Ayah 47:22(آیت) فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ۔ لفظ تولی کے لغت کے اعتبار سے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک اعراض دوسرے کسی قوم و جماعت پر اقتدار حکومت، اس آیت میں بعض حضرات مفسرین نے پہلے معنی لئے ہیں جس کا اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے۔ ابوحیان نے بحر محیط میں اسی کو ترجیح دی ہے اس معنے کے اعتبار سے مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الٰہیہ سے رو گردانی کی جن میں حکم جہاد بھی شامل ہے تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پر پڑجاؤ گے جس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد اور قطع رحمی ہے جیسا کہ جاہلیت کے ہر کام میں اس کا مشاہدہ ہوتا تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر چڑھائی اور قتل و غارت کرتا تھا، اپنی اولاد کو خود اپنے ہاتھوں زندہ درگور کردیتے تھے، اسلام نے ان تمام رسوم جاہلیت کو مٹایا اور اس کے مٹانے کے لئے حکم جہاد جاری فرمایا جو اگرچہ ظاہر میں خونریزی ہے مگر درحقیقت اس کا حاصل سڑے ہوئے عضو کو جسم سے الگ کردینا ہے تاکہ باقی جسم سالم رہے، جہاد کے ذریعہ عدل و انصاف اور قرابتوں اور رشتوں کا احترام قائم ہوتا ہے، اور روح المعانی قرطبی وغیرہ میں اس جگہ تولی کے معنے حکومت و امارت کے لئے ہیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تمہارے حالات جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے ان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تمہاری مراد پوری ہو، یعنی اسی حالت میں تمہیں ملک و قوم کی ولایت اور اقتدار حاصل ہوجائے تو نتیجہ اس کے سوا نہیں ہوگا کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور رشتوں قرابتوں کو توڑ ڈالوں گے۔
صلہ رحمی کی سخت تاکید
اور لفظ ارحام رحم کی جمع ہے جو ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کا مقام ہے چونکہ عام رشتوں قرابتوں کی بنیاد وہیں سے چلتی ہے اس لئے محاورات میں رحم بمعنی قرابت اور رشتہ کے استعمال کیا جاتا ہے تفسیر روح المعانی میں اس جگہ اس پر تفصیلی بحث کی ہے کہ ذوی الارحام اور ارحام کا لفظ کن کن قرابتوں پر حاوی ہے۔ اسلام نے رشتہ داری اور قرابت کے حقوق پورے کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ اور دوسرے دو اصحاب سے اس مضمون کی حدیث نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے قریب کریں گے اور جو رشتہ قرابت قطع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قطع کردیں گے جس سے معلوم ہوا کہ اقرباء اور رشتہ داروں کے ساتھ اقوال و افعال اور مال کے خرچ کرنے میں احسان کا سلوک کرنے کا تاکیدی حکم ہے حدیث مذکور میں حضرت ابوہریرہ نے اس آیت قرآن کا حوالہ بھی دیا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ کوئی ایسا گناہ جس کی سزا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں اس کے علاوہ، ظلم اور قطع رحمی کے برابر نہیں (رواہ ابوداؤد، والترمذی، ابن کثیر) اور حضرت ثوبان کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی عمر زیادہ ہو اور رزق میں برکت ہو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے یعنی رشتہ داروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرے۔ احادیث صحیحہ میں یہ بھی ہے کہ قرابت کے حق کے معاملہ میں دوسری طرف سے برابری کا خیال نہ کرنا چاہئے اگر دوسرا بھائی قطع تعلق اور ناروا سلوک بھی کرتا ہے جب بھی تمہیں حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہئے۔ صحیح بخاری میں ہے لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ وصلھا یعنی وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو صرف برابر کا بدلہ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب دوسری طرف سے قطع تعلق کا معاملہ کیا جائے تو یہ ملانے اور جوڑنے کا کام کرے (ابن کثیر)
Ayah 47:23(آیت) اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ، یعنی ایسے آدمی جو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتوں قرابتوں کو قطع کریں ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے یعنی ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے حضرت فاروق اعظم نے اسی آیت سے ام الولد کی بیع کو حرام قرار دیا، یعنی وہ مملوکہ کنیز جس سے کوئی اولاد پیدا ہوچکی ہو اس کو فروخت کرنا اس اولاد سے قطع رحمی کا ذریعہ ہے جو موجب لعنت ہے اس لئے ام ولد کی فروخت کو حرام قرار دیا (رواہ الحاکم وصححہ و ابن المنذر عن بریدہ)
کسی معین شخص پر لعنت کا حکم اور لعن یزید کی بحث
اور حضرت امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ نے ان سے یزید لعنت کرنے کی اجازت کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ اس شخص پر کیوں نہ لعنت کی جائے جس پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے۔ صاحبزادے نے عرض کیا کہ میں نے تو قرآن کو پورا پڑھا اس میں کہیں یزید پر لعنت نہیں آئی آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ یزید سے زیادہ کون قطع ارحام کا مرتکب ہوگا جس نے رسول اللہ ﷺ کے رشتہ و قرابت کی بھی رعایت نہیں کی، مگر جمہور امت کے نزدیک کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں، جب تک کہ اس کا کفر پر مرنا یقینی طور پر ثابت نہ ہو۔ ہاں عام و صف کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے جیسے لعنتہ اللہ علی الکاذبین، لعنتہ اللہ علی المفسدین و لعنتہ اللہ علی قاطع الرحم وغیرہ روح المعانی میں اس جگہ اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے (روح ص 72 ج 26)
Ayah 47:24(آیت) اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا، دل پر قفل لگ جانے کے وہی معنی ہیں جس کو دوسری آیتوں میں تخم اور طبع یعنی مہر لگ جانے سے تعبیر کیا گیا اور مراد اس سے دل کا سخت اور ایسا بےحس ہوجانا ہے کہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگے۔ بےپروائی کے ساتھ مسلسل گناہوں میں لگے رہنا عموماً اس کا سبب ہوتا ہے نعوذ باللہ منہ۔
Ayahs 47:25–28(آیت) الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ ، اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی۔ ایک تسویل جس کے معنی تزئین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزین کر دے۔ دوسرا املاء، جس کے معنے امہال اور مہلت دینے کے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا اور مزین کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔
Ayah 47:29(آیت) اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ ، اضغان جمع ضغن کی ہے جس کے معنی مخفی عداوت اور حسد و کینہ کے ہیں۔ منافقین جو اسلام کا دعویٰ اور ظاہر میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار اور باطن میں عداوت و کینہ رکھتے تھے ان کے بارے میں نازل ہوا کہ یہ لوگ اللہ رب العالمین کو عالم الغیب جانتے ہوئے اس بات سے کیوں بےفکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے باطنی راز اور مخفی عداوت کو لوگوں پر ظاہر کردیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة برات میں ان کے ایسے اعمال و افعال اور حرکتوں کا پتہ دے دیا جن سے منافقین کے نفاق کا پتہ چل جائے اور وہ پہچانے جائیں، اسی لئے سورة برات کو فاضحہ بھی کہا جاتا ہے یعنی رسوا کرنے والی کیونکہ اس نے منافقین کی خاص خاص علامتیں ظاہر کردی ہیں۔
Ayah 47:30(آیت) وَلَوْ نَشَاۗءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيْمٰهُمْ ، یعنی اگر ہم چاہیں تو آپ کو بالتعیین منافقین کو دکھلا دیں اور ان کا ایسا حلیہ بتلا دیں جس سے آپ ہر ایک منافق کو شخصی طور پر پہچان لیں، قرآن نے اس مضمون کو بحرف لو بیان کیا ہے جس کا استعمال ایسی شرط کے لئے ہوتا ہے جس کا وقوع نہ ہوا ہو، اس لئے معنے آیت کے یہ ہوتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو ہر منافق کو آپ کو شخصی طور پر متعین کر کے بتلا دیتے مگر ہم نے بحکمت و مصلحت اپنے حلم و بردباری سے ان کو اس طرح رسوا کرنا پسند نہیں کیا تاکہ ضابطہ یہ قائم رہے کہ تمام امور کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور باطنی حالات اور قلبی مضمرات کو صرف علیم وخبیر اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے، البتہ آپ کو ایسی بصیرت ہم نے دے دی ہے کہ آپ منافق کو خود انہیں کے کلام سے پہچان لیں، (آیت) وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ کا یہی مفہوم ہے (ابن کثیر)
حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا کہ جو شخص کوئی چیز اپنے دل میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے چہرے سے اور سبقت لسانی سے ظاہر کردیتے ہیں یعنی دوران گفتگو اس سے کچھ ایسے کلمات نکل جاتے ہیں جس سے اس کا دلی راز ظاہر ہوجائے۔ ایسی ہی ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے دل میں کوئی بات چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے وجود پر اس چیز کی چادر اڑھا دیتے ہیں۔ اگر وہ چیز کوئی اچھی بھلی ہے تو وہ ظاہر ہو کر رہتی ہے اور بری ہے تو وہ ظاہر ہو کر رہتی ہے اور بعض روایات حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کا آپ کو شخصی طور پر بھی علم دے دیا گیا تھا جیسا کہ مسند احمد میں عقبہ ابن عمرو کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ میں خاص خاص منافقین کے نام لے کر ان کو مجلس سے اٹھا دیا اس میں چھتیس آدمیوں کے نام شمار کئے گئے ہیں (ابن کثیر)
Ayah 47:31(آیت) حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ ، اللہ تعالیٰ کو تو ازل سے ہر شخص کے اعمال و افعال کا علم محیط ازلی ابدی ہے۔ یہاں علم سے مراد ظہور و وقوع ہے یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے تھی اس کا وقوع و ظہور ہو کر واقعاتی علم ہوجائے۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم
Ayahs 47:32–33خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے (اوروں کو بھی) اللہ کے رستہ (یعنی دین حق) سے روکا اور رسول ﷺ کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان کو (دین کا) راستہ (دلائل عقلیہ سے مشرکین کے لئے اور نقلیہ سے بھی اہل کتاب کے لئے) نظر آ چکا تھا یہ لوگ اللہ (کے دین) کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے (بلکہ یہ دین ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا چناچہ ہوا) اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو (جو دین حق کے مٹانے کے لئے عمل میں لا رہے ہیں) مٹا دے گا اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور (چونکہ رسول اللہ ﷺ ہی کا حکم بتلاتے ہیں خواہ خاص طور پر وحی الٰہی میں اس کا حکم ہوا ہو یا وحی الٰہی میں کلی ضابطہ بیان فرمایا گیا ہو اور اس خاص حکم کو رسول اللہ ﷺ کی (بھی) اطاعت کرو اور (کفار کی طرح اللہ و رسول کی مخالفت کر کے) اپنے اعمال کو برباد مت کرو (اس کی تفصیل معارف و مسائل میں آئے گی) بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے رستہ سے روکا پھر وہ کافر ہی رہ کر مر (بھی) گئے، سو خدا تعالیٰ ان کو کبھی نہ بخشے گا (عدم مغفرت کے لئے کفر کے ساتھ صد عن سبیل اللہ شرط نہیں بلکہ صرف کفروا الی الموت تک کا یہی اثر ہے لیکن زیادت تشنیع کے لئے یہ قید واقعی بڑھا دی کہ اس وقت کے رؤسائے کفار میں یہ امر بھی متحقق تھا، آگے مومنین کے مدایح اور کفار کے قبایح پر بطور تفریع کے فرماتے ہیں کہ جب معلوم ہوگیا کہ مسلمان خدا کے محبوب اور کفار مبغوض ہیں) تو (اے مسلمانو !) تم (کفار کے مقابلہ میں) ہمت مت ہارو اور (ہمت ہار کر ان کو) صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے (اور وہ مغلوب ہوں گے کہ تم محبوب ہو اور وہ مبغوض ہیں) اور اللہ تمہارے ساتھ ہے (یہ تو تم کو دنیا کی کامیابی ہوئی) اور (آخرت میں یہ کامیابی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ) تمہارے اعمال (کے ثواب) میں ہرگز کمی نہ کرے گا (یہ تو ہمت افزائی کر کے جہاد کی ترغیب تھی آگے دنیا کے فانی ہونے کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب اور انفاق فی سبیل اللہ کی تمہید ہے کہ) یہ دنیوی زندگی تو محض ایک لہو و لعب ہے (اگر اس میں جان اور مال کو اپنے فائدہ کے لئے بچانا چاہئے تو وہ فائدہ ہی کتنے دن کا ہے اور کیا اس کا حاصل) اور اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو (جس میں جہاد بالنفس و المال بھی آ گیا) تو (تم کو تو اپنے پاس سے نفع پہنچا دے گا اس طرح کہ) تم کو تمہارا اجر عطا کرے گا اور (تم سے کسی نفع کا طالب نہ ہوگا چنانچہ) تم سے تمہارے مال (تک بھی جو کہ جان سے انہوں نے اپنے نفع کے لئے) طلب نہیں کرے گا (جب تم سے ایسی چیز نہیں طلب کرتا جس کا دینا آسان ہے تو جان جس کا دینا مشکل ہے وہ تو کیوں طلب کرے گا چناچہ ظاہر ہے کہ ہمارے جان و مال کے خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نفع نہیں اور نہ یہ ممکن ہے وہذا کقولہ تعالیٰ وہو یطعم ولا یطعم چنانچہ) اگر (امتحاناً) تم سے تمہارے مال طلب کرے پھر انتہا درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے (یعنی سب مال طلب کرنے لگے) تو تم (یعنی تم سے اکثر) بخل کرنے لگو (یعنی دینا گوارا نہ کرو) اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ تمہاری ناگواری ظاہر کر دے (یعنی نہ دینے سے کہ فعل ظاہری ہے باطنی ناگواری کھل جاوے اس لئے یہ فرد ممکن بھی واقع نہیں کی گئی اور) ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں (جس کا نفع تمہاری طرف عائد ہونا یقینی ہے تھوڑا سا حصہ مال کا) خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے (اور بقیہ اکثر تمہارے قبضہ میں چھوڑ دیا جاتا ہے) سو (اس پر بھی) بعضے تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور (آگے اس فرد واقع پر بخل کی مذمت ہے کہ) جو شخص (ایسی جگہ خرچ کرنے سے) بخل کرتا ہے تو وہ (درحقیقت) خود اپنے سے بخل کرتا ہے (یعنی اپنے ہی کو اس کے نفع دائمی سے محروم رکھتا ہے) اور (نہیں تو) اللہ تو کسی کا محتاج نہیں (تاکہ احتمال اس کے ضرر کا ہو) اور (بلکہ) تم سب (اس کے) محتاج ہو (اور تمہاری اس احتیاج کی رعایت سے تم کو انفاق کا حکم کیا گیا کیونکہ آخرت میں تم کو ثواب کی حاجت ہوگی اور طریق اس کا یہی اعمال ہیں اور) اگر تم (ہمارے احکام سے) روگردانی کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دے گا (اور) پھر وہ تم جیسے (روگردانی کرنے والے) نہ ہوں گے (بلکہ نہایت فرمانبردار ہوں گے، یہ کام ان سے لیا جاوے گا اور اس طرح وہ حکمت پوری ہوجاوے گی)
معارف و مسائل
(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، یہ آیت بھی منافقین اور یہود بنی قریظہ و بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ ان منافقین کے متعلق ہے جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امداد اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہر روز ان میں سے ایک آدمی لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا۔
(آیت) وَسَيُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ یہاں حبط اعمال سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی اسلام کے خلاف کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دے بلکہ اکارت کر دے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے ان کے نیک عمل مثل صدقہ خیرات وغیرہ کے سب اکارت ہوجائیں گے قابل قبول نہ ہوں گے وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ ، قرآن کریم نے اس جگہ حبط اعمال کے بجائے ابطال اعمال کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا مفہوم بہت عام ہے کیونکہ ابطال کی ایک تو وہ صورت ہے جو کفر کی وجہ سے پیش آتی ہے جس کو اوپر آیت میں حبط اعمال کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ کافر اصلی کا تو کوئی عمل بوجہ کفر کے مقبول ہی نہیں اور اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا تو زمانہ اسلام کے اعمال اگرچہ لائق قبول تھے مگر اس کے کفر و ارتداد نے ان سب اعمال کو بھی اکارت کردیا۔
دوسری صورت ابطال اعمال کی یہ بھی ہے کہ بعض اعمال صالحہ کے لئے کچھ دوسرے اعمال صالحہ شرط ہیں تو جس شخص نے اس شرط کو ضائع کردیا تو اس کا یہ عمل صالح بھی ضائع ہوگیا جو اس شرط کے ساتھ مشروط تھا، مثلاً ہر عمل صالح کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لئے ہو، ریا و سمعہ اس میں نہ ہو یعنی محض لوگوں کے دکھانے یا سنانے کے لئے یہ عمل نہ کیا ہو۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے ، (آیت) ومآ امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین اور دوسری جگہ فرمایا الا للہ الدین الخالص تو جس شخص کے نیک اعمال ریا و نمود کے لئے ہوں وہ عمل اللہ کے نزدیک باطل ہوجائے گا۔ اسی طرح صدقات کے بارے میں خود قرآن نے تصریح فرما دی (آیت) لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی، یعنی اپنے صدقات کو احسان جتلا کر یا غریب کو ایذا دے کر باطل نہ کرو۔ معلوم ہوا کہ جس نے صدقہ دے کر غریب پر احسان جتلایا یا اسے کوئی اور ایذا پہنچائی اس کا صدقہ باطل ہے یہی مفہوم ہوسکتا ہے حضرت حسن بصری کے قول کا جو انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اپنی نیکیوں کو گناہوں کے ذریعہ باطل نہ کرو، جیسا کہ ابن جریج کا قول ہے یعنی بالریآء و السمعة اور مقاتل وغیرہ نے فرمایا بالمن، کیونکہ باتفاق اہل سنت والجماعت کفر و شرک کے علاوہ کوئی گناہ اگرچہ کبیرہ ہو ایسا نہیں جو مومن کے تمام اعمال صالحہ کو حبط اور باطل کر دے مثلاً کسی شخص نے چوری کرلی اور وہ نماز روزہ کا پابند ہے تو شرعاً اس کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ تیری نماز اور روزہ بھی باطل ہوگئے اس کی قضا کر، اس لئے ابطال اعمال بالمعاصی سے مراد وہی معاصی ہوں گے جن کے نہ کرنے پر عمل کی مقبولیت کا مدار ہے جیسا ریا و نمود کہ ان کا نہ ہونا ہر عمل صالح کی مقبولیت کی شرط ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت حسن بصری کے قول میں ابطال اعمال سے مراد اعمال صالحہ کی برکات سے محرومی ہو نفس عمل کا ضائع ہوجانا مراد نہ ہو تو یہ تمام معاصی کے لئے شرط ہے، جس شخص کے اعمال میں معاصی کا غلبہ ہو تو اس کے تھوڑے سے نیک اعمال میں بھی وہ برکت نہیں ہوتی کہ عذاب سے بچا لے بلکہ وہ اپنے اعمال کی سزا قاعدہ کے مطابق بھگتے گا مگر بالآخر اپنے ایمان کی برکت سے سزا بھگتنے کے بعد انجام کار نجات پائے گا۔
مسئلہ، تیسری صورت ابطال عمل کی یہ بھی ہے کہ کوئی نیک عمل کر کے اس کو قصداً فاسد کر دے مثلاً نفل نماز یا روزہ شروع کرے پھر بغیر کسی عذر کے اس کو قصداً فاسد کر دے یہ بھی اس آیت کے ذریعہ ناجائز قرار پایا، امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے کہ جو اعمال صالحہ ابتداً فرض یا واجب نہیں تھے مگر کسی نے ان کو شروع کردیا تو اب ان کی تکمیل اس آیت کی رو سے واجب ہوگئی تاکہ ابطال عمل کا مرتکب نہ ہو، اگر کسی نے ایسا عمل شروع کر کے بلا عذر کے چھوڑ دیا یا قصداً فاسد کردیا تو وہ گناہ گار بھی ہو اور اس کے ذمہ قضا بھی لازم ہے۔ امام شافعی کے نزدیک نہ تو قضا لازم ہے اور نہ اس کے فاسد کرنے کا گناہ گار ہوگا کیونکہ جب ابتداً یہ عمل فرض یا واجب نہیں تھا تو بعد میں بھی فرض و واجب نہیں جس کے ترک یا فساد سے گناہ لازم آئے مگر حنفیہ کے نزدیک آیت مذکورہ کے الفاظ عام ہیں ہر عمل صالح کو شامل ہیں خواہ پہلے فرض واجب ہو یا نفلی طور پر کرنا شروع کر دیاہو تو شروع کرنے سے وہ نفلی عمل بھی واجب ہوگیا، تفسیر مظہری میں اس جگہ احادیث کثیرہ سے اس بحث کو مفصل لکھا گیا ہے۔
Ayah 47:34(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ، انہیں الفاظ کے ساتھ ایک حکم ابھی پہلے آیا ہے، مکرر ذکر یا تو اس لئے ہے کہ پہلی آیت میں کفار کے خسارہ دنیوی کا بیان ہوا ہے اور اس آیت میں ان کا اخروی نقصان بتلانا منظور ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں نقل کیا گیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں تو عام کفار کا ذکر تھا جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے ان کا حکم تو یہ آیا کہ جو اعمال صالحہ انہوں نے بحالت کفر کئے تھے وہ سب اکارت گئے اسلام لانے کے بعد بھی ان کا ثواب نہیں ملے گا اور اس آیت میں ایسے کفار کا خاص ذکر ہے جو مرتے دم تک کفر و شرک ہی پر جمے رہے کہ ان کا حکم یہ ہے کہ آخرت میں ان کی ہرگز مغفرت نہیں ہوگی واللہ اعلم۔
Ayah 47:35(آیت) فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَى السَّلْمِ ، اس آیت میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وان جنحواللسلم فاجنح لھا یعنی اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہو جایئے جس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے اس لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ اجازت والی آیت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی طرف سے صلح جوئی کی ابتدا ہو اور اس آیت میں جس کو منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے صلح کی درخواست کی جائے اس لئے دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ابتداً صلح کرلینا بھی جائز ہے جبکہ مصلحت مسلمانوں کی اس میں دیکھی جائے۔ محض بزدلی اور عیش کوشی اس کا سبب نہ ہو اور اس آیت نے شروع میں فلا تھنوا کہہ کر اس طرف اشارہ کردیا کہ ممنوع وہ صلح ہے جس کا منشاء بزدلی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے فرار ہو اس لئے اس میں بھی کوئی تعارض نہیں کہ وان جنحو اللسلم کی آیت کے حکم کو اس صورت کے ساتھ مقید کیا جائے جس میں صلح جوئی کا سبب وہن اور سستی بزدلی نہ ہو بلکہ خود مسلمانوں کی مصلحت کا تقاضا ہو۔ واللہ اعلم
(آیت) وَلَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی جزاء میں کوئی کمی نہیں کرے گا، اشارہ اس طرف ہے کہ دنیا میں کوئی تکلیف بھی پہنچ گئی تو اس کا اجر عظیم آخرت میں ملنے والا ہے اس مومن تکلیف کی حالت میں بھی ناکام نہیں۔
Ayahs 47:36–37(آیت) اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ۭ چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہی ہو سکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت، اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں اس آیت میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں اس وقت ان کو بچا بھی لیا تو پھر کیا، دوسرے وقت یہ چیزیں ہاتھ سے نکلیں گی اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو۔
وَلَا يَسْـَٔــلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ ، اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرتا مگر پورے قرآن میں زکوٰة و صدقات کے احکام اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بیشمار مواقع آئے ہیں اور خود اس کے بعد ہی دوسری آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید آ رہی ہے اس لئے بظاہر ان دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے اس لئے بعض حضرات نے لا یسئلکم کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اموال تم سے کسی اپنے نفع کے لئے نہیں مانگتا بلکہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے مانگتا ہے جس کا ذکر اسی آیت میں بھی يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ کے الفاظ سے کردیا گیا ہے کہ تم سے جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے کہا گیا وہ اس لئے ہے کہ آخرت میں جہاں تمہیں سب سے زیادہ ضرورت نیکیوں کی ہوگی اس وقت یہ خرچ کرنا تمہارے کام آئے وہاں تمہیں اس کا اجر ملے، مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں اسی مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے، اس کی نظیر یہ (آیت) ما ارید منھم من رزق ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم تم سے اپنے لئے کوئی رزق نہیں لیتے نہ اس کی ہمیں حاجت ہے اور بعض حضرات نے اس آیت کا مفہوم یہ قرار دیا ہے کہ لایسئلکم سے مراد پورا مال طلب کرلینا ہے (وہو قول ابن عیینہ قرطبی) اس کا قرینہ اگلی آیت ہے جس میں فرمایا ہے اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ کیونکہ یحف احفاء سے مشتق ہے جس کے معنی مبالغہ اور کسی کام میں آخر تک پہنچ جانے کے ہیں اس دوسری آیت کا مفہوم سب کے نزدیک یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اموال پورے طلب کرتا تو تم بخل کرنے لگتے اور اس حکم کی تعمیل تمہیں ناگوار ہوتی یہاں تک کہ ادائیگی کے وقت تمہاری یہ ناگواری ظاہر ہوجاتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں لایسئلکم سے مراد یہی ہے جو دوسری آیت میں فیحفکم کی قید کے ساتھ آیا ہے تو مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مالی فرائض زکوٰة وغیرہ تم پر عائد کئے ہیں اول تو وہ خود تمہارے ہی فائدہ کیلئے ہیں اللہ تعالیٰ کا کوئی اپنا فائدہ نہیں، دوسرے پھر ان فرائض میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے مال کا اتنا تھوڑا سا جزو فرض کیا ہے جو کسی طرح بار خاطر نہ ہونا چاہئے زکوٰة میں چالیسواں حصہ زمین کی پیداوار میں دسواں یا بیسواں حصہ، سو بکریوں میں سے ایک بکری، تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پورے اموال تو طلب نہیں کئے جن کا دینا ناگوار اور بار خاطر طبعاً ہوتا بلکہ اس کا قدر قلیل طلب فرمایا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ اس کو خوشدلی کے ساتھ ادا کیا کرو، اور اس دوسری آیت میں جو ارشاد ہے وَيُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ اس میں اضغان جمع ضغن کی ہے جس کے معنی مخفی کینہ اور مخفی کراہت کے ہیں اس جگہ بھی مخفی کراہت و ناگواری مراد ہے یعنی طبعی طور پر انسان کو اپنا پورا مال بخشش کردینا ناگوار ہوتا ہے جس کو وہ ظاہر بھی نہ کرنا چاہئے تو ادائیگی کے وقت ٹال مٹول وغیرہ سے یہ ناگواری کھل ہی جاتی ہے تو حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے پورے اموال کا مطالبہ کرلیتا تو تم بخل کرنے لگتے اور بخل کی وجہ سے جو ناگواری اور کراہت تمہارے دلوں میں ہوتی وہ لا محالہ ظاہر ہوجاتی۔ اس لئے اس نے تمہارے اموال میں سے ایک حقیر اور قلیل حصہ تم پر فرض کیا ہے تم اس میں بھی بخل کرنے لگے اسی کا بیان آخری آیت میں اس طرح فرمایا ہے کہ
تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل، یعنی تم کو تمہارے اموال کا کچھ حصہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض اس میں بھی بخل کرنے لگتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ ومن یبخل فانمایبخل عن نفسہ، یعنی جو شخص اس میں بھی بخل کرتا ہے وہ کچھ اللہ کا نقصان نہیں کرتا بلکہ خود اپنی جان کا نقصان اس بخل کے ذریعہ کرتا ہے کہ آخرت کے ثواب سے محرومی اور ترک فرض کا وبال ہے۔ پھر اسی بات کو زیادہ وضاحت سے فرما دیا واللہ الغنی و انتم الفقرآء یعنی اللہ تو غنی ہے تم ہی حاجت مند ہو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خود تمہاری حاجت کا پورا کرنا ہے۔
Ayah 47:38(آیت) تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ۚ، اس آیت میں حق تعالیٰ کے غنی الاغنیا ہونے کو اس طرح واضح کیا ہے کہ اللہ کو تمہارے اموال کی تو کیا خود تمہارے وجود کی بھی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم سب کے سب ہمارے احکام کی تعمیل چھوڑ دو تو جب تک ہمیں دنیا کو اور اس میں اسلام کو باقی رکھنا ہے ہم اپنے دین حق کی حفاظت اور اپنے احکام کی تعمیل کیلئے دوسری ایسی قوم پیدا کردیں گے جو تمہاری طرح احکام شرعیہ سے گریز اور اعراض نہ کرے گی بلکہ ہماری مکمل اطاعت کرے گی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ مراد اس سے عجمی لوگ ہیں، اور حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اس سے مراد فارس اور روم ہیں اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت صحابہ کرام کے سامنے فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ ایسی کونسی قوم ہے کہ اگر ہم (خدانخواستہ) احکام دین سے روگردانی کرنے لگیں تو وہ ہمارے بدلے میں لائی جائے گی اور پھر وہ ہماری طرح احکام سے روگردانی نہیں کرے گی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت سلمان فارسی (جو مجلس میں موجود تھے) کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ اور اس کی قوم، اور اگر (بالفرض) دین حق ثریا ستارے پر بھی ہوتا (جہاں لوگوں کی رسائی مشکل ہوتی) تو فارس کے کچھ لوگ وہاں بھی پہنچ کر دین کو حاصل کرتے اور اس پر عمل کرتے (رواہ الترمذی و الحاکم و صححاہ و ابن حبان مظہری)
شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب جو ابوحنیفہ ؒ کے مناقب میں لکھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں کیونکہ ابناء فارس میں کوئی جماعت علم کے اس مرتبہ پر نہیں پہنچی جس پر ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب پہنچے ہیں (حاشیہ تفسیر مظہری)