Ayahs 43:39–43(آیت) وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ الخ۔ اس آیت کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جب تمہارا کفر و شرک ثابت ہوچکا ہے تو آخرت میں تمہاری یہ تمنا کچھ کام نہ آئے گی کہ کاش، یہ شیطان مجھ سے دور ہوتا کیونکہ اس وقت تم سب عذاب میں شریک ہو گے اس صورت میں اَنَّكُمْ فِي الْعَذَاب الخ لانکم کے معنی میں ہوگا اور ینفع کی ضمیر فاعل مقولہ یا لیت بینی الخ کی طرف راجع ہوگی۔
اور دوسری تفسیر یہ ممکن ہے کہ وہاں پہنچنے کے بعد تمہارا اور شیاطین کا عذاب میں مشترک ہونا تمہارے لئے چنداں فائدہ مند نہیں ہوگا۔ دنیا میں بیشک ایسا ہوتا ہے کہ ایک مصیبت میں چند آدمی شریک ہوجائیں تو ہر ایک کا غم ہلکا ہوجاتا ہے لیکن وہاں چونکہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور کوئی کسی کا دکھ نہیں بٹا سکے گا اس لئے اس اشتراک سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اس صورت میں انکم الخ ینفع کا فاعل ہوگا۔
Ayah 43:44نیک شہرت بھی دین میں پسندیدہ ہے
(آیت) وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ (اور یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے) ”ذکر“ سے یہاں مراد نیک ناموری ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے شرف عظیم اور نیک شہرت کا باعث ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نیک شہرت ایک قابل رغبت چیز ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کو ایک احسان کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا فرمائی تھی کہ (آیت) واجعل لی لسان صدق فی الآخرین (تفسیر کبیر) لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نیک شہرت اس وقت مستحسن ہے جب وہ مقصد زندگی بنائے بغیر انسان کے اعمال صالحہ سے خود بخود حاصل ہوجائے اور اگر انسان نیکیاں صرف اسی مقصد سے کرے کہ اس سے دنیا میں نام ہوگا تو یہ ریا ہے جس سے نیکیوں کا سارا فائدہ جاتا رہتا ہے اور الٹا گناہ لازم ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں ”آپ کی قوم“ سے مراد بعض مفسرین نے صرف قبیلہ قریش کو قرار دیا ہے اور اس سے قریش کی فضیلت ثابت کی ہے لیکن علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد آپ کی پوری امت ہے خواہ کسی رنگ و نسل سے تعلق رکھتی ہو۔ قرآن کریم ان سب کے لئے عظمت و شرف اور نیک ناموری کا باعث ہے۔ (قرطبی)
Ayah 43:45(آیت) وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ، (آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ لیجئے) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) تو وفات پاچکے، ان سے پوچھنے کا حکم کیسے دیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب بعض مفسرین نے تو یہ دیا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی معجزہ کے طور پر سابقہ انبیاء (علیہم السلام) سے آپ کی ملاقات کرا دے تو اس وقت ان سے یہ بات پوچھ لیجئے، چناچہ شب معراج میں آپ کی ملاقات تمام انبیاء سے ہوئی اور علامہ قرطبی نے بعض روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے انبیاء (علیہم السلام) کی امامت کرنے کے بعد ان سے یہی بات پوچھی تھی لیکن ان روایات کی سند ہمیں معلوم نہیں ہوسکی چناچہ اکثر مفسرین نے آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ خود انبیاء (علیہم السلام) سے پوچھنا مراد نہیں بلکہ ان پر نازل ہونے والوں صحیفوں سے تحقیق کرنا اور ان کی امتوں کے علماء سے پوچھنا مراد ہے۔ چناچہ انبیاء بنی اسرائیل کے جو صحیفے اب بھی موجود ہیں ان میں بہت سی تحریفات کے باوجود توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری کی تعلیم آج تک شامل ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ بائبل کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ فرمائیے۔
انبیاء کے صحیفوں میں توحید کی تعلیم۔
موجودہ تورات میں ہے
”تا کہ تو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور اس کے سوا کوئی ہے ہی نہیں“ (استثناء 4: 53)
اور، ”سن اے اسرائیل، خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے“ (استثناء 6: 4)
اور حضرت اشعیا ؑ کے صحیفہ میں ہے۔
”میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، تاکہ مشرق سے مغرب تک لوگ جان لیں کہ میرے سوا کوئی نہیں، میں ہی خداوند ہوں، میرے سوا کوئی دوسرا نہیں“ (یسیعاہ 54: 5، 6)
اور حضرت مسیح ؑ کا یہ قول موجودہ انجیلوں میں مذکور ہے
”اے اسرائیل، سن، خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے، اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی پیاری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ“ (مرقس 21: 93 دمتیٰ 22: 63)
منقول ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ مناجات کرتے ہوئے فرمایا
”اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں“ (یوحنا 71: 3)
Ayahs 43:46–51خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو) اپنے دلائل (یعنی معجزات عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون کے اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا، سو انہوں نے (ان لوگوں کے پاس آ کر) فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے (تم لوگوں کی ہدایت کے لئے) پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں (مگر فرعون و اہل فرعون نے نہیں مانا) پھر (ہم نے دوسرے دلائل سزاؤں کے رنگ میں ان کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے، یعنی قحط سالیاں وغیرہ مگر ان لوگوں کی پھر بھی یہ حالت رہی کہ) جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری (وہ) نشانیاں لے کر آئے (جو آیات تسعہ کہلاتی ہیں) تو وہ یکایک ان (معجزات) پر لگے ہنسنے (کہ یہ کیا اچھے معجزے ہیں، محض معمولی واقعات و حوادث ہیں کیونکہ قحط وغیرہ ویسے بھی ہوجاتا ہے مگر یہ ان کی حماقت تھی کیونکہ دوسرے قرائن سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ یہ واقعات غیر معمولی ہیں اور معجزہ کے طور پر ہو رہے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے ان پر جادو کی تہمت لگائی تھی جیسا کہ سورة اعراف میں لتسحرنا بھا کے الفاظ اس پر شاہد ہیں) اور (ان نشانیوں کی کیفیت یہ تھی کہ) ہم ان کو جو نشانی دکھلاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی (مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں اور یہ مطلب نہیں کہ ہر نشانی ہر نشانی سے بڑی تھی، یہ ایک محاورہ ہے جب کئی چیزوں کا کمال بیان کرنا چاہتے ہیں تو یوں ہی بولتے ہیں کہ ایک سے ایک بڑھ کر۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ واقعتاً بھی ہر آنیوالی نشانیاں پچھلی نشانی سے کچھ فضیلت رکھتی ہو) اور ہم نے (ان نشانیوں کے واقع کرنے سے) ان لوگوں کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ (اپنے کفر سے) باز آ جاویں (یعنی وہ نشانیاں نبوت کی دلیل بھی تھیں اور ان کے لئے سزا بھی تھیں مگر وہ لوگ باز نہ آئے، باوجودیکہ ہر نشای کے وقوع پر اس کا چند بار عہد بھی کیا) اور انہوں نے (موسیٰ ؑ سے ہر نشانی پر یہ) کہا کہ اے جادوگر (یہ لفظ حسب عادت سابقہ فرط بدحواسی سے ان کے منہ سے نکل جاتا ہوگا، ورنہ ایسی عاجزانہ درخواست کے موقع پر شرارت کا لفظ بولنا مستبعد معلوم ہوتا ہے، بہرحال مطلب یہ تھا کہ اے موسیٰ) ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے (اور وہ بات ہے ہمارے باز آجانے پر قہر کا دور کردینا، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ اس عذاب کو دور کرا دیں تو) ہم ضرور راہ پر آ جاویں گے، پھر (جب) ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹا دیا تب ہی انہوں نے (اپنا) عہد توڑ دیا (ان نو نشانیوں کا بیان سورة اعراف میں آ چکا ہے) اور فرعون نے (غالباً اس خیال سے کہ کہیں معجزات دیکھ کر عام لوگ مسلمان ہوجاویں) اپنی قوم میں منادی کرائی (اور اس منادی میں) یہ بات کہی (یعنی کہلوائی) کہ اے میری قوم کیا مصر (مع توابع) کی سلطنت میری نہیں ہے اور (دیکھو) یہ نہریں میرے (محل کے) پائیں میں بہہ رہی ہیں کیا تم (یہ چیزیں) دیکھتے نہیں ہو (اور موسیٰ ؑ کے پاس کچھ بھی سامان نہیں تو بتلاؤ میں افضل اور قابل اتباع ہوں یا موسیٰ علیہ السلام) بلکہ میں (ہی) افضل ہوں اس شخص سے (یعنی موسیٰ ؑ سے) جو کہ (با عتبار مال وجاہ کے) کم قدر (آدمی) ہے اور قوت بیانیہ بھی نہیں رکھتا (اور اگر یہ شخص اپنے آپ کو پیغمبر بتاتا ہے) تو اس کے (ہاتھوں میں) سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے (جیسے شاہان دنیا کی عادت ہے کہ جب کسی پر خاص عنایت کرتے ہیں تو اس کو عام دربار میں سونے کے کنگن پہناتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر اس شخص کو نبوت عطا ہوتی تو خدا کی طرف سے اس کے ہاتھ میں سونے کے کنگن ہوتے) یا فرشتے اس کے جلو میں پرا باندھ کر آئے ہوتے (جیسا کہ خاص امراء شاہی کا جلوس اس طرح نکلتا ہے) غرض اس نے (ایسی باتیں کر کے) اپنی قوم کو مغلوب (العقل) کردیا اور وہ اس کے کہنے میں آگئے (اور) وہ لوگ (کچھ پہلے بھی) شرارت کے بھرے تھے (اس وجہ سے فرعون کی باتوں کا ان پر زیادہ اثر ہوا) پھر جب ان لوگوں نے (برابر کفر وعناد پر اصرار کر کے) ہم کو غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور ان سب کو ڈبو دیا اور ہم نے ان کو آئندہ آنے والوں کے لئے خاص طور کے متقدمین اور نمونہ (عبرت) بنادیا (خاص طور کے متقدمین بنانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا قصہ یاد کر کے عبرت دلاتے ہیں کہ دیکھو متقدمین میں ایسے ایسے ہوئے ہیں اور ان کا ایسا ایسا حال ہوا)
معارف و مسائل
حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ پیچھے بار بار گزر چکا ہے اور ان آیات میں ان کے جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ تفصیل کے ساتھ سورة اعراف میں آئے ہیں، یہاں ان کا واقعہ یاد دلانے سے مقصد یہ ہے کہ کفار مکہ آنحضرت محمد ﷺ کی نبوت پر آپ کے مالدار نہ ہونے سے جو شبہ کر رہے ہیں یہ کوئی نیا شبہ نہیں، بلکہ فرعون اور اس کی قوم نے یہی شبہ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت پر کیا تھا۔ فرعون کا کہنا یہ تھا کہ میں ملک مصر کا مالک ہوں اور میرے محلات کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس لئے میں موسیٰ علی السلام سے (معاذ اللہ) افضل ہوں، پھر میرے مقابلے میں انہیں نبوت کیونکر مل سکتی ہے ؟ لیکن جس طرح اس کا یہ شبہ اس کے کچھ کام نہ آسکا اور وہ اپنی قوم سمیت غرق ہو کر رہا، اسی طرح کفار مکہ کا یہ اعتراض بھی انہیں دنیا و آخرت کے وبال سے نہ بچا سکے گا۔
Ayahs 43:52–53(آیت) وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ (اور جو قوت بیانہ بھی نہیں رکھتا) اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کی لکنت دور کردی تھی لیکن فرعون کو ان کا پہلا منظر ہی یاد تھا اس لئے اس نے حضرت موسیٰ پر یہ عیب لگایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں ”قوت بیانیہ“ سے مراد زبان کی روانی کے بجائے دلائل کی قوت و وضاحت ہو اور فرعون کا مطلب یہ ہو کہ حضرت موسیٰ کے پاس ایسے کافی دلائل نہیں ہیں جو مجھے مطمئن کرسکیں۔ حالانکہ یہ فرعون کا نرا اتہام تھا، ورنہ حضرت موسیٰ نے دلائل وبراہین کے مقابلہ میں فرعون کو قطعی لاجواب کردیا تھا۔ (تفسیر کبیر و روح المعانی)
Ayah 43:54(فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ) ، اس کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ فرعون نے ”اپنی قوم کو آسانی سے اپنا تابع بنا لیا“ (طلب منھم الخفة فی مطاوعتہ) اور دوسرے یہ کہ ”اس نے اپنی قوم کو بیوقوف پایا“ (وجدھم خفیفة احلامہم) (روح المعانی)
Ayahs 43:55–56(آیت) (اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا، یہ اسف سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں افسوس، لہٰذا اس جملے کے لفظی معنی ہوئے ”پس جب انہوں نے ہمیں افسوس دلایا“ اور افسوس بکثرت غصہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کا با محاورہ ترجمہ عموماً اس طرح کیا جاتا ہے کہ ”جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔“ اور چونکہ باری تعالیٰ افسوس اور غصہ کی انفعالی کیفیات سے پاک ہے اس لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کام ایسے کئے جس سے ہم نے انہیں سزا دینے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ (روح)
Ayahs 43:57–59خلاصہ تفسیر
(ایک مرتبہ آنحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کے سوا جتنوں کی ناحق عبادت کی جاتی ہے ان میں کسی میں کوئی خیر نہیں۔ اس پر قریش کے بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ نصرانی لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کی عبادت کرتے ہیں مگر ان کے بارے میں آپ بھی مانتے ہیں کہ ان میں خیر ہی خیر تھی اس کے جواب میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) اور جب (عیسیٰ) ابن مریم ؑ کے متعلق (ایک معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا (عجیب اس لئے کہ سرسری نظر ہی سے اس کا بطلان خود ان کو معلوم ہوسکتا تھا، پس عقل رکھ کر ایسا اعتراض کرنا بہت عجیب تھا، غرض جب یہ اعتراض کیا گیا) تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ اس (اعتراض کے سننے) سے (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور (اس معترض کے ساتھ متفق ہو کر) کہنے لگے کہ (بتلائیے آپ کے نزدیک) ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا عیسیٰ (علیہ السلام بہتر ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ عیسیٰ ؑ کو تو یقینا بہتر سمجھتے ہیں حالانکہ آپ نے جو یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا جتنوں کی ناحق عبادت کی جاتی ہے ان میں کوئی خیر نہیں، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ میں بالکل بھلائی نہ ہو اس سے ایک تو آپ کا یہ قول (معاذ اللہ) درست نہیں رہا۔ دوسرے معلوم ہوا کہ جن کو آپ خیر کہتے ہیں خود ان کی بھی عبادت ہوئی ہے، اس لئے اس سے شرک کی صحت ثابت ہوگئی۔ آگے اس اعتراض کا جواب ہے، پہلے اجمالاً پھر تفصیلاً ، اجمالاً تو یہ ہے کہ) ان لوگوں نے جو یہ (عجیب اعتراض) آپ سے بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے (نہ کہ طلب حق کے لئے) ورنہ خود ان پر اس اعتراض کی لغویت پوشیدہ نہ رہتی اور ان لوگوں کا جھگڑنا کچھ اسی اعتراض کے ساتھ مخصوص نہیں) بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو (کہ اکثر حق باتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ آگے تفصیلی جواب ہے یعنی) یعنی عیسیٰ ؑ تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (مقبولیت اور کمالات نبوت دے کر اپنا) فضل کیا اور ان کو بنی اسرائیل کے لئے (اولاً اور دوسروں کیلئے بھی ثانیاً) ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا (تا کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ خدا تعالیٰ کو اس طرح بغیر باپ کے پیدا کرنا بھی کچھ مشکل نہیں۔ اس سے ان کے دونوں اعتراضات کا جواب نکل آیا جس کی تشریح معارف و مسائل میں آئے گی) اور (ہم تو اس سے زیادہ عجیب و غریب امور پر قادر ہیں، چنانچہ) اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے (جس طرح تم سے تمہارے بچے پیدا ہوتے ہیں) کہ وہ زمین پر (انسان کی طرح) یکے بعد دیگرے رہا کرتے (یعنی پیدائش بھی آدمیوں کی طرح ہوتی اور موت بھی۔ پس بغیر باپ کے پیدا ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور اس کے زیر قدرت نہیں رہے۔ لہٰذا یہ امر حضرت عیسیٰ کے معبود ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا بلکہ اس طرح پیدا کرنے میں بعض حکمتیں تھیں جن میں سے ایک تو اوپر بیان ہوئی کہ انہیں اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنانا تھا) اور (دوسری حکمت یہ تھی کہ) وہ (یعنی عیسیٰ ؑ اس طرح پیدا ہونے میں امکان) قیامت کے یقین کا ذریعہ ہیں (اس طرح کہ قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے میں اس سے زیادہ اور کیا بعد ہے کہ دوبارہ زندگی خلاف عادت ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بغیر باپ کے ہونے سے ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ خلاف عادت امور کے صادر کرنے پر قادر ہے۔ پس اس سے قیامت و آخرت کے عقیدے کا صحیح ہونا ثابت ہوگیا اور جب تم نے عقیدہ آخرت کی یہ دلیل سن لی) تو تم لوگ اس (کی صحت) میں شک مت کرو، اور (توحید اور آخرت وغیرہ عقائد میں) تم لوگ میرا اتباع کرو، یہ (مجموعہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں) سیدھا رستہ ہے اور تم کو شیطان (اس راہ پر آنے سے) روکنے نہ پاوے وہ بیشک تمہارا صریح دشمن ہے اور (جہاں تک تو کفار کے مذکورہ اعتراض کا جواب تھا، آگے خود عیسیٰ ؑ کے مضمون دعوت سے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی تائید ہے یعنی) جب عیسیٰ (علیہ السلام کھلے کھلے) معجزے لے کر آئے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا کہ میں تمہارے پاس سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں (تا کہ تمہارے عقائد کی اصلاح کروں) اور تاکہ بعض باتیں (منجملہ اعمال حلال و حرام کے) جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم سے بیان کر دوں (جس سے اختلاف و اشتباہ رفع ہوجاوے، جب میں اس طرح آیا ہوں) تو تم لوگ اللہ سے ڈرو (اور میری نبوت کا انکار نہ کرو، کیونکہ یہ خدا کی مخالفت ہے) اور میرا کہا مانو (کیونکہ نبوت کی تصدیق کے لئے یہ ضروری ہے اور عیسیٰ ؑ نے یہ بھی کہا کہ) بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے، اور تمہارا بھی رب ہے سو (صرف) اسی کی عبادت کرو (اور) یہی (توحید) سیدھا رستہ ہے سو (باوجود عیسیٰ ؑ کے اس واشگاف بیان توحید کے پھر بھی) مختلف گروہوں نے (اس بارے میں) باہم اختلاف ڈال لیا (یعنی توحید کے خلاف طرح طرح کے مذاہب ایجاد کر لئے، چناچہ توحید میں نصاریٰ و غیر نصاریٰ کا اختلاف بھی معلوم ہے) سو ان ظالموں (یعنی مشرکین اہل کتاب و غیر اہل کتاب) کیلئے ایک پر درد دن کے عذاب سے بڑی خرابی (ہونے والی) ہے (پس حضرت عیسیٰ ؑ کی اس دعوت سے خود توحید کی تائید ہوگئی، لہٰذا حضرت عیسیٰ ؑ کی ناحق عبادت سے شرک کی صحت پر استدلال مدعی سست گواہ چست کی مثال ہے)۔
معارف و مسائل
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ ، ان آیات کے شان نزول میں مفسرین نے تین روایتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک مرتبہ آنحضرت محمد ﷺ نے قبیلہ قریش کے لوگوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا تھا، ”یا معشر قریش لا خیر فی احد یعبد من دون اللہ“ یعنی ”اے قریش کے لوگو، اللہ کے سوا جس کسی کی عبادت کی جاتی ہے اس میں کوئی خیر نہیں“ اس پر مشرکین نے کہا کہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑ کی عبادت کرتے ہیں لیکن آپ خود مانتے ہیں کہ وہ اللہ کے نیک بندے اور اس کے نبی تھے۔ ان کے اس اعتراض کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (قرطبی) دوسری روایت یہ ہے کہ جب قرآن کریم کی (آیت) انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (بلاشبہ اے مشرکو، تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے) نازل ہوئی تو اس پر عبداللہ بن الزبعری نے جو اس وقت کافر تھے، یہ کہا کہ اس آیت کا تو میرے پاس بہترین جواب موجود ہے، اور وہ یہ کہ نصاریٰ حضرت مسیح ؑ کی عبادت کرتے ہیں اور یہود حضرت عزیز ؑ کی، تو کیا یہ دونوں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ؟ یہ بات سن کر قریش کے مشرکین بہت خوش ہوئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ آیت نازل فرمائی کہ (آیت) ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون، اور دوسرے سورة زخرف کی مذکورہ بالا آیات۔ (ابن کثیر وغیرہ)
تیسری روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین مکہ نے یہ بےہودہ خیال ظاہر کیا کہ حضرت محمد ﷺ خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتے ہیں، ان کی مرضی یہ ہے کہ جس طرح نصاریٰ حضرت مسیح ؑ کو پوجتے ہیں اس طرح ہم بھی ان کی عبادت کیا کریں، اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ اور درحقیقت تینوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں، کفار نے تینوں ہی باتیں کہیں ہوں گی جن کے جواب میں اللہ تعالٰ نے ایسی جامع آیات نازل فرما دیں جن سے ان کے تینوں اعتراضات کا جواب ہوگیا۔ اس آخری اعتراض کا جواب تو مذکورہ آیات میں بالکل واضح ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح ؑ کی عبادت شروع کردی ہے انہوں نے نہ کسی خدائی حکم سے ایسا کیا، نہ خود حضرت مسیح ؑ کی یہ خواہش تھی اور نہ قرآن ان کی تائید کرتا ہے انہیں تو حضرت عیسیٰ کے باپ کے بغیر پیدا ہونے سے مغالطہ لگا تھا اور قرآن اس مغالطہ کی تردید کرتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ (معاذ اللہ) عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اپنی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھیں۔
اور پہلی اور دوسری روایتوں میں کفار کے اعتراض کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔ ان کا جواب مذکورہ آیات سے اس طرح نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا تھا کہ اللہ کے سوا جتنوں کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ یا حضور نے جو فرمایا تھا کہ ان میں خیر نہیں، اس سے مراد وہ معبود تھے جو یا تو بےجان ہوں جیسے پتھر کے بت، یا جاندار ہوں مگر خود اپنی عبادت کا حکم دیتے یا اسے پسند کرتے ہوں جیسے شیاطین، فرعون اور نمرود وغیرہ۔ حضرت عیسیٰ ؑ ان میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں جبکہ وہ کسی بھی مرحلہ پر اپنی عبادت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ نصاریٰ ان کی کسی ہدایت کی بنا پر ان کی عبادت نہیں کرتے، بلکہ انہیں ہم نے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا کر بغیر باپ کے پیدا کیا تھا تاکہ لوگوں پر یہ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی تخلیق میں اسباب کے کسی واسطے کی ضرورت نہیں لیکن نصاریٰ نے اس کا غلط مطلب لے کر انہیں معبود بنا لیا، حالانکہ ان کا یہ معبود بنانا عقلاً بھی غلط تھا اور خود حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے بھی بالکل خلاف تھا۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ توحید کی تعلیم دی تھی۔ غرض حضرت عیسیٰ ؑ کا اپنی عبادت سے بیزار ہونا اس بات سے مانع ہے کہ انہیں دوسرے باطل معبودوں کی صف میں شامل کیا جائے۔
اس سے کفار کا یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا جس کا ذکر خلاصہ تفسیر میں آیا ہے کہ جن کو آپ خود خیر کہتے ہیں (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ان کی بھی عبادت ہوئی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ کی عبادت کچھ بری بات نہیں۔ مذکورہ آیات میں اس کا جواب واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی جو عبادت ہوئی، وہ اللہ کی مرضی کے بھی خلاف تھی اور خود حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے بھی۔ لہٰذا اس سے شرک کی صحت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 43:60(آیت) وَلَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰۗىِٕكَةً فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَ ، یہ نصاریٰ کے اس مغالطہ کا جواب ہے جس کی بنا پر انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود قرار دیا تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح ؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے ان کی خدائی پر استدلال کیا تھا۔ باری تعالیٰ ان کی تردید میں فرماتے ہیں کہ یہ تو محض ہماری قدرت کا ایک مظاہرہ تھا اور ہم تو اس سے بھی بڑھ کر خلاف عادت کاموں پر قادر ہیں۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا تو کوئی بہت زیادہ خلاف عادت نہیں، کیونکہ حضرت آدم ؑ تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے، اگر ہم چاہیں تو ایسا کام بھی کرسکتے ہیں جس کی اب تک کوئی نظیر نہیں اور وہ یہ کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کریں۔
Ayahs 43:61–62(آیت) وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (اور بلاشبہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کا یقین کرنے کے لئے ایک ذریعہ ہیں) کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک وہ جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوئی، یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کا خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر ظاہری اسباب کے بھی لوگوں کو پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا دو بار آسمان سے نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔ اس مسئلہ کی کچھ تفصیل سورة آل عمران میں (آیت) انی متوفیک ورافعک الی۔ میں ص 69 ج 2 پر اور کچھ سورة مائدہ میں ص 279 ج 3 پر گزر چکی ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے احقر کے رسالہ ”التصریح بماتواتر فی نزول المسیح“ اور ”مسیح موعود کی پہچان“ وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
Ayahs 43:63–65(آیت) وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ (اور تاکہ میں بیان کروں تم سے بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو) چونکہ بنی اسرائیل میں عناد اور ہٹ دھرمی کا غلبہ تھا اس لئے انہوں نے بعض احکام شرعیہ میں تحریف کر ڈالی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس کی حقیقت واضح فرما دی اور ”بعض باتیں اس لئے فرمایا کہ بعض امور خالص دنیوی تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے ان میں اختلاف رفع کرنے کی ضرورت نہ سمجھی ہوگی۔ (بیان القرآن)
Ayah 43:66خلاصہ تفسیر
یہ لوگ (حق واضح ہونے کے باوجود باطل پر اصرار کر رہے ہیں تو) بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر دفعتاً آ پڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو (انکار کے باوجود انتظار سے مراد یہ ہے کہ ان کا دلائل کو نہ ماننا ایسا ہے جیسے کوئی شخص مشاہدہ کا منتظر ہو کہ جب آنکھوں سے دیکھ لوں گا تب مانوں گا، اور اس روز قیامت کے واقعات یہ ہیں کہ) تمام (دنیا کے دوست) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے، بجز خدا سے ڈرنے والوں (یعنی اہل ایمان) کے (کیونکہ اس روز باطل کی دوستی کا نقصان محسوس ہوگا تو لا محالہ اس سے کراہت اور دوستوں سے نفرت ہوگی کہ یہ لوگ نقصان کا سبب ہوئے اور حق کی دوستی کا نفع اور ثواب محسوس ہوگا اس لئے وہ باقی رہے گی۔ اور ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوگی) اے میرے بندو تم پر آج کوئی خوف (کی بات واقع ہونے والی) نہیں، اور نہ تم غمگین ہو گے یعنی وہ بندے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور (علماً وعملاً ہمارے) فرمانبردار تھے، تم اور تمہاری (ایمان دار) بیبیاں خوش بخوش جنت میں داخل ہوجاؤ (اور جنت میں جانے کے بعد ان کے لئے یہ ہوگا کہ) ان کے پاس سونے کی رکابیاں (کھانے کی چیزوں سے بھری ہوئی) اور گلاس (مشروبات سے بھرے ہوئے سونے کے یا اور کسی چیز کے) لائے جاویں گے (یعنی غلمان لائیں گے) اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو جی چاہے گا اور جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی اور (ان سے کہا جائے گا کہ) تم یہاں ہمیشہ رہو گے اور (یہ بھی کہا جائے گا) کہ یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے (تم سے کبھی نہ لی جاوے گی) اپنے (نیک) اعمال کے عوض میں (اور) تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں سے کھا رہے ہو (یہ تو اہل ایمان کا حال ہوا۔ آگے کفار کا ذکر ہے کہ) بیشک نافرمان (یعنی کافر) لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے وہ (عذاب) ان (پر) سے ہلکا نہ کیا جاوے گا اور وہ اسی (عذاب) میں مایوس پڑے رہیں گے اور (آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) ہم نے ان پر (ذرا) ظلم نہیں کیا (کہ ناحق عذاب دیا ہو) لیکن یہ خود ہی ظالم تھے (کہ کفر و شرک کر کے اپنا نقصان کرلیا) اور (آگے ان کا باقی حال مذکور ہے کہ جب نجات سے بالکل مایوس ہوجائیں گے اس وقت موت کی تمنا کریں گے اور دوزخ کے داروغہ مالک نامی فرشتہ کو) پکاریں گے کہ اے مالک (تم ہی دعا کرو کہ) تمہارا پروردگار (ہم کو موت دے کر) ہمارا کام ہی تمام کر دے وہ (فرشتہ) جواب دے گا کہ تم ہمیشہ اسی حال میں رہو گے (نہ نکلو گے نہ مرو گے)۔
Ayahs 43:67–77معارف و مسائل
دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو
(آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا اور اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی تو اسے اپنا دوست یاد آیا۔ اس نے دعا کی کہ یا اللہ، میرا فلاں دوست مجھے آپ کی اور آپ کے رسول کی اطاعت کی تاکید کرتا، بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا تھا اور یہ یاد لاتا رہتا تھا کہ مجھے ایک دن آپ کے پاس حاضر ہونا ہے، لہٰذا یا اللہ، اس کو میرے بعد گمراہ نہ کیجئے گا تاکہ وہ بھی (جنت کے) وہ مناظر دیکھ سکے جو آپ نے مجھے دکھائے ہیں، اور آپ جس طرح مجھ سے راضی ہوئے ہیں اسی طرح اس سے بھی راضی ہوجائیں۔ اس دعا کے جواب میں اس سے کہا جائے گا کہ جاؤ، اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میں نے تمہارے اس دوست کے لئے کیا اجر وثواب رکھا ہے تو تم رؤو کم اور ہنسو زیادہ۔ اس کے بعد جب دوسرے دوست کی وفات ہوچکے گی تو دونوں کی ارواح جمع ہوں گی، باری تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم میں سے ہر شخص دوسرے کی تعریف کرے، تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں یہ کہے گا کہ وہ بہترین بھائی، بہترین ساتھی اور بہترین دوست ہے۔
اس کے برخلاف جب دو کافر دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوگا اور اسے بتایا جائے گا کہ اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو اسے بھی اپنا دوست یاد آئے گا اس وقت وہ یہ دعا کرے گا کہ یا اللہ، میرا فلاں دوست مجھے آپ کی اور آپ کے رسول کی نافرمانی کرنے کا حکم دیتا تھا، برائی کی تاکید کرتا اور بھلائی سے روکتا تھا، اور مجھ سے کہا کرتا تھا کہ میں کبھی آپ کے حضور حاضر نہ ہوں گا، لہٰذا یا اللہ، اس کو میرے بعد ہدایت نہ دیجئے گا، تاکہ وہ بھی (دوزخ کے) وہ مناظر دیکھے جو آپ نے مجھے دکھائے ہیں، اور آپ جس طرح مجھ سے ناراض ہوئے ہیں اسی طرح اس سے بھی ناراض ہوں۔ اس کے بعد دوسرے دوست کا بھی انتقال ہوجائے گا تو دونوں کی روحیں جمع کی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھی کی تعریف کرے، تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں کہے گا کہ یہ بدترین بھائی، بدترین ساتھی اور بدترین دوست ہے۔ (ابن کثیر 134 ج 4) اسی لئے دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے بہترین دوستی وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو۔ جن دو مسلمانوں میں صرف اللہ کے لئے محبت ہو ان کے بڑے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میدان حشر میں یہ لوگ اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوں گے۔ اور اللہ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سے اس بنا پر تعلق ہو کہ وہ اللہ کے دین کا سچا پیرو ہے۔ چناچہ علوم دین کے استاذ، شیخ و مرشد، علماء اور اہل اللہ سے نیز عالم اسلام کے تمام مسلمانوں سے بےلوث محبت اس میں داخل ہے۔