Ayahs 44:39–42(آیت) مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان دونوں یعنی زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان و زمین اور ان کے اندر جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً ایک تو قدرت خدا وندی پر۔ دوسرے آخرت کے امکان پر، کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو عدم سے وجود عطا کیا وہ یقینا اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے۔ تیسرے جزا و سزا کی ضرورت پر، کیونکہ اگر آخرت کی جزا و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ و جود بیکار ہوجاتا ہے۔ اس کی تخلیق کی تو حکمت ہی یہ ہے کہ اسے دارالامتحان بنایا جائے اور اس کے بعد آخرت میں جزا و سزا دی جائے ورنہ نیک و بد دونوں کا انجام ایک ہونا لازم آتا ہے جو اللہ کی شان حکمت سے بعید ہے۔ چوتھے یہ کائنات سوچنے سمجھنے والوں کو اطاعت خداوندی پر ابھارنے والی بھی ہے کیونکہ یہ ساری مخلوقات اس کا بہت بڑا انعام ہیں اور بندے پر واجب ہے کہ اس نعمت کا شکر اس کے اخلاق کی اطاعت کر کے ادا کرے۔
Ayahs 44:43–50خلاصہ تفسیر
بیشک زقوم کا درخت (جس کی تحقیق سورة صافات کے دوسرے رکوع میں گزر چکی ہے) بڑے مجرم (یعنی کافر) کا کھانا ہوگا جو (صورت کے مکروہ ہونے میں) تیل کی تلچھن جیسا ہوگا (اور) وہ پیٹ میں ایسا کھولے گا جیسا تیز گرم پانی کھولتا ہے (اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) اس کو پکڑو پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ، پھر اس کے سر کے اوپر تکلیف دینے والا گرم پانی چھوڑو (اور اس سے بطور استہزاء کہا جائے گا کہ) لے چکھ، تو بڑا معزز مکرم ہے (یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے جیسا تو دنیا میں اپنے آپ کو معظم و مکرم سمجھ کر ہمارے احکام سے عار کیا کرتا تھا اور دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس میں تم شک (و انکار) کیا کرتے تھے (یہ تو کافر دوزخیوں کا حال ہوا آگے اہل ایمان کا ذکر ہے کہ) بیشک خدا سے ڈرنے والے امن (چین) کی جگہ میں ہوں گے یعنی باغوں میں اور نہروں میں (اور) وہ لباس پہنیں گے باریک اور دبیز ریشم کا، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (اور یہ) بات اسی طرح ہے اور ہم ان کا گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں سے بیاہ کردیں گے (اور) وہاں اطمینان سے ہر قسم کے میوے منگاتے ہوں گے (اور) وہاں وہ بجز اس موت کے جو دنیا میں آ چکی تھی اور موت کا ذائقہ بھی نہ چکھیں گے (یعنی مریں گے نہیں) اور اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے عذاب سے (بھی) بچالے گا (اور) یہ سب کچھ آپ کے رب کے فضل سے ہوگا، بڑی کامیابی یہی ہے (اور اے پیغمبر ﷺ آپ کا کام اتنا ہے کہ آپ ان کو کہتے رہئے) سو (اسی غرض سے ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان (عربی) میں آسان کردیا تاکہ یہ (اس کو سمجھ کر اس سے) نصیحت قبول کریں تو (اگر یہ لوگ نہ مانیں تو) آپ (ان پر مصائب کے نزول کے) منتظر رہئے، یہ لوگ بھی (آپ پر مصائب کے نزول کے) منتظر ہیں (پس آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑئیے، نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر کے صبر کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔)
معارف و مسائل
ان آیات میں آخرت کے کچھ احوال بیان کئے گئے ہیں، اور عادت کے مطابق یہاں بھی قرآن کریم نے دوزخ اور جنت دونوں ہی کے احوال یکے بعد دیگرے بیان فرمائے ہیں۔
(آیت) اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ۔ زقوم کی حقیقت سے متعلق کچھ ضروری باتیں سورة صافات کی تفسیر میں لکھی جا چکی ہیں وہاں ملاحظہ فرمائی جائیں۔ یہاں اتنی بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کی آیات سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ کفار کو زقوم دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے ہی کھلایا جائے گا کیونکہ یہاں زقوم کھلانے کے بعد یہ حکم مذکور ہے کہ ”اسے کھینچ کر دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔“ اس کے علاوہ سورة واقعہ کی (آیت) ھذا نزلھم یوم الدین سے بھی بعض حضرات نے یہی سمجھا ہے کیونکہ ”نزل“ ان کے نزدیک اصلاً مہمان کی اس خاطر تواضع کو کہا جاتا ہے جو اصل دعوت سے پہلے کی جائے، بعد کے کھانے کو ’ ضیافۃ“ یا ”مأدبۃ“ کہتے ہیں۔ یوں قرآنی الفاظ میں احتمال اس کا بھی ہے کہ زقوم کا کھلانا دخول جہنم کے بعد ہو۔ اس صورت میں ”نزل“ کا استعمال دعوت کے اصل کھانے کے معنی میں تو سعاً ہوگا اور آیت زیر تفسیر میں جو اس کے بعد جہنم کی طرف گھسیٹ لے جانے کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تھا تو پہلے بھی جہنم ہی میں، لیکن زقوم کھلانے کے بعد اسے مزید تذلیل اور ایذا رسانی کے لئے دوزخ کے وسط میں لیجایا جائے گا۔ واللہ اعلم (ملخص، ازبیان القرآن)
Ayahs 44:51–52(آیت) اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ ، ان آیات کے ذریعہ جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اصناف کو جمع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی ضرورت کی چیزیں عموماً یہ ہوتی ہیں۔ عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہتر شریک زندگی، بہتر ماکولات، پھر ان سب نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کے لئے ثابت کردیا گیا ہے جیسا کہ ان چھ آیتوں پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ یہاں اہل جنت کی قیام گاہ کو ”امین“ (پرامن) کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ انسانی رہائش گاہ کی سب سے قابل تعریف صفت اس کا پر امن یعنی خطرات سے محفوظ ہونا ہے۔
Ayah 44:53(آیت) سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ ، یہ دونوں ریشمی کپڑوں کے نام ہیں، سندس رقیق ریشم کا کپڑا ہے اور استبرق و بیز ریشم کا۔
Ayahs 44:54–55(آیت) وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍترویج کے معنی اصل میں ہیں ”کسی کو کسی کا جوڑ قرار دے دینا ‘ بعد میں یہ لفظ نکاح کرانے کے معنی میں بکثرت استعمال ہونے لگا ہے۔ اس جگہ اس کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جنتی مردوں کا حور عین سے باقاعدہ عقد نکاح کرا دیا جائے گا اور اگرچہ جنت میں کوئی شخص احکام کا مکلف نہیں ہوگا لیکن یہ عقد نکاح بطور اعزازو اکرام کے ہوگا اس لئے کوئی اشکال نہیں اور اگر پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حورعین کو جنتی مردوں کا جوڑا قرار دے دیا جائے گا اور وہ جنتی عورتیں بطور ہبہ انہیں عطا کردی جائیں گی اور اس کے لئے دنیا کی طرح عقد نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی۔
Ayahs 44:56–59(آیت) لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى مطلب یہ ہے کہ جو موت ایک مرتبہ آ چکی بس وہ آ چکی اس کے بعد کوئی موت ان پر نہیں آئے گی اور یہ بات اگرچہ اہل جہنم کو بھی حاصل ہوگی، لیکن ظاہر ہے کہ وہ ان کے لئے اور زیادہ تکلیف کا سبب ہوگی اور اہل جنت کے لئے سرور و کیف میں اضافے کا باعث۔ کیونکہ نعمت خواہ کتنی بڑی ہو اس کے زوال کا تصور لازماً کدورت کا سبب ہوتا ہے اور اہل جنت جب یہ تصور کریں گے کہ یہ نعمتیں کبھی ہم سے نہیں چھنیں گی تو اس سے ان کی مسرتوں میں اضافہ ہوگا۔
الحمد اللہ کہ آج بتاریخ 6 رجب 1392 ھ بروز پنجشنبہ بوقت نماز عشاء سورة دخان کی تفسیر مکمل ہوئی
واللہ الحمد اولاً واخرا و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و علی الہ و اصحابہ اجمعین