Ayah 46:29خلاصہ تفسیر
اور (ان سے) اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جبکہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے جو (اخیر میں یہاں پہنچ کر) قرآن سننے لگے تھے غرض جب وہ لوگ قرآن (کے پڑھے جانے کے موقع) کے پاس آپہنچے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو (اور اس کلام کو سنو) پھر جب قرآن پڑھا جا چکا (یعنی جتنا اس وقت پیغمبر ﷺ کو نماز میں پڑھنا تھا ختم ہوچکا) تو وہ لوگ (اس پر ایمان لے آئے اور) اپنی قوم کے پاس (اسکی) خبر پہنچانے کے واسطے واپس گئے (اور جا کر ان سے) کہنے لگے اے بھائیو ہم ایک (عجیب) کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور دین) حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے (یہ تو دین اسلام کی حقانیت کا اثبات و اظہار ہے، آگے امر ہے اس کے قبول کرنے کا اول ترغیباً پھر تھیباً یعنی) اے بھائیو تم اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو (مراد داعی سے قرآن یا نبی ذیشان ہیں) اور (کہنا ماننا یہ ہے کہ) اس پر ایمان لے آؤ تم ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو عذاب درد ناک سے محفوظ رکھے گا اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانے گا تو وہ زمین (کے کسی حصہ) میں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتا (یعنی اس طرح کہ ہاتھ نہ آئے) اور (جیسا وہ خود نہیں بچ سکتا اسی طرح) خدا کے سوا اور کوئی اس کا حامی بھی نہ ہوگا (کہ وہ اس کو بچا سکے اور) ایسے لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں (کہ بوجود قیام دلائل کے داعی کے حق ہونے پر پھر بھی اس کی اجابت نہ کریں۔
معارف و مسائل
کفار مکہ کو سنانے کے لئے اس سے پہلی آیات میں کفر اور استکبار کی مذمت اور انکا مہلک ہونا بیان ہوا ہے۔ مذکور الصدر آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب تو تکبر و غرور میں تم سے بھی زیادہ ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل بھی موم ہوگئے وہ مسلمان ہوگئے تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور بخشا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے اور واقعہ جنات کے قرآن سننے اور ایمان لانے کا احادیث صحیحہ میں اس طرح آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت جب جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا تو آپ کی نبوت و بعثت کے بعد جو جن آسمانی خبریں سننے کے لئے اوپر جاتا تو اس پر شہاب ثاقب پھینک کر دفع کردیا جانے لگا۔
جنات میں اس کا تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب معلوم کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کی وجہ سے جنات کو آسمانی خبروں سے روک دیا گیا۔ جنات کے مختلف گروہ دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی تحقیقات کے لئے پھیل گئے، ان کا ایک گروہ حجاز کی طرف بھی پہنچا اس روز آنحضرت ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ مقام بطن نخلہ میں تشریف فرما تھے اور سوق عکاظ کی طرف جانے کا قصد تھا۔ (عرب کے لوگ تجارتی اور معاشرتی امور کے لئے مختلف مقامات پر خاص خاص ایام میں بازار لگاتے تھے جس پر ہر خطے کے لوگ جمع ہوتے دکانیں لگتیں اور اجتماعات اور جلسے ہوتے تھے جیسے ہمارے زمانے میں اسی طرح کی نمائشیں جا بجا ہوتی ہیں، انہیں میں سے ایک بازار مقام عکاظ میں لگتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ غالباً دعوت و تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے جا رہے تھے) اس مقام بطن نحلہ میں آپ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے کہ وہ جنات یہاں پہنچے، قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات یہی ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے (رواہ الامام احمد والبخاری و مسلم والترمذی و النسائی و جماعتہ عن ابن عباس)
اور ایک روایت میں ہے کہ وہ جنات جب یہاں آئے تو باہم کہنے لگے کہ خاموش ہو کر قرآن سنو، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو اسلام کی حقانیت پر یقین و ایمان لا کر اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور ان کو اس واقعہ کے اصلی سبب کی اور اس کی خبر دی کہ ہم تو مسلمان ہوگئے تم کو بھی چاہئے کہ ایمان لے آؤ، مگر رسول اللہ ﷺ کو ان جنات کے آنے جانے اور قرآن سن کر ایمان لے آنے کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ سورة جن کا نزول ہوا جس میں آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی۔ (رواہ ابن المنذر عن عبدالمالک)
اور ایک روایت میں ہے کہ یہ جنات مقام نصبین کے رہنے والے تھے اور کل نو یا بعض روایات کے مطابق سات تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو یہ خبر سنائی اور ایمان لانے کی ترغیب دی تو پھر ان میں سے تین سو اشخاص اسلام لانے کے لئے حاضر خدمت ہوئے (رواہ ابو نعیم والواقدی عن کعب الاحبار والروایات کلہا فی الروح) اور دوسری حدیثوں میں جنات کے آنے کی روایت دوسری طرح کی بھی آئی ہیں مگر چونکہ یہ متعدد واقعات مختلف اوقات میں پیش آئے ہیں اس لئے کوئی تعارض نہیں اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو طبرانی نے اوسط میں اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بار بار حاضر ہوئے۔
خفاجی نے فرمایا کہ احادیث کی روایات جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر استفادہ کرنے کے واقعات چھ مرتبہ پیش آئے ہیں (کذا فی الروح واخذتہ عن بیان القرآن) اسی واقعہ کی تفصیل مذکور الصدر آیات میں بیان کی گئی ہے۔
Ayah 46:30(آیت) كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى اس میں بعد موسیٰ کی قید سے بعض حضرات نے سمجھا ہے کہ یہ جنات یہودی تھے کیونکہ موسیٰ ؑ کے بعد تو عیسیٰ ؑ پر انجیل نازل ہوئی اس کا ذکر نہیں کیا لیکن اس کی کوئی صریح روایت تو ہے نہیں اور انجیل کا ذکر نہ کرنے سے ان کے یہودی ہونے پر استدلال ناکافی ہے کیونکہ انجیل کے ذکر نہ کرنے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انجیل اکثر احکام میں تورات کے تابع ہے اور قرآن مثل تورات کے مستقل کتاب ہے اس کے احکام و شرائع تورات سے بہت مختلف ہیں تو یہ ہوسکتا ہے کہ مقصود یہ بتلانا ہو کہ تورات جیسی کتاب مستقل قرآن ہی ہے۔
Ayahs 46:31–32(آیت) يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ حرف من اصل میں تبعیض یعنی جزئیت کے معنی کے لئے آتا ہے اگر یہی معنی یہاں لئے جائیں تو حرف من کے بڑھانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلام قبول کرلینے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ فرمانا مناسب ہوا کہ بعض گناہ یعنی حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حرف من کو زائد قرار دیا ہے تو اس توجیہ کی ضرورت نہیں رہتی۔
Ayahs 46:33–34خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا وہ اس پر (بدرجہ اولی) قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو (قیامت میں) زندہ کر دے۔ (اور وہ اس پر قادر) کیوں نہ ہو، بیشک وہ (تو) ہر چیز پر قادر ہے (یہ تو امکان ثابت ہوا) اور جس روز (اس کا وقوع ہوگا اور) کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جاویں گے (اور ان سے پوچھا جاوے گا کہ) کیا یہ دوزخ امر واقعی نہیں ہے جیسا کہ دنیا میں اس کی واقعیت کی نفی کیا کرتے تھے کماقال تعالیٰ عنہم و ما نحن بمعذبین) وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ضرور امر واقعی ہے ارشاد ہوگا (اچھا) اپنے کفر کے بدلہ میں (جسمیں انکار دوزخ بھی آ گیا) اس (دوزخ) کا عذاب چکھو (آگے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کہ جب ان سے انتقام کفر کا لیا جانا معلوم ہوگیا) تو آپ (ویسا ہی) صبر کیجئے جیسا اور ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور ان لوگوں کے لئے (انتقام الٰہی کی) جلدی نہ کیجئے (جس کو آپ مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے چاہتے تھے اور عجیب تر یہ ہے کہ وہ مستحقین عذاب خود جلد بازی کرتے ہیں اور عجب تر ہونا ظاہر ہے کہ مدعی اگر مدعا علیہ کی سزا جلدی چاہے تو بعید نہیں لیکن مدعا علیہ اگر سزا جلدی چاہے تو نہایت امر غریب ہے سو گو حکمت الہیہ سے عذاب فوری نہیں ہوگا لیکن مشاہدہ کے وقت ان پر اس کا وہی اثر ہوگا جو فوری عذاب کا ہوتا ہے کیونکہ) جس روز یہ لوگ اس چیز کو (یعنی عذاب کو) دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (اس وقت غایت شدت عذاب سے ایسا معلوم ہوگا) گویا یہ لوگ دنیا میں) دن بھر میں ایک گھڑی رہے ہیں (یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصیر معلوم ہوگی اور یہی معمول ہوگا کہ فوراً ہی عذاب آ گیا۔ آگے کفار کو تنبیہ ہے کہ) یہ (خدا کی طرف سے اتمام حجت کے لئے) پہنچا دینا ہے (جو رسول اللہ ﷺ کی معرفت ہوچکا) سو (اس کے بعد) وہی برباد ہوں گے جو نافرمانی کریں گے۔ (کیونکہ بعد تبلیغ کے کوئی عذر نہ رہا اور رسول کا اس میں کوئی ضرر نہیں اس سے تاکید تسلیہ کی بھی ہوگئی۔
Ayah 46:35معارف و مسائل
(آیت) اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ اس میں من الرسل کا حرف من محققین کے نزدیک بیانیہ ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ معنی یہ ہیں کہ تمام رسول جو صاحب عزم و ہمت ہی ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ صاحب عزم و ہمت ہونا سبھی انبیاء کی صفت ہے۔ البتہ رسولوں کے درمیان صفات کے درجات میں تفاضل اور کمی بیشی خود قرآن کے ارشاد سے ثابت ہے (آیت) تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض اس لئے جو انبیاء (علیہم السلام) صفت عزم و ہمت میں دوسروں سے زیادہ امتیاز رکھتے ہیں خاص ان رسولوں کے لئے یہ لقب کے طور پر مشہور ہوگیا اور ان کی تعیین میں بھی اختلاف ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ لقب اولو العزم جن کو دیا گیا ہے یہ وہ حضرات ہیں جن کا ذکر سورة احزاب کی اس آیت میں ہے (آیت) واذا اخذنا من النبین میثاقھم و منک ومن نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم الخ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی عیش و عشرت اور تنعم محمد اور آل محمد کے شایان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اولو العزم سے بجز صبر کے اور کسی چیز پر راضی نہیں اور مجھے یہی حکم دیا ہے کہ فاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
تمت سورة الاحقاف بعون اللہ للثانی و العشرین من رجب 1392 ھ یوم السبت وللہ الحمد