Ayahs 47:1–2اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والوں کی بربادی اور اہل حق پر انعام کا اعلان
آیات مذکورہ بالا میں اہل کفر اور اہل ایمان کے درمیان فرق واضح فرمایا ہے اور اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے کفر و شرک پر تو کسی خیر کی امید رکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں اہل کفر جو بعض مرتبہ صلہ رحمی یا خدمت خلق کے کام کرتے ہیں آخرت میں ان چیزوں کا بھی کچھ نہیں ملے گا اعمال ضائع کرنے کا سبب کفر ہی بہت ہے۔ پھر اوپر سے جنہوں نے اللہ کے راستے روکنے کا جو کام کیا یہ ان کے اعمال ضائع ہونے کا ایک مزید سبب بن گیا۔ مومنین کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرما دے گا آیت کریمہ میں ان کے ایمان کی تعریف فرماتے ہوئے ﴿ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ ﴾ فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد کسی کا ایمان اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ساتھ ہی ﴿ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ﴾ فرمایا جس میں محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے کی اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اللہ کی طرف سے اس کے اتارے جانے کی توثیق اور تصدیق فرمائی اور یہ بتادیا کہ آپ کا دعویٰ رسالت اور دعوی نزول کتاب من اللہ حق اور صحیح ہے۔
Ayah 47:3پھر ارشاد فرمایا کہ یہ جو اہل کفر کی بدحالی ہوگی اور اہل ایمان کے حال کو اللہ تعالیٰ سدھار دے گا یہ اس وجہ سے ہے کہ کافروں نے باطل کا اتباع کیا اور اہل ایمان نے حق کا اتباع کیا، اتباع الحق کے ساتھ لفظ ﴿مِنْ رَّبِّهِمْ ﴾ بھی فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو (اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہیے)
﴿كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ للنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ 003﴾ (اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے لیے امثال بیان فرماتا ہے۔ ) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ امثال سے احوال مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ مومنین اور کافرین کے احوال بیان فرماتا ہے مومنین کو حق پر بتاتا ہے اور اس کے نتیجے میں فلاح اور فوز کی بشارت دیتا ہے اور کافروں کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ باطل کا اتباع کرتے ہیں جس کا نتیجہ خیبت اور خسران ہے۔
Ayah 47:4جہاد و قتال کی ترغیب، قیدیوں کے احکام، مجاہدین اور مقتولین کی فضیلت
یہ آیات متعدد مضامین پر مشتمل ہیں جہاد اور قتال کے بعض مسائل بتائے ہیں اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کی فضیلت ظاہر فرمائی اور کافروں کی بدحالی اور بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کافروں سے تمہارا مقابلہ ہوجائے اور قتل و قتال کی نوبت ہوجائے تو دشمنان اسلام کے قتل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کرو، ان میں سے جو قتل ہوجائیں ان کے علاوہ جو زندہ ہوں ان کو قید کرلو اور اچھی طرح کس کے ان کو باندھو اس کے بعد ان کو احسان کے طور پر یا اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے بدلہ ان کو چھوڑ دو ۔
اس کی تشریح اور تفسیر یہ ہے کہ جب دو قوموں میں جنگ کرنے والے مقتول بھی ہوتے ہیں اور ایک فریق دوسرے فریق کے افراد کو قید بھی کرلیتا ہے مجاہدین اسلام دشمن کے افراد کو قید کرلیں تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے اس کے بارے میں یہاں سورة محمد ﷺ میں دو حکم بیان فرمائے ہیں اول یہ کہ ان پر احسان کردیا جائے یعنی بغیر کسی معاوضہ کے چھوڑ دیا جائے یا دوم یہ کہ اپنے قیدیوں کے بدلہ میں انہیں چھوڑ دیں یعنی امیر المومنین اپنے قیدی ان سے واپس لے لے اور ان کے بدلہ کافر قیدیوں کو واپس کردے، تیسری صورت یہ ہے کہ مالی عوض لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا اور چوتھی صورت یہ کہ انہیں قتل کردیا جائے قتل کرنا اور فدیہ لے کر چھوڑ دینا سورة انفال میں مذکور ہے۔
اور پانچویں صورت یہ ہے کہ انہیں غلام باندی بنا کر مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ ان قیدیوں کو ذمی بنا کر دارالاسلام میں رکھ لیا جائے۔
حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک بالکل ہی بطور احسان کے چھوڑ دینا کہ نہ قیدیوں کا تبادلہ ہو اور نہ مال لیا جائے اور نہ ذمی بنایا جائے یہ جائز نہیں ہے۔
علامہ ابوبکر جصاص ؓ احکام القرآن جلد دوم ص 392 میں لکھتے ہیں کہ سورة انفال سورة محمد ﷺ کے بعد نازل ہوئی سورة محمد میں جو مَنّ اور فداء کی اجازت ہے اس کو سورة برات کی آیات ﴿ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ ﴾ اور ﴿قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَ لَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ نے منسوخ کردیا لہٰذا فدا اور مَن کی اجازت نہیں رہی فوجب ان یکون الحکم المذکور فیھا ناسخا للفداء المذکور فی غیرھا 1 ھ۔ (پس ضروری ہے کہ اس میں مذکور حکم فدیہ کا اس حکم کے لیے ناسخ ہو جو دوسری جگہ مذکور ہے) کافر قیدیوں کو بلاعوض مالی یا مسلمان قیدیوں کے چھڑانے کے لیے بطور مبادلہ چھوڑ دیا جائے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے اس کو جائز قرار نہیں دیا اور حضرات صاحبین اور حضرت امام شافعی ؓ نے فرمایا کہ ایسا کرنا درست ہے رہی یہ بات کہ کافر قیدیوں کو مال لے کر چھوڑ دینا جائز ہے یا نہیں اس کے بارے میں حنفیہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ بھی جائز نہیں ہے البتہ امام محمد (رح) نے سیر کبیر میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہو تو ایسا بھی کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا ہے ﴿ وَ لَوْ يَشَآء اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ ﴾ (اور اگر اللہ چاہے تو کافروں سے انتقام لے) یعنی کسی طرح کا کوئی بھی عذاب دے کر ہلاک فرما دے ﴿ وَ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ﴾ اور لیکن تاکہ تم میں سے بعض کا بعض کے ذریعے امتحان فرمائے یعنی تمہیں جو جہاد کا حکم دیا اس میں تمہارا امتحان ہے کہ وہ کون ہے جو جانتے ہوئے بھی کہ مقتول بھی ہوسکتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتا ہے اور جہاد کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس میں کافروں کا بھی امتحان ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں آکر مقتول ہونے اور شکست کھانے اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد کا معاملہ دیکھ کر حق کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
پھر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ 004﴾ (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہ فرمائے گا) اس میں یہ بتایا کہ جہاد میں امتحان کی حکمت کے ساتھ ساتھ تمہارا فائدہ بھی ہے اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤ گے تو یہ صرف امتحان کی کامیابی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمہارے اعمال کے عوض بڑے بڑے انعامات ملیں گے شہادت کا درجہ عطا کیا جائے گا۔
Ayah 47:5﴿سَيَهْدِيْهِمْ وَ يُصْلِحُ بَالَهُمْۚ005 ﴾ (اللہ انہیں منزل مقصود تک پہنچا دے گا اور ان کا حال درست فرمائے گا) قبر، حشر اور تمام مواقع میں ان کا حال درست فرما دے گا
Ayah 47:6﴿وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ﴾ اور انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جو ان کی منزل مقصود ہے ﴿عَرَّفَهَا لَهُمْ 006 ﴾ (اللہ نے انہیں جنت کی پہچان کرا دی) یعنی دنیا میں اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ انہیں اس کی پہچان کرا دی ہے جنت کی پہچان کرانے کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جب جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو اپنے اپنے مقرر کردہ مقام کو وہ اس طرح جانتے ہوں گے جیسے اپنے دنیا والے گھروں میں اس کو پہچانتے تھے بلکہ ان سے زیادہ اپنی جنت والی مقررہ جگہ کے راستے کو پہچانتے ہوں گے۔ (كما فی الحدیث)
Ayah 47:7اس کے بعد مسلمانوں سے مدد کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 007﴾ اس میں یہ بتادیا کہ تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے کوششوں میں لگو گے (جس کا وہ محتاج نہیں ہے) تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور ثابت قدم رکھے گا۔
Ayahs 47:8–9مومنین کا انعام بیان کرنے کے بعد کافروں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ 008 ﴾ (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہلاکت ہے ان کے لیے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے) دنیا میں مومنین کے ہاتھوں ان کی تباہی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت یعنی عذاب شدید اور دائمی ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ 009﴾ (اب لوگوں کی یہ ہلاکت اور اعمال کا حبط ہونا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا جو کچھ اللہ نے نازل کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال حبط فرما دئیے۔ )
Ayah 47:10دنیا میں چل پھر کر عبرت حاصل کریں
اس کے بعد منکرین کو تنبیہ فرمائی کہ اپنی دنیا اور سازو سامان اور عمارت سے دھوکہ نہ کھائیں ان سے پہلے بھی قومیں گزر چکی ہیں جو ہلاکت و بربادی کا منہ دیکھ چکی ہیں، ارشاد فرمایا ﴿ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ؕ﴾ (کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے) ﴿ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ﴾ (اللہ نے ان کو ہلاک فرما دیا) ﴿ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا 0010﴾ (اور کافروں کے لیے ایسی کئی چیزیں ہیں) یعنی موجودہ جو کفار ہیں اور ان کے بعد جو بھی کافر ہوں گے ان کے لیے دنیا میں اسی طرح عذاب ہوگا اور ہلاک کردئیے جائیں گے اور آخرت میں شدید اور دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 47:11اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مولیٰ ہے
﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (یہ جو کچھ مذکور ہوا یعنی اہل ایمان کا جنت میں داخل ہونا اور اہل کفر کا دنیا و آخرت میں برباد ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ ہے یعنی ان کا ولی ہے مددگار ہے کارساز ہے) ﴿ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ (رح) 0011 ﴾ (اور کافروں کا کوئی کارساز و مددگار نہیں)
Ayah 47:12اہل ایمان کا انعام اور کفار کی بدحالی
اس کے بعد اہل ایمان کا انعام اور کافروں کی طرز زندگی (دنیا میں) اور ان کا عذاب بیان فرمایا جو آخرت میں ان کے لیے تیار کیا گیا ہے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ؕ﴾ (بلاشبہ اللہ داخل فرمائے گا ایمان والوں کو اور جنہوں نے نیک عمل کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی) ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ نفع حاصل کرتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں یہ ان کا دنیاوی حال ہے) ﴿ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ 0012﴾ (اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے) اہل کفر کے سامنے دنیا ہی ہے اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے کسی بھی طرح کی دنیاوی لذت اور دنیاوی طمع اور دنیاوی ترقی اور دنیاوی مال حاصل کرنے میں کوئی حیاء اور شرم انسانیت و مروت ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی، جس طرح جانور اور چوپائے کھانے پینے میں ہر جگہ منہ مار لیتے ہیں اور جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے سب کے سامنے سب کچھ کرلیتے ہیں، اسی طرح یہ دنیاوی لذتوں کے متوالے سب کچھ کر گزرتے ہیں یورپ اور امریکہ میں دیکھو قانونی طور پر عورت اور مرد کے میل ملاپ کے لیے نکاح کی شرط کو ختم کردیا ہے اور دوستانہ زندگی کا رواج پالیا ہے عورت اور مرد دوست (فرینڈ) بن کر گھومتے پھرتے ہیں کبھی اس سے جوڑ بیٹھ گیا کبھی دوسرے سے دوستی ہوگئی، پارکوں میں اور ہوٹلوں میں بلکہ سڑکوں پر مرد و عورت آپس میں لطف اندوز ہوتے ہیں حرام حلال کا شرم و حیا کا کوئی دھیان نہیں اور اب تو قانونی طور پر ان کی بعض حکومتوں نے مرد کا مرد سے استمتاع اور استلذاذ جائز قرار دے دیا ہے اب یہ لوگ یہاں تک اتر آئے کہ آدمیت اور انسانیت باقی نہ رہی تو کیا حرج ہے مزہ تو مل رہا ہے انسانیت اور شرافت کو دیکھیں تو بہت سی لذتوں سے محروم ہونا پڑتا ہے لہٰذا وہ ایسی انسانیت سے بھر پائے جس سے مزہ میں فرق آئے اور لذت کو بٹہ لگے، یہ یورپ اور امریکہ کے کافروں کے احساسات ہیں، ایشیاء والوں نے بھی ان کی راہ کو اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔
جس طرح جنسی لذت کے لیے کافر لوگ دیوانے ہو رہے ہیں اسی طرح مال کمانے اور کھانے پینے میں جانوروں کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں حلال و حرام سے کوئی بحث نہیں جو ملا کھالیا جو چاہا کھالیا سور اور شراب تو ان کی روزانہ کی غذا ہے قرآن کریم میں ان کی اس دنیا والی زندگی کو ﴿يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ ﴾ سے تعبیر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس مضمون کو سورة زمر میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا 1ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ 008﴾ (آپ فرما دیجیے کہ تو اپنے کفر سے تھوڑا سا نفع حاصل کرلے بیشک تو دوزخ والوں میں سے ہے۔ )
Ayah 47:13اہل مکہ کو تنبیہ
اس کے بعد اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اس میں خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے کیونکہ آپ کو اس میں تسلی دی ہے اور سنانا منکرین کو بھی ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ارشاد فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ ﴾ اور کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے رہنے والے آپ کی اس بستی کے رہنے والوں سے قوت میں زیادہ سخت تھے جس سے آپ کو نکال دیا گیا ہے ہم نے ان کو ہلاک کردیا کوئی بھی ان کا مددگار نہ تھا ان کو بھی اپنی قوت اور طاقت پر غرور کرنے کا کوئی مقام نہیں۔
Ayah 47:14اہل ایمان اور اہل کفر برابر نہیں ہوسکتے
پھر فرمایا ﴿ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ﴾ (الآیۃ) جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوگا کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کردیا گیا ہے اس نے کفر کو اچھا سمجھا اور ایمان سے دور بھاگا اور جن لوگوں نے اپنی خواہشوں کا اتباع کیا یعنی توحید کو چھوڑا اور شرک اختیار کیا، یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جن کے پاس ان کے رب کی طرف سے دلیل موجود ہے اور کافر لوگ جن کے برے اعمال کفر اور معاصی انہیں اچھے لگتے ہیں اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں یہ دونوں فریق مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 47:15اہل جنت کے مشروبات طیبہ اور اہل نار کا مشروب ماء حمیم
اس آیت میں بھی مومنین کے انعامات اور کافروں کی سزا بیان فرمائی ہے اول تو جنت کا حال بیان فرمایا ہے جس کا متقیوں سے وعدہ ہے جنت میں بہت سی نعمتیں ہیں ان میں نہریں بھی ہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو متغیر نہ ہوگا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ بدلہ ہوا نہ ہوگا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی اور بالکل صاف شہد کی نہریں ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار فرمایا ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور اعلیٰ درجہ ہے اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے نہریں جاری ہیں۔ (صحیح البخاری ص 391)
یہ حدیث حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے بھی مروی ہے اس میں یوں ہے : منھا تفجر انھار الجنة الاربعة یعنی جنت الفردوس سے چاروں نہریں جاری ہیں۔ ملا علی قاری (رح) ” مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح “ میں لکھتے ہیں یہی وہ چار نہریں ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہیں یعنی پانی اور دودھ اور شراب اور شہد کی نہریں حدیث شریف کے بیان سے یہ معلوم ہوا کہ جنت الفردوس سے چار نہریں نکلتی ہیں ان کا منبع اور مرکز جنت الفردوس ہے (پھر ان کی شاخیں پھوٹتی ہوئی دوسری جنتوں میں پہنچتی ہیں اس میں جو شراب کی نہریں بتائی ہیں ان کے ساتھ ﴿ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ﴾ بھی فرما دیا یعنی یہ بتادیا کہ یہ شراب سراپا لذت ہوگی اس کو پینے سے نشہ نہ آئے گا اور نہ کوئی تکلیف ہوگی۔ سورة الصافات میں فرمایا ﴿يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۭۙ0045 بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَۚۖ0046 لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ 0047 ﴾ (ان کے پاس ایسا جام شراب لایا جائے گا جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا سفید ہوگی، پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی، نہ اس میں درد ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا) اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017 بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ 1ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ0018 لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019 ﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیزیں لے کر آمد و رفت کیا کریں گے آبخورے اور آفتاب اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔ )
ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جنت میں جو کچھ پینے پلانے کے لیے دیا جائے گا اس میں لذت ہی لذت ہوگی نہ عقل میں فتور آئے گا نہ نشہ ہوگا، نہروں کا تذکرہ فرمانے کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ﴾ اور ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہوگی۔
اس کے بعد فرمایا ﴿كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ ﴾ (الآیۃ) یہاں عبارت حذف ہے۔ یعنی من کان فی ھذا النعیم کمن ھو خالد فی النار جو شخص ان مذکورہ بالا نعمتوں میں ہوگا کیا ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے اور جنہیں کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔
حضرت ابو الدرداء ؓ رسول خدا ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کو اتنی زبردست بھوک لگا دی جائے گی جو اکیلی ہی اس عذاب کے برابر ہوگی جو ان کو بھوک کے علاوہ ہو رہا ہوگا لہٰذا وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے اس پر ان کو ضریع کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک دفع کرے گا۔ پھر دوبارہ کھانا طلب کریں گے تو ان کو ﴿ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ﴾ گلے میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا جو گلوں میں اٹک جائے گا اس کے اتارنے کے لیے پینے کی چیز پیا کرتے تھے لہٰذا پینے کی چیز طلب کریں گے، چناچہ کھولتا ہوا پانی لوہے کے سنڈاسیوں کے ذریعہ ان کے سامنے کردیا جائے گا۔ وہ سنڈاسیاں جب ان کے چہروں کے قریب ہوں گی تو ان کے چہروں کو بھون ڈالیں گے پھر جب پانی پیٹوں میں پہنچے گا تو پیٹ کے اندر کی چیزوں (یعنی آنتوں وغیرہ) کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 4۔ 5 الترمذی)
حضرت ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ﴿ وَ يُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍۙ0016﴾ کے بارے میں فرمایا کہ ماء صدید (پیپ کا پانی) جب دوزخی کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے نفرت کرے گا پھر اور قریب کیا جائے گا تو چہرے کو بھون ڈالے گا اور بالآخر پاخانے کے مقام سے باہر نکل جائے گا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلات فرمائی (اول آیت سورة محمد ﷺ یعنی) ﴿ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ 0015﴾ دوسری سورة کہف کی آیت یعنی ﴿ اِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا۠ يُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ 1ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ (مشکوٰۃ المصابیح ص 503 از ترمذی)
Ayah 47:16منافقین کی بعض حرکتیں، ان کے قلوب پر مہر ہے، یہ لوگ اپنی خواہشوں کے پابند ہیں
یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں منافقین کی ایک خصلت بد کا تذکرہ فرمایا ہے منافقین ظاہر میں اپنا آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور اندر سے کافر تھے جس کسی کا ظاہر و باطن یکساں نہ ہو اس کے رنگ ڈھنگ خدوخال اور چال ڈھال سے اس کی دورنگی معلوم ہوجاتی ہے اسی سلسلے کی یہ ایک کڑی ہے کہ منافقین جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کی باتوں کی طرف بظاہر کان لگا کر ایسے بیٹھتے تھے جیسے بڑے دھیان سے سن رہے ہیں یہ طریقہ صرف دھوکہ دینے کے لیے تھا دلوں سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے تھے جب مجلس سے باہر آتے تو دوسرے حضرات یعنی اہل علم صحابہ سے کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی ابھی کیا فرمایا ؟ پہلی منافقت تو یہ تھی کہ جھوٹ موٹ کان لگا کر بیٹھے اور دھیان سے باتیں نہ سنیں اور دوسری منافقت یہ تھی کہ مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنے کے لیے ہمیں آنحضرت ﷺ کی باتیں سننے کا اشتیاق ہے یہ معلوم کرتے تھے کہ آپ نے ابھی ابھی کیا فرمایا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں انہیں راہ حق پر آنا نہیں ہے۔
Ayah 47:17دوسری آیت میں اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ تعالیٰ ان کو مزید ہدایت دیتا ہے (جیسے جیسے احکام نازل ہوتے ہیں وہ ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے جاتے ہیں) اور اللہ ان کو ان کا تقویٰ نصیب فرماتا ہے (احکام پر بھی عمل کرتے ہیں اور جن افعال و اعمال سے منع فرمایا ہے ان سے بھی بچتے ہیں)
Ayah 47:18تیسری آیت میں منکرین اور منافقین کو تو بیخ فرمائی کہ ان لوگوں کا طور طریقہ ایسا ہے کہ بس قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ نہ ایمان لاتے ہیں نہ اعمال خیر میں مشغول ہوتے ہیں نہ گناہوں سے بچتے ہیں اور نہ انذار وتبشیر ان کے حق میں مفید ہوتا ہے نہ عذاب کی وعید سے متاثر ہوتے ہیں نہ جنت کی بشارت کا یقین کرتے ہیں اب کیا رہ گیا ؟ بس قیامت کا آنا باقی ہے اس کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک آجائے اور قیامت آجائے تو نصیحت حاصل کریں سو قیامت کی علامتیں آچکی ہیں خود نبی کریم ﷺ کا مبعوث ہونا بھی علامات قیامت میں سے ہے اور معجزہ شق القمر بھی علامات قیامت میں سے ہے جسے سورة القمر کی پہلی آیت میں بیان فرمایا ﴿ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ 001﴾ جب قیامت آجائے گی تو اس وقت سمجھنے اور نصیحت حاصل کرنے کا نہ موقعہ ہوگا نہ اس سے کچھ فائدہ ہوگا اس مضمون کو ﴿ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ 0018﴾ میں بیان فرمایا، یہ مضمون سورة الفجر کی آیت کریمہ ﴿وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ 1ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ0023﴾ میں بھی بیان فرمایا ہے اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور اب کہاں ہے نصیحت حاصل کرنا یعنی اب اس کا فائدہ کچھ نہیں۔
Ayah 47:19توحید پر جمے رہنے اور استغفار کرنے کی تلقین
چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اپنے اس علم اور یقین پر جمے رہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کریں اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے اور آپ کے توسط سے دیگر اہل ایمان کو بھی، خلاف شان نبوت جو کوئی امر آپ سے صادر ہوگیا اسے ﴿ لِذَنْۢبِكَ ﴾ سے تعبیر فرمایا جیسا کہ خطاء اجتہادی سے کبھی ایسا واقع ہوا، معصیت حقیقت کا صدور انبیاء کرام علیہم اصلوٰۃ والسلام سے نہیں ہوسکتا۔
صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : امر بالاستغفار مع انہ مغفور لہ لیستن بہ امتہ (یعنی آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا حالانکہ آپ کا سب کچھ بخشا جاچکا ہے تاکہ امت آپ کا اتباع کرے) آپ نے فرمایا ہے کہ بیشک میرے دل پر میل سا آتا ہے اور بیشک میں اللہ سے روزانہ سو دفعہ استغفار کرتا ہوں اور بعض روایت میں ہے کہ آپ ہر مجلس میں سو مرتبہ استغفار فرماتے ہیں۔
صاحب معالم التنزیل مزید لکھتے ہیں : ھذا اکرام من اللّٰہ تعالیٰ لھذہ الامة حیث امر نبیھم ان یستغفر لذنوبھم وھو الشفیع المجاب فیہ (یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اکرام ہے کہ ان کے نبی کو حکم فرمایا کہ ان کے گناہوں کے لیے استغفار کریں آپ کی ذات گرامی کو اللہ نے شفاعت کرنے والا بھی بنایا اور شفاعت قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا۔ ) (معالم التنزیل ص 183، ج 4)
مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ کی تفسیر
مفسرین کرام نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں، پہلے ترجمہ غور سے پڑھیے (اور اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی خبر رکھتا ہے) یہ ترجمہ مفسر ابن جریر ؓ کے قول کے مطابق ہے جسے علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں نقل کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرما دیا کہ ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾سے دنیاوی اعمال میں مشغول رہنا اور اس میں چلنا پھرنا مراد ہے اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے ہر ایک کا آخرت کا ٹھکانہ مراد ہے اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا کہ ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾ سے ارحام الامہات کی طرف منتقل ہونا اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے زمین میں ٹھہرنا مراد ہے اور ابن کیسان ؓ سے نقل کیا ہے ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾سے لیٹتے وقت پلٹیاں کھانا اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے قبروں میں ٹھہرنا مراد ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
Ayah 47:20منافقین کی بدحالی اور نافرمانی
ان آیات میں اہل ایمان کا شوق جہاد منافقین کا حکم جہاد سن کر گھبراہٹ اور پریشانی میں پڑنے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت کیوں نازل نہ ہوئی یہ احکام جدیدہ کے نازل ہونے اور ان پر عمل کرنے کے اشتیاق میں کہہ دیتے تھے جب کوئی بھی سورت نازل ہوتی تو ایمان والے خوش ہوجاتے تھے لیکن جو منافقین تھے وہ نزول احکام سے ڈرتے رہتے خصوصاً جب کسی سورت میں قتال کا حکم نازل ہوتا تو بس ان کا برا حال ہوجاتا تھا ان کے دلوں میں مرض یعنی نفاق تھا نہ سچے دل سے رسول اللہ ﷺ کو رسول مانتے تھے نہ قرآن کو مانتے تھے نہ وقوع قیامت کا یقین رکھتے تھے لہٰذا جہاد والی سورت کا مضمون سن کر گھبرا اٹھتے تھے اور ان کا اثر ان کے چہروں سے ظاہر ہوجاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کو بھیانک نظروں سے اس طرح دیکھتے تھے جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوجائے یہ لوگ سمجھتے تھے اب رکھ رکھاؤ کے لیے جہاد میں جانا ہی پڑے گا دل چاہتا نہیں، لیکن شریک ہونا ہی ہے بد دلی کی شرکت تو مستقل عذاب ہے اور اگر میدان جہاد میں مقتول ہوں تو یہ اس سے بڑا عذاب ہوگیا اسی کو فرمایا ﴿ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ﴾ کہ عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے۔ صاحب معالم التنزیل (رح) لکھتے ہیں : اولیٰ لک ای ولیک وقاربک ما تکرہ یہ ” اولی لھم “ کا ایک مطلب ہے اس صورت میں طاعۃ وقول معروف علیحدہ جملہ ہوگا اور ایک صورت یہ ہے کہ ﴿اولی لھم﴾ مبتداء ہو اور ﴿ طَاعَةٌ ﴾ اس کی خبر ہوگی۔ كما ذکر البغوی، فلیتدبر
Ayah 47:21﴿طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ ﴾ (یعنی منافقین کو چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم نازل ہو تنگ دل ہونے کی بجائے کہیں کہ ہمارا کام تو فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا یعنی دل سے اور زبان سے تسلیم کرنا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل : ای لو اطاعوا وقالو قولاً معروفًا کان امثل واحسن، ثم قال وقیل ھو متصل بما قبلہ واللام بمعنی الباء فاَولیٰ بھم طاعة اللّٰہ ورسولہ وقول و معروف بالا جابة وھذا قول ابن عباس فی روایة عطاء (صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں یعنی اگر وہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے تو بہت ہی درست اور بہتر ہوتا پھر کہا کہ بعض نے کہا ہے یہ جملہ ما قبل سے متصل ہے اور لام باء کے معنی میں ہے یعنی ان کے لائق یہی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے اور قبول کرکے اچھی بات کہتے اور یہ عطاء کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے۔ )
﴿ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ 1۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْۚ0021 ﴾ (پھر جب مضبوطی کے ساتھ حکم آگیا، یعنی جہاد کرنے کا واقعی حکم ہوگیا تو اس وقت یہ لوگ اپنے دعویٰ ایمان اور دعویٰ فرمانبرداری میں سچے ثابت ہوتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔ )
Ayah 47:22﴿ فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ 0022﴾ (سو کیا یہ صورت حال پیش آنے والی ہے کہ اگر تم والی بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور آپس میں قرابت کے تعلقات کو قطع کردو۔ )
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ منافقین کو خطاب ہے جسے استفہام کی صورت میں لایا گیا ہے اس میں ان کو توبیخ ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے جو احوال معلوم ہیں یعنی دنیا پر حرص کرنا اور جہاد کی بات سے گھبرانا اور شرکت جہاد سے کترانا اس بات کو جاننے کے بعد کیا کوئی شخص تم سے سوال کرسکتا ہے کہ اگر تمہیں ولایت فی الارض مل جائے یعنی عامۃ الناس کے والی اور متولی بنا دئیے جاؤ اور تمہیں اقتدار سپرد کردیا جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے اور رشتہ داروں کو کاٹ پیٹ کر رکھ دو گے یعنی تمہارا یہ فساد اتنا آگے بڑھے گا کہ تمہیں رشتہ داریوں کی پاسداری بھی نہ رہے گی اور آپس کے تعلقات کو ختم کر ڈالو گے یعنی تم سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے اور سائل کا یہ سوال کرنا درست ہے۔
قال صاحب الروح : فالمعنی انکم لما عھد منکم من الاحوال الدالة علی الحرص علی الدنیا حیث امرتم بالجھاد الذی ھو وسیلة الی ثواب اللّٰہ تعالیٰ العظیم کرھتموہ وظھر علیکم ما ظھر حقاء بان یقول لکم کل من ذاقکم وعرف حالکم یا ھٰولاء ما ترون ھل یتوقع منکم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض الخ (صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مطلب یہ ہے دنیا پر تمہاری حرص کے جو حالات ظاہر ہوچکے ہیں کہ تمہیں جہاد کا حکم ہوا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب عظیم کا ذریعہ ہے تو تم نے اسے ناپسند کیا اور تمہاری جو حالت ہوئی سو ہوئی لہٰذا جو آدمی تمہیں جانتا ہو اور تمہارے حالات سے آگاہ ہو تو وہ تمہیں کہہ سکتا ہے کہ اے لوگو ! تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہیں والی بنایا جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے۔ )
یہ ترجمہ اور تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ تَوَلَّیْتُمْ کا ترجمہ والی اور صاحب اقتدار ہونے کا لیا جائے اور بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ اَعْرَضتْمُ لیا ہے، صاحب بیان القرآن نے اسی کو اختیار کیا ہے انہوں نے اس کو استفہام تقریری قرار دیا ہے اور مطلب یہ لکھا ہے کہ اگر تم جہاد سے کنارہ کش رہو تو تم کو یہ احتمال بھی چاہیے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو گے اور آپس میں قطع قرابت کردو گے یعنی اگر جہاد کو چھوڑ دیا جائے تو مفسدین کا غلبہ ہوجائے گا اور کوئی انتظام باقی نہ رہے گا جس میں تمام مصلحتوں کی رعایت ہو اور ایسا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے فساد ہوگا اور حقوق کی اضاعت ہوگی۔
Ayah 47:23پھر فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ 0023﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے رحمت سے دور فرما دیا سو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا لہٰذا ان سے قبول حق کی اور راہ حق پر چلنے کی کوئی امید نہ کی جائے۔
Ayah 47:24تدبر قرآن کی اہمیت اور ضرورت
﴿اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ﴾ (کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) ﴿ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا 0024﴾ یا ان کے دلوں پر قفل ہیں اس میں تو بیخ ہے اور منافقوں کے حال کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں قرآن میں تدبر کرنا چاہیے تھا قرآن کے اعجاز اور معانی اور دعوت حق کے بارے غور کرتے تو نہ منافق ہوتے اور نہ وہ حرکتیں کرتے جو ان سے صادر ہوتی رہی ہیں ان کے تدبر نہ کرنے کا انداز یہ ہے کہ جیسے ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔
قال صاحب الروح : واضافة الاقفال الیھا للدلالة علی انھا اقفال مخصوصة بھا مناسبة لھا غیر مجانسة لسائر الاقفال المعھودة (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اقفال کی ان کی طرف اضافت اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ مخصوص تالے ہیں جو انہیں کے مناسب ہیں مشہور معروف تالوں کی طرح نہیں ہیں۔ )
Ayah 47:25مرتدین کے لیے شیطان کی تسویل اور موت کے وقت ان کی تعذیب
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات میں بھی منافقین کا ذکر ہے ان سے جو مخالفانہ اور باغیانہ حرکتیں ظاہر ہوئیں ان کی وجہ سے ان کے لیے دعوائے اسلام پر باقی رہنے کا بھی کوئی راستہ نہ رہا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے ان اوصاف کو دیکھ کر پہچان لیا جو اپنی کتابوں میں پاتے تھے پھر بھی کفر پر جمے رہے (اس کو ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ سے تعبیر فرمایا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ہم ضرور اتباع کریں گے اس دعوے کے مطابق جو کچھ کرنا تھا اس سے پھرگئے) آیات کا نزول جن لوگوں کے بارے میں بھی ہوا الفاظ کا عموم ہر طرح کے مرتدین کو شامل ہے ارشاد فرمایا کہ بیشک جو لوگ پشت پھیر کر دین حق سے پھرگئے حالانکہ ان پر ہدایت واضح ہوگئی تھی شیطان نے ان کا ناس کھویا اس نے کفر اور ارتداد کو اور برے اعمال کو ان کے سامنے اچھا کرکے پیش کیا حق اور حقیقت کو جانتے ہوئے دنیا کی ظاہری زینت کو انہوں نے ترجیح دی شیطان نے مزید یہ کیا کہ ان کو یہ بتایا کہ دیکھو ابھی دنیا میں تمہیں بہت رہنا اور زیادہ دن جینا ہے اسلام قبول کرکے یہ لمبی زندگی آرام سے کیسے گزارو گے ؟ دیکھو جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں کتنی تکلیفوں میں پڑجاتے ہیں۔
Ayah 47:26﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ﴾ اس میں ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ اور اَنَّھُمْ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اور ﴿اَلَّذِیْنَ كرِھُوْا﴾ سے کون لوگ مراد ہیں اور ﴿بَعْضِ الْاَمْرِ﴾ سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں بِاَنَّهُمْ کی باکوسببیہ لینے کی صورت میں وہی قول قرین قیاس ہوگا جس سے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ مسبب اور با کا مدخول سبب بن سکتا ہو علامہ قرطبی نے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ ﴿اَمْلٰى لَهُمْ ﴾ کو قرار دیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ شیطان کا انہیں لمبی عمر والی باتیں سمجھانا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے یعنی منافقوں اور یہودیوں نے مشرکین سے کہا جن کو اللہ کا نازل کردہ فرمودہ ناگوار ہے کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت کرلیں گے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں (مثلاً ) آپ سے دشمنی رکھنے میں اور جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اور دین اسلام کو کمزور کرنے میں ہم تمہاری بات مان لیں گے تمہاری سب باتوں کی اطاعت کا وعدہ نہیں کرتے یہ لوگ کافر تو پہلے ہی سے تھے مزید صفات کفریہ کا اظہار اور اعلان بھی کردیا اس لیے شیطان کو انہیں ڈھیل دینے اور کفر میں آگے بڑھانے کا موقع مل گیا۔ (تفسیر قرطبی 250 ج 16)
معالم التنزیل میں بھی یہ تفسیر لکھی ہے لیکن ذٰلِك کا مشار الیہ متعین نہیں کیا صاحب روح المعانی اس سے متفق نہیں کہ ذٰلِك کا اشارہ ﴿ اَمْلٰى لَهُمْ ﴾ ہے لیکن احقر کے نزدیک تمام احتمالات میں یہی راجح ہے صاحب بیان القرآن نے ذٰلِك کا مشار الیہ ارتداد علی الادبار کو لیا ہے اور ﴿ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ﴾ کا یہ مطلب لیا ہے کہ منافقین نے رؤسا یہود سے کہا کہ ہم عدم اتباع ظاہر کرنے کے بارے میں تمہارا حکم نہیں مانیں گے کیونکہ وہ ہماری مصلحت کے خلاف ہے اور عدم اتباع باطناً کا جو حکم دیتے ہو ہم اس میں تمہارا اتباع کرلیں گے کیونکہ ہم اس میں تمہارے ساتھ ہی ہیں۔
Ayah 47:27موت کے وقت کافر کی مارپیٹ
پھر فرمایا ﴿ فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ (الآیۃ) اس میں منافقین کی موت کے وقت کی بدحالی کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں ان کو عذاب نہ ہوا تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے محفوظ ہوگئے ہر کافر کو عذاب ہونا ہی ہے جو موت کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے ارشاد فرمایا کہ ان منافقین کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہونگے اور ان کے چہروں اور پشتوں کو مار رہے ہوں گے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ دنیا میں یہ لوگ جہاد سے بچ رہے ہیں ان کا یہ بچاؤ کتنے دن چلے گا بالآخر مریں گے اور موت کے وقت سے ہی ان کی پٹائی شروع ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی شخص گناہگاری کی حالت میں مرتا ہے فرشتے اس کی موت کے وقت اس کے چہرے پر اور پچھلے حصہ پر مارتے رہتے ہیں اس مارپیٹ کو حاضرین محسوس نہیں کرتے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے جیسا کہ بزرخ کے احوال مرنے والے پر گزرتے ہیں اور دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتے سورة الانفال میں فرمایا : ﴿وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا 1ۙ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ 1ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 0050 ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِۙ0051 ﴾ (اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے ہوئے ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ جلنے کا عذاب چکھ لو یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے۔ )
Ayahs 47:28–29﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا ﴾ (ان کی یہ سز اس کے لیے ہے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جو اللہ کے ناراضگی کا سبب ہے اور اس کی رضا مندی کو اچھا نہ جانا سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردئیے) یعنی انہوں نے کفر کو اختیار کیا (جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے) اور ایمان قبول نہ کیا (جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے) اللہ کو راضی کرنے والے عمل سے ان کو نفرت اور کراہت تھی ان کو موت کے وقت یہ سزا ملے گی اور اس کے بعد بھی برا عذاب ہی عذاب ہے اور انہوں نے دنیا میں جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر ثواب دیا جاسکے ان اعمال کو بھی اللہ نے اکارت کردیا یعنی آخرت میں ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔
Ayah 47:30منافقین کے دلوں میں مرض ہے، طرز کلام سے ان کا نفاق پہنچانا جاتا ہے !
جو لوگ منافقین تھے انہیں اسلام سے اور مسلمانوں سے دشمنی تھی، بظاہر دوست بنے ہوئے تھے اور اندر سے دشمن تھے اس دشمنی کا کسی نہ کسی طرح ظہور ہوتا رہتا تھا لیکن ان کا دعویٰ یہی تھا کہ ہم مسلمان ہیں یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تم میں سے ہیں اور یوں سمجھتے تھے کہ ہمارا باطن پوشیدہ رہے گا اور اسی طرح اپنے کفر کو چھپا کر مسلمانوں کے ساتھ چلتے رہیں گے اور ان سے جو منافع متعلق ہیں حاصل کرتے رہیں گے یہ ان کا خیال تھا منافق اپنے نفاق کو چھپاتا ہے اور یوں سمجھتا ہے کہ میں بڑا ہوشیار اور چالاک ہوں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ایک عرصہ تک ان اشخاص کی تعیین کرکے ان کی پہچان نہیں کرائی ہاں ان کے احوال اور اعمال بیان فرما دئیے سورة برات میں ان کے تفصیلی احوال بیان فرمائے ہیں اسی لیے اس سورت کا ایک نام فاضحہ… یعنی رسوا کرنے والی بھی ہے بعض دوسری سورتوں میں بھی ان کی حرکتیں اور ان کے اعمال بیان فرمائے ہیں ﴿ وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ۠ فَلَعَرَفْتَهُمْ۠ بِسِيْمٰىهُمْ 1ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ 1ؕ ﴾ (اور اگر ہم چاہیں تو آ پکو واضح طور پر ان منافقین میں سے ہر ایک کی الگ الگ پہچان کرا دیں مگر اس کی ضرورت نہیں ہے آپ ان کے رنگ ڈھنگ سے انہیں پہچان لیں گے ان کا لب و لہجہ اور بات کرنے کا ڈھنگ بتادے گا کہ یہ منافق ہیں) اندر سے مومن نہیں ہیں کیونکہ غیر مخلص کا طریقہ کار اور طرز زندگی اور میل جول اور بول چال کا ڈھنگ مخلصین سے مختلف ہوتا ہے بلاوجہ قسمیں کھانا رک رک کر بات کرنا سوچ سوچ کر جواب دینا تاکہ الفاظ اور طرز گفتگو سے مخاطب کو بد عقیدگی کا پتہ نہ چل جائے یہ منافقین کے ڈھنگ ہوتے ہیں ایک عرصہ تو ایسا ہی رہا پھر بالآخر ایک دن وہ آیا کہ یہ لوگ سختی اور ذلت کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ سے نکال دئیے گئے جس کی تفصیل سیرت ابن ہشام کی جلد ثانی کے اوائل میں مذکور ہے۔
﴿وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ 0030﴾ (اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے) اسے اہل ایمان کے اخلاص کا اور اہل نفاق کی منافقت اور مکرو فریب کا علم ہے، منافقین یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم مسلمانوں سے اپنی منافقت کو چھپا کر اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے، اگر مومنین مخلصین کو پتہ نہ چلا تو اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ علم ہے اس کے عذاب اور عقاب سے کیسے مطمئن ہوگئے ؟
Ayah 47:31﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اعمال شرعیہ جہاد وغیرہ کے جو احکام نافذ کیے جاتے ہیں ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی جاتی ہے ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ مخلص مجاہدین اور صابرین کا ظاہری طور پر علم ہوجائے ﴿وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ 0031﴾ (اور تاکہ ہم تمہارے احوال کو جانچ لیں)
Ayah 47:32کافر لوگ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، ان کے اعمال حبط کیے جائیں گے
اوپر چار آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے پہلی آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اور ہدایت ظاہر ہونے کے بعد اس سے پھرگئے ایسے لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے (یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو نقصان پہنچائیں گے اور انہیں قیامت کے دن بربادی کا سامنا ہوگا) دنیا میں انہوں نے جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر اللہ کی طرف سے اہل ایمان کو ثواب ملتا ہے قیامت کے دن کافروں کو اس کا کچھ بھی ثواب نہ ملے گا یہ اعمال بالکل اکارت چلے جائیں گے۔
Ayahs 47:33–34دوسری آیت میں یہ حکم فرمایا کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، اعمال صالحہ سابقہ ایمان میں شک کرنے اور کفر و شرک اختیار کرنے اور بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے باطل ہوجاتے ہیں یعنی ان کا ثواب ختم ہوجاتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ : لا تبطلوا بالریاء والسمعة (کہ ریا کاری اور شہرت کی طلب کے ذریعے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) آیت عام ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم یعنی صحابہ کرام ؓ یہ سمجھتے تھے کہ ہر نیکی ضرور مقبول ہوتی ہے جب آیت کریمہ ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ 0033﴾ نازل ہوئی تو ہم نے کہا کہ وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اعمال کو باطل کرے گی پھر ہم نے سمجھ لیا کہ اس سے کبیرہ گناہ اور فواحش مراد ہیں یعنی ان سے اعمال صالحہ باطل ہوسکتے ہیں اس کے بعد جب ہم کسی کو دیکھتے تھے کہ کوئی گناہ یا فحش کام اس سے سرزد ہوگیا تو ہم کہتے تھے کہ یہ شخص تو ہلاک ہوگیا یہاں تک کہ آیت ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ﴾ نازل ہوگئی تو اس کے بعد ہمارا طریقہ یہ ہوا کہ جب کوئی شخص کبیرہ گناہ کرلیتا تھا تو اس کے بارے میں مواخذہ کا خوف رکھتے تھے (یعنی اس کا مواخذہ یقینی نہیں جانتے تھے) اور جس سے کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوتا اس کے بارے میں بخشش کی امید رکھتے تھے۔ (ذكر صاحب الروح ص 79 ج 26)
تیسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا پھر حالت کفر میں مرگئے اللہ تعالیٰ ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا ہاں اگر کسی کافر نے اسلام کی مخالفت کی اور اللہ کے دین سے روکتا رہا پھر توبہ کرلی یعنی اسلام قبول کرلیا پھر حالت اسلام ہی میں مرگیا تو اس کے زمانہ کفر کا سب کچھ معاف ہوجائے گا اسی بات کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرو اِنَّ الْاِسْلاَمَ یَھْدِمُ مَا كانَ قَبْلَہٗ ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 114 از مسلم) (اے عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو (جو زمانہ کفر میں کیے) ختم کردیتا ہے۔ )
نفلی نماز، روزہ فاسد کرنے کے بعد قضاء کا واجب ہونا
حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفل نماز یا نفل روزہ شروع کرکے توڑ دے تو اس کی قضا واجب ہے اس کے دلائل بھی لکھے ہیں ان میں سے آیت بالا کو بھی دلیل میں پیش کیا ہے تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے اعمال کو باطل نہ کرو جب کسی نے ایک رکعت پڑھ لی یا گھنٹہ دو گھنٹہ روزہ رکھ لیا پھر توڑ دیا تو اس سے وہ عبادت بیچ میں رہ گئی جس کو شروع کیا تھا پوری عبادت کرکے کسی عمل سے باطل کردے یا پوری کرنے سے پہلے ہی باطل کردے دونوں طرح سے ابطال کی ممانعت پر آیت کریمہ کی دلالت ہوتی ہے۔ شیخ ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں۔ قَال تعالیٰ : وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ وھو اعم من ابطالھا قبل اتمامھا بالا فساد او بعدہ بفعل ما یحبطہ ونحوہ
Ayah 47:35کمزور نہ بنو اور دشمنوں کو صلح کی دعوت نہ دو
چوتھی آیت میں فرمایا ﴿فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﴾ (اے مسلمانو ! تم ہمت مت ہارو اور اپنے دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلاؤ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ جب کافروں سے جنگ ٹھن جائے تو تم جنگ پر آمادہ رہو اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوئی کمزوری نہ دکھاؤ کمزور پڑجانے میں یہ بھی داخل ہے کہ خود سے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی جائے اگر دشمن صلح کی بات اٹھائیں تو بعض احوال میں صلح کرلینا جائز ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کا نفع ہو جیسا کہ سورة انفال میں فرمایا ﴿وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ﴾ مزید توضیح کے لیے سورة انفال کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
تم ہی بلند رہو گے اگر مومن ہو
پھر فرمایا ﴿وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﴾ یہاں صرف یہی الفاظ ہیں اور سورة آل عمران میں فرمایا ہے ﴿وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 00139﴾ اس میں یہ وعدہ فرمایا کہ تم غالب رہو گے اگر تم مومن ہو لہٰذا صفات ایمان تقویٰ ، حب آخرت اور فکر آخرت، امانت داری، ادائے فرائض و واجبات، ترک معاصی کی صفات سے متصف رہیں اگر ایسا ہوگا تو مسلمان ہی غالب رہیں گے اگر ایمانی صفات کھو بیٹھیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دشمنوں پر غلبہ پانے کا وعدہ نہیں بعض حالات میں قلت عدد کی وجہ سے جو ترک قتال کی اجازت ہے وہ اس کے معارض نہیں اس بات کے سمجھنے کے لیے آیت کریمہ ﴿اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ﴾ کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
پھر فرمایا ﴿وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ ﴾ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے لہٰذا جم کر پوری قوت کے ساتھ دشمنوں سے مقابلہ کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کی مدد کرنے کی نیت سے قتال کریں اسی سورت کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 007﴾ (اے ایمان والو اگر تم اللہ کی یعنی اس کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔ )
پھر فرمایا ﴿وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ 0035﴾ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا) وہ ہر عمل صالح کا ثواب دے گا بشرطیکہ اسے باطل نہ کردیا ہو اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ پر وعدہ فرمایا ہے کہ ایک عمل کا ثواب کم از کم دس گنا دیا جائے گا اور اس سے زیادہ جتنا چاہے اپنے فضل و رحمت سے عطاء فرمائے گا۔ ﴿ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾
قال القرطبی فی تفسیرہ وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ ای لن ینقصکم، عن ابن عباس وغیرہٗ ومنہ الموتور الذی قتل لہ قتیل فلم یدرک بدمہ، تقول منہ وتَرہ یترِہ وترا وتَرةً ومنہ قولہ (علیہ السلام) ” من فاتتہ صلاة العصر فکانما وتراھلہ ومالہ “ ای ذھب بھما (علامہ قرطبی ؓ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ﴿وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ 0035﴾ یعنی تمہارے اعمال میں کمی نہ ہوگی یہی حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے اور اس سے موتور ہے وہ شخص جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا اور اس کا خون بہا اسے نہ ملا ہو تم کہتے ہو وتَر، یتِر، وترا اوتَرةً اور اسی سے حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کا اہل و عیال اور مال (وتر) ہلاک ہوگیا۔ )