43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 43:78–80

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم لائے ہیں تمہارے پاس سچا دین پر تم بہت لوگ سچی بات سے برا مانتے ہو

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے ٹھہرائی ہے ایک بات تو ہم بھی کچھ ٹھہرائیں گے

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے ان کا بھید اور ان کا مشورہ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں

خلاصہ تفسیر (اور اوپر جن سزاؤں کا بیان ہوا ان کی وجہ یہ ہے کہ) ہم نے سچا دین (جس کا رکن اعظم توحید و رسالت کا اعتقاد ہے) تمہارے پاس پہنچایا، لیکن تم میں سے اکثر آدمی سچے دین سے نفرت رکھتے ہیں (اکثر آدمی یا تو اس لئے کہا کہ بعض لوگ آئندہ ایمان لانے والے تھے، اور یا اس لئے کہ نفرت تو صحیح معنی میں بعض ہی کو تھی، دوسرے بعض محض تقلیداً راہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے، اور یہ نفرت شامل ہے رسولوں کی مخالفت اور توحید کی مخالفت دونوں کو۔ آگے دونوں کی تفصیل ہے کہ) ہاں کیا انہوں نے (رسول کو نقصان پہنچانے کے بارے میں) کوئی انتظام درست کیا ہے، سو ہم نے بھی ایک انتظام درست کیا ہے (اور ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام، اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔ اس کا مفصل ذکر سورة انفال رکوع چہارم (آیت) واذیمکربک الذین کفروا الخ میں ہے) ہاں (یہ لوگ جو آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے خفیہ تدبیریں کرتے ہیں) کیا ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی چپکی چپکی (کہی ہوئی) باتوں کو اور ان کے (خفیہ) مشوروں کو نہیں سنتے (ورنہ اگر ہم کو سننے والا سمجھتے ہیں تو پھر ایسی جرأت کیوں کرتے ہیں ؟ آگے ان کے اس خیال کی تردید فرماتے ہیں کہ) ہم ضرور سنتے ہیں اور (اس کے علاوہ) ہمارے فرشتے (جو اعمال کو لکھنے والے ہیں) ان کے پاس ہیں وہ بھی لکھتے ہیں (اگرچہ اس کی ضرورت نہیں لیکن عام عادت یہ ہے کہ مجرم کے لئے پولیس کی لکھی ہوئی رپورٹ حاکم کے معائنہ سے زیادہ قابل ازام ہوتی ہے۔ یہ تو ان کی مخالفت رسول کا بیان ہوا، آگے توحید کی مخالفت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر ﷺ آپ (ان مشرکین سے) کہئے کہ (تم جو اپنے بعض مشرکانہ اقوال میں حق تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہو تو) اگر (بفرض محال ایسا ہو یعنی) خدائے رحمن کے اولاد ہو تو سب سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں (جس طرح تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو، اسی طرح میں بھی اس صورت میں خدا کی اولاد کی عبادت کرتا۔ مطلب یہ کہ مجھ کو تمہاری طرح حق بات کے ماننے سے انکار نہیں، تم اگر ثابت کردو تو سب سے پہلے میں اس کو مانوں، اور جب اس کو خدا کی اولاد مان لوں تو چونکہ خدا کی اولاد بھی خدا ہی ہونی چاہئے اور خدا مستحق عبادت ہے، اس لئے میں اس کی عبادت بھی کروں، مگر چونکہ یہ امر باطل محض ہے اس لئے نہ میں مانوں گا اور نہ عبادت کروں گا۔ آگے شرک سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا بیان ہے یعنی) آسمانوں اور زمین کا مالک جو کہ عرش کا بھی مالک ہے ان باتوں سے منزہ ہے جو یہ (مشرک) لوگ (اس کی جناب میں) بیان کر رہے ہیں (جب یہ لوگ حق کے واضح ہونے کے باوجود اپنے عناد سے باز نہیں آتے) تو آپ ان کو اسی شغل اور تفریح میں رہنے دیجئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (اس وقت سب حقیقت معلوم ہوجائے گی اور ”رہنے دینے“ کا مطلب یہ نہیں کہ تبلیغ نہ کیجئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت کی طرف التفات نہ کیجئے اور ان کے ایمان نہ لانے سے غمگین نہ ہوجئے) اور وہی ذات جو آسمانوں میں بھی قابل عبادت ہے اور زمین میں بھی قابل عبادت ہے اور وہی بڑی حکمت والا اور بڑے علم والا ہے (اور کوئی علم و حکمت میں اس کا شریک نہیں، پس خدائی بھی اسی کے ساتھ خاص ہے) اور وہ ذات بڑی عالیشان ہے جس کے لئے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو (مخلوق) ان کے درمیان میں ہے اس کی سلطنت ثابت ہے اور (علم ایسا کامل ہے کہ) اس کو قیامت کی خبر (بھی) ہے (جس کا کسی مخلوق کو پتہ نہیں) اور (جزا و سزا کا مالک بھی وہی ہے چنانچہ) تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے (اور اس کو حساب دو گے) اور (اس وقت اللہ تعالیٰ کا بلاشرکت غیرے جزا و سزا کا مالک ہونا ایسا ظاہر و باہر ہوگا کہ) خدا کے سوا جن معبودوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سفارش (تک) کا اختیار نہ رکھیں گے ہاں جن لوگوں نے حق بات (یعنی کلمہ ایمان) کا اقرار کیا تھا اور وہ (دل سے) تصدیق بھی کرتے تھے (وہ البتہ باذن الٰہی اہل ایمان کی سفارش کرسکیں گے مگر اس سے کفار کو کیا فائدہ ؟) اور (ہم نے جو اوپر توحید کا مضمون بیان کیا ہے جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں، سو اس کے مقدمات کو یہ بھی تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو (یعنی تم کو) کس نے پیدا کیا ہے تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے (پیدا کیا ہے) سو (ظاہر ہے کہ مستحق عبادت وہی ہوسکتا ہے جو پیدا کرنے پر قادر ہو۔ پس) یہ لوگ (مقدمات کو تو مانتے ہیں مگر پھر مطلوب کے ماننے کے وقت خدا جانے) کدھر الٹے چلے جاتے ہیں (ان تمام باتوں سے واضح ہے کہ ان کافروں کے جرائم کس قدر سخت ہیں، لہٰذا سزا بھی یقینا سخت ہوگی۔ اور آگے سزا کی سختی کو اور زیادہ موکد کرنے کے لئے ایک اور بات کا بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کو قیامت کی خبر ہے اسی طرح) اس کو رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں کہ (باوجود میری اس درجہ فہمائش کے) ایمان نہیں لاتے (اس سے سزا کی سختی اور بڑھ گئی کہ جرائم تو سخت تھے ہی ان کے ساتھ رسول کی نالش بھی موجود ہے، پس سمجھ لینا چاہئے کہ کیسا سخت عذاب ہوگا۔ اور جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ ان کا انجام یہ ہونے والا ہے) تو آپ ان سے بےرخ رہیئے (یعنی ان کے ایمان کی ایسی امید نہ رکھئے جو بعد میں موجب رنج ہو) اور (اگر وہ آپ سے مخالفت اور جہالت کی بات کریں تو آپ رفع شر کے لئے) یوں کہہ دیجئے کہ تم کو سلام کرتا ہوں (اور کچھ نہیں کہتا اور نہ کچھ واسطہ رکھتا ہوں، آگے حق تعالیٰ تسلی کیلئے فرماتے ہیں کہ آپ چندے صبر کیجئے) سو ان کو ابھی (مرتے ہی) معلوم ہوجاوے گا۔
Ayahs 43:81–87

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

تو کہہ اگر ہو رحمن کے واسطے اولاد تو میں سب سے پہلے پوجوں

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ رب آسمانوں کا اور زمین کا صاحب عرش کا ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

اب چھوڑ دے ان کو بک بک کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ ملیں اپنے اس دن سے جس کا ان کو وعدہ دیا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی ہے جس کی بندگی ہے آسمان میں اور اس کی بندگی ہے زمین میں اور وہی ہے حکمت والا سب سے خبردار اور بڑی برکت ہے

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اس کی جس کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اور اسی کے پاس ہے خبر قیامت کی اور اسی تک پھر کر پہنچ جاؤ گے

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور اختیار نہیں رکھتے وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں سفارش کا مگر جس نے گواہی دی سچی اور ان کو خبر تھی

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے کہ ان کو کس نے بنایا تو کہیں گے اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی جتلانے کے لئے یہ کہنا جائز اور مناسب ہے کہ اگر تمہارا دعویٰ صحیح دلائل کے ساتھ ثابت ہوتا تو میں اسے تسلیم کرلیتا، کیونکہ بعض اوقات اس انداز کلام سے مخالف کے دل میں ایسی نرمی پیدا ہو سکتی ہے جو اسے قبول حق پر آمادہ کر دے۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے

(آیت) وَقِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ جملہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ ان کافروں پر غضب خداوندی نازل ہونے کے کتنے شدید اسباب موجود ہیں۔ ایک طرف تو ان کے جرائم فیہ نفسہ سخت ہیں، دوسری طرف وہ رسول جو رحمتہ للعالمین اور شفیع المذنبین بنا کر بھیجے گئے ہیں ﷺ جب خود ان لوگوں کی شکایت کریں اور یہ فرمائش کہ یہ لوگ بار بار فہمائش کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کس قدر اذیت پہنچائی ہوگی، ورنہ معمولی تکلیف پر رحمت للعالمین ﷺ اللہ تعالیٰ سے ایسی پردرد شکایت نہ فرماتے۔ اس تفسیر کے مطابق وقیلہ ایک آیت پہلے کے لفظ الساعة پر معطوف ہے، اس آیت کی اور بھی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہاں واؤ عطف کی نہیں بلکہ قسم کی ہے۔ یا رب ”قیل“ کا مقولہ ہے اور ان ھولاء الخ جواب قسم ہے۔ ان تفسیروں کی تفصیل اہل علم روح المعانی وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

سو تو منہ پھیرلے ان کی طرف سے اور کہہ سلام ہے اب آخر کو معلوم کرلیں گے۔

(آیت) وَقُلْ سَلٰمٌ الخ آخر میں وہی تلقین کی گئی ہے جو ہر داعی حق کو ہمیشہ کی گئی کہ مخالفین کے دلائل و شبہات کا جواب تو دے دو لیکن وہ جو جہالت و حماقت یا دشنام طرازی کی بات کریں، اس کا جواب انہی کی زبان میں دینے کے بجائے سکوت اختیار کرو۔ اور یہ جو فرمایا کہ کہہ دو تم کو سلام کرتا ہوں، اس سے مقصد یہ نہیں ہے کہ انہیں السلام علیکم کہا جائے، کیونکہ کسی غیر مسلم کو ان الفاظ سے سلام کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ جب کسی شخص سے قطع تعلق کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ ”میری طرف سے سلام“ یا تمہیں سلام کرتا ہوں۔ اس سے حقیقی طور پر سلام کرنا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی کے ساتھ تم سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہوں۔ لہٰذا جن حضرات نے اس آیت سے استدلال کر کے کافروں کو السلام علیکم یا سلام کہنا جائز قرار دیا ہے ان کا قول مرجوح ہے۔ (روح المعانی) الحمد للہ آج بتاریخ 3 رجب بروز دوشنبہ بوقت عشاء سورة زخرف کی تفسیر سات روز میں مکمل ہوئی۔