارہ صوم، کفارہ قتل، کفارہ ظہار، کفارہ یمین ان تمام صورتوں میں سب سے پہلا حکم یہ مذکور ہے کہ کوئی غلام آزاد کیا جائے یہاں تک کہ حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی نے غلام کو ناحق تھپڑ مار دیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردیا جائے (صحیح مسلم۔ باب صحبة الممالیک) چناچہ صحابہ کرام جس کثرت کے ساتھ غلام آزاد کیا کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ صاحب النجم الوہاج نے بعض صحابہ کے آزاد کردہ غلاموں کی یہ تعداد نقل کی ہے۔ حضرت عائشہ 69 حضرت عباس 70 حضرت حکیم بن حزام 100 حضرت عبداللہ بن عمر 1000 حضرت عثمان غنی 20 حضرت ذوالکلاع حمیری 8000 (صرف ایک دن میں) حضرت عبدالرحمن بن عوف 30000 (فتح العلام شرح بلوغ المرام از نواب صدیق حسن خان صاحب ص 232 کتاب العتق) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف سات صحابہ نے انتالیس ہزار دو سو انسٹھ غلام آزاد کئے، اور ظاہر ہے کہ دوسرے ہزاروں صحابہ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد اس سے کہیں زائد ہوگی۔ غرض اسلام نے غلامی کے نظام میں جو ہمہ گیر اصلاحات کیں جو شخص بھی انہیں بنظر انصاف دیکھے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسے دوسری اقوام کے احکام غلامی پر قیاس کرنا بالکل غلط ہے اور ان اصلاحات کے بعد جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت ان پر ایک عظیم احسان بن گئی ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا حکم صرف اباحت اور جواز کی حد تک ہے یعنی اگر اسلامی حکومت مصالح کے مطابق سمجھے تو انہیں غلام بنا سکتی ہے ایسا کرنا مستحب یا واجب فعل نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث کے مجموعی ارشادات سے آزاد کرنے کا افضل ہونا سمجھ میں آتا ہے اور یہ اجازت بھی اس وقت تک کے لئے ہے جب تک اس کے خلاف دشمن سے کوئی معاہدہ نہ ہو اور اگر دشمن سے یہ معاہدہ ہوجائے کہ نہ وہ ہمارے قیدیوں کو غلام بنائیں گے نہ ہم ان کے قیدیوں کو، تو پھر اس معاہدہ کی پابندی لازم ہوگی، ہمارے زمانے میں دنیا کے بہت سے ملکوں نے ایسا معاہدہ کیا ہوا ہے، لہٰذا جو اسلامی ممالک اس معاہدے میں شریک ہیں ان کے لئے غلام بنانا اس وقت تک جائز نہیں جب تک یہ معاہدہ قائم ہے۔ خلاصہ تفسیر یہ حکم (جہاد کا جو مذکور ہوا) بجا لانا اور (جو بعض صورتوں میں کفار سے انتقام لینے کیلئے طریقہ جہاد کا مقرر کیا، یہ خاص حکمت کی وجہ سے ہے ورنہ) اگر اللہ چاہتا تو ان سے (خود ہی آسمانی اور زمینی عذابوں کے ذریعہ) انتقام لے لیتا (جیسے پچھلی امتوں سے اسی طرح انتقام لیا، کسی پر پتھر برسے کسی پر ہوا کا طوفان آیا، کسی کو غرق کیا گیا، اگر ایسا ہوتا تو تم کو جہاد نہ کرنا پڑتا) لیکن (تم کو جہاد کرنے کا حکم اس لئے دیا) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعہ امتحان کرے (مسلمانوں کا امتحان یہ کہ کون حکم الٰہی پر اپنی جان کو ترجیح دیتا ہے، اور کفار کا امتحان یہ کہ قتال و جہاد کی تکلیف سے متنبہ ہو کر کون حق کو قبول کرتا ہے) اور (جہاد میں جیسے کفار کا قاتل ہونا کامیابی ہے اسی طرح مقتول ہونا بھی ناکامی نہیں کیونکہ) جو لوگ اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں مارے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو (جن میں یہ عمل جہاد بھی داخل ہے) ہرگز ضائع نہ کرے گا (جیسا کہ ظاہر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ جب وہ کافروں پر غالب نہ آسکا یہ خود مقتول ہوگیا تو گویا اس کا عمل بیکار گیا مگر واقعہ یوں نہیں کیونکہ اس کے اس عمل پر دوسرا نتیجہ جو ظاہری کامیابی سے بدرجہا بڑھا ہوا ہے اس کو حاصل ہوگیا وہ یہ کہ) اللہ تعالیٰ ان کو (منزل) مقصود تک (جس کا بیان آگے آتا ہے) پہنچا دے گا اور ان کی حالت (قبر اور حشر اور پل صراط اور تمام مواقع آخرت میں) درست رکھے گا (کہیں کوئی خرابی اور مضرت ان کو نہ پہنچے گی) اور (اس منزل مقصود تک پہنچنے کا بیان یہ ہے کہ) ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا (کہ ہر جنتی اپنے اپنے مقررہ مکان پر بغیر کسی تلاش تفتیش کے بےتکلف جا پہنچے گا، اس سے ثابت ہوا کہ جہاد میں ظاہری ناکامی یعنی خود مقتول ہوجانا بھی بڑی کامیابی ہے، آگے جہاد کے دنیوی فوائد و فضائل کا ذکر کر کے اس کی ترغیب ہے کہ) اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا (جس کا نتیجہ دنیا میں بھی دشمنوں پر غالب آنا ہے خواہ ابتداً ہی یا کچھ عرصہ کے بعد انجام کار میں اور بعض مومنین کا مقتول ہوجانا یا کسی معرکہ میں وقتی طور پر مغلوب ہوجانا اس کے منافی نہیں) اور (اسی طرح دشمنوں کے مقابلہ میں) تمہارے قدم جما دے گا (اسی طرح کا مطلب یہ ہے خواہ ابتداء ہی سے یا وقتی پسپائی کے بعد انتہا میں ثابت قدم رکھ کر کفار پر غالب کرے گا جیسا کہ بار بار اس کا مشاہدہ دنیا میں ہوچکا ہے یہ تو مسلمانوں کا حال بیان کیا گیا) اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے (دنیا میں جبکہ مومنین سے مقابلہ کریں) تباہی (اور مغلوبیت) ہے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کو خدا تعالیٰ کالعدم کر دے گا (جیسا کہ شروع سورت میں بیان ہوا۔ غرض کفار دونوں جہان میں خسارے میں رہے اور) یہ (کفار کا خسارہ اور اعمال کی بربادی) اس سبب سے ہوئی کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا (عقیدة بھی اور عملاً بھی) سو اللہ نے ان کے اعمال کو (اول ہی سے) اکارت کردیا (کیونکہ کفر کا جو اعلیٰ درجہ کی بغاوت ہے یہی اثر ہے اور یہ لوگ جو عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں اور انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ان پر کیسی تباہی ڈالی (جو ان کے اجڑے ہوئے محلات و مکانات سے ظاہر ہے تو ان کو بھی اس سے بےفکر نہ ہونا چاہئے کہ اپنے کفر سے باز نہ آئے تو) ان کافروں کے لئے بھی اسی قسم کے معاملات ہونے کو ہیں (آگے فریقین کے حال کا اجمالی ذکر ہے کہ) یہ (مسلمانوں کی کامیابی اور کافروں کی تباہی) اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی (ایسا) کارساز نہیں (کہ خدا کے مقابلہ میں ان کے کام بنا سکے اس لئے وہ دونوں جہان میں ناکام رہتے ہیں اور مسلمانوں کو اگر کبھی دنیا میں وقتی ناکامی بھی ہوجائے تو انجام کار کامیابی ہوگی، اور آخرت کی فلاح تو ظاہر ہی ہے اس لئے مسلمان ہمیشہ کامیاب اور کافر ناکام رہتا ہے) معارف و مسائل مشرعیت جہاد کی ایک حکمت (آیت) وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ ، اس آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت میں کفار سے جہاد و قتال کی مشروعیت در حقیقت ایک رحمت ہے، کیونکہ وہ آسمانی عذابوں کے قائم مقام ہے کیونکہ کفر و شرک اور اللہ سے بغاوت کی سزا پچھلی قوموں کو آسمانی اور زمینی عذابوں کے ذریعہ دی گئی ہے امت محمدیہ میں ایسا ہوسکتا تھا مگر رحمتہ للعالمین کی برکت سے اس امت کو ایسے عام عذابوں سے بچا لیا گیا، اس کے قائم مقام جہاد شرعی کو کردیا گیا جس میں یہ نسبت عذاب عام کے بڑی سہولتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اول تو یہ کہ عذاب عام میں پوری قومیں مرد، عورت، بچے سبھی تباہ ہوتے ہیں اور جہاد میں عورتیں بچے تو مامون ہیں ہی، مرد بھی صرف وہی اس کی زد میں آتے ہیں جو اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والوں کے مقابلہ پر قتال کے لئے آ کھڑے ہوں، پھر اس میں بھی سب مقتول نہیں ہوتے، ان میں بہت سے لوگوں کو اسلام و ایمان کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے نیز جہاد کی مشروعیت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ جہاد و قتال کے دونوں فریق، مسلمان اور کافر کا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کے حکم پر اپنی جان و مال نثار کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اور کون سرکشی اور کفر پر جما رہتا ہے یا اسلام کے روشن دلائل کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ (آیت) والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم، شروع سورت میں ذکر تھا کہ جو لوگ کفر و شرک پر جمع ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نیک اعمال کو بھی اکارت اور ضائع کردیا یعنی صدقہ خیرات اور رفاہ عام کے نیک کام جو وہ کرتے ہیں کفر و شرک کی وجہ سے اللہ کے نزدیک آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں، اس کے بالمقابل اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں ان کے اعمال ضائع نہیں ہوتے یعنی اگر انہوں نے کچھ گناہ بھی کئے ہوں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے نیک اعمال پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ بسا اوقات ان کے نیک اعمال ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
Ayah 47:5

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

ان کو راہ دے گا اور سنوارے گا ان کا حال

(آیت) سَيَهْدِيْهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ، اس میں شہید فی سبیل اللہ کے لئے دو نعمتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ اللہ ان کو ہدایت کر دے گا۔ دوسرے ان کے سب حالات درست کر دے گا۔ حالات سے مراد دنیا و آخرت دونوں جہان کے حالات ہیں۔ دنیا میں تو یہ کہ جو شخص جہاد میں شریک ہوا اگرچہ وہ شہید نہ ہوا سلامت رہا وہ بھی شہید کے ثواب کا مستحق ہوگیا، اور آخرت میں یہ کہ وہ قبر کے عذاب سے محشر کی پریشانی سے نجات پائے گا اور اگر کچھ لوگوں کے حقوق اس کے ذمہ رہ گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ اصحاب حقوق کو اس سے راضی کر کے اس کی خلاصی کرا دیں گے (کما ورد حدیث ابی نعیم و البزار والبیہقی، مظہری) اور موت کے بعد ہدایت کردینے سے مراد ان کی منزل مقصود یعنی جنت پر پہنچا دینا ہے جیسا کہ قرآن میں اہل جنت کے متعلق آیا ہے کہ جنت میں پہنچ کر کہیں گے (آیت) الحمدللہ الذی ہدنالھذا۔
Ayahs 47:6–9

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور داخل کرے گا ان کو بہشت میں جو معلوم کرا دی ہے ان کو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم مدد کرو گے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور جمادے گا تمہارے پاؤں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ منکر ہوئے وہ گرے منہ کے بل اور کھو دئیے ان کے کئے کام

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کو پسند نہ ہوا جو اتارا اللہ نے پھر اکارت کر دئیے ان کے کئے کام

(آیت) وَيُدْخِلُهُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ، یہ ایک تیسرا انعام ہے کہ ان کو صرف یہی نہیں کہ جنت میں پہنچا دیا جائے گا بلکہ ان کے دلوں میں خود بخود جنت کے اپنے اپنے مقام اور اس میں ملنے والی نعمتوں حور و قصور سے ایسی واقفیت پیدا کردی جائے گی جیسے وہ ہمیشہ سے انہی میں رہتے اور ان سے مانوس تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو جنت ایک نیا عالم تھا اس میں اپنا مقام تلاش کرنے میں وہاں کی چیزوں سے مناسبت اور تعلق قائم ہونے میں وقت لگتا، اور ایک مدت تک اجنبیت کے احساس سے قلب مطمئن نہ ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے کہ تم دنیا میں جس طرح اپنی بیبیوں اور گھروں سے واقف اور مانوس ہو اس سے بھی زیادہ اپنے جنت کے مقام اور وہاں کی بیبیوں سے واقف اور مانوس ہوجاؤ گے (رواہ ابن جریر و طبرانی و ابویعلی و البیہقی۔ مظہری) اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک فرشتہ ہر ایک جنتی کے لئے مقرر کردیا جائے گا جو ان کا اپنے مقام جنت اور وہاں کی بیبیوں سے تعارف کرائے گا واللہ اعلم۔
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھیں کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے ہلاکی ڈالی اللہ نے ان پر اور منکروں کو ملتی رہتی ہیں ایسی چیزیں

(آیت) وَلِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا، یہاں الکافرین کا الف لام عہد کے لئے ہے اور مراد کفار مکہ ہیں مراد ان کو ڈرانا ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر عذاب آئے ہیں تم پر بھی آسکتے ہیں بےفکر نہ رہنا چاہئے۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ رفیق ہے ان کا جو یقین لائے اور یہ کہ جو منکر ہیں ان کا رفیق نہیں کوئی۔

(آیت) وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ ، لفظ مولیٰ بہت سے معانی کے لئے مستعمل ہوتا ہے ایک معنی کار ساز کے ہیں جو اس جگہ مراد ہیں اور ایک معنی مالک کے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ کفار کے بارے میں آیا ہے (آیت) ردوا الی اللہ مولھم الحق، اس میں اللہ تعالیٰ کو کفار کے لئے بھی مولیٰ قرار دیا ہے کیونکہ مولیٰ کے معنی مالک کے ہیں اور مالکیت اللہ تعالیٰ کی عام ہے مومن کافر کوئی اس سے خارج نہیں۔
Ayahs 47:12–15

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

مقرر اللہ داخل کرے گا ان کو جو یقین لائے اور کئے بھلے کام باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو لوگ منکر ہیں برت رہے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے کہ کھائیں چوپائے اور آگ ہے گھر ان کا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تھیں زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو نکالا ہم نے ان کو غارت کردیا پھر کوئی نہیں ان کا مددگار

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلتا ہے واضح رستہ پر اپنے رب کے برابر ہے اس کے جس کو بھلا دکھایا اس کا برا کام اور چلتے ہیں اپنی خواہش پر

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

احوال اس بہشت کا جس کا وعدہ ہوا ہے ڈرنے والوں اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بو نہیں کر گیا اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا مزہ نہیں پھرا اور نہریں ہیں شراب کی جس میں مزہ ہے پینے والوں کے واسطے اور نہریں ہیں شہد کی جھاگ اتارا ہوا اور ان کے لئے وہاں سب طرح کے میوے ہیں اور معافی ہے ان کے رب سے یہ برابر ہے اسکے جو سدا رہے آگ میں اور پلایا جائے ان کو کھولتا پانی تو کاٹ نکالے ان کی آنتیں۔

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو تنگ کر کے مکہ میں بھی نہیں رہنے دیا کیونکہ) بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت (جسم اور قوت مال وجاہ) میں آپ کی اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو گھر سے بےگھر کردیا کہ ہم نے ان کو (عذاب سے) ہلاک کردیا سو ان کا کوئی مددگار نہ ہوا (تو یہ بیچارے کیا چیز ہیں ان کو مغرور نہ ہونا چاہئے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں ان کی صفائی کرسکتے ہیں اور آپ ان کے چند روزہ عیش سے معمول نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرر وقت پر ان کو بھی سزا دینے والے ہیں) تو جو لوگ اپنے پروردگار کے واضح (ثابت بالدلیل) راستہ پر ہوں کیا وہ ان شخصوں کی طرح ہو سکتے ہیں جن کی بدعملی ان کو بھلی معلوم ہوتی ہو اور جو اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہوں (یعنی جب ان دونوں فریق کے اعمال میں تفاوت ہے تو ان کے مال اور انجام میں بھی تفاوت ضروری ہے، اہل حق ثواب کے اور اہل باطل عقاب و عذاب کے مستحق ہیں جس کا بیان یہ ہے) جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہیں ہوگا (نہ بو میں نہ رنگ میں نہ مزے میں) اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلا ہوا نہ ہوگا، اور بہت سی نہریں ہیں شراب کی جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں ہیں شہد کی جو بالکل (میل کچیل سے پاک) صاف ہوگا اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور (اس میں داخل ہونے سے پہلے) ان کے رب کی طرف سے (گنا ہونے کی) بخشش ہوگی کیا ایسے لوگ ان جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اور کھولتا ہوا پانی ان کو پینے کو دیا جاوے گا تو وہ ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ معارف و مسائل چونکہ دنیا کا پانی کبھی رنگ میں، کبھی بو میں کبھی ذائقہ میں متغیر ہوجاتا ہے اسی طرح دنیا کا دودھ بگڑ جاتا ہے اسی طرح دنیا کی شراب بد مزہ و تلخ ہوتی ہے صرف بعض منافع کی خاطر پی جاتی ہے جیسے تمباکو کڑوا ہونے کے باوجود کھایا جاتا ہے پھر عادت پڑجاتی ہے۔ جنت کے پانی اور دودھ اور شراب کے بارے میں بتلا دیا گیا کہ وہ سب ان تغیرات اور بدمزدگی کی آفات سے خالی ہیں اور جنت کا دوسری مضرتوں اور مفاسد سے خالی ہونا سورة صافات کی آیت میں آیا ہے (آیت) لا ینھا غول ولاھم عنھا ینزفون، اسی طرح دنیا کے شہد میں موم اور میل کچیل ملا ہوتا ہے جنت کی نہر میں شہد کا پاک صاف ہونا بتلایا گیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ انہار جنت کی چاروں قسمیں، پانی، دودھ، شراب، شہد اپنے حقیقی معنی میں ہیں بلاوجہ مجازی معنے لینے کی ضرورت نہیں، البتہ یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ جنت کی چیزوں کو دنیا کی چیزوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا وہاں کی ہر چیز کی لذت و کیفیت کچھ اور ہی ہوگی جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔
Ayahs 47:16–18

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور بعض ان میں ہیں کہ کان رکھتے ہیں تیری طرف یہاں تک کہ جب نکلیں تیرے پاس سے کہتے ہیں ان کو جن کو علم ملا ہے کیا کہا تھا اس شخص نے ابھی، یہ وہی ہیں جن کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اللہ نے اور چلے ہیں اپنی خواہشوں پر

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پر آئے ہیں ان کو اور بڑھ گئی اس سے سوجھ اور ان کو اس سے ملا بچ کر چلنا

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب یہی انتظار کرتے ہیں قیامت کا کہ آ کھڑی ہو ان پر اچانک سو آ چکی ہیں اس کی نشانیاں پھر کہاں نصیب ہوگا ان کو جب وہ آپہنچے ان پر سمجھ پکڑنا۔

خلاصہ تفسیر اور (اے نبی ﷺ بعض آدمی ایسے ہیں (مراد منافقین ہیں) کہ وہ (آپ کی تبلیغ وتعلیم کے وقت ظاہر میں تو) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں (لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے) یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے (اٹھ کر مجلس سے) باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم (صحابہ) سے کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی (جب ہم مجلس میں تھے) کیا بات فرمائی تھی (ان کا یہ کہنا بھی ایک قسم کا استہزاء ہی تھا کہ اس سے یہ جتلانا تھا کہ ہم آپ کی گفتگو کو قابل التفات نہیں سمجھتے، یہ بھی ایک شعبہ نفاق ہی کا تھا) یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے (ہدایت سے دور ہوگئے) اور اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور (انہی کی قوم میں سے) جو لوگ راہ پر ہیں (یعنی مسلمان ہوچکے ہیں) اللہ تعالیٰ ان کو (احکام سننے کے وقت) اور زیادہ ہدایت دیتا ہے (کہ وہ ان احکام جدیدہ پر بھی ایمان لاتے ہیں یعنی ان کی ایمانیات کی تعداد بڑھ گئی یا یہ کہ ان کے ایمان کو اور زیادہ قوی اور پختہ کردیتے ہیں جو عمل صالح کا خاصہ ہے کہ اس سے ایمان میں مزید پختگی پیدا ہوتی ہے) اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دے دیتا ہے (آگے ان منافقین کے لئے و عید ہے کہ یہ جو قرآن اور احکام الٰہیہ سن کر بھی متاثر نہیں ہوتے) سو (معلوم ہوتا ہے کہ) یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعتا آ پڑے (یہ بطور زجر و توبیخ کے فرمایا کہ اب بھی متاثر نہیں ہوتے تو کیا قیامت میں تذکر اور ہدایت حاصل کریں گے) سو (یاد رکھو کہ قیامت بھی نزدیک ہے چنانچہ) اس کی (متعدد) علامتیں تو آ چکی ہیں (چنانچہ از روئے حدیث خود خاتم النبیین کی بعثت و نبوت بھی علامات قیامت میں سے ہے اور شق قمر نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہونے کے علاوہ قیامت کی علامات قیامت میں سے ہے۔ یہ سب علامات زمانہ نزول قرآن میں موجود ہوچکی تھیں، آگے اس کا بیان ہے کہ ایمان لانے اور ہدایت پانے میں قیامت کا انتظار کرنا محض جہالت ہے کیونکہ وہ وقت سمجھنے اور عمل کرنے کا نہیں ہوگا۔ فرمایا) تو جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا (یعنی مفید نہیں ہوگا) معارف و مسائل اشراط، کے معنے علامات کے ہیں اور علامات قیامت کی ابتداء خود خاتم النبیین ﷺ کی بعثت سے ہوجاتی ہے کیونکہ ختم نبوت بھی قرب قیامت کی علامت ہے۔ اسی طرح شق قمر کے معجزہ کو بھی قرآن میں اقتربت الساعة کے ساتھ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ یہ بھی علامات قیامت میں سے ہے۔ یہ تو علامات ابتدائیہ ہیں جو خود نزول قرآن کے وقت میں ظاہر ہوچکی تھیں دوسری علامات قریبہ احادیث صحیحہ میں ثابت ہیں ان میں سے ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ علامات قیامت یہ ہیں۔ علم اٹھ جائے گا، جہل بڑھ جائے گا، زنا کی کثرت ہوگی، شراب خوری کی کثرت ہوگی، مرد کم رہ جائیں گے، عورتیں بڑھ جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا متکفل ایک مرد ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ علم گھٹ جائے گا اور جہل پھیل جائے گا (بخاری و مسلم) اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب مال غنیمت کو شخصی دولت سمجھ لیا جائے اور امانت کو مال غنیمت قرار دے لیا جائے (کہ حلال سمجھ کر کھا جائیں) اور زکوٰة کو تاوان سمجھا جائے (یعنی اس کی ادائیگی میں دل میں تنگی محسوس ہو) اور علم دین اغراض دنیوی کے لئے حاصل کیا جانے لگے، اور مرد اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے، اور دوست کو اپنے قریب کرے اور باپ کو دور کر دے، اور مساجد میں شور و شغب ہونے لگے اور قوم کا سردار ان سب میں کا فاسق بدکردار آدمی ہوجائے، اور قوم کا نمائندہ ان سب میں کا رذیل ہوجائے، اور شریر آدمی کا اکرام صرف اس لئے کرنا پڑے کہ اس کا اکرام نہ کریں گے تو یہ ستائے گا اور گانے والی عورتوں کا گانا عام ہوجائے، اور مزامیر باجے گاجے پھیل جائیں اور شرابیں پی جانے لگیں، اور امت کے آخری لوگ اپنے اسلاف پر لعنت کرنے لگیں تو اس وقت تم لوگ انتظار کرو ایک سرخ آندھی کا اور زلزلہ کا اور لوگوں کے زمین میں دھنس جانے کا اور صورتیں مسخ ہوجانے کا اور آسمان سے پتھر برسنے کا اور دوسری علامات قیامت کا جو یکے بعد دیگرے اس طرح آئیں گی جیسے موتیوں کی لڑی کو کاٹ دیا جائے اور موتی ایک ایک کر کے نیچے آ گرتے ہیں۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

سو تو جان لے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے اور اللہ کو معلوم ہے بازگشت تمہاری اور گھر تمہارا۔

خلاصہ تفسیر (جب آپ خدا تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار بندوں اور سرکشوں دونوں کا حال و مآل سن چکے) تو آپ اس کا (اکمل طریقہ پر) یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ کے اور کوئی قابل عبادت نہیں (اس میں دین کے تمام اصول و فروع آگئے، کیونکہ علم سے مراد علم کامل اکمل ہے اور علم کامل کے لئے لازم ہے کہ تمام احکام الٰہیہ پر پورا عمل ہو۔ حاصل یہ ہے کہ تمام احکام الٰہیہ پر مداومت رکھو) اور (اگر کبھی کوئی خطا سرزد ہوجائے جو آپ کی عصمت نبوت کی بناء پر درحقیقت گناہ نہیں بلکہ صرف ترک افضل ہی ہوگا مگر آپ کی شان ارفع کے اعتبار سے صورة خطا ہے اس لئے) آپ اپنی (اس ظاہری) خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کے لئے بھی (بخشش کی دعا مانگے رہئے) اور (یہ بھی یاد رہے کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی (یعنی سب اعمال و احوال کی) خبر رکھتا ہے۔ معارف و مسائل اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ سمجھ لیجئے کہ اللہ کے سوا اور کوئی قابل عبادت نہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ علم تو ہر مومن مسلمان کو بھی حاصل ہے سید الانبیاء کو کیوں حاصل نہ ہوتا پھر اس علم کے حاصل کرنے کا حکم دینا یا تو اس پر ثابت قدم رہنے کے معنی میں ہے اور یا اس کے مقتضیات پر عمل کرنا مراد ہے جیسا کہ قرطبی نے نقل کیا ہے کہ سفیان بن عیینہ سے کسی نے علم کی فضیلت کا سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے قرآن کا ارشاد نہیں سنا ، (آیت) فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ ، کہ اس میں علم کے بعد علم کا حکم دیا ہے اسی طرح دوسری جگہ فرمایا، (آیت) اعلموا انما الحیوة الدنیا لعب ولھو، اور پھر فرمایا، (آیت) سابقوا الی مغفرة من ربکم، اسی طرح انفال میں فرمایا، (آیت) واعلموا انما اموالکم و اولادکم فتنة اور تغابن میں فرمایا، فاحذروہم، ان سب مقامات میں اول علم پھر اس کے مقتضا پر عمل کی تلقین فرمائی گئی ہے یہاں آیت مذکورہ میں بھی اگرچہ یہ علم رسول اللہ ﷺ کو پہلے سے حاصل تھا مگر مقصود اس سے اس کے مقتضیٰ پر عمل ہے اسی لئے اس کے بعد، واستغفر، کا حکم دیا گیا، اور رسول اللہ ﷺ سے بوجہ عصمت نبوت کے اس کے خلاف کرنے کا اگرچہ احتمال نہیں تھا مگر انبیاء (علیہم السلام) سے معصوم ہونے کے باوجود بعض اوقات اجتہاد میں خطا ہوجاتی ہے اور اجتہادی خطا قانون شرع میں گناہ نہیں بلکہ اس پر بھی اجر ملتا ہے مگر انبیاء (علیہم السلام) کو اس خطا پر متنبہ ضرور کردیا جاتا ہے اور ان کی شان عالی کے اعتبار سے اس کو لفظ ذنب سے بھی تعبیر کردیا جاتا ہے جیسا کہ سورة عبس میں جو رسول اللہ ﷺ پر ایک قسم کا عتاب نازل ہوا وہ بھی اسی خطاء اجتہادی کی ایک مثال تھی جس کی تفصیل سورة عبس میں آئے گی کہ وہ اجتہادی خطا اگرچہ کوئی گناہ نہ تھا بلکہ ایک اجر اس پر بھی ملنے کا وعدہ تھا مگر آپ کی شان عالی کے لئے اس کو پسند نہیں کیا گیا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ آیت مذکورہ میں اسی طرح کا ذنب مراد ہوسکتا ہے۔ فائدہ حضرت صدیق اکبر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ اور استغفار کی کثرت کیا کرو کیونکہ ابلیس کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کر کے ہلاک کیا تو انہوں نے مجھے کلمہ لا الہ الا اللہ کہہ کر ہلاک کردیا، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے ان کو ایسے خیالات باطلہ کے پیچھے لگا دیا جن کو وہ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں جیسے عام بدعات کا یہی حال ہے۔ اس سے ان کو توبہ کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔ (آیت) مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ ، متقلب کے لفظی معنی لوٹ پوٹ ہونے یا الٹ پلٹ ہونے کے اور مثویٰ کے معنی جائے قرار کے ہیں، اس کے مراد میں مختلف احتمالات ہو سکتے ہیں اسی لئے حضرات مفسیرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ سب ہی مراد ہیں کیونکہ ہر انسان پر دو قسم کے حالات آتے ہیں، ایک وہ جن میں عارضی اور وقتی طور پر اشتغال ہوتا ہے دوسرے وہ جن کو وہ مستقل اپنا مشغلہ سمجھتا ہے، اسی طرح بعض مکانات میں انسان کا قیام عارضی ہوتا ہے بعض میں مستقل، تو آیت میں عارضی کو متقلب کے لفظ سے اور مستقل کو مثویٰ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس طرح تمام احوال کا اللہ تعالیٰ کے علم میں ہونا اس آیت کا مفہوم ہے۔
Ayahs 47:20–21

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ایمان والے کیوں نہ اتری ایک سورت پھر جب اتری ایک سورت جانچی ہوئی اور ذکر ہوا اسمیں لڑائی کا تو دیکھتا ہے ان کو جن کے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بیہوش پڑا ہوا مرنے کے وقت سو خرابی ہے ان کی

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا اور بھلی بات کہنا پھر جب تاکید ہو کام کی تو اگر سچے رہیں اللہ سے تو ان کا بھلا ہے

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (تو ہمیشہ اس بات کے مشتاق رہتے ہیں کہ کلام الٰہی اور نازل ہو تاکہ ایمان تازہ ہو اور احکام جدید آویں تو ان کا ثواب بھی حاصل کریں اور اگر احکام سابقہ کی تاکید ہو تو اور زیادہ ثبات حاصل ہو اور اس اشتیاق میں) کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہ نازل ہوئی (اگر نازل ہو تو تمنا پوری ہو) سو جس وقت کوئی صاف صاف (مضمون کی) سورت نازل ہوتی ہے اور (اتفاق سے) اس میں جہاد کا بھی (صاف صاف) ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح (بھیانک نگاہوں سے) دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو (اس طرح دیکھنے کا سبب خوف اور بزدلی ہے کہ اب اپنے دعوائی ایمان کو نبھانے کے لئے جہاد میں جانا پڑا اور مصیبت آئی اور وہ جو اس طرح خدا کے حکم سے جی چراتے ہیں) سو (اصل یہ ہے کہ) عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے (خواہ دنیا میں بھی کسی وبال میں گرفتار ہوں ورنہ بعد موت کے تو ضروری ہی ہے اور گو فرصت میں یہ بہت باتیں اطاعت اور خوشامد کی بنا پر کرتے ہیں لیکن) ان کی اطاعت اور بات چیت (کی حقیقت) معلوم ہے (جس کا اب نزول حکم قتال کے وقت ان کی حالت سے سب ہی پر ظہور ہوگیا) پھر (بعد نزول حکم جہاد کے) جب سارا کام (اور سامان لڑائی کا) تیار ہو ہی جاتا ہے تو (اس وقت بھی) اگر یہ لوگ (دعویٰ ایمان باللہ میں) اللہ سے سچے رہتے (یعنی دعویٰ ایمان کے مقتضا پر عمل کرتے جس میں تمام احکام شرعیہ عموماً اور حکم جہاد خصوصاً شامل ہے اور صدق دل سے جہاد کرتے) تو ان کے لئے بہت ہی بہتر ہوتا (یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تاثب ہوجاتے تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا اور انتہاء کو اس میں منحصر نہ سمجھا جاوے کیونکہ وقت موت تک صدق دل سے توبہ مقبول ہے، آگے جہاد کی تاکید اور اس سے پیچھے رہنے والوں کو خطاب کر کے ترک جہاد پر بیان فرماتے ہیں کہ تم لوگ جو جہاد سے کراہت کرتے ہو سو (اس میں ایک دنیوی مضرت بھی ہے چنانچہ) اگر تم (اور اسی طرح سب جہاد سے) کنارہ کش رہو تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے (یعنی ہونا چاہئے) کہ تم (یعنی تمام آدمی) دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع قرابت کردو (یعنی جہاد سے بڑا فائدہ اقامت عدل و اصلاح و امن کا ہے اگر اس کو چھوڑ دیا جاوے تو مفسدین کا غلبہ ہوجاوے اور کوئی انتظام جس میں تمام لوگوں کے مصالح کی حفاظت ہو نہ رہے اور ایسے انتظام نہ ہونے کے لئے فساد عام اور اضاعة حقوق لازم ہے پس جس جہاد میں دنیوی منفعت بھی ہو اس سے پیچھے ہٹنا اور بھی عجیب ہے، آگے ان منافقین مذکورین کی تقبیح ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے اپنی رحمت سے دور کردیا (اس لئے اس کے احکام پر عمل کی توفیق نہ رہی) پھر (رحمت سے بعید کرنے پر یہ امر مرتب ہوا کہ) ان کو (بگوش قبول احکام الٰہیہ سننے سے) بہرا کردیا اور (راہ حق کے دیکھنے سے) ان کی (باطنی) آنکھوں کو اندھا کردیا (آگے ان پر توبیخ ہے کہ باوجودیکہ قرآن میں جہاد اور دیگر احکام کا وجوب مع دلائل حقانیت قرآن کے اور ان احکام کے مصالح و منافع اخرویہ لازماً اور دنیویہ بھی احیاناً اور ان احکام کی مخالفت پر وعیدیں مذکور ہیں پھر جو یہ لوگ اس طرف التفات نہیں کرتے) تو کیا یہ لوگ قرآن (کے اعجاز اور مضامین) میں غور نہیں کرتے (اس لئے ان کو انکشاف نہیں ہوتا) یا (غور کرتے ہیں مگر) دلوں پر (غیبی) قفل لگ رہے ہیں ، (یہ منع الخلو ہے، یعنی ان دونوں میں سے ایک بات کا ہونا ضروری ہے اور دونوں جمع ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے، اور واقع میں یہاں دونوں باتیں مجتمع ہیں، اول ان کی طرف سے ایک فعل ہوا یعنی انکار کی وجہ سے قرآن میں غور نہ کرنا پھر اس کے وبال میں قفل لگ گیا جس کو طبع اور ختم (یعنی مہر لگا دینا) بھی کہا گیا ہے اور دلیل اس ترتیب کی یہ آیت ہے، (آیت) ذلک بانہم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبہم، اور اس مجموعہ پر فہم لا یفقھون مرتب ہے، آگے اس عدم تدبر کی وجہ فرماتے ہیں کہ) جو لوگ (حق سے) پشت پھیر کر ہٹ گئے بعد اس کے سیدھا راستہ ان کو (دلائل عقلیہ مثل اعجاز قرآن اور دلائل نقلیہ مثل پیشین گوئی کتب سابقہ سے) صاف معلوم ہوگیا شیطان نے ان کو چقمہ دیا ہے اور ان کو دور دور کی سوجھائی ہے (کہ ایمان لانے سے فلاں فلاں مصلحتیں موجودہ یا جو آئندہ متوقع ہیں فوت ہوجاویں گی، حاصل یہ ہوا کہ اس عدم تدبر کی وجہ عناد ہے کہ ہدایت کے واضح ثبوت کے بعد پھر یہ الٹے پاؤں لوٹے جا رہنے اور اس عناد کے بعد تسویل شیطانی ہوئی، یعنی شیطان نے ان کی نظروں میں اس غلط اور مہلک عمل کو مزین کر کے دکھلایا اور اس تسویل سے عدم تدبر ہوا اور عدم تدبر سے ختم اور طبع یعنی دلوں پر مہر ہوئی پھر) یہ (ہدایت سامنے آجانے کے باوجود اس سے لوٹنا اور دور ہونا) اس سبب سے ہوا کہ ان لوگوں نے ایسے لوگوں سے جو کہ خدا کے اتارے ہوئے احکام کو (حسداً) ناپسند کرتے ہیں (مراد اس سے رؤسائے یہود ہیں، جو رسول اللہ ﷺ سے حسد کرتے تھے اور باوجود معرفت حق کے اتباع سے عار کرتے تھے، حاصل یہ کہ ان منافقین نے رؤسائے یہود سے) یہ کہا بعضی باتوں میں ہم تمہارا کہنا مان لیں گے (یعنی تم جو ہم کو اتباع محمد ﷺ سے منع کرتے ہو اس کے دو جز ہیں ایک عدم اتباع ظاہراً دوسرا عدم اتباع باطناً سو جزو اول میں تو ہم بمصلحت تمہارا کہنا نہیں مان سکتے لیکن جزو ثانی میں مان لیں گے کیونکہ عقائد میں ہم تمہارے ساتھ ہیں، کما قال انا معکم، مطلب یہ ہوا کہ حق سے پھرنے کا سبب قومی تعصب اور کو رانہ تقلید ہے، غرض ابتداء سلسلہ کی اس سے ہے اور انتہا ختم و طبع پر) اور (گو اس قسم کی باتیں یہ منافقین خفیہ کرتے ہیں مگر) اللہ تعالیٰ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو (خوب) جانتا ہے (اور بعض امور پر وحی سے آپ کو مطلع کردیتا ہے، آگے و عید ہے جو کہ اولیٰ لہم کی تفسیر کے طور پر ہو سکتی ہے یعنی یہ جو ایسی حرکتیں کر رہے ہیں) سو ان کا کیا حال ہوگا جبکہ فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوں گے اور ان کے مونہوں پر اور رپشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے (اور) یہ (سزا) اس سبب سے (ہوگی) کہ جو طریقہ خدا کی ناراضی کا موجب تھا یہ اسی پر چلے اور اس کی رضا (یعنی اعمال موجبہ رضا) سے نفرت کیا کئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے سب اعمال (نیک ابتداء ہی سے) کالعدم کردیئے (پس اس سزا کے مستحق ہوگئے اور کسی کے پاس کوئی عمل مقبول ہو تو اس کی برکت سے عقوبت میں کچھ تو کمی ہوجاتی ہے آگے (آیت) واللہ یعلم اسرار ہم کے مضمون کی طرح کے طور پر ہے کہ) جن لوگوں کے دلوں میں مرض (نفاق) ہے (اور وہ اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں) کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا (یعنی یہ ان کو کیسے اطمینان ہوگیا جبکہ حق تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا ثابت اور مسلم ہے) اور ہم (تو) اگر چاہتے تو آپ کو ان کا پورا پتہ بتلا دیتے سو آپ ان کو ان کے حلیہ سے پہچان لیتے (پورے پتہ کا مطلب یہی ہے کہ ہر ایک کا پورا حلیہ بتا دیتے) اور (گو بمصلحت ہم نے اس طرح نہیں بتلایا لیکن) آپ ان کو طرز کلام سے (اب بھی) ضرور پہچان لیں گے (کیونکہ ان کا کلام صدق پر مبنی نہیں اور آپ کو نور فراست سے اللہ تعالیٰ نے صدق و کذب کی پہچان دی تھی کہ صدق کا اثر قلب پر اور ہوتا تھا اور کذب کا اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ صدق اطمینان بخش ہوتا ہے اور جھوٹ دل میں شک پیدا کرتا ہے) اور (آگے مومنین و منافقین سب کو خطاب میں جمع کر کے بطور ترغیب و ترہیب کے فرماتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال کو جانتا ہے (پس مسلمانوں کو ان کے اخلاص پر جزا اور منافقین کو ان کے نفاق اور دھوکہ پر سزا دے گا) اور (آگے احکام شاقہ مثل جہاد وغیرہ کی ایک حکیمانہ حکمت ارشاد ہے جیسا اوپر فہل عسیتم الخ میں ایک حکیمانہ حکمت ارشاد فرمائی تھی یعنی) ہم (ایسے امور شاقہ کا حکم دے کر) ضرور تمہاری سب کی آزمائش کریں گے تاکہ ہم (ظاہری طور پر بھی) ان لوگوں کو معلوم (اور ممیز) کرلیں جو تم میں جہاد کرنے والے ہیں اور جو (جہاد میں) ثابت قدم رہنے والے ہیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کی جانچ کرلیں (یہ اس لئے بڑھا دیا کہ علاوہ حکم جہاد کے اور احکام بھی داخل ہوجاویں اور علاوہ حالت مجاہدہ و صبر کے دوسرے حالات بھی داخل ہوجاویں) معارف و مسائل سورة محکمة، محکمہ کے لفظی معنی مضبوط و مستحکم کے ہیں اس لغوی معنی کے اعتبار سے تو قرآن کی ہر سورت محکمہ ہے لیکن اصطلاح شرع میں محکم بمقابلہ منسوخ استعمال ہوتا ہے، یہاں سورة کے ساتھ محکمہ کی قید کا اضافہ اس لئے ہے کہ عمل کا شوق تو جبھی پورا ہوسکتا ہے جبکہ وہ سورت منسوخ نہ ہو، اور قتادہ نے فرمایا کہ جتنی سورتوں میں قتال و جہاد کے احکام آئے ہیں وہ سب محکمہ ہیں، یہاں چونکہ اصل مقصود حکم جہاد اور اس پر عمل ہے اس لئے سورت کے ساتھ محکمہ کا لفظ بڑھا کر ذکر جہاد کی طرف اشارہ کردیا جس کی آگے تصریح آ رہی ہے۔ (قرطبی) فَاَوْلٰى لَهُمْ کے معنی اصمعی کے قول کے مطابق یہ ہیں قاربہ ما یھلکہ یعنی اس کی ہلاکت کے اسباب قریب آ چکے ہیں (قرطبی)