45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsمعارف القرآن

Ayah 45:1
حم، یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے (اور جب یہ ایسی کتاب ہے تو اس کے مضامین کو خوب توجہ سے سننا چاہیے، چناچہ اس مقام پر ایک مضمون تو توحید کا ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے (استدلال کے) لئے بہت سے دلائل (قدرت اور توحید کے) ہیں اور (اسی طرح) خود تمہارے اور ان حیوانات کے پیدا کرنے میں جن کو (زمین پر) پھیلا رکھا ہے (نیز) دلائل (قدرت و توحید) ہیں ان لوگوں کے (سمجھنے کے) لئے جو یقین رکھتے ہیں اور (اسی طرح) یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں اور (اسی طرح) اس (مادہ) رزق میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا (مراد بارش ہے) پھر اس (بارش) سے زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے اور (اسی طرح) ہواؤں کے بدلنے میں (باعتبار سمت اور کیفیت کے کہ کبھی پروا ہے کبھی پچھوا، کبھی گرم ہے کبھی سرد، غرض ان سب چیزوں میں) دلائل (قدرت و توحید موجود) ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں (اس سے توحید پر استدلال کا طریقہ پارہ دوم (آیت) ان فی خلق السموات الخ میں گزر چکا ہے اور دوسرا مضمون نبوت کا ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں (جس سے نبوت ثابت ہوتی ہے لیکن اتنی بڑی دلیل معجز کے باوجود بھی اگر یہ لوگ نہیں مانتے) تو پھر اللہ اور اس کی (ایسی) آیتوں کے بعد اور کون سی بات (اس سے بڑھ کر ہوگی جس) پر یہ لوگ ایمان لاویں گے (اور تیسرا مضمون آخرت کا ہے جس میں ان مخالفین حق کو سزا بھی ہوگی جس کا بیان یہ ہے کہ) بڑی خرابی ہوگی ہر ایسے شخص کے لئے جو (عقائد سے متعلق اقوال میں) جھوٹا ہو (اور اعمال میں) نافرمان ہو جو (باوجودیکہ) خدا کی آیتوں کو سنتا (بھی) ہے جبکہ وہ اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں (اور) پھر بھی وہ تکبر کرتا ہوا (اپنے کفر پر) اس طرح اڑا رہتا ہے جیسے اس نے ان (آیتوں) کو سنا ہی نہیں، سو ایسے شخص کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنا دیجیے (اور اس شخص کی شرارت کا یہ حال ہے کہ) جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے (آخرت میں) ذلت کا عذاب (ہونے والا) ہے (مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے، آگے اس عذاب کی تعیین ہے یعنی) ان کے آگے جہنم (آرہا) ہے اور (اس وقت) نہ تو اس کے وہ چیزیں ذرا کام آویں گی جو (دنیا میں) کما گئے تھے (اس میں اموال اور اعمال سب آگئے) اور نہ وہ (کام آویں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کار ساز (اور معبود) بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا (اور وجہ اس عذاب کی یہ ہے کہ) یہ قرآن سراسر ہدایت (اور واجب التسلیم ہے) اور (اس کا مقتضا یہی ہے کہ) جو لوگ اپنے رب کی (ان) آیتوں کو نہیں مانتے ان کے لئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمتوں والا

معارف و مسائل یہ پوری سورت مکی ہے، صرف ایک قول یہ ہے کہ (آیت) قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ مدنی ہے اور باقی مکی، لیکن جمہور کے قول کے مطابق پوری سورت قبل الہجرة ہی نازل ہوئی ہے اور دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا بنیادی مضمون عقائد ہی کی اصلاح ہے، چناچہ اس میں توحید، رسالت اور آخرت کے عقاد ہی کو مختلف طریقوں سے مدلل کیا گیا ہے، خاص طور سے آخرت کے اثبات کے دلائل، منکرین کے شبہات اور دہریوں کی تردید اس میں زیادہ تفصیل سے آئی ہے۔
Ayahs 45:3–6

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں میں اور زمین میں بہت نشانیاں ہیں ماننے والوں کے واسطے

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے بنانے میں اور جس قدر پھیلا رکھے ہیں جانور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو یقین رکھتے ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور بدلنے میں رات دن کے اور وہ جو اتاری اللہ نے آسمان سے روزی پھر زندہ کردیا اس سے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد اور بدلنے میں ہواؤں کے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو سمجھ سے کام لیتے ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ باتیں ہیں اللہ کی ہم سناتے ہیں تجھ کو ٹھیک ٹھیک پھر کونسی بات کو اللہ اور اس کی باتوں کو چھوڑ کر مانیں گے

(آیت) اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ ان آیات سے توحید کا اثبات مقصود ہے۔ اس سے ملتی جلتی آیتیں دوسرے پارے کے رکوع (آیت) ان فی خلق السموت والارض۔ میں گزر چکی ہیں۔ وہیں ان کی مفصل تفسیر مذکور ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں سے توحید کیونکہ ثابت ہوتی ہے دونوں مقامات میں عنوان کا جو تھوڑا تھوڑا فرق ہے اس سے متعلق نکات اہل علم امام رازی کی تفسیر کبیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں ”ایمان لانے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں، دوسری جگہ ا رشاد ہے کہ ”یقین کرنے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں اور تیسری جگہ ارشاد ہے کہ ”عقل رکھنے والوں“ کے لئے نشانیاں ہیں اس میں اسلوب کے تنوع کے علاوہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان نشانیوں سے پورا فائدہ تو وہی اٹھا سکتے ہیں جو ایمان لے آئیں۔ دوسرے نمبر پر یہ ان لوگوں کے لئے مفید ہو سکتی ہیں جو خواہ فوراً ایمان نہ لائیں لیکن ان کے دل میں یقین پیدا ہوجائے کہ یہ چیزیں توحید پر دلالت کر رہی ہیں کیونکہ یہ یقین کسی نہ کسی دن ایمان کا سبب بن سکتا ہے اور تیسرے درجہ میں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں جو خواہ فی الحال نہ مومن ہوں نہ یقین رکھنے والے، لیکن عقل سلیم رکھتے ہوں اور ان میں بصیرت کے ساتھ غور کریں۔ کیونکہ عقل و بصیرت کے ساتھ جب بھی ان نشانیوں پر غور کیا جائے گا بالاخر اس سے ایمان و یقین ضرور پیدا ہو کر رہے گا۔ ہاں جو لوگ عقل سلیم نہ رکھتے ہوں یا ان معاملات میں عقل کو تکلیف دینا ہی گوارا نہ کریں ان کے سامنے ہزار دلائل پیش کرلیجئے۔ سب ناکافی رہیں گے۔
Ayahs 45:7–9

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

خرابی ہے ہر جھوٹے گنہگار کے لئے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ سنتا ہے باتیں اللہ کی کہ اس کے پاس پڑھی جاتی ہیں پھر ضد کرتا ہے غرور سے گویا سنا ہی نہیں سو خوشخبری سنا دے اس کو ایک عذاب درد ناک کی

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب خبر پائے ہماری باتوں میں سے کسی کی اس کو ٹھہرائے ٹھٹھا ایسوں کو ذات کا عذاب ہے

(آیت) وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ ، (بڑی خرابی ہوگی اس شخص کے لئے جو جھوٹا اور نافرمان ہو) اس آیت کے شان نزول میں متعدد روایات ہیں۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، بعض میں ہے کہ حارث بن کلدہ کے بارے میں اور بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل اور اس کے اصحاب ہیں (قرطبی) اور درحقیقت قرآنی مفہوم کی تشریح کے لئے کسی ایک شخص کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں ”کل“ کا لفظ بتارہا ہے کہ خواہ نزول آیت کے پس منظر میں یہ تینوں افراد ہوں لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو ان جیسی صفات کا حامل ہو۔
Ayahs 45:10–11

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

پرے ان کے دوزخ ہے اور کام نہ آئے گا ان کے جو کمایا تھا ذرا بھی اور نہ وہ کہ جن کو پکڑا تھا اللہ کے سوائے رفیق اور ان کے واسطے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ سمجھا دیا اور جو منکر ہیں اپنے رب کی باتوں سے ان کے لئے عذاب ہے ایک بلا کا درد ناک۔

(آیت) مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ، ”ورائ“ کا لفظ عربی میں ”پیچھے“ کے لئے زیادہ اور ”سامنے“ کیلئے کم استعمال ہوتا ہے لیکن اکثر مفسرین نے یہاں ”سامنے“ کے معنی قرار دیئے ہیں۔ چناچہ خلاصہ تفسیر میں ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے البتہ بعض مفسرین نے ’ پیچھے ‘ کے معنی لئے ہیں اور مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دنیا میں وہ جس نخوت وتکبر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کے پیچھے یعنی بعد میں جہنم آنیوالی ہے (قرطبی)
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بس میں کردیا تمہارے دریا کو کہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں سب کو اپنی طرف سے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو دھیان کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) لئے دریا کو مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس کے حکمل سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ (ان کشتیوں میں سفر کر کے) تم اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (وہ روزی حاصل کر کے) تم شکر کرو اور (اسی طرح) جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں، ان سب کو اپنی طرف سے (یعنی اپنے حکم اور فضل سے) مسخر (قدرت) بنایا (تاکہ تمہارے منافع کا سبب ہو) بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل (قدرت) ہیں جو غور کرتے رہتے ہیں (اور کفار کی شرارتوں پر بعض اوقات مسلمانوں کو غصہ آ جایا کرتا تھا، آگے ان کو درگزر کرنے کا حکم ہے) آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا تعالیٰ کے معاملات (یعنی آخرت کی جزا و سزا) کا یقین نہیں رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو (یعنی مسلمانوں کو) ان کے (اس) عمل (نیک) کا (اچھا) صلہ دے (کیونکہ وہاں کا قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو شخص نیک کام کرتا ہے سو اپنے ذاتی نفع (وثواب) کے لئے (کرتا ہے) اور جو شخص برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے پھر (سب نیک اور بد کام کرنے کے بعد) تم کو اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہے (پس وہاں تم کو تمہارے اچھے اعمال و اخلاق کا بہترین صلہ اور تمہارے مخالفین کو ان کے کفر و معاصی پر بدترین سزا دی جائیگی۔ لہٰذا تم کو یہاں درگزر ہی مناسب ہے۔) معارف و مسائل (آیت) اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ۔ قرآن کریم میں فضل تلاش کرنے سے مراد عموماً کسب معاش کی جدوجہد ہوتی ہے۔ یہاں اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہیں سمندر میں کشتی رانی پر اس لئے قدرت دی گئی تاکہ اس کے ذریعہ تم تجارت کرسکو اور یہ بھی ممکن ہے کہ فضل تلاش کرنے کا کشتی رانی سے کوئی تعلق نہ ہو بلکہ یہ تسخیر بحر کی ایک مستقل قسم ہو اور مطلب یہ ہو کہ سمندر میں ہم نے بہت سی نفع بخش چیزیں پیدا کر کے سمندر کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم انہیں تلاش کر کے نفع اٹھاؤ چناچہ جدید سائنس کی رو سے یہ معلوم ہے کہ سمندر میں اس قدر معدنی ذخائر اور زمین کی پوشیدہ دولتیں ہیں کہ اتنی خشکی میں بھی نہیں ہیں۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

کہہ دے ایمان والوں کو درگزر کریں ان سے جو امید نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی تاکہ وہ سزا دے ایک قوم کو بدلہ اس کا جو کماتے تھے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے بھلا کام کیا تو اپنے واسطے اور جس نے برا کیا سو اپنے حق میں پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے۔

(آیت) قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّام اللّٰهِ (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) اس آیت کے شان نزول میں دو روایت میں ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ مکرمہ میں کسی مشرک نے حضرت عمر ؓ پر دشنام طرازی کی تھی۔ حضرت عمر نے اس کے بدلے میں اسے کچھ تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے مطابق یہ آیت مکی ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ غزوہ بنو المصطلق کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مریسیع نامی ایک کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی بھی مسلمانوں کے لشکر میں شامل تھا اس نے اپنے غلام کو کنوئیں سے پانی بھرنے کے لئے بھیجا، اسے واپسی میں دیر ہوگئی۔ عبداللہ بن ابی نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ حضرت عمر کا ایک غلام کنوئیں کے ایک کنارے پر بیٹھا ہوا تھا اس نے کسی کو اس وقت تک پانی بھرنے کی اجازت نہیں دی جب تک کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کے مشکیزے نہیں بھر گئے اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ”ہم پر اور ان لوگوں پر تو وہی مثل صادق آتی ہے سمن کلبک یاکلک (اپنے کتے کو موٹا کرو تو وہ تم کو کھا جائے گا)“ حضرت عمر کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ تلوار سنبھال کر عبداللہ بن ابی کی طرف چلے، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس روایت کے مطابق یہ آیت مدنی ہے (قرطبی و روح المعانی) ان روایتوں کی اسنادی تحقیق سے اگر دونوں کی صحت ثابت ہو تو دونوں میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ دراصل یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکی تھی، پھر جب غزوہ بنو المصطلق کے موقع پر اسی سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا تو آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو اس موقع پر بھی تلاوت فرما کر واقعہ کو اس پر بھی منطبق فرمایا اور شان نزول کی روایات میں ایسا بکثرت ہوا ہے یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ یاد دہانی کے لئے غزوہ بنوالمصطلق کے واقعہ میں دوبارہ یہ آیت لے آئے ہوں کہ یہ موقع اس آیت پر عمل کرنے کا ہے۔ اصول تفسیر کی اصطلاح میں اسے ”نزول مکرر“ کہا جاتا ہے اور آیت میں ایام اللہ کے لفظ سے مراد بیشتر مفسرین کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے وہ معاملات ہیں جو وہ آخرت میں انسانوں کے ساتھ کرے گا یعنی جزا و سزا کیونکہ ”ایام ‘ کا لفظ ”واقعات و معاملات“ کے معنی میں عربی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ یہاں دوسری بات یہ قابل غور ہے کہ بات یوں بھی کہی جاسکتی تھی کہ ”آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ مشرکین سے درگزر کریں۔“ اس کے بجائے کہ یوں کہا گیا ہے کہ ”ان لوگوں سے درگزر کریں، جو خدا تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے۔“ اس سے شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ان لوگوں کو اصل سزا آخرت میں دی جائے گی اور چونکہ یہ لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے اس لئے یہ سزا ان کے لئے غیر متوقع اور اچانک ہوگی اور غیر متوقع تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے اسلئے ان کو پہنچنے والا عذاب بہت سخت ہوگا اور اس کے ذریعہ ان کی تمام بدعنوانیوں کا پورا پورا بدلہ لے لیا جائے گا۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے دی بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور پیغمبری اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں اور بزرگی دی ان کو جہان پر

خلاصہ تفسیر اور (نبوت کوئی انوکھی چیز نہیں جو اس کا انکار کیا جائے، چناچہ اس کے قبل) ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (آسمانی) اور حکمت (یعنی علم احکام) اور نبوت دی تھی (یعنی ان میں انبیاء پیدا کئے تھے) اور ہم نے ان کو نفیس نفیس چیزیں کھانے کو دی تھیں (اس طرح کہ میدان تیہ میں من وسلویٰ نازل کیا اور ان کو ملک شام کا مالک بنایا جو برکات ارضیہ کا معدن ہے) اور ہم نے (بعض امور میں مثلاً سمندر کو چیر دینا، ابر کا سایہ کرنا وغیرہ) ان کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں کھلی کھلی دلیلیں دیں (یعنی ان کو بڑے صریح معجزات دکھلائے، غرض حسی معنوی، علمی ہر طرح کی نعمتیں دیں) سو (چاہئے تو یہ تھا کہ خوب اطاعت کرتے مگر) انہوں نے علم ہی کے آنے کے بعد باہم اختلاف کیا بوجہ آپس کی ضدا ضدی کے (جس کا بیان پارہ دوم رکوع (آیت) سل بنی اسرائیل الخ میں ہوچکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو علم اختلافات ختم کرنے کا سبب ہونا چاہئے تھا انہوں نے نفسا نفسی ان امور میں (عملی) فصلہ کر دے گا جن میں یہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے، پھر (بنی اسرائیل میں دور نبوت ختم ہونے کے بعد) ہم نے آپ کو (نبوت دی اور آپ کو) دین کے ایک خاص طریقے پر کردیا، سو آپ اسی طریقے پر چلے جائیے (یعنی عمل میں بھی اور تبلیغ میں بھی) اور ان جہلاء کی خواہشوں پر نہ چلئے (یعنی ان کی خواہش تو یہ ہے کہ آپ تبلیغ ترک کردیں اور اسی لئے یہ طرح طرح سے پریشان کرتے ہیں تاکہ آپ تنگ ہو کر تبلیغ چھوڑ دیں۔ سو آپ سے گو یہ احتمال نہیں مگر امر تبلیغ کے اہتمام کے لئے آپ کو پھر اس کا حکم ہوتا ہے۔ آگے اسی طرز پر اس حکم کی علت فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ خدا کے مقابلے میں آپ کے ذرا کام نہیں آسکتے (پس ان کا اتباع نہ ہونے پائے) اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں (اور ایک دوسرے کا کہنا مانتے ہیں) اور اللہ دوست ہے اہل تقویٰ کا (اور اہل تقویٰ اس کا کہنا مانا کرتے ہیں۔ سو جب آپ ظالم نہیں ہیں بلکہ سردار متقین ہیں تو آپ کو ان کی اتباع سے کیا نسبت ؟ البتہ احکام الٰہی کی اتباع سے خاص نسبت ہے، غرض آپ صاحب نبوت و شریعت حقہ ہیں اور) یہ قرآن (جو آپ کو ملا ہے یہ) عام لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور یقین (یعنی ایمان) لانے والوں کے لئے بڑی رحمت (کا سبب) ہے۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دیں ان کو کھلی باتیں دین کی پھر انہوں نے پھوٹ جو ڈالی سمجھ آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں وہ جھگڑتے تھے

معارف و مسائل ان آیات کا موضوع آنحضرت ﷺ کی رسالت کا اثبات ہے اور اس کے ضمن میں کفار کی ایذا رسانیوں پر آپ کی تسلی بھی فرمائی گئی ہے۔ (آیت) اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ الخ یہاں تک کے مضمون آیات سے دو باتیں مستفاد ہوئیں، ایک تو بنی اسرائیل کو کتاب و نبوت دینے سے آپ کی نبوت کی تائید، دوسرے آپ کی تسلی کہ بنی اسرائیل کو اختلاف کی وجہ جو پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ اختلاف کرنے میں پیش آئی ہے یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ کے دلائل میں کچھ کمی ہو پس آپ غم نہ کریں۔ (بیان القرآن)
Ayahs 45:18–20

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک رستہ پر دین کے کام کے سو تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

وہ ہرگز کام نہ آئیں گے تیرے اللہ کے سامنے ذرا بھی اور بےانصاف ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ رفیق ہے ڈرنے والوں کا

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ سوجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے واسطے اور راہ کی اور رحمت ہے ان لوگوں کے جو یقین لاتے ہیں۔

پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لئے۔ (آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقے پر کردیا یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ دین اسلام کے چھ تو اصولی عقائد ہیں مثلاً توحید و آخرت وغیرہ اور کچھ عملی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔ جہاں تک اصولی عقائد کا تعلق ہے وہ تو ہر نبی کی امت میں یکساں رہے ہیں اور ان میں کبھی ترمیم اور تبدیلی نہیں ہوئی لیکن عملی احکام مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہیں، آیت مذکورہ میں انہی دوسری قسم کے احکام کو ”دین کے ایک خاص طریقے“ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اسی وجہ سے فقہاء نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہا مت محمدیہ کے لئے صرف شریعت محمدی ہی کے احکام واجب العمل ہیں۔ پچھلی امتوں کو جو احکام دیئے گئے تھے وہ ہمارے لئے اس وقت تک واجب العمل نہیں ہیں جب تک قرآن و سنت سے ان کی تائید نہ ہوجائے۔ پھر تائید کی ایک شکل تو یہ ہے کہ قرآن یا حدیث میں صراحتہ یہ فرمایا گیا ہو کہ فلاں نبی کی امت کا یہ حکم ہمارے لئے بھی واجب العمل ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ قرآن کریم یا آنحضرت ﷺ کسی پچھلی امت کا کوئی حکم بطور تحسین و مدح بیان فرمائیں اور اس کے بارے میں یہ نہ فرمائیں کہ یہ حکم ہمارے زمانے میں منسوخ ہوگیا ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حکم ہماری شریعت میں بھی جاری ہے اور درحقیقت اس حکم کا واجب العمل ہونا بھی اس صورت میں شریعت محمدی کا ایک جز ہونے کی حیثیت ہی سے ہوتا ہے۔ یہاں اتنی بات مسئلہ کی حقیقت سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ تفصیلات اصول فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
Ayahs 45:21–22

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں جنہوں نے کمائی ہیں برائیاں کہ ہم کردیں گے ان کو برابر ان لوگوں کے جو کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام ایک سا ہے ان کا جینا اور مرنا برے دعوے ہیں جو کرتے ہیں

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور بنائے اللہ نے آسمان اور زمین جیسے چاہئیں اور تاکہ بدلہ پائے ہر کوئی اپنی کمائی کا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

خلاصہ تفسیر یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ جو برے برے کام (کفر و شرک و ظلم و معصیت) کرتے (رہتے) ہیں، کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے (یعنی مومنین کا مرنا جینا بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جس طرح زندگی میں لذتوں سے بہرہ اندوز نہ ہوئے اسی طرح موت کے بعد بھی محروم رہیں اور اسی طرح کافروں کا مرنا جینا بھی بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جیسے اس زندگی میں عذاب اور تکلیفوں سے بچے رہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی عذاب سے مامون رہیں۔ مطلب یہ کہ انکار معاد سے یہ لازم آتا ہے کہ اطاعت شعار بندوں کو کہیں اطاعت کا پھل نہ ملے اور مخالفین پر کبھی مخالفت کا وبال نہ پڑے) یہ برا حکم لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا (ایک حکمت تو یہ ہے کہ ان عظیم الشان مخلوقات کی تخلیق پر قدرت مشاہدہ میں آجانے سے ہر ذی عقل یہ بھی سمجھ لے گا کہ جو پہلی مرتبہ ان چیزوں کو پیدا کرسکتا ہے وہ ان کو فنا کر کے دوبارہ بھی اسی طرح طرح موجود کرسکتا ہے جس سے قیامت و آخرت کا وجود ثابت ہوتا ہے) اور (دوسری حکمت یہ ہے کہ) تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے (اور یہ سب جانتے ہیں کہ دنیا میں پورا بدلہ ہے نہیں اس لئے آخرت کا ہونا ضروری ہوگیا) اور (اس بدلہ میں) ان پر ظلم نہ کیا جاوے گا۔ معارف و مسائل عالم آخرت اور اس میں جزا و سزا عقلاً ضروری ہے مذکورہ دو آیتوں میں سے پہلی آیت کا حاصل ایک عقلی استدلال ہے روز جزا کے ضروری ہونے پر وہ یہ ہے کہ یہ بات تو ہر شخص کے مشاہدہ میں ہے کسی کو اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ دنیا میں اچھے برے اعمال کا بدلہ پورا نہیں ملتا، بلکہ عام طور سے کفار، فجار، دولت دنیا اور عیش و عشرت میں زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کے اطاعت شعار بندے فقر و فاقہ اور مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں۔ اول تو دنیا میں بدکردار مجرموں کے جرم کا علم ہی اکثر نہیں ہوتا، علم بھی ہوگیا تو اکثر پکڑے نہیں جاتے کبھی پکڑے بھی گئے تو حلال حرام جھوٹ سچ کی پروا کئے بغیر سزا سے بچنے کے راستے ڈھونڈ لیتے ہیں اور سینکڑوں میں کسی ایک کو سزا ہو بھی گئی تو وہ بھی اس کے عمل کی پوری سزا نہیں ہوتی۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے باغی اپنی خواہشات کے پیرو اس دنیا کی زندگی میں دندناتے پھرتے رہتے ہیں اور بیچارے مومن پابند شریعت بہت سی دولت اور لذتوں کو تو حرام سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور مصائب و آفات سے بچنے کے لئے بھی صرف جائز طریقے اختیار کرتے ہیں اس لئے دنیا میں ان کا بڑی راحتوں اور لذتوں سے محروم رہنا ظاہر ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس دنیا میں اعمال کی پوری جزا نہیں ملتی تو اب اگر اس دنیا کے بعد دوسرا عالم آخرت اور اس میں دوبارہ زندگی اور جزا و سزا کا نفاذ نہ ہو تو پھر دنیا میں کسی چوری، ڈاکے، زنا، قتل وغیرہ کو جرم کہنا حماقت کے سوا کیا ہے۔ یہ لوگ تو اکثر دنیا میں بڑی کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ ایک چور ڈاکو رات بھر میں اتنی دولت حاصل کرلیتا ہے جو ایک گریجویٹ سالوں کی ملازمت اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا تو اگر آخرت اور اس کا حساب کتاب کچھ نہ ہو تو اس چور ڈاکو کو اس شریف گریجویٹ سے بہتر اور افضل کہنا پڑے گا جو کوئی ذی عقل گوارا نہیں کرسکتا۔ رہا یہ کہنا کہ ان لوگوں پر دنیا میں سخت سزائیں ہر حکومت میں مقرر ہیں مگر آج کل کا تجربہ یہ بتلارہا ہے کہ مجرم صرف وہ پکڑا جاتا ہے جو بیوقوف ہو، ہوشیار عادی مجرم کے لئے سزا سے بچنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ایک رشوت ہی کا چور دروازہ ان کے فرار کے لئے کافی ہے خلاصہ یہ ہے کہ یا تو یہ تسلیم کیا جائے کہ دنیا میں کوئی بھلائی برائی، نیکی بدی کوئی چیز نہیں، اپنا مطلب جس طرح حاصل ہو وہ عین ثواب ہے مگر اس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں اور جب نیکی بدی کا امتیاز تسلیم کیا جائے تو پھر دونوں کا انجام برابر رہے بلکہ بد اور مجرم نیک سے زیادہ آرام میں رہے، اس کی برابر کوئی ظلم نہیں ہو سکتا۔ اسی کو قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجرم اور غیر مجرم دونوں کو دنیا و آخرت میں برابر کردیا جائے (آیت) سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ یہ نہایت احمقانہ فیصلہ ہے جبکہ دنیا میں نیکی بدی کی جزا سزا پوری نہیں ملتی آخرت کی دوسری زندگی اور اس میں جزا سزا ہونا لازمی ہے۔ دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کی تکمیل کے لئے فرمایا گیا (آیت) وَلِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ، یعنی ظلم و جور کے مٹانے اور انصاف قائم کرنے کے لئے روز جزاء ہونا ضروری ہے۔ رہا یہ شبہ کہ دنیا ہی میں ہر عمل کا بدلہ ا چھا یا برا کیوں نہ نمٹا دیا گیا یہ اس حکمت تکوینی کے خلاف ہے کہ اس عالم کو حق تعالیٰ نے دارالعمل اور دارالامتحان بنایا ہے دارالجزا نہیں بنایا۔ واللہ اعلم
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو جس نے ٹھہرا لیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو اور راہ سے بچلا دیا اس کو اللہ نے جانتا بوجھتا اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور دل پر اور ڈال دی اس کی آنکھ پر اندھیری پھر کون راہ پر لائے اس کو اللہ کے سوائے سو کیا تم غور نہیں کرتے

خلاصہ تفسیر سو کیا (توحید و آخرت کے ان واضح بیانات کے بعد) آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے (کہ جو دل میں آتا ہے اسی کے پیچھے چلتا رہتا ہے) اور خدا تعالیٰ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے (کہ حق کو سنا اور سمجھا بھی مگر نفسانی خواہش کی پیروی سے گمراہ ہوگیا) اور (خدا تعالیٰ نے) اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے (یعنی نفس پرستی کی بدولت قبول حق کی صلاحیت نہایت کمزور ہوگئی) سو ایسے شخص کو بعد خدا کے (گمراہ کردینے کے) کون ہدایت کرے (اس میں تسلی بھی ہے۔ آگے ان منکرین کو زجر کے طور پر خطاب ہے کہ) کیا تم (ان بیانات کو سن کر) پھر بھی نہیں سمجھتے (یعنی ایسا سمجھنا جو نافع ہو۔ اگرچہ عام معنی کے اعتبار سے سمجھتے تھے) اور یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ یوں کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیاوی زندگی کے اور کوئی زندگی (آخرت میں) نہیں ہے ہم (یہی ایک مرنا) مرتے ہیں اور (یہی ایک جینا) جیتے ہیں (مقصود یہ کہ موت کی طرح زندگی بھی دنیا ہی کے ساتھ خاص ہے) اور ہم کو صرف زمانہ (کی گردش) سے موت آجاتی ہے (مطلب یہ کہ زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی قوتیں خرچ ہوتی رہتی ہیں اور ان اسباب طبعیہ سے موت آجاتی ہے اور اسی طرح حیات کا سبب بھی امور طبیعہ ہیں پس جب موت وحیات اسباب طبعیہ کے تابع ہیں اور اسباب طبعیہ آخرت کی زندگی کا تقاضا نہیں کرتے تو آخرت کی زندگی نہ ہوگی) اور ان لوگوں کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں ہے محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں (یعنی اخروی زندگی کی نفی پر کوئی دلیل نہیں) اور (نہ اہل حق کی دلیل کا وہ کچھ جواب دے سکتے ہیں چنانچہ) جس وقت (اس بارہ میں) ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جو مطلوب ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں) تو ان کا (اس پر) بجز اس کے اور کوئی جواب نہیں ہوتا کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے) سامنے لے آؤ اگر تم اس دعوے میں) سچے ہو (اور اس جواب کے سوا کوئی اور جواب نہیں دے سکتے مثلاً یہ کہ کسی دلیل عقلی سے اس کا عقلاً محال ہونا ثابت کردیتے) آپ (ان کے جواب میں) یوں کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو (جب تک چاہتا ہے) زندہ رکھتا ہے پھر (جب چاہے گا) تم کو موت دے گا، پھر قیامت کے دن جس (کے وقوع) میں ذرا شک نہیں تم کو (زندہ کر کے) جمع کرے گا (پس دعویٰ اس روز میں زندہ کرنے کا ہے اور دنیا میں مردوں کو زندہ نہ کرنے سے اس روز میں زندہ کرنے کی نفی لازم نہیں آتی) لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (اور بلادلیل حق کا انکار کرتے ہیں۔) معارف و مسائل (آیت) مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ ، یعنی وہ شخص جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنا لیا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی کافر بھی اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدا یا معبود نہیں کہتا مگر قرآن کریم کی اس آیت نے یہ بتلایا کہ عبادت در حقیقت اطاعت کا نام ہے جو شخص خدا کی اطاعت کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت اختیار کرے وہ ہی اس کا معبود کہلائے گا تو جس شخص کو حلال و حرام اور جائز ناجائز کی پروا نہ ہو خدا تعالیٰ نے جس کو حرام کہا ہے وہ اس میں خدا کا حکم ماننے کے بجائے اپنے نفس کی پیروی کرے تو گو وہ اپنے نفس کو زبان سے اپنا معبود نہ کہے مگر حقیقتہ وہی اس کا معبود ہوا اسی مضمون کو کسی عارف نے ایک شعر میں کہا ہے۔ سو وہ گشت از سجدہ راہ بتاں پیشانیم چند برخود تہمت دین مسلمانی نہم اس میں خواہشات نفسانی کو بتوں سے تعبیر کیا ہے۔ جس نے اپنی خواہشات کو ہی امام و مقتدا بنا لیا اور ان کے پیچھے چلنے لگا تو گویا یہ خواہشات ہی اس کے بت ہیں۔ حضرت ابوامامہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ زیر آسمان دنیا میں جنتے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک ہوی ہے یعنی خواہش نفسانی، حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دانشمند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور ما بعد الموت کے واسطے عمل کرے اور فاجر وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہش کے پیچھے چھوڑ دے اور اس کے باوجود اللہ سے آخرت کی بھلائی کی تمنا کرتا رہے اور حضرت سہل بن عبداللہ تستری نے فرمایا کہ تمہاری بیماری تمہاری نفسانی خواہشات ہیں۔ ہاں اگر تم ان کی مخالفت کرو تو یہ بیماری ہی تمہاری دوا بھی ہے (یہ سب روایات قرطبی سے لی گئی ہیں۔)
Ayahs 45:24–26

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اور کچھ نہیں بس یہی ہے ہمارا جینا دنیا کا ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم جو مرتے ہیں سو زمانے سے اور ان کو کچھ خبر نہیں اس کی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب سنائیں جائیں ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی اور کچھ دلیل نہیں ان کی مگر یہی کہ کہتے ہیں کہ آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

تو کہہ کہ اللہ ہی جلاتا ہے تم کو پھر مارے گا تم کو پھر اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن تک اس میں کچھ شک نہیں پر بہت لوگ نہیں سمجھتے۔

(آیت) وَمَا يُهْلِكُنَآ اِلَّا الدَّهْرُ۔ لفظ دہر دراصل اس تمام مدت کے مجموعہ کا نام ہے جو اس عالم کی ابتدا سے انتہا تک ہے اور کبھی بہت بڑی مدت کو بھی دہر کہہ دیا جاتا ہے۔ کفار نے یہ قول بطور دلیل کے پیش کیا ہے کہ ہماری موت وحیات کا خدا کے حکم و مشیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسباب طبعیہ کے تابع ہے جس کا مشاہدہ موت کے متعلق تو سب کرتے ہیں کہ اعضاء انسانی اور اس کی قوتیں استعمال کے سبب گھٹتی رہتی ہیں اور ایک زمانہ دراز گزر جانے کے بعد وہ بالکل معطل ہوجاتی ہیں اسی کا نام موت ہے اسی پر حیات کو بھی قیاس کرلو کہ وہ بھی کسی خدائی حکم سے نہیں بلکہ مادہ کی طبعی حرکتوں سے حاصل ہوتی ہے۔ دہر، یا زمانے کو برا کہنا اچھا نہیں۔ کفار و مشرکین زمانے کے گردش ہی کو ساری کائنات اور انکے سارے حالات کی علت قرار دیتے تھے اور اسی کی طرف منسوب کرتے تھے جیسا کہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ درحقیقت یہ سب افعال اللہ تعالیٰ جل شانہ کی قدرت و ارادے سے ہوتے ہیں۔ اسی لئے احادیث صحیحہ میں دہر یا زمانے کو برا کہنے کی ممانعت آئی ہے کیونکہ کفار جس قوت کو دہر کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں در حقیقت وہ قوت وقدرت حق تعالیٰ کی ہے اس لئے دہر کو برا کہنے کا نتیجہ درحقیقت خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دہر کو برا نہ کہو کیونکہ دہر درحقیقت اللہ ہی ہے مراد یہ ہے کہ یہ جاہل جس کام کو دہر کا کام کہتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی قوت وقدرت کا کام ہے، دہر کوئی چیز نہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دہر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام ہو کیونکہ یہاں مجازا اللہ تعالیٰ کو دہر کہا گیا ہے۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس دن قائم ہوگی قیامت اس دن خراب ہونگے جھوٹے

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تم کو جمع کرے گا۔ ‘ تو اس کو کچھ مشکل نہ سمجھا جائے کیونکہ) اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں (وہ جو چاہے تصرف کرے، پس تمہیں موت کے بعد زندہ کر کے جمع کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں) اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل خسارہ میں پڑیں گے اور آپ (اس روز) ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ (مارے خوف کے) زانو کے بل گر پڑیں گے، ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال (میں لکھے ہوئے اعمال کے حساب) کی طرف بلایا جائے گا (یہ مطلب ہے نامہ اعمال کی طرف بلانے کا، ورنہ نامہ اعمال تو خود ان کے پاس ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم کو تمہارے کئے کا بدلہ ملے گا (اور کہا جائے گا کہ) یہ (نامہ اعمال) ہمارا (لکھایا ہوا) دفتر ہے جو تمہارے مقابلے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے (یعنی تمہارے اعمال کو ظاہر کر رہا ہے اور) ہم (دنیا میں) تمہارے سب) اعمال کو (فرشتوں سے) لکھواتے جاتے تھے (اور یہ ان ہی کا مجموعہ ہے) سو (حساب کے بعد فیصلہ یہ ہوگا کہ) جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کئے تھے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ صریح کامیابی ہے اور جو لوگ کافر تھے (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائٰ جاتی تھیں سو تم نے (ان کے قبول کرنے سے) تکبر کیا تھا اور (اسوجہ سے) تم بڑے مجرم تھے اور (تمہارا یہ حال تھا کہ) جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ (دوبارہ زندہ کر کے جزا و سزا دینے کا) حق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم (نہایت بےپروائی سے) کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے (صرف سننے سنانے سے) محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم کو (اس کا) یقین نہیں اور (اس وقت) ان پر اپنے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس (عذاب) کے ساتھ وہ استہزا کیا کرتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا اور (ان سے) کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں (یعنی رحمت سے محروم کئے دیتے ہیں جس کو بھلانا مجازاً کہہ دیا) جیسا تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور (آج سے) تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں یہ (سزا) اس وجہ سے ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور تم کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا (کہ اس میں مشغول ہو کر آخرت سے بالکل غافل بلکہ منکر ہوگئے تھے) سو آج یہ لوگ نہ تو دوزخ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے خدا کی خفگی کا تدارک چاہا جائیگا (یعنی اس کا موقع نہ دیا جائے گا کہ توبہ کر کے خدا کو راضی کرلیا۔ جب یہ تمام مضامین سن لئے) تو (ان سے یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ) تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے (ثابت) ہیں جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور پروردگار ہے زمین کا (اور آسمان و زمین ہی کی کیا تخصیص ہو وہ تو) پروردگار ہے تمام عالم کا اور اسی کو بڑائی ہے (جس کا ظہور آثار و علامات سے) آسمان و زمین میں (ہو رہا ہے) اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔
Ayahs 45:28–37

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تو دیکھے ہر فرقہ کو کہ بیٹھے ہیں گھٹنوں کے بل ہر فرقہ بلایا جائے اپنے اپنے دفتر کے پاس آج بدلہ پاؤ گے جیسا تم کرتے تھے

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا دفتر ہے بولتا ہے تمہارے کام ٹھیک ہم لکھواتے جاتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ یقین لائے ہیں اور بھلے کام کئے سو ان کو داخل کرے گا ان کا رب اپنی رحمت میں یہ جو ہے یہی ہے صریح مراد ملنی

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے کیا تم کو سنائی نہ جاتی تھیں باتیں میری پھر تم نے غرور کیا اور ہوگئے تم لوگ گنہگار

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہئے کہ وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں تم کہتے تھے ہم نہیں سمجھتے کیا ہے قیامت ہم کو آتا تو ہے ایک خیال سا اور ہم کو یقین نہیں ہوتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور کھل جائیں ان پر برائیاں ان کاموں کو جو کئے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور حکم ہوگا کہ آج ہم تم کو بھلا دیں گے جیسے تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی ملاقات کو اور گھر تمہارا دوزخ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تم پر اس واسطے کہ تم نے پکڑا اللہ کی باتوں کو ٹھٹھا اور بہکے رہے دنیا کی زندگانی پر سو آج نہ ان کو نکالنا منظور ہے وہاں سے اور نہ ان سے مطلوب ہے توبہ

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو اللہ ہی کے واسطے ہے سب خوبی جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا رب سارے جہان کا

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا۔

معارف و مسائل (آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ ہونے کے حکم میں رکھا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل امة سے مراد عام اہل محشر نہ ہوں بلکہ اکثر مراد ہوں جیسا کہ لفظ کل بعض اوقات اکثر کے لئے بولا جاتا ہے اور بعض حضرات مفسرین نے جاثیہ کے معنے ایسی نشست کے کئے ہیں جیسے نماز میں ہوتی ہے تو پھر وہ اشکال خود ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ نشست خوف کی نہیں ادب کی نشست ہے (آیت) كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا۔ کتاب سے مراد اس جگہ اکثر مفسرین کے نزدیک وہ نامہ اعمال ہے جو فرشتے دنیا میں لکھتے رہے تھے اور اب محشر میں یہ تحائف اعمال اڑا دیئے جائیں گے ہر ایک آدمی کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں پہنچ جائے گا اور اس سے کہا جائے گا۔ یعنی اپنا نامہ اعمال پڑھ لو اور خود ہی حساب لگا لو کہ تمہیں ان اعمال کا کیا بدلہ ملنا چاہئے اور اس اعمال نامہ کی طرف بلانے کا مطلب ان کے حساب کی طرف بلانا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ واللہ اعلم تمت سورة الجاثیة الحادی عشر من رجب 1392 ھ یوم الثلثاء واللہ الحمد والمنتہ