43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمعارف القرآن

Ayah 43:1
خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم (ہے) اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی سے) سمجھ لو اور وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں پڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے (پس جب وہ سمجھنے میں آسان اور خاص ہماری زیر حفاظت اور اعجاز کی وجہ سے بڑے رتبے والی اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل ہے تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے لیکن اگر تم نہ مانو تو تب بھی ہم اپنی حکمت کے مقتضا سے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے چناچہ ارشاد ہے کہ) کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو (محض) اس بات پر ہٹا دیں گے کہ تم حد (اطاعت) سے گزرنے والے ہو (اور اس کو نہیں مانتے، یعنی خواہ تم مانو یا نہ مانگو مگر نصیحت تو برابر کی جائے گی اور یہ فیض کامل ہو کر رہے گا تاکہ اس سے مومنین کو نفع ہو اور تم پر حجت قائم ہو) اور ہم پہلے لوگوں میں (باوجود ان کی تکذیب کے) بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں (یہ نہیں ہوا کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے سلسلہ نبوت بند ہوجاتا) اور (اے پیغمبر ﷺ جیسے ہم نے ان کی تکذیب کی پرواہ نہیں کی اسی طرح آپ بھی کچھ پروا اور غم نہ کیجئے، کیونکہ) ان (پہلے) لوگوں (کا بھی یہی حال تھا کہ ان) کے پس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ جنہوں نے استہزاء نہ کیا ہو، پھر ہم نے ان لوگوں کو جو کہ ان (اہل مکہ) سے زیادہ زور آور تھے (تکذیب اور استہزاء کی سزا میں) غارت کر ڈالا، اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی ہے (پس نہ آپ غم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے جیسا کہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے)
Ayahs 43:2–4

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب واضح کی

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے رکھا اس کو قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور تحقیق یہ قرآن لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے برتر مستحکم

معارف و مسائل یہ سورت مکی ہے، البتہ حضرت مقاتل کا قول ہے کہ (آیت) واسئل من ارسلنا الخ مدنی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سورت معراج کے وقت آسمان پر نازل ہوئی۔ (روح المعانی) واللہ اعلم (آیت) وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ (قسم ہے کتاب واضح کی) اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو عموماً وہ چیز بعد کے دعوے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ قرآن بذات خود اپنے اعجاز کی وجہ سے اپنی حقانیت کی دلیل ہے اور قرآن کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مضامین با آسانی سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن جہاں تک اس سے احکام شرعیہ کے استنباط کا تعلق ہے وہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، اجتہاد کی پوری صلاحیت کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ چناچہ دوسری جگہ یہ بات واضح کردی گئی ہے (آیت) ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر (اور بلاشبہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا) اس میں فرما دیا گیا ہے کہ قرآن نصیحت اندوزی کے لئے آسان ہے لہٰذا اس سے اجتہاد واستنباط کا آسان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ اس کام کے لئے متعلقہ علوم میں پوری مہارت شرط ہے۔
Ayahs 43:5–8

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا پھیر دیں گے ہم تمہاری طرف سے یہ کتاب موڑ کر اس سبب سے کہ تم ہو ایسے لوگ کہ حد پر نہیں رہتے

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور بہت بھیجے ہیں ہم نے نبی پہلوں میں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور نہیں آتا لوگوں کے پاس کوئی پیغام لانے والا جس سے ٹھٹھا نہیں کرتے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر برباد کر ڈالے ہم نے ان سے سخت زور والے اور چلی آئی ہے مثال پہلوں کی۔

مبلغ کو مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے (کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو ؟) مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی میں خواہ کتنے ہی حد سے گزر جاؤ لیکن ہم تمہیں قرآن کے ذریعہ نصیحت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہو اسے ہر شخص کے پاس پیغام حق لے کر جانا چاہئے اور کسی گروہ یا جماعت کو تبلیغ کرنا محض اس بنا پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ تو انتہا درجے کے ملحد بےدین یا فاسق و فاجر ہیں انہیں کیا تبلیغ کی جائے۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں بنائے اس زبردست خبردار نے

خلاصہ تفسیر اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ ان کو زبردست جاننے والے (خدا) نے پیدا کیا ہے (اور ظاہر ہے کہ جس ذات نے تنہا یہ عظیم مخلوقات پیدا کی ہوں عبادت بھی تنہا اسی کی کرنی چاہئے، لہٰذا توحید خود ان کے اعتراف سے ثابت ہوگئی۔ آگے اللہ تعالیٰ توحید کو مزید مدلل کرنے کے لئے اپنے وہ افعال بیان فرماتے ہیں جو توحید پر دلالت کرنیوالے ہیں یعنی یہ زمین و آسمان اس نے پیدا کیے ہے) جس نے تمہارے (آرام کے) لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا (کہ اس پر آرام کرتے ہو) اور اس (زمین) میں اس نے تمہارے (منزل مقصود تک پہنچنے کے) لئے رستے بنائے تاکہ (ان راستوں پر چل کر) تم منزل مقصود تک پہنچ سکو اور جس نے آسمان سے پانی ایک انداز (خاص) سے (اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق) برسایا پھر ہم نے اس (پانی) سے خشک زمین کو (اس کے مناسب) زندہ کیا (اور اس سے توحید و دلالت کے علاوہ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ) اسی طرح تم (بھی اپنی قبروں سے) نکالے جاؤ گے اور جس نے (مختلف اجناس و انواع میں) تمام (مختلف) اقسام (یعنی اصناف) بنائیں اور تمہاری وہ کشیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم ان (کشتیوں اور چارپایوں) کی (سطح اور) پیٹھ پر جم کر (اطمینان سے) بیٹھو پھر جب اس پر بیٹھ چکو تو اپنے رب کی (اس) نعمت کو (دل سے) یاد کرو (اور زبان سے استحباباً) یوں کہو کہ اس کی ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تو ایسے (طاقتور اور ہنر مند) نہ تھے جو ان کو قابو میں کرلیتے (کیونکہ جانور سے زیادہ طاقت نہیں، اور الہام حق کے بغیر کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر سکھا دی) اور ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس لئے ہم اس پر سوار ہو کر شکر سے غفلت یا تکبر نہیں کرتے) اور (باوجود دلائل توحید کے واضح ہونے کے) ان لوگوں نے (شرک اختیار کر رکھا ہے اور وہ بھی کیسا قبیح کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں پس ایک خرابی تو یہ ہوئی کہ انہوں نے) خدا کے بندوں میں سے (جو مخلوق ہوتے ہیں) خدا کا جزو ٹھہرایا (حالانکہ خدا کا کوئی جزو ہونا عقلاً محال ہے) واقعی (ایسا) انسان صریح ناشکرا ہے (کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا بڑا کفر کرتا ہے کہ اس کو صاحب جزو قرار دیتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا معاذ اللہ ہونا حادث ہونا لازم آتا ہے۔ غرض ایک خرابی تو یہ ہوئی اور دوسری خرابی یہ کہ یہ لوگ لڑکی کو ناقص سمجھتے ہیں اور پھر خدا کے لئے بیٹیاں مانتے ہیں تو) کیا خدا نے اپنی مخلوق میں سے (تمہارے زعم میں اپنے لئے تو) بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا حالانکہ (تم بیٹیوں کو اتنا برا سمجھتے ہو کہ) جب تم میں کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جاتی ہے جس کو خدائے رحمان کا نمونہ (یعنی اولاد) بنا رکھا ہے (مراد بیٹی ہے) تو (اس قدر ناراض ہو کہ) سارے دن اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے (تو حیرت ہے کہ خدا کی طرف سے نقص کی نسبت کرتے ہو۔ یہاں تک ان کے فاسد عقیدے کی الزامی تردید تھی جس کی تشریح سورة صافات میں گزر چکی ہے۔ آگے اسی عقیدے کی تحقیقی تردید کی جاتی ہے کہ اگرچہ لڑکی ہونا بذات خود کوئی ذلت یا عار کی بات نہیں جیسے تم سمجھتے ہو، لیکن اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے ناقص العقل اور ضعیف الرائے ضرور ہے جب یہ بات ہے تو) کیا (خدا نے اولاد بنانے کے لئے لڑکی کو پسند کیا ہے) جو کہ (عادتاً) آرائش (و زیبائش) میں نشوونما پائے (جو زیورات اور بناؤ سنگھار کی طرف اس کی رغبت کا سبب ہوتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ عقل و رائے کی ناپختگی ہے) اور وہ (فکری وقت کے ضعف کی بناء پر) مباحثہ میں قوت بیانیہ (بھی) نہ رکھے (چنانچہ عورتیں عموماً اپنے مافی الضمیر کو قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کی بہ نسبت کم قادر ہوتی ہیں، اکثر ادھوری بات کہیں گی اور اس میں فضول باتیں ملا دیں گی جن کا اصل مقصد میں کچھ دخل نہ ہو، یہ دو خرابیاں ہوئیں) اور (تیسری خرابی شرک لازم آنے سے قطع نظر یہ ہے کہ) انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے (مخلوق) بندے ہیں (اس لئے اللہ کو ان کی پوری حالت معلوم ہے اور چونکہ وہ نظر نہیں آتے اس لئے ان کی کوئی صفت بغیر اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی اور اللہ نے کہیں یہ نہیں بتلایا کہ فرشتے عورت ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان کو بلا دلیل) عورت قرار دے رکھا ہے (اور ان کے عورت ہونے پر نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی، لہٰذا مشاہدہ ہونا چاہئے تو) کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے (اور دیکھ رہے تھے، جواب ظاہر ہے کہ انہوں نے فرشتوں کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا، لہٰذا ان کے اس احمقانہ دعوے کی حقیقت واضح ہوگئی) ان کا یہ دعویٰ (جو بلا دلیل ہے اعمال کے دفتر میں) لکھ لیا جاتا ہے اور (قیامت میں) ان سے باز پرس ہوگی (یہ گفتگو تو فرشتوں کے بیٹیاں ہونے سے متعلق تھی) اور (آگے ان کے معبود ہونے کے متعلق بیان ہے کہ) وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ (اس بات کو خوشی سے) چاہتا (کہ ملائکہ کی عبادت نہ ہو، یعنی اس عبادت سے وہ ناخوش ہوتا) تو ہم (کبھی) ان کی عبادت نہ کرتے (کیونکہ وہ کرنے ہی نہ دیتا، بلکہ جبراً روک دیتا، جب نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ وہ ان کی عبادت نہ کرنے سے خوش نہیں بلکہ عبادت کرنے سے خوش ہے آگے ان کی تردید ہے کہ) ان کو اس (بات) کی کچھ تحقیق نہیں (ہے) محض بےتحقیق بات کر رہے ہیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو کسی فعل پر قدرت دے دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس فعل پر راضی بھی ہے جیسے کہ پارہ ہشتم کے نصف سے پہلے (آیت) سیقول الذین اشرکوا الخ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اب یہ بتلاویں کہ) کیا ہم نے ان کو اس (قرآن) سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ (اس دعوے میں) اس سے استدلال کرتے ہیں (حقیقت یہ ہے کہ نہ ان کے پاس دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی) بلکہ (محض اپنے باپ دادوں کی اتباع ہے، چنانچہ) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے رستہ چل رہے ہیں اور (جس طرح یہ لوگ بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل اپنی قدیم رسم کو بطور سند پیش کرتے ہیں) اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے (اولاً اور متبعین نے ثانیاً) یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں (اس پر) ان کے (اس) پیغمبر نے (ایسے) کہا کہ کیا (آبائی رسوم ہی کا اتباع کئے جاؤ گے) اگرچہ میں اس سے اچھا (منزل) مقصود پر پہنچا دینے والا طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں کہ جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہو، وہ (براہ عناد) کہنے لگے کہ ہم تو اس (دین) کو مانتے ہی نہیں جس کو دے کر (بزعم تمہارے) تم کو بھیجا گیا ہے سو (جب عناد حد سے بڑھ گیا اس وقت) ہم نے ان سے انتقام لیا، سو دیکھئے، تکذیب کرنے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔
Ayahs 43:10–11

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنادیا تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور رکھ دیں تمہارے واسطے اس میں راہیں تاکہ تم راہ پاؤ

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے اتارا آسمان سے پانی ماپ کر پھر ابھار کھڑا کیا ہم نے اس سے ایک دیس مردہ کو اسی طرح تم کو بھی نکالیں گے

معارف و مسائل (آیت) جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا (تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) مطلب یہ ہے کہ زمین کی ظاہری صورت اور اس کا آرام فرش کا سا ہے، لہٰذا یہ زمین کے گول ہونے کے منافی نہیں۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے بنائے سب چیز کے جوڑے اور بنادیا تمہارے واسطے کشتیوں اور چوپایوں کو جس پر تم سوار ہوتے ہو

(آیت) وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ (اور تمہارے لئے وہ کشیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہو) انسان کی سواریاں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ سواریاں جنہیں انسان اپنی صنعت و حرفت کے ذریعہ خود بناتا ہے اور دوسرے وہ حیوانات جن کی تخلیق میں انسانی صنعت کا کوئی دخل نہیں۔ کشتیاں بول کر سواریوں کی پہلی قسم مراد ہے اور چوپائے سے دوسری قسم۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ انسانی استعمال کی تمام سواریاں، خواہ ان کی تیاری میں انسانی صنعت کو دخل ہو یا نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ چوپایوں کا نعمت ہونا تو بالکل ظاہر ہے کہ وہ انسان سے کئی گنا زائد طاقتور ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے آگے ایسا رام کردیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کے منہ میں لگام یا ناک میں نکیل ڈال کر جہاں چاہتا ہے انہیں لے جاتا ہے۔ اسی طرح وہ سواریاں بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں جن کی تیاری میں انسانی صنعت کو دخل ہے، ہوائی جہاز سے لے کر معمولی سائیکل تک یہ ساری سواریاں اگرچہ بظاہر انسان نے خود بنائی ہیں لیکن ان کی صنعت کے طریقے سمجھانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ یہ وہ قادر مطلق ہی تو ہے جس نے انسانی دماغ کو وہ طاقت عطا کی ہے جو لوہے کو موم بنا کر رکھ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی صنعت میں جو خام مواد استعمال ہوتا ہے وہ اس کے خواص و آثار تو براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کو تخلیق ہیں۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ چڑھ بیٹھو تم اس کی پیٹھ پر پھر یاد کرو اپنے رب کا احسان جب بیٹھ چکو اس پر اور کہو پاک ذات ہے وہ جس نے بس میں کردیا ہمارے اس کو اور ہم نہ تھے اس کو قابو میں لا سکتے

(آیت) ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ (اور تاکہ تم یاد کرو اپنے پروردگار کی نعمت کو) اس سے اشارہ فرما دیا گیا کہ ایک صاحب عقل و ہوش انسان کا کام یہ ہے کہ وہ منعم حقیقی کی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے غفلت، بےپروائی، اور استغناء کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس بات پر دھیان دے کہ یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے لہٰذا مجھ پر اس کے شکر کی ادائیگی اور عجز و نیاز کا اظہار واجب ہے۔ ایک کافر اور مومن میں درحقیقت یہی فرق ہے کہ کائنات کی نعمتوں کو دونوں استعمال کرتے ہیں لیکن کافر انہیں غفلت اور بےپروائی سے استعمال کرتا ہے اور مومن اللہ کے انعامات کو مستحضر کر کے اپنا سر نیاز اس کے حضور جھکا دیتا ہے۔ اسی مقصد سے قرآن و حدیث میں مختلف کاموں کی انجام دہی کے وقت صبر و شکر کے مضامین پر مشتمل دعائیں تلقین کی گئی ہیں۔ اور اگر انسان اپنی روزمرہ زندگی میں اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے ان دعاؤں کو اپنا معمول بنا لے تو اس کا ہر مباح کام بھی عبادت بن جاتا ہے۔ یہ دعائیں علامہ جزری کی کتاب ”حصن حصین“ اور حکیم الامت حضرت تھانوی کی ”مناجات مقبول“ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ سفر کے وقت کی دعائیں (آیت) سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا الخ (پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لئے مسخر کردیا) یہ سواری پر بیٹھ کر پڑھنے کی دعا ہے۔ چناچہ آنحضرت محمد ﷺ سے متعدد روایات میں منقول ہے کہ آپ سواری پر بیٹھتے وقت یہ کلمات پڑھا کرتے تھے اور سوار ہونے کا پورا مستحب طریقہ حضرت علی سے یہ منقول ہے کہ سواری پر پاؤں رکھتے وقت بسم اللہ کہے، پھر سوار ہوجانے کے بعد الحمدللہ اور اس کے بعد یہ کلمات سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا سے لمنقلبون تک (قرطبی) نیز آنحضرت ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ اگر آپ کسی سفر پر جا رہے ہوتے تو مذکورہ کلمات کے بعد یہ دعا بھی پڑھتے تھے۔ اللہم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل والمال اللھم انی اعوذبک من وعثاء السفر وکابۃ المنقلب، والحوار بعد الکور وسوء المنظر فی الاھل والمال اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں اللھم لا الہ الاانت ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لایغفر الذنوب الا انت۔ (قرطبی) آیت) وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) (اور ہم تو ایسے نہ تھے جو ان کو قابو میں کرلیتے) یہ بات مشینی سواریوں پر بھی اسی طرح صادق آتی ہے جس طرح جانوروں اور چوپایوں پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کا خام مواد پیدا نہ کرتا، یا اس میں وہ خواص و آثار نہ رکھتا یا انسانی دماغ کو ان خواص کے دریافت کرنے کی طاقت نہ بخشتا تو ساری کائنات مل کر بھی ایسی سواریاں پیدا نہ کرسکتی تھی۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم کو اپنے رب کی طرف پھرجانا ہے

(آیت) وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ (اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں) ان الفاظ کے ذریعہ تعلیم یہ دی گئی ہے کہ انسان کو اپنے ہر دنیوی سفر کے وقت آخرت کا وہ کٹھن سفر یاد کرنا چاہئے جو ہر حال میں پیش ہو کر رہے گا اور اسے سہولت کے ساتھ طے کرنے کے لئے اعمال صالحہ کے سوا کوئی سواری نہیں ہوگی۔
Ayahs 43:15–17

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ٹھہرائی ہے انہوں نے حق تعالیٰ کے واسطے اولاد اس کے بندوں میں سے تحقیق انسان بڑا ناشکرا ہے صریح

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے رکھ لیں اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں اور تم کو دیدیئے چن کر بیٹے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں کسی کو خوشخبری ملے اس چیز کی جس کو رحمن کے نام لگایا تو سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور وہ دل میں گھٹ رہا ہے

(آیت) وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا۔ (اور انہوں نے خدا کے بندوں میں سے خدا کا جزو ٹھہرایا) یہاں جزو سے مراد اولاد ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اولاد کے بجائے جزو کا لفظ اختیار کر کے مشرکین کے اس دعوائے باطل کی عقلی تردید کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے کوئی اولاد ہو تو وہ اس کی جزو ہوگی کیونکہ بیٹا باپ کا جزو ہوتا ہے، اور یہ عقلی قاعدہ ہے کہ ہر کل اپنے وجود میں جزو کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ بھی اپنی اولاد کا محتاج ہو۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بھی قسم کی احتیاج شان خداوندی کے بالکل منافی ہے۔
Ayahs 43:18–25

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا ایسا شخص کہ پرورش پاتا ہے زیور میں اور وہ جھگڑے میں بات نہ کہہ سکے

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور ٹھہرایا انہوں نے فرشتوں کو جو بندے ہیں رحمن کے عورتیں کیا دیکھتے تھے ان کا بننا اب لکھ رکھیں گے ان کی گواہی اور ان سے پوچھ ہوگی

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر چاہتا رحمن تو ہم نہ پوجتے ان کو کچھ خبر نہیں ان کو اس کی یہ سب اٹکلیں دوڑاتے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے کوئی کتاب دی ہے ان کو اس سے پہلے سو انہوں نے اس کو مضبوط پکڑ رکھا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہتے ہیں ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور ہم انہی کے قدموں پر ہیں راہ پائے ہوئے اور اسی طرح جس کسی کو بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے ڈر سنانے والا کسی گاؤں میں سو کہنے لگے وہاں کے خوشحال لوگ ہم نے تو پایا اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر اور ہم انہی کے قدموں پر چلتے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

وہ بولا اور جو میں لادوں تم کو اس سے زیادہ سوجھ کی راہ جس پر تم نے پایا اپنے باپ دادوں کو تو یہی کہنے لگے ہم تمہارا لایا ہوا نہیں مانیں گے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔

(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔ (آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر کہیں مباحثہ ہوجائے تو اپنے دعوے کو ثابت کرنا اور دوسرے کے دلائل کو رد کرنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے لیکن یہ حکم اکثریت کے اعتبار سے ہے۔ لہٰذا اگر کچھ عورتیں سلیقہ گفتار کی مالک ہوں اور اس معاملہ میں مردوں سے بھی بڑھ جائیں تو اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ حکم اکثریت پر لگتا ہے اور اکثریت بلاشبہ ایسی ہی ہے۔
Ayahs 43:26–27

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو میں الگ ہوں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر جس نے مجھ کو بنایا سو وہ مجھ کو راہ سمجھائے گا

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار (اور بےتعلق) ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر ہاں (اس خدا سے تعلق رکھتا ہوں) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میرے دین و دنیا کی مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (مطلب یہ کہ ان لوگوں کو ابراہیم ؑ کا حال یاد کرنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے) اور (وصیت کے ذریعہ) وہ اس (عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے (یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ حضور ﷺ کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعض لوگ شرک سے نفرت کرتے تھے اور یہ وصیت انہوں نے اس لئے کی تھی) تاکہ (ہر زمانے میں مشرک) لوگ (موحدین سے توحید کا عقیدہ سن سن کر شرک سے) باز آتے رہیں (مگر یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آتے اور اس طرف توجہ نہیں کرتے) بلکہ میں نے (جو) ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا ہے (اس میں منہمک اور غافل ہو رہے ہیں) یہاں تک کہ (اسی انہماک اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے) ان کے پاس سچا قرآن (جو معجز ہونے کی وجہ سے اپنی سچائی کی آپ ہی دلیل ہے) اور صاف صاف بتانے والا رسول (اللہ کی طرف سے) آیا اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن پہنچا (اور اس کا اعجاز ظاہر ہوا) تو کہنے لگے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ معارف و مسائل (آیت) وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ الخ۔ گزشتہ آیات کے آخر میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کے کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے۔ اب ان آیات میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم ؑ کے راستے پر کیوں نہیں چلتے جو تمہارے اشرف ترین جد اعلیٰ ہیں اور جن کے ساتھ نسبی وابستگی کو تم خود اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتے ہو۔ وہ نہ صرف توحید کے قائل تھے اور اپنی اولاد کو بھی اس کی وصیت کر گئے بلکہ خود ان کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ کھلے ہوئے عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض اپنے باپ دادوں کی تقلید کرنا جائز نہیں، جب وہ دنیا میں مبعوث ہوئے تو ان کی ساری قوم اپنے آباؤ اجداد کی اتباع میں شرک میں مبتلا تھی، لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے دلائل واضحہ کا اتباع کرتے ہوئے اپنی قوم سے بیزاری کا اظہار کیا اور فرمایا اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ (جن چیزوں کی عبادت تم کرتے ہو میں ان سے بری ہوں) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی بد عمل یا بد عقیدہ گروہ یا جماعت کے درمیان رہتا ہے، اور خاموش رہنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ اس کو بھی اس گروہ کا ہم خیال سمجھا جائے گا تو محض اپنے عقیدے اور عمل کا درست کرلینا ہی کافی نہیں، بلکہ اس گروہ کے عقائد و اعمال سے اپنی برات کا اظہار بھی ضروری ہے۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم ؑ نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اپنے عقائد و اعمال کو مشرکین سے عملاً ممتاز کرلیا بلکہ زبان سے بھی برات کا برملا اظہار فرمایا۔
Ayahs 43:28–30

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات پیچھے چھوڑ گیا اپنی اولاد میں تاکہ وہ رجوع رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

کوئی نہیں پر میں نے برتنے دیا ان کو اور ان کے باپ دادوں کو یہاں تک کہ پہنچا ان کے پاس دین سچا اور رسول کھول کر سنا دینے والا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب پہنچا ان کے پاس سچا دین کہنے لگے یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہ مانیں گے۔

(آیت) وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ (اور وہ اس کو اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے والی بات کر گئے) مطلب یہ ہے کہ اپنے عقیدہ توحید و انہوں نے اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی۔ چناچہ آپ کی اولاد میں ایک بڑی تعداد موحدین کی ہوئی اور خود مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت تک ایسے سلیم الفطرت حضرات موجود تھے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم ؑ کے اصلی دین پر ہی قائم رہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی ذات کے علاوہ اپنی اولاد کو دین صحیح پر کاربند کرنے اور رکھنے کی فکر بھی انسان کے فرائض میں داخل ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) میں سے حضرت ابراہیم ؑ کے علاوہ حضرت یعقوب ؑ کے بارے میں بھی قرآن کریم نے بتایا ہے کہ انہوں نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو صحیح دین پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی۔ لہٰذا جس صورت سے ممکن ہو اولاد کے اعمال و اخلاق کی اصلاح میں اپنی پوری کوشش صرف کردینا ضروری بھی ہے اور انبیاء کی سنت بھی۔ اور یوں تو اولاد کی اصلاح کے بہت سے طریقے ہیں جنہیں حسب موقع اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن حضرت شیخ عبدالوہاب شعرانی ؒ نے لطائف المنن والاخلاق میں لکھا ہے کہ اولاد کی اصلاح کے لئے زیادہ کارگر عمل یہ ہے کہ والدین ان کی دینی اصلاح کے لئے دعا کا اہتمام کریں۔ افسوس ہے کہ اس آسان تدبیر سے آج کل غفلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کے انجام بد کا مشاہدہ خود والدین کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا یہ قرآن کسی بڑے مرد پر ان دونوں بستیوں میں کے

خلاصہ تفسیر (یہ تو کافروں نے قرآن کے بارے میں کہا) اور (رسول اللہ ﷺ کے بارے میں) کہنے لگے کہ یہ قرآن (اگر کلام الٰہی ہے اور بحیثیت رسالت آیا ہے تو) ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا (یعنی رسول کیلئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے اور آنحضرت ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے تو یہ پیغمبر نہیں ہو سکتے۔ باری تعالیٰ ان کے اس شبہ کی تردید فرماتے ہیں کہ) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) کو (خود) تقسیم کرنا چاہتے ہیں (یعنی یہ چاہتا کہ نبوت ہماری رائے کے مطابق لوگوں کو ملنی چاہئے گویا خود تقسیم کرنے کی ہوس کرنا ہے کہ یہ تقسیم ہمارے سپرد ہو حالانکہ یہ ہوس نری نادانی ہے کیونکہ) دنیوی زندگی میں (تو) ان کی روزی ہم (ہی) نے تقسیم کر رکھی ہے اور (اس تقسیم میں) ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے تاکہ (اس سے یہ مصلحت حاصل ہو کہ) ایک دوسرے سے کام لیتا رہے (اور عالم کا انتظام قائم رہے) اور (ظاہر اور یقینی بات ہے کہ) آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) بدرجہا اس (دنیوی مال و متاع اور جاہ و منصب) سے بہتر ہے کہ جس کو یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں (پس جب دنیوی معیشت کی تقسیم ہم نے ان کی رائے پر نہیں رکھی، حالانکہ وہ ادنیٰ درجہ کی چیز ہے، تو نبوت جو خود بھی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور اس کے مصالح بھی نہایت عظیم درجہ کے ہیں وہ کیونکر ان کی رائے پر تقسیم کی جاتی)۔ معارف و مسائل ان آیات میں باری تعالیٰ نے مشرکین عرب کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے جو وہ آنحضرت محمد ﷺ کی رسالت پر کیا کرتے تھے۔ دراصل شروع میں تو وہ باور کرنے پر ہی تیار نہ تھے کہ اللہ کا کوئی رسول انسان ہوسکتا ہے، چناچہ ان کا یہ اعتراض قرآن کریم نے جا بجا ذکر فرمایا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو ہم رسول کیسے مان لیں جبکہ وہ عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں، لیکن جب متعدد آیات قرآنی کے ذریعہ یہ واضح کردیا گیا کہ یہ صرف آنحضرت محمد ﷺ ہی کی خصوصیت نہیں، بلکہ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں وہ سب انسان ہی تھے، تو اب انہوں نے پینترا بدل کر یہ اعتراض کیا کہ اگر کسی انسان ہی کو نبوت سونپنی تھی تو حضور مالی اعتبار سے کوئی بڑے صاحب حیثیت نہیں ہیں، یہ منصب حضور کے بجائے مکہ اور طائف کے کسی بڑے دولت مند اور صاحب جاہ و منصب انسان کو کیوں نہیں دیا گیا، روایات میں ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے مکہ مکرمہ سے ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی حبیب بن عمرو ثقفی یا کنانہ بن عبد یا لیل کے نام پیش کئے تھے۔ (روح المعانی) مشرکین کے اس اعتراض کے باری تعالیٰ نے دو جواب دیئے ہیں۔ پہلا جواب مذکورہ آیتوں میں سے دوسری آیت میں اور دوسرا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے اس کی تشریح بھی وہیں آئے گی۔ اس سے پہلے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نبوت کا منصب کس کو دے رہا ہے اور کس کو نہیں دے رہا ؟ نبوت کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے کہ کسی کو نبی بنانے سے پہلے تم سے رائے لی جائے۔ یہ کام کلیتاً اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اپنی عظیم مصلحتوں کے مطابق اسے انجام دیتا ہے۔ تمہارا وجود اور عقل و شعور اس عظیم کام کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کہ تقسیم نبوت کا کام تمہارے سپرد کردیا جاتا اور نبوت کی تقسیم تو بہت اونچے درجہ کی چیز ہے تمہاری حیثیت وجود و شعور تو اس کی بھی متحمل نہیں کہ خود تمہاری معیشت اور سامان معیشت کی تقسیم کا کام تمہارے سپرد کیا جاسکے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیا گیا تو تم ایک دن بھی نظام عالم کو نہ چلا سکو گے اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی میں تمہاری روزی کی تقسیم بھی تمہارے ذمہ نہیں رکھی بلکہ تقسیم معیشت کا کام خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ جب یہ ادنیٰ درجہ کا کام تمہارے حوالہ نہیں کیا جاسکتا تو نبوت کی تقسیم جیسا عظیم کام تمہارے حوالہ کیسے کردیا جائے۔ آیات کا مقصود کلام تو اتنا ہی ہے لیکن مشرکین کو جواب دینے کے ضمن میں باری تعالیٰ نے دنیا کے نظام معیشت سے متعلق جو اشارے کردیئے ہیں ان سے متعدد معاشی اصول مستنبط ہوتے ہیں، یہاں ان کی مختصر توضیح ضروری ہے۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو ہم نے بانٹ دی ہے ان میں روزی ان کی دنیا کی زندگانی میں اور بلند کردیئے درجے بعض کے بعض پر کہ ٹھہراتا ہے ایک دوسرے کو خدمت گار اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے ان چیزوں سے جو سمیٹتے ہیں۔

تقسیم معیشت کا قدرتی نظام (آیت) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ (ہم نے تقسیم کیا ہے ان کے درمیان ان کی معیشت کو) مقصد یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ یہاں ہر شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے کی امداد کا محتاج ہو اور تمام لوگ اسی باہمی احتیاج کے رشتے میں بندھے ہوئے پورے معاشرے کی ضروریات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اس آیت نے کھول کر یہ بات بتلا دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقسیم معیشت کا کام (اشتراکیت کی طرح) کسی با اختیار انسانی ادارے کے سپرد نہیں کیا جو منصوبہ بندی کے ذریعہ یہ طے کرے کہ معاشرے کی ضروریات کیا ہیں ؟ انہیں کس طرح پورا کیا جائے وسائل پیداوار کو کس تناسب کے ساتھ کن کاموں میں لگایا جائے اور ان کے درمیان آمدنی کی تقسیم کس بنیاد پر کی جائے ؟ اس کے بجائے یہ تمام کام اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور اپنے ہاتھ میں رکھنے کا مطلب یہی ہے کہ ہر شخص کو دوسرے کا محتاج بنا کر دنیا کا نظام ہی ایسا بنادیا ہے جس میں اگر (اجارہ داریوں وغیرہ کے ذریعہ) غیر فطری رکاوٹیں پیدا کی جائیں تو وہ نظام خود بخود یہ تمام مسائل حل کردیتا ہے۔ باہمی احتیاج کے اس نظام کو موجودہ معاشی اصطلاح میں طلب و رسد کا نظام کہا جاتا ہے۔ طلب و رسد کا قدرتی قانون یہ ہے کہ جس چیز کی رسد کم ہو اور طلب زیادہ اس کی قیمت بڑھتی ہے لہٰذا وسائل پیداوار اس چیز کی تیاری میں زیادہ نفع دیکھ کر اسی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور جب رسد طلب کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے تو قیمت گھٹ جاتی ہے چناچہ اس چیز کی مزید تیاری نفع بخش نہیں رہتی اور وسائل پیداوار اس کے بجائے کسی اور ایسے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں جس کی ضرورت زیادہ ہو۔ اسلام نے طلب و رسد کی انہی قدرتی قوتوں کے ذریعہ دولت کی پیدائش اور تقسیم کا کام لیا ہے اور عام حالات میں تقسیم معیشت کا کام کسی انسانی ادارے کے حوالہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منصوبہ بندی کے خواہ کتنے ترقی یافتہ طریقے دریافت کر لئے جائیں لیکن ان کے ذریعہ معیشت کی ایک ایک جزوی ضرورت کا احاطہ ممکن نہیں اور اس قسم کے معاشرتی مسائل عموماً ایسے ہی قدرتی نظام کے تابع چلتے ہیں۔ زندگی کے بیشتر معاشرتی مسائل اسی طرح قدرتی طور پر خود بخود طے پاتے ہیں، اور انہیں حکومت کی منصوبہ بندی کے حوالہ کرنا زندگی میں ایک مصنوعی جکڑ بند پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر یہ بات کہ دن کا وقت کام کے لئے ہے اور رات کا سونے کے لئے کسی معاہدہ عمرانی یا انسانی منصوبہ بندی کے تحت طے نہیں پائی، بلکہ قدرت کے خود کار نظام نے خود بخود یہ فیصلہ کردیا ہے، اسی طرح یہ مسئلہ کہ کون شخص کس سے شادی کرے طبعی مناسبتوں کے فطری نظام کے تحت خود بخود انجام پاتا ہے اور اسے منصوبہ بندی کے ذریعہ حل کرنے کا کسی کو خیال نہیں آیا۔ یا مثلاً یہ بات کہ کون شخص علم وفن کے کس شعبہ کو اپنا میدان بنائے، اسے طبعی ذوق اور مناسبت کے بجائے حکومت کی منصوبہ بندی کے حوالہ کردینا ایک خواہ مخواہ کی زبردستی ہے اور اس سے نظام فطرت درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح نظام معیشت کو بھی قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور ہر شخص کے دل میں وہی کام ڈال دیا ہے جو اس کے لئے زیادہ مناسب ہے اور جسے وہ بہت طریقے سے انجام دے سکتا ہے چناچہ ہر شخص خواہ وہ ایک خاکروب ہی کیوں نہ ہو اپنے کام پر خوش ہے اور اسی کو اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتا ہے۔ (آیت) کل حزب بما لدیہم فرحون، البتہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح اسلام نے افراد کو اتنی آزادی نہیں دی کہ وہ ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت سمیٹ کر دوسروں کے لئے رزق کے دروازے بند کر دے، بلکہ ذرائع آمدنی میں حلال و حرام کی تفریق کر کے سود، سٹہ، قمار اور ذخیرہ اندوزی کو ممنوع قرار دے دیا ہے پھر جائز آمدنی پر بھی زکوٰة و عشر وغیرہ کے واجبات عائد کر کے ان خرابیوں کا انسداد کردیا ہے جو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں پائی جاتی ہیں اس کے باوجود بھی اگر کبھی اجارہ داریاں قائم ہوجائیں تو ان کو توڑنے کے لئے حکومت کی مداخلت کو جائز رکھا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں، اس موضوع پر احقر کے مستقل رسالہ ”مسئلہ سود“ اسلام کا نظام تقسیم دولت اور ”اسلامی نظام میں معاشی اصلاحات“ ملاحظہ فرمائے جائیں۔ معاشی مساوات کی حقیقت (آیت) وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ معاشی مساوات (اس معنی میں کہ دنیا کے تمام افراد کی آمدنی بالکل برابر ہو) نہ مطلوب ہے نہ ممکن العمل۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ہر رکن پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں اور کچھ حقوق دیئے ہیں اور دونوں میں اپنی حکمت سے یہ تناسب رکھا ہے کہ جس کے ذمہ جتنے فرائض ہیں اس کے اتنے ہی حقوق ہیں۔ انسان کے علاوہ جتنی مخلوقات ہیں ان کے ذمہ چونکہ فرائض سب سے کم ہیں کہ وہ شرعاً حلال و حرام اور ناجائز و جائز کے مکلف نہیں ہیں اس لئے ان کے حقوق بھی سب سے کم ہیں چناچہ انسان کو ان کے معاملہ میں وسیع آزادی عطا کی گئی ہے کہ وہ ان سے چند معمولی سی پابندیوں کے ساتھ جس طرح چاہے نفع اٹھا سکتا ہے۔ چناچہ بعض حیوانات کو وہ کاٹ کر کھاتا ہے بعض پر سواری کرتا ہے، بعض مخلوقات کو پامال کرتا ہے مگر اسے ان مخلوقات کی حق تلفی نہیں سمجھا جاتا۔ اس لئے کہ ان مخلوقات پر چونکہ فرائض کم ہیں اس لئے ان کے حقوق بھی کم ہیں۔ پھر کائنات میں سب سے زیادہ فرائض انسان اور جنات پر عائد کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے ہر قول و فعل اور ہر نقل و حرکت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں اور اگر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو آخرت کے عذاب کے مستحق ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو حقوق بھی دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں کہیں زیادہ عطا کئے ہیں۔ پھر انسانوں میں یہ لحاظ ہے کہ جس کی ذمہ داری اور فرائض دوسروں سے زیادہ ہیں، اس کے حقوق بھی زائد ہیں۔ انسانوں میں سب سے زیادہ ذمہ داری انبیاء (علیہم السلام) پر ہوتی ہے، چناچہ ان کو بہت سے حقوق بھی دوسروں سے زائد عطا کئے گئے ہیں۔ نظام معیشت میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی رعایت رکھی ہے کہ ہر شخص کو اتنے معاشی حقوق دیئے جائیں جتنے فرائض کی ذمہ داری وہ اپنے سر لے، اور ظاہر ہے کہ فرائض میں یکسانیت کا پیدا ہونا بالکل ناممکن اور ان میں تفاوت ناگزیر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہر شخص کے معاشی وظائف و فرائض دوسروں سے بالکل مساوی ہوں اس لئے کہ معاشی وظائف و فرائض انسانوں کی فطری صلاحیتوں پر موقوف ہیں جن میں جسمانی طاقت، صحت، دماغی قویٰ اور عمر، ذہنی معیار، چستی اور پھرتی جیسی خبریں داخل ہیں اور یہ بات ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ ان اوصاف کے اعتبار سے انسانوں میں یکسانیت اور مساوات پیدا کرنا بڑی سے بڑی ترقی یافتہ اشتراکی حکومت کے بس میں بھی نہیں، جب انسانوں کی صلاحیتوں میں تفاوت ناگزیر ہے تو ان کے فرائض میں بھی لازماً تفاوت ہوگا اور معاشی حقوق چونکہ انہی فرائض پر موقوف ہیں اس لئے معاشی حقوق یعنی آمدنی میں بھی تفاوت ناگزیر ہے کیونکہ اگر سب کی آمدنی بالکل مساوی کردی جائے اور فرائض میں تفاوت رہے تو اس سے کبھی عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس صورت میں بعض لوگوں کی آمدنی ان کے فرائض سے زیادہ اور بعض کی ان کے فرائض سے کم ہوجائے گی جو صریح ناانصافی ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ آمدنی میں مکمل مساوات کسی بھی دور میں قرین انصاف نہیں ہو سکتی لہٰذا اشتراکیت اپنی ترقی کے انتہائی دور (مکمل کمیونزم) (اشتراکیت کا کہنا یہ ہے کہ فی الحال تو آمدنی کی مکمل مساوات ممکن نہیں، لیکن اگر اشتراکیت کے ابتدائی اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے تو ایک وقت ایسا آجائے گا جب آمدنی میں مکمل مساوات یا املاک میں مکمل اشتراک پیدا ہوجائے گا اور یہ مکمل کمیونزم کا دور ہوگا) میں بھی جس مساوات کا دعویٰ کرتی ہے وہ کسی بھی حال میں نہ قابل عمل ہے اور نہ قرین عدل و انصاف۔ البتہ یہ طے کرنا کہ کس کے فرائض زیادہ اور کس کے کم ہیں، اور ان کی مناسبت سے اسے کتنے حقوق ملنے چاہئیں ایک انتہائی نازک اور مشکل کام ہے اور انسان کے پاس کوئی ایسا پیمانہ نہیں ہے جس سے وہ اس بات کا ٹھیک ٹھیک تعین کرسکے۔ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ماہر اور تجربہ کار انجینئر نے ایک گھنٹہ میں اتنی آمدنی حاصل کرلی ہے جو ایک غیر ہنر مند مزدور نے دن بھر منوں مٹی ڈھو کر بھی حاصل نہیں کی، لیکن اگر انصاف سے دیکھا جائے تو قطع نظر اس سے کہ مزدور کی دن بھر کی آزاد محنت ذمہ داری کے اس بوجھ کے برابر نہیں ہو سکتی جو انجینئر نے اٹھا رکھا ہے۔ انجینئر کی یہ آمدنی صرف اس ایک گھنٹے کی محنت کا صلہ نہیں بلکہ اس میں سالہا سال کی اس دماغ سوزی، عرق ریزی اور جانفشانی کے صلے کا ایک حصہ بھی شامل ہے جو اس نے انجینئرنگ کی تعلیم و تربیت اور پھر اس میں تجربہ و مہارت حاصل کرنے میں برداشت کی ہے۔ اشتراکیت نے اپنے ابتدائی دور میں آمدنی کے اس تفاوت کو تسلیم تو کرلیا ہے چناچہ تمام اشتراکی ممالک میں آبادی کے مختلف طبقات کے درمیان تنخواہوں کا زبردست تفاوت پایا جاتا ہے لیکن ٹھوکر یہاں کھائی ہے کہ تمام وسائل پیداوار کو حکومت کی تحویل میں دے کر وسائل کے لئے فرائض کا تعین اور پھر ان کی مناسبت سے ان پر آمدنی کی تقسیم بھی تمام تر حکومت ہی کے حوالہ کردی ہے۔ حالانکہ جیسا اوپر عرض کیا گیا فرائض اور حقوق کے درمیان تناسب باقی رکھنے کے لئے انسان کے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے چناچہ اشتراکیت کے طریق کار کے تحت ملک بھر کے انسانوں کی روزی کا تعین حکومت کے چند کارندوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور انہیں یہ اختیار مل گیا ہے کہ جس شخص کو جتنا چاہیں دیں، جتنا چاہیں روک لیں۔ اول تو اس میں بد دیانتیوں اور اقربا نوازیوں کو ایک بڑا میدان مل جاتا ہے جس کے سہارے افسر شاہی پھلتی پھولتی ہے، دوسرے اگر حکومت کے تمام کارندوں کو فرشتہ بھی تصور کرلیا جائے اور وہ فی الواقعہ یہی چاہیں کہ ملک میں آمدنی کی تقسیم حق و انصاف کی بنیاد پر ہو تو ان کے پاس آخر وہ کونسا پیمانہ ہے جس سے وہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ ایک انجینئر اور ایک مزدور کے فرائض میں کتنا تفاوت ہے، اور اس کی نسبت سے ان کی آمدنیوں میں کتنا تفاوت قرین انصاف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس بات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ انسانی عقل کے ادراک سے قطعی ماورا ہے اس لئے اسے قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ آیت زیر بحث (آیت) وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس تفاوت کا تعین ہم نے انسانوں کے حوالہ کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اپنے ہاتھ میں رکھنے کا مطلب یہاں بھی یہی ہے کہ دنیا میں ہر شخص کی ضروریات دوسرے کے ساتھ وابستہ کر کے نظام ایسا بنادیا ہے کہ ہر شخص اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے دوسرے کو اتنا دینے پر مجبور ہے جتنے کا وہ مستحق ہے۔ یہاں بھی باہمی احتیاج پر مبنی طلب و رسد کا نظام ہر شخص کی آمدنی کا تعین کرتا ہے، یعنی ہر شخص اس بات کا فیصلہ خود کرتا ہے کہ جتنے فرائض میں نے اپنے ذمہ لئے ہیں ان کا کتنا معاوضہ میرے لئے کافی ہے اس سے کم ملے تو یہ کام کرنے پر راضی نہ ہو اور یہ زیادہ مانگنے لگے تو کام لینے والا اس سے کام نہ لے۔ (آیت) لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا کا یہی مطلب ہے کہ ہم نے آمدنی میں تفاوت اس لئے رکھا ہے تاکہ ایک شخص دوسرے سے کام لے سکے ورنہ سب کی آمدنی برابر ہوتی تو کوئی کسی کے کام نہ آتا۔ ہاں البتہ بعض غیر معمولی حالات میں بڑے بڑے سرمایہ دار طلب و رسد کے اس قدرتی نظام سے ناجائز فائدہ اٹھا کر غریبوں کو اس بات پر مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے حقیقی استحقاق سے کم اجرت پر کام کریں۔ اسلام نے اول تو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے وسیع احکام کے ذریعہ نیز اخلاقی ہدایات اور تصور آخرت کے ذریعہ ایسی صورتحال کو پیدا ہونے سے روکا ہے، اور اگر کبھی کسی مقام پر یہ صورت پیدا ہوجائے تو اسلامی حکومت کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ ان غیر معمولی حالات کی حد تک وہ اجرتوں کا تعین کرسکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ صرف غیر معمولی حالات کے لئے ہے اس لئے اس مقصد کے لئے تمام وسائل پیداوار کو حکومت کے حوالہ کردینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے نقصانات فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسلامی مساوات کا مطلب مذکورہ بالا ارشادات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آمدنی میں مکمل مساوات نہ عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ نہ عملاً کہیں قائم ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے، اور نہ یہ اسلام کو مطلوب ہے۔ البتہ اسلام نے جس مساوات کو قائم کیا ہے وہ قانون، معاشرت اور ادائے حقوق کی مساوات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا قدرتی طریق کار کے تحت جس شخص کے جتنے حقوق متعین ہوجائیں انہیں حاصل کرنے کے قانونی، تمدنی اور معاشری حق میں سب برابر ہیں اس بات کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ ایک امیر یا صاحب جاہ و منصب انسان اپنا حق عزت کے ساتھ با آسانی حاصل کرلے اور غریب کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں اور ذلیل و حقیر ہونا پڑے۔ قانون امیر کے حقوق کی حفاظت کرے اور غریب کو بےیارو مددگار چھوڑ دے، اسی کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا واللہ ما عندی اقویٰ من اضعیف حتی اخذ الحق لہ ولا عندی اضعف من القوی حتیٰ اخذ الحق منہ ”خدا کی قسم میرے نزدیک ایک کمزور آدمی سے زیادہ قوی کوئی نہیں تا وقت کہ میں اس کا حق اسے نہ دلوا دوں اور میرے نزدیک ایک قوی آدمی سے زیادہ کمزور کوئی نہیں جب تک کہ میں اس سے (کمزور) کا حق وصول نہ کرلوں“۔ اس طرح ٹھیٹھ معاشی نقطہ نظر سے اسلامی مساوات کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں ہر شخص کو کمائی کے یکساں مواقع حاصل ہیں اور اسلام اس بات کو گوارہ نہیں کرتا کہ چند بڑے بڑے دولت مند مال و دولت کے دہانوں پر قابض ہو کر اپنی اجارہ داریاں قائم کرلیں اور چھوٹے تاجروں کے لئے بازار میں بیٹھنا دوبھر بنادیں۔ چناچہ سود، سٹہ، قمار، ذخیرہ اندوزی اور اجارہ دارانہ تجارتی معاہدوں کو ممنوع قرار دے کر نیز زکوٰة، عشر، خراج، نفقات، صدقات اور دوسرے واجبات عائد کر کے ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے جس میں ہر انسان اپنی ذاتی صلاحیت، محنت اور سرمایہ کے تناسب سے کمائی کے مناسب مواقع حاصل کرسکتا ہے اور اس سے ایک خوشحال معاشرے کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود آمدنی کا جو تفاوت باقی رہے وہ درحقیقت ناگزیر ہے اور جس طرح انسانوں کے درمیان حسن و جمال، قوت و صحت، عقل و ذہانت اور آل و اولاد کے تفاوت کو مٹانا ممکن نہیں، اسی طرح اس تفاوت کو بھی مٹایا نہیں جاسکتا۔
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ہوجائیں ایک دین پر تو ہم دیتے ان لوگوں کو جو منکر ہیں رحمن سے ان کے گھروں کے واسطے چھت چاندی کی اور سیڑھیاں جن پر چڑھیں

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے واسطے دروازے اور تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور سونے کے اور یہ سب کچھ نہیں ہے مگر برتنا دنیا کی زندگی کا اور آخرت تیرے رب کے یہاں انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر (اور یہ کافر لوگ مال و دولت کی زیادتی کو نبوت کی صلاحیت کی شرط سمجھتے ہیں حالانکہ نبوت ایک عظیم الشان چیز ہے اس لئے اس کی صلاحیت کی شرط بھی عظیم الشان ہونی چاہئے) اور (دنیا کی دولت و جاہ ہمارے نزدیک اس قدر حقیر ہے کہ) اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ (قریب قریب) تمام آدمی ایک ہی طریقے کے ہوجاویں گے (یعنی کافر ہوجائیں گے) تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں (اور خدا کے نزدیک سخت مبغوض ہیں) ہم ان (سب) کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر چڑھا (اترا) کرتے اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی (چاندی کے کردیتے) اور تخت بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور (یہی چیزیں) سونے کی بھی (کر دیتے، یعنی کچھ چاندی کی کچھ سونے کی۔ مگر یہ سامان سب کفار کو اس لئے نہیں دیا کہ اکثر انسانوں کی طبیعت میں مال و متاح کی حرص غالب ہے اور اس مفروضہ صورت میں کفر اس مال و متاع کے حصول کا یقینی سبب بن جاتا، پس چند تھوڑے سے آدمیوں کو چھوڑ کر قریب قریب سبھی کفر اختیار کرلیتے، اس لئے ہم نے تمام کافروں کو مال و دولت کی یہ وسعت نہیں دی، ورنہ اگر یہ مصلحت نہ ہوتی تو ہم ایسا ہی کرتے اور ظاہر ہے کہ دشمن کو قدر و وسعت کی چیز نہیں دیا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی مال و متاع حقیقت میں کوئی عظیم الشان چیز نہیں، پس وہ نبوت جیسے منصب عظیم کے لئے صلاحیت کی شرط بھی نہیں ہو سکتی اس کے بجائے نبوت کی شرط وہ اعلیٰ درجہ کے ملکات ہیں جو اللہ کی طرف سے انبیاء کو عطا ہوتے ہیں اور یہ ملکات محمد ﷺ میں پوری طرح جمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ اور طائف کے رئیسوں کے لئے) اور (حقارت دنیا کی ایک بالکل ظاہر وجہ بیان فرماتے ہیں کہ) یہ سب (ساز و سامان جس کا اوپر ذکر ہوا) کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامرانی ہے (پھر فنا، آخر فنا) اور آخرت (جو ابدی ہے اور اس لئے اس سے بہتر ہے وہ) آپ کے پروردگار کے ہاں خدا ترسوں کے لئے ہے۔ معارف و مسائل مال و دولت کی زیادتی فضیلت کا سبب نہیں ہے کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مکہ اور طائف کے کسی بڑے مالدار کو نبی کیوں نہ بنادیا گیا ؟ ان آیات میں اس کا دوسرا جواب دیا گیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک نبوت کے لئے کچھ شرائط صلاحیت کا پایا جانا ضروری ہے لیکن مال و دولت کی زیادتی کی بنا پر کسی کو نبوت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ مال و دولت ہماری نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام لوگوں کے کافر بن جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم سب کافروں پر سونے چاندی کی بارش کردیتے اور صحیح ترمذی کی ایک حدیث میں آنحضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضة ماسقی کافراً منھا شربة ماء (یعنی اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی درجہ رکھتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا) اس سے معلوم ہوا کہ نہ مال و دولت کی زیادتی کوئی فضیلت کی چیز ہے نہ اس کی کمی انسان کے کم رتبہ ہونے کی علامت ہے۔ البتہ نبوت کے لئے کچھ اعلیٰ درجہ کے اوصاف ضروری ہیں وہ سرکار دو عالم ﷺ میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں، اس لئے یہ اعتراض بالکل لغو اور باطل ہے۔ اور مذکورہ آیات میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر کافروں پر مال دولت کی اتنی فراوانی کردی جاتی تو سب لوگ کافر ہوجاتے، اس میں مراد لوگوں کی بھاری اکثریت ہے ورنہ اللہ کے کچھ نیک بندے آج بھی ایسے موجود ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کفر اختیار کر کے وہ مال و دولت سے نہال ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مال و دولت کی خاطر کفر کو اختیار نہیں کرتے ایسے کچھ لوگ شاید اس وقت بھی ایمان پر قائم رہ جاتے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی۔
Ayahs 43:36–38

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی آنکھیں چرائے رحمن کی یاد سے ہم اس پر مقرر کردیں ایک شیطان پھر وہ رہے اس کا ساتھی

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور وہ ان کو روکتے رہتے ہیں راہ سے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم راہ پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب آئے ہمارے پاس کہے کسی طرح مجھ میں اور تجھ میں فرق ہو مشرق مغرب کا سا کہ کیا برا ساتھی ہے

خلاصہ تفسیر اور جو شخص اللہ کی نصیحت (یعنی قرآن اور وحی) سے (جان بوجھ کر) اندھا بن جاوے (جیسے یہ کفار ہیں کہ کافی شافی دلائل کے ہوتے ہوئے تجاہل سے کام لیتے ہیں) ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں، سو وہ (ہر وقت) اس کے ساتھ رہتا ہے اور وہ (ساتھ رہنے والے شیاطین) ان (قرآن سے اعراض کرنے والوں) کو (برابر) راہ (حق) سے روکتے رہتے ہیں (اور تسلط کا یہی اثر ہے) اور یہ لوگ (باوجود راہ حق سے دور ہونے کے) یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ہم) راہ (راست) پر ہیں (سو جس کی گمراہی کی یہ صورت اور یہ حالت ہو اس کے راہ پر آنے کی کیا امید ہے۔ سو غم کیوں کیا جائے اور یہ بھی تسلی رکھئے کہ ان کا یہ تغافل جلدی ہی ختم ہوگا اور جلد ہی ان کو اپنی غلطی ظاہر ہوجائے گی کیونکہ یہ تغافل صرف دنیا ہی دنیا تک ہے) یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آوے گا (اور اس کی غلطی ظاہر ہوگی) تو (اس شیطان قرین سے) کہے گا کہ کاش میرے اور تیرے درمیان میں (دنیا میں) مشرق ومغرب کے برابر فاصلہ ہوتا (کیوں) کہ (تو تو) برا ساتھی تھا (کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا، مگر یہ حسرت اس وقت کام نہ آئے گی) اور (نیز ان سے کہا جائے گا کہ) جب کہ تم (دنیا میں) کفر کرچکے تھے تو (جس طرح آج حسرت تمہارے کام نہیں آئی اسی طرح) آج یہ بات (بھی) تمہارے کام نہ آوے گی کہ تم (اور شیاطین) سب عذاب میں شریک ہو (جیسے دنیا میں بعض اوقات دوسرے کو شریک مصیبت دیکھ کر ایک گونہ تسلی ہوجاتی ہے وہاں چونکہ عذاب بہت زیادہ شدید ہوگا اس لئے دوسرے کی طرف التفات بھی نہ ہوگا، ہر شخص اپنے حال میں مبتلا ہوگا اور اپنے ہی کو سب سے زیادہ مبتلا سمجھے گا) سو (آپ کو جب ان کی یہ حالت معلوم ہوگئی کہ ان کی ہدایت کی کوئی امید نہیں تو) کیا آپ (ایسے) بہروں کو سنا سکتے ہیں یا (ایسے) اندھوں کو اور ان لوگوں کو جو کہ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں راہ پر لا سکتے ہیں (یعنی ان کی ہدایت آپ کے اختیار سے خارج ہے آپ درپے نہ ہوں) پھر (ان کی یہ سرکشی خالی جانے والی نہیں، بلکہ اس پر ضرور سزا مرتب ہونے والی ہے خواہ آپ کی حیات میں ہو خواہ آپ کی وفات کے بعد ہو، پس) اگر ہم (دنیا سے) آپ کو اٹھا لیں تو بھی ہم ان (کافروں) سے بدلہ لینے والے ہیں یا اگر ان سے جو ہم نے عذاب کا وعدہ کر رکھا ہے وہ (آپ کی حیات میں ان پر نازل کر کے) آپ کو (بھی) دکھلا دیں تب بھی (کچھ بعید نہیں کیونکہ) ہم کو ان پر ہر طرح کی قدرت ہے (مطلب یہ ہے کہ عذاب ضرور ہوگا خواہ کب ہی ہو اور جب یہ بات ہے) تو آپ (تسلی رکھئے اور اطمینان سے) اس قرآن پر قائم رہئے جو آپ پر وحی کے ذریعہ سے نازل کیا گیا ہے (کیونکہ) آپ بیشک سیدھے رستہ پر ہیں (مطلب یہ کہ اپنا کام کئے جائیے اور دوسروں کے کام کا غم نہ کیجئے) اور یہ قرآن (جس پر قائم رہنے کو ہم کہتے ہیں) آپ کے لئے اور آپ کی قوت کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے (آپ کے لئے تو اس لئے کہ آپ بلاواسطہ مخاطب ہیں اور قوم کے لئے اس واسطے کہ وہ بالواسطہ مخاطب ہیں، عام بادشاہوں سے ہم کلامی بڑا شرف سمجھی جاتی ہے چہ جائیکہ ملک الموت کا مخاطب بننا) اور عنقریب (قیامت کے دن) تم سب (اپنے اپنے ذمہ کے واجب حقوق سے) پوچھے جاؤ گے (پس آپ سے صرف تبلیغ کے متعلق سوال ہوگا جس کو آپ خوب ادا کرچکے ہیں اور عمل کے متعلق ان سے سوال ہوگا، پس جب آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں باز پرس نہ ہوگی تو آپ غم کیوں کرتے ہیں) اور (ہم نے جو آپ پر نازل ہونے والی وحی کو حق قرار دیا ہے اس میں کفار کو سب سے بڑا اعتراض عقیدہ توحید پر ہے جس کے حق ہونے میں ان کو بڑا کلام ہے، سو درحقیقت وہ ایسا امر حق ہے کہ اس پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا اجماع ہے اور چونکہ انبیاء عقلی و نقلی دلائل کے جامع ہیں اس لئے گویا اس پر ہزاروں عقلی و نقلی دلائل قائم ہیں، چناچہ اگر آپ کا جی چاہے تو) آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ لیجئے (یعنی ان کی کتابوں اور صحیفوں سے جن کا کچھ بقیہ موجود ہے، تحقیق کرلیجئے) کہ کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا (کبھی بھی) دوسرے معبود ٹھہرا دیئے تھے کہ ان کی عبادت کی جاوے (اس سے دوسروں کو سنانا منظور ہے کہ جس کا جی چاہے تحقیق کرلے اور کتابوں میں دیکھنے کو رسولوں سے پوچھنا مجازاً کہہ دیا) معارف و مسائل یاد خدا سے اعراض بری صحبت کا سبب ہے (آیت) وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ الخ۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی نصیحت یعنی قرآن اور وحی سے جان بوجھ کر اعراض کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو دنیا میں بھی اس کے ساتھ لگا رہتا ہے اور اسے نیکیوں سے روک کر برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی جب یہ شخص قبر سے اٹھے گا تو یہ شیطان اس کے ساتھ ساتھ ہوگا یہاں تک کہ دونوں جہنم میں داخل ہوجائیں۔ (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی یاد سے اعراض کی اتنی سزا دنیا میں مل جاتی ہے کہ انسان کی صحبت خراب ہوجاتی ہے اور شیاطین، خواہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے، اس کو بھلائیوں سے دور اور برائیوں سے قریب کرتے رہتے ہیں وہ کام سارے گمراہی کے کرتا ہے مگر سمجھتا یہ ہے کہ بہت اچھا کر رہا ہے (قرطبی) اور یہاں جس شیطان کو مسلط کرنے کا ذکر ہے وہ اس شیطان کے علاوہ ہے جو ہر مومن و کافر کے ساتھ لگایا گیا ہے کیونکہ مومن سے خاص اوقات میں ہٹ بھی جاتا ہے، اور یہ ہمیشہ ساتھ لگا رہے گا۔ (بیان القرآن)۔