42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعارف القرآن

Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر اور مٹاتا ہے اللہ جھوٹ کو اور ثابت کرتا ہے سچ کو اپنی باتوں سے اس کو معلوم ہے جو دلوں میں ہے

خلاصہ تفسیر کیا یہ لوگ (آپ کی نسبت نعوذ باللہ) یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے (کہ نبوت اور وحی کا خلاف واقع دعویٰ کیا ہے) سو (ان کا یہ قول خود افترا ہے، اس لئے کہ آپ کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا یہ معجز کلام جاری ہو رہا ہے جو سچے نبی کے سوا کسی کی زبان پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اگر معاذ اللہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچے نہ ہوتے تو اللہ یہ کلام آپ پر جاری نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ) خدا (کو یہ قدرت حاصل ہے کہ) اگر (وہ) چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے (اور یہ کلام آپ کے قلب پر نہ القا ہو، نہ باقی رہے، بلکہ سلب ہوجائے، اور آپ بالکل بھول جائیں، اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ زبان سے اس کا صدور ہو ہی نہیں سکتا) اور اللہ تعالیٰ (کی یہ عادت ہے کہ وہ نبوت کے) باطل (دعوے) کو مٹایا کرتا ہے (چلنے نہیں دیتا، یعنی ایسے جھوٹے مدعی کے ہاتھ پر معجزات ظاہر نہیں ہوتے) اور (نبوت کے) حق (دعوائے) کو اپنے احکام سے ثابت (اور غالب) کیا کرتا ہے (پس آپ صادق اور وہ کاذب ہیں اور چونکہ) وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) دلوں (تک) کی باتیں جانتا ہے (چہ جائیکہ زبان کے اقوال اور جوارح کے افعال، پس اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے عقائد، اقوال اور اعمال سب کی خبر ہے، ان سب پر خوب سزا دے گا، ہاں جو لوگ اپنے کفر اور بداعمالیوں سے توبہ کرلیں انہیں معاف کر دے گا، کیونکہ یہ اس کا قانون ہے) اور وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ (بشرائطہا) قبول کرتا ہے اور وہ (اس توبہ کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس (سب) کو جانتا ہے (پس اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص) اور (جب کوئی شخص کفر سے توبہ کر کے مسلمان ہوگیا تو اس کی جو عبادتیں پہلے قبول نہ ہوتی تھیں، اب قبول ہونے لگیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ) ان لوگوں کی عبادت (بشرطیکہ ریاء کے لئے نہ ہو) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (وہ عبادتیں یہی نیک عمل ہیں اور ان کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب دیتا ہے) اور (علاوہ اس ثواب کے جو فی نفسہ اس عمل کا مقتضا ہے) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے (یہ تو ایمان والوں کے لئے ہوا) اور جو لوگ کفر (پر اصرار) کر رہے ہیں (اور ایمان نہیں لائے) ان کے لئے سخت عذاب (مقرر) ہے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کو غلط اور خدائے تعالیٰ پر افتراء کہنے والوں کو اپنا ایک عام ضابطہ بتلا کر جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے کام جو عادتاً انسان نہیں کرسکتے، جن کو خرق عادت یا معجزہ کہا جاتا ہے، اگرچہ بعض ساحر جادوگر بھی اپنے سحر سے ایسے کام کردکھاتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی بغیر اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کے کچھ نہیں کرسکتا۔ حق تعالیٰ ہی اپنے فضل سے انبیاء کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو معجزات عطا فرماتے ہیں۔ جن میں پیغمبر کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح جادوگروں کا جادو بھی اپنی حکمت امتحان و آزمائش کی بنا پر چلنے دیتے ہیں۔ مگر سحر اور معجزہ میں فرق اور نبی اور ساحر میں امتیاز کے لئے اس نے یہ ضابطہ جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ جھوٹا کرے، اس کے ہاتھ سے کوئی سحر یا جادو کامیاب نہیں ہوتا۔ جب تک کہ وہ مدعی نبوت نہ ہو سحر چلتا ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد اس کا سحر اللہ تعالیٰ نہیں چلنے دیتے۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت عطا فرماتے ہیں۔ ان کو معجزات بھی عطا فرماتے ہیں۔ اور ان کے معجزات کا صدور روشن کرتے ہیں۔ اس طرح تکوینی اور تقدیری طور پر ان کی نبوت کو ثابت کردیتے ہیں۔ دوسرے اپنے کلام کی آیات میں ان کی تصدیق نازل فرما دیتے ہیں۔ جب یہ ضابطہ معلوم ہوگیا تو اب یہ سمجھو کہ قرآن کریم ایک معجزہ ہے کہ تمام دنیا کے جن و بشر اس کی ایک آیت کی مثال بنانے سے عاجز ہیں جن کا عجز زمانہ نبوت میں ثابت ہوچکا اور آج تک ثابت ہے۔ ایسا کھلا ہوا معجزہ کسی جھوٹے مدعی نبوت سے حسب ضابطہ مذکورہ صادر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ کا دعویٰ وحی رسالت صحیح اور حق ہے، اس کو غلط اور افترا کہنے والے گمراہ مفتری ہیں۔
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کرتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور دعا سنتا ہے ایمان والوں کی جو بھلے کام کرتے ہیں اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے اور جو منکر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

دوسری آیت میں منکرین و معاندین کو نصیحت کی گئی ہے کہ اب بھی کفر و انکار سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کی خطاؤں کو بخش دیتا ہے۔ توبہ کی حقیقت توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لئے تین شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کر دے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں لگ جائے اور اگر گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے تو اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ اگر کسی کا مال اپنے اوپر واجب ہے اور وہ شخص زندہ ہے تو یا اسے وہ مال لوٹائے یا اس سے معاف کرائے اور اگر وہ زندہ نہیں اور اس کے ورثہ موجود ہیں تو ان کو لوٹائے، اگر ورثہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال میں داخل کرائے، بیت المال بھی نہیں ہے یا اس کا انتظام صحیح نہیں ہے تو اس کی طرف سے صدقہ کر دے، اور اگر کوئی غیر مالی حق کسی کا اپنے ذمہ واجب ہے، مثلاً کسی کو ناحق سنایا ہے، برا بھلا کہا ہے یا اس کی غیبت کی ہے تو اسے جس طرح ممکن ہے راضی کر کے اس سے معافی حاصل کرے۔ اور یہ تو ہر قسم کی توبہ کے لئے ضروری ہے ہی کہ گناہ کا ترک کرنا اللہ کے لئے ہے، اپنے کسی جسمانی ضعف یا مجبوری کی بنا پر نہ ہو۔ اور شریعت میں اصل مطلوب تو یہ ہے کہ توبہ سارے ہی گناہوں سے کی جائے، لیکن اگر صرف کسی خاص گناہ سے توبہ کی گئی تو اہل سنت کے مسلک کے مطابق اس گناہ کی حد تک تو معافی ہوجائے گی، دوسرے گناہوں کا وبال سر پر رہے گا۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر پھیلا دے اللہ روزی اپنے بندوں کو تو دھوم اٹھا دیں ملک میں لیکن اتارتا ہے ماپ کر جتنی چاہتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے دیکھتا ہے

خلاصہ تفسیر اور (اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے سب آدمیوں کو زیادہ مال نہیں دیا، کیونکہ) اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے (بحالات موجودہ جیسی ان کی طبیعتیں ہیں) روزی فراخ کردیتا تو وہ دنیا میں (بالعموم) شرارت کرنے لگتے (کیونکہ جب سارے انسان مالدار ہوتے اور کوئی کسی کا مطلق محتاج نہ ہوتا تو کوئی بھی کسی سے نہ دبتا) لیکن (یہ بھی نہیں کیا کہ بالکل ہی کسی کو کچھ نہ دیا ہو، بلکہ) جتنا رزق چاہتا ہے انداز (مناسب) سے (ہر ایک کے لئے) اتارتا ہے، (کیونکہ) وہ اپنے بندوں کے (مصالح) کو جاننے والا (اور ان کا حال) دیکھنے والا ہے اور وہ ایسا (رحیم) ہے جو (بسا اوقات) لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت (کے آثار دنیا میں) پھیلاتا ہے (آثار سے مراد نباتات اور پھل پھول ہیں) اور وہ (سب کا) کار ساز (اور اس کار سازی پر) قابل حمد (وثنا) ہے اور منجملہ اس کی (قدرت کی) نشانیوں کے پیدا کرتا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جانداروں کا جو اس نے زمین و آسمان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ (قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے) ان (مخلوقات) کے جمع کرلینے پر بھی جب وہ (جمع کرنا) چاہے قادر ہے اور وہ انتقام لینے والا مگر ساتھ ہی معاف کرنے والا بھی ہے چنانچہ) تم کو (اے گناہگارو) جو کچھ مصیبت (حقیقتاً) پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کئے گئے کاموں سے (پہنچتی ہے اور پھر بھی ہر گناہ پر نہیں، بلکہ بعض بعض گناہوں پر) اور بہت (سے گناہوں) سے درگزر ہی کردیتا ہے (خواہ دونوں جہاں میں یا صرف دنیا میں) اور (اگر وہ سب پر مواخذہ کرنے لگے تو) تم زمین (کے کسی حصہ) میں (پناہ لے کر اس کو) ہرا نہیں سکتے اور (ایسے وقت میں) خدا کے سوا تمہارا کوئی حامی مددگار نہیں (ہو سکتا) اور منجملہ اس کی (قدرت کی) نشانیوں کے جہاز میں سمندر میں (ایسے اونچے) جیسے پہاڑ (مراد یہ ہے کہ ان کا سمندر میں چلنا دلیل ہے حق تعالیٰ کی عجیب صناعی کی ورنہ) اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ (جہاز) سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں (یہ اسی کا کام ہے کہ ہوا کو چلاتا ہے اور اس سے وہ جہاز چلتے ہیں) بیشک اس میں (قدرت پر دلالت کرنے والی) نشانیاں ہیں ہر صابر و شاکر (یعنی مومن) کے لئے (اس کی تشریح سورة لقمان کے آخری رکوع میں اسی قسم کے جملہ کے تحت گزر چکی۔ غرض اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر کے جہازوں کو کھڑا کر دے) یا (اگر وہ چاہے زور کی ہوا چلا کر) ان جہازوں (کے سواروں) کو ان کے اعمال (بد کفر وغیرہ) کے سبب تباہ کر دے اور (ان میں) بہت سے آدمیوں میں سے درگزر کر جاوے (یعنی اس وقت غرق نہ ہوں، گو آخرت میں سزا یاب ہوں) اور (اس تباہی کے وقت) ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں معلوم ہوجاوے کہ (اب) ان کے لئے کہیں بچاؤ (کی صورت) نہیں (کیونکہ ایسے اوقات میں وہ بھی اپنے مزعومہ شرکاء کو عاجز سمجھتے تھے)۔ معارف و مسائل ربط اور شان نزول ان آیات میں باری تعالیٰ نے عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے لئے اپنی اس حکمت بالغہ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جس کے ذریعہ اس نے کائنات کو ایک مستحکم نظام میں جکڑا ہوا ہے، اور مقصد یہ ہے کہ کائنات کا یہ مستحکم نظام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کوئی حکیم وخبیر ذات اسے چلا رہی ہے۔ اس مضمون کی ابتدا باری تعالیٰ نے اپنے اس نظام معیشت کی طرف اشارہ فرما کر کی ہے جو اس نے اپنی حکمت سے دنیا میں جاری فرمایا ہے۔ اور یہ مضمون پچھلی آیات سے اس طرح مربوط ہے کہ گزشتہ آیتوں میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی عبادت کو قبول فرماتا ہے جس میں ان کی دعاؤں کی قبولیت بھی داخل ہے۔ اب یہاں یہ اشکال ہوسکتا تھا کہ یہ بات بکثرت مشاہدہ میں آتی ہے کہ مسلمان اپنے کسی دنیوی مقصد کے لئے دعا کرتا ہے، لیکن وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اس اشکال کا جواب مذکورہ بالا آیات میں سب سے پہلی آیت میں دیا گیا ہے۔ اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی ہر خواہش کا پورا ہونا بعض اوقات خود انسان کی انفرادی یا اجتماعی مصلحت کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی وقت کسی انسان کی کوئی دعا بظاہر قبول نہ ہو تو اس کے پیچھے کائنات کی وہ عظیم مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں اس کے علیم و حکیم خالق کے سوا کوئی نہیں جانتا، اگر دنیا کے ہر انسان کو ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی نعمتیں عطا کردی جائیں تو دنیا کا یہ نظام حکمت کے ساتھ چل ہی نہیں سکتا۔ (تفسیر کبیر) چنانچہ بعض روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ آیت مومنین کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کافروں کی مال و دولت دیکھ کر تمنا کیا کرتے تھے کہ یہ وسعت و فراخی ہمیں بھی حاصل ہوجائے۔ امام بغوی نے حضرت خباب بن ارت کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم نے بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع کے مال و دولت کو دیکھا تو ہمارے دلوں میں بھی مالداری کی تمنا پیدا ہوئی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت عمرو بن حریث فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ میں سے بعض حضرات نے آنحضرت محمد ﷺ کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مالدار بنا دے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی وغیرہ) دنیا میں دولت کی عام فراوانی فساد کا سبب ہے بہر کیف آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے ہر فرد پر ہر قسم کے رزق اور ہر قسم کی نعمت کی فراوانی کردی جاتی تو انسانوں کا ایک دوسرے کے خلاف بغی و فساد حد سے بڑھ جاتا۔ اس لئے کہ دولت کی فراوانی کی وجہ سے نہ کوئی کسی کا محتاج ہوتا اور نہ کوئی کسی سے دبتا، دوسری طرف دولت مندی کی ایک خاصیت یہ ہے کہ جتنی دولت بڑھتی ہے، اتنا ہی حرص و ہوس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک دوسرے کی املاک پر قبضہ جمانے کے لئے زور و زبردستی کا استعمال عام ہوجاتا، لڑائی جھگڑے، سرکشی اور دوسری بد اعمالیاں حد سے زیادہ بڑھ جاتیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کو ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی نعمت دینے کے بجائے ان نعمتوں کو اپنے بندوں پر اس طرح تقسیم کیا ہے کہ کسی کے پاس مال و دولت زیادہ ہے، کوئی صحت و قوت میں دوسرے سے بڑھا ہوا ہے۔ کوئی حسن و جمال سے مالا مال ہے، کسی کے پاس علم و حکمت کی دولت دوسروں سے زیادہ ہے۔ غرض ہر شخص کسی نہ کسی چیز کے لئے دوسروں کا محتاج ہے، اور اسی باہمی احتیاج پر تمدن کی عمارت قائم ہے۔ (آیت) وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاۗءُ ۭ کا مطلب یہی ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی نعمتیں ایک خاص اندازے سے دنیا کے لوگوں پر نازل کی ہیں اور آگے اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ۔ (بلاشبہ وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے) فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کس شخص کے لئے کون سی نعمت مناسب ہے اور کون سی نقصان دہ ؟ لہٰذا اس نے ہر شخص کو مناسب نعمتیں دی ہیں اور اگر کسی سے کوئی نعمت سلب فرمائی ہے تو وہ اس کی اور پورے عالم کی مصلحت ہی کی بنا پر سلب کی ہے۔ اور یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ ہر ہر فرد کے بارے میں یہ مصلحت ہماری سمجھ میں بھی آجائے، کیونکہ یہاں ہر انسان اپنی معلومات کے ایک محدود دائرے میں رہ کر سوچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پوری کائنات کی مصلحتیں ہیں، اس لئے اس کی تمام حکمتوں تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ اس کی ایک محسوس نظیر یہ ہے کہ ایک دیانتدار سربراہ مملکت بسا اوقات ایسے احکام جاری کرتا ہے جو بعض افراد کے خلاف پڑتے ہیں اور وہ ان کی وجہ سے مصائب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اس طرح مصائب کا شکار ہوا ہے، وہ چونکہ صرف اپنے مفاد کے محدود دائرہ میں رہ کر سوچ رہا ہے، اس لئے ممکن ہے کہ اسے سربراہ مملکت کا یہ اقدام برا محسوس ہو، لیکن جس شخص کی نگاہ پورے ملک وقوم کے حالات پر ہے اور جو یہ سمجھتا ہے کہ کسی ایک شخص کے مفاد پر پورے ملک کو قربان نہیں کیا جاسکتا، وہ اس اقدام کو برا خیال نہیں کرتا، اب جو ذات پوری کائنات کا نظام چلا رہی ہے اس کی حکمتوں کا احاطہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ اگر یہ نکتہ ذہن میں رہے تو وہ اوہام اور وسوسے خودبخود کافور ہو سکتے ہیں جو دنیا میں کسی شخص کو گرفتار مصائب دیکھ کر پیدا ہوتے ہیں۔ اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کا مال و دولت میں مساوی ہونا ناممکن ہے، نہ مطلوب اور نہ نظام عالم کی تکوینی مصلحتیں اس کا تقاضا کرتی ہیں۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورة زخرف کی (آیت) نحن قسمنا بینھم معیشھم الخ کے تحت آئے گی۔ جنت اور دنیا کا فرق یہاں یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ جنت میں تو تمام انسانوں پر ہر قسم کی نعمتوں کی فراوانی کردی جائے گی، وہاں یہ چیز فساد کا سبب کیوں نہیں ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں فساد کا سبب مال و دولت کی فراوانی کے ساتھ حرص و ہوس کے وہ جذبات ہیں جو دولت مندی کے ساتھ ساتھ عموماً بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ اس کے برخلاف جنت میں نعمتوں کی عام بارش تو ہوگی لیکن حرص و ہوس اور سرکشی کے یہ جذبات ختم کردیئے جائیں گے چناچہ وہاں یہ فساد رونما نہیں ہوگا۔ حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ نے خلاصہ تفسیر میں ”بحالات موجودہ“ کے الفاظ اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے بڑھائے ہیں (بیان القرآن) اب یہاں یہ اعتراض قطعی فضول ہے کہ دنیا میں بھی مال و دولت کی فراوانی کر کے حرص و ہوس کے جذبات کیوں نہ ختم کردیئے گئے ؟ کیونکہ دنیا کی تخلیق کا مقصد ہی ایک ایسا جہان پیدا کرنا ہے جو خیر و شر دونوں قوتوں سے مرکب ہو۔ اس کے بغیر انسانوں کی وہ آزمائش ممکن ہی نہیں ہے جو تخلیق عالم کا اصل منشا ہے۔ لہٰذا اگر یہاں انسانوں میں سے یہ جذبات ختم کردیئے جاتے تو دنیا کی پیدائش کا مقصد اصلی ہی فوت ہوجاتا۔ اس کے بر خلاف جنت خالص خیر پر مشتمل ہوگی، اس لئے وہاں یہ جذبات ختم کردیئے جائیں گے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اتارتا ہے مینہہ بعد اس کے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق

(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا۔ اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے) یوں تو اللہ تعالیٰ کی عام عادت ہے کہ جب زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، بارش برسا دیتے ہیں۔ لیکن یہاں ”نا امید ہوجانے کے بعد“ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ کبھی کبھی باری تعالیٰ مینہ برسانے میں عام عادت کے خلاف اتنی تاخیر کردیتے ہیں جس سے لوگ ناامید ہونے لگیں۔ اس سے آزمائش کے علاوہ اس بات پر تنبیہ مقصود ہوتی ہے کہ بارش اور قحط سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے، وہ جب چاہتا ہے لوگوں کی بداعمالیوں وغیرہ کی بنا پر بارش روک لیتا ہے تاکہ لوگ اس کی رحمت کی طرف متوجہ ہو کر اس کے سامنے عجز و نیاز کا مظاہرہ کریں۔ ورنہ اگر بارش کا بھی کوئی لگا بندھا وقت ہوتا جس سے کبھی سرمو انحراف نہ ہو تو لوگ اسے خالصتاً ظاہری اسباب کے تابع سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بےتوجہ ہوجاتے اور یہاں ”نا امید“ ہونے سے مراد اپنی تدبیروں سے ناامید ہونا ہے، ورنہ اللہ کی رحمت سے مایوسی تو کفر ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور ایک اس کی نشانی ہے بنانا آسمانوں کا اور زمین کا اور جس قدر بکھیرے ہیں ان میں جانور اور وہ جب چاہے ان سب کو اکٹھا کرسکتا ہے

وَمَا بَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ۭ۔ دابة اصل لغت میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے اختیار سے چلنے اور حرکت کرنے والی ہو، بعد میں یہ لفظ صرف جانوروں کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ اس آیت میں آسمان اور زمین دونوں کی طرف نسبت کر کے یہ کہا گیا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چلنے والی مخلوقات پیدا کی ہیں۔ زمین پر چلنے والی مخلوقات تو ظاہر ہیں، آسمان میں ان سے مراد ملائکہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں میں کچھ ایسے جانور موجود ہوں جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آسکے۔ بہرکیف، مقصد یہ ہے کہ گو نظام عالم کی مصلحت ہے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مال و دولت میں وسعت عطا نہیں کی، بلکہ ایک حکیمانہ انداز سے رزق کی تقسیم فرمائی ہے، لیکن کائنات کی جو نعمتیں عمومی فائدے کی ہیں، ان سے ہر شخص کو بہرہ اندوز کیا ہے۔ بارش، بادل، زمین، آسمان اور ان کی مخلوقات سب انسانوں کے فائدے کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور یہ سب چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کے بعد کسی شخص کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے اپنے اعمال سے پہنچتی ہے۔ لہٰذا اسے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں منہ ڈالنا چاہئے۔
Ayahs 42:30–35

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کھایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم تھکا دینے والے نہیں بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوائے کام بنانے والا اور نہ مددگار

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور ایک اس کی نشانی ہے کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں جیسے پہاڑ

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر چاہے تھام دے ہوا کو پھر رہیں سارے دن ٹھہرے ہوئے اس کی پیٹھ پر مقرر اس بات میں پتے ہیں ہر قائم رہنے والے کو جو احسان مانے

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا تباہ کر دے ان کو یہ سبب ان کی کمائی کے اور معاف بھی کرے بہتوں کو

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری قدرتوں میں کہ نہیں ان کے لئے بھاگنے کی جگہ۔

(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی کسی گناہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ آدمی سے کوئی ایک گناہ سرزد ہوگیا تو وہ سبب بن جاتا ہے دوسرے گناہوں میں مبتلا ہونے کا، جیسا کہ حافظ ابن قیم نے الدواء الشافی میں لکھا ہے کہ گناہ کی ایک نقد سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اسی طرح نیکی کی ایک نقد جزاء یہ ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچ لاتی ہے۔ بیضاوی نے فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا، ان کو جو تکلیف و مصیبت پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں۔ اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً رفع درجات اور درحقیقت ان کی حکمتوں کا احاطہ انسان نہیں کرسکتا۔ واللہ اعلم۔ فائدہ بعض روایات حدیث سے ثابت ہے کہ جن گناہوں پر کوئی سزا دنیا میں دے دی جاتی ہے مومن کے لئے اس سے آخرت میں معافی ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں اور بغوی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ (مظہری)
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو جو کچھ ملا ہے تم کو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

خلاصہ تفسیر (اور تم اوپر سن چکے ہو کہ طالب دنیا کی ہر دنیوی تمنا پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہتا ہے اور طالب آخرت کو ترقی ہوتی ہے۔ نیز سن چکے ہو کہ زیادہ متاع دنیا کا انجام اچھا نہیں، اکثر اس سے اعمال مضرہ پیدا ہوتے ہیں) سو (اس سے ثابت ہوا کہ مطلوب بنانے کے قابل دنیا نہیں، بلکہ آخرت ہے، اور باقی دنیا کی چیزوں میں سے) جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے (وہ محض چند روزہ) دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے (کہ عمر کے خاتمہ کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور جو (اجر وثواب آخرت میں) اللہ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے (کیفیت کے اعتبار سے بھی) بہتر ہے اور (کمیت کے لحاظ سے بھی) زیادہ پائیدار (یعنی ہمیشہ رہنے والا ہے، پس دنیا کی طلب چھوڑ کر آخرت کی طلب کرو، مگر آخرت کے حصول کے لئے کم سے کم شرط تو ایمان لانا اور کفر کو چھوڑنا ہے، اور آخرت کے مکمل درجات کے لئے تمام واجبات و فرائض کو اختیار کرنا اور تمام گناہوں کو چھوڑنا ضروری ہے۔ اور تقرب کے درجات حاصل کرنے کے لئے نفلی طاعات کو اختیار کرنا اور خلاف اولیٰ مباحات کو ترک کرنا بھی محبوب ہے، چنانچہ) وہ (ثواب جس کی تفصیل اوپر گزری) ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لے آئے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں اور جو کبیرہ گناہوں سے اور (ان میں) بےحیائی کی باتوں سے (بالخصوص زیادہ) بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور وہ نماز کے پابند ہیں اور ان کا ہر (اہم) کام (جس میں اللہ کی طرف سے کوئی معین حکم نہ ہو) آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو ایسے (منصف) ہیں کہ جب ان پر (کسی طرف سے کچھ) ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (اگر بدلہ لیتے ہیں تو) برابر کا بدلہ لیتے ہیں (زیادتی نہیں کرتے، اور یہ مطلب نہیں کہ معاف نہیں کرتے) اور (برابر کا بدلہ لینے کے لئے ہم نے یہ اجازت دے رکھی ہے کہ) برائی کا بدلہ برائی ہے ویسی ہی (بشرطیکہ وہ فعل بذات خود گناہ نہ ہو) پھر (انتقام کی اجازت کے باوجود) جو شخص معاف کر دے اور (باہمی معاملہ کی) اصلاح کرلے (جس سے عداوت جاتی رہے اور درستی ہوجاوے) تو اس کا ثواب (حسب وعدہ) اللہ کے ذمہ ہے (اور جو بدلہ لینے میں زیادتی کرنے لگے تو یہ سن رکھے کہ) واقعی اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور جو (زیادتی نہ کرے بلکہ) اپنے اوپر ظلم ہو چکنے کے بعد برابر کا بدلہ لے لے، سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں، الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں (خواہ ابتداً یا انتقام کے وقت) اور ناحق دنیا میں سرکشی اور (تکبر) کرتے (پھرتے) ہیں (اور یہی تکبر ظلم کا سبب ہوجاتا ہے۔ اور ناحق اس لئے کہا کہ سرکشی اور تکبر ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے۔ آگے اس الزام کا بیان ہے کہ) ایسوں کے لئے دردناک عذاب (مقرر) ہے اور جو شخص (دوسرے کے ظلم پر) صبر کرے اور معاف کر دے، یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے (یعنی ایسا کرنا بہتر اور اولوالعزمی کا تقاضا ہے) معارف و مسائل آیات مذکورہ میں دنیا کی نعمتوں کا ناقص ہونا اور فانی ہونا اور اس کے مقابل آخرت کی نعمتوں کا کامل بھی ہونا اور دائمی ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لئے سب سے اہم اور بڑی شرط تو ایمان ہے کہ اس کے بغیر وہ نعمتیں وہاں کسی کو نہ ملیں گی۔ لیکن ایمان کے ساتھ اگر اعمال صالحہ کا بھی پورا اہتمام کرلیا تو آخرت کی یہ نعمتیں اول ہی مل جائیں گی۔ ورنہ اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کی سزا بھگتنے کے بعد ملیں گی۔ اس لئے آیات مذکورہ میں سب سے پہلی شرط تو الذین امنوا بیان فرمائی۔ اس کے بعد خاص خاص اعمال کا ذکر فرمایا گیا جن کے بغیر ضابطہ کے مطابق آخرت کی نعمتیں شروع سے نہ ملیں گی بلکہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد ملیں گی۔ اور ضابطہ کے مطابق اس لئے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو سب گناہوں کو معاف فرما کر اول ہی آخرت کی نعمتیں بڑے سے بڑے فاسق کو دے سکتے ہیں وہ کسی قانون کے پابند نہیں۔ اب وہ اعمال وصفات دیکھئے جن کی اس جگہ اہمیت سے ذکر فرمایا ہے۔ پہلی صفت (آیت) وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔ یعنی ہر کام اور ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، اس کے سوا کسی کو حقیقی کار ساز نہ سمجھیں۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کردیتے ہیں

دوسری صفت، (آیت) وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ۔ یعنی جو کبیرہ گناہوں سے خصوصاً بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ اس کی تفصیل سورة نساء وغیرہ میں پہلے بیان ہوچکی اور احقر نے ایک مختصر سے رسالہ میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی پوری فہرست بھی لکھ دی ہے۔ جو گناہ بےلذت کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سبھی گناہ داخل تھے، ان میں سے فواحش کو الگ کر کے بیان فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ فواحش کا گناہ عام کبیرہ گناہوں سے زیادہ سخت بھی ہے اور وہ ایک مرض متعدف ہوتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں فواحش کا لفظ ان کاموں کے لئے بولا جاتا ہے جن میں بےحیائی ہو جیسے زنا اور اس کے مقدمات۔ نیز وہ اعمال بد جو ڈھٹائی کے ساتھ علانیہ کئے جاویں وہ بھی فواحش کہلاتے ہیں کہ ان کا وبال بھی نہایت شدید اور پورے انسانی معاشرہ کو خراب کرنے والا ہے۔ تیسری صفت (آیت) وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ۔ یعنی وہ جب غصہ میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ یہ حسن اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ کیونکہ کسی کی محبت یا کسی پر غصہ یہ دونوں چیزیں جب غالب آتی ہیں تو اچھے بھلے عاقل فاضل آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہیں۔ وہ جائز، ناجائز، حق و باطل اور اپنے کئے کے نتائج پر غور کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جس پر غصہ آتا ہے اس کی کوشش یہ ہونے لگتی ہے کہ مقدور بھر اس پر غصہ اتارا جائے۔ مومنین و صالحین کی اللہ تعالیٰ نے یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ غصے کے وقت حق و ناحق کی حدود پر قائم رہیں بلکہ اپنا حق ہوتے ہوئے بھی معاف کردیتے ہیں۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں

چوتھی صفت وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠۔ استجابت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملے اس کو فوراً بےچون و چرا اور بےتامل قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجائے وہ اپنی طبیعت کے مطابق ہو یا مخالف، ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ اس میں اسلام کے تمام فرائض کی ادائیگی اور تمام محرمات و مکروہات سے بچنے کی پابندی شامل ہے مگر فرائض میں چونکہ نماز سب سے اہم فرض ہے۔ اور اس میں یہ خاصہ بھی ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دوسرے فرائض کی پابندی اور ممنوع چیزوں سے بچنے کی توفیق بھی ہوجاتی ہے اس لئے اس کو ممتاز کر کے فرما دیا، واقاموا الصلوٰة یعنی یہ لوگ نماز کو اس کے تمام واجبات اور آداب کے ساتھ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔ پانچویں صفت وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠۔ یعنی ان کے کام آپس میں مشورہ سے طے ہوتے ہیں۔ شوریٰ بروزن بشریٰ مصدر ہے۔ تقدیر عبارت ذو شوریٰ ہے۔ مراد یہ ہے کہ مہمات امور جن میں شریعت نے کوئی خاص حکم متعین نہیں کردیا ہے ان کو طے کرنے میں یہ باہمی مشورہ سے کام لیتے ہیں۔ مہمات امور کی قید خود لفظ امر سے مستفادہ ہے۔ کیونکہ عرف میں امر ایسے ہی کاموں کے لئے بولا جاتا ہے جن کی اہمیت ہو۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی (آیت) وشاور ھم فی الامر کے تحت تفصیل گزر چکی ہے اس میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ مہمان امور میں امور مملکت و حکومت بھی داخل ہیں اور عام معاملات مہمہ بھی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مہمات مملکت میں مشورہ لینا واجب ہے۔ اسلام میں امیر کا انتخاب بھی مشورہ پر موقوف کر کے زمانہ جاہلیت کی شخصی بادشاہتوں کو ختم کیا ہے۔ جنہیں ریاست بطور وراثت کے ملتی تھی۔ اسلام نے سب سے پہلے اس کو ختم کر کے حقیقی جمہوریت کی بنیاد ڈالی مگر مغربی جمہوریت کی طرح عوام کو ہر طرح کے اختیارات نہیں رہتے، اہل شوریٰ پر کچھ پابندیاں عائد فرمائی ہیں۔ اس طرح اسلام کا نظام حکومت شخصی بادشاہت اور مغربی جمہوریت دونوں سے الگ ایک نہایت معتدل دستور ہے۔ اس کی تفصیل معارف القرآن جلد دوم 512 سے ص 222 تک میں ملاحظہ فرماویں۔ امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے مشورہ کی اہمیت واضح ہوگئی اور یہ کہ ہم اس پر مامور ہیں کہ ایسے مشورہ طلب اہم کاموں میں جلد بازی اور خودرائی سے کام نہ کریں۔ اہل عقل و بصیرت سے مشورہ لے کر قدم اٹھائیں۔ مشورہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ خطیب بغدادی نے حضرت علی مرتضیٰ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے، جس میں قرآن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور آپ سے بھی اس کا کوئی حکم ہمیں نہیں ملا تو ہم کیسے عمل کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس کے لے میری امت کے عبادت گزاروں کو جمع کرلو اور آپس میں مشورہ کر کے طے کرلو۔ کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ اس روایت کے بعض الفاظ میں فقہاء و عابدین کا لفظ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ مشورہ ان لوگوں سے لینا چاہئے جو فقہاء یعنی دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور عبادت گزار ہوں۔ صاحب روح المعانی نے فرمایا کہ جو مشورہ اس طریق پر نہیں بلکہ بےعلم بےدین لوگوں میں دائر ہو اس کا فساد اس کی اصلاح پر غالب رہے گا۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کام کا ارادہ کیا اور اس میں مشورہ لے کر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ارشد امور کی طرف ہدایت فرما دے گا۔ یعنی اس کا رخ اس طرف پھیر دے گا جو اس کے لئے انجام کار خیر اور بہتر ہو۔ اسی طرح کی ایک حدیث بخاری نے الادب المفرد میں اور عبد بن حمید نے مسند میں حضرت حسن سے بھی نقل کی ہے۔ جس میں آپ نے آیت مذکورہ پڑھ کر یہ فرمایا ہے۔ ماتشاور قوم قط الاھدوا لارشد امرھم۔ جب کوئی قوم مشورہ سے کام کرتی ہے تو ضرور ان کو صحیح راستہ کی طرف ہدایت کردی جاتی ہے۔ حدیث ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تمہارے امراء اور حکام وہ لوگ ہوں جو تم میں بہتر ہیں اور تمہارے مالدار لوگ سخی ہوں (کہ اللہ کی راہ میں اور غرباء پر خرچ کریں) اور تمہارے کام باہمی مشورہ سے طے ہوا کریں۔ اس وقت تک تمہارے لئے زمین کے اوپر رہنا یعنی زندہ رہنا بہتر ہے اور جب تمہارے امراء و حکام تمہاری قوم کے برے لوگ ہوجاویں اور تمہارے مالدار بخیل ہوجاویں اور تمہارے کام عورتوں کے سپرد ہوجاویں کہ وہ جس طرح چاہیں کریں۔ اس وقت تمہارے لئے زمین کی پیٹھ کی بجائے زمین کا پیٹ بہتر ہوگا یعنی زندگی سے موت بہتر ہوگی۔ (روح المعانی) چھٹی صفت (آیت) وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَیعنی وہ لوگ اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ جس میں زکوٰة، فرض اور نفلی صدقات سب شامل ہیں۔ عام اسلوب قرآن کے مطابق زکوٰة و صدقات کا ذکر نماز کے متصل آنا چاہئے تھا، یہاں نماز کے ذکر کے بعد مشورہ کا مسئلہ پہلے بیان کر کے پھر زکوٰة کا بیان آیا۔ اس میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ اقامت نماز کے لئے مساجد میں پانچ وقت اجتماع ہوتا ہے۔ اس اجتماع سے مشورہ طلب امور میں مشورہ لینے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ (روح المعانی)
Ayahs 42:39–43

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہو وے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ ہے برائی ویسی ہی پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمے بیشک اس کو پسند نہیں آتے گنہگار

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی بدلہ لے اپنے مظلوم ہونے کے بعد سو ان پر بھی نہیں کچھ الزام

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں ناحق ان لوگوں کے لئے ہے عذاب درد ناک

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے سہا اور معاف کیا بیشک یہ کام ہمت کے ہیں۔

ساتویں صفت (آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَ آ یعنی برائی کی جزا اس کی برابر برائی کرنا ہے۔ یعنی جتنا نقصان مالی یا جسمانی کسی نے تمہیں پہنچایا ہے ٹھیک اتنا ہی تم پہنچا دو۔ جیسی برائی اس نے تمہارے ساتھ کی ہے ویسی ہی تم کرلو مگر اس میں یہ شرط ہے کہ وہ برائی فی نفسہ گناہ نہ ہو۔ مثلاً کسی شخص نے اس کو جبراً شراب پلا دی تو اس کے جواب میں اس کے لئے جائز نہ ہوگا کہ وہ اس کو زبردستی شراب پلا دے۔ اس آیت میں اگرچہ برابر کا بدلہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے مگر آگے یہ بھی فرما دیا کہ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جو معاف کر دے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ جس میں یہ ہدایت کردی کہ معاف کردینا افضل ہے۔ اس کے بعد دو آیتوں میں اسی کی مزید تفصیل آئی ہے۔ عفو و انتقام میں معتدل فیصلہ حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ سلف صالحین یہ پسند نہ کرتے تھے کہ مومنین اپنے آپ کو فساق فجار کے سامنے ذلیل کریں اور ان کی جرأت بڑھ جائے۔ اس لئے جہاں یہ خطرہ ہو کہ معاف کرنے سے فساق فجار کی جرأت بڑھے گی وہ اور نیک لوگوں کو ستائیں گے وہاں انتقام لے لینا بہتر ہوگا اور معافی کا افضل ہونا اس صورت میں ہے جبکہ ظلم کرنے والا اپنے فعل پر نادم ہو اور ظلم پر اس کی جرأت بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہو۔ قاضی ابوبکر ابن عربی نے احکام القرآن میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے کہ عفو و انتقام کے دونوں حکم مختلف حالات کے اعتبار سے ہیں۔ جو ظلم کرنے کے بعد شرمندہ ہوجائے اس سے عفو افضل ہے اور جو اپنی ضد اور ظلم پر اصرار کر رہا ہو اس سے انتقام لینا افضل ہے۔ اور حضرت اشرف المشائخ نے بیان القرآن میں اس کو اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں مومنین، مخلصین اور صالحین کی دو خصوصیتیں ذکر فرمائی ہیں۔ ھم یغفرون۔ میں تو یہ بتلایا کہ یہ غصہ میں مغلوب نہیں ہوتے بلکہ رحم و کرم ان کے مزاج میں غالب رہتا ہے معاف کردیتے ہیں۔ اور ھم ینتصرون میں یہ بتلایا کہ یہ بھی انہیں صالحین کی خصوصیت ہے کہ اگر کبھی ظلم کا بدلہ لینے کا داعیہ ان کے دل میں پیدا بھی ہو اور بدلہ لینے لگیں تو اس میں حق سے تجاوز نہیں کرتے، اگرچہ معاف کردینا ان کے لئے افضل ہے۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو راہ نہ سمجھائے اللہ تو کوئی نہیں اس کا کام بنانے والا اس کے سوا اور تو دیکھے گنہگاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھرجانے کی بھی ہوگی کوئی راہ

خلاصہ تفسیر (یہ حال تو اہل ہدایت کا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ہدایت اور آخرت میں ثواب سے مشرف ہوئے) اور (آگے اہل ضلالت کا حال سنو، وہ یہ ہے کہ) جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کے بعد اس شخص کا (دنیا میں بھی) کوئی چارہ ساز نہیں (کہ اس کو راہ پر لے آوے) اور (قیامت میں بھی برا حال ہوگا، چناچہ اس روز) آپ (ان) ظالموں کو دیکھیں گے کہ جس وقت ان کے عذاب کا معائنہ ہوگا کہ (نہایت حسرت) سے کہتے ہوں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت (ہو سکتی) ہے، (تا کہ پھر اچھے عمل کر کے آئیں) اور (نیز) آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں گے کہ وہ دوزخ کے رو برو لائے جاویں گے، مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے (اور وہ اس کو) سست (سست) نگاہ سے دیکھتے ہوں گے (جیسے خوف زدہ آدمی دیکھا کرتا ہے، اور ایک دوسری آیت میں جو نابینا ہونے کی خبر دی ہے وہ حشر کے وقت ہے اور یہ اس کے بعد کا واقعہ ہے، چناچہ وہاں لفظ نحشرہ کی تصریح ہے) اور (اس وقت) ایمان والے (اپنے بچنے پر شکر کرنے کے لئے اور ان پر ملامت کرنے کے لئے) کہیں گے کہ پورے خسارے والے وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے (آج) قیامت کے روز خسارہ میں پڑے (اس کی تفسیر سورة زمر کے دوسرے رکوع میں گزر چکی ہے) یاد رکھو کہ ظالم (یعنی مشرک و کافر) لوگ عذاب دائمی میں (گرفتار) رہیں گے اور (وہاں) ان کے کوئی مددگار نہ ہوں گے جو خدا سے الگ (ہو کر) ان کی مدد کریں اور جس کو خدا گمراہ کر دے اس کی (نجات) کے لئے کوئی رستہ ہی نہیں، (یعنی نہ معذرت، نہ کسی کی مدد نہ اور کچھ۔ آگے کافروں سے خطاب ہے کہ اے لوگو جب تم نے قیامت کے یہ ہولناک حالات سن لئے تو) تم اپنے رب کا حکم (ایمان وغیرہ کا) مان لو قبل اس کے کہ ایسا دن آپہنچے جس کے لئے خدا کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا (یعنی جس طرح دنیا میں عذاب ہٹتا جاتا ہے، آخرت میں ایسی کوئی صورت نہ ہوگی) نہ تم کو اس روز کوئی (اور) پناہ ملے گی اور نہ تمہارے بارے میں کوئی (خدا سے) روک ٹوک کرنے والا ہے (کہ اتنا ہی پوچھ لے کہ ان کا یہ حال کیوں بنایا گیا اور اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کو یہ سنا دیجئے) پھر اگر یہ لوگ (یہ سن کر بھی) اعراض کریں (اور ایمان نہ لائیں) تو (آپ فکر اور غم میں نہ پڑیں، کیونکہ) ہم نے آپ کو ان پر نگران کر کے نہیں بھیجا (جس سے باز پرس کا احتمال ہو کہ آپ کی نگرانی میں ان سے یہ امور کیوں صادر ہوئے، بلکہ) آپ کے ذمہ تو صرف (حکم کا) پہنچا دینا ہے (جس کو آپ کر رہے ہیں، پھر آپ اس سے زیادہ فکر کیوں کریں) اور (ان کے حق سے اعراض کرنے کا سبب تعلق مع اللہ کی کمزوری ہے، جس کی علامت یہ ہے کہ) ہم جب (اس قسم کے) آدمی کو کچھ اپنی عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر (اترا کر) خوش ہوجاتا ہے (اور منعم پر نگاہ کر کے شکر نہیں کرتا) اور اگر (ایسے) لوگوں پر ان کے (ان) اعمال (بد) کے بدلے میں جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو (ایسا) آدمی ناشکری کرنے لگتا ہے (اور ایسا نہیں کرتا کہ گناہوں سے توبہ و استغفار کر کے عبادت و اطاعت کے ذریعہ اللہ کی طرف رجوع ہو، اور یہ دونوں حالتیں اس بات کی علامت ہیں کہ اس کا تعلق اپنی نفسانی لذتوں کے ساتھ زیادہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معدوم یا کمزور ہے اور اسی سے وہ کفر میں مبتلا ہوا ہے۔ اور چونکہ یہ حالت ان لوگوں کی طبیعت ثانیہ بن گئی ہے۔ اس لئے ان سے آپ ایمان کی توقع ہی کیوں رکھیں جو موجب غم ہو۔ آگے پھر توحید کا بیان ہے کہ) اللہ ہی کی ہے (سب) سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (چنانچہ) جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو (جس کے لئے چاہے) جمع کردیتا ہے (کہ) بیٹے بھی (دیتا ہے) اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بےاولاد رکھتا ہے، بیشک وہ بڑا جاننے والا بڑی قدرت والا ہے۔
Ayahs 42:45–50

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو دیکھے ان کو کہ سامنے لائے جائیں آگ کے آنکھیں جھکائے ہوئے ذلت سے دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے اور کہیں وہ لوگ جو ایمان دار تھے مقرر ٹوٹے والے وہی ہیں جنہوں نے گنوایا اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن سنتا ہے گنہگار پڑے ہیں سدا کے عذاب میں

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور کوئی نہ ہوئے ان کے حمایتی جو مدد کرتے ان کی اللہ کے سوائے اور جس کو بھٹکائے اللہ اس کے لئے کہیں نہیں راہ

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

مانو اپنے رب کا حکم اس سے پہلے کہ آئے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کے یہاں سے نہیں ملے گا تم کو بچاؤ اس دن اور نہ ملے گا الوپ ہو جانا

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر نگہبان تیرا ذمہ تو بس یہی ہے پہنچا دینا اور ہم جب چکھاتے ہیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت اس پر پھولا نہیں سماتا اور اگر پہنچتی ہے ان کو کچھ برائی بدلے میں اپنی کمائی کے تو انسان بڑا ناشکرا ہے

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا۔

معارف و مسائل آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔ آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا مشاہدہ ہوتا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں، ان کو بیان کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمانے کے بعد ایک ضابطہ قدرت بیان فرمایا کہ (آیت) يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ۔ یعنی اس کو ہر بڑی چھوٹی چیز کے بنانے پر پوری قدرت ہے وہ جب چاہے جو چاہے پیدا کردیتا ہے۔ اسی سلسلہ میں تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا (آیت) يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ۔ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثً آ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمً آ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ یعنی انسان کی تخلیق میں کسی کے ارادہ و اختیار بلکہ علم و خبر کا بھی کوئی دخل نہیں اور کسی کا دخل تو کیا ہوتا، انسان کے ماں باپ جو اس کی تخلیق کا ظاہری سبب بنتے ہیں خود ان کے ارادے اور اختیار کا بھی بچہ کی تخلیق میں کوئی دخل نہیں۔ تخلیق میں دخل ہونا تو دور کی بات، بچہ کی ولادت سے پہلے ماں کو بھی کچھ خبر نہیں ہوتی کے اس کے پیٹ میں کیا، کیسا اور کس طرح بن رہا ہے۔ یہ صرف حق تعالیٰ کا کام ہے کہ کسی کو اولاد لڑکیاں دے دیتا ہے، کسی کو نرینہ اولاد لڑکے بخش دیتا ہے۔ کسی کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں عطا فرما دیتا ہے اور کسی کو بالکل بانجھ کردیتا ہے۔ کہ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ ان آیات میں بچوں کے اقسام بیان کرنے میں حق تعالیٰ نے پہلے لڑکیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ لڑکوں کا ذکر بعد میں کیا ہے۔ اسی آیت کے اشارہ سے حضرت واثلہ بن اسقع نے فرمایا کہ جس عورت کے بطن سے پہلے لڑکی پیدا ہو وہ مبارک ہوتی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچا دے اس کے حکم سے جو وہ چاہئے تحقیق وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والا

خلاصہ تفسیر اور کسی بشر (کی بحالت موجودہ) یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے، مگر (تین طریق سے) یا تو الہام سے (کہ قلب میں کوئی اچھی بات ڈال دے) یا حجاب کے باہر سے (کچھ کلام سنا دے جیسے موسیٰ ؑ نے سنا تھا) یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے، پیغام پہنچا دیتا ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ) وہ بڑا عالیشان ہے (اس سے جب تک وہ خود طاقت نہ دے کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا، مگر اس کے ساتھ) بڑی حکمت والا (بھی) ہے (اسی لئے بندوں کی مصلحت سے اس نے کلام کے تین مذکورہ طریقے مقرر فرما دیئے ہیں) اور (جس طرح بشر کے ساتھ ہمارے ہم کلام ہونے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے) اسی طرح (یعنی اس قاعدے کے مطابق) ہم نے آپ کے پاس (بھی) وحی یعنی اپنا حکم بھیجا ہے (اور آپ کو نبی بنایا ہے، اور یہ وحی ایسا ہدایت نامہ ہے کہ آپ کے بےمثل علوم میں اسی کی بدولت ترقی ہوئی، چناچہ اس سے پہلے) آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب (اللہ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا مکمل ترین درجہ جو اب حاصل ہے) کیا چیز ہے (گو نفس ایمان نبی کو نبوت سے پہلے بھی حاصل ہوتا ہے) لیکن ہم نے (آپ کو نبوت اور قرآن دیا اور) اس قرآن کو (آپ کے لئے اولاً اور دوسروں کے لئے ثانیاً) ایک نور بنایا (جس سے آپ کو یہ عظیم علوم اور بلند مرتبہ احوال حاصل ہوئے اور) جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں (پس اس کے نور عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اب جو اندھا ہی ہو وہ اس نور کے نفع سے محروم بلکہ اس کا منکر ہے، جیسے یہ معترضین) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ (اس قرآن اور وحی کے ذریعہ سے عام لوگوں کو) ایک سیدھے رستہ کی ہدایت کر رہے ہیں، یعنی اس خدا کے رستہ کی کہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (آگے ان احکام کے ماننے اور نہ ماننے والوں کی جزا و سزا کا ذکر ہے کہ) یاد رکھو سب امور اسی کی طرف رجوع ہوں گے (پس وہ سب پر جزا و سزا دے گا)۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت یہود کے ایک معاندانہ مطالبہ کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ بغوی اور قرطبی وغیرہ نے لکھا ہے کہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہم آپ پر کیسے ایمان لے آئیں جبکہ آپ نہ خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور نہ اس سے بالمشافہ کلام کرتے ہیں جیسا کہ موسیٰ ؑ کلام کرتے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بالمشافہ کلام کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں۔ خود حضرت موسیٰ ؑ نے بھی بالمشافہ کلام نہیں سنا بلکہ پس پردہ صرف آواز سنی۔ اس آیت میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ کسی بشر سے اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی صرف تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک وحیاً یعنی کسی مضمون کو قلب میں ڈال دینا۔ یہ جاگتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے اور نیند میں بصورت خواب بھی، جیسا کہ بہت سی احادیث میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، القی فی روعی۔ یعنی یہ بات میرے دل میں القاء کرگئی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ ان میں شیطانی تصرف نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں عموماً الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتے۔ صرف ایک مضمون قلب میں آتا ہے جس کو وہ اپنے الفاظ میں تعبیر کرتے ہیں۔ دوسری صورت (آیت) مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ ہے، یعنی جاگتے ہوئے کوئی کلام پس پردہ سنے جیسے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنا مگر زیارت نہیں ہوئی اس لئے زیارت کی درخواست کی (آیت) رب ارنی انظر الیک، جس کا جواب نفی میں دیا گیا، لن ترانی۔ اور یہ حجاب جو انسان کو دنیا میں حق تعالیٰ کی زیارت سے مانع ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو حق تعالیٰ کو چھپا سکے، کیونکہ اس کے نور محیط کی کوئی شے چھپا نہیں سکتی۔ بلکہ انسان کی قوت بینائی کا ضعف ہی اس کے لئے زیارت حق کے درمیان حجاب ہوتا ہے۔ اسی لئے جنت میں جبکہ اس کی بینائی قوی کردی جائے گی تو وہاں ہر جنتی حق تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوگا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ کی تصریح کے مطابق اہل سنت وا لجماعت کا مذہب ہے۔ یہ قانون جو آیت مذکورہ میں ارشاد ہے، دنیا کے متعلق ہے کہ دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے کلام مشافہتاً یعنی بےحجاب نہیں کرسکتا۔ اور انسان کی تخصیص کلام میں اس لئے ہے کہ گفتگو انسان ہی کے متعلق تھی۔ ورنہ ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں سے بھی اللہ تعالیٰ کا کلام بالمشافہتہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ترمذی کی روایت میں جبرائیل ؑ سے منقول ہے کہ میں بہت قریب ہوگیا تھا اور پھر بھی ستر ہزار حجاب رہ گئے تھے۔ اور شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کا حق تعالیٰ سے بالمشافہ کلام اگر ثابت ہوجائے جیسا کہ بعض علماء کا قول ہے تو وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ وہ کلام اس عالم میں نہیں تھا، عالم سموٰت میں تھا۔ واللہ اعلم۔ تیسری صورت اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا ہے۔ یعنی کسی فرشتہ جبرائیل وغیرہ کو اپنا کلام دے کر بھیجا جائے وہ رسول کو پڑھ کر سنا دے۔ اور یہی طریقہ عام ہے، قرآن مجید پورا اسی طرح بواسطہ ملائکہ نازل ہوا ہے۔ مذکورہ تفصیل میں لفظ وحی کو صرف القاء فی القلب کے معنی میں لیا گیا ہے مگر اکثر یہ لفظ تمام اقسام کلام ربانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث میں جو وحی آتی ہے اس کی بھی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی تو فرشتہ اپنی اصلی ہئیت میں ہوتا ہے کبھی بشکل انسانی سامنے آتا ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
Ayahs 42:52–53

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان لیکن ہم نے رکھی ہے یہ روشنی اس سے راہ سمجھا دیتے ہیں جس کو چاہیں اپنے بندوں میں اور بیشک سو سمجھاتا ہے سیدھی راہ

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

راہ اللہ کی اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں سنتا ہے اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام۔

(آیت) مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ الآیة۔ یہ آیت پہلی ہی آیت کے مضمون کا تکملہ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بالمشافہ کلام تو کسی کا نہ ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں پر اپنی وحی بھیجتے ہیں جس کے تین طریقے پہلی آیت میں بیان ہوئے۔ اسی سنت الٰہیہ کے مطابق آپ پر بھی وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہودیوں کا یہ مطالبہ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ کیوں مخاطب نہیں ہوتے محض جاہلانہ اور معاندانہ ہے۔ اس لئے یہ فرمایا کہ کسی انسان کو یہاں تک کہ کسی رسول کو جو کچھ بھی علم ملتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی ان کو یہ نہ بتلا دیں تو انہیں کسی کتاب کی واقفیت ہو سکتی ہے نہ تفصیلات ایمان کی کتاب کی واقفیت قبل وحی نہ ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ ایمان سے واقفیت نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ایمان کی تفصیلات اور شرائع ایمان یا ایمان کا اعلیٰ مقام جو بعد وحی حاصل ہوتا ہے، وحی سے پہلے اس کی واقفیت نہیں ہوتی۔ ورنہ باجماع امت یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو اپنا رسول و نبی بناتے ہیں اس کو ابتداء ہی سے ایمان پر پیدا فرماتے ہیں۔ ان کی فطرت ایمان پر مبنی ہوتی ہے۔ عطاء نبوت اور نزول وحی سے پہلے بھی وہ پکے مومن ہوتے ہیں۔ اصول ایمان ان کی فطرت و خلقت میں داخل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے جب ان کی قوموں نے مخالفت کی تو ان پر طرح طرح کے الزام لگائے مگر کسی پیغمبر پر کسی امت نے یہ الزام نہیں لگایا کہ تم بھی تو نبوت کے دعوے سے پہلے ہماری طرح بتوں کو پوجا کرتے تھے۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اور قاضی عیاض نے شفاء میں اس مضمون کو پوری تفصیل سے لکھا ہے۔