Ayah 44:1خلاصہ تفسیر
حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے اس کتاب واضح (المعنی) کی کہ ہم نے اس کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات (یعنی شب قدر) میں اتارا ہے (کیونکہ) ہم (بوجہ شفقت کے اپنے ارادہ میں اپنے بندوں کو) آگاہ کرنے والے تھے (یعنی ہم کو یہ منظور ہوا کہ ان کو مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر پر مطلع کردیں، یہ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد تھا۔ آگے اس شب کے برکات و منافع کا بیان ہے کہ) اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم (صادر) ہو کر طے کیا جاتا ہے (یعنی سال بھر کے معاملات جو سارے کے سارے ہی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں جس طرح انجام دینے اللہ کو منظور ہوتے ہیں اس طریقے کو متعین کر کے ان کی اطلاع متعلقہ فرشتوں کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور نزول قرآن سب سے زیادہ حکمت والا کام تھا اس لئے اس کے لئے بھی یہی رات منتخب کی گئی اور یہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا کہ) ہم بوجہ رحمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوتی ہے آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے (تاکہ آپ کی معرفت اپنے بندوں کو آگاہ کردیں) بیشک وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے (اس لئے بندوں کی رعایت کرتا ہے، اور وہ ایسا ہے) جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) ان دونوں کے درمیان میں ہے اس کا بھی، اگر تم یقین لانا چاہو (تو یہ توحید کے دلائل یقین دلانے کے لئے کافی موجود ہیں، آگے توحید کی تصریح ہے کہ) اس کے سوا کوئی لائق عبادت کے نہیں، وہی جان ڈالتا ہے وہ ہی جان نکالتا ہے، وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے (اور اس تصریح و توضیح کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ لوگ مان لیتے مگر یہ لوگ پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ وہ (توحید جیسے حقائق کی طرف سے) شک میں (پڑے) ہیں (اور دنیا کے) کھیل (کود) میں مصروف ہیں (آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں)۔
Ayah 44:2معارف مسائل
فضیلت سورت
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھ لے تو صبح کو اس کے گناہ معاف ہوچکے ہوں گے۔ اور حضرت امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کی رات یا دن میں سورة دخان پڑھ لی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائیں گے۔ (قرطبی بروایت ثعلبی)
آیات مذکورہ میں قرآن کی عظمت اور بعض خاص صفات کا بیان ہے والکتاب المبین یعنی واضح کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں نازل فرمایا جس کا مقصد غافل انسانوں کو بیدار کرنا ہے۔ اسی طرح کی قسم انہی الفاظ کے ساتھ سورة زخرف کے شروع میں بھی گزر چکی ہے وہاں اس کا بیان آ چکا ہے۔
Ayahs 44:3–9(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت قتادہ نے بروایت واثلہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صحف ابراہیم ؑ رمضان کی پہلی تاریخ میں اور تورات رمضان کی چھٹی تاریخ میں، زبور بارہویں میں، انجیل اٹھارویں میں اور قرآن چوبیس تاریخ گزرنے کے بعد یعنی پچیسویں شب میں نازل ہوا۔ (قرطبی)
قرآن کے شب قدر میں نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا قرآن سماء دنیا پر اسی رات میں نازل کردیا گیا تھا۔ پھر تئیس سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر سال میں جتنا قرآن نازل ہونا مقدر ہوتا تھا اتنا ہی شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا جاتا تھا۔ (قرطبی)
اور بعض مفسرین عکرمہ وغیرہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس آیت میں لیلہ مبارکہ سے مراد شب برات یعنی نصف شعبان کی رات قرار دی ہے مگر اس رات میں نزول قرآن دوسری تمام نصوص قرآن اور روایات حدیث کے خلاف ہے (آیت) شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن اور انا انزلنا فی لیلة القدر جیسی کھلی نصوص کے ہوتے ہوئے بغیر کسی قوی دلیل کے نہیں کہا جاسکتا کہ نزول قرآن شب برات میں ہوا۔ البتہ شعبان کی پندرھویں شب کو بعض روایات حدیث میں شب برات یا لیلة الصک کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس رات کا مبارک ہونا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ بعض روایات میں یہ مضمون بھی آیا ہے جو اس جگہ لیلہ مبارکہ کی صفت میں بیان فرمایا ہے یعنی (آیت) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ۔ امراً من عندنا یعنی اس رات میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ ہماری طرف سے کیا جاتا ہے جس کے معنی حضرت ابن عباس یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ رات جس میں نزول قرآن ہوا، یعنی شب قدر، اسی میں مخلوقات کے متعلق تمام اہم امور جن کے فیصلے اس سال میں اگلی شب قدر تک واقع ہونے والے ہیں طے کئے جاتے ہیں کہ کون کون اس سال میں پیدا ہوں گے، کون کون آدمی اس میں مریں گے، کس کو کس قدر رزق اس سال میں دیا جائے گا۔ یہی تفسیر دوسرے ائمہ تفسیر حضرت قتادہ، مجاہد، حسن وغیرہم سے بھی منقول ہے اور مہدوی نے فرمایا کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ تمام فیصلے جو تقدیر الٰہی میں پہلے ہی سے طے شدہ تھے اس رات میں متعلقہ فرشتوں کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، کیونکہ قرآن و سنت کی دوسری نصوص اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلے انسان کی پیدائش سے بھی پہلے ازل ہی میں لکھ دیئے تھے۔ تو اس رات میں ان کے طے کرنے کا حاصل یہی ہوسکتا ہے کہ قضا و قدر کی تنفیذ جن فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہے اس رات میں یہ سالانہ احکام ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں۔ (قرطبی)
چونکہ بعض روایات حدیث میں شب برات یعنی شعبان کی پندرہویں شب کے متعلق بھی آیا ہے کہ اس میں آجال و ارزاق کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ اس لئے بعض حضرات نے آیت مذکورہ میں لیلہ مبارکہ کی تفسیر لیلة البرات سے کردی ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ یہاں اس رات میں نزول قرآن کا ذکر سب سے پہلے ہے اور اس کا رمضان میں ہونا قرآن کی نصوص سے متعین ہے۔ اور شب برات کے متعلق جو یہ مضمون بعض روایات میں آیا ہے کہ اس میں ارزاق وغیرہ کے فیصلے ہوتے ہیں اول تو ابن کثیر نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ روایت مرسل ہے اور ایسی روایت نصوص صریحہ کے مقابلہ میں قابل اعتماد نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح قاضی ابوبکر بن عربی نے فرمایا کہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی قابل اعتماد روایت ایسی نہیں جس سے ثابت ہو کہ رزق اور موت وحیات کے فیصلے اس رات میں ہوتے ہیں بلکہ انہوں نے فرمایا کہ اس رات کی فضیلت میں بھی کوئی قابل اعتماد حدیث نہیں آئی لیکن روح المانی وغیرہ کے فیصلے نصف شعبان کی رات میں لکھے جاتے ہیں اور شب قدر میں فرشتوں کے حوالے کئے جاتے ہیں اگر یہ روایت ثابت ہو تو اس طرح دونوں قول میں تطبیق ہو سکتی ہے ورنہ اصل بات جو ظاہر قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ سورة دخان کی آیت میں لیلہ مبارکہ اور فیہا یفرق وغیرہ کے سب الفاظ شب قدر ہی کے متعلق ہیں۔ رہا شب برات کی فضیلت کا معاملہ، سو وہ ایک مستقل معاملہ ہے جو بعض روایات حدیث میں منقول ہے مگر وہ اکثر ضعیف ہیں اس لئے قاضی ابوبکر بن عربی نے اس رات کی کسی فضیلت سے انکار کیا ہے لیکن شب برات کی فضیلت کی روایات اگرچہ با عتبار سند کے ضعف سے کوئی خالی نہیں لیکن تعد دطرق اور تعدد روایات سے ان کو ایک طرح کی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لئے بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا ہے کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کرلینے کی بھی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 44:10خلاصہ تفسیر
(اور جب یہ لوگ حق کے واضح ہونے کے باوجود نہیں مانتے) سو آپ (ان کے لئے) اس روز کا انتظار کیجئے کہ آسمان کی طرف سے ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو ان سب لوگوں پر عام ہوجاوے یہ (بھی) ایک درد ناک سزا ہے (جو ان کو ہوگی، اس سے مراد غلہ کا قحط ہے جس میں اہل مکہ رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے مبتلا ہوگئے تھے۔ اور یہ بددعا ایک مرتبہ مکہ میں ہوئی تھی اور ایک بار مدینہ میں، اور قاعدہ ہے کہ بھوک کی شدت اور خشکی میں آسمان و زمین کے درمیان آنکھوں کے سامنے دھواں سا نظر آیا کرتا ہے۔ غرض اہل مکہ اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور لگے عاجزی کرنے، چناچہ پیشین گوئی کے طور پر فرماتے ہیں کہ اس وقت جناب باری میں عرض کریں گے کہ) اے ہمارے رب ہم سے اس مصیبت کو دور کر دیجئے ہم ضرور ایمان لے آویں گے (چنانچہ پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ ابوسفیان اور دیگر قریش نے آپ کو لکھا بھی اور آئے بھی کہ آپ دعا کریں اور ثمامہ رئیس یمامہ کو جس نے غلہ بند کردیا تھا سمجھاویں، اور صاحب روح نے ابوسفیان کا وعدہ ایمان بھی نقل کیا ہے، آگے ان کے اس وعدے کا صدق دل سے نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں کہ) ان کو (اس سے) کب نصیحت ہوتی ہے (جس سے ان کے ایمان کی توقع کی جاوے) حالانکہ (اس کے قبل) ان کے پاس ظاہر شان کا پیغمبر آیا (یعنی جس کی شان نبوت ظاہر تھی) پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ (کسی دوسرے بشر کا) سکھایا ہوا ہے (اور) دیوانہ ہے (پس جب اتنے بڑے رسول کے آنے پر جس کے دلائل رسالت میں کوئی تاویل ہی نہیں ہو سکتی، یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو قحط کے ہونے پر جس میں بےانصاف آدمی یہ بھی احتمال نکال سکتا ہے کہ یہ ایک معمولی واقعہ ہے جو طبعی اسباب کے تحت ہوا ہے اور کفر کی سزا نہیں ہے کہ کب ایمان لانے کی امید ہے، ان کا یہ کہنا محض دفع الوقتی ہے مگر خیر) ہم (حجت تمام کرنے کے لئے) چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے (مگر) تم پھر اپنی اسی (پہلی) حالت پر آجاؤ گے (چنانچہ یہ پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ آپ نے دعا فرمائی، بارش ہوئی، اور ثمامہ کو بھی خط لکھا کہ غلہ آنے دیں، اور اہل مکہ کو فارغ البالی میسر ہوئی مگر ایمان تو کیا لاتے وہ نرمی اور شکستگی بھی جاتی رہی، پھر وہی زور اور وہی شور اور ”چندے“ اس لئے فرمایا کہ اس عذاب کے ٹلنے کی مدت صرف دنیوی زندگی تک ہے۔ پھر مرنے کے بعد جو مصیبت آوے گی اس کا کہیں خاتمہ نہیں، چناچہ ارشاد ہے کہ) جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم (پورا) بدلہ لے لیں گے (یعنی آخرت میں پوری سزا ہوگی)۔
Ayahs 44:11–16معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بد دعا سے ان پر مسلط ہوا تھا وہ بھوکوں مرنے لگے مردار جانور تک کھانے لگے، آسمان پر بجائے بارش بادل کے ان کو دھواں نظر آتا تھا یہ قول حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ کا ہے تیسرا قول یہ ہے کہ اس دخان سے مراد وہ گرد و غبار ہے جو فتح مکہ کے روز مکہ مکرمہ کے آسمان پر چھا گیا تھا، یہ قول عبدالرحمن اعرج وغیرہ کا ہے (قرطبی) زیادہ معروف پہلے ہی دو قول ہیں، تیسرے قول کے متعلق ابن کثیر نے فرمایاہذا القول غریب جدا بل منکر۔ باقی دونوں کا ذکر احادیث صحیحہ میں آیا ہے روح المعانی نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور مذکورہ الصدر خلاصہ تفسیر بیان القرآن میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے ابن کثیر اور قرطبی سے پہلے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے واللہ اعلم، دونوں اقوال کی روایات حسب ذیل ہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ بن اسید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بالا خانے سے ہم پر نظر فرمائی، ہم آپس میں علامات قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم دس علامتیں نہ دیکھ لو۔ آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور دخان اور دابہ اور یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ ؑ کا نزول اور دجال کا خروج اور تین خسف یعنی زمین میں دھنس جانا ایک خسف مشرق میں دوسرا مغرب میں تیسرا جزیرة العرب میں اور آگ جو قعر عدن سے نکلے گی لوگوں کو ہنکا کرلے چلے گی جہاں رات کو لوگ سونے کے لئے ٹھہریں گے رک جاوے گی جہاں دوپہر کو آرام کے لئے رکیں گے یہ بھی رک جائیگی (ابن کثیر)
ابن جریر نے ابومالک اشعری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں تین چیزوں سے ڈراتا ہوں ایک دخان (یعنی دھواں) جو مومن کے لئے صرف ایک طرح کا زکام پیدا کر دے گا اور کافر کے تمام بدن میں بھر جائے گا یہاں تک کہ اس کے ہر مسمع اور مسام سے نکلنے لگے گا اور دوسری چیز دابہ (یعنی دابتہ الارض کوئی عجیب قسم کا جانور زمین سے نکلے گا) اور تیسرے دجال اس روایت کو ابن کثیر نے نقل کر کے فرمایا (ہذا اسناد جید) اسی مضمون کی ایک روایت بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت ابو سعید خدری سے بھی ابن کثیر نے نقل کی ہے اور بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ دخان کی پیشین گوئی گزری نہیں (بلکہ قرب قیامت میں) یہ دھواں مومن کے لئے ایک طرح کا زکام پیدا کر دے گا اور کافر کے اندر بھر جائے گا یہاں تک کہ اس کے ہر منفذ سے نکلنے لگے گا اسی طرح کا مضمون بحوالہ ابن جریر حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابن عباس سے بھی نقل کیا ہے جس کو نقل کر کے ابن کثیر نے فرمایا
حضرت ابن عباس حبرامت اور ترجمان القرآن تک یہ اسناد صحیح ہے اور یہی قول دوسرے حضرات صحابہ وتابعین کا ہے جنہوں نے ابن عباس کی موافقت فرمائی ہے اس کے ساتھ وہ احادیث مرفوعہ جن میں بعض صحیح بعض حسن ہیں وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ دخان ان علامات قیامت میں سے ہے جن کا انتظار ہے ابھی آئی نہیں، خصوصاً جبکہ ظاہر الفاظ قرآن بھی اس پر شاہد ہیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی تفسیر مشہور ہیں جس دھوئیں کا ذکر ہے وہ تو ایک خیالی دھواں تھا جو بھوک کی شدت سے ان کی آنکھوں کو محسوس ہوتا تھا اس کے لئے لفظ یغشی الناس بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ خیالی دھواں تو اہل مکہ کے لئے مختصوص تا اور یغشی الناس کے الفاظ یہ بتلاتے ہیں کہ وہ سب لوگوں پر عام طور پر چھا جائے گا۔
اور پہلے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کی روایات صحیحین اور مسند احمد اور ترمذی نسائی وغیرہ میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت مسروق نے روایت کیا ہے کہ ایک روز ہم کوفہ کی مسجد میں داخل ہوئے جو ابواب کندہ کے قریب ہے وہاں دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کو وعظ سنا رہا ہے اور اس آیت یعنی (آیت) یوم تاتی السمآء بدخان مبین۔ کے متعلق اس نے مخاطبین سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ اس دخان سے کیا مراد ہے پھر فرمایا کہ یہ ایک دھواں ہوگا جو قیامت کے روز نکلے گا جو منافقین کے کانوں اور آنکھوں کو لے گا اور مومن کو اس سے صرف زکام کی سی کیفیت پیدا ہوگی۔
مسروق کہتے ہیں کہ واعظ کی یہ بات سن کر ہم حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس گئے ان سے اس کا ذکر کیا وہ لپٹے ہوئے تھے گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ (آیت) قل ما اسلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین، یعنی میں تم سے تمہاری خدمت تعلیم و تبلیغ کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بتکلف کوئی بات بنائیں اس لئے علم کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو نہیں جانتا صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا اس کا علم اللہ ہی کو ہے (تکلف سے بات نہ بنا دے) پھر فرمایا کہ اب تمہیں اس آیت کی تفسیر کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جب قریش نے رسول ﷺ کی دعوت اسلام کو قبول کرنے سے انکار اور اپنے کفر پر اصرار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے بددعا فرمائی کہ یا اللہ ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا کہ آپ نے یوسف ؑ کے زمانہ میں ڈالا تھا۔ اس بد دعا کا اثر یہ ہوا کہ یہ لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ہڈیاں اور مردار جانور تک کھانے لگے۔ یہ لوگ آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے تو دھوئیں کے سواکچھ نہیں آتا اور ایک روایت میں ہے کہ ان کا کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر اٹھاتا تو بھوک کی شدت سے اس کو دھواں سا نظر آتا تھا۔ اس کے بعد عبداللہ ابن مسعود نے استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ جب واقعہ پیش آیا تو لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اپنے قبیلہ مضر کے لئے اللہ سے بارش کی دعا کریں ورنہ وہ سب ہلاک ہوجاویں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی تو اللہ نے بارش دے دی اس پر آیت نازل ہوئی (آیت) انا کاشف العذاب قلیلاً انکم عائدون۔ یعنی ہم تمہارے اس عذاب کو چند روز کے لئے ہٹائے لیتے ہیں (مگر جب تم مصیبت سے نکل جاؤ گے) تو پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا پھر وہ اپنے پچھلے حال کی طرف لوٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) یوم نبطش البطشتہ الکبری انا منتقمون، یعنی جس دن ہم سخت پکڑ پکڑیں گے اس دن سے ڈرو، پھر ابن مسعود نے فرمایا کہ یہ بطشہ کبریٰ یعنی بڑی سخت پکڑ غزوہ بدر میں ہوچکی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں، یعنی دخان، روم، قمر بطشہ لزام (از ابن کثیر) دخان سے مراد اس تفسیر پر مکہ کا قحط ہے اور روم سے مراد وہ پیشن گوئی ہے جو سورة روم میں ان کے غلبہ کے متعلق آئی ہے وھم من بعد غلبھم سیغلبون اور قمر سے انشقاق قمر مرا ہے جس کا ذکر (آیت) اقتربت الساعۃ وانشق القمر میں ہے اور بطشہ تفسیر مذکور کے مطابق غزوہ بدر میں کفار قریش کا انجام ہے اور لزام سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے (آیت) فسوف یکون لزاما۔
آیات مذکورہ میں غور کیجئے تو ان میں چند پیشین گوئیاں ہیں۔ اول دھوئیں کا آسمان پر ظاہر ہونا اور سب لوگوں پر چھا جانا دوسرے مشرکین کا اس عذاب سے عاجز آ کر ایمان کا وعدہ کر کے اللہ سے دعائیں مانگنا۔ تیسرے ان کے وعدہ کا جھوٹا ہونا اور بعد میں مکر جانا۔ چوتھے اللہ تعالیٰ کا ان کے جھوٹے وعدہ پر بھی بطور اتمام حجت کے کچھ عرصہ کے لئے ان سے عذاب کا ہٹا دینا اور یہ جتلا دینا کہ تم اس وعدہ پر قائم نہ رہو گے پانچویں پھر دوبارہ ان کو سخت پکڑ میں پکڑ لینا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی تفسیر کے مطابق یہ سب کی سب پیشین گوئیاں پوری ہوچکی ہیں۔ پہلی چار تو مکہ والوں پر قحط شدید مسلط ہونے اور پھر اس کے رفع ہونے کے دوران پوری ہوئیں اور پانچویں غزوہ بدر میں پوری ہوگئی لیکن اس تفسیر پر ظاہر الفاظ قرآنی سے یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ بھوک کی شدت کے سبب آسمان پر خیالی دھواں نظر آنے کو قرآن کریم نے تاتی السماء اور دخان مبین اور نغشی الناس کے الفاظ سے تعبیر کیا ہو کیونکہ بظاہر ان الفاظ سے عام آسمان پر کھلا ہوا دھواں چھا جانا اور سب لوگوں کا اس دھوئیں سے متاثر ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تفسیر مذکور میں نہ آسمان پر دھوئیں کا چھا جانا ثابت ہوتا ہے اور نہ لوگوں کا اس دھوئیں سے متاثر ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ دھواں تو خود ان کی اپنی شدت مصیبت کا اثر تھا۔ اسی لئے حافظ ابن کثیر نے ظاہر قرآن کے مطابق اس کو ترجیح دی کہ یہ دخان مبین علامات قیامت میں سے ہے اور اس کو ترجیح اس لئے بھی ہے کہ وہ روایات مرفوعہ سے ثابت ہے۔ یہ صرف حضرت عبداللہ ابن مسعود کا اپنا قول ہے مگر اس تفسیر پر بظاہر (آیت) انا کاشف العذاب قلیلاً انکم عائدون سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ قیامت میں تو کفار سے کوئی عذاب نہیں ہٹایا جائیگا۔ یہاں چند روز کے لئے عذاب ہٹا دینے کا ذکر کیسے درست ہوگا ؟ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ مراد اس سے یہ ہو کہ اگر ہم تمہارے کہنے کے مطابق عذاب ہٹا دیں اور تمہیں پھر دنیا میں لوٹا دیں تو تم پھر وہی کفر و انکار کرنے لگو گے جیسا کہ دوسری ایک آیت میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے (آیت) ولو رحمناھم وکشفنا مابھم من ضر للجوا فی طغیانھم یعمھون۔ اور ایک اور آیت میں فرمایا ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ، دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ کاشف العذاب میں کشف عذاب سے مراد یہ ہو کہ اگرچہ عذاب آنے کے اسباب مکمل ہوچکے اور عذاب تمہارے قریب آ چکا ہے مگر کچھ روز کے لئے ہم اس کو موخر کردیتے ہیں جیسا کہ قوم یونس ؑ کے بارے میں آیا ہے (آیت) کشفنا عنھم العذاب حالانکہ قوم یونس ؑ پر عذاب آ نہیں چکا تھا صرف آثار عذاب نظر آئے تھے اس کو کشف عذاب سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ خلاص یہ ہے کہ اگر دخان کی پیشن گوئی کو علامات قیامت میں شمار کیا جائے تو کاشف العذاب کے الفاظ سے اس پر بھی کوئی اشکال نہیں رہتا اور اس تفسیر یر (آیت) یوم نبطش البطشتہ الکبریٰ سے مراد روز قیامت کی پکڑ ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی تفسیر میں جو غزوہ بدر کی پکڑ کر فرمایا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے وہ بھی ایک پکڑ سخت ہی تھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آگے قیامت میں اس سے بڑی پکڑ نہ ہو اور اس میں بھی کچھ بعد نہیں معلوم ہوتا کہ قرآن کریم نے کفار مکہ کو ایک آنیوالے عذاب سے ان آیات میں ڈرایا ہے اس کے بعد جو بھی عذاب ان پر آیا اس کو کسی درجہ میں اس کا مصداق سمجھ کر صحابہ کرام نے ان آیات کا ذکر فرما دیا ہو جس سے اس کے علامات قیامت میں سے ہونے کی نفی نہیں ہوتی جیسا کہ روح المعانی میں علامہ سفارینی کی کتاب البحور الزاخرہ کے حوالہ سے خود حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔
دخان دو ہیں ایک گزر چکا (یعنی قحط مکہ کے وقت) اور دوسرا جو باقی ہے وہ آسمان اور زمین کی درمیانی فضا کو بھر دے گا اور مومن کو اس سے صرف زکام کی کیفیت پیدا ہوگی اور کافر کے تمام منافذ کو پھاڑ ڈالے گا اس وقت اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے جنوبی ہوا بھیج دیں گے جو ہر مومن کی روح قبض کرلے گی اور صرف کفار شرار الناس باقی رہ جائیں گے۔
اگرچہ صاحب روح المعانی نے اپنی مختار تفسیر کے مطابق اس روایت کی صحت کے متعلق اپنے شک کا اظہار کیا ہے مگر یہ روایت ثابت ہوجائے تو ظواہر قرآن اور روایت مرفوعہ کیساتھ کوئی تعارض نہیں رہتا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 44:17–19خلاصہ تفسیر
اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور (وہ آزمائش یہ تھی کہ) ان کے پاس ایک معزز پیغمبر (یعنی موسیٰ ؑ آئے تھے (پیغمبر کے آنے سے آزمائش ہی ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا اور انہوں نے آ کر فرعون اور فرعون کی قوم سے فرمایا) کہ ان اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل کو (جن کو تم نے طرح طرح کی تکالیف میں پھنسا رکھا ہے) میرے حوالے کردو (اور ان سے دست بردار ہوجاؤ کہ میں جہاں اور جس طرح مناسب ہو ان کو آزاد کر کے رکھوں) میں تمہاری طرف (خدا کا) فرستادہ (ہو کر آیا) ہوں (اور) دیانتدار ہوں (کوئی بات وحی سے کمی بیشی نہیں کرتا ہوں جو حکم ہوتا ہے پہنچاتا ہوں پس تم کو ماننا چاہئے اور یہ (بھی فرمایا) کہ تم خدا سے سرکشی مت کرو (اور حق العباد کا امر تھا اور یہاں حق اللہ کا) میں تمہارے سامنے ایک واضح دلیل (اپنی نبوت کی) پیش کرتا ہوں (مراد اس سے معجزہ عصا و ید بیضاء ہے) اور (جب فرعون و اہل فرعون نے نہ مانا بلکہ باہم مشورہ آپ کے قتل کا ہوا اس وقت آپ نے سن کر فرمایا کہ) میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم لوگ مجھ کو پتھر (وغیرہ) سے قتل کرو اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو تم مجھ سے الگ ہی رہو (یعنی مجھے تکلیف پہنچانے کے درپے مت ہو کیونکہ مجھ کو تو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ مجھ سے اللہ کا وعدہ ہے (آیت) فلا یصلون الیکما۔ الخ لیکن تمہارا جرم اور شدید ہوجائے گا، اس لئے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ ایسا مت کرو۔ مگر وہ کب باز آتے تھے) تب موسیٰ ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ بڑے سخت مجرم لوگ ہیں (جرم سے باز نہیں آتے، اب ان کا فیصلہ کر دیجئے۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے دعا قبول کی اور ان کے فیصلہ کا وقت آ گیا) تو اب میرے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو تم رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ (کیونکہ) تم لوگوں کا (فرعون کی طرف سے) تعاقب (بھی) ہوگا (اس لئے رات میں نکل جانے سے اتنی دور تو نکل جاؤ گے کہ یہ تعاقب کر کے تم کو پا نہ سکے) اور (اثنائے سفر میں جو دریا حائل ہوگا) تم اس دریا کو (اول عصا مارنا کہ وہ خشک ہو کر رستہ دے دے گا، پھر پار ہونے کے بعد جب اس کو اسی حالت پر دیکھو تو فکر نہ کرنا کہ اسی طرح فرعون بھی شاید پار ہوجائے گا بلکہ تم اس کو اسی) سکون کی حالت میں (یعنی پانی کے ہٹ جانے اور راستہ کے خشک ہوجانے سے دریا کی جو ہئیت پیدا ہوئی ہے اسی ہئیت پر) چھوڑ دینا (اور بےفکر رہنا، کیونکہ اس کے اس حالت میں رہنے کی یہ حکمت ہے کہ) ان (فرعونیوں) کا سارا لشکر (اس دریا میں) ڈبویا جاوے گا (اس طرح کہ وہ اس میں گھسیں گے اور جب اس میں آ جاویں گے تو چہار طرف سے پانی آ ملے گا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ موسیٰ ؑ پار ہوگئے اور فرعونی غرق ہوئے اور) وہ لوگ کتنے ہی باغ اور (کتنے ہی) چشمے (یعنی نہریں) اور (کتنی ہی) کھیتیاں اور (کتنے ہی) عمدہ مکانات (اور کتنے ہی) آرام کے سامان جس میں وہ خوش رہا کرتے تھے چھوڑ گئے (یہ قصہ) اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو ان کا مالک بنادیا (مراد بنی اسرائیل ہیں) سو (چونکہ وہ نہایت مبغوض تھے اس لئے) نہ تو ان پر آسمان و زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو (عذاب سے کچھ اور) مہلت دی گئی (یعنی اگر کچھ اور جیتے تو عذاب جہنم سے کچھ اور دن بچے رہتے) اور ہم نے (اس طرح) بنی اسرائیل کو سخت ذلت کے عذاب یعنی فرعون (کے ظلم و ستم) سے نجات دی۔ واقعی وہ (فرعون) بڑا سرکش (اور) حد (عبودیت) سے نکل جانیوالوں میں سے تھا (ایک نعمت تو بنی اسرائیل پر یہ ہوئی) اور (اس کے علاوہ) ہم نے بنی اسرائیل کو (اور بھی نعمتیں دے کر) اپنے علم (اور حکمت) کی رو سے (بعض امور میں تمام) دنیا جہان والوں پر (یا تمام امور میں ایک بڑے حصہ مخلوق پر مثلاً اس زمانے کے لوگوں پر) فوقیت دی اور (ان نعمتوں میں انعام ہونے کے علاوہ اللہ کی قدرت پر دلالت بھی تھی جس کا حاصل یہ ہے کہ) ہم نے ان کو (اپنی قدرت کی) ایسی (بڑی بڑی) نشانیاں دیں جن میں صریح انعام (پایا جاتا) تھا (یعنی جو احسان ان پر کیا گیا اس میں دو وصف پائے جاتے تھے، انعام ہونا بھی اور دلیل قدرت ہونا بھی۔ پھر بعض ان میں حسی نعمتیں تھیں جیسے فرعون سے نجات دلانا اور بعض معنوی تھیں جیسے علم و کتاب و مشاہدہ معجزات)
Ayahs 44:20–23معارف و مسائل
(آیت) وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو) رجم کے معنی سنگسار کرنے یعنی پتھر مار مار کردینے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے کے بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں لیکن راجح یہ ہے کہ یہاں سنگسار کرنے کے معنی مراد ہیں کیونکہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ ؑ کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے رہی ہوگی۔
Ayahs 44:24–27(آیت) وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا (اور دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) ”رھو“ کے معنی ہیں ”ساکن ‘ دراصل حضرت موسیٰ ؑ اور آپ کے رفقاء کے پار ہوجانے کے بعد ان کی خواہش طبعی طور پر یہ ہونی چاہئے تھی کہ دریا دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آجائے تاکہ فرعون کا لشکر پار نہ ہو سکے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرما دی کہ خود پار ہونے کے بعد سمندر کو اس کی ہئیت پر ساکن ہی چھوڑ دینا اور دوبارہ پانی کے جاری ہونے کی فکر مت کرنا، تاکہ فرعون خشک راستہ بنا ہوا دیکھ کر دریا کے بیچوں بیچ پہنچ جائے، اس وقت ہم دریا کو جاری کردیں گے اور یہ لشکر ڈوب جائے گا۔ (ابن کثیر)
Ayah 44:28(آیت) وَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ (اور ہم نے ان کا وارث ایک دوسری قوم کو بنادیا) سورة شعراء میں تصریح ہے کہ اس ”دوسری قوم“ سے مراد بنی اسرائیل ہیں اور اس پر جو مشہور اشکال ہوتا ہے کہ مشہور تواریخ سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بنی اسرائیل دوبارہ مصر میں آباد ہوئے، اس کا جواب بھی سورة شعراء کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 44:29–31زمین میں آسمان کا رونا۔ (آیت) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ (پس ان پر آسمان و زمین کو رونا نہیں آیا) مطلب یہ ہے کہ انہوں نے زمین پر کوئی ایسا عمل صالح نہیں کیا تھا کہ ان کے مرجانے سے زمین روئے، اور نہ ان کا کوئی نیک عمل آسمان تک پہنچا تھا کہ ان پر آسمان روئے اور یہ بات متعدد روایات سے ثابت ہے کہ کسی نیک بندے کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ حافظ ابویعلی نے حضرت انس کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آسمان میں ہر بندے کے لئے دو دروازے مقرر ہیں، ایک سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے دوسرے سے اس کا عمل اور اس کی گفتگو اوپر پہنچتی ہے۔ چناچہ جب وہ بندہ مرتا ہے تو یہ دروازے اسے یاد کر کے روتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے (بطور استشہاد) یہی آیت تلاوت فرمائی کہ (آیت) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ حضرت ابن عباس سے بھی اسی قسم کی روایات مروی ہیں (ابن کثیر) ایک اور حدیث میں جو حضرت شریح بن عبید حضرمی سے مروی ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”جو مومن بھی ایسی غریب الوطنی کی حالت میں مرتا ہے کہ اس پر کوئی رونے والا نہ ہو تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں، اس پر بھی آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ یہ زمین و آسمان کسی کافر پر نہیں روتے (ابن جریر) حضرت علی سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے نیک آدمی کے مرنے پر آسمان و زمین کے رونے کا ذکر فرمایا (ابن کثیر)
اور بعض حضرات نے آیت کے الفاظ کو مجاز و استعارہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آسمان و زمین کا حقیقتاً رونا مراد نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کا وجود ایسا ناقابل التفات تھا کہ اس کے ختم ہوجانے پر کسی کو افسوس نہیں ہوا۔ لیکن مذکورہ روایات کی روشنی میں راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آسمان و زمین کا حقیقتاً رونا مراد ہے کیونکہ جب آیت کے حقیقی معنی ممکن ہیں اور روایات سے بھی ان کی تائید ہوتی ہے تو خواہ مخواہ اسے مجاز و استعارہ پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔ رہا یہ شبہ کہ آسمان و زمین میں شعور کہاں ہے جو وہ رو سکیں تو اس کا جواب ظاہر ہے کہ کائنات کی ہر مخلوق میں کچھ نہ کھ شعور ضرور موجود ہے جیسا کہ قرآن کریم کی (آیت) ان من شیء الا یسبح بحمدہ سے معلوم ہوتا ہے اور اب رفتہ رفتہ جدید سائنس بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے۔ ہاں یہ ضروری نہیں کہ آسمان و زمین کا رونا ویسا ہی ہو جیسے انسانوں کا رونا ہوتا ہے، ان کے رونے کی کیفیت یقینا مختلف ہوگی جس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں۔
Ayah 44:32(آیت) وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے دنیا جہان والوں پر فوقیت دی) اس سے بنی اسرائیل کا امت محمدیہ علی صاحبہا السلام پر فائق ہونا لازمی نہیں آتا۔ کیونکہ اس سے مراد اس زمانے کے دنیا جہان والے ہیں اور اس وقت بلاشبہ وہ تمام اقوام سے افضل تھے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت مریم کے لئے ”نساء العالمین پر فضیلت کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی خاص پہلو سے بنی اسرائیل کو تمام دنیا اور ہر زمانے کے لوگوں پر کوئی فضیلت حاصل ہو لیکن مجموعی حیثیت سے افضلیت امت محمدیہ ہی کو حاصل ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ابن کثیر وغیرہ) اور علی علم (اپنے علم کی رو سے) کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے پس ان کو فوقیت دینا چونکہ ہمارے علم میں حکمت و مصلحت کا تقاضا تھا، اس لئے ہم نے ان کو فوقیت دے دی ہے۔
Ayah 44:33(آیت) وَاٰتَيْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ مَا فِيْهِ بَلٰۗــــــؤٌا مُّبِيْنٌ (اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں، جن میں صریح انعام تھا) نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء وغیرہ کے معجزات ہیں۔ اور بلو کے دو معنی آتے ہیں، ایک انعام اور دوسرے آزمائش، یہاں دونوں معنی بلاتکلف ممکن ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 44:34–35خلاصہ تفسیر
یہ لوگ (قیامت کی وعیدیں سن کر قیامت کا انکار کرتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ اخیر حالت بس یہی ہمارا دنیا کا مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے (مطلب یہ کہ اخیر حالت وہ اخروی زندگی نہیں بلکہ یہ دنیوی موت ہی اخیر حالت ہے جس کے عبد کچھ ہونا نہیں ہے) سو (اے مسلمانو !) اگر تم (آخرت کے دعوے میں) سچے ہو تو (انتظار کون کرے، ابھی) ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرا کے) لا موجود کرو (آگے ان کے کفریات پر تہدید ہے کہ ان کو ذرا سوچنا چاہئے کہ) یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تبع (بادشاہ یمن) کی قوم اور جو قومیں ان سے پہلے ہو گزر رہی ہیں (مثلاً عاد وثمود وغیرہ یعنی یہ قومیں زیادہ بڑھی ہوئی تھیں مگر) ہم نے ان کو (بھی) ہلاک کر ڈالا (محض اس لئے کہ) وہ نافرمان تھے (سو یہ لوگ اگر نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو یہ کیونکر اپنے کو بچالیں گے) اور (آگے قیامت کی صحت اور حکمت کا بیان ہے کہ) ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں (بلکہ) ہم نے ان دونوں کو (ان کی دوسری مخلوقات سمیت) کسی حکمت ہی سے بنایا ہے (مثلاً ان سے ایک تو اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت ہوتی ہے، دوسرے جزا و سزا کا ثبوت ملتا ہے) لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (کہ جو ذات ایسے عظیم اجسام کو ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہو وہ ان کی دوبارہ تخلیق پر بھی قادر ہے) بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا دن) ان سب (کے دوبارہ زندہ ہونے اور جزاء و سزا ملنے) کا وقت مقرر ہے (جس کا وقوع اپنے موقع پر ضرور ہوگا، آگے قیامت کے کچھ واقعات ہیں۔ یعنی) جس دن کوئی علاقہ والا کسی علاقہ والے کے ذرا کام نہ آوے گا اور نہ اور ہی کسی کی طرف سے، مثلاً ان کے مزعومہ خداؤں کی طرف سے) ان کی کچھ حمایت کی جاوے گی، ہاں مگر جس پر اللہ رحم فرما دے (کہ رحمت سے اس کے حق میں باری تعالیٰ کی اجازت سے کی گئی سفارش کام آوے گی اور اللہ اس کا ناصر ہوگا) وہ (اللہ) زبردست ہے (کافروں سے انتقام لے گا) مہربان ہے (مسلمانوں پر رحمت فرما دے گا۔)
Ayah 44:36معارف و مسائل
(آیت) فَاْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لا موجود کرو) قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کا جواب اس لئے نہیں دیا کہ بالکل ظاہر تھا اور وہ یہ کہ تمام انسانوں کی دوبارہ زندگی کا دعویٰ آخرت میں کیا جا رہا ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا۔ دنیا میں موت وحیات قدرت کے مخصوص قوانین اور مصالح کی پابند ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس وقت کسی کو دوسری زندگی عطا نہیں فرما رہا تو یہ اس بات کی دلیل کیسے بن گئی کہ آخرت میں بھی وہ دوبارہ زندہ نہ کرسکے گا۔ منطقی اصطلاح میں اس جواب کو یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ مقید کا عدم وقوع مطلق کے عدم وقوع کو مستلزم نہیں ہوسکتا (بیان القرآن)
Ayahs 44:37–38قوم تبع کا واقعہ(آیت) اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ، (کیا یہ لوگ شان و شوکت کے اعتبار سے بڑھے ہوئے ہیں یا تبع کی قوم) قرآن کریم میں قوم تبع کا ذکر دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں اور دوسرے سورة ق میں لیکن دونوں مقامات پر اس کا صرف نام ہی مذکور ہے کوئی مفصل واقعہ مذکور نہیں۔ اس لئے اس بارے میں مفسرین نے طویل بحیثیں کی ہیں کہ اس سے کون مراد ہے ؟ واقعہ یہ ہے کہ تبع کسی فرد معین کا نام نہیں، بلکہ یہ یمن کے ان حمیری بادشاہوں کا متواتر لقب رہا ہے جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک یمن کے مغربی حصہ کو دارالسلطنت قرار دے کر عرب، شام، عراق اور افریقہ کے بعض حصوں پر حکومت کی۔ اسی لئے تبع کی جمع تبابعہ آتی ہے اور ان بادشاہوں کو تبابعہ یمن کہا جاتا ہے یہاں ان تبابعہ میں سے کونسا تبع مراد ہے ؟ اس بارے میں حافظ ابن کثیر کی تحقیق زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد تبع اوسط ہے جس کا نام اسعد ابوکریب بن ملے کرب یمانی ہے۔ یہ بادشاہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے کم از کم سات سو سال پہلے گزرا ہے اور حمیری بادشاہوں میں اس کی مدت سلطنت سب سے زیادہ رہی ہے۔ اس نے اپنے عہد حکومت میں بہت سے علاقے فتح کئے یہاں تک کہ سمر قند تک پہنچ گیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ انہی فتوحات کے دوران وہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی بستی سے گزرا اور اس پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اہل مدینہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ دن کے وقت اس سے جنگ کرتے اور رات کو اس کی مہمانی کرتے۔ اس سے اس کو شرم آئی اور اس نے مدینہ والوں سے لڑائی کا ارادہ منسوخ کردیا۔ اسی دروان وہاں کے دو یہودی عالموں نے اسے تنبیہ کی کہ اس شہر پر اس کا بس نہیں چل سکتا اس لئے کہ یہ نبی آخر الزماں ﷺ کا مقام ہجرت ہے، چناچہ وہ ان یہودیوں کو ساتھ لے لے کر یمن چلا آیا اور ان یہودیوں کی تعلیم و تبلیغ سے متاثر ہو کر اس نے دین موسوی کو قبول کرلیا جو اس وقت دین برحق تھا، پھر اس کی قوم بھی اس سے متاثر ہو کر اسلام لے آئی لیکن اس کی وفات کے بعد یہ قوم پھر گمراہ ہوگئی اور اس نے بت پرستی اور آتش پرستی شروع کردی جس کے نتیجے میں ان پر وہ قہر الٰہی نازل ہوا جس کا مفصل ذکر سورة سبا میں آ چکا ہے (خلاصہ از تفسیر ابن کثیر ص 144 ج 4) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس تبع کا یہاں ذکر ہے وہ بذات خود اسلام لے آیا تھا البتہ اس کی قوم بعد میں گمراہ ہوگئی تھی یہی وجہ ہوئی کہ قرآن کریم میں دونوں جگہ قوم تبع کا ذکر کیا گیا ہے، تبع کا نہیں، اس کی تائید حضرت سہل بن سعد اور حضرت ابن عباس کی روایتوں سے بھی ہوتی ہے جنہیں ابن ابی حاتم، امام احمد اور طبرانی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، لاتسبوا تبعا فانہ قد کان اسلم تبع۔ کو برا بھلا مت کہو، اس لئے کہ وہ اسلام لے آیا تھا۔ (حوالہ مذکور)