Ayah 41:30خلاصہ تفسیر
جن لوگوں نے (دل سے) اقرار کرلیا کہ ہمارا رب (حقیقی صرف) اللہ ہے (مطلب یہ ہے کہ شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرلی) پھر (اس پر) مستقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) ان پر (اللہ کی طرف سے رحمت و بشارت کے) فرشتے اتریں گے (اول موت کے وقت پھر قبر میں پھر قیامت میں۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت زید بن اسلم کی روایت سے ثابت ہے اور کہیں گے) کہ تم نہ (احوال آخرت سے) اندیشہ کرو اور نہ (دنیا کے چھوڑنے پر) رنج کرو (کیونکہ آگے تمہارے لئے اس کا نعم البدل اور امن و عافیت ہے) اور تم جنت (کے ملنے) پر خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جایا کرتا تھا، ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے (دنیا میں فرشتوں کا رفیق ہونا یہ ہے کہ وہ انسان کے دل میں نیک کاموں کا الہام کرتے رہتے ہیں، اور کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجائے تو اس پر صبر و سکون فرشتوں ہی کی رفاقت کا اثر ہوتا ہے۔ اور آخرت میں رفیق ہونا تو آمنے سامنے کھل کر ہوگا، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔
(آیت) وتتلقہم الملئکة اور دوسری آیت میں (آیت) یدخلون علیہم من کل باب وغیرہ) اور تمہارے لئے اس (جنت) میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز تمہارے لئے اس میں جو مدد مانگو گے موجود ہے (یعنی جو کچھ زبان سے مانگو گے وہ تو ملے ہی گا۔ بلکہ مانگنے کی بھی ضرورت نہ ہوگی جس چیز کو تمہارا دل چاہے گا موجود ہوجائے گی) یہ بطور مہمانی کے ہوگا۔ غفور رحیم کی طرف سے (یعنی یہ نعمتیں اکرام و اعزاز کے ساتھ اس طرح ملیں گی جس طرح مہمانوں کو ملتی ہیں۔ آگے حسن حال کے بعد حسن مقال و اعمال کو بتایا گیا ہے) اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلائے اور (خود بھی) نیک عمل کرے اور (اظہار اطاعت کے لئے) کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں (یعنی بندگی کو اپنا فخر سمجھے، متکبرین کی طرح اس سے عار نہ کرے) اور (چونکہ دعوت الی اللہ اور اصلاح خلق کا ارادہ کرنے والوں کو اکثر جاہلوں کی طرف سے ایذاؤں اور تکلیفوں کا سامنا ہوتا ہے اس لئے آگے ان کو ظلم کے مقابلہ میں انصاف اور برائی کے بدلہ میں بھلائی کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ نیز تجربہ سے ثابت ہے کہ دعوت کے موثر اور کامیاب ہونے کا بھی یہی طریقہ ہے کہ مخالفین کی ایذاؤں پر صبر کر کے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاوے اس لئے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا جس میں سب مسلمان ضمناً شامل ہیں کہ) نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی (بلکہ ہر ایک کا اثر جدا ہے اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اب) آپ (مع اپنے متبعین کے) نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کیجئے پھر یکایک (آپ دیکھیں گے کہ) آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجاوے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔ (یعنی بدی کا بدلہ بدی سے دینے میں تو عداوت بڑھتی ہے اور نیکی کرنے سے بشرط سلامت طبع دشمن کی عداوت گھٹتی ہے۔ یہاں تک کہ اکثر تو بالکل ہی عداوت جاتی رہتی ہے اور اس معاملہ میں مثل دوست کے ہوجاتا ہے گو دل سے دوست نہ ہو) اور یہ بات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو (اخلاق کے اعتبار سے) بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے جو (ثواب کے اعتبار سے) بڑا صاحب نصیب ہے اور اگر (ایسے وقت میں) آپ کو شیطان کی طرف سے (غصہ کا) کچھ وسوسہ آنے لگے تو (فوراً) اللہ سے پناہ مانگ لیا کیجئے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ (بشرط سلامت طبع کی قید سے یہ خدشہ دور ہوگیا کہ بعض اوقات شریر آدمی پر نرمی کرنے کا الٹا اثر ہوتا ہے، کیونکہ یہ صرف ایسے لوگوں سے متحمل ہے جو اپنی سلامت طبع کھو بیٹھتے ہیں اور وہ شاذ ونادر ہوتے ہیں)۔
معارف و مسائل
شروع سورت سے یہاں تک منکرین قرآن اور منکرین رسالت و توحید سے خطاب ہے۔ ان کو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں پیش نظر کر کے توحید کی دعوت پھر انکار کرنے والوں کا انجام اور عذاب آخرت و دوزخ کا مفصل بیان چلا آیا ہے۔ یہاں سے مومنین و کاملین کے حالات اور دنیا و آخرت میں ان کے اعزازو اکرام کا بیان اور ان کے لئے خاص ہدایات کا ذکر ہے۔ مومنین و کاملین وہی ہوتے ہیں جو خود بھی اپنے اعمال و اخلاق میں مستقیم اور بےکم وکاست بالکل شریعت کے مطابق ہوں اور دوسروں کو بھی اللہ کی طرف دعوت دیں اور ان کی اصلاح کی فکر کریں۔ اسی سلسلہ میں داعیان اسلام کے لئے صبر اور برائی کے بدلہ میں بھلائی کرنے کی ہدایت ہے۔
استقامت کے معنی
پہلے جز کو لفظ استقامت سے تعبیر فرما کر ارشاد ہوا (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا۔ یعنی جن لوگوں نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب یقین کرلیا اور اس کا اقرار بھی کرلیا۔ یہ تو اصل ایمان ہوا، آگے اس پر مستقیم بھی رہے یہ عمل صالح ہوا۔ اس طرح ایمان اور عمل صالح کے جامع ہوگئے۔ لفظ استقامت کا جو مفہوم خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ ایمان و توحید پر قائم رہے اس کو چھوڑا نہیں۔ یہ تفسیر حضرت صدیق اکبر سے منقول ہے اور تقریباً یہی مضمون حضرت عثمان غنی سے منقول ہے، انہوں نے استقامت کی تفسیر اخلاص عمل سے فرمائی ہے اور حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ
”استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکام، اوامر اور نواہی پر سیدھے جمے رہو، اس سے ادھر ادھر راہ فرار لومڑیوں کی طرح نہ نکالو“۔
اس لئے علماء نے فرمایا کہ استقامت تو ایک لفظ مختصر ہے مگر تمام شرائع اسلامیہ کو جامع ہے جس میں تمام احکام الٰہیہ پر عمل اور تمام محرمات و مکروہات سے اجتناب دائمی طور پر شامل ہے۔ تفسیر کشاف میں ہے کہ انسان کا ربنا اللہ کہنا جبھی صحیح ہوسکتا ہے جبکہ وہ دل سے یقین کرے کہ میں ہر حال اور ہر قدم میں اللہ تعالیٰ کی زیرتربیت ہوں مجھے ایک سانس بھی اس کی رحمت کے بغیر نہیں آسکتا اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان طریق عبادت پر ایسا مضبوط و مستقیم رہے کہ اس کا قلب اور قالب دونوں اس کی عبودیت سے سرمو انحراف نہ کریں۔
اس لئے جب رسول اللہ ﷺ سے حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی نے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے اسلام کی ایک جامع بات بتلا دیجئے جس کے بعد مجھے کسی سے اور کچھ نہ پوچھنا پڑے تو آپ نے فرمایا، قل امنت باللہ ثم استقم (رواہ مسلم) یعنی تم اللہ پر ایمان لانے کا اقرار کرو، پھر اس پر مستقیم رہو۔ مستقیم رہنے کی ظاہر مراد یہی ہے کہ ایمان پر بھی مضبوطی سے جمے رہو اور اس کے اقتضاء کے مطابق اعمال صالحہ پر بھی۔
اسی لئے حضرت علی اور ابن عباس نے استقامت کی تعریف ادائے فرائض سے فرمائی اور حضرت حسن بصری نے فرمایااستقامت یہ ہے کہ تمام اعمال میں اللہ کی اطاعت کرو اور اس کی معصیت سے اجتناب کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ استقامت کی جامع تعریف وہی ہے جو اوپر حضرت فاروق اعظم سے نقل کی گئی ہے اور حضرت صدیق اکبر اور حضرت عثمان غنی کی تعریف بھی اسی کی طرف راجع ہے جس میں اعمال صالحہ کے ساتھ اخلاص عمل کی تاکید ہے۔ (تفسیر مظہری) جصاص نے بھی مذکورہ تفسیر کو ابو العالیہ سے نقل کر کے اختیار کیا ہے اور ابن جریر نے بھی۔
(آیت) تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔ فرشتوں کا نزول اور وہ خطاب جو اس آیت میں آیا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ موت کے وقت ہوگا اور قتادہ نے فرمایا کہ محشر میں قبروں سے نکلنے کے وقت ہوگا اور وکیع بن جراح نے فرمایا کہ تین وقتوں میں ہوگا۔ اول موت کے وقت پھر قبروں کے اندر پھر محشر میں قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ اور ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ مومنین پر فرشتوں کا نزول ہر روز ہوتا ہے جس کے آثار و برکات ان کے اعمال میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ مشاہدہ اور ان کے کلام کا سننا یہ انہیں مواقع میں ہوگا۔
اور ابونعیم نے حضرت ثابت بنانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے سورة حم السجدہ کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ آیت تـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ پر پہنچے تو فرمایا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ مومن جس وقت اپنی قبر سے اٹھے گا تو دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہا کرتے تھے وہ ملیں گے اور اس کو کہیں گے کہ تم خوف و غم نہ کرو بلکہ جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ان کا کلام سن کر مومن کو اطمینان ہوجائے گا۔ (مظہری)
Ayahs 41:31–32وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۔ فرشتے مومنین و مخلصین کو بتلائیں گے کہ تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے اور ہر وہ چیز جو تم مانگو۔ اس کا حاصل تو یہ ہے کہ تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی، خواہ تم مانگو یا نہ مانگو۔ آگے نزلاً بمعنی مہمانی فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی تمنا بھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔ جیسا کہ مہمان کے سامنے بہت سی وہ چیزیں بھی آتی ہیں جن کا پہلے سے کوئی تصور نہیں ہوتا خصوصاً کسی بڑے کا مہمان ہو۔ (مظہری)
حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں کسی پرندے کو اڑتا ہوا دیکھ کر تمہارے دل میں اس کا گوشت کھانے کی خواہش پیدا ہوگی تو وہ اسی وقت بھنا بھنایا تمہارے سامنے آ گرے گا۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ نہ آگ سے مس ہوگا نہ دھوئیں سے، خود بخود پک کر سامنے آ جاوے گا (رواہ البزار والبیہقی عن ابن مسعود۔ مظہری)
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کو جنت میں اگر اپنے گھر میں بچہ پیدا ہونے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل اور وضع حمل پھر اس کا دودھ چھڑانا پھر جوان ہونا سب ایک ساعت میں ہوجائے گا۔ (ترمذی و بیہقی وغیرہ۔ مظہری)
Ayah 41:33وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ۔ یہ مومنین کاملین کا دوسرا حصہ احوال ہے کہ وہ صرف خود ہی اپنے ایمان و عمل پر قناعت نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں۔ اور فرمایا کہ اس سے اچھا کس کا قول ہوسکتا ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔ معلوم ہوا کہ انسان کے کلام میں سب سے افضل و احسن وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوت حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الی اللہ کی سب صورتیں داخل ہیں۔ زبان سے تحریر سے یا کسی عنوان سے، اذان دینے والا بھی اس میں داخل ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو نماز کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لئے حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ یہ آیت موذنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اس دعا الیٰ اللہ کے بعد عمل صالحاً آیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت نماز پڑھ لے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اذان و اقامت کے درمیان جو دعا کی جاتی ہے وہ رد نہیں ہوتی۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی عن انس۔ مظہری)
اذان اور جواب اذان کے فضائل و برکات احادیث صحیحہ میں بہت بڑے ہیں۔ بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے اذان دے، اجرت و معاوضہ پیش نظر نہ ہو۔ احادیث میں اس جگہ تفسیر مظہری میں جمع کردی ہیں۔
Ayahs 41:34–36(آیت) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ، یہاں سے دعوت الیٰ اللہ کی خدمت انجام دینے والوں کو خاص ہدایات دی گئی ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیں بلکہ صبر اور احسان سے کام لیں اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ یعنی داعیان حق کی خصلت یہ ہونی چاہئے کہ وہ لوگوں کو برائی کو طریق احسن سے دفع کریں۔ وہ یہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ لینا اور معاف کردینا تو عمل حسن ہے اور۔ احسن یہ ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا، تم اس کو معاف بھی کردو اور اس کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ جو شخص تم پر غصہ کا اظہار کرے، تم اس کے مقابلہ میں صبر سے کام لو۔ جو تمہارے ساتھ جہالت سے پیش آوے تم اس کے ساتھ حلم و بردباری کا معاملہ کرو اور جس نے تمہیں ستایا اس کو معاف کردو۔ (مظہری)
بعض روایات میں ہے کہ صدیق اکبر کو کسی شخص نے گالی دی یا برا کہا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اپنے کلام میں سچے ہو کہ میں مجرم وخطا وار اور برا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے، اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرما دے۔ (قرطبی)
Ayah 41:37خلاصہ تفسیر
اور منجملہ اس کی (قدرت و توحید) کی نشانیوں کے رات اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے (پس) تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (جیسا کہ صائبین ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے کما فی الکشاف) اور (صرف) اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان (سب) نشانیوں کو پیدا کیا۔ اگر تم کو خدا کی عبادت کرنا ہے (یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا ہے تو وہ صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو، مشرکین کی طرح اللہ کی عبادت کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں شریک کردیا تو پھر وہ اللہ کی عبادت نہیں رہتی) پھر اگر یہ لوگ (توحید کی عبادت اختیار کرنے اور اپنی آبائی رسوم شرک کو چھوڑنے سے عار) اور تکبر کریں تو (ان کی حماقت ہے، کیونکہ) جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں وہ شب وروز اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ (اس سے ذرا) نہیں اکتاتے (جب اللہ کے مقرب فرشتے جو ان لوگوں سے لاکھوں درجہ مکرم و معظم ہیں ان کو عار نہیں تو ان احمقوں کو عار کرنے کی کیا موقع ہے) اور منجملہ اس کی (قدرت و توحید) کی نشانیوں کے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے دبی دبائی (پڑی) ہے۔ پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے (اس کے توحید پر بھی استدلال ہوتا ہے اور بعث یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر بھی کیونکہ) جس نے زمین کو (اس کے مناسب) زندہ کردیا وہی مردوں کو (ان کے مناسب) زندہ کر دے گا، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
معارف و مسائل
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں
(آیت) لَا تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ سجدہ صرف خالق کائنات کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی ستارے یا انسان وغیرہ کو سجدہ کرنا حرام ہے، خواہ وہ عبادت کی نیت سے ہو یا محض تعظیم و تکریم کی نیت سے، دونوں صورتیں باجماع امت حرام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو عبادت کی نیت سے کسی کو سجدہ کرے گا وہ کافر ہوجاوے گا اور جس نے محض تعظیم و تکریم کے لئے سجدہ کیا اس کو کافر نہ کہیں گے مگر ارتکاب حرام کا مجرم اور فاسق کہا جائے گا۔
سجدہ عبادت تو اللہ کے سوا کسی کو کسی امت و شریعت میں حلال نہیں رہا۔ کیونکہ وہ شرک میں داخل ہے۔ اور شرک تمام شرائع انبیاء میں حرام رہا ہے۔ البتہ کسی کو تعظیماً سجدہ کرنا، یہ پچھلی شریعتوں میں جائز تھا۔ دنیا میں آنے سے پہلے حضرت آدم ؑ کے لئے سب فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا۔ یوسف ؑ کو ان کے والد اور بھائیوں نے سجدہ کیا جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے مگر باتفاق فقہاء امت یہ حکم ان شریعتوں میں تھا۔ اسلام میں منسوخ قرار دیا گیا اور غیر اللہ کو سجدہ مطلقاً حرام قرار دیا گیا۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل احقر کے رسالہ ”المقالة المرضیہ فی حکم سجدة التحیہ“ میں مذکور ہے جو بزبان عربی ہے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
Ayahs 41:38–39(آیت) وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ۔ اس پر تو امت کا اجماع ہے کہ اس سورت میں سجدہ تلاوت واجب ہے مقام سجدہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت علی اور ابن مسعود ؓ پہلی آیت کے ختم پر سجدہ کرتے تھے یعنی (آیت) اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ پر اور اسی کو امام مالک نے اختیار فرمایا ہے اور حضرت ابن عباس دوسری آیت کے آخر یعنی لا یسمون پر سجدہ کرتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی یہی فرمایا کہ دوسری آیت کے ختم پر سجدہ کریں۔ مسروق، ابو عبدالرحمن سلمی، ابراہیم نخعی، ابن سیرین، قتادہ وغیرہ، جمہور فقہاء لا یسمون۔ ہی پر سجدہ کرتے تھے۔ امام ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ یہی مذہب تمام ائمہ حنفیہ کا ہے اور فرمایا کہ اختلاف کی بنا پر احتیاط بھی اسی میں ہے کہ دوسری آیت کے ختم پر سجدہ کیا جائے کیونکہ اگر سجدہ پہلی آیت سے واجب ہوچکا ہے تو وہ اب ادا ہوجائے گا اور اگر اسی آیت سے واجب ہے تو اس کا ادا ہونا خود ظاہر ہے۔
Ayah 41:40خلاصہ تفسیر
بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں (یعنی یہ کہ ہماری آیتوں کا تقاضا ان پر ایمان لانے، پھر ان پر استقامت رکھنے کا ہے، اس کو چھوڑ کر ان کی تکذیب کرتے ہیں (کما فی الدر المنثور عن قتادہ) وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں (ان کو ہم جہنم کا عذاب دیں گے) سو بھلا جو شخص جہنم میں ڈالا جائے (جیسے کافر) وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن وامان کے ساتھ (جنت) میں آئے (آگے ان کو ڈرانے کے لئے ارشاد ہے کہ) جو جی چاہے (خوب) کرلو وہ تمہارا سب کچھ کیا ہوا دیکھ رہا ہے (ایک دفعہ ہی سزا دے گا) جو لوگ اس قرآن کا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچتا ہے انکار کرتے ہیں (ان میں خود تدبر کی کمی ہے) اور (اس قرآن میں کوئی کمی نہیں کیونکہ) یہ (قرآن) بڑی وقعت کتاب ہے جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے کی طرف سے آسکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے (یعنی اس میں کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں کہ یہ قرآن منزل من اللہ نہ ہو۔ اور پھر خلاف واقعہ اس کو منزل من اللہ کہہ دیا جائے جیسا کفار آپ پر یہی شبہ کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ سے اس شبہ خاص کا ازالہ کردیا اس طرح کہ اس کا اعجاز سب کے نزدیک مسلم ہے اس لئے یہ ثابت ہوگیا کہ) یہ خدائے حکیم محمود (الذات والصفات) کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور باوجود اس کے جو یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ معلوم کر کے تسلی کرلیجئے کہ) آپ کو وہی باتیں (تکذیب و ایذاء کی) کہی جاتی ہیں۔ جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہی گئی ہیں (انہوں نے صبر کیا تھا آپ بھی صبر کیجئے اور اس سے بھی تسلی حاصل کیجئے کہ) آپ کا رب بڑی مغفرت والا اور دردناک سزا دینے والا ہے۔ (پس اگر یہ مخالفین خلاف سے باز آ کر مستحق مغفرت نہ ہوگئے تو ان کو سزا بھی دوں گا، پھر آپ کا ہے کے لئے پریشان ہوں) اور (یہ لوگ ایک شبہ یہ کرتے ہیں کہ قرآن کا کچھ حصہ عجمی بھی ہونا چاہئے تھا، جیسا کہ تفسیر در منثور میں قریش کا ایسا قول حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے جس سے اس کا اعجاز خوب ظاہر ہوتا، کہ نبی کریم جو عجمی زبان نہیں جانتے وہ عجمی میں تکلم کریں سو بات یہ ہے کہ) اگر ہم اس کو (کلا یا بعضاً) عجمی (زبان کا) قرآن بناتے (تو یہ ہرگز نہ ہوتا کہ اس کو مان لیتے بلکہ اس میں ایک اور حجت نکالتے کیونکہ جب ماننے اور سمجھنے کا ارادہ نہیں ہوتا تو ہر تقدیر پر کچھ نہ کچھ شاخ نکال لی جاتی ہے چناچہ اگر ایسا ہوتا) تو یوں کہتے کہ اس کی آیتیں (اس طرح) صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں (کہ ہم سمجھ لیتے یعنی عربی میں کیوں نہیں آیا۔ اگر بعض عجمی ہوتا تو کہتے یہ بعض بھی عربی کیوں نہیں ہے اور یوں کہتے کہ) یہ کیا بات ہے کہ عجمی کتاب اور رسول عربی (خلاصہ یہ ہے کہ اب جو قرآن عربی ہے تو کہتے ہیں عجمی کیوں نہیں اور اگر عجمی ہوتا تو کہتے عربی کیوں نہیں کسی حال پر ان کو قرار نہیں پھر عجمی ہونے سے کیا فائدہ۔ آگے اس مضمون سے جواب دینے کا حکم ہے کہ اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن ایمان والوں کے لئے تو (نیک کاموں کے بتلانے میں) رہنما ہے اور (برے کاموں سے جو روگ دلوں میں پیدا ہوجاتے ہیں جب اس قرآن کی رہنمائی پر عمل کیا جائے تو یہ ان روگوں سے) شفا ہے (پس چونکہ ایمان والوں میں تدبر و طلب حق کی کمی نہ تھی، ان کے حق میں قرآن اپنی حقانیت کے سبب نافع ہوا) اور جو (باوجود ظہور حق کے عناداً) ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے (جس سے حق کو انصاف اور تدبر سے نہیں سنتے اور وہ کمی یہی ہے) اور (اسی کمی کی وجہ سے) وہ قرآن ان کے حق میں نابینائی ہے (قلت تدبر وقلت انصاف سے تعصب میں قوت رہتی ہے اور تعصب ہدایت قبول کرنے سے مانع بلکہ زیادہ گمراہی کا سبب ہوجاتا ہے۔ نابینائی کا سبب ہونے کی یہ وجہ ہے، جیسے آفتاب عالم کو روشنی دیتا ہے چمگادڑ کو اندھا کردیتا ہے اور) یہ لوگ (حق بات سننے کے باوجود نفع سے محروم رہتے ہیں ایسے ہیں کہ گویا کسی دور جگہ سے پکارے جا رہے ہیں (کہ آواز سنتے ہوں مگر سمجھتے نہ ہوں) اور (آپ کی تسلی کے لئے جیسا اوپر مجملاً رسولوں کا ذکر ہوا ہے اب خاص موسیٰ ؑ کا ذکر ہوتا ہے کہ) ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی سو اس میں بھی اختلاف ہوا (کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، یہ کوئی نئی بات آپ کے لئے نہیں ہوئی، پس آپ مغموم نہ ہوں) اور (یہ منکرین ایسے عذاب مستحق میں کہ) اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے کہ (پورا عذاب ان کو آخرت میں دوں گا) تو ان کا (قطعی) فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ (باوجود قیام براہین کے) ابھی تک اس (فیصلہ یعنی عذاب موعود) کی طرف سے ایسے شک میں (پڑے) ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے (کہ ان کو عذاب کا یقین ہی نہیں آتا حالانکہ فیصلہ ضرور واقع ہوگا اور اس فیصلہ کا حاصل یہ ہے کہ) جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کے لئے (یعنی وہاں اس کا نفع اور ثواب پاوے گا) اور جو شخص برا عمل کرتا ہے اس کا وبال (یعنی ضرور عذاب) اسی پر پڑے گا اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں (کہ کوئی نیکی جو شرائط کے مطابق عمل میں لائی گئی ہو اس کو شمار نہ کرے یا کسی بدی کو زائد شمار کرے)۔
معارف و مسائل
کفر کی ایک خاص قسم الحاد ہے۔ اس کی تعریف اور احکام
(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔ اس سے پہلی آیات میں ان منکرین توحید و رسالت کو زجر و تنبیہ اور ان کے عذاب کا ذکر تھا جو رسالت و توحید کا کھل کر صاف انکار کرتے تھے۔ یہاں سے انکار کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جاتا ہے جس کا نام الحاد ہے۔ لحد اور الحاد کے لغوی معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ قبر کی لحد کو بھی اسی لئے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف مائل ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں آیات قرآنی سے عدول و انحراف کو الحاد کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے اعتبار سے تو یہ عام ہے صراحتہ کھلے طور پر انکار و انحراف کرے یا تلاوت فاسدہ کے بہانہ سے انحراف کرے۔ لیکن عام طور سے الحاد ایسے انحراف کو کہتے ہیں کہ ظاہر میں تو قرآن اور اس کی آیات پر ایمان و تصدیق کا دعویٰ کرے مگر ان کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن و سنت کی نصوص اور جمہور امت کے خلاف ہوں اور جس سے قرآن کا مقصد ہی الٹ جائے۔ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں الحاد کے معنی یہی منقول ہیں فرمایا الا لحاد ھو وضع الکلام علیٰ غیر موضعہ۔ اور آیت مذکورہ میں ارشاد (آیت) لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا بھی اس کا قرینہ ہے کہ الحاد کوئی ایسا کفر ہے جس کو یہ لوگ چھپانا چاہتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہم سے اپنا کفر نہیں چھپا سکتے۔
اور آیت مذکورہ نے صراحتہ یہ بتلا دیا کہ آیات قرانی سے انکار و انحراف صاف اور کھلے لفظوں میں ہو یا معافی میں تاویلات باطلہ کر کے قرآن کے احکام کو بدلنے کی فکر کرے یہ سب کفر و ضلال ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ الحاد ایک قسم کا کفر نفاق ہے کہ ظاہر میں قرآن اور آیات قرآن کو ماننے کا دعویٰ اور اقرار کرے لیکن آیات قرآنی کے معانی ایسے گھڑے جو دوسرے نصوص قرآن و سنت اور اصول اسلام کے منافی ہوں۔ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا۔
ایسے ہی وہ زندیق لوگ ہیں جو الحاد کرتے ہیں اور بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ملحد اور زندیق دونوں ہم معنی ہیں، جو ایسے کافر کو کہا جاتا ہے جو ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرے اور حقیقت میں اس کے احکام کی تعمیل سے انحراف کا یہ بہانہ بنائے کہ قرآن کے معنی ہی ایسے گھڑے جو خلاف نصوص و خلاف اجماع امت ہوں۔
ایک مغالطہ کا ازالہ
کتب عقائد میں ایک ضابطہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ متاؤل کو کافر نہیں کہنا چاہئے یعنی جو شخص عقائد باطلہ اور کلمات کفریہ کو کسی تاویل سے اختیار کرے وہ کافر نہیں۔ لیکن اس ضابطہ کا مفہوم اگر عام لیا جائے کہ کیسے ہی قطعی اور یقینی حکم میں تاویل کرے اور کیسی ہی فاسد تاویل کرے وہ بہرحال کافر نہیں تو اس کا نتیجہ یہ لازم آتا ہے کہ دنیا میں مشرکین، بت پرست اور یہود و نصاریٰ میں سے کسی کو بھی کافر نہ کہا جائے۔ کیونکہ بت پرست مشرکین کی تاویل تو قرآن میں مذکور ہے۔ (آیت) ما نعبدہم الا لیقربونا الیٰ اللہ زلفیٰ۔ یعنی ہم بتوں کی فی نفسہ عبادت نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ سفارش ہمیں کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں، تو درحقیقت عبادت اللہ ہی کی ہے۔ مگر قرآن نے ان کی اس تاویل کے باوجود انہیں کافر کہا، یہود و نصاریٰ کی تاویلیں تو بہت ہی مشہور و معروف ہیں۔ جن کے باوجود قرآن وسنت کی نصوص میں ان کو کافر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متاؤل کو کافر نہ کہنے کا مفہوم عام نہیں۔
اسی لئے علماء وفقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ تاویل جو تکفیر سے مانع ہوتی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ ضروریات دین میں ان کے مفہوم قطعی کے خلاف نہ ہو۔ ضروریات دین سے مراد وہ احکام و مسائل ہیں جو اسلام اور مسلمانوں میں اتنے متواتر اور مشہور ہوں کہ مسلمانوں کے ان پڑھ جاہلوں تک کو بھی ان سے واقفیت ہو جیسے پانچ نمازوں کا فرض ہونا۔ صبح کی دو ظہر کی چار رکعت کا فرض ہونا۔ رمضان کے روزے فرض ہونا۔ سود، شراب، خنزیر کا حرام ہونا وغیرہ۔ اگر کوئی شخص ان مسائل سے متعلق آیات قرآن میں ایسی تاویل کرے جس سے مسلمانوں کا متواتر اور مشہور مفہوم الٹ جائے، وہ بلاشبہ باجماع امت کافر ہے، کیونکہ وہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے انکار ہے اور ایمان کی تعریف جمہور امت کے نزدیک یہی ہے کہ
یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرنا ان تمام امور میں جن کا بیان کرنا اور حکم کرنا رسول اللہ ﷺ سے ضرورتاً ثابت ہو یعنی ایسا یقینی ثابت ہو کہ علماء کے سوا عوام بھی اس کو جانتے ہوں۔
اس لئے کفر کی تعریف اس کے بالمقابل یہ ہوگی کہ جن چیزوں کا لانا رسول اللہ ﷺ سے ضروری اور قطعی طور پر ثابت ہو ان میں سے کسی کا انکار کفر ہے۔
تو جو شخص ایسی ضروریات دین میں تاویل کر کے اس حکم کو بدلے وہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کا انکار کرتا ہے۔
اس زمانہ میں کفر و الحاد کی گرم بازاری
اس زمانے میں ایک طرف تو دین اور احکام دین سے جہالت اور غفلت انتہا کو پہنچ گئی کہ نئے لکھے پڑھے لوگ بہت سی ضروریات دین سے بھی ناواقف رہتے ہیں۔ دوسری طرف جدید بے خدا تعلیم جس کی بنیاد ہی مادہ پرستی پر ہے، کچھ اس اثر سے، اس پر مزید یورپ کے مستشرقین کے پھیلائے ہوئے اسلام کے خلاف شبہات و ادہام سے متاثر ہو کر بہت سے ایسے لوگوں نے اسلام اور اصول اسلام پر بحث و گفتگو شروع کردی ہے جن کو اسلام کے اصول و فروع، قرآن و حدیث کے علوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے اسلام کے معلق اگر کچھ معلومات بھی حاصل کی ہیں تو اہل یورپ دشمنان اسلام سے حاصل کی ہیں۔ ایسے لوگوں نے قرآن و حدیث کی نصوص قطعیہ ضروریہ میں طرح طرح کی باطل تاویلیں کر کے شریعت اسلام کے متفق علیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت شدہ احکام کی تحریف کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ کھلا کفر ہے تو وہ مشہور ضابطہ کا سہارا لیتے ہیں کہ ہم اس حکم کے منکر تو نہیں بلکہ ایک تاویل کر رہے ہیں اس لئے ہم پر یہ کفر عائد نہیں ہوتا۔
اسی لئے وقت کی اہم ضرورت سمجھ کر ہمارے استاد حجة الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ہے اکفار الملحدین والمتاؤلین فی شئی من ضروریات الدین۔ اس میں ہر طبقہ ہر مسلک کے علماء و فقہاء کی تصریحات سے ثابت کیا ہے کہ ضروریات دین میں کسی کی تاویل مسموع نہیں۔ اور یہ تاویل ان کی تکفیر سے مانع نہیں۔ یہ کتاب عربی شائع ہوئی ہے، احقر نے اس کا خلاصہ اردو زبان میں بنام ”ایمان اور کفر قرآن کی روشنی میں“ شائع کردیا ہے۔ اور احکام القرآن حزب خامس میں اس کا خلاصہ بزبان عربی بیان کردیا ہے، اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی ایک تحریر سے نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز نے فرمایا کہ آیات قرآنی میں تاویل باطل جس کو قرآن کی آیت مذکورہ میں الحاد فرمایا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ اول وہ تاویل باطل جو نصوص قطعیہ متواترہ یا اجماع قطعی کے خلاف ہو وہ تو بلاشبہ کفر ہے۔ دوسری یہ کہ وہ ایسی نصوص کے خلاف ہو جو اگرچہ ظنی میں مگر قریب بہ یقین ہیں یا اجماع عرفی کے خلاف ہو، ایسی تاویل گمراہی اور فسق ہے، کفر نہیں۔ ان دو قسم کی تاویلوں کے علاوہ باقی تاویلات جو قرآن و حدیث کے الفاظ میں مختلف احتمالات ہونے کی بنا پر ہوں۔ وہ تاویل عام فقہاء امت کا میدان اجتہاد ہے جو بتصریح حدیث ہر حال میں باعث اجر وثواب ہے۔
Ayah 41:41(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بالذِّكْرِ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ۔ جمہور مفسرین نے فرمایا کہ ذکر سے مراد یہاں قرآن ہے اور جملہ (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بالذِّكْرِ یہ سابق جملہ اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ سے بدل ہے اور بقاعدہ عربیت بدل اور مبدل منہ کا ایک حکم ہوتا ہے اس لئے اس کا حاصل یہ ہوا کہ یہ لوگ ہم سے چھپ نہیں سکتے اور اس لئے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ آگے قرآن کے محفوظ منجانب اللہ ہونے کو بیان فرمایا ہے کہ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ۔ یعنی یہ کتاب اللہ کے نزدیک عزیز و کریم ہے، کوئی باطل اس میں راستہ نہیں پاسکتا (کماروی عن ابن عباس۔ مظہری)
Ayahs 41:42–43(آیت) لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ۔ آگے اس کتاب کے لئے منجانب اللہ حفاظت کا بیان ہے۔ قتاوہ اور سدی نے فرمایا کہ باطل سے مراد شیطان ہے اور مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ یعنی نہ سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے، اس سے مراد تمام جوانب ہیں۔ مطلب یہ کہ شیطان کا کوئی تصرف و تدبیر اس کتاب میں نہیں چلتی کہ وہ اس کتاب میں کمی و بیشی یا کوئی تحریف کرسکے۔
تفسیر مظہری میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ شیطان اس جگہ عام ہے شیطان الجن ہو یا آدمی شیطان کسی کی تحریف و تبدیل قرآن میں نہیں چلتی جیسے بعض روافض نے قرآن میں دس پاروں کا، بعض نے خاص خاص آیات کا اضافہ کرنا چاہا مگر کسی کی بات نہ چلی۔
ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ باطل اپنے الفاظ کے اعتبار سے شیطان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہر باطل و مبطل شیطان کی طرف سے ہو یا کسی دوسرے کی طرف سے، قرآن میں وہ نہیں چل سکتا۔ پھر بحوالہ طبری آیت کا یہ مفہوم بتلایا کہ کسی اہل باطل کی مجال نہیں کہ سامنے آ کر اس کتاب میں کوئی تغیر و تبدل کرے اور نہ اس کی مجال ہے کہ پیچھے سے چھپ کر اس کے معانی میں تحریف اور الحاد کرے۔
طبری کی تفسیر اس مقام سے بہت زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ قرآن میں الحادو تحریف کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ کوئی اہل باطل کھلے طور پر قرآن میں کوئی کمی وبیشی کرنا چاہے اس کو تو من بین یدیہ سے تعبیر فرمایا۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص بظاہر دعویٰ ایمان کا کرے، مگر چھپ کر تاویلات باطلہ کے ذریعہ قرآن کے معنی میں تحریف کرے، اس کو من خلفہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کے نزدیک ایسی عزیز و کریم ہے کہ نہ اس کے الفاظ میں کوئی کمی و بیشی اور تحریف و تبدیل پر کسی کو قدرت ہے اور نہ معانی میں تحریف کر کے قرآن کے احکام بدل دینے کی مجال ہے۔ جب کبھی کسی بدبخت نے اس کا ارادہ کیا وہ ہمیشہ رسوا ہوا۔ قرآن اس کی ناپاک تدبیر سے پاک صاف رہا۔ الفاظ میں تحریف و تبدیل کی راہ نہ ہونا تو ہر شخص دیکھتا سمجھتا ہے کہ تقریباً چودہ سو سال سے ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔ لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ ایک زیر زبر کی غلطی کسی سے ہوجائے تو بوڑھوں سے لے کر بچوں تک، عالموں سے لے کر جاہلوں تک لاکھوں مسلمان اس کی غلطی پکڑنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ من خلفہ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کی حفاظت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے انا لہ لحفظون وہ صرف الفاظ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس کے معانی کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ ہی کفیل ہے۔ اس نے اپنے رسول ﷺ اور ان کے بلاواسطہ شاگردوں یعنی صحابہ کرام کے ذریعہ معانی قرآن اور احکام قرآن کو بھی ایسا محفوظ کردیا ہے کہ کوئی ملحد بےدین اس میں تاویلات باطلہ کے ذریعہ تحریف کا ارادہ کرے تو ہر جگہ ہر زمانے میں ہزاروں علماء اس کی تردید کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ خائب و خاسر ہوتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ آیت انا لہ لحافظون میں ضمیر لہ قرآن کی طرف راجع ہے اور قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ نظم ومعنی دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔
خلاصہ آیات مذکورہ کے مضمون کا یہ ہوگیا کہ جو لوگ بظاہر مسلمان ہیں، اس لئے کھل کر قرآن کا انکار تو نہیں کرتے مگر آیات قرآنی میں تاویلات باطلہ سے کام لے کر ان کو ایسے مطلب پر محمول کرتے ہیں جو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی قطعی تصریحات کے خلاف ہے۔ ان کی تحریف سے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ایسا محفوظ کردیا ہے کہ یہ گھڑے ہوئے معانی کسی کے چل نہیں سکتے۔ قرآن و حدیث کی دوسری نصوص اور علماء امت اس کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ اور احادیث صحیحہ کی تصریح کے مطابق قیامت تک مسلمانوں میں ایسی جماعت قائم رہے گی جو تحریف کرنے والوں کی تحریف کا پردہ چاک کر کے قرآن کے صحیح مفہوم کو واضح کردے۔ اور دنیا سے وہ اپنے کفر کو کیسا ہی چھپائیں اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے۔ اور جب اللہ تعالیٰ ان کی اس سازش سے باخبر ہے تو ان کو اس کی سزا ملنا بھی ضروری ہے۔
Ayahs 41:44–46(آیت) ءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ۔ عرب کے سوا جتنی قومیں دنیا میں ہیں ان سب کو عجم کہا جاتا ہے اور جب اس پر حرف ہمزہ بڑھا کر اعجم کہا جائے تو اس کے معنی کلام غیر فصیح کے ہوتے ہیں۔ اس لئے عجمی اس شخص کو کہیں گے جو عربی نہ ہو، اگرچہ کلام فصیح بولتا ہو۔ اور اعجمی اس کو جو کلام فصیح نہ کرسکے۔ (قرطبی)
آیت مذکورہ میں اعجمی فرمایا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم قرآن کو عربی زبان کے علاوہ کسی زبان میں بھیجتے تو قریش عرب جو قرآن کے پہلے مخاطب ہیں ان کو یہ شکایت ہوتی کہ یہ کتاب ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور تعجب سے کہتے کہ نبی تو عربی ہے اور کتاب اعجمی ہے جو فصیح نہیں۔
(آیت) قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ۔ یہاں قرآن کریم کی دو صفتیں بتلائی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہدایت ہے، زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کو ایسا راستہ بتاتا ہے جو اس کے لئے نافع ومفید ہی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ شفاء ہے۔ قرآن کریم کا امراض باطنہ کفر وشرک، کبر وحسد، حرص وطمع وغیرہ سے شفا ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ ظاہری اور جسمانی امراض سے شفاء ہونا بھی اس میں داخل ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ بہت سے جسمانی امراض کا علاج قرآنی دعاؤں سے ہوتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے۔
(آیت) اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ۔ یہ ایک تمثیل ہے جو آدمی کلام کو سمجھتا ہو، عرب اس کو کہتے ہیں۔ انت تسمع من قریب۔ یعنی تم قریب سے سن رہے ہو اور جو کلام کو نہ سمجھے اس کو کہتے ہیں انت تنادیٰ من بعید، یعنی تمہیں دور سے آواز دی جا رہی ہے۔ (قرطبی)
مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ قرآنی ہدایات کو سننے اور سمجھنے کا ارادہ نہیں رکھتے اس لئے گویا ان کے کان بہرے ہیں، اور آنکھیں اندھی ہیں۔ ان کو ہدایت کی تعلیم دینا ایسا ہے جیسا کسی کو بہت دور سے پکارا جائے کہ اس کے کانوں تک اس کی آواز نہ پہنچے۔
Ayahs 41:47–50خلاصہ تفسیر
(اوپر جس قیامت کا ذکر ہے کہ اس میں ان کو جزا ملے گی اس) قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے (یعنی اس سوال کے جواب میں کہ قیامت کب آوے گی جیسا کہ کفار بغرض انکار ایسا کہا کرتے تھے یہی کہا جاوے گا کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا) اور (قیامت ہی کی کیا تخصیص ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے حتیٰ کہ) کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (اور اس اطلاع کی وجہ اس کی صفت علم کا ذاتی ہونا ہے جو بوجہ اعلیٰ درجہ کے کمال ہونے کے دلیل توحید بھی ہے۔ اور دلیل علم قیامت کی بھی ہے۔ پس اس سے دونوں مضمونوں کی تائید ہوگئی) اور (آگے اس قیامت کے ایک واقعہ کا ذکر ہے جس سے اثبات توحید وابطال شرک بھی ہوتا ہے یعنی) جس روز اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ (جن کو تم نے میرا شریک قرار دے رکھا تھا وہ) میرے شریک (اب) کہاں ہیں (ان کو بلاؤ کہ تم کو اس مصیبت سے بچاویں) وہ کہیں گے کہ (اب تو) ہم آپ سے یہی عرض کرتے ہیں کہ ہم میں کوئی (اس عقیدہ کا) مدعی نہیں (یعنی اپنی غلطی کے مقر ہیں چونکہ وہاں حقائق عقائد منکشف ہوجاویں گے۔ پس یہ اقرار یا تو اضطراری ہے یا اس لئے ہے کہ اس سے کچھ توقع نجات کی ہو) اور جن جن کو یہ لوگ پہلے سے (یعنی دنیا میں) پوجا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجاویں گے اور (جب یہ احوال دیکھیں گے تو) یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں (اس وقت جھوٹے خداؤں کا بےبس ہونا اور الہ واحد کا حق ہونا معلوم ہوجاوے گا آگے شرک و کفر کا ایک بڑا اثر طبیعت انسانی پر بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص توحید و ایمان سے بےبہرہ ہے اس) آدمی (کے اخلاق و عقائد و اعمال ایسے برے ہوتے ہیں کہ ایک تو کسی حالت میں یعنی فراخی اور تنگی دونوں میں) ترقی کی خواہش سے اس کا جی نہیں بھرتا (جو انتہائی حرص کی علامت ہے) اور (خاص حالت تنگی وغیرہ میں یہ کیفیت ہے کہ) اگر اس کو کچھ تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید اور ہراساں ہوجاتا ہے (اور یہ انتہائی ناشکری اور اللہ تعالیٰ سے بدگمانی کی علامت ہے) اور (جب تنگی دور ہوجاتی ہے تو اس وقت اس کی یہ کیفیت ہے کہ) اگر ہم اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی تھی اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہئے تھا) کیونکہ میری تدبیر و لیاقت و فضیلت اسی کی مقتضی تھی اور یہ بھی انتہائی ناشکری اور تکبر ہے) اور (اس نعمت میں یہاں تک پھولتا ہے اور بھولتا ہے کہ یوں بھی کہتا ہے کہ) میں قیامت کو آنے والا نہیں خیال کرتا اور اگر (بفرض محال آئی بھی اور) میں اپنے رب کے پاس پہنچایا بھی گیا (جیسا نبی کہتے ہیں) تو میرے لئے اس کے پاس بھی بہتری ہی ہے (کیونکہ میں حق پر ہوں اور اس کا مستحق ہوں۔ قیامت کا انکار جو غایت درجہ کفر ہے اور قیامت واقع ہونے کی صورت میں یہ گمان کہ وہاں بھی مجھے انعامات ملیں گے، یہ اللہ کے معاملے میں انتہائی دھوکہ میں مبتلا ہونا ہے۔ غرض کفر و شرک سے یہ مفاسد پیدا ہوئے۔ وہ ایسی بری چیز ہے) سو (یہ لوگ یہاں جو چاہیں دعوے احقاق و استحقاق کا کرلیں اب عنقریب) ہم ان منکروں کو ان کے (یہ) سب کردار ضرور بتلا دیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھا دیں گے اور (نیز کفر و شرک کا ایک اثر یہ ہے کہ) جب ہم (ایسے) آدمی کو نعمت عطا کرتے ہیں تو (ہم سے اور ہمارے احکام سے) منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ پھیر لیتا ہے (جو انتہائی درجہ کی ناشکری ہے) اور (حالت تنگی و ضرر میں آثار کفر و شرک میں سے ایک یہ ہے کہ) جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو (نعمت سلب ہوجانے پر جزع و فزع کی راہ سے نہ کہ منعم کی طرف سے التجاء کے طور پر) خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے۔ (اور یہ غایت درج کی بےصبری اور حب دنیا میں انہماک ہے۔ آگے رسالت اور قرآن کی حقانیت کی طرف دعوت دینے کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ (ان منکرین سے) کہئے کہ (اے منکرو، قرآن کے حق ہونے پر جو دلائل قائم ہیں جیسے اس کا معجزہ ہونا اور غیب کی خبریں صحیح صحیح دینا، اگر تم عدم تدبر کی وجہ سے ان کو سبب یقین نہیں سمجھتے تو کم از کم اس کے احتمال کے درجہ کی تو نفی تم بھی نہیں کرسکتے کیونکہ نفی پر تمہارے پاس کوئی دلیل تو قائم نہیں سو) بھلا یہ بتلاؤ کہ اگر (بناء علی الاحتمال المذکور) یہ قرآن خدا کے یہاں سے آیا ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو ایسے شخص سے زیادہ کون غلطی میں ہوگا جو (حق سے) ایسی دور دراز کی مخالفت میں پڑا ہو (اس لئے انکار میں جلد بازی نہ کرو، بلکہ سوچ سمجھ کر کام لو تاکہ حق واضح اور متعین ہوجاوے اور ان لوگوں سے تو کیا امید ہے کہ تدبیر کریں مگر خیر) ہم (خود ہی) عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں (جو کہ دال ہوں صدق قرآن پر) ان کے گرد و نواح میں بھی دکھائیں گے (تمام عرب پیشین گوئی کے موافق فتح ہوگا) اور خود ان کی ذات (خاص) میں بھی (دکھلائیں گے کہ بدر میں مارے جائیں گے اور ان کا مسکن مکہ بھی فتح ہوجاوے گا) یہاں تک کہ (بالاضطرار ان پیشین گوئیوں کے وقوع سے) ان پر ظاہر ہوجاوے گا کہ وہ قرآن حق ہے (کہ اس کی پیشین گوئیاں کس طرح صادق ہو رہی ہیں۔ گو یہ علم اضطراری بدون تصدیق اختیاری کے مقبول نہیں، لیکن اتمام حجت میں تو قوت زیادہ ہوجاوے گی۔ غرض اس کی حقیقت ایک روز اس طرح ظاہر ہوگی باقی فی الحال جو یہ لوگ آپ کی وحی رسالت کا انکار کر رہے ہیں آپ مغموم نہ ہوں کیونکہ اگر یہ لوگ اس پر شہادت نہ دیں تو) کیا آپ کے رب کی بات (آپ کی حقانیت کی شہادت اور تسلی کے لئے) کافی نہیں کہ وہ ہر (واقعی) چیز کا شاہد ہے (اور اس نے جا بجا آپ کی رسالت کی شہادت دی ہے، آگے اصل وجہ اس انکار کی بتلاتے ہیں اور اس سے تسلی بھی زیادہ ہو سکتی ہے) یاد رکھو کہ وہ لوگ اپنے رب کے رو برو جانے کے طرف سے شک میں پڑے ہیں (اس لئے دل میں ڈر نہیں جس سے حق کو طلب کریں مگر) یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو (اپنے علم سے) احاطے میں لئے ہوئے ہے (پس ان کے شک وشبہ کو بھی جانتا ہے اور اس پر سزا دے گا)۔
Ayahs 41:51–52معارف و مسائل
فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ۔ مقصود یہ ہے کہ کافر انسان کی خصلت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کوئی نعمت دولت وعزت و عافیت دیتے ہیں تو ان میں مگن اور مست ہو کر منعم حقیقی اللہ تعالیٰ سے اور بھی زیادہ دور ہوجاتا ہے اور اس کا تکبر اور غفلت بڑھ جاتی ہے اور جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ لمبی دعا کو اس جگہ عریض یعنی چوڑی سے تعبیر فرمایا جس میں زیادہ مبالغہ ہے۔ کیونکہ جس چیز کا عرض بڑا ہو اس کا طول اس سے زیادہ بڑا ہونا خود بخود معلوم ہے۔ اسی لئے جنت کی وسعت بیان فرمانے میں بھی حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) عرضھا السموٰت والارض۔ یعنی جنت اتنی وسیع ہے کہ اس کے عرض میں سب آسمان و زمین سما جائیں۔
اور طویل دعائیں مانگنا اگرچہ فی نفسہ امر محمود و مستحسن ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں دعا کے آداب میں ذکر کیا گیا ہے کہ دعاء میں الحاح وزاری اور بار بار تکرار کرنا بہتر ہے۔ (کما اخرجہ البخاری و مسلم و عامة المحدثین)
لیکن اس جگہ اس کافر انسان کی جو مذمت کی گئی ہے وہ درحقیقت طول دعا پر نہیں بلکہ اس کی اس مجموعی مذموم خصلت پر ہے کہ جب اس پر اللہ تعالیٰ نعمت کی روانی فرما دیں تو تکبر اور غرور میں مدہوش ہوجاوے اور جب مصیبت آوے تو اپنی پریشانی کو بار بار پکارتا اور کہتا پھرے جیسا غافل لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اللہ سے دعا کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنا دکھڑا رونا اور لوگوں سے کہتے رہنا مقصود ہوتا ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
Ayahs 41:53–54(آیت) سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ۔ یعنی اپنی قدرت کاملہ اور وحدانیت کی نشانیاں ان لوگوں کو دکھلاتے ہیں آفاق میں بھی اور خود ان کے اپنے تن بدن میں بھی۔ آفاق افق کی جمع ہے، آسمان کے نچلے کنارے کو کہا جاتا ہے۔ مراد آفاق سے اطراف عالم ہیں یعنی سارے عالم کی بڑی چھوٹی مصنوعات و مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیانی مخلوقات میں سے ہر چیز کو دیکھو تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے علم وقدرت کے محیط ہونے اور یکتا ہونے کی شہادت دیتی ہیں اور اس سے زیادہ قریب کی چیز خود انسان کی اپنی جان اور جسم ہے۔ اس کے ایک ایک عضو اور اس میں کام کرنے والی باریک اور نازک مشینوں کو دیکھئے کہ ان میں انسان کی راحت و سہولت کے کیسے کیسے انتظام رکھے گئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پھر ان نازک مشینوں کو اتنا مضبوط بنایا ہے کہ ستر اسی سال تک وہ گھستی نہیں۔ انسان کے عام جوڑوں میں جو اسپرنگ لگے ہوئے ہیں اگر انسانی صفت ہوتی تو فولادی اسپرنگ بھی گھس کر ختم ہوجاتے۔ یہاں ہاتھوں کی کھال اور اس پر لکھی ہوئی لکیریں اور خطوط بھی ساری عمر نہیں گھستے۔ جن میں کوئی ادنیٰ عقل و شعور کا آدمی بھی غور کرے تو اس یقین پر مجبور ہوگا کہ اس کی پیدا کرنیوالی اور قائم رکھنے والی کوئی ایسی ذات ہے جس کے علم وقدرت کی کوئی انتہا نہیں اور جس کا مثل کوئی نہیں ہو سکتا۔
تمت سورة حم السجدة بعون اللہ وحدہ للعشرین من الربیع الثانی 1392 ھ یوم السبت