Ayahs 42:1–4خلاصہ تفسیر
حم عسق۔ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائد عظیمہ کے لئے یہ سورت آپ پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح آپ پر اور جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے (اور اس کی یہ شان ہے کہ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے (اس کی عظمت شان کو اگر کچھ زمین والے نہ پہچانیں اور نہ مانیں مگر آسمانوں میں اس کی معرفت رکھنے والے اور عظمت کو پہچاننے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ) کچھ بعید نہیں کہ آسمان (ان کے بوجھ کی وجہ سے) اپنے اوپر سے (کہ بوجھ ادھر ہی سے پڑتا ہے) پھٹ پڑیں (جیسا کہ حدیث میں ہے اطت السماء وحق لھا ان تئط ما فیھا موضع اربعة اصابع الا و ملک واضع جبھتہ ساجد اللہ۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ وبہ فسر الآیہ فی المدارک، یعنی آسمان میں ایسی آواز پیدا ہونے لگی جیسی کسی چیز پر زیادہ بوجھ پڑجانے سے ہوا کرتی ہے۔ اور اس میں ایسی ہی آواز ہونی چاہئے۔ کیونکہ پورے آسمانوں میں چار انگشت کی جگہ بھی ایسی نہیں جس میں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ میں نہ ہو) اور (وہ) فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں، اور اہل زمین (میں جو لوگ اس کی عظمت کا حق ادا نہیں کرتے بلکہ شرک و کفر میں مبتلا ہیں اس لئے مستحق عذاب ہیں۔ وہ فرشتے ان) کے لئے (ایک خاص وقت تک) معافی مانگتے ہیں (اس محدود معافی مانگنے سے مراد یہ ہے کہ فرشتے اس کی دعا کرتے ہیں کہ ان پر دنیا میں کوئی سخت عذاب نہ آجائے۔ جس سے سبھی ہلاک ہوجائیں۔ دنیا کی معمولی سزائیں اور آخرت کا اصلی عذاب اس استغفار کے مفہوم سے خارج ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس دعاء و درخواست کو قبول فرما کر ان کو دنیا کے عذاب عام سے بچا لیتا ہے) خوب سمجھ لو کہ اللہ ہی معاف کرنیوالا اور رحمت کرنے والا ہے (اگرچہ کفار کی یہ معافی محدود اور رحمت صرف دنیا کی حد تک ہوتی ہے) اور جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کار ساز قرار دے رکھے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے (اعمال قبیحہ) کو دیکھ بھال رہا ہے (جس کی سزا ان کو مناسب وقت پر ملے گی) اور آپ کو ان پر کوئی اختیار نہیں دیا گیا (کہ آپ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کرا دیں) اور (آپ کو ان لوگوں پر فوری عذاب نہ آنے سے حزن و ملال نہ ہونا چاہئے کیونکہ آپ کا کام تبلیغ کرنے کا ہے وہ آپ کرچکے اس سے زیادہ کی فکر آپ نہ کریں، چنانچہ) ہم نے اسی طرح (جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں) آپ پر قرآن عربی وحی کے ذریعہ (محض اس لئے) نازل کیا ہے تاکہ آپ (سب سے پہلے) مکہ کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے آس پاس ہیں ان کو ڈرائیں اور (یہ ڈرانا بھی ایک بڑی چیز سے ہے یعنی) جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں۔ (مراد اس سے قیامت ہے جس میں سب اولین و آخرین ایک میدان میں جمع ہوں گے) جس میں ذرا شک نہیں (جس میں فیصلہ یہ ہوگا کہ) ایک گروہ جنت میں (داخل) ہوگا ایک گروہ دوزخ میں (داخل) ہوگا۔ (بس آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ اس دن سے ان کو ڈرائیں) اور (رہا ان کا ایمان لانا یا نہ لانا یہ مشیت الٰہی پر موقوف ہے) اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا (یعنی سب کو ایمان نصیب ہوجاتا جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ولوشئنا لاتینا کل نفس ھداھا۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو صحیح ہدایت پر پہنچا دیتے) لیکن (بہت سی حکمتوں کی بنا پر اس کو یہ منظور نہیں ہوا بلکہ) وہ جس کو چاہتا ہے (ایمان دے کر) اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے (اور جس کو چاہتا ہے اس کے کفر و شرک پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ رحمت میں داخل نہیں ہوتا) اور (ان) ظالموں کا (جو کہ کفر و شرک میں مبتلا ہیں قیامت کے روز) کوئی حامی اور مددگار نہیں (آگے شرک کا ابطال کیا جاتا ہے) کیا ان لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کار ساز قرار دے رکھے ہیں سو (اگر کارساز بنانا ہے تو) اللہ ہی کار ساز (بنانے کا مستحق) ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (تو کارساز بنانے کے لائق وہی ہے جو ہر چیز پر یہاں تک کہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اس کی قدرت کی خصوصیت یہ ہے کہ اور چیزوں پر تو برائے نام قدرت کچھ دوسروں کو بھی اس وقت حاصل ہے مگر مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت میں کوئی برائے نام بھی شریک نہیں)۔
Ayahs 42:5–6معارف و مسائل
يَتَفَطَّرْنَ۔ اس میں بحوال حدیث اوپر بیان ہوا ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان میں ایسی آواز پیدا ہوئی جیسی کسی چیز پر بڑا بھاری بوجھ رکھ دینے سے ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں میں ثقل والا بوجھ ہے۔ اور اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ فرشتے بھی اجسام ہیں اگرچہ اجسام لطیفہ ہوں۔ اور اجسام لطیفہ جب بہت بڑی تعداد میں ہوجائیں تو ان کا بوجھ پڑنا کوئی مستبعد نہیں۔ (بیان القرآن)
Ayahs 42:7–9(آیت) لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى۔ ام القریٰ کے معنی میں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد، مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کا نام ام القریٰ اس لئے رکھا گیا کہ یہ شہر ساری دنیا کے شہروں اور بستیوں سے اور ساری زمین سے اللہ کے نزدیک اشرف و افضل ہے۔ جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت عدی بن حمرا زہری سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سنا جبکہ آپ (مکہ مکرمہ سے ہجرت کر رہے تھے اور) بازار مکہ کے مقام حزورہ پر تھے کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
تو میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس زمین کو نہ چھوڑتا۔
وَمَنْ حَوْلَهَا۔ یعنی مکہ مکرمہ کے آس پاس اس سے مراد آس پاس کے عرب ممالک بھی ہو سکتے ہیں اور پوری زمین کی مشرق و مغرب بھی۔
Ayahs 42:10–12خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات کمال کے بیان سے اس کی مزید تاکید کی جاتی ہے یعنی) وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (اور تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے چنانچہ) اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) ہواشی کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے ملانے) کے ذریعہ تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے (وہ ذات وصفات میں ایسا کامل ہے کہ) کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والا دیکھنے والا ہے (بخلاف دوسروں کے کہ ان کا سننا دیکھنا بہت محدود ہے اور بمقابلہ اللہ کے سمع و بصر کے کالعدم ہے) اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی (یعنی ان میں تصرف کرنے کا صرف اسی کو حق ہے جس میں سے ایک تصرف یہ ہے کہ) جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور (جس کو چاہے) کم دیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا پورا جاننے والا ہے (ہر ایک کو مصلحت کے مطابق دیتا ہے)۔
معارف و مسائل
(آیت) وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جس معاملہ جس کام میں بھی تمہارے آپس میں کوئی اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ کیونکہ اصل حکم صرف اللہ ہی کا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے۔ (آیت) ان الحکم الا للہ۔ اور دوسری اکثر آیات میں جو اطاعت کے حکم میں رسول کو اور بعض آیات میں اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر جو کچھ فیصلہ یا حکم کرتے ہیں وہ ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہوتا ہے۔ اگر بذریعہ وحی یا نصوص کتاب و سنت ہے تو اس کا حکم الٰہی ہونا ظاہر ہے۔ اور اگر اپنے اجتہاد سے ہے تو چونکہ اجتہاد کا مدار بھی نصوص قرآن و سنت پر ہوتا ہے اس لئے وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ ہی کا حکم ہے۔ مجتہدین امت کے اجتہادات بھی اس حیثیت سے احکام الٰہیہ میں داخل ہیں۔ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ عام آدمی جو قرآن وسنت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے حق میں مفتی کا فتویٰ ہی حکم شرعی کہلاتا ہے۔
Ayah 42:13خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح ؑ کو حکم دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کو (مع ان کے اتباع کے) حکم دیا تھا (اور ان کی امم کو یہ کہا تھا) کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ (مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں، مثل توحید و رسالت و بعث و نحوہ اور قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا اور اس کو ترک مت کرنا اور تفریق یہ کہ کسی بات پر ایمان لاویں اور کسی پر ایمان نہ لاویں یا کوئی ایمان لاوے اور کوئی نہ لاوے۔ حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہے کہ اول سے اس وقت تک تمام شرائع اس میں متفق رہی ہیں اور اسی کے ضمن میں نبوت کی بھی تائید ہوگئی۔ پس چاہئے تھا کہ اس کے قبول کرنے میں لوگوں کو ذرا پس و پیش نہ ہوتا مگر پھر بھی) مشرکین کو وہ بات (یعنی توحید) بڑی گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔ (اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ) اللہ اپنی طرف جس کو چاہے کھینچ لیتا ہے (یعنی دین حق قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے) اور جو شخص (خدا کی طرف) رجوع کرے اس کو اپنے تک رسائی دے دیتا ہے (مشیت کے بعد اجتباء ہوتا ہے اور اجتباء یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الٰہی وثواب غیر متناہی مرتب ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مشرکین متصف بالاباء ہیں اور مومنین متصف بالاجتباء والاہتداء ہیں) اور (ہمارا جو امم سابقہ کو حکم تھا (آیت) اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ۔ تو بہت لوگ اس پر قائم نہ رہے اور متفرق ہوگئے اس کا سبب کوئی التباس و اشتباہ نہ تھا کہ احتمال معذوری کا ہو بلکہ) وہ لوگ بعد اس کے کہ ان کے پاس (یعنی ان کے اسماع و اذہان تک) علم (صحیح) پہنچ چکا تھا محض آپس کی ضدا ضدی سے باہم متفرق ہوگئے (اس طرح کہ اول طلب مال و دولت و طلب جاہ و ریاست سے اغراض مختلف ہوئیں پھر فرقے بن گئے۔ ایسے وقت میں دین کو بھی آڑ دوسرے کی تنقیص وتعیب کی بنایا کرتے ہیں، شدہ شدہ مسلک و مذہب مختلف ہوجاتا ہے پھر فروع سے اصول میں جا پہنچتے ہیں) اور (یہ لوگ اس جرم عظیم میں کہ حق کو سمجھ کر مختلف ہوئے ایسے عذاب شدید کے مستحق ہوگئے تھے کہ) اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت معین تک (کے لئے مہلت دینے کی) ایک بات پہلے قرار نہ پا چکتی (کہ ان کا عذاب موعود آخرت میں ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان (کے اختلافات) کا فیصلہ ہوچکا ہوتا (یعنی عذاب سے استیصال کردیا جاتا اور گو امم سابقہ پر عذاب آیا لیکن غیر مومنین پر آیا۔ مومنین میں سے جنہوں نے تفرق کیا، بہ برکت التزام ایمان کے ان پر نہیں آیا۔ اگر کسی پر ثابت ہوجاوے تو سب پر نہیں آیا اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ جن بعض پر نہیں آیا، اس کی وجہ عدم مقتضی کا نہیں بلکہ اس کی وجہ مانع یعنی امہال الیٰ اجل مسمی کا وجود ہے۔ یہ تو قصہ امم سابقہ کا ہوا) اور جن لوگوں کو ان (امم سابقہ) کے بعد کتاب دی گئی ہے (مراد اس سے مشرکین عہد نبوی کے ہیں کہ آپ کے ذریعہ سے ان کو قرآن پہنچا) وہ (لوگ) اس (کتاب) کی طرف سے ایسے (قوی) شک میں پڑے ہیں جس نے (ان کو) تردد میں ڈال رکھا ہے (مطلب یہ کہ امم سابقہ میں سے بعض نے جیسے انکار کیا تھا اسی طرح اب ان کی نوبت آئی) سو آپ (کسی کے انکار سے دل شکستہ نہ ہوجئے بلکہ جس کی طرف آپ ان کو پہلے سے بلا رہے ہیں جس کا ذکر اس آیت میں ہے (آیت) كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ یعنی توحید) اسی طرف (ان کو برابر) بلاتے جائیے اور جس طرح آپ کو حکم ہوا ہے (کہ فلذلک فادع اس پر) مستقیم رہیئے اور ان کی (فاسد) خواہشوں پر نہ چلئے (یعنی وہ مخالفت کر کے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو کہنا چھوڑ دیں تو آپ چھوڑیئے نہیں) اور آپ کہہ دیجئے کہ (میں جس بات کی طرف تم کو بلاتا ہوں میں خود بھی اس پر عامل ہوں چنانچہ) اللہ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں (جن میں قرآن بھی داخل ہے) میں سب پر ایمان لاتا ہوں (جن کے مضامین متفق علیہا میں سے توحید بھی ہے) اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ (اپنے اور) تمہارے درمیان میں عدل (و انصاف) رکھوں (یعنی جس چیز کو تم پر واجب و لازم کہوں اپنے اوپر بھی اس کو لازم رکھوں، یہ نہیں کہ تم کو کلفت میں ڈالوں اور خود آزاد رہوں، ایسے مضامین و معاملہ سے سلیم الطبع کو رغبت اتباع کی ہوتی ہے۔ اور اس پر بھی اگر نرم نہ ہوں تو اخیر بات یہ ہے کہ) اللہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے (یعنی وہ سب کا حاکم ہے اور) ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، ہماری تمہاری کچھ بحث نہیں، اللہ (جو سب کا مالک ہے قیامت میں) ہم سب کو جمع کرے گا (اس میں شک نہیں کہ) اسی کے پاس جانا ہے (وہ سب کا فیصلہ اعمال کے موافق کرے گا اس وقت تم سے بحث فضول ہے ہاں تبلیغ کئے جاویں گے)۔
معارف و مسائل
(آیت) شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا الآیة۔ سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور جسمانی نعمتوں کا ذکر تھا، یہاں سے باطنی اور روحانی نعمتوں کا بیان ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایسا مضبوط اور مستحکم دین عطا فرمایا جو تمام انبیاء (علیہم السلام) میں مشترک اور متفق علیہ ہے۔ آیت میں انبیاء (علیہم السلام) میں سے پانچ کا ذکر فرمایا۔ سب سے پہلے نوح ؑ اور آخر میں ہمارے رسول خاتم الانبیاء اور درمیان میں حضرت ابراہیم ؑ اس لئے کہ وہ ابوالانبیاء ہیں اور عرب کے لوگ باوجود اپنے کفر و شرک کے ان کی نبوت کے قائل تھے۔ اور ان کے بعد حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ نزول قرآن کے وقت انہیں دو پیغمبروں کے ماننے والے یہود و نصاریٰ موجود تھے۔ سورة احزاب میں بھی میثاق انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں انہیں پانچ کا ذکر آیا ہے۔ (آیت) واذ اخذنا من النبین میثاقھم و منک و من نوح و ابرھیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم) فرق یہ ہے کہ سورة احزاب میں خاتم الانبیاء کا ذکر پہلے اور نوح ؑ کا بعد میں ہے، اور سورة شوریٰ میں نوح ؑ کا ذکر پہلے آپ کا بعد میں ہے۔ اس میں شاید اشارہ اس طرف ہو کہ حضرت خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰة والسلام اگرچہ زمان ولادت و بعثت کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہیں مگر ازلی تقسیم نبوت و رسالت میں سب سے مقدم ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ میں سب انبیاء میں باعتبار تخلیق (ازلی) کے پہلے ہوں اور بعثت کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں۔ (ابن ماجہ، داری عن بہز بن حکیم وقال ہذا حدیث حسن کذا فی المشکوٰة 485)
رہا یہ سوال کہ سب سے پہلے پیغمبر تو حضرت آدم ؑ ہیں، ذکر انبیاء کو ان سے کیوں شروع نہ کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جو دنیا میں تشریف لائے۔ اصول عقائد اور مہمات دین میں اگرچہ وہ بھی مشترک تھے مگر ان کے زمانہ میں شرک و کفر انسانوں میں نہیں تھا۔ کفر و شرک کا مقابلہ حضرت نوح ؑ سے شروع ہوا ہے۔ اس لحاظ سے نوح ؑ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اس طرح کے معاملات پیش آئے، جو بعد کے انبیاء کو پیش آنے والے تھے، اس لئے سلسلہ کو نوح ؑ سے شروع کیا گیا۔ واللہ اعلم۔
(آیت) اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ۔ یہ جملہ پہلے ہی جملہ کی تشریح ہے کہ وہ دین جس میں سب انبیاء (علیہم السلام) مشترک اور متحد ہیں، اس دین کو قائم رکھو اس میں اختلاف و تفرق جائز نہیں بلکہ موجب ہلاکت ہے۔
اقامت دین فرض اور اس میں تفرق حرام ہے
اس آیت میں دو حکم مذکور ہیں، ایک اقامت دین۔ دوسرے اس کا منفی پہلو یعنی اس میں تفرق کی ممانعت۔ جبکہ جمہور مفسرین کے نزدیک اَنۡ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ میں حرف ان تفسیر کے لئے ہے تو دین کے معنی متعین ہوگئے کہ مراد وہی دین ہے جو سب انبیاء (علیہم السلام) میں مشترک چلا آ رہا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دین مشترک بین الانبیاء اصول عقائد یعنی توحید، رسالت، آخرت پر ایمان اور اصول عبادات، نماز، روزہ، حج، زکوٰة کی پابندی ے۔ نیز چوری، ڈاکہ، زنا، جھوٹ فریب، دوسروں کو بلاوجہ شرعی ایذاء دینے وغیرہ اور عہد شکنی کی حرمت ہے جو سب ادیان سماویہ میں مشترک اور متفق علیہ چلے آئے ہیں۔ اور یہ بھی نص قرآن سے ثابت ہے کہ فروع احکام میں انبیاء کی شریعتوں میں جزوی اختلاف بھی ہیں جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) لکل جعلنا منکم شرعةً ومنھاجاً۔ اس مجموعہ سے ثابت ہوا کہ آیت کے اس جملہ میں جس دین کی اقامت کا حکم اور اس میں تفرق کی ممانعت مذکور ہے وہ وہی احکام الٰہیہ ہیں جو سب انبیاء (علیہم السلام) کی شرائع میں مشترک اور متفق علیہ چلے آئے ہیں۔ انہیں میں تفرق و اختلاف حرام اور موجب ہلاکت امم ہے۔
حدیث
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک سیدھا خط کھینچا۔ پھر اس خط کے داہنے، بائیں دوسرے چھوٹے خط کھینچے اور فرمایا کہ یہ داہنے بائیں کے خطوط وہ طریقے ہیں جو شیاطین نے ایجاد کئے ہیں اور اس کے ہر راستہ پر ایک شیطان مسلط ہے جو لوگوں کو اس طرف چلنے کی تلقین کرتا ہے اور پھر سیدھے خط کی طرف اشارہ کر کے فرمایا، (آیت) وان ھذا صراطی مستقماً فاتبعوہ۔ یعنی یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اسی کا اتباع کرو (رواہ احمد و النسائی و الدارمی۔ مظہری)
اس تمثیل میں صراط مستقیم سے وہی دین قیم کا راستہ ہے جو سب انبیاء (علیہم السلام) میں مشترک چلا آیا ہے۔ اس کے اندر شاخیں نکالنا یہ تفرق حرام اور شیاطین کا عمل ہے۔ اور انہی اجماعی اور متفق علیہ احکام میں تفرقہ ڈالنے کی شدید ممانعت احادیث صحیحہ میں آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ من فارق الجماعة شبر افقد خلع ربقة الاسلام من عنقہ۔ (رواہ احمد و ابو داؤد) یعنی جس شخص نے جماعت مسلمین سے ایک بالشت بھی جدائی اختیار کی اس نے اسلام کا حلقہ عقیدت اپنے گلے سے نکال دیا۔ اور ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ید اللہ علی الجماعة (رواہ الترمذی بسند حسن) یعنی اللہ کا ہاتھ ہے جماعت پر۔ اور حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسانوں کے لئے بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کے گلے کے پیچھے بھیڑیا لگتا ہے، تو وہ اسی بکری کو پکڑتا ہے جو اپنی ڈار اور گلے سے پیچھے یا ادھر و ادھر رہ جائے۔ اس لئے تمہیں چاہئے کہ جماعت کے ساتھ رہو علیحدہ نہ ہو۔
(رواہ احمدیہ سب احادیث تفسیر مظہری میں ہیں)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں حکم اس دین مشترک اور متفق علیہ کے قائم رکھنے کا ہے، جس پر تمام انبیاء (علیہم السلام) متفق اور مشترک چلے آئے ہیں۔ اس میں اختلاف کو تفرق کے لفظ سے تعبیر کر کے ممنوع کیا گیا ہے۔ انہی قطعی احکام میں اختلاف و تفرق کو احادیث مذکورہ میں ایمان کے لئے خطرہ اور سبب ہلاکت فرمایا ہے۔
ائمہ مجتہدین کے فروعی اختلافات تفرق ممنوع میں داخل نہیں
س سے واضح ہوگیا کہ فروعی مسائل میں جہاں قرآن و حدیث میں کوئی واضح حکم موجود نہیں یا نصوص قرآن و سنت میں کوئی ظاہری تعارض ہے۔ وہاں ائمہ مجتہدین کا اپنے اپنے اجتہاد سے کوئی حکم متعین کرلینا، جس میں باہم اختلاف ہونا، اختلاف رائے و نظر کی بنا پر لازمی ہے، اس تفرق ممنوع سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ایسا اختلاف صحابہ کرام میں خود عہد رسالت سے چلا آیا ہے اور وہ باتفاق فقہاء رحمت ہے۔
اور اقامت دین سے مراد، اس پر قائم دائم رہنا، اس میں کسی شک وشبہ کو راہ نہ دینا، اور کسی حال اس کو نہ چھوڑنا ہے۔ (قرطبی)
(آیت) كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ۔ یعنی دین کا جس میں توحید رکن اعظم ہے ابتدائے عالم سے سب انبیاء (علیہم السلام) کے اتفاق سے حق ہونا ثابت ہوجانے کے باوجود جو لوگ شرک کے عادی ہوچکے ہیں، ان کو آپ کی دعوت توحید بڑی بھاری معلوم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ اہواء و اغراض اور شیطانی تعلیمات کا اتباع اور صراط مستقیم کو چھوڑنا ہے جس کی اوپر ممانعت مذکور ہے۔ آگے فرماتے ہیں۔
(آیت) اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ۔ یعنی صراط مستقیم کی ہدایت کے دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود کسی کو اپنے دین اور صراط مستقیم کے لئے منتخب فرما کر اس کی فطرت و طبیعت ہی کو اس کے مطابق بنا دے جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور خاص اولیاء اللہ جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا (آیت) انا اخلصنھم بخالصة ذکری الدار۔ یعنی ہم نے ان کو ایک خاص کام کے لئے خالص کردیا ہے جو آخرت کی فکر ہے اور خاص خاص انبیاء کے بارے میں قرآن نے مخلص بفتح لام ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ جس کے معنی منتخب اور مخصوص کے ہیں۔ یہی مفہوم ہے (آیت) اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ۔ کا، یہ طریقہ ہدایت مخصوص و محدود ہے اور دوسرا عام طریقہ ہدایت پانے کا یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہو اور اس کے دین پر چلنے کا ارادہ کرلے تو اس کو اللہ تعالیٰ دین حق کی ہدایت کردیتا ہے۔ یہ مطلب ہے دوسرے جملے وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہدایت پانے کے صرف دو طریق ہیں، ایک خصوصی کہ اللہ تعالیٰ کسی کو خود ہی صراط مستقیم کے لئے منتخب فرما لے۔ دوسرا عمومی کہ جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہو اور اس کے دین حق کی تلاش کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے مقصود ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور مشرکین مکہ کو جو دعوت توحید بھاری معلوم ہوتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دین کے سمجھنے اور اس پر چلنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔
Ayah 42:14(آیت) وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَهُمُ الْعِلْمُ۔ ما تفرقوا کی ضمیر حضرت ابن عباس نے قریش مکہ کی طرف راجع فرمائی اور مطلب یہ قرار دیا کہ کفار قریش نے جو دین حق اور صراط مستقیم سے علیحدگی اور بیزاری اختیار کی، یہ فی نفسہ بھی سخت نادانی تھی، اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے علم آجانے کے بعد بھی انہوں نے ایسا کیا۔ علم آجانے سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا آجانا ہے جو سارے علوم الٰہیہ کے سرچشمہ تھے۔ اور بعض حضرات نے ماتفرقوا کی ضمیر پچھلی امتوں کے لوگوں کی طرف پھیری اور معنی یہ قرار دیئے کہ پچھلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انبیاء کے دین سے تفرق اور علیحدگی اختیار کی، باوجودیکہ ان کے پاس انبیاء کے ذریعہ صراط مستقیم کا صحیح علم آ چکا تھا۔ امم سابقہ مخاطب ہوں یا امت محمدیہ کے کفار۔ دونوں کا تقاضا یہ تھا کہ خود تو گمراہی میں پڑے ہی اپنے رسولوں کو بھی اپنے راستہ پر چلانے کے خواہش مند تھے اس لئے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا۔
Ayah 42:15(آیت) فَلِذٰلِكَ فَادْعُ ۚ وَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ ۭ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۭ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۭلَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۭ اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَ آ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۔
حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت دس مستقل جملوں پر مشتمل ہے اور ہر جملہ خاص احکام پر مشتمل ہے۔ گویا اس ایک آیت میں احکام کی دس فصلیں مذکور ہیں۔ اس کی نظیر پورے قرآن میں ایک آیة الکرسی کے سوا کوئی نہیں۔ آیت الکرسی میں بھی دس احکام کی دس فصلیں آئی ہیں۔
پہلا حکم فَلِذٰلِكَ فَادْعُ ۚ یعنی اگرچہ مشرکین پر آپ کی دعوت توحید بھاری ہے۔ مگر اس کی وجہ سے آپ اپنی دعوت کو نہ چھوڑیں اور مسلسل اس دعوت کا کام جاری رکھیں۔ دوسرا حکم واسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ ۚ ہے، یعنی آپ اس دین پر خود مستقیم رہیں۔ جس کی دعوت لوگوں کو دیتے ہیں اور یہ استقامت ایسی ہونی چاہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ یعنی تمام احکام عقائد، اعمال اخلاق و عادات و معاشرت میں صحیح اعتدال پر قائم رہیں۔ کسی طرف افراط وتفریط کا ادنیٰ سا میلان نہ ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی استقامت آسان کام نہیں۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ سے جب بعض صحابہ نے آپ کے سفید بال آجانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا شیبتنی ھود یعنی مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ سورة ھود میں بھی یہی حکم انہی الفاظ کے ساتھ آیا ہے (معارف القرآن جلد چہارم ص 076، تفسیر سورة ہود کے ضمن میں استقامت کے مفہوم اور اس کی دشواری اور اہمیت پر مستقل کلام کیا گیا ہے، وہاں دیکھ لیا جائے) تیسرا حکم وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ یعنی اپنے فریضہ تبلیغ میں آپ کسی مخالف کی مخالفت کی پرواہ نہ کریں۔ چوتھا حکم وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ ۚ یعنی آپ اعلان فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان سب پر ایمان ہے۔ پانحواں حکم وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ ۭ۔ اس کا مفہوم ظاہر تو یہی ہے کہ میرے پاس جو معاملات باہمی جھگڑوں کے آویں مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں ان میں عدل و انصاف کروں۔ بعض حضرات نے یہاں عدل کے معنی برابری کے لے کر آیات کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ میں تمہارے درمیان دین کے سب احکام کو برابر رکھوں کہ ہر نبی اور ہر کتاب پر ایمان لاؤں اور تمام احکام الٰہیہ کی اطاعت کروں۔ ایسا نہیں کہ بعض پر ایمان ہو بعض پر نہ ہو یا بعض احکام کی تعمیل ہو بعض کی نہ ہو۔ چھٹا حکم اللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۭ یعنی اللہ ہمارا سب کا پالنے والا ہے۔ ساتواں حکم لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۭ یعنی ہمارے اعمال ہمارے کام آویں گے تمہیں ان کا کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچے گا۔ اور تمہارے اعمال تمہارے کام آویں گے ہمیں اس سے کوئی نفع و نقصان نہ پہنچے گا۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ کفار سے جہاد کرنے کے احکام نازل نہ ہوئے تھے۔ احکام جہاد کی آیتوں نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ کیونکہ جہاد کا حال ہی یہ ہے کہ جو لوگ نصیحت و فہمائش کا اثر نہ لیں ان سے قتال کر کے انہیں مغلوب کیا جائے یہ نہیں کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ نہیں اور مطلب آیات کا یہ ہے کہ جب ہم نے حق کو دلائل اور براہین سے ثابت کردیا تو اب اس کا نہ ماننا صرف عناد اور ہٹ دھرمی ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور عناد آ گیا تو اب دلائل کی گفتگو فضول ہوئی تمہارا عمل تمہارے آگے میرا میرے آگے آوے گا (قرطبی) آٹھواں حکم لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۭ حجت سے مراد بحث و مباحثہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ حق واضح اور ثابت ہوجانے کے بعد بھی اگر تم عناد سے کام لیتے ہو تو اب گفتگو فضول ہے، ہمارے اور تمہارے درمیان اب کوئی بحث نہیں۔ نواں حکم اللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَ آ یعنی قیامت کے روز ہم سب کو اللہ تعالیٰ جمع فرما ویں گے اور ہر ایک عمل کا بدلہ دیں گے۔ دسواں حکم وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۔ یعنی ہم سب اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
Ayah 42:16خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ (کے دین) کے بارے میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں۔ بعد اس کے کہ وہ مان لیا گیا (یعنی بہت سے سمجھدار ذی عقل آدمی مسلمان ہو کر اس کو مان چکے ہیں۔ اور حجت واضح ہوجانے کے بعد مجادلہ اور زیادہ مذموم ہے سو) ان لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر (خدا کی طرف سے) غضب (آنے والا) ہے اور ان کے لئے (قیامت میں) سخت عذاب (ہونے والا) ہے (اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اور اس کے دین کو مانو، یعنی اس کی کتاب جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سب پر حاوی ہے اس کو واجب العمل جانو کیونکہ) اللہ ہی ہے جس نے (اس) کتاب (یعنی قرآن) کو حق کے ساتھ اور (اس میں جو خاص حکم ہے) انصاف (کا اس) کو نازل فرمایا (جب یہ کتاب اللہ کی ہے تو اللہ کو ماننا بغیر اس کتاب کے ماننے کے معتبر نہیں۔ بعض غیر مسلم جو اللہ کو ماننے کا تو دعویٰ کرتے ہیں مگر قرآن کو نہیں مانتے وہ نجات کے لئے کافی نہیں) اور (یہ لوگ جو آپ سے قیامت کا متعین وقت پوچھتے ہیں تو) آپ کو (اس کی) کیا خبر (لیکن آپ کو خبر نہ ہونے سے اس دن کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ اس کا وقوع یقینی ہے اور تعین وقت کے لئے اجمالاً اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ) عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو (مگر) جو لوگ اس کا یقین نہیں رکھتے (وہ اس دن سے ڈرنے کے بجائے بطور استہزاء و انکار کے) اس کا تقاضا کرتے ہیں۔ (کہ وہ جلد کیوں نہیں آجاتی) اور جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں وہ اس سے (کانپتے اور) ڈرتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے یاد رکھو کہ (ان دونوں قسم کے لوگوں میں قسم اول کے لوگ یعنی) جو لوگ قیامت کے (منکر ہیں اور اس کے) بارے میں جھگڑتے ہیں بڑی دور (دراز) گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اس دین قویم کی طرف اہل عالم کو دعوت دی گئی تھی جس پر تمام آسمانی کتابیں اور انبیاء (علیہم السلام) متفق ہیں۔ اور اس پر قائم رہنے اور استقامت اختیار کرنے کی تلقین تھی۔ مگر بعض اہل کفر جو سننے اور ماننے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے انہوں نے اس پر بھی مسلمانوں سے حجت بازی شروع کی۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ اہل کتاب یہود و نصاری نے یہ حجت پیش کی کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے۔ اس لئے ہمارا دین تمہارے دین سے افضل ہے۔ اور بعض روایات میں یہی مضمون کفار قریش کی طرف سے ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو دین ابراہیم ؑ کا متبع کہتے ہیں۔
قرآن کریم نے آیات مذکورہ میں ان کو متنبہ کیا کہ دین اسلام اور قرآن کی حجت لوگوں پر تمام ہوچکی ہے اور خود تمہارے سمجھدار انصاف پسند لوگ تسلیم کر کے مسلمان ہوچکے ہیں، اب یہ تمہاری حجت بازی باطل اور گمراہی ہے جس کا کوئی قرار نہیں۔ اب اگر اس کو نہیں مانو گے تو خدا کا غضب تم پر ٹوٹے گا۔ آگے قرآن کے منجانب اللہ ہونے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لئے جامع قانون ہونے کا ذکر ہے۔
Ayahs 42:17–18(آیت) اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَالْمِيْزَان کتاب سے مراد اس جگہ مطلق آسمانی کتاب ہے جس میں قرآن اور پہلی کتابیں سب داخل ہیں اور حق سے مراد وہ دین حق ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور میزان کے لفظی معنی ترازو کے ہیں وہ چونکہ انصاف قائم کرنے اور حق پورا دینے کا ایک آلہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس نے میزان کی تفسیر عدل و انصاف سے کی ہے۔ مجاہد امام تفسیر نے فرمایا کہ یہاں میزان سے مراد وہ عام ترازو ہے جس کو لوگ استعمال کرتے ہیں اور مراد اس سے سب کے حقوق کی پوری ادائیگی اور انصاف ہے۔ تو لفظ حق میں سب حقوق اللہ اور لفظ میزان میں سب حقوق العباد کی طرف اشارہ ہوگیا۔
اور یہ جو فرمایا کہ مومنین قیامت سے ڈرتے ہیں۔ مراد اس سے اعتقادی خوف ہے جو قیامت کے اہوال سے ہے۔ نیز اپنی عملی کوتاہیوں پر نظر کرنے سے لازمی ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات کسی مومن پر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق غالب ہو کر اس خوف پر غالب آجاتا ہے وہ اس کے منافی نہیں۔ جیسا کہ قبر میں بعض مردوں کا یہ کہنا ثابت ہے کہ قیامت جلد آجائے، وجہ یہ ہے کہ قبر میں جب فرشتوں کی طرف سے انسان کو بشارت رحمت و مغفرت کی مل جائے گی تو قیامت کا خوف مغلوب ہوجائے گا۔
Ayah 42:19خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ جو دنیا کی ناز و نعمت پر مغرور ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ اگر ہمارا عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہوتا تو ہم کو یہ عیش و عشرت کیوں دیتا خوب سمجھ لو کہ یہ ان کی بھول ہے، یہ دنیا کی دولت و نعمت دلیل رضا نہیں بلکہ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اپنے بندوں پر (عام طور سے) مہربان ہے (اسی رحمت عامہ کے سبب سب کو روزی دیتا ہے صحت و تندرستی دیتا ہے جس میں مصالح و حکمت کی بنا پر کمی و بیشی بھی ہوتی ہے کہ) جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے (مگر نفس روزی سب میں مشترک ہے) اور (دنیا میں اس لطف و مہربانی سے یہ سمجھ لینا کہ ان کا طریقہ حق ہے اور آخرت میں بھی لطف و مہربانی جاری رہے گی سراسر دھوکہ ہے۔ وہاں تو ان کے اعمال بد پر عذاب ہوگا جو کوئی مستبعد نہیں کیونکہ) وہ قوت والا زبردست ہے (غرض ان کی ساری خرابیوں کی جڑ دنیا پر مغرور ہونا ہے۔ ان کو چاہئے کہ اس سے باز آجائیں اور آخرت کی فکر کریں کیونکہ) جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو۔ ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (اعمال صالحہ کھیتی اور اس پر ملنے والا ثواب اس کا پھل ہے اور اس کی ترقی یہ ہے کہ ثواب مضاعف ملے گا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا) اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو (یعنی سارے عمل و سعی کا مقصد دنیا کی متاع ہو، آخرت کے لئے کچھ کوشش نہ کرے) تو ہم اس کو کچھ دینا (اگر چاہیں) دے دیں گے اور آخرت میں اس کو کچھ حصہ نہیں (کیونکہ اس کی شرط ایمان ہے وہ ان میں ہے نہیں)۔
معارف و مسائل
اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ۔ لفظ لطیف لغت کے اعتبار سے چند معانی میں استعمال ہوتا ہے یہاں حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ حفی بمعنی مہربان سے اور حضرت عکرمہ نے بار یعنی محسن سے کیا ہے۔
حضرت مقاتل نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سبھی بندوں پر مہربان ہے۔ یہاں تک کہ کافر فاجر پر بھی دنیا میں اس کی نعمتیں برستی ہیں حق تعالیٰ کی عنایات اور لطف و کرم اپنے بندوں پر بیشمار انواع و اقسام کے ہیں۔ اس لئے تفسیر قرطبی نے لفظ لطیف کے معنی بھی بہت سے بیان فرمائے ہیں۔ اور حاصل سب کا لفظ حفی اور بار میں شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا رزق تو ساری مخلوقات کے لئے عام اور شامل ہے۔ دریا اور خشکی میں رہنے والے وہ جانور جن کو کوئی نہیں جانتا اس کا رزق ان کو بھی پہنچتا ہے۔ اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اس کا حاصل زیادہ واضح وہ ہے جس کو تفسیر مظہری نے اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رزق کی بیشمار اقسام و انواع ہیں۔ بقدر ضرورت معاش رزق تو سب کے لئے عام ہے۔ پھر خاص خاص اقسام رزق کی تقسیم میں اپنی حکمت بالغہ سے مختلف درجات اور پیمانے رکھے ہیں۔ کسی کو مال و دولت کا رزق زیادہ دے دینا۔ کسی کو صحت وقوت کا، کسی کو علم و معرفت کا کسی کو دوسری انواع و اقسام کا اس طرح ہر انسان دوسرے کا محتاج بھی رہتا ہے اور یہی احتیاج ان کو باہمی تعاون و تناصر پر آمادہ کرتی ہے جس پر تمدن انسانی کی بنیاد ہے۔
حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی بندوں پر دو طرح کی ہے اول تو یہ کہ ہر ایک ذی روح کو اس کے مناسب حال غذاء اور ضروریات عطا فرماتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی کو اس کا پورا رزق عمر بھر کا بیک وقت نہیں دے دیتا، ورنہ اول تو اس کی حفاظت کرنا مشکل ہوجاتا اور کتنی بھی حفاظت کرتا وہ پھر بھی سڑنے اور خراب ہونے سے بچتا۔ (مظہری و مثلہ فی القرطبی)
ایک مجرب عمل
مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔ اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے۔ آیت یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔
(آیت) اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ
Ayah 42:20(حاشیہ) شکر نعمت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
24 ربیع الثانی 1392 ھ روز چہار شنبہ کی صبح کو ”معارف القرآن“ کی تفسیر یہاں تک پہنچانے اور دارالعلوم کے دوسرے کام کرنے کے بعد نماز ظہر ادا کی اور یہ اوراق تکیہ کے نیچے دبا کر رکھے۔ کہ کھانے کے بعد تھوڑا سا آرام کر کے پھر تفسیر کا کام شروع کروں گا مگر انسان اور اس کے ارادوں کی کمزوری کا اندازہ اس سے کیجئے کہ آج پورے چھپن دن کے بعد 2 جمادی الثانیہ 1392 ھ بروز چہار شنبہ کو دوبارہ اس کاغذ پر قلم لگانے کی نوبت اس کے بعد آئی کہ ایک عرصہ تک زندگی سے مایوسی رہی، اور ڈیڑھ پارہ قرآن کی تفسیر جو لکھنا باقی تھی اس کی تکمیل کی وصیت اپنے برخور دار صالح مولوی محمد تقی سلمہ کو کر کے اپنی حسرت کا تھوڑا سا تدارک کرچکا اور دل کو فارغ کرچکا تھا۔ واقعہ یہ ہوا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ہی میرے سینے میں شدید درد ہوا جو اگلے روز ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق میرے قلب پر شدید حملہ (ہارٹ اٹیک) ثابت ہوا۔ میرے مخلص محب محترم ڈاکٹر صغیر احمد ہاشمی و امت مکارمہ کو حق تعالیٰ نے میری دوسری زندگی کا ذریعہ بنادیا۔ انہوں نے اپنی خاص تدبیر سے مجھے فوراً امراض قلب کے ہسپتال میں داخل کرا دیا جبکہ میں اپنے اختیار سے اس پر کسی طرح آمادہ نہ تھا۔ کیونکہ ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ سلوک کے جو مشاہدات کرتا آیا تھا ان کے سبب میرا دل کسی طرح مطمئن نہ تھا کہ میں کسی ہسپتال میں خصوصاً موت وحیات کی کشمکش کے حال میں داخل ہوں مگر موصوف نے کچھ تدبیریں کر کے مجھے وہاں پہنچا دیا۔ بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ ہی میری دوبارہ زندگی کا ظاہری سبب بنا۔ بغیر ہسپتال میں قیام کے علاج ممکن نہیں تھا۔
25 ربیع الثانی 1392 ھ بروز جمعرات کو امراض قلب کے ہسپتال میں داخل ہوا اور بحمد اللہ یہاں کے ڈاکٹر بڑے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ہمدرد اور مہربان بھی ثابت ہوئے۔ چند روز میں اللہ تعالیٰ نے خطرہ سے نکال دیا۔ مزید احتیاطی علاج کے لئے 32 روز مجھے ہسپتال میں رہنا پڑا۔ 11 جولائی 72 ء روز دو شنبہ کو مجھے ہسپتال سے رخصت کیا گیا اور اپنے مکان واقع لسبیلہ میں چند ہفتے قیام کا ارادہ کرلیا۔ یہاں بھی احتیاطی تدابیر اور علاج جاری ہے۔ آج 02 جمادی الثانیہ کو جو اتفاق سے میرے پاکستان کراچی پہنچنے کی تاریخ ہے اور آج پاکستان میں آئے ہوئے مجھے چوبیس سال پورے ہو کر پچیسواں شروع ہو رہا ہے۔ اور بحمداللہ صحت و قوت بھی اب کچھ تدریجاً بڑھ رہی ہے تو اللہ کے نام پر آج یہ اوراق پھر اٹھائے اور یہ حاشیہ لکھ دیا۔
تفسیر معارف القرآن کی صورت حال یہ ہے کہ جب یہ حادثہ مجھے پیش آیا تو میں معارف القرآن کو تقریباً آخر قرآن تک لکھ چکا تھا، ایک خاص سبب سے درمیانی چھٹی منزل رہ گئی تھی اس کو لکھنے کا کام سورة شوریٰ کے اس مقام تک پہنچا تھا۔ آگے تقریباً ڈیڑھ پارہ قرآن کریم کا سورة حجرات تک لکھنا باقی تھا۔ اب حق تعالیٰ نے گویا دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور معالج ڈاکٹروں نے کچھ لکھنے پڑھنے کی اجازت دی تو برخوردار مولوی محمد تقی کو ساتھ لگا کر بنام خدا آج پھر یہ کام شروع کیا ہے۔ واللہ المستعان۔
Ayahs 42:21–22خلاصہ تفسیر
دین حق کو تو خدا نے مشروع و مقرر فرمایا ہے، مگر یہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے تو) کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک (خدائی ہیں) جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (مطلب یہ ہے کہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہو سکے) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھہرا ہوا) نہ ہوتا (یعنی یہ کہ ان پر اصل عذاب موت کے بعد ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان کا (عملی) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو ضرور دردناک عذاب ہوگا (اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور) پڑ کر رہے گا (یہ تو منکرین کا حال ہوگا) اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (ہوں گے) وہ بہشتوں کے باغوں میں (داخل) ہوں گے (بہشت کو جمع اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقات اور درجات ہیں، ہر طبقہ ایک بہشت ہے اور ہر طبقہ میں متعدد باغات ہیں، اپنے اپنے رتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا، کوئی کہیں ہوگا) وہ جس چیز کو چاہیں ان کے رب کے پاس ان کو ملے گی، یہی بڑا انعام ہے (نہ وہ فانی عیش و عشرت جو دنیا میں موجود ہے) یہی ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے (اور چونکہ کفار پورا مضمون سننے سے پہلے ہی تکذیب کرنے کے خوگر تھے، اس لئے اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ہی ایک جملہ معترضہ میں کفار کو ایک دلگداز مضمون سنانے کا حکم فرماتے ہیں یعنی) آپ (ان سے) یوں کہئے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے (یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ تمہارے رشتہ داری کے جو تعلقات ہیں، ان کے حقوق کا تو خیال رکھو، کیا رشتہ داری کا یہ حق نہیں کہ مجھ سے عداوت میں جلدی نہ کرو بلکہ (اطمینان کے ساتھ میری پوری بات سن لو اور اس کو عقل اور دلیل صحیح کی میزان سے جانچو، اگر معقول ہو تو قبول کرلو، اور اگر کچھ شبہ ہو تو صاف کرلو، اور بفرض محال غلط ہو تو مجھ کو سمجھا دو ، غرض جو بات ہو خیر خواہی سے ہو، یہ نہیں کہ فوراً ہی بھڑک اٹھو) اور (آگے مومنین کے لئے بشارت کا تتمہ ہے یعنی) جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس (نیکی) میں اور خوبی زیادہ کردیں گے (یعنی اس خوبی کا مقتضا فی نفسہ جس قدر ثواب ہے ہم اس سے زیادہ ثواب دیں گے) بیشک اللہ (اطاعت گزار بندوں کے گناہوں کا) بڑا بخشنے والا (اور ان کی نیکیوں کا) بڑا قدر دان (اور ثواب عطا کرنے والا) ہے۔
Ayah 42:23معارف و مسائل
(آیت) قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى۔ اس آیت کی جو تفسیر مذکور الصدر خلاصہ میں آ چکی ہے۔ یہی جمہور مفسرین سے منقول و ماثور اور مختار ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ میرا اصل حق تم سب پر تو یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو۔ مگر میری نبوت و رسالت کو تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی تو ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکتے کہ تمہارے اکثر قبائل میں میری رشتہ داری اور قرابتیں ہیں۔ قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی کی ضرورت سے تمہیں بھی انکار نہیں تو میں تم سے اپنی اس خدمت کا جو تمہاری تعلیم و تبلیغ اور اصلاح اعمال و احوال کے لئے کرتا ہوں، کوئی معاوضہ تم سے نہیں مانگتا، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ رشتہ داری کے حقوق کا تو خیال کرو۔ بات کا ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے۔ مگر عداوت اور دشمنی سے تو کم از کم یہ نسب و قرابت کا تعلق مانع ہونا چاہئے۔
اب یہ بات ظاہر ہے کہ رشتہ داری کے حقوق کی رعایت یہ خود ان کا اپنا فرض تھا۔ اس کو کسی خدمت تعلیمی تبلیغی کا معاوضہ نہیں کہا جاسکتا۔ آیت مذکورہ میں جو اس کو بلفظ استثناء ذکر فرمایا ہے تو یہ تو اصطلاحی الفاظ میں استثناء منقطع ہے جس میں مستثنیٰ اس مجموعہ مستثنیٰ منہ کا جز نہیں ہوتا یا پھر اس کا مجازاً اور ادعاء معاوضہ قرار دیا گیا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ میں تم سے صرف اتنی بات چاہتا ہوں جو اگرچہ حقیقتاً کوئی معاوضہ نہیں، تم اس کو معاوضہ سمجھو تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اس کے نظائر عرب و عجم ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔ متنبی شاعر نے ایک قوم کی شجاعت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی عیب نہیں بجز اس کے کہ ان کی تلواروں میں کثرت حرب و ضرب کی وجہ سے دندانے پڑگئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شجاع و بہادر کے لئے یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ہنر ہے۔ اس کا عربی شعر یہ ہے
ولا عیب فیھم غیران سیوفھم۔
بھن فلول من تراع الکتائب
ایک اردو شاعر نے اسی طرح کا مضمون اس طرح لکھا ہے
مجھ میں ایک عیب بڑا ہے کہ وفار دار ہوں میں، اس نے وفاداری کو عیب کے لفظ سے تعبیر کر کے اپنی بےگناہی کو بہت اونچا کر کے دکھلایا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حقوق قرابت کی رعایت جو فی الواقع کوئی معاوضہ نہیں میں تم سے اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔
آیت مذکورہ کی یہی تفسیر صحیحین میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے اور ائمہ تفسیر میں مجاہد، قتادہ اور بہت بڑی جماعت نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی آواز ہر دور میں رہی ہے کہ اپنی قوم کو کھول کر بتادیا کہ ہم جو کچھ تمہاری بھلائی اور خیر خواہی کے لئے کوشش کرتے ہیں، تم سے اس کا کوئی معاوضہ ہم نہیں مانگتے۔ ہمارا معاوضہ صرف اللہ تعالیٰ دینے والا ہے۔ سید الانبیاء ﷺ کی شان تو ان سب میں اعلیٰ وارفع ہے وہ کیسے قوم سے کوئی معاوضہ طلب کرتے۔
امام حدیث سعید بن منصور اور ابن سعد اور عبد بن حمید اور حاکم اور بیہقی نے امام شعبی سے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام شعبی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ہم سے اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوالات کئے تو ہم نے حضرت ابن عباس کو خط لکھ کر اس کی صحیح تفسیر دریافت کی آپ نے جواب میں لکھا کہ
آنحضرت ﷺ قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ اس کے ہر ذیلی خاندان سے آپ کا رشتہ ولادت قائم تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ”آپ مشرکین سے یہ کہئے کہ اپنی دعوت پر میں تم سے کوئی معاوضہ بجز اس کے نہیں مانگتا کہ تم مجھ سے قرابت داری کی مروت و مودت کا معاملہ کر کے بغیر کسی تکلیف کے اپنے درمیان رہنے دو اور میری حفاظت کرو۔
اور ابن جریر وغیرہ نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔
اے قوم ! اگر تم میری اتباع سے انکار کرتے ہو تو تم سے جو میرا قرابت کا رشتہ ہے اس کی پاسداری تو کرو، اور ایسا نہ ہو کہ عرب کے دوسرے لوگ (جن کے ساتھ میری قرابت نہیں) میری حفاظت اور نصرت میں تم پر بازی لے جائیں۔
اور حضرت ابن عباس ہی سے سند ضعیف کے ساتھ ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ کی قرابت میں کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ علی اور فاطمہ اور ان کی اولاد۔ اس روایت کی سند کو در منثور میں سیوطی نے اور تخریج احادیث کشاف میں حافظ ابن حجر نے ضعیف قرار دیا ہے اور چونکہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی خدمت کا اتنا معاوضہ مانگتا ہوں کہ میری اولاد کی تم رعایت کیا کرو، جو عام انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً سید الانبیاء کی شان کے مناسب بھی نہیں۔ اس لئے راجح اور مختار تفسیر جمہور امت کے نزدیک وہی ہے جو اوپر لکھی گئی۔ روافض نے اس روایت کو نہ صرف اختیار کیا بلکہ اس پر بڑے قلعے تعمیر کر ڈالے، جن کی کوئی بنیاد نہیں۔
آل رسول ﷺ کی تعظیم و محبت کا مسئلہ
اوپر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا تعلق صرف اس بات سے ہے کہ آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی خدمت کے معاوضہ میں قوم سے اپنی اولاد کی محبت و عظمت کے لئے کوئی درخواست نہیں کی۔ اس کے یہ معنی کسی کے نزدیک نہیں کہ اپنی جگہ آل رسول مقبول ﷺ کی محبت و عظمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ایسا خیال کوئی بدبخت گمراہ ہی کرسکتا ہے۔ حقیقت مسئلہ کی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت کا ساری کائنات سے زائد ہونا جزو ایمان بلکہ مدار ایمان ہے۔ اور اس کے لئے لازم ہے کہ جس کو جس قدر نسبت قریبہ رسول اللہ ﷺ سے ہے اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانے سے واجب و لازم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کہ انسان کی صلبی اولاد کو سب سے زیادہ نسبت قربت حاصل ہے اس لئے ان کی محبت بلاشبہ جزو ایمان ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ازواج مطہرات اور دوسرے صحابہ کرام جن کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متعدد قسم کی نسبتیں قربت اور قرابت کی حاصل ہیں ان کو فراموش کردیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حب اہل بیت وآل رسول ﷺ کا مسئلہ امت میں کبھی زیر اختلاف نہیں رہا، باجماع و اتفاق ان کی محبت و عظمت لازم ہے۔ اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ورنہ آل رسول ﷺ ہونے کی حیثیت سے عام سادات خواہ ان کا سلسلہ نسب کتنا ہی بعید بھی ہو، ان کی محبت و عظمت عین سعادت و اجر وثواب ہے اور چونکہ بہت سے لوگ اس میں کوتاہی برتنے لگے، اسی لئے حضرت امام شافعی نے چند اشعار میں اس کی سخت مذمت فرمائی۔ وہ اشعار یہ ہیں اور درحقیقت یہی جمہور امت کا مسلک و مذہب ہے۔
یا راکبا قف بالمحصب من منی، واھتف بساکن خیفھا والنا ھضن، سحرا اذا فاض الحجیح الی منی، فیضا کملتطم الفرات الفائض، ان کان رفضا حب آل محمد، فلیشھد الثقلان انی رافضی،
یعنی اے شہ سوار، منیٰ کی وادی محصب کے قریب رک جاؤ، اور جب صبح کے وقت عازمین حج کا سیلاب ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح منیٰ کی طرف روانہ ہو تو اس علاقے کے ہر باشندے اور ہر راہ رو سے پکار کر یہ کہہ دو کہ اگر صرف آل محمد ﷺ کی محبت ہی کا نام رفض ہے تو اس کائنات کے تمام جنات و انسان گواہ رہیں کہ میں بھی رافضی ہوں۔