46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا ہے اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے جو بنائے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے سو ٹھیک کام پر اور ایک ٹھہرے وعدہ پر اور جو لوگ منکر ہیں وہ ڈر کو سن کر منہ پھیر لیتے ہیں

خلاصہ تفسیر حمہ (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ کتاب اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے بھیجی گئی ہے، (اس لئے اس کے مضامین قابل غور ہیں، آگے توحید اور معاد کا بیان ہے کہ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں حکمت کے ساتھ اور ایک میعاد معین (تک) کے لئے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہیں، ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے (مثلاً یہ کہ توحید کے انکار پر تم کو قیامت میں عذاب ہوگا) وہ اس سے بےرخی (اور بےالتفاتی) کرتے ہیں (اور توحید کو قبول نہیں کرتے) آپ (ان سے توحید کے بارہ میں) کہئے کہ یہ تو بتلاؤ جن چیزوں کی تم خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (ان کے مستحق عبادت ہونے کی کیا دلیل ہے، اگر دلیل عقلی ہے تو) مجھ کو یہ دکھلاؤ کہ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے یا ان کا آسمانوں (کے پیدا کرنے) میں کچھ حصہ ہے (اور ظاہر ہے کہ تم بھی ان کو خالق نہیں مانتے جو کہ دلیل ہو سکتی ہے مستحق عبادت ہونے کی، بلکہ مخلوق کہتے ہو جو کہ مستحق عبادت ہونے کے منافی ہے پس دلیل عقلی تو مفقود ہوئی اور اگر تمہارے پاس دلیل نقلی ہے تو) میرے پاس کوئی (صحیح) کتاب (لاؤ جس میں شرک کا حکم ہو اور) جو اس (قرآن) سے پہلے کی ہو (کیونکہ تم بھی جانتے ہو کہ قرآن میں شرک کی نفی ہے پس کسی اور ہی کتاب کی ضرورت ہوگی) یا (اگر کتاب نہ ہو تو) کوئی اور (معتبر) مضمون (جو زبانی) منقول (ہوتا چلا آتا ہو اور کتاب میں مدون نہ ہو) لاؤ اگر تم (دعویٰ شرک میں) سچے ہو (مطلب یہ کہ دلیل نقلی کا قابل تصدیق اور مستند ہونا ضروری ہے کسی نبی کی کتاب ہو یا ان کا زبانی قول ہو) اور (ظاہر ہے کہ ایسی دلیل کوئی پیش نہیں کرسکتا مگر جو اپنے باطل عقیدے سے پھر بھی باز نہ آئے ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ) اس شخص سے زیادہ کون گمرا ہوگا جو (دلیل سے عاجز ہونے اور اس کے خلاف پر دلیل قائم ہونے کے باوجود) خدا کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ کرے اور ان کو ان کے پکارنے (تک) کی بھی خبر نہ ہو اور (پھر) جب (قیامت میں) سب آدمی (حساب کے لئے) جمع کئے جائیں تو وہ (معبود) ان (عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوجائیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کر بیٹھیں (پس ایسے معبودوں کی عبادت کرنے سے بڑھ کر کیا غلطی ہے کہ عبادت کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں اور عبادت نہ کرنے سے اسباب و وجوہ بکثرت ہیں)
Ayahs 46:4–6

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوائے دکھلاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں یا ان کا کچھ ساجھا ہے آسمانوں میں لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی علم جو چلا آتا ہو اگر ہو تم سچے

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ گمراہ کون جو پکارے اللہ کے سوائے ایسے کو نہ پہنچے اس کی پکار کو دن قیامت تک اور ان کو خبر نہیں ان کے پکارنے کی

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع ہوں گے وہ ہوں گے ان کے دشمن اور ہوں گے ان کے پوجنے سے منکر۔

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ ان آیات میں مشرکین کے دعوے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت و دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل عمل نہیں ہوتا۔ پھر اس میں جتنی قسمیں دلائل کی ہو سکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی بھی دلیل و شہادت موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے۔ دلائل کی اس آیت میں تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا (آیت) اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ دوسری قسم دلیل نقلی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں دلیل نقلی وہ ہی معتبر ہو سکتی ہے جو خود حق تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو جیسے آسمانی کتابیں تورات انجیل اور قرآن وغیرہ یا ان حضرات کے اقوال جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول و نبی منتخب کیا ہے۔ ان دونوں قمسوں میں سے پہلی قسم کی نفی تو اس سے فرمائی (آیت) اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَا یعنی اگر تمہارے پاس بت پرستی کی کوئی دلیل نقلی موجود ہے تو کسی آسمانی کتاب کو پیش کرو جس میں بت پرستی اور شرک کی اجازت دی گئی ہو اور دوسری قسم یعنی اقوال انبیاء کی نفی کے لئے فرمایا اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ یعنی اگر اللہ کی کسی کتاب میں تم شرک و بت پرستی کی کوئی دلیل ہو شہادت نہیں دکھا سکتے تو کم از کم انبیاء میں سے کسی کا قول دکھلاؤ جو سند معتمد کے ساتھ ان سے ثابت ہو اور جب تم یہ بھی پیش نہیں کرسکتے تو تمہارا قول و عمل بجز گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ لفظ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ میں اثرہ مصدر ہے بروزن شجاعت سماحت وغیرہ جس کے معنے نقل و روایت کے ہیں اسی لئے حضرت عکرمہ اور مقاتل نے اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کی تفسیر میں روایت عن الانبیاء فرمایا اور قرطبی نے اس کی تفسیر اسناد حسن کے ساتھ فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ دلیل نقلی کی دو قسمیں معتبر ہیں، ایک آسمانی کتاب جو اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر پر نازل فرمائی، دوسرے پیغمبر کا قول جو اسناد معتبر کے ساتھ پیغمبر سے ثابت ہو۔ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کا یہی مفہوم ہے۔ یہ سب مضمون تفسیر قرطبی سے لیا گیا ہے اور یہی تفسیر مختار اور بےغبار ہے بعض حضرات سے اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ کی تفسیر میں دوسرے اقوال بھی منقول ہیں مگر وہ ثابت نہیں اور نظم قرآنی کے مناسب بھی نہیں اسلئے جمہور کے نزدیک مختار نہیں۔ واللہ اعلم
Ayahs 46:7–8

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب سنائی جائیں ان کو ہماری باتیں کھلی کھلی کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب ان تک پہنچی یہ جادو ہے صریح

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں یہ بنالایا ہے تو کہہ اگر میں یہ بنالایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کرسکتے اللہ کے سامنے ذرا بھی اس کو خوب خبر ہے جن باتوں میں تم لگ رہے ہو وہ کافی ہے حق بتانے والا میرے اور تمہارے بیچ اور وہی ہے بخشنے والا مہربان

خلاصہ تفسیر اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں (جو کہ معجزہ ہونے کے باعث رسالت کی دلیل ہیں) ان (منکر رسالت) لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ منکر لوگ اس سچی بات کی نسبت جبکہ وہ ان تک پہنچتی ہے یوں کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے (حالانکہ جادو کی نظیر کا ممکن ہونا اور اس کی نظیر کا ممکن نہ ہونا اس قول کے بطلان کی صریح دلیل ہے اور اس سے بڑھ کر اور سنو) کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے (یعنی آپ نے نعوذ باللہ) اس (قرآن) کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (اور خدا کی طرف منسوب کردیا۔ آگے اس قول کا جواب ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہوگا (اور خدا کے ذمہ لگا دیا ہوگا) تو (خدا تعالیٰ اپنی عادت کے موافق لوگوں کو دھوکہ سے بچانے کے لئے مجھ کو نبوت کے جھوٹے دعوے پر جلد ہی ہلاک کر دے گا) پھر (جب وہ مجھ کو ہلاک کرنے لگے گا تو) تم (یا اور) لوگ مجھ کو خدا (کے عذاب) سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے (مطلب یہ کہ نبوت کے جھوٹے دعوے پر عذاب کا ہونا ایسا لازمی ہے کہ میرا کوئی حامی و مددگار بھی اسے نہیں روک سکتا۔ مگر مجھ کو عذاب نہیں ہوا۔ یہ دلیل ہے اس کی کہ میں اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا نہیں اور جب میں جھوٹا نہیں تو یہ سمجھ رکھو کہ) وہ خوب جانتا ہے تم قرآن میں جو جو باتیں بنا رہے ہو (اسلئے تم کو سزا ہوگی غرض یہ کہ) میرے اور تمہارے درمیان (صدق و کذب کا فیصلہ کرنے کے لئے) وہ کافی گواہ (یعنی باخبر) ہے (لہٰذا اگر میں جھوٹا ہوں گا مجھ کو فوراً عذاب دے گا اور اگر تم جھوٹے ہو گے تو تم کو جلد یا بدیر عذاب دے گا) اور (اگر کسی کو یہ شبہ ہوا کہ جب وہ ہماری باتوں سے واقف ہے اور پھر بھی ہم پر عذاب نہیں آیا تو جس طرح مدعی نبوت پر عذاب نہ آنا اس کی سچائی کی دلیل ہے اسی طرح ہم منکروں پر عذاب نہ آنا ہماری سچائی کی دلیل بن سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ) وہ بڑی مغفرت والا ہے (اس لئے مغفرت کی بعض اقسام مثلاً دنیا میں کافروں پر عذاب نہ آنا بھی واقع کردیتا ہے اور) بڑی رحمت والا ہے (اس لئے رحمت کی بعض اقسام بھی جس کو رحمت عامہ کہتے ہیں کفار کے لئے بھی واقع کردیتا ہے۔ لہٰذا منکرین کے انکار پر دنیا میں عذاب نہ ہونا ان کے صدق کی دلیل نہیں، برخلاف مدعی نبوت کے کہ وہاں جھوٹا دعویٰ اور عذاب کا نزول دونوں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو دنیا میں عذاب نہ دینا لوگوں کی گمراہی کا سبب بن سکتا ہے بخلاف دوسرے مجرموں کے آگے اثبات نبوت کی تاکید ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی انوکھا رسول تو ہوں نہیں (کہ تمہارے لئے باعث تعجب ہو کیونکہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبر آ چکے ہیں جن کی خبر تواتر سے تم نے بھی سنی ہے) اور (اسی طرح کسی اور عیجب بات کا بھی میں دعویٰ نہیں کرتا جیسا کہ مثلاً علم غیب ہے، چناچہ میں خود کہتا ہوں کہ مجھ کو غیب کی باتوں میں سے صرف وہ معلوم ہیں جو وحی سے مجھے بتادی گئی ہیں، غیب کی اور کسی بات کی خبر مجھے نہیں حتی کہ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ معلوم کہ) تمہارے ساتھ (کیا کیا جائے گا۔ لہٰذا جب اپنے اور تمہارے آئندہ حالات کے علم کا میں مدعی نہیں ہوں تو دور کی غیبی باتوں کے بارے میں تو کیا دعویٰ کرتا، البتہ جن امور کا علم وحی سے ہوگیا ہے خواہ وہ اپنے متعلق ہوں یا غیر کے اور خواہ دنیا کے حالات ہوں یا آخرت کے ان کا علم بیشک کامل ہے۔ چناچہ آگے ارشاد ہے کہ) میں تو (علم و عمل میں) صرف اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے آتا ہے اور (اسی کی تبلیغ بھی کرتا ہوں اور اگر تم اس کو نہیں مانتے تو میرا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں (جس کو میں دلائل سے ثابت کرچکا ہوں اور اوپر جو الزام افترا کی تردید ”(آیت) هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ سے اجمالاً کی گئی تھی آگے اس کی تفصیل کے طور پر ارشاد ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھ کو یہ بتلا دو کہ اگر یہ قرآن منجانب اللہ ہو اور (پھر) تم اس کے منکر ہو اور (کسی دلیل سے اس کے منجانب اللہ ہونے کی مزید تائید بھی ہوجائے مثلاً ایسی دلیل ہے کہ) بنی اسرائیل (کے علماء) میں سے کوئی (معتبر) گواہ (جو علم و دیانت کے اعتبار سے مسلم و معتبر ہو اور ایک ہو یا زیادہ ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں) اسی جیسی کتاب (یعنی اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے) پر گواہی دے کر ایمان لے آئے اور تم (باوجود بےعلم ہونے کے اس کتاب پر ایمان لانے سے تکبر ہی میں رہو (تو اس صورت میں تم سے زیادہ بےانصاف کون ہوگا اور بےانصاف لوگوں کی یہ حالت ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو (ان کے عناد کے باعث) ہدات نہیں کیا کرتا (بلکہ ہمیشہ گمراہی میں رہتے ہیں اور گمراہی کا انجام آگ ہے۔)
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

تو کہہ میں کچھ نیا رسول نہیں آیا اور مجھ کو معلوم نہیں کیا ہونا ہے مجھ سے اور تم سے میں اسی پر چلتا ہوں جو حکم آتا ہے مجھ کو اور میرا کام تو یہی ہے ڈر سنا دینا کھول کر

معارف و مسائل (آیت) وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ جملہ ان اتبع بمعنے استثناء کے ہے یعنی میں نہیں جانتا بجز اس کے جو مجھ پر وحی کی جائے۔ اسی بناء پر امام تفسیر ضحاک سے اس آیت کی تفسیر وہ منقول ہے جو خلاصہ تفسیر مذکور میں اختیار کی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ امور غیبیہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے جس معاملے کے متعلق وحی سے مجھے علم نہ ہو خواہ وہ میری ذات سے متعلق ہو یا امت کے مومن و کافر لوگوں سے اور خواہ وہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا اس کی مجھے کچھ خبر نہیں۔ امور غیبیہ کے متعلق میں جو کچھ کہتا ہوں وہ سب وحی الٰہی سے کہتا ہوں چناچہ قرآن کریم میں خود مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بیشمار علوم امور غیبیہ کے متعلق عطا فرماتے ہیں (آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک کا یہی مطلب ہے۔ امور آخرت، دوزخ، جنت، حساب کتاب، سزا و جزاء سے متعلق تو تفصیلات خود قرآن کریم میں بیشمار مذکور ہیں اور دنیا میں پیش آنے والے واقعات آئندہ کی بہت سی تفصیلات احادیث صحیحہ متواترہ میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ کا حاصل صرف اتنا ہے کہہ میں امور غیبیہ کے علم محیط میں خدا تعالیٰ کی طرح نہیں اور ان کے علم میں خود مختار نہیں بلکہ مجھے بواسطہ وحی خداوندی جو کچھ بتلا دیا جاتا ہے وہ میں ذکر کردیتا ہوں۔ تفسیر روح المعانی میں اس قول کو نقل کر کے لکھا ہے کہ میرا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آخرت اور دنیا میں پیش آنے والے اہم معاملات سے آپ کو بذریع وحی باخبر نہیں کردیا گیا۔ رہا اشخاص و افراد کے جزوی شخصی حالات و معاملات کا علم کہ زید کل کو کیا کام کرے گا اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ عمر بکر اپنے گھروں میں کیا کیا کام کر رہے ہیں یا کرے گا ان امور غیبیہ کا علم نہ کوئی کمال ہے نہ ان کے نہ ہونے سے کمال نبوت میں کوئی فرق آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب جناب رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب یہ ہے کہ یوں نہ کہا جائے کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو امور غیب کا بہت بڑا علم دیا تھا جو انبیاء میں سے کسی دوسرے کو نہیں ملا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے جو یہ فرمایا کہ اس آیت میں نفی علم صرف امور دنیویہ سے متعلق ہے آخرت کے متعلق علم غیب کی نفی اس میں شامل نہیں (کما ذکرہ القرطبی) انہوں نے غالباً جملہ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ کو بمعنے استنثاء قرار نہیں دیا، اس لئے نفی علم غیب کو امور دنیا کے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ آخرت کے متعلق تو کھلے طور پر آپ نے جو بتلا دیا کہ کافر دوزخ میں اور مومن جنت میں جائے گا۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ آیا ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی پھر وہ یقین لایا اور تم نے غرور کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا گنہگاروں کو۔

(آیت) وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسْـتَكْبَرْتُمْ اس آیت کا مضمون تقریباً وہی ہے جو سورة شعراء کے آخری رکوع کی آیت کا ہے یعنی (آیت) اولم یکن لھم ایة ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ جاہل یہود و نصاری جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور قرآن کا انکار کرتے ہیں یہ خود اپنی کتابوں سے بھی ناواقف اور جاہل ہیں کیونکہ بہت سے علمائے بنی اسرائیل اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ کی علامات کا مشاہدہ کر کے آپ پر ایمان لے آئے ہیں کیا ان علماء کی شہادت بھی ان جاہل لوگوں کے لئے کافی نہیں۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ میرا دعوی رسالت اور قرآن کا اللہ کی کتاب ہونا غلط اور افترا ہے اول تو اس کے غلط ہونے کے لئے وہ بات کافی ہے جو پہلے ابھی ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص اللہ پر ایسا کھلا افترا کرے کہ مجھے اس نے نبی بنا کر بھیجا ہے اور واقع میں وہ نبی نہیں ہے تو اس پر اس دنیا ہی میں عذاب کا آجانا اور اس کا ہلاک کیا جانا ضروری ہے تاکہ عام لوگ دھوکے سے بچ سکیں اور بالفرض تم اس کو بھی نہیں مانتے تو کم از کم اس احتمال کو تو نظر انداز نہ کرو کہ اگر میرا دعویٰ صحیح ہوا اور یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہی ہوئی اور تم اس سے کفر و انکار پر جمے رہو تو تمہارا کیا انجام ہوگا خصوصاً اس صورت میں کہ خود تمہاری قوم بنی اسرائیل ہی میں کوئی بڑا آدمی اس کے منجانب اللہ ہونے کی شہادت دے دے اور مسلمان ہوجائے اور تم اس علم کے بعد بھی اپنی ضد اور تکبر پر جمے رہو تو تم کس قدر عذاب کے مستحق ہو گے۔ اس آیت کے الفاظ میں کسی خاص عالم بنی اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا اور نہ یہ متعین گیا کہ یہ شہادت اس آیت کے نزول سے پہلے لوگوں کے سامنے آچکی ہے یا آئندہ آنے والی ہے بلکہ ایک جملہ شرطیہ کے طور پر فرمایا ہے کہ اگر ماضی میں بالفعل یا آئندہ ایسا ہوجائے تو تمہیں اپنی فکر کرنا چاہئے کہ تم عذاب سے کیسے بچو گے۔ اس لئے مضمون آیت کا سمجھنا اس پر موقوف نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل میں سے کسی شاہد معین کو اس کا مصداق قرار دیا جائے بلکہ جتنے حضرات یہود و نصاری میں سے داخل اسلام ہوئے جن میں حضرت عبداللہ بن سلام زیادہ معروف ہیں وہ سبھی اس میں داخل ہیں اگرچہ حضرت عبداللہ بن سلام کا ایمان اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا اور یہ پوری سورت مکی ہے۔ (ابن کثیر) اور بعض روایات میں جو حضرت سعد ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی (کما رواہ البخاری و مسلم و النسائی من حدیث مالک) نیز حضرت ابن عباس، مجاہد ضحاک قتادہ وغیرہ ائمہ تفسیر سب نے باتفاق فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق نازل ہوئی ہے تو یہ اس آیت کے مکی ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ اس صورت میں یہ پیشن گوئی آئندہ کے لئے ہوجائے گی (کذا قال ابن کثیر)
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ نہ دوڑتے اس پر ہم سے پہلے اور جب راہ پر نہیں آئے اس کے بتلانے سے تو یہ اب کہیں گے یہ جھوٹ ہے بہت پرانا

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر ایمان والوں (کے ایمان لانے) کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن (جس پر یہ لوگ ایمان لائے ہیں) کوئی اچھی (یعنی سچی) چیز ہوتا تو یہ (کم درجہ کے) لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے (یعنی ہم لوگ بڑے عاقل ہیں اور یہ لوگ کم عقل ہیں اور حق بات کو عاقل پہلے قبول کرتا ہے اور اگر یہ حق ہوتا تو ہم پہلے مانتے جب ہم نے نہیں مانا تو یہ حق نہیں یہ لوگ بےعقلی سے ادھر دوڑنے لگے ہیں۔ کافروں کا یہ قول ان کے انتہائی تکبر کی دلیل ہے جس کا ذکر اوپر استکبرتم میں آیا ہے) اور جب (عناد وتکبر کے باعث) ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو (اپنے عناد اور ضد کی بنا پر) یہیں کہیں گے کہ یہ (بھی مثل) قدیمی (جھوٹے مضامین کے ایک) جھوٹ (مضمون) ہے اور اس (قرآن) سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب (نازل ہوچکی) ہے جو (موسیٰ ؑ کی امت کے لئے بالعموم) رہنما (تھی) اور (اہل ایمان کے لئے بالخصوص) رحمت تھی (اور جس طرح توریت میں اس کی پیشین گوئی ہے) یہ (اسی طرح کی) ایک کتاب ہے جو اس (کی پیشین گوئی) کو سچا کرتی ہے (اور) عربی زبان میں (ہے) ظالموں کو ڈرانے کے لئے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کے لئے (نازل ہوئی ہے۔) معارف و مسائل (آیت) لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ، تکبر و غرور انسان کی عقل کو بھی مسخ کردیتا ہے۔ متکبر آدمی اپنی عقل اور اپنے عمل کو معیار حسن و قبح و خیر و شر سمجھنے لگتا ہے جو چیز اس کو پسند نہ ہو خواہ دوسرے لوگ اس کو کتنا ہی اچھا سمجھیں یہ ان سب کو بیوقوف سمجھتا ہے حالانکہ خود بیوقوف ہے کفار کے اسی درجہ غرور تکبر کا اس آیت میں بیان ہے کہ اسلام و ایمان چونکہ ان کو پسند نہیں تھا تو دوسرے لوگ جو ایمان کے دلدادہ تھے ان کو یہ کہتے تھے کہ اگر یہ ایمان کوئی اچھی چیز ہوتی تو سب سے پہلے ہمیں پسند آتی، ان دوسرے غریب فقیر لوگوں کی پسند کا کیا اعتبار۔ ابن منذر وغیرہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ عمر بن خطاب جب مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی ایک کنیز جس کا نام زنیرہ تھا پہلے مسلمان ہوگئی تھی یہ اس کو اس کے اسلام پر مارتے اور دھمکاتے تھے کہ کسی طرح یہ اسلام کو چھوڑ دے اور کفار قریش کہا کرتے تھے کہ اسلام کوئی اچھی چیز ہوتی تو رنین جیسی حقیر عورت اس میں ہم سے آگے نہ ہوتی، اس کے متعلق آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ (مظہری)
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کتاب موسیٰ کی تھی راہ ڈالنے والی اور رحمت اور یہ کتاب ہے اس کی تصدیق کرتی عربی زبان میں تاکہ ڈر سنائے گنہگاروں کو اور خوشخبری نیکی والوں کو۔

(آیت) وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً اس کلام سے ایک تو (آیت) ما کنت بدعا من الرسل، کا ثبوت ملا کہ آپ کوئی انوکھے رسول اور قرآن کوئی انوکھی کتاب نہیں کہ ان پر ایمان لانے میں لوگوں کو اشکال ہو بلکہ آپ سے پہلے موسیٰ ؑ رسول ہو کر آ چکے ہیں اور ان پر تورات نازل ہوچکی ہے جس کو یہ کفار یہود و نصاری سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرے اوپر جو شھد شاھد آیا ہے اس کی بھی تقویت ہوگئی کیونکہ موسیٰ ؑ اور تورات خود قرآن اور رسول کریم ﷺ کی حقانیت کے شاہد ہیں۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

مقرر جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں بہشت والے سدا رہیں گے اس میں بدلہ ہے ان کاموں کا جو کرتے تھے

خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی توحید کو تعلیم رسول کے مطابق قبول کیا) پھر (اس پر متقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) سو یقیناً (اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر (آخرت میں) کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں اور نہ وہ (وہاں غمگین ہوں گے (یہ تو ان کے مضرت سے بچنے کا بیان تھا، آگے اس منفعت کا ذکر ہے جو ان کو ملنے والی ہے کہ) یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان (نیک) کاموں کے جو کہ وہ کرتے تھے (جن میں سے ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کا اوپر ذکر ہے) اور (جس طرح ہم نے حقوق اللہ کو واجب کیا ہے جس کا ذکر ہوچکا اسی طرح حقوق العباد کو بھی واجب کیا ہے چناچہ ان میں سے ایک بہت بڑا حق والدین کا ہے اس لئے) ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اور بالخصوص ماں کے ساتھ اور زیادہ کیونکہ) اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور (پھر) بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا (اکثر) تیس مہینہ (میں پورا ہوتا) ہے۔ (اتنے دنوں طرح طرح کی مصیبت اٹھاتی ہے اور کم و بیش ان مصیبتوں میں باپ کی بھی شرکت ہوتی ہے بلکہ اکثر امور کا انتظام عادتاً باپ ہی کو کرنا پڑتا ہے اور اپنے آرام میں خلل آجانا یہ دونوں کو مساوی طور پر پیش آتا ہے اس لئے بھی ماں باپ کا حق انسان پر زیادہ واجب کیا گیا ہے۔ غرض اس کے بعد نشو و نما پاتا ہے) یہاں تک کہ جب (نشو و نماپاتے پاتے) اپنی جوانی کو (یعنی بلوغ کو) پہنچ جاتا ہے اور (پھر بلوغ کے بعد ایک زمانہ میں) چالیس برس (کی عمر) کو پہنچتا ہے تو (جو سعادت مند ہوتا ہے وہ) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اس پر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں (اگر ماں باپ مسلمان ہیں تب تو دین کی نعمت بھی، ورنہ دنیا کی نعمت تو ظاہر ہی ہے اور ماں باپ کی نعمت کا اثر اولاد پر بھی پہنچتا ہے۔ چناچہ ان کا وجود و بقا جو دنیاوی نعمت ہے اس کی بدولت تو خود اولاد کا وجود ہی ہوتا ہے اور دینی نعمت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اس کے لئے علم و عمل کا ذریعہ بنتی ہے) اور (وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مجھ کو اس کی بھی پابندی نصیب کیجئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے (نفع کے) لئے صلاحیت پیدا کر دیجئے (دنیاوی نفع یہ کہ دیکھ دیکھ کر راحت ہو اور دینی نفع یہ کہ اجر وثواب ہو اور) میں آپ کی جناب میں (گناہوں سے بھی) توبہ کرتا ہوں اور میں (آپ کا) فرمانبردار ہوں (مقصود اس سے اپنی غلامی کا اقرار ہے نہ کہ دعویٰ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک کاموں کو قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کردیں گے اس طور پر کہ یہ اہل جنت میں سے ہوں گے (اور یہ سب) اس وعدہ صادقہ کی وجہ سے (لہوا) جس کا ان سے (دنیا میں) وعدہ کیا جاتا تھا (یہاں تک تو محسنین اور خوش بخت لوگوں کا بیان ہوا۔ آگے ظالم اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہے یعنی) اور جس نے (حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پامال کردیا جیسا اس کے اس حال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے) اپنے ماں باپ سے کہا (جن کے حق کی حقوق العباد میں سب سے زیادہ تاکید ہے خصوصاً جبکہ وہ مسلمان بھی ہوں اور خصوصاً جبکہ وہ اس کو بھی اسلام کی دعوت دے رہے ہوں) کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ (یعنی خبر) دیتے ہو کہ میں (قیامت میں دوبارہ زندہ ہو کر) قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر گئیں (جن کو ہر زمانے میں ان کے پیغمبر یوں ہی خبریں دیتے چلے آئے مگر آج تک کسی بات کا ظہور نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں) اور وہ دونوں (غریب ماں باپ اس کے اس انکار سے کہ جو کفر عظیم ہے گھبرا کر) اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور نہایت درد مندی سے اس سے کہہ رہے ہیں) کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لا (اور قیامت کو بھی برحق سمجھ) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو یہ (اس پر بھی) کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آرہی ہیں (مطلب یہ کہ ایسا بدنصیب ہے کہ کفر اور ماں باپ سے بدسلوکی دونوں کا مرتکب ہے، اور بدسلوکی بھی اس درجہ کی کہ ماں باپ کی مخالفت کے ساتھ ان سے کلام میں بھی بدتمیزی کرتا ہے۔ آگے ان اعمال کا نتیجہ فرماتے ہیں کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول (یعنی وعدہ عذاب) پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن اور انسان (کفار) ہو گزرے ہیں بیشک یہ (سب) خسارہ میں رہے۔ اور (آگے مذکورہ بالا تفصیل کو خلاصہ و اجمال کے طور پر فرماتے ہیں کہ مذکورہ دونوں فریقوں میں سے) ہر ایک (فریق) کے لئے ان کے (مختلف درجے اس لئے ملیں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے اعمال (کی جزا) پوری کردے اور ان پر (کسی طرح کا) ظلم نہ ہوگا اور (اوپر محسنین کی جزا میں تو جنت کو متعین طور پر سے بیان کردیا گیا تھا مگر ظالمین کا عذاب متعین کر کے نہیں بتایا گیا تھا اجمالاً فرما دیا تھا حق علیہم القول اور کانوا خسرین اس لئے آگے عذاب کی تعیین فرماتے ہیں کہ وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کرچکے (یہاں کوئی لذت تم کو نصیب نہ ہوگی) اور ان کو خوب برت چکے (حتی کہ ان میں پڑ کر ہم کو بھی بھول گئے) سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی (چنانچہ سزا کے لئے آگ ہے اور ذلت میں سے یہ ملامت اور پھٹکار ہے) اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے (تکبر سے مراد ایسا تکبر ہے جو ایمان سے باز رکھے کیونکہ دائمی عذاب اسی کے ساتھ خاص ہے) اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے (اس میں کفر، فسق، ظلم اور ان کی تمام صورتیں داخل ہوگئیں۔) معارف و مسائل مذکورہ الصدر آیات میں پہلی دو آیتیں تو پچھلے ہی کلام کا تکملہ ہے جو اس سے پہلی آیات میں آیا ہے کہ ظالموں کے لئے وعید عذاب اور مؤمنین صالحین کے لئے فوز و فلاح کی خوشخبری تھی۔ پہلی آیت یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا میں بڑی بلاغت کے ساتھ پورے اسلام و ایمان اور اعمال صالحہ سب کو جمع کردیا گیا ہے۔ ربنا اللہ کا اقرار پورا ایمان ہے اور اس پر استقامت میں ایمان پر تادم مرگ قائم رہنا بھی شامل ہے اور اس کے مقتضیات پر پورا پورا عمل بھی۔ لفظ استقامت اور اس کی اہمیت کی تشریح و تفصیل سورة حم سجدہ میں بیان ہوچکی ہے۔ آیت مذکورہ میں ایمان و استقامت پر یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ آئندہ اسکی تکلیف و پریشانی کا خوف ہوگا نہ ماضی کی تکلیف پر رنج و افسوس رہے گا۔ بعد کی آیت میں اس بےنظیر راحت کے دائمی اور غیر منقطع ہونے کی بشارت دی گئی ہے اس کے بعد کی چار آیتوں میں انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت اور اس کے خلاف کرنے کی مذمت اور ضمن میں انسان پر اسکے ماں باپ کے احسانات کا اور اولاد کے لئے سخت محنت و مشقت برداشت کرنے کا تذکرہ اور بڑی عمر کو پہنچنے کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع وانابت کی خاص تلقین فرمائی گئی ہے۔ سابقہ آیات سے اس کی مناسبت اور ربط بقول ابن کثیر یہ ہے کہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے تو ساتھ ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت و اطاعت کے احکام بھی دیتا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات مختلف سورتوں میں اس پر شاہد ہیں۔ اسی سالوب کے مطابق یہاں بھی اللہ کی توحید کی دعوت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا گیا۔ اور قرطبی نے بحوالہ قشیری وجہ ربط یہ بیان کیا ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک تسلی کا پہلو ہے کہا آپ ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہیں کوئی قبول کرے گا کوئی نہ کرے گا اس سے مغموم نہ ہوں کیونکہ انسان کا حال یہی ہے کہ وہ سب اپنے والدین کے ساتھ بھی یکساں نہیں رہتے بعض اچھا سلوک کرتے ہیں اور بعض ان کے ساتھ بھی بدسلوکی کرتے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے حکم کردیا انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کا پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے اور حمل میں رہنا اس کا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینے میں ہے یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی قوت کو اور پہنچ گیا چالیس برس کو کہنے لگا اے رب میرے میری قسمت میں کر کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں نیک کام جس سے تو راضی ہو اور مجھ کو دے نیک اولاد میری، میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ہوں حکمبردار

بہرحال ان چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے اور ضمناً دوسری تعلیمات آئی ہیں۔ اگرچہ بعض روایات حدیث سے ان آیات کا حضرت صدیق اکبر کی شان میں نازل ہونا معلوم ہوتا ہے اور اسی بنا پر تفسیر مظہری نے ووصینا الانسان میں الانسان کے الف لام کو عہد کا قرار دے کر اس سے مراد صدیق اکبر کو قرار دیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر کسی آیت قرآن کا سبب نزول کوئی خاص فرد یا خاص واقعہ ہو تو پھر بھی حکم سب کے لئے عام ہی ہوتا ہے۔ شان نزول خاص صدیق اکبر ہوں اور تخصیصات مندرجہ آیات انہیں کی صفات ہوں جبھی مقصود آیات کا تعلیم عام ہی ہے۔ اور اگر اصل آیات کو عام تعلیم قرار دیا جائے، اس میں بھی صدیق اکبر اس تعلیم کے پہلے مصداق قرار پائیں گے۔ جوان ہونے اور چالیس سال عمر ہونے کے بعد کی جو تخصیصات ان آیات میں مذکور ہیں وہ تخصیصات بطور تمثیل کے ہوں گی اب آیات مذکورہ کے خاص خاص الفاظ کی تشریح دیکھئے۔ (آیت) وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰـنًا، لفظ وصیت تاکیدی حکم کے معنی میں آتا ہے اور احسان بمعنے حسن سلوک ہے جس میں ان کی خدمت و اطاعت بھی داخل ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔ (آیت) حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّوَضَعَتْهُ كُرْهًا، لفظ کرھا بضم الکاف اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی وجہ سے برداشت کرنا پڑے اور کرھا بفتح کاف اس محنت و مشقت کا نام ہے جس پر ان کو کوئی دوسرا آدمی مجبور کرے۔ اسی سے اکراہ مشتق ہے۔ پہلے جملے میں جو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے یہ دوسرا جملہ اس کی تاکید کے لئے ہے کہ والدین کی خدمت و اطاعت ضروری ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے تمہاری پیدائش سے لے کر جوانی تک تمہارے لئے بڑی مشقتیں برداشت کی ہیں، خصوصاً ماں کی محنت و مشقت بہت ہی نمایاں ہے اس لئے یہاں بیان صرف ماں کی مشقت کا کیا گیا ہے کہ اس نے ایک طویل مدت نو ماہ اپنے پیٹ میں تم کوا ٹھائے رکھا جس میں اس کو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنا پڑیں، پھر ولادت کے وقت سخت درد اور تکلیف کے ساتھ تمہارا وجود اس دنیا میں آیا۔ ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔ شروع آیت میں حسن سلوک کا حکم ماں اور باپ دونوں کے لئے ہے مگر اس جگہ صرف ماں کی محنت و مشقت کا ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ماں کی محنت و مشقت لازمی اور ضروری ہے۔ حمل کے زمانے کی تکلیفیں، پھر وضع حمل اور درد زہ کی تکلیف ہر حال ہر بچہ کے لئے لازمی ہے جو صرف ماں ہی کی محنت ہے، باپ کے لئے پرورش پر محنت اٹھانا اتنا لازمی و ضروری نہیں ہوسکتا ہے کہ کسی باپ کو اولاد کی تربیت میں کوئی بھی محنت مشقت اٹھانی پڑے جبکہ وہ مالدار صاحب حشم و خدم ہو، دوسروں سے اولاد کی خدمت لے یا وہ کسی دوسرے ملک میں چلا گیا اور خرچ بھیجتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولاد پر ماں کے حق کو سب سے زیادہ رکھا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے صل امک ثم امک ثم امک ثم اباک ثم ادناک فادناک (مظہری) یعنی صلہ رحمی اور خدمت کرو اپنی ماں کی پھر اپنی ماں کی پھر اپنی ماں کی، اس کے بعد اپنے باپ کی اور اس کے بعد جو قریب تر رشتہ دار ہو اس کی پھر جو اسکے بعد ہو۔ (آیت) وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا اس جملہ میں بھی ماں کی محنت و مشقت ہی کا بیان ہے کہ بچے کے حمل اور وضع حمل کی مشقت کے بعد بھی ماں کو محنت سے فراغت نہیں ملتی کیونکہ اس کے بعد بچے کی غذا بھی قدرت نے ماں کی چھاتیوں میں اتاری ہے وہ اس کو دودھ پلاتی ہے۔ آیت میں ارشاد یہ فرمایا کہ بچے کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال فرمایا کہ حمل کی مدت کم سے کم چھ ماہ کی ہے کیونکہ قرآن کریم نے اکثر مدت رضاع تو دو سال کامل متعین فرما دیئے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین اور یہاں حمل اور رضاع دونوں کی مدت تیس ماہ قرار دی گئی تو مدت رضاع کے دو سال یعنی چوبیس مہینے نکلنے کے بعد چھ ماہ ہی باقی رہ جاتے ہیں جس کو کم سے کم مدت حمل قرار دیا گیا ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان غنی کے زمانے میں ایک عورت کے بطن سے چھ ماہ ہوجانے پر بچہ پیدا ہوگیا جبکہ عام عادت نو مہینے میں اور کم سے مدت سات مہینے میں بچہ پیدا ہونے کی ہے۔ عثمان غنی نے اس کو حمل ناجائز قرار دے کر سزا کا حکم دیدیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت عثمان کو اس سزا سے منع کیا اور فرمایا کہ قرآن میں حمل اور رضاع کی مجموعی مدت تیس ماہ ہے پھر رضاع کی مدت کا چوبیس ماہ ہونا دوسری جگہ متعین کردیا ہے اس لئے باقی ماندہ مدت چھ ماہ ہی حمل کی کم سے کم مدت ہے۔ عثمان غنی نے ان کے استدلال کو قبول کر کے اپنا حکم واپس لے لیا۔ (قرطبی) اسی لئے کم سے کم مدت حمل کے بارے میں تمام امت کے ائمہ متفق ہیں کہ وہ چھ ماہ ہو سکتی ہے اکثر مدت کتنی ہے اس میں ائمہ کے اقوال مختلف ہیں قرآن نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ فائدہ۔ اس آیت میں حمل کی تو اقل مدت کا بیان کیا گیا اور رضاع کی اکثر مدت کا اس میں اشارہ ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ متعین ہے اس سے کم میں صحیح سالم بچہ پیدا نہیں ہوسکتا مگر زیادہ سے زیادہ کتنا عرصہ بچہ حمل میں رہ سکتا ہے اس میں عادتیں مختلف ہیں یہ متعین نہیں اسی طرح رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت متعین ہے کہ دو سال تک دودھ پلایا جاسکتا ہے کم سے کم مدت کچھ متعین نہیں۔ بعض عورتوں کے دودھ ہوتا ہی نہیں، بعض کا دودھ چند مہینوں میں خشک ہوجاتا ہے، بعض بچے ماں کا دودھ زیادہ نہیں پیتے یا ان کو مضر ہوتا ہے تو دوسرا دودھ پلانا پڑتا ہے۔ اکثر مدت حمل اور اکثر مدت رضاع میں فقہائے امت کا اختلاف۔ اکثر مدت حمل امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک دو سال ہیں، امام مالک سے مختلف روایات منقول ہیں۔ چار سال، پانچ سال، سات سال، امام شافعی کے نزدیک چار سال، امام احمد کی بھی مشہور روایت چار ہی سال کی ہے (مظہری) اور اکثر مدت رضاعت جس کے ساتھ حرمت رضاعت کے احکام متعلق ہوتے ہیں جمہور فقہاء کے نزدیک دو سال ہیں۔ امام مالک شافعی، احمد بن حنبل اور ائمہ حنفیہ میں سے ابو یوسف اور امام محمد سب اس پر متفق ہیں اور صحابہ کرام میں حضرت عمرو ابن عباس کا بھی یہ قول ہے (رواہ الدار قطنی علی مرتضی عبداللہ بن مسعود کا بھی یہی ارشاد ہے (اخرجہ ابن ابی شیبہ) صرف امام اعظم ابوحنیفہ سے یہ منقول ہے کہ ڈھائی سال تک بچہ کو دودھ پلایا جاسکتا ہے جس کا حاصل جمہور حنفیہ کے نزدیک یہ ہے کہ اگر بچہ کمزور ہو، ماں کے دودھ کے سوا کوئی غذا دو سال تک بھی نہ لیتا ہو تو مزید چھ ماہ دودھ پلانے کی اجازت ہے کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مدت رضاعت پوری ہونے کے بعد ماں کا دودھ بچے کو پلانا حرام ہے مگر فتویٰ فقہائے حنفیہ کا بھی جمہور ائمہ کے مسلک پر ہے کہ دو سال کی مدت کے بعد اگر دودھ پلایا گیا تو اس سے حرمت رضاعت کے احکام ثابت نہیں ہوں گے۔ سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں فرمایا کہ اگر فتویٰ جمہور کے قول پر ہے مگر عمل میں احتیاط کرنا بہتر ہے کہ ڈھائی سال کی مدت کے اندر جس بچہ کو دودھ پلایا گیا ہے اس سے مناکحت میں احتیاط برتی جائے۔ بعض حضرات نے آیت ۭ وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا سے امام اعظم کے قول کے مطابق اکثر مدت رضاعت ڈھائی سال ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تفسیر مظہری میں فرمایا کہ یہ درست نہیں کیونکہ صحابہ کرام کی جماعت علی مرتضیٰ عثمان غنی نے آیت کی تفسیر یہ متعین کردی ہے کہ اس میں چھ ماہ اقل مدت حمل کے اور چوبیس ماہ مدت رضاعت کے مراد ہیں اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن کریم نے حمل اور رضاعت کی مشترک مدت تیس ماہ بتلائی ہے ہر ایک کی الگ الگ حد نہیں بتلائی اس کا سبب یہ ہے کہ عادت عامہ یوں ہے کہ بچہ نو ماہ میں پیدا ہونا ہے اور جب بچہ پورے نو ماہ میں پیدا ہو تو ماں کا دودھ پلانے کی ضرورت صرف اکیس ماہ رہ جاتی ہے اور اگر بچہ سات مہینے میں پیدا ہوجائے تو تئیس ماہ دودھ پلانے کی ضرورت ہوتی ہے اور جو بچہ چھ ماہ میں پیدا ہوجائے تو چوبیس ماہ یعنی پورے دو سال دودھ پلانے کی ضرورت ہوگی۔ (مظہری) (آیت) ۭحَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۙ لفظ اشد کے لغوی معنی قوت کے ہیں۔ سورة انعام میں حتی یبلغ اشدہ کے تحت میں اس کی تفسیر بلوغ سے کی گئی ہے یعنی جب بچہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ بلوغ اشد سے مراد اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنا ہے۔ مذکور الصدر آیت میں بھی بعض حضرات نے بلغ اشدہ کے معنی یہی کئے ہیں کہ بچہ سن بلوغ کو پہنچ جائے اور اس کے بعد بلخ اربعین سنة کو ایک مستقل منزل عمر قرار دیا، یہ قول شعبی اور ابن زید کا ہے اور حسن بصری نے بلوغ اشد اور بلغ اربعین دونوں کو ہم معنی اور بلغ اربعین کو بلغ اشدہ کی تفسیر و تاکید قرار دیا ہے۔ (قرطبی) اور تقدیر عبارت یوں ہے کہ اول بچہ کے حمل کا پھر وضع حمل کا پھر دودھ پینے کے زمانے کا ذکر کرنے کے بعد حتی اذا بلغ فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ فعاش واستمرت حیاتہ حتی اذا کتھل واستحکم قوتہ وعقلہ (روح) یعنی دودھ چھوٹنے کے بعد بچہ زندہ رہا اور عمر پائی یہاں تک کہ وہ بالغ اور قوی ہوگیا اور اس کی قوت اور عقل مکمل ہوگئی تو اب اس کو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کی طرف رجوع ہونے کی توفیق نصیب ہوئی اور وہ یوں دعائیں مانگنے لگا کہ اے میرے پالنے والے مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر مبذول فرمائی اور جو میرے والدین پر مبذول فرمائی اور مجھے یہ توفیق دے کہ میں وہ عمل کروں جس سے تو راضی ہوجائے اور میرے لئے میری اولاد کی بھی اصلاح فرما دے، میں تیری طرف رجوع ہوتا ہوں اور میں تیرے تابع فرمان مسلمان میں سے ہوں۔ قرآن نے اس جگہ ۭحَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ سے لے کر من المسلمین تک سب صیغے ماضی کے استعمال فرمائے جس سے ظاہر یہ ہے کہ یہ بیان کسی خاص واقعہ اور خاص شخص کا ہے جو نزول آیت کے وقت ہوچکا ہے۔ اسی لئے تفسیر مظہری نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ یہ سب حالات حضرت ابوبکر صدیق کے ہیں انہیں کا بیان بالفاظ عام اس حکمت سے کیا گیا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی ترغیب ہو کہ وہ بھی ایسا ہی کیا کریں اور اس کی دلیل وہ روایت ہے جو قرطبی نے بروایت عطا حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنی بیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ کے مال سے تجارت کا قصد فرمایا اور ملک شام کا سفر کیا تو اس سفر میں ابوبکر صدیق آپ کے ساتھ تھے اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی جو مصداق ہے بلغ اشدہ کا پھر اس سفر میں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ایسے حالات دیکھے کہ وہ اتنے گرویدہ ہوگئے کہ سفر سے واپسی کے بعد ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے لگے، یہاں تک کہ جب آپ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوگئی اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا شرف عطا فرمایا اس وقت ابوبکر کی عمر اڑتیس سال تھی۔ مردوں میں سب سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کیا پھر جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوگئی اس وقت یہ دعا مانگی جو اوپر آیت میں مذکور ہے رب اوزعنی اور یہی مصداق ہے بلغ اربعین سنة کا اور جب یہ دعا مانگی اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ تو اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی ان کو نو ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کی توفیق بخشی جو مسلمان ہوگئے تھے اور ان کے مالک ان کو اسلام لانے پر طرح طرح کی اذائیں دیتے تھے، اسی طرح ان کی دعا اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ بھی قبول ہوئی، ان کی اولاد میں کوئی ایسا نہ رہا جو ایمان نہ لایا ہو۔ اسی طرح صحابہ کرام میں یہ خصوصیت حق تعالیٰ نے صدیق اکبر ہی کو عطا فرمائی کہ وہ خود بھی مسلمان ہوئے، والدین بھی، اولاد بھی اور سب کو بنی کریم ﷺ کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اور تفسیر روح المعانی میں ہے کہ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ تمام صحابہ کرام مہاجرین و انصار میں اس وقت یہ خصوصیت صرف صدیق اکبر کے والد ابوقحافہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ہیں اور یہ سورت پوری مکی ہے اس لئے یہ آیات بھی مکہ میں نازل ہوئیں اس وقت والدین پر نعمت الٰہی مبذول ہونے کا ذکر کیسے مناسب ہوگا ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض حضرات نے ان آیات کو مدنی کہا ہے اس پر تو کوئی اشکال نہیں رہتا اور اگر مکی بھی ہوں تو مراد نعمت اسلام سے مشرف ہونے کی دعا ہوگی (روح) اس تفسیر کی رو سے اگرچہ یہ سب حالات صدیق اکبر کے بیان ہوئے مگر حکم عام ہے سب مسلمانوں کو اس کی ہدایت کرنا مقصود ہے کہ آدمی کی عمر جب چالیس سال کے قریب ہوجائے تو اس کو آخرت کی فکر غالب ہوجانی چاہئے۔ پچھلے گناہوں سے توبہ کی تجدید کرے اور آئندہ کے لئے ان سے بچنے کا پورا اہتمام کرے کیونکہ عادت اور تجربہ یہ ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو اخلاق و عادات کسی شخص کی ہوجاتی ہیں پھر ان کا بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ حضرت عثمان غنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ مومن جب چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دیتے ہیں اور جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو اس کو اپنی طرف رجوع وانابت نصیب فرما دیتے ہیں اور جب ستر سال کی عمر کو پہنچ جائے تو تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حسنات کو قائم فرما دیتے ہیں اور اس کے سیئات کو مٹا دیتے ہیں اور جب نوے سال کی عمر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کردیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیت کے متعلق شفاعت کرنے کا حق دیدیتے ہیں اور آسمان میں اس کے نام کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اسیر اللہ فی الارض ہے یعنی زمین میں اللہ کی طرف سے قیدی ہے (ذکرہ ابن کثیر عن ابی یعلی و مسند احمد وغیرہ) اور یہ ظاہر ہے کہ مراد اس سے وہ ہی بندہ مومن ہے جس نے اپنی زندگی احکام شرع کے تابع ہو کر تقویٰ کے ساتھ گزاری ہے۔ ابن کثیر نے چونکہ پہلی تفسیر کو اختیار کیا ہے کہ مراد عام انسان ہے۔ تو جو الفاظ خصوصیت کے اس میں آئے ہیں جیسے (آیت) ۭحَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۙ الخ وہ سب بطور تمثیل کے ہیں جس میں یہ ہدایت دینا مقصود ہے کہ انسان جب چالیس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو اپنی اصلاح اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح اور آخرت کی فکر غالب ہوجانی چاہئے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم قبول کرتے ہیں بہتر سے بہتر کام جو کئے ہیں اور معاف کرتے ہیں ہم برائیاں ان کی رہنے والے جنت کے لوگوں میں سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا

(آیت) اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ یعنی ایسے مومن مسلمان جن کے یہ حالات ہوں جو اوپر گزرے ہیں ان کی حسنات قبول کرلی جاتی ہیں اور گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں یہ حکم بھی عام ہے، اگر اس کے سبب نزول صدیق اکبر ہوں تو وہ اس کے پہلے مصداق ہوں گے۔ حضرت علی کے ا رشاد ذیل سے بھی آیت کے مفہوم کا عام ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سند کے ساتھ محمد ابن حاطب کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ کی خدمت میں حاضر تھا، اس وقت ان کے پاس کچھ دوسرے حضرات بھی موجود تھے جنہوں نے حضرت عثمان پر کچھ عیب لگائے اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ عثمان ؓ ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ بخدا اس آیت کے مصداق حضرت عثمان اور ان کے ساتھی ہیں۔ یہ بات حضرت علی نے تین مرتبہ فرمائی۔
Ayahs 46:17–19

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

کیا مجھ کو وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا قبر سے اور گزر چکی ہیں بہت جماعتیں مجھ سے پہلے اور وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے کہ اے خرابی تیری تو ایمان لے آ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر کہتا ہے یہ سب نقلیں ہیں پہلوں کی

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ثابت ہوئی بات عذاب کی شامل اور فرقوں میں جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے بیشک وہ تھے ٹوٹے میں پڑے

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر فرقے کے کئی درجے ہیں اپنے کئے کاموں کے موافق اور تاکہ پورے دے ان کو کام ان کے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

(آیت) وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ سابقہ آیت میں والدین کی خدمت و اطاعت کے احکام تھے اس آیت میں اس شخص کا عذاب و سزا مذکور ہے جو اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی، بدزبانی سے پیش آئے، خصوصاً جبکہ والدین اس کو اسلام اور اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتے ہوں ان کی بات نہ ماننا دوہرا گناہ ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مفہوم آیت کا عام ہے جو شخص بھی اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے وہ اس کا مصداق ہے۔ مروان نے جو اس آیت کا مصداق حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو اپنے کسی خطبے میں کہا تھا اس کی تکذیب صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے منقول ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ مفہوم آیت کا عام ہے کسی صحیح روایت میں کسی فرد کا مصداق آیت ہونا منقول نہیں۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور ہر فرقے کے کئی درجے ہیں اپنے کئے کاموں کے موافق اور تاکہ پورے دے ان کو کام ان کے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

(آیت) اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا یعنی کفار کو خطاب کر کے یہ کہا جائے گا کہ تم نے اگر کچھ اچھے کام دنیا میں کئے تھے تو ان کا بدلہ بھی تمہیں دنیوی نعمتوں اور عیش و عشرت کی صورت میں دیا جا چکا ہے اب آخرت میں تمہارا کچھ حصہ باقی نہیں رہا۔ یہ خطاب کفار کو ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے نیک اعمال جو ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک مقبول نہیں آخرت میں تو ان کی کوئی قیمت نہیں مگر دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ اس کو دیدیتے ہیں۔ کفار فجار کو مال و دولت اور عزت وجاہت وغیرہ جو دنیا میں ملتا ہے وہ ان کے نیک اعمال، سخاوت، ہمدردی، سچائی وغیرہ کا بدلہ ہوتا ہے۔ مؤمنین کے لئے یہ حکم نہیں ہے کہ اگر ان کو دنیا میں کوئی نعمت مال و دولت وغیرہ مل جائیں تو آخرت کے حق سے محروم ہوجائیں۔ لذائذ دنیا اور تنعم سے پرہیز کی ترغیب۔ اس آیت میں کفار کو عتاب و عقاب ان کے دنیوی لذتوں میں منہمک رہنے کی بناء پر کیا گیا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ وتابعین نے لذائذ دنیا کو ترک کرنے کی عادت بنا لی جیسا کہ ان کی سیرت اس پر شاہد ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کے وقت یہ وصیت فرمائی تھی کہ دنیا کے تنعم سے پرہیز کرتے رہنا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تھوڑا رزق لینے پر راضی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوجاتے ہیں۔ (مظہری عن البغوی)
Ayahs 46:21–26

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور یاد کر عاد کے بھائی کو جب ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور گزر چکے تھے ڈرانے والے اس کے آگے سے اور پیچھے سے کہ بندگی نہ کرو کسی کی اللہ کے سوائے میں ڈرتا ہوں تم پر آفت سے ایک بڑے دن کی

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

بولے کیا تو آیا ہے ہمارے پاس کہ پھیر دے ہم کو ہمارے معبودوں سے سو لے آ ہم پر جو وعدہ کرتا ہے اگر ہے تو سچا

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

کہا یہ خبر تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو پہنچا دیتا ہوں جو کچھ بھیج دیا میرے ہاتھ لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ نادانی کرتے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب دیکھا اس کو ابر سامنے آیا ان کے نالوں کے بولے یہ ابر ہے ہم پر برسے گا کوئی نہیں یہ تو وہ چیز ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے ہوا ہے جس میں عذاب ہے درد ناک

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

اکھاڑ پھینکے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے پھر کل کو رہ گئے کہ کوئی نظر نہیں آتا تھا سوائے ان کے گھروں کے یوں ہم سزا دیتے ہیں گنہگار لوگوں کو

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے مقدور دیا تھا ان کو ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا اور ہم نے ان کو دیئے تھے کان اور آنکھیں اور دل پھر کام نہ آئے ان کے کان ان کے اور نہ آنکھیں ان کی اور نہ دل ان کے کسی چیز میں اس لئے کہ منکر ہوتے تھے اللہ کی باتوں سے اور الٹ پڑی ان پر جس بات سے کہ وہ ٹھٹھا کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس جملہ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ کا بیچ میں بڑھا دینا ان فوائد کے لئے ہے کہ مضمون دعوت کی تاکید ہوجائے اور ہود ؑ نے انداز میں یہ فرمایا کہ) مجھ کو تم پر ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے (اگر اس سے بچنا ہے تو توحید قبول کرلو) وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس ارادے سے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو سو (ہم تو پھرنے والے ہیں نہیں باقی) اگر تم سچے ہو تو جس (عذاب) کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اس کو ہم پر واقع کردو۔ انہوں نے فرمایا کہ پورا علم تو خدا ہی کو ہے (کہ عذاب کب تک آوے گا) اور مجھ کو تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے میں تم کو وہ پہنچا دیتا ہوں (چنانچہ اس میں مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ تم پر عذاب آوے گا میں نے تم کو اطلاع کردی، اس سے زیادہ نہ مجھ کو علم ہے اور نہ قدرت) لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کرتے ہو (کہ ایک تو توحید کو قبول نہیں کرتے پھر اپنے منہ سے بلا مانگتے ہو، پھر مجھ سے اس کی فرمائش کرتے ہو۔ البتہ اپنے صدق کا میں مدعی ہوں جس پر دلیل قائم کرچکے ہیں اور جس واقعہ میں تم کو شبہ ہے اس کا وقت وقوع مجھ کو نہیں بتلایا گیا ہاں نفس وقوع کو جب اللہ چاہے دیکھ لیتا ہے غرض جب کسی طرح انہوں نے حق کو قبول نہ کیا تو اب عذاب کا اس طرح سامان شروع ہوا کہ اول ایک بادل اٹھا) سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا (ارشاد ہوا کہ) نہیں (برسنے والا بادل نہیں) بلکہ یہ وہی (عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے (کہ وہ عذاب جلدی لاؤ اور اس بال میں) ایک آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے وہ (آندھی) ہر چیز کو (جس کے ہلاک کرنے کا حکم ہوگا) اپنے رب کے حکم سے ہلاک کر دیگی چناچہ (وہ آندھی) ہر چیز کو جس کے ہلاک کرنے کا حکم ہوگا) اپنے رب کے حکم سے ہلاک کر دیگی چناچہ (وہ آندھی چھٹتی اور آدمیوں کو اور مواشی کو اٹھا اٹھا کر پٹک دیتی تھی جس سے) وہ ایسے (تباہ) ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ (آدمی اور حیوان) نہ دکھلائی دیتا تھا، ہم مجرموں کو یوں ہی سزا دیا کرتے ہیں اور ہم نے ان کو (یعنی قوم عاد کے) لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی (مراد ان باتوں سے وہ تصرفات ہیں جو قوت جسمانی و مالی پر موقوف ہیں) اور ہم نے ان کو کان اور آنکھ اور دل (سب ہی کچھ) دیئے تھے، سو چونکہ وہ لوگ آیات الہیہ کا انکار کرتے تھے اس لئے (جب ان پر عذاب آیا ہے تو) نہ ان کے کان ان کے ذرا کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا (یعنی نہ ان کے حواس ان کو عذاب سے بچا سکے اور نہ ان کی تدبیر جس کا ادراک قلب سے ہوتا ہے، نہ ان کی قوت پس تمہاری تو کیا حقیقت ہے)
Ayahs 46:27–28

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم غارت کرچکے ہیں جتنی تمہارے آس پاس ہیں بستیاں اور طرح طرح سے پھیر کر سنائیں ان کو باتیں تاکہ وہ لوٹ آئیں

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ مدد پہنچی ان کو ان لوگوں کی طرف سے جن کو پکڑا تھا اللہ سے ورے معبود بڑے درجے پانے کو کوئی نہیں گم ہوگئے ان سے اور یہ جھوٹ تھا ان کا اور جو اپنے جی سے باندھتے تھے۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات اوپر قوم عاد کا قصہ تفصیلاً مذکور تھا، آگے دوسری ایسی ہی قوموں کا ذکر ہے جن پر کفر اور مخالفت انبیاء کی وجہ سے عذاب آئے اور ہلاک ہوئے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں بھی اہل مکہ کے سفروں کے وقت راستے میں آتی تھیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا اجمالی حال آیات مذکورہ میں آیا ہے۔ اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی (اس کفر و شرک کے سبب) غارت کی ہیں (جیسے ثمود و قوم لوط کہ ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزرتے تھے اور چونکہ مکہ سے ایک طرف یمن ہے دوسری جہت میں شامل ہے اس لئے ما حولکم فرما دیا) اور ہم نے (ہلاک کرنے سے پہلے ان کی فرمائش کے لئے) بار بار اپنی نشانیاں (ان کو) بتلا دی تھیں تاکہ وہ (کفر و شرک سے (باز آئیں (مگر باز نہ آئے اور ہلاک ہوئے) سو خدا کے سوا جن جن چیزوں کو انہوں نے خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا (کہ یہ مصیبت میں ہمارے کام آویں گے ہلاکت و عذاب کے وقت) انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی بلکہ وہ سب ان سے غائب ہوگئے اور وہ (معبود اور شفیع سمجھنا) محض ان کی تراشی ہوئی اور گھڑی ہوئی بات ہے (اور کہیں واقع میں وہ شفیع یا معبود تھوڑا ہی تھے۔)