40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمعارف القرآن

Ayah 40:1
خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ گناہ بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔ قدرت والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اس کے پاس (سب کو) جانا ہے (پس قرآن مجید اور توحید کی حقیقت کا مقتضا یہ ہے کہ اس میں انکار وجدال نہ کیا جاوے مگر پھر بھی) اللہ تعالیٰ کی ان آیتوں میں (یعنی قرآن میں جو توحید پر بھی مشتمل ہے) وہی لوگ (ناحق کے) جھگڑے نکالتے ہیں جو (اس کے) منکر ہیں (اور اس انکار کا مقتضا یہ ہے کہ ان کو سزا دی جاتی، لیکن عاجلا سزا نہ ہونا استدراج یعنی چند روزہ مہلت دینا ہے) سو ان لوگوں کا شہروں میں (امن وامان سے دنیوی کاروبار کے لئے) چلنا پھرنا آپ کو اشتباہ میں نہ ڈالے (کہ اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ اسی طرح سزا و عذاب سے بچے رہیں گے اور آرام سے رہیں گے اور آپ کے اس خطاب سے دوسروں کو سنانا مقصود ہے، غرض ان پر داروگیر ضرور ہوگی خواہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یا صرف آخرت میں چنانچہ) ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے اور دوسرے گروہوں نے بھی جو ان کے بعد ہوئے (جیسے عاد وثمود وغیرہم دین حق کو) جھٹلایا تھا اور ہر امت (میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے تھے انہوں) نے اپنے پیغمبر کے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا (کہ پکڑ کر قتل کردیں) اور ناحق کے جھگڑے نکالے تاکہ اس ناحق سے حق کو باطل کردیں سو میں نے (آخر) ان پر دارو گیر کی سو (دیکھو) میری طرف سے (ان کو) کیسی سزا ہوئی اور (جس طرح ان کو دنیا میں سزا ہوئی) اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے پروردگار کا یہ قول ثابت ہوچکا ہے کہ وہ لوگ (آخرت میں) دوزخی ہوں گے (یعنی یہاں بھی سزا ہوئی اور وہاں بھی ہوگی، اسی طرح کفر کے سبب ان کفار حاضرین کو بھی داروگیر اور سزا ہونے والی ہے خواہ دونوں عالم میں یا آخرت میں۔ یہ تو حال ہے منکرین کا، کہ مستحق اہانت و عقوبت ہیں اور جو لوگ موحد اور مومن ہیں وہ ایسے مکرم ہیں کہ ملائکہ مقبربین ان کے لئے دعا و استغفار کرنے میں مشغول رہتے ہیں جو کہ حسب قاعدہ یفعلون ما یومرون اس کی علامت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے اس پر مامور ہیں کہ مومنین کے لئے استعفار کیا کریں۔ اس سے مومنین کا محبوب عند اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہے کہ) جو فرشتے کہ عرش (الٰہی) کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے اس کے گردا گرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے اس طرح دعاء) استغفار کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت (عامہ) اور علم ہر چیز کو شامل ہے (پس اہل ایمان پر بدرجہ اولیٰ رحمت ہوگی اور ان کے ایمان کا آپ کو علم بھی ہے) سو ان لوگوں کو بخش دیجئے، جنہوں نے (شرک و کفر سے) توبہ کرلی ہے اور آپ کے رستہ پر چلتے ہیں اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔ اے ہمارے پروردگار اور (دوزخ سے بچا کر) ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے داخل کر دیجئے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولاد میں جو (جنت کے) لائق (یعنی مومن) ہوں (گو ان مومنین کے درجے کے نہ ہوں) ان کو بھی داخل کر دیجئے، بلاشک آپ زبردست حکمت والے ہیں (کہ مغفرت پر قادر ہیں اور ہر ایک کے مناسب اس کو درجہ عطا فرماتے ہیں) اور (جیسا ان کو دوزخ سے جو کہ عذاب اعظم سے بچانے کے لئے آپ سے دعا ہے اس طرح یہ بھی دعا ہے کہ) ان کو (قیامت کے دن ہر طرح کی) تکالیف سے بچائیے (گو وہ جہنم سے خفیف ہوں جیسے میدان قیامت کی پریشانیاں) اور آپ جس کو اس دن تکلیف سے بچا لیں تو اس پر آپ نے بہت مہربانی فرمائی۔ اور یہ (جو مذکور ہوا مغفرت و حفاظت عذاب اکبر واصغر سے اور دخول جنت) بڑی کامیابی ہے (پس اپنے مومن بندوں کو اس سے محروم نہ رکھئے)۔
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا اللہ سے ہے جو زبردست ہے خبردار

معارف و مسائل سورة مومن کی خصوصیات اور فضائل وغیرہ یہاں سے سورة احقاف تک سات سورتیں حم سے شروع ہوتی ہیں ان کو آل حم یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ آل حم دیباج القرآن ہے (دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ مراد اس سے زینت ہے) اور مسعر بن کدام فرماتے ہیں کہ ان کو عرائس کہا جاتا ہے۔ یعنی دلہنیں۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک مغز اور خلاصہ ہوتا ہے۔ قرآن کا خلاصہ آل حم ہیں یا فرمایا کہ حوامیم ہیں۔ یہ سب روایتیں امام عالم ابوعبید قاسم بن سلام نے پانی کتاب فضائل القرآن میں لکھی ہیں۔ اور حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ قرآن کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنے اہل و عیال کی رہائش کے لئے جگہ کی تلاش میں نکلا۔ تو کسی ہرے بھرے میدان کو دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔ اچانک آگے بڑھا تو روضات و مثات یعنی ایسے باغات ملے جن کی زمین میں اگانے کا مادہ سب سے زیادہ ہے ان کو دیکھ کر کہنے لگا میں تو بارش کی پہلی ہی ہریائی کو دیکھ کر تعجب کر رہا تھا۔ یہ تو اس سے بھی عجیب تر ہیں تو اس سے یہ کہا جائے گا کہ پہلی ہریائی اور سرسبزی کی مثال عام قرآن کی مثال ہے اور روضات و مثات کی مثال قرآن میں ہے۔ آل حم کی مثال ہے۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ جب میں تلاوت قرآن کرتے ہوئے آل حم پر آجاتا ہوں تو گویا ان میں میری بڑی تفریح ہوتی ہے۔ ہر بلاء سے حفاظت اور مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے شروع دن میں آیت الکرسی اور سورة مومن (کی پہلی تین آیتیں حم سے الیہ المصیر تک) پڑھ لیں۔ وہ اس دن ہر برائی اور تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ اس کو ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ جس کی سند میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (ابن کثیر ص 96 ج 4) دشمن سے حفاظت ابوداؤد و ترمذی میں باسناد صحیح حضرت مہلب بن ابی صفرہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے ایسے شخص نے روایت کی کہ جس نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ (کسی جہاد کے موقع پر رات میں حفاظت کے لئے) فرما رہے تھے کہ اگر رات میں تم پر چھاپہ مارا جائے تو تم حم لا ینصرون پڑھ لینا جس کا حاصل لفظ حم کے ساتھ یہ دعا کرنا ہے کہ تمہارا دشمن کامیاب نہ ہو۔ اور بعض روایات میں حم لاینصروا بغیر نون کے آیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم حم کہوں گے تو دشمن کامیاب نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حم دشمن سے حفاظت کا قلعہ ہے۔ (ابن کثیر) ایک عجیب واقعہ حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ کوفے کے علاقہ میں تھا۔ میں ایک باغ کے اندر چلا گیا کہ دو رکعت پڑھ لوں۔ میں نے نماز سے پہلے حم المومن کی آیتیں الیہ المصیر تک پڑھیں، اچانک دیکھا کہ ایک شخص میرے پیچھے ایک سفید خچر پر سوار کھڑا ہے جس کے بدن پر یمنی کپڑے ہیں۔ اس شخص نے مجھ سے کہا کہ جب تم غافر الذنب کہو تو اس کے ساتھ یہ دعا کرو، یاغافر الذنب اغفرلی۔ یعنی اسے گناہوں کے معاف کرنے والے مجھے معاف کر دے اور جب تم پڑھو قابل التوب تو یہ دعا کرو یا قابل التوب اقبل توبتی یعنی اے توبہ کے قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما، پھر جب پڑھو شدید العقاب تو یہ دعا کرو یا شدید العقاب لاثم اقینی۔ یعنی اسے سخت عقاب والے مجھے عذاب نہ دیجئے اور جب ذی الطول پڑھو تو یہ دعا کرو یا ذا الظول طل علی بخیر۔ یعنی اے انعام و احسان کرنے والے مجھ پر انعام فرما۔ ثابت بنانی کہتے ہیں یہ نصیحت اس سے سننے کے بعد جو ادھر دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ میں اس کی تلاش میں باغ کے دروازے پر آیا۔ لوگوں سے پوچھا کہ ایک ایسا شخص یمنی لباس میں یہاں سے گزرا ہے، سب نے کہا کہ ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا۔ ثابت بنانی کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الیاس ؑ تھے، دوسری روایت میں اس کا ذکر نہیں۔ (ابن کثیر) ان آیات کی تاثیر اصلاح خلق میں اور فاروق اعظم کی ایک عظیم ہدایت مصلحین کے لئے ابن کثیر نے بن ابی حاتم کی سند سے نقل کیا ہے کہ ایک اہل شام میں سے بڑا بارعب قوی آدمی تھا اور فاروق اعظم کے پاس آیا کرتا تھا، کچھ عرصہ تک وہ نہ آیا تو فاروق اعظم نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ امیر المومنین اس کا حال نہ پوچھئے وہ تو شراب میں بدمست رہنے لگا۔ فاروق اعظم نے اپنے منشی کو بلایا اور کہا کہ یہ خط لکھو۔ منجانب عمر بن خطاب بنام فلاں بن فلاں۔ سلام علیک، اس کے بعد میں تمہارے لئے اس اللہ کی حمد پیش کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت عذاب والا، بڑی قدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ سب مل کر اس کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے، اور اس کی توبہ قبول فرمائے۔ فاروق اعظم نے جس قاصد کے ہاں یہ خط بھیجا تھا اس کو ہدایت کردی تھی کہ یہ خط اس کو اس وقت تک نہ دے جب تک کہ وہ نشہ سے ہوش میں نہ آئے اور کسی دوسرے کے حوالے نہ کرے۔ جب اس کے پاس حضرت فاروق اعظم کا یہ خط پہنچا اور اس نے پڑھا تو بار بار ان کلمات کو پڑھتا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے ڈرایا بھی گیا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ پھر رونے لگا اور شراب خوری سے باز آ گیا، تو ایسی توبہ کی کہ پھر اس کے پاس نہ گیا۔ حضرت فاروق اعظم کو جب اس اثر کی خبر ملی تو لوگوں سے فرمایا کہ ایسے معاملات میں تم سب کو ایسا ہی کرنا چاہئے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہوجائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ اور اللہ سے اس کے لئے دعا کرو کہ وہ توبہ کرلے۔ اور تم اس کے مقابلہ پر شیطان کے مددگار نہ بنو۔ یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر اور دین سے دور کردو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی۔ (ابن کثیر) تنبیہ جو لوگ اصلاح خلق اور تبلیغ و دعوت کی خدمت انجام دینے والے ہیں ان کے لئے اس حکایت میں ایک عظیم الشان ہدایت ہے کہ جس شخص کی اصلاح مقصود ہو اس کے لئے خود بھی دعا کرو پھر نرم تدابیر سے اس کو درستی کی طرف لاؤ۔ اشتعال انگیزی نہ کرو کہ اس سے اس کو نفع نہیں پہنچے گا بلکہ شیطان کی امداد ہوگی اور وہ اس کو اور زیادہ گمراہی میں مبتلا کر دے گا۔ (آگے آیت کی تفسیر دیکھئے) حم۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے مگر آئمہ متقدمین کے نزدیک یہ حروف مقطعات سب متشابہات میں سے ہیں جن کے معنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک راز ہیں۔
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب دینے والا مقدور والا کسی کی بندگی نہیں سوائے اس کے اسی کی طرف پھرجانا ہے

(آیت) غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ۔ غافر الذنب کے لفظی معنی ہیں گناہ پر پردہ ڈالنے والا، اور قابل التوب کے معنی توبہ قبول کرنے والا، یہ دو لفظ الگ الگ لائے گئے ہیں اگرچہ مفہوم دونوں کا تقریباً ایک معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ غافر الذنب میں اشارہ اس طرف کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر بھی قدرت ہے کہ کسی بندے کا گناہ بغیر توبہ کے بھی معاف کر دے اور توبہ کرنے والوں کو معافی دینا دوسرا وصف ہے۔ (مظہری) ذی الطول۔ طول کے لفظی معنی وسعت و غنا کے ہیں اور قدرت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ فضل و احسان کے معنیٰ میں بھی۔ (مظہری)
Ayahs 40:4–6

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

وہی جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں جو منکر ہیں سو تجھ کو دھوکا نہ دے یہ بات کہ وہ چلتے پھرتے ہیں شہروں میں

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح کی اور کتنے فرقے ان سے پیچھے اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول پر کہ اس کو پکڑ لیں اور لانے لگے جھوٹے جھگڑے کہ اس سے ڈگاویں سچے دین کو پھر میں نے ان کو پکڑ لیا (کہو) پھر کیسا ہوا میرا سزا دینا

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح ٹھیک ہوچکی بات تیرے رب کی منکروں پر کہ یہ ہیں دوزخ والے

(آیت) مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اس آیت نے جدال فی القرآن کو کفر قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان جدالاً فی القرآن کفر یعنی بعض جدال قرآن میں کفر ہوتے ہیں (رواہ البغوی والبیہقی فی الشعب عن ابی ہریرة ورواہ ابو داؤد والحاکم وصححہ، مظہری) اور حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو کسی آیت قرآن کے متعلق جھگڑ رہے تھے، آپ غضبناک ہو کر باہر تشریف لائے کہ آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ کے آثار محسوس ہو رہے تھے اور فرمایا کہ تم سے پہلی امتیں اسی سے ہلاک ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں جدال کرنے لگی تھیں (رواہ مسلم عن عبداللہ بن عمرو بن شعیب۔ مظہری) یہ جدال جس کو قرآن و حدیث نے کفر قرار دیا اس سے مراد قرآنی آیات پر طعن کرنا اور فضول قسم کے شبہات نکال کر اس میں جھگڑا ڈالنا ہے یا کسی آیت قرآن کے ایسے معنی بیان کرنا جو دوسری آیات قرآن اور نصوص سنت کے خلاف ہوں جو تحریف قرآن کے درجہ میں ہے ورنہ کسی مبہم یا مجمل کلام کی تحقیق یا مشکل کلام کا حل تلاش کرنا یا کسی آیت سے احکام و مسائل کے استنباط میں باہم بحث و تحقیق کرنا اس میں داخل نہیں بلکہ وہ تو بڑا ثواب ہے۔ (قاضی بیضاوی۔ قرطبی، مظہری) (آیت) فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ۔ کفار قریش سردی میں یمن کا اور گرمی میں ملک شام کا تجارتی سفر کرتے تھے اور حرم بیت اللہ کی خدمت کی وجہ سے ان کا سارے عرب میں احترام تھا۔ اس لئے اپنے سفروں میں محفوظ رہتے اور تجارتی منافع حاصل کرتے تھے۔ اسی سے ان کی مالداری اور ریاست قائم تھی۔ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کے باوجود ان کی یہ صورت قائم رہنا ان کے لئے فخر و غرور کا سبب تھا کہ اگر ہم اللہ کے نزدیک مجرم ہوتے تو یہ نعمتیں سلب ہوجاتیں۔ اس سے کچھ مسلمانوں کو بھی شبہات پیدا ہونے کا امکان تھا، اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مصلحت سے ان کو یہ چند روزہ مہلت دے رکھی ہے، اس سے آپ یا مسلمان کسی دھوکہ میں نہ پڑیں۔ چند روزہ مہلت کے بعد ان پر عذاب آنے والا ہے اور یہ ریاست فنا ہونے والی ہے جس کی ابتداء غزوہ بدر سے ہوئی اور فتح مکہ تک چھ سال کے اندر اس کا پوری طرح ظہور ہوگیا۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ اٹھا رہے ہیں عرش کو اور جو اس کے گرد ہیں پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور اس پر یقین رکھتے ہیں اور گناہ بخشواتے ہیں ایمان والوں کے اے پروردگار ہمارے ہر چیز سمائی ہوئی ہے تیری بخشش اور خبر میں سو معاف کر ان کو جو توبہ کریں اور چلیں تیری راہ پر اور بچا ان کو آگ کے عذاب سے

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے رب ہمارے اور داخل کر ان کو سدا بسنے کے باغوں میں جن کا وعدہ کیا تو نے ان سے اور جو کوئی نیک ہو ان کے باپوں میں اور عورتوں میں اور اولاد میں بیشک تو ہی ہے زبردست حکمت والا

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے برائیوں سے اس دن اس پر مہربانی کی تو نے اور یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد پانی۔

(آیت) اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ۔ حاملان عرش فرشتے اب چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ہوجائیں گے اور عرش کے گرد کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے۔ بعض روایات میں ان کی صفوں کی تعداد بتلائی ہے جو لاکھوں تک پہنچتی ہے، ان کو کروبی کہا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ سب مقرب فرشتے مومنین کے لئے خصوصاً جو گناہوں سے تائب اور شریعت کے متبع ہوجائیں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پر مامور فرمایا ہے یا ان کی فطرت و طبیعت ہی ایسی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے حضرت مطرف بن عبداللہ ابن شخیر نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں مومنین کے خیر خواہ سب سے زیادہ اللہ کے فرشتے ہیں۔ ان کی دعا مومنین کے لئے ایک تو یہ ہوتی ہے کہ ان کی مغفرت فرما اور عذاب جہنم سے بچا۔ اور ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل فرما۔ اس کے ساتھ یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ (آیت) ومن صلح من ابائھم وازواجھم وذریتھم یعنی ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جن میں صلاحیت مغفرت کی ہو یعنی جن کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے ان کو بھی انہیں لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان تو شرط نجات ہے ایمان کے بعد دوسرے اعمال صالحہ ہیں۔ مسلمان کے متعلقین باپ دادے یا بیوی اور اولاد اگر اس کے درجہ سے نیچے بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے اکرام میں کم درجہ کے متعلقین کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ کردیں گے تاکہ ان کی خوشی ومسرت مکمل ہوجائے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ (آیت) الحقنا بھم ذریتھم۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ مومن جب جنت میں جائے گا تو اپنے باپ، بیٹے، بھائی وغیرہ کو پوچھے گا کہ وہ کہاں ہیں اس کو بتلایا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے جیسا عمل نہیں کیا (اس لئے وہ یہاں نہیں پہنچ سکیں گے) یہ کہے گا کہ میں نے جو عمل کیا تھا (وہ صرف اپنے لئے نہیں) بلکہ اپنے اور ان کے لئے کیا تھا تو حکم ہوگا ان کو بھی جنت میں داخل کردو۔ (ابن کثیر) تفسیر مظہری میں اس روایت کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ موقوف بحکم مرفوع ہے اور اس بارے میں صریح ہے کہ صلاحیت جو اس آیت میں شرط قرار دی گئی ہے اس سے مراد نفس ایمان ہے۔
Ayahs 40:10–12

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں ان کو پکار کر کہیں گے اللہ بیزار ہوتا تھا زیادہ اس سے جو تم بیزار ہوئے ہو اپنے جی سے جس وقت تم کو بلاتے تھے یقین لانے کو پھر تم منکر ہوتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

بولیں گے اے رب ہمارے تو موت دے چکا ہم کو دو بار اور زندگی دے چکا دو بار اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے پھر اب بھی ہے نکلنے کو کوئی راہ

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ تم پر اس واسطے ہے کہ جب پکارا کسی نے اللہ کو اکیلا تو تم منکر ہوتے اور جب پکارتے اس کے ساتھ شریک کو تو تم یقین لانے لگتے اب حکم وہی جو کرے اللہ سب سے اوپر پڑا۔

خلاصہ تفسیر جو لوگ کافر ہوئے (وہ جب دوزخ میں جا کر اپنے شرک و کفر اختیار کرنے پر حسرت و افسوس کریں گے اور خود ان کو اپنے سے سخت نفرت ہوگی یہاں تک غصہ کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاویں گے۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت حسن سے روایت ہے۔ اس وقت) ان کو پکارا جاوے گا کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے، اس سے بڑھ کر خدا کو (تم سے) نفرت تھی جبکہ تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر (بلانے کے بعد) تم نہیں مانا کرتے تھے (مقصود اس سے ان کی حسرت و ندامت میں اور زیادتی کرنا ہے) وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار (ہم جو دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا کرتے تھے اب ہم کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی۔ چناچہ دیکھ لیا کہ) آپ نے ہم کو دو مرتبہ مردہ رکھا (ایک مرتبہ پیدائش سے پہلے کہ ہم بےجان مادہ کی صورت میں تھے اور دوسری مرتبہ اس عالم میں آنے اور زندہ ہونے کے بعد متعارف موت سے مردہ ہوئے) اور دو مرتبہ زندگی دی (ایک دنیا کی زندگی اور دوسری آخرت کی زندگی۔ یہ چار حالتیں ہیں جن میں سے انکار تو صرف ایک یعنی آخرت کی زندگی کا تھا مگر باقی تین حالتوں کا ذکر اس لئے کردیا کہ وہ یقینی تھیں اور اس اقرار کا مقصد یہ تھا کہ اب چوتھی قسم بھی پہلی تین کی طرح یقینی ہوگئی) سو ہم اپنی خطاؤں کا (جن میں اصل مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا انکار تھا، باقی سب اسی کی فروع تھیں) اقرار کرتے ہیں تو کیا (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے (کہ دنیا میں پھر جا کر ان خطاؤں کا تدارک کرلیں۔ جواب میں ارشاد ہوگا کہ تمہارے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہوگا۔ اور) وجہ اس کی یہ ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا (یعنی توحید کا ذکر ہوتا تھا) تو تم انکار کیا کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے اس لئے یہ فیصلہ اللہ کا (کیا ہوا) ہے جو عالیشان (اور) بڑے مرتبے والا ہے (یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں سزا بھی عظیم ہوئی یعنی دائمی جہنم)
Ayahs 40:13–14

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے تم کو دکھلاتا اپنی نشانیاں اور اتارتا ہے تمہارے واسطے آسمان سے روزی اور سورج وہی کرے جو رجوع رہتا ہو

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو پکارو اللہ کو خالص کر کر اس کے واسطے بندگی اور پڑے برا مانیں منکر

خلاصہ تفسیر وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں (قدرت کی) دکھاتا ہے (تا کہ تم ان سے توحید پر استدلال کرو اور وہی ہے جو) آسمان سے تمہارے لئے رزق بھیجتا ہے (یعنی بارش بھیجتا ہے جس سے رزق پیدا ہوتا ہے، یہ بھی منجملہ مذکورہ نشانیوں کے ہے) اور (ان نشانیوں سے) صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے، جو (خدا کی) طرف رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے (کیونکہ ارادہ رجوع سے غور وتامل نصیب ہوتا ہے، اس سے حق تک رسائی ہوجاتی ہے) تو (جب توحید پر دلائل قائم ہیں تو) تم لوگ خدا کو خالص اعتقاد کر کے (یعنی توحید کے ساتھ) پکارو (اور مسلمان ہوجاؤ) اگر کافروں کو ناگوار ہو (اس کی پروا نہ کرو کیونکہ) وہ رفیع الدرجات ہے، وہ عرش کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی یعنی اپنا حکم بھیجتا ہے تاکہ وہ (صاحب وحی لوگوں کو) اجتماع کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے ڈرائے جس دن سب لوگ (خدا کے) سامنے آموجود ہوں گے (کہ) ان کی بات خدا سے مخفی نہ رہے گی آج کے روز کس کی حکومت ہوگی، بس اللہ ہی کی ہوگی جو یکتا (اور) غالب ہے آج ہر شخص کو اس کے کئے (ہوئے کاموں) کا بدلہ دیا جاوے گا، آج (کسی پر) کچھ ظلم نہ ہوگا اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے اور (اس لئے) آپ ایک قریب آنے والی مصیبت کے دن (یعنی روز قیامت) سے ڈرائیے جس وقت کلیجے منہ کو آ جاویں گے (غم سے) گھٹ گھٹ جاویں گے (اس روز) ظالموں (یعنی کافروں) کا نہ کوئی دلی دوست اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جس کا کہا مانا جائے (اور) وہ (ایسا ہے کہ) آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور ان (باتوں) کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں (جن کو دوسرا نہیں جانتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بندوں کے تمام کھلے اور چھپے اعمال سے باخبر ہے جن پر سزا اور جزا موقوف ہے) اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارا کرتے ہیں وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ (کیونکہ) اللہ ہی سب کچھ جاننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ (اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام صفات کمال سے موصوف اور جھوٹے معبود سب سے عاری ہیں اس لئے فیصلہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ اور یہ لوگ جو ان واضح دلائل کے بعد بھی انکار کرتے ہیں تو) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں (اس کفر کی وجہ سے) ان کا کیسا انجام ہوا۔ وہ لوگ قوت اور ان نشانیوں پر جو زمین پر چھوڑ گئے ہیں (مثل عمارات و باغات وغیرہ کے) ان (موجودین) سے بہت زیادہ تھے سو ان کے گناہوں کی وجہ سے خدا نے ان پر داروگیر فرمائی (یعنی عذاب نازل کیا) اور ان کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ ہوا (آگے ان کے گناہوں کی تفصیل ہے کہ) یہ مواخذہ اس سبب سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں (یعنی معجزات جو دلائل نبوت ہوتے ہیں) لے کر آتے رہے پھر انہوں نے نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا بیشک وہ بڑی قوت والا سخت سزا دینے والا ہے (جب ان موجودہ کافروں میں بھی وہی موجبات عذاب جمع ہیں تو یہ مواخذہ سے کیسے بچ سکتے ہیں)۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہی ہے اونچے درجوں والا مالک عرش کا اتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے

معارف و مسائل رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ۔ درجات سے مراد بعض حضرات نے صفات قرار دیا ہے جس سے رفیع الدرجات کے معنی ہوئے۔ رفیع الصفات یعنی اس کی صفات کمال سب سے زیادہ رفیع الشان ہیں۔ ابن کثیر نے اس کو اپنے ظاہر پر رکھ کر یہ معنی بیان کئے کہ اس سے مراد رفعت عرش عظیم کا بیان ہے کہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں پر حاوی اور سب کے اوپر بمنزلہ چھت کے بلند ہے۔ جیسا کہ سورة معارج کی آیت میں ہے (آیت) من اللہ ذی المعارج تعرج الملئکة والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنة۔ ابن کثیر کی تحقیق اس آیت کے متعلق یہ بھی ہے کہ یہ پچاس ہزار سال کی مقدار اس مسافت کا بیان ہے جو ساتویں زمین سے عرش تک ہے اور اسی کو سلف وخلف کی بڑی جماعت کے نزدیک راحج قرار دیا ہے۔ اور بیان کیا ہے کہ بہت سے علماء کے نزدیک عرش رحمن ایک یاقوت سرخ سے بنا ہے جس کا قطر اتنا بڑا ہے کہ وہ پچاس ہزار سال کی مسافت ہے۔ اس طرح اس کا ارتفاع ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال تک کی مسافت تک ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ رفیع الدرجات بمعنے رافع اللہ جات ہے یعنی اللہ تعالیٰ مومنین متقین کے درجات کو بلند فرمانے والا ہے جیسا کہ قرآن کی آیات اس پر شاہد ہیں (آیت) نرفع درجت من نشاء اور ھم درجت عند اللہ۔
Ayahs 40:16–18

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ لوگ نکل کھڑے ہونگے چھپی نہ رہے گی اللہ پر ان کی کوئی چیز کس کا راج ہے اس دن اللہ کا ہے جو اکیلا ہے دباؤ والا

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج بدلہ ملے گا ہر جی کو جیسا اس نے کمایا بالکل ظلم نہیں آج بیشک اللہ جلد لینے والا ہے حساب

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور خبر سنا دے ان کو اس نزدیک آنے والے دن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو تو وہ دبا رہے ہوں گے کوئی نہیں گنہگاروں کا دوست اور نہ سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے

(آیت) يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ڬ لَا يَخْـفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْهُمْ۔ بارزون سے مراد یہ ہے کہ میدان حشر کی زمین چونکہ ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں کوئی پہاڑ یا غار یا عمارت اور درخت نہ ہوگا، جس کی آڑ ہو سکے اس لئے سب کھلے میدان میں جمع ہوں گے۔ (آیت) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ۔ یہ کلمہ آیات مذکورہ میں یوم التلاق اور یوم ھم بارزون کے بعد آیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یوم التلاق ملاقات و اجتماع کا دن نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اسی طرح یوم ہم بارزون کا واقعہ بھی اس وقت ہوگا جب نفخہ ثانیہ کے بعد نئی زمین ایک سطح مستوی کی صورت میں بنادی جائے گی، جس پر کوئی آڑ پہاڑ نہ ہوگا۔ اس کے بعد یہ کلمہ لمن الملک لانے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد نفخہ ثانیہ سے تمام خلائق کے دوبارہ پیدا ہونے کے بعد ہوگا۔ اس کی تائید قرطبی نے بحوالہ نحاس ایک حدیث سے پیش کی ہے جو ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، وہ یہ کہ تمام آدمی ایک صاف زمین پر جمع کئے جائیں گے جس پر کسی نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا۔ اس وقت ایک منادی کو حکم ہوگا جو یہ ندا کرے گالِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ یعنی آج کے دن ملک کس کا ہے۔ اس پر تمام مخلوقات مومنین و کافرین یہ جواب دیں گے کہ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ مومن تو اپنے اعتقاد کے مطابق خوشی و تلذذ کی صورت میں کہیں گے اور کافر مجبور و عاجز ہونے کی بنا پر رنج و غم کے ساتھ اس کا اقرار کریں گے۔ لیکن دوسری بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد حق تعالیٰ خود ہی اس وقت فرمائیں گے جبکہ نفخہ اولیٰ کے بعد ساری مخلوقات فنا ہوجاویں گی۔ اور سوائے ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کے کوئی نہ ہوگا اس وقت حق تعالیٰ فرمائے گا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ۔ اور چونکہ اس وقت جواب دینے والا کوئی نہ ہوگا تو خود ہی جواب دیں گے لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس میں سوال کرنے والا اور جواب دینے والا صرف ایک اللہ ہی ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا بھی یہی قول ہے اور اس کی تائید حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ساری زمینوں کو بائیں ہاتھ میں اور آسمانوں کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ کر فرمائیں گے۔ انا الملک این الجبارون این المتکبرون۔ یعنی میں ہی ملک اور مالک ہوں، آج جبارین اور متکبرین کہاں ہیں۔ تفسیر درمنثور میں اس طرح کی دونوں روایتیں نقل کر کے کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کلمہ دو مرتبہ دہرایا جائے ایک نفخہ اولیٰ اور فنائے عالم کے وقت دوسرا نفخہ ثانیہ اور تمام خلائق کے دوبارہ زندہ ہونے کے وقت۔ بیان القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم کی تفسیر اس پر موقوف نہیں کہ دو ہی مرتبہ قرار دیا جائے بلکہ ہوسکتا ہے کہ آیات مذکورہ میں اس واقعہ کا ذکر ہو جو نفخہ اولیٰ کے بعد ہوا تھا۔ اس کو اس وقت حاضر فرض کر کے یہ کلمہ فرمایا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 40:19–22

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ اور جو کچھ چھپا ہوا ہے سینوں میں

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ فیصلہ کرتا ہے انصاف سے اور جن کو پکارتے ہیں اس کے سوائے نہیں فیصلہ کرتے کچھ بھی بیشک اللہ جو ہے وہی ہے سننے والا دیکھنے والا

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھتے انجام کیسا ہوا ان کا جو تھے ان سے پہلے وہ تھے ان سے سخت زور میں اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے زمین میں پھر ان کو پکڑا اللہ نے ان کے گناہوں پر اور نہ ہوا ان کو اللہ سے کوئی بچانے والا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس آتے تھے ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر پھر منکر ہوگئے تو ان کو پکڑا اللہ نے بیشک وہ زور آور ہے سخت عذاب دینے والا۔

يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ۔ (یعنی الاعین الخائنة) خیانت نظر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے چرا کر ایسی چیز پر نظر ڈالے جو اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو، جیسے کسی غیر محرم پر شہوت سے نظر کرے، اور جب کسی کو دیکھے تو نظر ہٹا لے یا اس طرح نظر ڈالے کہ جس کو دیکھنے والے محسوس نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب چیزیں ظاہر ہیں۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیاں دیکر اور کھلی سند

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنے احکام اور کھلی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو ان لوگوں (میں سے بعض نے یا کل) نے کہا کہ (نعوذ باللہ) یہ جادوگر (اور) جھوٹا ہے (جادوگر معجزہ میں کہا اور کذاب دعویٰ نبوت و احکام میں کہا۔ یہ قول فرعون، ہامان اور قارون تین کی طرف منسوب کیا گیا ہے مگر قارون چونکہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور بظاہر موسیٰ ؑ پر ایمان رکھتا تھا اس کا ان کو ساحر کہنا بظاہر مستبعد ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ اس وقت بھی منافق ہو موسیٰ ؑ پر ظاہر میں ایمان کا دعویٰ کرتا ہو حقیقتاً نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قول صرف فرعون و ہامان کا ہو تغلیباً تینوں کی طرف نسبت کردی گئی ہو) پھر (اس کے بعد) جب وہ (عام) لوگوں کے پاس دین حق جو ہماری طرف سے تھا لے کر آئے (جس پر بعض لوگ مسلمان بھی ہوگئے) تو ان (مذکورہ) لوگوں نے (بطور مشورہ کے) کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ (ہو کر) ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو (تا کہ ان کی جمعیت اور قوت نہ بڑھ جائے جس سے اندیشہ زوال و سلطنت کا ہے) اور (چونکہ عورتوں سے ایسا) اندیشہ نہیں و نیز ہمارے گھروں میں خدمت گاری کے لئے ان کی ضرورت ہے اس لئے) ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو (غرض انہوں نے موسیٰ کے غلبہ کا خطرہ محسوس کر کے انسداد کی یہ تدبیر کی) اور ان کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی (چنانچہ آخر میں موسیٰ ؑ غالب آئے۔ بنی اسرائیل کے نوزائیدہ لڑکوں کے قتل کا حکم ایک تو حضرت موسیٰ ؑ کی ولادت سے پہلے دیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں حضرت موسیٰ ؑ کو دریا میں ڈالنے کی نوبت آئی اور قدرت نے اس بچہ کو خود فرعون کے گھر میں پلوایا۔ یہ دوسرا فیصلہ ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کا موسیٰ ؑ کی پیدائش اور نبوت کے بعد اس وقت کا ہے جبکہ ان کے معجزات دیکھ کر آل فرعون نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کا جتھا بڑھ گیا تو ہماری سلطنت کی خیر نہیں پھر یہ کسی روایت میں سے نظر سے نہیں گزرا کہ اس وقت یہ قتل غلمان کا قانون نافذ ہوا یا نہیں۔ پھر اس کے بعد خود موسیٰ ؑ کے قتل کے بارے میں گفتگو ہوئی) اور فرعون نے (اہل دربار سے) کہا کہ مجھ کو چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں اور اس کو چاہئے کہ اپنے رب کو (مدد کے لئے) پکارے۔ مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ (کہیں) تمہارا دین (نہ) بدل ڈالے یا ملک میں کوئی فساد (نہ) پھیلا دے (کہ ایک ضرر دین کا ہے اور دوسرا ضرر دنیا کا۔ اور فرعون کا یہ کہنا کہ مجھ کو چھوڑو، یا تو اس وجہ سے ہے کہ اہل دربار نے شاید اس لئے قتل کی رائے نہ دی ہوگی کہ اس کو مصلحت ملکی کے خلاف سمجھا ہوگا کہ عام چرچا ہوگا کہ ایک بےسروسامان شخص سے ڈر گئے اور یا یہ کہنا بطور تمویہ کے ہے کہ عام سننے والے یہ سمجھیں کہ اب تک ان کے قتل میں تاخیر مشیروں کے روکنے کے سبب سے ہوئی، گو واقع میں قتل پر خود اس کو جرأت نہ تھی۔ کیونکہ دل میں تو معجزات سے یقین ہو ہی گیا تھا۔ اس لئے اس کو خطرہ تھا کہ ان کو قتل کیا تو کسی آسمانی عذاب وبلا میں مبتلا ہوجاؤں گا مگر اپنے خوف کو درباریوں کے سر ڈالنے کے لئے ایسا کہا۔ اور اسی طرح (آیت) ولیدع ربہ، کہنا بھی لوگوں پر اپنی بہادری جتلانے کے لئے ہوگا، اگرچہ دل اندر سے تھرا رہا ہو) اور موسیٰ (علیہ السلام نے جو یہ بات سنی خواہ بالمشافہ سنی ہو یا بالواسطہ تو انہوں) نے کہا میں اپنے اور تمہارے (یعنی سب کے) پروردگار کی پناہ لیتا ہوں، ہر خر دماغ شخص (کے شر) سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا (اور اس لئے حق کا مقابلہ کرتا ہے) اور (اس مجلس مشورہ میں) ایک مومن شخص نے جو کہ فرعون کے خاندان میں سے تھے (اور اب تک) اپنا ایمان پوشیدہ رکھتے تھے (یہ مشورہ سن کر لوگوں سے) کہا کیا تم ایک شخص کو (محض) اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے رب کیطرف سے (اس دعوے پر) دلیلیں (بھی) لے کر آیا ہے (یعنی معجزات بھی دکھلاتا ہے جو دلیل ہے صدق دعویٰ نبوت کی اور دلیل موجود ہوتے ہوئے صاحب دلیل کی مخالفت کرنا اور مخالفت بھی اس درجہ کی کہ قتل کا قصد کیا جاوے نہایت نازیبا ہے) اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہی ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا (اور آپ ہی اللہ کی طرف سے رسوا ہوجائے گا۔ قتل کرنے کی کیا ضرورت) اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ جو کچھ پیشین گوئی کر رہا ہے (کہ ایمان نہ لانے کی صورت میں ایسا ایسا عذاب ہوگا) اس میں سے کچھ تو تم پر (ضرور ہی) پڑے گا (تو اس صورت میں قتل کرنے سے اور زیادہ بلا اپنے سر پر لینا ہے۔ غرض اس کے کذب کی صورت میں قتل فضول اور صدق کی صورت میں مضر ہے پھر ایسا فعل کیوں کیا جاوے اور قاعدہ کلیہ ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مفقود تک نہیں پہنچاتا جو (اپنی) حد سے گزر جانے والا (اور) بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ (یعنی برائے چندے اس کی بات چل جاوے تو ممکن ہے مگر انجام کار اس کی ناکامی یقینی ہے۔ پس اس قاعدہ کلیہ کے اعتبار سے اگر موسیٰ ؑ بالفرض کاذب ہوں تو بوجہ اس کے کہ جھوٹا دعویٰ نبوت کا بہت بڑا گناہ ہے اور سخت جرأت ہے، ایسے کاذب مفتری کو بھی اگر مقہور وہلاک نہ کیا جاوے تو مخلوق کو خود شبہ اور التباس میں مبتلا کرنا لازم آتا ہے۔ اور یہ عقلاً حق تعالیٰ سے نہیں ہوسکتا اس لئے ضروری ہے کہ یہ مغلوب و رسوا ہوں گے، پھر حاجت قتل کیا ہے ؟ اور اگر صادق ہیں تو تم لوگ بالیقین کاذب ہو اور کذب میں مسرف بھی ہو کہ فرعون کی خدائی کے دعویدار ہو اور مسرف کذاب کو کامیابی ہوتی نہیں۔ پس تم لوگ قتل میں کامیاب نہ ہوگے یا تو قدرت نہ ہوگی یا اس کا خیر نتیجہ برا ہوگا۔ بہرحال دونوں شقوں کا مقتضی یہی ہوا کہ ان کو قتل نہ کیا جاوے۔ جواب یہ ہے کہ یہ تقریر اس صورت میں ہے جہاں کاذب ہونے یا صادق ہونے میں شبہ ہو اور معجزات سے اقل درجہ احتمال صدق ضرور تھا اور جہاں دلائل قطعیہ سے کذب متیقن ہو وہاں ایسا نہیں ہوگا۔ اور گو اس مومن کو موسیٰ ؑ کے صدق کا پورا یقین تھا مگر اس طرز سے گفتگو کرنا لوگوں کی طبیعت کی رعایت سے تھا کہ وہ کچھ غور کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ آگے بھی اسی قتل سے روکنے کے متعلق مضمون ہے کہ) اے میرے بھائیو آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ اس سر زمین میں تم حاکم ہو سو خدا کے عذاب میں ہماری کون مدد کرے گا اگر (ان کے قتل کرنے سے) وہ ہم پر آ پڑا (جیسا کہ ان کے سچے ہونے کی صورت میں اس کا احتمال ہے) فرعون نے (یہ تقریر سن کر جواب میں) کہا کہ میں تو تم کو وہی رائے دوں گا جو خود سمجھ رہا ہوں (کہ ان کا قتل ہی مناسب ہے) اور میں تم کو عین طریق مصلحت بتلاتا ہوں اور اس مومن نے (جب دیکھا کہ نصیحت میں نرمی اور رعایت خیال مخاطب سے کام نہیں چلتا تو اب تہدید و تخویف سے کام لیا اور) کہا صاحبو مجھے تمہاری نسبت دوسری امتوں کے سے روز بد کا اندیشہ ہے، جیسا کہ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور بعد والوں (یعنی قوم لوط وغیرہ) کا حال ہوا تھا اور خدا تعالیٰ تو بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا (لیکن جب تم حرکتیں ہی ایسی کرو گے تو ضرور ہی اپنی سزا کو پہنچو گے) اور (یہ ڈرانا تھا عذاب دنیا سے آگے تہدید ہے عذاب آخرت سے کہ) صاحبو مجھ کو تمہاری نسبت اس دن کا اندیشہ ہے جس میں کثرت سے ندائیں ہوں گی (یعنی وہ دن مشتمل ہے، واقعات عظیمہ پر کیونکہ نداؤں کی کثرت یعنی ایک دوسرے کو آواز دینا واقعات کے عظیم ہونے میں ہوتا ہے۔ چناچہ سب سے اول آواز صور پھونکنے کی ہوگی جس سے مردے زندہ ہوں گے۔ قال تعالیٰ (آیت) یوم یناد المناد من مکان قریب یوم یسمعون الصیحة بالحق۔ ایک ندا حساب کے لئے ہوگی۔ قال تعالیٰ (آیت) یوم ندعوا کل اناس بامامھم ایک منادی یعنی ایک دوسرے کو نداء کرنا باہم اہل جنت واہل نار میں ہوگا۔ قال تعالیٰ فی الاعراف (آیت) ونادی اصحب الجنة۔ الخ۔ ونادی اصحب الاعراف الخ۔ ونادی اصحب النار الخ۔ ایک نداء خیر میں موت کو بشکل دنبہ ذبح کرنے کے وقت ہوگی جیسا حدیث میں ہے۔ یا اہل الجنة خلود لاموت ویا اہل النار خلود لاموت۔ اور آگے اس دن کی ایک حالت بیان کی گئی ہے کہ) جس روز (موقف حساب سے) پشت پھیر کر (دوزخ کی طرف) لوٹو گے (کذا فسر البغوی اور اس وقت) تم کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا (اور اس مضمون کا تقاضا ہدایت قبول کرنے کا ہے لیکن) جس کو خدا ہی گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور (آگے توبیخ و تنبیہ ہے اس پر کہ موسیٰ ؑ سے پہلے ایک اور پیغمبر کی بھی تکذیب کرچکے ہیں یعنی) اس سے قبل تم لوگوں کے پاس یوسف ؑ دلائل (توحید و نبوت کے) لے کر آ چکے ہیں (یعنی اسی قوم قبط میں جن میں تم بھی ہو اور آباء سابقین سے تم تک بھی ان کی خبر متواتراً پہنچتی ہے) سو تم ان امور میں بھی برابر شک (و انکار) ہی میں رہے جو وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے، حتیٰ کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم کہنے لگے کہ بس اب اللہ کسی رسول کو نہ بھیجے گا (یہ قول بطور شرارت کے تھا، مطلب یہ کہ اول تو یوسف بھی رسول نہ تھے اور اگر بالفرض تھے بھی تو جب ایک کو نہ مانا تو اللہ میاں کہیں گے کہ دوسرے کو بھیجنے سے کیا فائدہ، تو ہمیشہ کے لئے یہ جھگڑا پاک ہوگیا مقصود اصلی اس سے نفی مسئلہ رسالت کی ہے جیسا کہ اگلے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس مسئلہ میں تم غلط کار ہو) اسی طرح اللہ تعالیٰ آپے سے باہر ہوجانے والے (اور) شبہات میں گرفتار رہنے والوں کو غلطی میں ڈالے رکھتا ہے جو بلاکسی سند کے جو ان کے پاس موجود ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔ اس (کج بحثی) سے خدا تعالیٰ کو بڑی نفرت ہے اور مومنین کو بھی اور (جس طرح تمہارے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور و جابر کے پورے قلب پر مہر کردیتا ہے۔ (کہ اس میں اصلاً گنجائش حق فہمی کی نہیں رہتی۔ یہ تقریر تھی ان مومن بزرگ کی جو فرعون کے خاندان میں سے ہیں اور اب تک ایمان کا اظہار نہیں کیا تھا اور اس تقریر سے ان بزرگ کا کتمان ایمان جاتا رہا، خواہ اول تقریر سے خواہ بعد کی تقریر سے یعنی (آیت)۔ یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب اور ظاہر شق اول ہے لقولہ تعالیٰ (آیت) وقد جاء کم بالبینت الخ) اور فرعون نے (جو تقریر لاجواب سنی تو اس مومن کو کچھ جواب نہ دے سکا۔ اپنی جہالت قدیمہ پر بزعم خود حجت قائم کرنے کے لئے ہامان سے) کہا اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت بنواؤ (میں اس پر چڑھ کر دیکھوں گا) شاید میں آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں پھر (وہاں جا کر) موسیٰ کے خدا کو دیکھوں بھالوں اور میں تو موسیٰ کو (اس کے دعویٰ میں) جھوٹا سمجھتا ہوں (آگے فرعون کی مزید بدکرداری کا ذکر ہے) اور اسی طرح فرعون کی (اور) بدکرداریاں (بھی) اس کو مستحسن معلوم ہوئی تھیں اور (سیدھے) رستہ سے رک گیا اور (موسیٰ ؑ کے مقابلہ میں بڑی بڑی تدبیریں کیں مگر) فرعون کی ہر تدبیر غارت ہی گئی (کسی میں کامیاب نہ ہوا) اور اس مومن نے (جب دیکھا کہ فرعون سے کوئی معقول جواب نہیں بن پڑا تو پھر مکرر) کہا کہ اے بھائیو تم میری راہ پر چلو میں تم کو ٹھیک ٹھیک راستہ بتلاتا ہوں (یعنی فرعون نے جو کہا تھا کہ میں تمہیں سبیل الرشاد کی طرف ہدایت کرتا ہوں اس کا بتایا ہوا راستہ ہرگز سبیل الرشاد یعنی ہدایت کا راستہ نہیں، بلکہ سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے) اے بھائیو یہ دنیوی زندگی محض چند روزہ ہے اور (اصل) ٹھہرنے کا مقام تو آخرت ہے (جہاں بدلہ دینے کا یہ قانون ہے کہ) جو شخص گناہ کرتا ہے تو اس کو برابر سرابر ہی بدلہ ملتا ہے اور جو نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو ایسے لوگ جنت میں جاویں گے (اور) وہاں ان کو بےحساب رزق ملے گا اور (اس تقریر کے وقت اس مومن آل فرعون کو یہ محسوس ہوا کہ یہ لوگ میری باتوں پر تعجب کر رہے ہیں اور بجائے میری بات ماننے کے مجھ کو ہی اپنے طریق کفر کی طرف بلانا چاہتے ہیں، اس لئے یہ بھی کہا کہ) اے میرے بھائیو یہ کیا بات ہے کہ میں تو تم کو (طریق) نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو (طریق) دوزخ کی طرف بلاتے ہو (یعنی) تم مجھ کو اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ (معاذ اللہ) میں خدا کے ساتھ کفر کروں اور ایسی چیز کو اس کا ساجھی بناؤں جس کے (ساجھی ہونے کی) میرے پاس کوئی دلیل بھی نہیں اور میں تم کو خدائے زبردست خطا بخش کی طرف بلاتا ہوں یقینی بات ہے کہ تم جس چیز (کی عبادت) کی طرف مجھ کو بلاتے ہو وہ نہ تو دنیا ہی میں (کسی دنیوی حاجت کے لئے) پکارے جانے کے لائق ہے اور نہ (دفع عذاب کے لئے) آخرت ہی میں اور (یقینی بات ہے کہ) ہم سب کو خدا کے پاس جانا ہے اور (یقینی بات ہے کہ) جو لوگ دائرہ (عبودیت) سے نکل رہے ہیں (جیسے غیر اللہ کی پرستش کرنے والے) وہ سب دوزخی ہوں گے سو (اب تو میرا کہنا تمہارے جی کو نہیں لگتا مگر) آگے چل کر تم میری بات کو یاد کرو گے اور (چونکہ اس مومن کو یہ احتمال پہلے سے ہے کہ یہ لوگ اس نصیحت پر میرے خلاف ہوجائیں اور تکلیف پہنچائیں اور ممکن ہے کہ اس وقت کچھ آثار و علامت دھمکی کے بھی ان کی طرف سے سامنے آئے ہوں اس لئے یہ بھی کہا کہ) میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، خدا تعالیٰ ان سب بندوں کا (خود) نگران ہے (میں تم سے بالکل نہیں ڈرتا) پھر خدا تعالیٰ نے اس (مومن) کو ان کی مضر تدبیروں سے محفوظ رکھا (چنانچہ وہ ان کی ایذاؤں سے محفوظ رہا اور حضرت قتادہ کے قول کے مطابق اس کو بھی موسیٰ ؑ کے ساتھ غرق سے نجات ہوئی (کذا فی الدر المنثور) اور فرعون والوں پر (مع فرعون کے) تکلیف دینے والا عذاب نازل ہوا (جس کا بیان یہ ہے کہ) وہ لوگ (برزخ میں) صبح و شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں (اور ان کو بتلایا جاتا ہے کہ تم قیامت کے روز اس میں داخل ہو گے) اور جس روز قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا) کہ فرعون والوں کو (مع فرعون کے) نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔
Ayahs 40:24–27

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس پھر کہنے لگے یہ جادو گر ہے جھوٹا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب پہنچا ان کے پاس لے کر سچی بات ہمارے پاس سے بولے مار ڈالو بیٹے ان کے جو یقین لائے ہیں اس کے ساتھ اور جیتی رکھو ان کی عورتیں اور جو داؤ ہے منکروں کا سو غلطی میں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور بولا فرعون مجھ کو چھوڑو کہ مار ڈالوں موسیٰ کو اور پڑا پکارے اپنے رب کو میں ڈرتا ہوں کہ بگاڑ دے تمہارا دین یا پھیلائے ملک میں خرابی

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے میں پناہ لے چکا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر غرور والے سے جو یقین نہ کرے حساب کے دن کا

معارف و مسائل مومن آل فرعون اور جا بجا منکرین توحید و رسالت کی وعید و تہدید کے ضمن میں کفار کا خلاف وعناد مذکور ہوا ہے جس سے طبعی طور پر رسول اللہ ﷺ کو حزن وملال ہوتا تھا۔ آپ کی تسلی کے لئے مذکورہ الصدر تقریباً دو رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصہ میں ایک طویل مکالمہ فرعون اور قوم فرعون کے ساتھ اس بزرگ شخص کا ہے جو خود آل فرعون میں ہونے کے باوجود موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آیا تھا۔ مگر بمصلحت اپنے ایمان کو اس وقت تک چھپا رکھا تھا۔ اس مکالمہ کے وقت اس کے ایمان کا بھی حتمی اعلان ہوگیا۔ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی اور حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا، اور یہ وہی شخص ہے جس نے اس وقت جبکہ قبطی کے قتل کے واقعہ میں اس کے قصاص کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا مشورہ دربار فرعون میں ہو رہا تھا تو یہی شہر کے کنارے سے دوڑ کر آیا اور موسیٰ ؑ کو خبر دے کر مشورہ دیا کہ مصر سے چلے جائیں، جس کا واقعہ سورة قصص میں حق تعالیٰ نے بیان فرمایا (آیت) وجاء رجل من اقصی المدینة یسعیٰ۔ اس مومن آل فرعون کا نام بعض نے حبیب بتلایا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ حبیب اس شخص کا نام ہے جس کا قصہ سورة یٰسین میں آیا ہے، اس کا نام شمعان ہے، سہیلی نے اس نام کو اصح قرار دیا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کا نام جزقیل بتلایا ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس سے یہی قول نقل کیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدیقین چند ہیں ایک حبیب نجار جس کا قصہ سورة یٰسین میں ہے۔ دوسرا مومن آل فرعون تیسرے ابوبکر اور وہ ان سب میں افضل ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 40:28–31

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور بولا ایک مرد ایمان دار فرعون کے لوگوں میں جو چھپاتا تھا اپنا ایمان کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس پر پڑے گا اس کا جھوٹ اور اگر وہ سچا ہوگا تو تم پر پڑے گا کوئی نہ کوئی وعدہ جو تم سے کرتا ہے بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اس کو جو ہو بےلحاظ جھوٹا

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج تمہارا راج ہے چڑھ رہے ہو ملک میں پھر کون مدد کرے گا ہماری اللہ کی آفت سے اگر آگئی ہم پر بولا فرعون میں تو وہی بات سمجھاتا ہوں تم کو جو سوجھی مجھ کو اور وہی راہ بتلاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور کہا اسی ایماندار نے اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ آئے تم پر دن اگلے فرقوں کا سا

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسے حال ہوا قوم نوح کا اور عاد اور ثمود کا اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے اور اللہ بےانصافی نہیں چاہتا بندوں پر

(آیت) يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرے دل سے اعتقاد پختہ رکھے تو وہ مومن ہے مگر نصوص صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ ایمان کے مقبول ہونے کے لئے صرف دل کا یقین کافی نہیں بلکہ زبان سے اقرار کرنا شرط ہے، جب تک زبان سے اقرار نہ کرے گا مومن نہ ہوگا۔ البتہ زبان کا اقرار لوگوں کے سامنے اعلان کے ساتھ کرنا ضروری نہیں۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک لوگوں کو اس کے ایمان کا علم نہیں ہوگا وہ اس کے ساتھ معاملہ مسلمانوں جیسا نہ کرسکیں گے۔ (قرطبی) مومن من آل فرعون نے اس مکالمہ میں آل فرعون اور فرعون کو مختلف عنوانات سے حق اور ایمان کی طرف بلایا اور وہ جو حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کے درپے تھے ان کو اس سے باز رکھا۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ تم پر آئے دن ہانک پکار کا

(آیت) وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ۔ تناد بکسر دال مخفف ہے۔ تنادی کا جس کے معنی ہیں باہم ایک دوسرے کو نداء اور آواز دینے کے۔ قیامت کے روز کو یوم التناد اس لئے کہا گیا کہ اس روز بیشمار ندائیں اور آوازیں ہوں گی۔ جن کا کچھ ذکر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کا ایک منادی نداء دے گا کہ اللہ کے مخالف لوگ کھڑے ہوجائیں۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کرتے تھے۔ اور پھر اصحاب جنت دوزخ والوں کو اور دوزخ والے اصحاب جنت کو اور اصحاب اعراف دونوں کو نداء دے کر اپنی اپنی باتیں کریں گے۔ اور اس وقت ہر خوش نصیب اور بدنصیب کا نام مع ولدیت لے کر اس کے نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا کہ فلاں ابن فلاں سعید و کامیاب ہوگیا اس کے بعد شقاوت کا کوئی احتمال نہیں رہا اور فلاں بن فلاں شقی و بدبخت ہوگیا، اب اس کی نیک بختی کا کوئی احتمال نہیں رہا۔ (رواہ ابن ابی حاتم فی السنتہ مظہری) مسند بزار و بیہقی میں حضرت انس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سعادت و شقاوت کا اعلان وزن اعمال کے بعد ہوگا۔ اور حضرت ابوحازم اعرج ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ اے اعرج قیامت کے روز نداء دی جائے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوجاویں تو ان کے ساتھ کھڑا ہوگا کہ پھر ندا دی جائے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوں تو ان کے ساتھ بھی کھڑا ہوگا، پھر ندا دی جاوے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوں تو ان کے ساتھ بھی کھڑا ہوگا۔ اور میں سمجھتا ہوں ہر گناہ کے اعلان کے وقت تجھے ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا (کیونکہ تم نے ہر قسم کے گناہ جمع کر رکھے ہیں)۔ (اخرجہ ابونعیم۔ مظہری)
Ayahs 40:33–34

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن بھاگو گے پیٹھ پھیر کر کوئی نہیں تم کو اللہ سے بچانے والا اور جس کو غلطی میں ڈالے اللہ تو کوئی نہیں اس کو سمجھانے والا

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور تمہارے پاس آ چکا ہے یوسف اس سے پہلے کھلی باتیں لے کر پھر تم رہے دھوکے ہی میں ان چیزوں سے جو وہ تمہارے پاس لیکر آیا یہاں تک کہ جب مر گیا لگے کہنے ہرگز نہ بھیجے گا اللہ اس کے بعد کوئی رسول اسی طرح بھٹکاتا ہے اللہ اس کو جو ہو بےباک شک کرنے والا

(آیت) يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ۔ یعنی جب تم پشت پھیر کر لوٹو گے۔ خلاصہ تفسیر میں بحوالہ امام بغوی اس کے معنی یہ بیان ہوئے ہیں کہ یہ اس حالت کا بیان ہے جب مجرمین موقف حساب سے جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے یہ ندائیں اور اعلانات جن کا ذکر یوم التناد کی تفسیر میں اوپر ہوا ہے، وہ سب ہو چکیں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ موقف حساب سے مڑ کر جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ اور بعض حضرات مفسرین کے نزدیک یہ حال دنیا میں نفخہ اولیٰ کے وقت کا بیان کیا گیا ہے، کہ جب پہلا صور پھونکا جائے گا اور زمین پھٹے گی تو یہ لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے مگر ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوگا، کہیں نکلنے کا راستہ نہ ہوگا۔ ان حضرات کے نزدیک یوم التناد سے مراد بھی نفخہ اولیٰ کا وقت ہے کہ اس میں ہر طرف سے چیخ و پکار ہوگی۔ آیت کی دوسری قرات سے اس کی تائید ہوتی ہے جو حضرت ابن عباس اور ضحاک سے منقول ہے کہ یوم التناد کو بدال مشدد پڑھتے تھے، جو ندا مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے بھاگنے کے ہیں تو یوم التناد کے معنی بھی اس تفسیر کی رو سے بھاگنے کا دن ہوئے اور تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ اسی کی تشریح ہوئی۔ تفسیر مظہری میں ایک طویل حدیث بحوالہ ابن جریر اور مسند ابویعلی اور بیہقی اور مسند عبد بن حمید وغیرہ حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہے جس میں قیامت کے روز صور کے تین نفخوں کا ذکر ہے۔ پہلا نفخہ فزع دوسرا نفخہ صعق تیسرا نفخہ نشر، نفخہ فترع سے ساری مخلوق میں گھبراہٹ اور اضطراب پیدا ہوگا۔ یہی نفخہ اور طویل ہو کر نفخہ صعق بن جائے گا، جس سے سب بےہوش ہوجائیں گے پھر مر جائیں گے۔ عام طور پر ان دونوں نفخوں کے مجموعہ کو نفخہ اولیٰ کہا گیا ہے جس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ ایک ہی نفخہ کے وقت دو کیفیتیں ہوں گی۔ پہلی فزع دوسری صعق۔ اس حدیث میں بھی نفخہ فزع کے وقت لوگوں کے ادھر ادھر بھاگنے کا ذکر کر کے یہ فرمایا ہے وھو الذی یقول اللہ یوم التناد۔ جس سے معلوم ہوا کہ آیت میں یوم التناد سے مراد پہلے نفخہ کے وقت لوگوں کا مضطربانہ ادھر ادھر دوڑنا ہے۔ (واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم)
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

وہ جو کہ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو ان کو بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں اور ایمانداروں کے یہاں اسی طرح مہر کردیتا ہے اللہ ہر دل پر غرور والے سرکش کے

(آیت) كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ یعنی جس طرح فرعون وہامان کے قلوب نے موسیٰ ؑ اور مومن آل فرعون کی نصیحتوں سے کوئی اثر نہیں لیا اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیتے ہیں ہر ایسے شخص کے قلب پر جو متکبر اور جبار ہو (متکبر، تکبر کرنیوالا اور جبار کے معنی ظالم قاتل) جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس میں نور ایمان داخل نہیں ہوتا اور اس کو اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی۔ ایک قرات میں متکبر اور جبار کو قلب کی صفت قرار دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تمام اخلاق و اعمال کا منبع اور سرچشمہ قلب ہی ہے، ہر اچھا برا عمل قلب ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث میں فرمایا ہے کہ انسان کے بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا (یعنی دل) ایسا ہے جس کے درست ہونے سے سارا بدن درست ہوجاتا ہے اور اس کے خراب ہونے سے سارا بدن خراب ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)