Ayah 41:1خلاصہ تفسیر
حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ کلام رحمن اور رحیم کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے یہ (کلام) ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں یعنی ایسا قرآن ہے جو عربی (زبان میں) ہے (تا کہ جو بلا واسطہ اس کے مخاطب ہیں، یعنی عرب لوگ وہ آسانی سے سمجھ لیں اور) ایسے لوگوں کے لئے (نافع) ہے جو دانش مند ہیں (یعنی اگرچہ مکلف اور مخاطب احکام کے سبھی ہیں مگر ان سے نفع وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ قرآن ایسے لوگوں کو) بشارت دینے والا ہے اور (نہ ماننے والوں کے لئے) ڈرانے والا ہے سو (اس کا تقاضا یہ تھا کہ سبھی اس پر ایمان لاتے مگر) اکثر لوگوں نے (اس سے) روگردانی کی پھر وہ سنتے ہی نہیں اور (جب آپ ان کو سناتے ہیں تو) وہ لوگ کہتے ہیں کہ جس بات کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہیں ہمارے دل میں اس سے پردوں میں ہیں (یعنی آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی) اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (لگ رہی) ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے سو آپ اپنا کام کئے جائیے۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں (یعنی ہم سے قبول کی امید نہ رکھئے ہم اپنے طریقہ کار کو نہ چھوڑیں گے) آپ فرما دیجئے کہ (تمہیں ایمان پر مجبور کردینا تو میرے بس کی بات نہیں، کیونکہ) میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں (خدا نہیں جو دلوں میں تصرف کرسکوں البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ امتیاز دیا ہے کہ) مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے اور (یہ وحی ایسی ہے کہ ہر شخص غور کرے تو اس کا حق و معقول ہونا اس کی سمجھ میں آسکتا ہے اور جب کہ میری نبوت اور وحی معجزات کے ذریعہ ثابت ہوچکی تو میری بات بہرحال ماننا سب پر فرض ہے، تمہارے قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ضرور قبول کرو) اور اس سے معافی مانگو (یعنی پچھلے اعمال شرکیہ سے توبہ کرو، اور اپنی خطاء کی معافی مانگو) اور ایسے مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو (دلائل نبوت کو دیکھنے اور دلائل توحید کو سننے کے باوجود باطل طریقہ کو نہیں چھوڑتے اور) زکوٰة نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں (ان کے برخلاف) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے (آخرت میں) ایسا اجر ہے جو (کبھی) موقوف ہونے والا نہیں۔
Ayah 41:2معارف و مسائل
یہ سات سورتیں جو حم سے شروع ہوئی ہیں جن کو آل حم یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ با ہم امتیاز کے لئے ان کے ساتھ نام میں کچھ اور الفاظ بھی شامل کئے جاتے ہیں۔ مثلاً سورة مومن کے حم کو حم المومن اور اس سورت کے حم کو حم السجدہ یا حم فصلت بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے یہ دونوں نام معروف ہیں حم فصلت اور حم السجدہ۔
اس سورة کے پہلے مخاطب قریش عرب ہیں جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہوا اور ان کی زبان میں نازل ہوا۔ انہوں نے قرآن کے اعجاز کا مشاہدہ کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے بیشمار معجزات دیکھے اس کے باوجود قرآن سے اعراض کیا۔ اور سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا، اور نبی کریم ﷺ کی مشفقانہ نصیحتوں کے جواب میں بالآخر یہ کہہ بیٹھے کہ آپ کی باتیں نہ ہماری سمجھ میں آتی ہیں، نہ ہمارے دل ان کو قبول کرتے ہیں نہ ہمارے کان ان کو سننے کے لئے آمادہ ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان تو دوہرے پردے حائل ہیں۔ بس آپ اپنا کام کریں، ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔
یہی مفہوم ہے اس سورت کی ابتدائی پانچ آیتوں کا۔ ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے قریش کی خصوصیت سے اس کا اظہار فرمایا کہ قرآن کو عربی زبان میں تمہاری خاطر نازل کیا گیا کہ تمہیں اس کے مضامین سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ اس کے ساتھ قرآن کریم کی تین صفتیں بتلائی گئیں۔ اول یہ کہ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ۔ فصلت تفصیل سے ماخوذ ہے جس کے اصل معنی مضامین کو فصل فصل کر کے ممتاز کردینا ہے مراد اس سے کھول کر وضاحت سے بیان کرنا ہے، خواہ وہ مختلف فصلوں میں ہو یا ایک ہی جگہ۔ قرآن کریم کی آیات میں احکام، قصص، عقائد، اہل باطل کا رد وغیرہ۔ مختلف مضامین کو الگ الگ بھی بیان کیا گیا ہے اور ہر مضمون کو مثالوں سے واضح کر کے سمجھایا گیا ہے۔ دوسری اور تیسری صفت قرآن کریم کی یہ بتلائی کہ وہ بشیر اور نذیر ہے یعنی اپنے ماننے والوں کو دائمی راحتوں کی خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو ابدی عذاب سے ڈراتا ہے۔
Ayah 41:3اور ان سب صفات کو بیان کر کے آخر میں فرمایا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ یعنی آیات قرآن کا عربی زبان میں ہونا واضح اور صاف ہونا اور بشارت ونذارت پر مشتمل ہونا، یہ سب ایسے ہی لوگوں کو نفع دے سکتا ہے جو سوچنے اور سمجھنے کا ارادہ کریں۔ یعلمون کے لفظ سے اس جگہ یہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مراد ہے۔ اسی لئے خلاصہ تفسیر میں اس کا ترجمہ دانشمند سے کیا گیا ہے۔ مگر عرب اور قریش نے ان سب باتوں کے باوجود اس سے اعراض کیا، سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا جس کا ذکر انہی آیات میں فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ سے فرمایا ہے۔
Ayah 41:4رسول اللہ ﷺ کے سامنے کفار مکہ کی طرف سے ایک پیشکش
کفار قریش جو اس سورت کے بلاواسطہ مخاطب ہیں۔ انہوں نے نزول قرآن کے بعد ابتداء اسلام میں زور قوت کے ساتھ اسلام کی تحریک کو دبانے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر خوفزدہ کرنے کی بہت سی کوششیں کیں۔ لیکن اسلام ان کے علی الرغم بڑھتا اور قوت پکڑتا چلا گیا۔ پہلے حضرت حمزہ جو قریش کے مسلم سردار تھے وہ مسلمان ہوگئے پھر حضرت عمر بن خطاب جیسے قوی اور جری داخل اسلام ہوگئے تو اب قریش مکہ نے تخویف کا راستہ چھوڑ کر ترغیب اور لالچ کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا راستہ روکنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ ہے جس کو حافظ ابن کثیر نے، مسند براز، ابو یعلی اور بغوی کی روایتوں سے نقل کیا ہے۔ ان سب روایتوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ ابن کثیر نے ان میں بغوی کی روایت کو سب سے زیادہ اشبہ واقرب قرار دیا۔ اور ان سب کے بعد محمد بن اسحاق کی کتاب السیرة سے اس واقعہ کو نقل کر کے ان سب روایات پر اس کو ترجیح دی۔ اس لئے یہ قصہ اس جگہ ابن اسحاق ہی کی روایت کے مطابق نقل کیا جاتا ہے۔
محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا بڑا سردار مانا جاتا تھا، ایک دن قریش کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک گوشہ میں اکیلے بیٹھے تھے۔ عتبہ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو میں محمد ﷺ سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے کچھ ترغیب کی چیزیں پیش کروں کہ اگر وہ ان میں سے کسی کو قبول کرلیں تو ہم وہ چیزیں انہیں دے دیں تاکہ وہ ہمارے دین و مذہب کے خلاف تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حضرت حمزہ ؓ مسلمان ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی قوت روز بروز بڑھ رہی تھی۔ عتبہ کی پوری قوم نے بیک زبان کہا کہ اے ابو الولید (یہ اس کی کنیت ہے) ضرور ایسا کریں اور ان سے گفتگو کرلیں۔
عتبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ گفتگو شروع کی کہ اے ہمارے بھتیجے آپ کو معلوم ہے کہ ہماری قوم قریش میں آپ کو ایک مقام بلند نسب اور شرافت کا حاصل ہے آپ کا خاندان وسیع اور ہم سب کے نزدیک مکرم ومحترم ہے۔ مگر آپ نے قوم کو ایک بڑی مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ آپ ایک ایسی دعوت لے کر آئے، جس نے ہماری جماعت میں تفرقہ ڈال دیا، ان کو بیوقوف بنایا، ان کے معبودوں پر اور ان کے دین پر عیب لگایا اور ان کے جو آباء و اجداد گزر چکے ہیں ان کو کافر قرار دیا۔ اس لئے آپ میری بات سنیں، میں چند چیزیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ ان میں سے کسی کو پسند کرلیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ابو الولید کہئے جو کچھ آپ کو کہنا ہے، میں سنوں گا۔
عتبہ ابوالولید نے کہا کہ اے بھتیجے، آپ نے جو تحریک چلائی ہے اگر اس سے آپ کا مقصد مال جمع کرنا ہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے لئے اتنا مال جمع کردیں گے کہ آپ ساری قوم سے زیادہ مالدار ہوجائیں۔ اور اگر مقصد اقتدار اور حکومت ہے تو ہم آپ کو سب قریش کا سردار تسلیم کرلیں گے اور آپ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کریں گے۔ اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور اگر یہ صورت ہے کہ آپ کے پاس آنے والا کوئی جن یا شیطان ہے جو آپ کو ان کاموں پر مجبور کرتا ہے اور آپ اس کو دفع کرنے سے عاجز ہیں تو ہم آپ کے لئے ایسے معالج بلوائیں گے جو آپ کو اس تکلیف سے نجات دلا دیں اس کے لئے ہم اپنے اموال خرچ کریں گے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی جن انسان پر غالب آجاتا ہے جس کا علاج کیا جاتا ہے۔ عتبہ یہ طویل تقریر کرتا رہا اور رسول اللہ ﷺ سنتے رہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ ابو الولید آپ اپنی بات پوری کرچکے ؟ اس نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا کہ اب میری بات سنئے۔ عتبہ نے کہا کہ بیشک میں سنوں گا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کی بجائے اس سورة فصلت کی تلاوت شروع فرما دی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (آیت) حٰـمۗ تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ بزار اور بغوی کی روایت میں ہے کہ جب آپ اس سورت کی آیات پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچ گئے، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ۔ تو عتبہ نے آپ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا۔ اور اپنے نسب اور رشتہ کی قسم دی کہ ان پر رحم کیجئے۔ آگے کچھ نہ فرمائیے۔ اور ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات پڑھنا شروع کیں تو عتبہ خاموشی کے ساتھ سننے لگا اور اپنے ہاتھوں کی پیٹھ پیچھے ٹیک لگا لی تاکہ غور سے سن سکے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس صورت کی آیت سجدہ پر پہنچ گئے۔ اور آپ نے سجدہ کیا۔ پھر عتبہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
اے ابو الولید۔ آپ نے سن لیا، جو کچھ سنا اب آپ کو اختیار ہے جو چاہو کرو۔ عتبہ آپ کی مجلس سے اٹھ کر اپنی مجلس کی طرف چلا تو یہ لوگ دور سے عتبہ کو دیکھ کر آپس میں کہنے لگے کہ خدا کی قسم ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے۔ آپ کا وہ چہرہ نہیں جس میں یہاں سے گئے تھے۔ جب عتبہ اپنی مجلس میں پہنچا تو لوگوں نے پوچھا کہو ابو الولید کیا خبر لائے۔ عتبہ ابو الولید نے کہا کہ میری خبر یہ ہے کہ
”میں نے ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم اس سے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا تھا، خدا کی قسم نہ تو یہ جادو کا کلام ہے نہ شعر یا کاہنوں کا کلام ہے (جو وہ شیاطین سے حاصل کرتے ہیں)۔ اے میری قوم قریش تم میری بات مانو، اور اس معاملہ کو میرے حوالے کردو، میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ ان کے مقابلہ اور ایذاء سے باز آجاؤ اور ان کو ان کے کام پر چھوڑ دو کیونکہ ان کے اس کلام کی ضرور ایک خاص شان ہونے والی ہے۔ تم بھی انتظار کرو، باقی عرب کے لوگوں کا معاملہ دیکھو۔ اگر قریش کے علاوہ باقی عرب لوگوں نے ان کو شکست دے دی تو تمہارا مطلب بغیر تمہاری کسی کوشش کے حاصل ہوگیا اور اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی، ان کی عزت سے تمہاری عزت ہوگی اور اس وقت تم ان کی کامیابی کے شریک ہو گے“
اس کے ساتھی قریشیوں نے جب اس کا یہ کلام سنا تو کہنے لگے کہ اے ابو الولید تم پر تو محمد ﷺ نے اپنی زبان سے جادو کردیا ہے۔ عتبہ نے کہا میری رائے تو یہی ہے، جو کچھ کہہ چکا آگے تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔
Ayah 41:5وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ۔ اس جگہ کفار قریش کے تین قول نقل کئے گئے، اول یہ کہ آپ کے کلام سے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ دوسرے یہ کہ آپ کے کلام سے ہمارے کان بہرے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ہمارے اور آپ کے درمیان پردے حائل ہیں۔ قرآن میں اس قول کو بطور مذمت کے نقل کیا ہے۔ جس سے ان کا کہنا غلط معلوم ہوتا ہے۔ مگر دوسری جگہ خود قرآن نے ان کا ایسا ہی حال بیان فرمایا ہے۔ سورة انعام کی آیت میں ہے۔ (آیت) وجعلنا علیٰ قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً۔ و مثلہ فی سورة بنی اسرائیل و الکہف۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کا اس کہنے سے مطلب یہ تھا کہ ہم تو مجبور و معذور ہیں کہ ہمارے دلوں پر پردہ اور کانوں میں بوجھ اور درمیانی حجابات ہیں، تو ہم کیسے آپ کی بات سنیں اور مانیں گویا اپنے آپ کو مجبور ثابت کرنا تھا۔ اور قرآن نے جو ان کا ایسا ہی حال بیان فرمایا، اس میں ان کو مجبور نہیں قرار دیا بلکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان میں آیات آلٰہیہ کو سننے اور سمجھنے کی پوری صلاحیت تھی مگر جب انہوں نے کسی طرح ادھر کان بھی نہ لگائے اور سمجھنے کا ارادہ بھی نہ کیا تو سزا کے طور پر ان پر غفلت و جہالت مسلط کردی گئی مگر وہ بھی اس درجہ میں نہیں کہ یہ لوگ مسلوب الاختیار ہوجائیں، بلکہ اب بھی ارادہ کرلیں تو پھر سننے اور سمجھنے کی صلاحیت عود کر آئے گی۔ (بیان القرآن)
Ayah 41:6منکرین کے انکار و استہزاء کا پیغمبرانہ جواب
کفار نے جو اپنے دلوں پر پردے، کانوں میں بوجھ وغیرہ کا اقرار کیا، یہ تو ظاہر ہے اس سے مراد یہ نہ تھا کہ ان میں عقل نہیں یا بہرے ہیں بلکہ ایک قسم کا استہزاء و تمسخر تھا۔ مگر اس ظالمانہ جرأت و استہزاء کا جو جواب رسول اللہ ﷺ کو تلقین کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان کے مقابلہ میں کوئی تشدد کی بات نہ کریں، بلکہ اپنی تواضع کا اظہار کریں کہ میں خدا نہیں جو ہر کام کا مالک و مختار ہوں بلکہ تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ فرق صرف اس کا ہے کہ مجھے میرے رب نے وحی بھیج کر ہدایت کی، اس کی تائید کے لئے معجزات دیئے۔ جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ تم سب مجھ پر ایمان لاتے۔ اور اب بھی میں تمہیں یہی وصیت کرتا ہوں کہ اپنا رخ عبادت وطاعت میں صرف ایک اللہ کی طرف کرلو اور پچھلے گناہوں سے توبہ کرلو۔
Ayah 41:7آخر خطاب میں قرآنی بشارت ونذارت کے دونوں پہلو ان کے سامنے کردیئے کہ مشرکین کیلئے بڑی خرابی ہے اور مومنین کے لئے دائمی ثواب۔ اس میں مشرکین کی خرابی بیان کرنے کے ضمن میں اس کی وجہ یہ ذکر کی گئی ہے کہ لا یوتون الزکوٰة یعنی یہ لوگ زکوٰة نہیں دیا کرتے تھے۔ اس میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اول تو یہ کہ یہ آیات مکی ہیں اور زکوٰة کی فرضیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے تو فرض ہونے سے پہلے ہی ان پر عدم ادائیگی زکوٰة کا الزام کیسے درست ہوا ؟
اس کا جواب تو ابن کثیر نے یہ دیا ہے کہ اصل زکوٰة تو ابتدا اسلام ہی میں نماز کے ساتھ ہی فرض ہوگئی تھی جس کا ذکر سورة مزمل کی آیات میں آیا ہے۔ مگر اس کے نصابوں کی تفصیلات اور وصولیابی کا انتظام مدینہ طیبہ میں ہوا ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مکہ میں زکوٰة فرض نہیں تھی۔
کیا کفار فروع اعمال کے مکلف اور مخاطب ہیں یا نہیں
دوسرا اشکال یہ ہے کہ کفار بہت سے فقہاء کے نزدیک مخاطب بالفروع نہیں ہوتے، یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰة کے احکام ان پر عائد نہیں ہوتے۔ ان پر عائد حکم تو یہ ہے کہ وہ پہلے ایمان قبول کریں، ایمان کے بعد یہ فرائض عائد ہوتے ہیں تو جب ان پر زکوٰة کا فرض عائد ہی نہیں۔ تو اس کے ترک پر عتاب کیسا ؟
جواب یہ ہے کہ بہت سے ائمہ وفقہا کے نزدیک تو کفار بھی مخاطب بالفروع ہیں، ان کے اعتبار سے تو یہ اشکال ہی نہیں ہوتا۔ اور جو لوگ کفار کو مخاطب بالفروع نہیں مانتے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ترک زکوٰة پر اصل مذمت نہیں بلکہ ان کا ترک زکوٰة چونکہ کفر کی بنا پر تھا اور ترک زکوٰة اس کی علامت تھی اس لئے ان کو عتاب کرنے کا حاصل یہ ہوا کہ تم مومن ہوتے تو زکوٰة کی پابندی کرتے۔ تمہارا قصور ایمان نہ لانا ہے۔ (بیان القرآن) اور کفار کے مخاطب بالفروع ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق احقر کی کتاب احکام القرآن، حزب خامس میں ہے جو بزبان عربی شائع ہوئی ہے۔
تیسرا سوال یہاں یہ ہوتا ہے کہ احکام اسلام میں سب سے مقدم تو نماز ہے اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ زکوٰة کو خصوصیت سے ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب قرطبی نے یہ دیا ہے کہ قریش عرب مالدار لوگ تھے۔ اور صدقہ و خیرات غریبوں کی امداد ان کا وصف خاص تھا۔ مگر جو لوگ مسلمان ہوجاتے۔ یہ لوگ ان کو اس طرح کی خاندانی اور معاشرتی امداد سے بھی محروم کردیتے تھے۔ اس کی مذمت کرنا مقصود ہے اس لئے زکوٰة کو خصوصیت سے ذکر کیا گیا۔ واللہ اعلم
Ayah 41:8(آیت) لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ۔ لفظ ممنون کے معنے مقطوع کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ایمان وعمل صالح کے پابند لوگوں کو آخرت میں جو اجر دیا جائے گا وہ دائمی غیر منقطع ہوگا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ مومن جن اعمال صالحہ کا عادی ہوتا ہے، اگر کسی بیماری یا سفر یا دوسرے عذر سے کسی وقت یہ عمل بھی ترک ہوجائے تو بھی اس عمل کا اجر قطع نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ میرا بندہ جو عمل اپنی تندرستی اور فرصت کے اوقات میں پابندی سے کیا کرتا تھا، اس کے عذر کی حالت میں بھی وہ اعمال بغیر کے ہوئے اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں۔ اسی مضمون کی حدیثیں صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اور شرح السنتہ نبوی میں حضرت ابن عمر اور انس سے اور رزین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت کی ہیں۔ (مظہری)
Ayah 41:9خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ کیا تم لوگ ایسے خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو (باوجود اس کی بڑی وسعت کے) دو روز (کی مقدار وقت) میں پیدا کردیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو یہی (خدا جس کی قدرت معلوم ہوئی) سارے جہاں کا رب ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنا دیئے اور اس (زمین) میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں (جیسے نباتات وحیوانات وغیرہ) اور اس (زمین) میں اس کے رہنے والوں کی غذائیں تجویز کردیں (جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ ہر حصہ زمین کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے کہیں کچھ کہیں کچھ جن کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ یہ سب) چار دن میں (ہوا۔ دو دن میں زمین دو دن میں پہاڑ وغیرہ جو شمار ہیں) پورے ہیں پوچھنے والوں کے لئے (یعنی ان لوگوں کے لئے جو تخلیق کائنات کی کیفیت اور کمیت کے متعلق آپ سے سوالات کرتے ہیں جیسا کہ یہود نے آپ سے (آیت) خلق السموٰت والارض کے متعلق سوال کیا تھا کما فی الدر المنثور) پھر (یہ سب کچھ پیدا کر کے) آسمان (کے بنانے) کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھواں سا تھا (یعنی آسمان کا مادہ جو زمین کے مادے کے بعد زمین کی موجودہ صورت سے پہلے بن چکا تھا وہ دھوئیں کی شکل میں تھا) سو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں (کو ہماری اطاعت کی طرف آنا تو ضرور پڑے گا اب تم کو اختیار ہے کہ) خوشی سے آؤ یا زبردستی سے (مطلب یہ ہے کہ ہمارے تقدیری احکام جو تم دونوں میں جاری ہوا کریں گے ان کا جاری ہونا تو تمہارے اختیار سے خارج ہے وہ تو ہو کر رہیں گے۔ لیکن جو ادراک و شعور تم کو عطا ہوا ہے اس کے اعتبار سے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ہمارے احکام تقدیری کو اپنی خوشی سے قبول کرو یا ان سے دل میں ناراض ہو، اور وہ زبردستی تمہارے اندر نافذ کئے جاویں۔ جسے انسان کے لئے امراض اور موت کا معاملہ ہے کہ ان کا ہونا تو امر تقدیری ہے جس کو انسان ٹال نہیں سکتا۔ مگر کوئی دانشمند اس کو راضی خوشی قبول کرتا ہے اور صبر و شکر کے فوائد حاصل کرتا ہے، کوئی ناراض و ناخوش رہتا ہے، گھٹ گھٹ کر مرتا ہے۔ تو اب تم دیکھ لو کہ ہمارے ان احکام پر راضی رہا کرو گے یا کراہت رکھو گے۔ اور مراد ان تقدیری احکام سے جو آسمان و زمین میں جاری ہونے والے تھے یہ ہیں کہ آسمان ابھی صرف مادہ دھوئیں کی شکل میں تھا، اس کا سات آسمانوں کی صورت میں بننا حکم تقدیری تھا اور زمین اگرچہ بن چکی تھی مگر اس میں بھی ہزاروں انقلابات وتغیرات قیامت تک چلنے والے تھے۔) دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی سے (ان احکام کے لئے) حاضر ہیں، سو دو روز میں اس کے سات آسمان بنا دیئے اور (چونکہ ساتوں آسمانوں کو فرشتوں سے آباد ومعمور کردیا گیا تھا اس لئے) ہر آسمان میں اس کے مناسب اپنا حکم (فرشتوں کو) بھیج دیا (یعنی جن فرشتوں سے جو کام لینا تھا وہ ان کو بتلا دیا) اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور (شیاطین کو آسمانی خبریں چوری کرنے سے روکنے کے لئے) اس کی حفاظت کی، یہ تجویز ہے (خدائے) زبردست عالم الکل کی طرف سے۔
معارف و مسائل
ان آیات میں اصل مقصود منکرین توحید مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر ایک بلیغ انداز میں تنبیہ کرنا ہے کہ اس میں حق تعالیٰ کی صفت تخلیق اور آسمان و زمین کی عظیم مخلوقات کو بیشمار حکمتوں پر مبنی پیدا کرنے کی تفصیل دے کر ان کو بطور زجر خطاب کیا گیا ہے، کہ کیا تم ایسے بےعقل ہو کہ ایسے عظیم خالق و قادر کے ساتھ دوسروں کو شریک خدائی قرار دیتے ہو۔ اس قسم کی تنبیہ و تفصیل سورة بقرہ کے تیسرے رکوع میں آ چکی ہے۔
(آیت) کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتاً فاحیکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون۔ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استویٰ الی السماء فسوھن سبع سموٰت وھو بکل شئی علیم۔ سورة بقرہ کی آیات میں ایام تخلیق کی تعیین اور تفصیل کا ذکر نہیں۔ سورة فصلت کی مذکورہ آیات میں بھی اس کا ذکر ہے۔
آسمان و زمین کی تخلیق میں ترتیب اور ایام تخلیق کی تعیین
بیان القرآن میں حضرت سیدی حکیم الامت قدس سرہ، نے فرمایا کہ یوں تو زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر مختصر و مفصل قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ آیا ہے۔ مگر ان میں ترتیب کا بیان کہ پہلے کیا بنا پیچھے کیا بنا، یہ غالباً صرف تین ہی آیتوں میں آیا ہے۔ ایک یہ آیت حم سجدہ کی اور دوسری سورة بقرہ کی مذکورہ آیت، تیسری سورة نازعات (آیت) لیلھا و اخرج ضحھا والارض بعد ذلک دحھا اخرج منھا ماءھا ومرعھا والجبال ارسھا اور سرسری نظر میں ان سب مضامین میں کچھ اختلاف سا بھی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سورة بقرہ اور سورة حم سجدہ کی آیت سے زمین کی تخلیق آسمان سے مقدم ہونا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سورة بقرہ اور سورة حم سجدہ کی آیت سے زمین کی تخلیق آسمان سے مقدم ہونا معلوم ہوتا ہے اور سورة نازعات کی آیات سے اس کے برعکس بظاہر زمین کی تخلیق آسمان سے مقدم ہونا معلوم ہوتا ہے اور سورة نازعات کی آیات سے اس کے برعکس بظاہر زمین کی تخلیق آسمان کے بعد معلوم ہوتی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ سب آیات میں غور کرنے سے میرے خیال میں تو یہ آتا ہے کہ یوں کہا جاوے کہ اول زمین کا مادہ بنا اور ہنوز اس کی موجودہ ہئیت نہ بنی تھی کہ اسی حالت میں آسمان کا مادہ بنا جو دخان یعنی دھوئیں کی شکل میں تھا، اس کے بعد زمین ہئیت موجودہ پر پھیلا دی گئی۔ پھر اس پر پہاڑ اور درخت وغیرہ پیدا کئے گئے۔ پھر آسمان کے مادہ دخانیہ سیالہ کے سات آسمان بنا دیئے۔ امید ہے کہ سب آیتیں اس تقریر پر منطبق ہوجاویں گی۔ آگے حقیقت حال سے اللہ تعالیٰ ہی خوب واقف ہیں (بیان القرآن۔ سورة بقرہ رکوع 3)
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے اسی آیت کے تحت میں چند سوالات وجوابات مذکور ہیں۔ ان میں اس آیت کی جو تشریح حضرت ابن عباس نے فرمائی وہ تقریباً یہی ہے، جو حضرت نے تطبیق آیات کے لئے بیان فرمائی ہے۔ اس کے الفاظ جو ابن کثیر نے اسی آیت کے تحت میں نقل کئے ہیں یہ ہیں۔
و خلق الارض فی یومین ثم خلق السماء ثم استویٰ الی السماء فسوھن فی یومین اخرین ثم دحی الارض ودحیھا ان اخرج منھا الماء والمرعیٰ وخلق الجبال والرمال والجہاد والآکام وما بینھما فی یومین اخرین فذلک قولہ تعالیٰ دحاھا۔
اور حافظ ابن کثیر نے بحوالہ ابن جریر حضرت ابن عباس سے آیت حم سجدہ کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ۔
یہود مدینہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے متعلق سوال کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا، اور پہاڑ اور اس میں جو کچھ معدنیات وغیرہ ہیں ان کو منگل کے روز اور درخت اور پانی کے چشمے اور شہر اور عمارتیں اور ویران میدان بدھ کے روز، یہ کل چار روز ہوگئے، جیسا کہ اس آیت میں ہے (قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادً آذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ) یعنی ان لوگوں کے لئے جو اس تخلیق کا سوال کریں۔ پھر فرمایا اور جمعرات کے روز آسمان بنائے اور جمعہ کے روز ستارے اور شمس و قمر اور فرشتے یہ سب کام جمعہ کے دن میں تین ساعت باقی تھیں جب پورے ہوئے۔ ان میں سے دوسری ساعت میں آفات و مصائب جو ہر چیز پر آنے والی ہیں وہ پیدا فرمائی ہیں اور تیسری ساعت میں آدم ؑ کو پیدا فرمایا اور ان کو جنت میں ٹھہرایا اور ابلیس کو سجدہ کا حکم دیا اور سجدہ سے انکار کرنے پر جنت سے نکال دیا گیا۔ یہ سب تیسری ساعت کے ختم ہوا۔ (الحدیث بطولہ، ابن کثیر)
ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے فرمایا، ھذا الحدیث فیہ غرابة۔
اور صحیح مسلم میں ایک حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہے جس میں تخلیق عالم کی ابتدا یوم السبت یعنی ہفتہ کے روز سے بتلائی گئی ہے۔ اس کے حساب سے آسمان و زمین کی تخلیق کا سات روز میں ہونا معلوم ہوتا ہے۔ مگر عام نصوص قرآن میں یہ تخلیق چھ روز میں ہونا صراحتہ مذکور ہے۔ (آیت) ولقد خلقنا السموٰت والارض وما بینھما فی سیتة ایام وما مسنا من لغوب۔ یعنی ہم نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس کو چھ دن میں، اور ہمیں کوئی تھکان پیش نہیں آیا۔ اس لئے نیز اس کی سند کے اعتبار سے بھی اکابر محدثین نے اس روایت کو معلول قرار دیا ہے۔ ابن کثیر نے اس کو بحوالہ مسلم و نسائی نقل کر کے فرمایا وھو من غرائب الصحیح المسلم کمانی زاد المسیر لابن الجوزی۔ یعنی یہ حدیث صحیح مسلم کے عجائب میں سے ہے۔ اور پھر فرمایا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب تاریخ کبیر میں اس روایت کو معلول قرار دیا ہے، اور بعض لوگوں نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ سے بہ روایت کعب احبار نقل کیا ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نہیں، اور فرمایا کہ یہی اصح ہے۔ (ابن کثیر ص 49 ج 4) اسی طرح ابن مدینی اور بیہقی وغیرہ حفاظ حدیث نے بھی اس کو کعب احبار کا قول قرار دیا ہے۔ (حاشیہ زاد المسیر لابن الجوزی ص 372، ج 7)
پہلی روایت جو ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے، ابن کثیر کے فیصلے کے مطابق اس میں بھی غرابت ہے۔ ایک وجہ غرابت کی یہ بھی ہے کہ اس روایت میں حضرت آدم ؑ کی تخلیق آسمانوں کی تخلیق کے ساتھ آخری دن جمعہ کے آخری ساعت میں اور اسی ساعت میں حکم سجدہ اور ابلیس کا جنت سے اخراج مذکور ہے۔
حالانکہ متعدد آیات قرآنی میں جو قصہ تخلیق آدم ؑ کا اور حکم سجدہ اور اخراج ابلیس کا مذکور ہے اس کے سیاق سے بدیہی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق آدم ؑ کا واقعہ تخلیق ارض و سماء سے بہت زمانہ بعد ہوا ہے جبکہ زمین میں اس کی تمام ضروریات مکمل ہو چکیں اور جنات و شیاطین وہاں بسنے لگے۔ اس کے بعد فرمایا۔ (آیت) انی جاعل فی الارض خلیفة۔ (کذا قال فی المظہری)
خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق ارض و سماء کے اوقات اور دن اور ان میں ترتیب جن روایات حدیث میں آئی ہے ان میں کوئی روایت ایسی نہیں جس کو قرآن کی طرح قطعی یقینی کہا جاسکے، بلکہ یہ احتمال غالب ہے کہ یہ اسرائیلی روایات ہوں مرفوع احادیث نہ ہوں جیسا کہ ابن کثیر نے مسلم، نسائی کی حدیث کے متعلق اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اس لئے آیات قرآنی ہی کو اصل قرار دے کر مقصود متعین کرنا چاہئے۔ اور آیات قرآنی کو جمع کرنے سے ایک بات تو یہ قطعی معلوم ہوئی کہ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی تمام چیزیں صرف چھ دن میں پیدا ہوئی ہیں۔ دوسری بات سورة حم سجدہ کی آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ زمین اور اس کے پہاڑ درخت وغیرہ کی تخلیق میں پورے چار دن لگے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آسمانوں کی تخلیق میں دو دن صرف ہوئے۔ جس میں پورے دو دن ہونے کی تصریح نہیں بلکہ کچھ اشارہ اس طرف ملتا ہے کہ یہ دو دن پورے خرچ نہیں ہوئے آخری دن جمعہ کا کچھ حصہ بچ گیا۔ ان آیات کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھ دن میں سے پہلے چار دن زمین پر باقی دو دن آسمانوں کی تخلیق میں صرف ہوئے اور زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی۔ مگر سورة نازعات کی آیت میں زمین کے پھیلانے اور مکمل کرنے کو صراحتہ تخلیق آسمان کے بعد فرمایا ہے۔ اس لئے وہ صورت کچھ بعید نہیں جو اوپر بحوالہ بیان القرآن ہوئی ہے کہ زمین کی تخلیق دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے دو دن میں زمین اور اس کے اوپر پہاڑوں وغیرہ کا مادہ تیار کردیا گیا۔ اس کے بعد دو دن میں سات آسمان بنائے، اس کے بعد دو دن میں زمین کا پھیلاؤ اور اس کے اندر جو کچھ پہاڑ، درخت، نہریں، چشمے وغیرہ بنائے تھے ان کی تکمیل ہوئی۔ اس طرح تخلیق زمین کے چار دن متصل نہیں رہے۔ اور آیت حم سجدہ میں جو ترتیب بیان یہ رکھی گئی کہ پہلے زمین کو دو دن میں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا۔ (آیت) خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ۔ اس کے بعد مشرکین کو تنبیہ کی گئی۔
Ayah 41:10پھر الگ کر کے فرمایا (آیت) (وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ) اس میں اس پر تو سبھی مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ اربعة ایام ان پہلے دو دنوں کو شامل کر کے ہیں۔ اس سے الگ چار دن نہیں۔ ورنہ مجموعہ آٹھ دن ہوجائے گا جو تصریح قرآنی کے خلاف ہے۔
اب یہاں غور کرنے سے بظاہر مقتضیٰ مقام کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ فرمانے کے بعد پہاڑوں وغیرہ کی تخلیق کو بھی فی یومین کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا تو اس کا مجموعہ چار دن ہونا خود بخود معلوم ہوجاتا مگر قرآن کریم نے عنوان تعبیر اس کے بجائے یہ رکھا کہ زمین کی تخلیقات میں سے باقی ماندہ کو ذکر کر کے فرمایا کہ یہ کل چار دن ہوئے۔ اس سے بظاہر اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ یہ چار دن متواتر اور مسلسل نہیں تھے بلکہ دو حصوں میں منقسم تھے۔ دو دن تخلیق سماوات سے پہلے دو دن اس کے بعد اور آیت مذکورہ میں جو (آیت) وجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا الخ کا ذکر ہے یہ آسمانوں کی تخلیق کے بعد کا بیان ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
(آیت) وجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا۔ زمین میں پہاڑ اس کے توازن کو درست رکھنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ متعدد آیات قرآن میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ ان پہاڑوں کو زمین کی سطح کے اوپر بلند وبالا کر کے رکھا جائے، زمین کے اندر بھی رکھے جاسکتے تھے۔ مگر اوپر رکھنے اور ان کی بلندی کو عام انسانوں، جانوروں کی رسائی سے دور رکھنے میں زمین کے بسنے والوں کے لئے ہزاروں بلکہ بیشمار فوائد تھے۔ اس لئے اس آیت میں من فوقھا کے لفظ سے اس خاص نعمت کی طرف اشارہ کردیا گیا۔
(آیت) وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ۔ اقوات قوت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں رزق اور روزی جس میں عام ضروریات انسانی داخل ہیں۔ کما قال ابوعبید (زاد المسیر لابن جوزی)
اور حضرت حسن اور سدی نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ہر حصہ میں اس کے بسنے رہنے والوں کی مصالح کے مناسب رزق اور روزی مقدر فرما دی۔ مقدر فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم جاری کردیا کہ اس حصہ زمین میں فلاں فلاں چیزیں اتنی اتنی مقدار سے پیدا ہوجائیں۔ اسی تقدیر الٰہی سے ہر حصہ زمین کی کچھ خصوصیات ہوگئیں، ہر جگہ مختلف قسم کی معدنیات اور مختلف اقسام کی نباتات اور درخت اور جانور اس خطہ کی ضروریات ان کے مزاج و مرغوبات کے مطابق پیدا فرما دیئے۔
اسی سے ہر خطہ کی مصنوعات و ملبوسات مختلف ہوتی ہیں۔ یمن میں عصب، سابور میں سابوری، رئے میں طیالسہ۔ کسی خطہ میں گندم، کسی میں چاول اور دوسرے غلات، کسی جگہ میں روئی، کسی میں جوٹ، کسی میں سیب انگور اور کسی میں آم۔ اس اختلاف اشیاء میں ہر خطہ کے مزاجوں کی مناسبت بھی ہے اور عکرمہ اور ضحاک کے قول کے مطابق یہ فائدہ بھی ہے کہ دنیا کے سب خطوں اور ملکوں میں باہمی تجارت اور تعاون کی راہیں کھلیں۔ کوئی خطہ دوسرے خطہ سے مستغنی نہ ہو۔ باہمی احتیاج ہی پر باہمی تعاون کی مضبوط تعمیر ہو سکتی ہے۔ عکرمہ نے فرمایا کہ بعض خطوں میں نمک کو سونے کے برابر تول کر فروخت کیا جاتا ہے۔
گویا زمین کو حق تعالیٰ نے اس پر بسنے والے انسانوں اور جانوروں کی تمام ضروریات، غذا، مسکن اور لباس وغیرہ کا ایک ایسا عظیم الشان گدام بنادیا ہے، جس میں قیامت تک آنے اور بسنے والے اربوں اور کھربوں انسانوں اور لاتعداد جانوروں کی سب ضروریات رکھ دی ہیں۔ وہ زمین کے پیٹ میں بڑھتی اور حسب ضرورت قیامت تک نکلتی رہیں گی۔ انسان کا کام صرف یہ رہے گا کہ اپنی ضروریات کو زمین سے نکال کر اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرے۔ آگے آیت میں فرمایا سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ۔ اس جملہ کا تعلق اکثر حضرات مفسرین نے اربعہ ایام کے ساتھ قرار دیا ہے۔ معنی یہ ہیں یہ سب تخلیقات عظیمہ ٹھیک چار دن میں ہوئی ہیں۔ اور چونکہ عرف میں جس کو چار کہہ دیا جاتا ہے۔ وہ کبھی چار سے کچھ کم کبھی زیادہ بھی ہوتا ہے، مگر کسر کو حذف کر کے اس کو چار ہی کہہ دیتے ہیں۔ آیت میں اس جگہ لفظ سوائً بڑھا کر اس احتمال کو قطع کر کے یہ بتلا دیا کہ یہ کام پورے چار دن میں ٹھیک ہوا ہے۔ اور للسائلین فرمانے کے معنے یہ ہیں کہ جو لوگ آسمان زمین کی تخلیق کے متعلق آپ سے سوالات کر رہے ہیں جیسا کہ یہود کا سوال کرنا تفسیر ابن جریر اور درمنثور میں منقول ہے۔ ان سوالات کرنے والوں کو یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ سب تخلیق ٹھیک چار دن میں ہوئی ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی، روح)
اور بعض مفسرین ابن زید وغیرہ نے للسائلین کا تعلق جملہ وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا کے ساتھ قرار دیا ہے۔ اور سائلین کے معنی طالبین و محتاجین کے لئے ہیں۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ زمین میں اللہ تعالیٰ نے جو مختلف اجناس و اقسام کی اقوات و ضروریات پیدا فرمائی ہیں یہ ان لوگوں کے فائدے کے لئے ہیں جو ان کے طالب اور حاجت مند ہیں اور چونکہ طالب و محتاج عادتاً سوال کیا کرتا ہے اس لئے اس کو سائلین کے لفظ سے تعبیر کردیا۔ (بحرمحیط)
اور ابن کثیر نے اس تفسیر کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا (آیت) اتکم من کل ما سالتموہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ سب چیزیں عطا فرمائیں، جو تم نے مانگیں کیونکہ یہاں بھی مانگنے سے مراد ان کا حاجت مند ہونا ہے۔ سوال کرنا شرط نہیں، کیونکہ حق تعالیٰ نے چیزیں نہ مانگنے والوں کو بھی عطا فرمائی ہیں۔
Ayahs 41:11–12(آیت) ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهً آ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۔ یہ آسمان و زمین کو خطاب کر کے حکم دینا اور ان کا اطاعت و فرمانبرداری سے جواب دینا بعض مفسرین کے نزدیک مجاز ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہر کام کے لئے تیار پائے گئے۔ مگر ابن عطیہ اور دوسرے محققین ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس میں کوئی مجاز نہیں، سب اپنی حقیقت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین میں شعور و ادراک خطاب کے سمجھنے کا بھی پیدا فرما دیا تھا اور ان کو گویائی کی طاقت بھی جواب دینے کے لئے عطا فرما دی تھی۔ تفسیر بحر محیط میں اس کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ یہی تفسیر احسن اور بہتر ہے۔
ابن کثیر نے اس کو نقل کر کے بعض کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ زمین کی طرف سے یہ جواب اس حصہ پر زمین نے دیا تھا جس پر بیت اللہ کی تعمیر ہوئی اور آسمان کے اس حصہ نے جو بیت اللہ کے بالمقابل ہے، (جس کو بیت المعمور کہا جاتا ہے)
Ayahs 41:13–15خلاصہ تفسیر
پھر (دلائل توحید سن کر بھی) اگر یہ لوگ (توحید سے) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی عاد وثمود پر (شرک و کفر کی وجہ سے) آفت آئی تھی (مراد عذاب سے ہلاک کرنا ہے) جیسا کہ قریش مکہ کے سردار غزوہ بدر میں ہلاک اور قید کئے گئے، اور یہ قصہ عاد وثمود کا اس وقت ہوا تھا) جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے (یعنی جو پیغمبر ان کی طرف بھیجے گئے اور ان کے سمجھانے میں جان توڑ کوشش کی گئی۔ جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کسی مصیبت و ہلاکت کی طرف جاتے دیکھے تو وہ کبھی آگے سے آ کر اسے روکتا ہے، کبھی پیچھے سے پکڑتا ہے۔ اور اس کی مثال قرآن میں ابلیس کا یہ قول ہے کہ اس نے کہا تھا لاتینھم من بین ایدیہم ومن خلفہم۔ یعنی میں بنی آدم کو گمراہ کرنے ان کے آگے سے بھی آؤں گا ان کے پیچھے سے بھی، اور ان پیغمبروں نے یہی کہا کہ) بجز اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، انہوں نے جواب دیا کہ (تم جو اللہ کی طرف سے آنے کا اور توحید کی طرف بلانے کا دعویٰ کرتے ہو یہی غلط ہے کیونکہ) اگر ہمارے پروردگار کو (یہ) منظور ہوتا (کہ کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجے) تو فرشتوں کو بھیجتا اس لئے ہم اس (توحید) سے بھی منکر ہیں جس کو دے کر (تمہارے دعویٰ کے مطابق) تم (پیغمبری کے طور پر) بھیجے گئے ہو پھر (اس مشرک قول کے بعد ہر قوم کے خاص کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ جو عاد کے لوگ تھے وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے اور (جب عذاب کی وعید سنی تو) کہنے لگے وہ کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہے (کہ وہ ہمیں ایسے عذاب میں مبتلا کرسکے اور ہم اس کے دفع کرنے پر قادر نہ ہوں، آگے جواب ہے کہ) کیا ان لوگوں کو یہ نظر نہ آیا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ قوت میں ان سے بہت زیادہ ہے (مگر باوجود اس کے بھی وہ ایمان نہ لائے) اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے تو ہم نے ان پر ایک سخت ہوا ایسے دنوں میں بھیجی جو (بوجہ نزول عذاب الٰہی کے ان کے حق میں) منحوس تھے تاکہ ہم ان کو اس دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب اور بھی زیادہ رسوائی کا سبب ہے اور (اس عذاب کے وقت کسی طرف سے بھی) ان کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور وہ جو ثمود تھے تو (ان کی کیفیت یہ ہوئی کہ) ہم نے ان کو (پیغمبر کے ذریعہ) رستہ بتلایا، انہوں نے گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند کیا تو ان کو سراپا ذلت کے عذاب کی آفت نے پکڑ لیا ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اور ہم نے (اس عذاب سے) ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور ہم سے ڈرتے تھے۔ (یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے) اور (ان کو وہ دن بھی یاد دلائے) جس دن اللہ کے دشمن (یعنی کفار) دوزخ کی طرف جمع کرنے کے لئے (موقف حساب میں) لائے جاویں گے پھر (راستہ میں ان کی کثرت کے سبب منتشر ہونے سے بچانے اور مجتمع رہنے کے لئے) وہ روکے جاویں گے (تا کہ پیچھے رہنے والے ساتھ ہوجاویں جیسا کہ حضرت سلیمان ؑ کے واقعہ میں تمام جنود اور لشکروں کو جمع کرنے کے لئے فھم یوزعون فرمایا یعنی ان کو روکا جاوے گا) یہاں تک کہ جب وہ (سب جمع ہو کر) اس (دوزخ) کے قریب آ جاویں گے (مراد موقف حساب ہے جہاں سے دوزخ قریب ہی نظر آوے گا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ کو موقف حساب میں حاضر کریں گے اور یہ کافر اپنے چاروں طرف آگ ہی آگ دیکھے گا۔ غرض یہ کہ جب موقف حساب میں آ جاویں گے اور حساب شروع ہوگا) تو ان کے کان اور آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ اور (اس وقت) وہ لوگ (تعجب کے ساتھ) اپنے اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی (ہم تو دنیا میں سب کچھ تمہاری ہی راحت کے لئے کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں حضرت انس کی روایت سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ فعنکن کنت اناضل رواہ مسلم۔ یعنی میں تمہارے ہی لئے سب کوشش کیا کرتا تھا) وہ (اعضاء) جواب دیں گے کہ ہم کو اس (قادر مطلق) نے گویائی دی جس نے ہر (گویا) چیز کو گویائی دی (جس سے ہم نے اپنے اندر خود اس کی قدرت کا مشاہدہ کرلیا) اور اسی نے تم کو اول بار پیدا کیا تھا اور اسی کے پاس پھر (دوبارہ زندہ کر کے) لائے گئے ہو (تو ہم ایسے عظمت والے وقدرت والے کے پوچھنے پر حق بات کو کیسے چھپا سکتے ہیں اس لئے گواہی دے دی) اور (آگے حق تعالیٰ ان منکروں کو خطاب فرماویں گے کہ) تم (دنیا میں) اس بات سے تو اپنے کو (کسی طرح) چھپا (اور بچا) ہی نہ سکتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف میں گواہی دیں (کیونکہ حق تعالیٰ کی قدرت مطلقہ اور علم محیط واقع میں ثابت ہے جس کا مقتضا یہ تھا کہ برے اعمال سے بچتے) لیکن تم (اس لئے نہ بچے کہ) اس گمان میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بہت سے اعمال کی خبر بھی نہیں اور تمہارے اسی گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا تم کو برباد کیا (کیونکہ اس گمان سے اعمال کفریہ کے مرتکب ہوئے اور وہ موجب بربادی ہوئے) پھر تم (ابدی) خسارہ میں پڑگئے سو (اس حالت میں) اگر یہ لوگ (اس بربادی و خسارہ پر) صبر کریں (اور تن بتقدیر رہ کر عذر معذرت کچھ نہ کریں) تب بھی دوزخ ہی ان کا ٹھکانہ ہے (یہ نہیں کہ ان کا صبر موجب رحم ہوجاوے جیسا کہ دنیا میں اکثر ہوجاتا تھا) اور اگر وہ عذر کرنا چاہیں گے تو بھی مقبول نہ ہوگا اور ہم نے (دنیا میں) ان (کفار) کے لئے کچھ ساتھ رہنے والے (شیاطین) مقرر کر رکھے تھے سو انہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نظر میں مستحسن کر رکھے تھے (اس لئے ان پر مصر تھے) اور (کفر پر اصرار کرنے کی وجہ سے) ان کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول (یعنی وعدہ عذاب) پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن اور انسان (کفار) ہو گزرے ہیں، بیشک وہ بھی خسارے میں رہے۔
Ayahs 41:16–18معارف و مسائل
(آیت) فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا۔ یہ اس عذاب صاعقہ کی تشریح ہے جو اس سے پہلے آیت میں صاعقہ عاد وثمود کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ صاعقہ کے اصل معنے مدہوش وبے ہوش کرنے والی چیز کے ہیں اسی لئے گرنے والی بجلی کو بھی صاعقہ کہا جاتا ہے۔ اور ناگہانی آفت و مصیبت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قوم عاد پر جو ہوا کا طوفان مسلط کیا گیا وہ بھی اسی صاعقہ کا ایک فرد ہے اسی کو ریح صرصر کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ جو تیز و تند ہوا کو کہا جاتا ہے، جس میں تیز رفتاری کے ساتھ سخت آواز بھی ہو۔ (قرطبی)
ضحاک نے فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز و تند خشک ہوائیں چلتی رہیں اور آٹھ روز سات راتیں مسلسل ہوا کا شدید طوفان رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ واقعہ آخر شوال میں ایک بدھ سے شروع ہو کر دوسرے بدھ تک رہا۔ اور جس کسی قوم پر عذاب آیا ہے وہ بدھ ہی کے دن آیا ہے۔ (قرطبی ومظہری)
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی بھلائی چاہتے ہیں تو ان پر بارش برساتے ہیں اور زیادہ تیز ہواؤں کو ان سے روک لیتے ہیں۔ اور جب کسی قوم کو مصیبت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے تو بارش ان سے روک لی جاتی ہے اور ہوائیں زیادہ اور تیز چلنے لگتی ہیں۔
فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ۔ اصول اسلام اور احادیث رسول اللہ سے ثابت ہے کہ کوئی دن یا رات اپنی ذات میں منحوس نہیں ہے۔ قوم عاد پر طوفان باد کے ایام کو نحسات فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ یہ دن اس قوم کے حق میں ان کی بداعمالیوں کے سبب منحوس ہوگئے تھے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ دن سب کے لئے منحوس ہوں۔ (مظہری وبیان القرآن) اور اس مسئلہ کی پوری تحقیق کہ کوئی چیز اپنی ذات میں منحوس ہو سکتی ہے یا نہیں، احقر کی کتاب احکام القرآن حزب خامس میں دیکھ لیں جو عربی میں طبع ہوچکی ہے۔
Ayahs 41:19–21(آیت) فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۔ یہ وزع سے مشتق ہے جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں، اسی کے مطابق خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ترجمہ روکنے سے کیا گیا ہے۔ اور اکثر حضرات مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں کہ اہل جہنم جو بڑی تعداد میں ہوں گے ان کو میدان حشر اور موقف حساب کی طرف جانے کے وقت انتشار سے بچانے کے لئے اگلے حصہ کو کچھ روک دیا جائے گا، تاکہ پچھلے لوگ بھی آ ملیں۔ اور بعض حضرات مفسرین نے یوزعون کا ترجمہ یساقون و یدفعون سے کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو موقف حساب کی طرف ہانک کر دھکے دے کر لایا جائے گا۔ (قرطبی)
Ayahs 41:22–25(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ ہمارے اعضاء وجوارح بھی بولنے لگیں گے اور ہمارے خلاف اللہ کے سامنے گواہی دیں گے، مگر اتنی بات تو ہر ذی عقل کی سمجھ میں آسکتی تھی کہ جس ذات نے ہمیں ایک حقیر چیز سے پیدا کر کے سمیع وبصیر انسان بنایا، پالا اور جوان کیا، کیا اس کا علم ہمارے اعمال و احوال پر محیط نہیں ہوگا ؟ مگر تم نے اس بدیہی چیز کے خلاف یہ گمان کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے بہت سے اعمال کی کچھ خبر نہیں۔ اس لئے تمہیں شرک و کفر کرنے پر جرأت ہوئی۔ (آیت) وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ یعنی تمہارے اسی گمان بد نے تمہیں برباد کیا۔
انسان کے اعضاء وجوارح کی محشر میں گواہی
صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ کو ہنسی آگئی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ہنسی اس کلام پر آئی جو میدان حشر اور موقف حساب میں بندہ اپنے رب سے کرے گا۔ یہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ بیشک دی ہے۔ اس پر بندہ کہے گا کہ اگر یہ بات ہے تو میں اپنے حساب و کتاب کے معاملہ میں اور کسی کی گواہی پر مطمئن نہیں ہوں گا، بجز اس کے کہ میرے وجود ہی میں سے کوئی گواہ کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیباً یعنی اچھا ہے لو تم خود ہی اپنا حساب کرلو۔ اس کے بعد اس کے منہ پر مہر کردی جاوے گی اور اس کے اعضاء وجوارح سے کہا جائے گا کہ تم اس کے اعمال بتلاؤ، ہر عضو بول اٹھے گا اور سچی گواہی پیش کر دے گا۔ اس کے بعد اس کی زبان کھول دی جاوے گی تو یہ خود اپنے اعضاء پر ناراض ہو کر کہے گا بعدا لکن وسحقا فعنکن اناضل۔ یعنی تم غارت و برباد ہو میں نے تو دنیا میں جو کچھ کیا تمہارے ہی آرام پہنچانے کیلئے کیا تھا (اب) ہی میرے خلاف گواہی دینے لگے۔
اور حضرت ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران کو کہا جائے گا کہ تو بول اور اس کے اعمال بیان کر، تو انسان کی ران اور گوشت اور ہڈی سب اس کے اعمال کی گواہی دے دیں گے۔ (رواہ مسلم۔ مظہری)
اور حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آنے والا دن انسان کو یہ ندا دیتا ہے کہ میں نیا دن ہوں اور جو کچھ تو میرے اندر عمل کرے گا قیامت میں، میں اس پر گواہی دوں گا۔ اس لئے تجھے چاہئے کہ میرے ختم ہونے سے پہلے پہلے کوئی نیکی کرے کہ میں اس کی گواہی دوں گا اور اگر میں چلا گیا تو پھر تو مجھے کبھی نہ پائے گا۔ اسی طرح ہر رات انسان کو یہ ندا دیتی ہے۔ (ذکرہ ابو نعیم۔ کذا فی القرطبی)
Ayahs 41:26–29خلاصہ تفسیر
اور یہ کافر (باہم) یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور (اگر پیغمبر سنانے بھی لگیں تو) اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو شاید (اس تدبیر سے) تم ہی غالب رہو (اور پیغمبر ہار کر خاموش ہوجاویں) تو (ان کے اس ناپاک ارادے اور عزم کے بدلہ میں) ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھا دیں گے اور ان کو ان کے برے برے کاموں کی سزا دیں گے، یہی سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی یعنی دوزخ ان کے لئے وہاں ہمیشہ رہنے کا مقام ہوگا۔ اس بات کے بدلہ میں کہ وہ ہماری آیتوں میں انکار کیا کرتے تھے (اور جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو) وہ کفار کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھلا دیجئے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ہم ان کو اپنے پیروں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں۔
(یعنی ان کو اس وقت ان لوگوں پر غصہ آوے گا جنہوں نے ان کو دنیا میں بہکایا تھا۔ آدمی بھی اور شیطان بھی خواہ ایک ایک ہوں یا متعدد ہوں۔ اور یوں تو یہ گمراہ کرنے والے بھی سب جہنم میں ہی ہوں گے۔ مگر اس گفتگو کے وقت وہ ان کے سامنے نہیں ہوں گے اس لئے سامنے کی درخواست کی۔ کسی آیت میں یا روایت میں یہ مذکور نہیں دیکھا کہ ان کی یہ درخواست منظور ہوگی یا نہیں۔ واللہ اعلم)
معارف و مسائل
(آیت) لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ۔ کفار جب قرآن کے مقابلہ سے عاجز آگئے اور اس کے خلاف ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں تو اس وقت انہوں نے یہ حرکت شروع کی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابوجہل نے لوگوں کو اس پر آمادہ کیا کہ جب محمد ﷺ قرآن پڑھا کریں تو تم ان کے سامنے جا کر چیخ و پکار اور شور وغل کرنے لگا کرو تاکہ لوگوں کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بعض نے کہا کہ سیٹیاں اور تالیاں بجا کر اور بیچ میں طرح طرح کی آوازیں نکال کر قرآن سننے سے لوگوں کو روکنے کی تیاری کرو۔ (قرطبی)
تلاوت قرآن کے وقت خاموش ہو کر سننا واجب ہے خاموش نہ رہنا کفار کی عادت ہے
آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن میں خلل ڈالنے کی نیت سے شوروغل کرنا تو کفر کی علامت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خاموش ہو کر سننا واجب اور ایمان کی علامت ہے۔ آج کل ریڈیو پر تلاوت قرآن نے ایسی صورت اختیار کرلی ہے کہ ہر ہوٹل اور مجمع کے مواقع میں ریڈیو کھولا جاتا ہے جس میں قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو اور ہوٹل والے خود اپنے دھندوں میں لگے رہتے ہیں اور کھانے پینے میں اپنے شغل میں۔ اس کی صورت وہ بن جاتی ہے جو کفار کی علامت تھی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت فرما دیں کہ یا تو ایسے مواقع میں تلاوت قرآن کیلئے نہ کھولیں اگر کھولنا ہے اور برکت حاصل کرنا ہے تو چند منٹ سب کام بند کر کے خود بھی اس طرف متوجہ ہو کر سنیں دوسروں کو بھی اس کا موقع دیں۔