47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 47:1–2

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع فرما دیا،

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جو کچھ محمد پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہ ان کے رب کی طرف سے امر واقعی ہے اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ان کے حال کو درست فرما دے گا،

اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والوں کی بربادی اور اہل حق پر انعام کا اعلان آیات مذکورہ بالا میں اہل کفر اور اہل ایمان کے درمیان فرق واضح فرمایا ہے اور اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے کفر و شرک پر تو کسی خیر کی امید رکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں اہل کفر جو بعض مرتبہ صلہ رحمی یا خدمت خلق کے کام کرتے ہیں آخرت میں ان چیزوں کا بھی کچھ نہیں ملے گا اعمال ضائع کرنے کا سبب کفر ہی بہت ہے۔ پھر اوپر سے جنہوں نے اللہ کے راستے روکنے کا جو کام کیا یہ ان کے اعمال ضائع ہونے کا ایک مزید سبب بن گیا۔ مومنین کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرما دے گا آیت کریمہ میں ان کے ایمان کی تعریف فرماتے ہوئے ﴿ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ ﴾ فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد کسی کا ایمان اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ساتھ ہی ﴿ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ﴾ فرمایا جس میں محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے کی اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اللہ کی طرف سے اس کے اتارے جانے کی توثیق اور تصدیق فرمائی اور یہ بتادیا کہ آپ کا دعویٰ رسالت اور دعوی نزول کتاب من اللہ حق اور صحیح ہے۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ کافروں نے باطل کا اتباع کیا، اور بیشک جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کا اتباع کیا جو ان کے رب کی طرف سے ہے اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے احوال بیان فرماتا ہے۔

پھر ارشاد فرمایا کہ یہ جو اہل کفر کی بدحالی ہوگی اور اہل ایمان کے حال کو اللہ تعالیٰ سدھار دے گا یہ اس وجہ سے ہے کہ کافروں نے باطل کا اتباع کیا اور اہل ایمان نے حق کا اتباع کیا، اتباع الحق کے ساتھ لفظ ﴿مِنْ رَّبِّهِمْ ﴾ بھی فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو (اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہیے) ﴿كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ للنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ 003﴾ (اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے لیے امثال بیان فرماتا ہے۔ ) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ امثال سے احوال مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ مومنین اور کافرین کے احوال بیان فرماتا ہے مومنین کو حق پر بتاتا ہے اور اس کے نتیجے میں فلاح اور فوز کی بشارت دیتا ہے اور کافروں کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ باطل کا اتباع کرتے ہیں جس کا نتیجہ خیبت اور خسران ہے۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم اچھی طرح سے ان کی خوں ریزی کردو تو خوب مضبوط باندھ دو پھر اس کے بعد یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دو یا ان کی جانوں کا بدلہ لے کر چھوڑ دو جب تک کہ لڑائی اپنے ہتھیاروں کو نہ رکھ دے، یہ اسی طرح ہے، اور اگر اللہ چاہے تو ان سے انتقام لے لے، اور لیکن تاکہ تم میں بعض کا بعض کے ذریعہ امتحان فرمائے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے سو اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہ فرمائے گا،

جہاد و قتال کی ترغیب، قیدیوں کے احکام، مجاہدین اور مقتولین کی فضیلت یہ آیات متعدد مضامین پر مشتمل ہیں جہاد اور قتال کے بعض مسائل بتائے ہیں اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کی فضیلت ظاہر فرمائی اور کافروں کی بدحالی اور بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کافروں سے تمہارا مقابلہ ہوجائے اور قتل و قتال کی نوبت ہوجائے تو دشمنان اسلام کے قتل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کرو، ان میں سے جو قتل ہوجائیں ان کے علاوہ جو زندہ ہوں ان کو قید کرلو اور اچھی طرح کس کے ان کو باندھو اس کے بعد ان کو احسان کے طور پر یا اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے بدلہ ان کو چھوڑ دو ۔ اس کی تشریح اور تفسیر یہ ہے کہ جب دو قوموں میں جنگ کرنے والے مقتول بھی ہوتے ہیں اور ایک فریق دوسرے فریق کے افراد کو قید بھی کرلیتا ہے مجاہدین اسلام دشمن کے افراد کو قید کرلیں تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے اس کے بارے میں یہاں سورة محمد ﷺ میں دو حکم بیان فرمائے ہیں اول یہ کہ ان پر احسان کردیا جائے یعنی بغیر کسی معاوضہ کے چھوڑ دیا جائے یا دوم یہ کہ اپنے قیدیوں کے بدلہ میں انہیں چھوڑ دیں یعنی امیر المومنین اپنے قیدی ان سے واپس لے لے اور ان کے بدلہ کافر قیدیوں کو واپس کردے، تیسری صورت یہ ہے کہ مالی عوض لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا اور چوتھی صورت یہ کہ انہیں قتل کردیا جائے قتل کرنا اور فدیہ لے کر چھوڑ دینا سورة انفال میں مذکور ہے۔ اور پانچویں صورت یہ ہے کہ انہیں غلام باندی بنا کر مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ ان قیدیوں کو ذمی بنا کر دارالاسلام میں رکھ لیا جائے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک بالکل ہی بطور احسان کے چھوڑ دینا کہ نہ قیدیوں کا تبادلہ ہو اور نہ مال لیا جائے اور نہ ذمی بنایا جائے یہ جائز نہیں ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص ؓ احکام القرآن جلد دوم ص 392 میں لکھتے ہیں کہ سورة انفال سورة محمد ﷺ کے بعد نازل ہوئی سورة محمد میں جو مَنّ اور فداء کی اجازت ہے اس کو سورة برات کی آیات ﴿ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ ﴾ اور ﴿قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَ لَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ نے منسوخ کردیا لہٰذا فدا اور مَن کی اجازت نہیں رہی فوجب ان یکون الحکم المذکور فیھا ناسخا للفداء المذکور فی غیرھا 1 ھ۔ (پس ضروری ہے کہ اس میں مذکور حکم فدیہ کا اس حکم کے لیے ناسخ ہو جو دوسری جگہ مذکور ہے) کافر قیدیوں کو بلاعوض مالی یا مسلمان قیدیوں کے چھڑانے کے لیے بطور مبادلہ چھوڑ دیا جائے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے اس کو جائز قرار نہیں دیا اور حضرات صاحبین اور حضرت امام شافعی ؓ نے فرمایا کہ ایسا کرنا درست ہے رہی یہ بات کہ کافر قیدیوں کو مال لے کر چھوڑ دینا جائز ہے یا نہیں اس کے بارے میں حنفیہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ بھی جائز نہیں ہے البتہ امام محمد (رح) نے سیر کبیر میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہو تو ایسا بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا ہے ﴿ وَ لَوْ يَشَآء اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ ﴾ (اور اگر اللہ چاہے تو کافروں سے انتقام لے) یعنی کسی طرح کا کوئی بھی عذاب دے کر ہلاک فرما دے ﴿ وَ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ﴾ اور لیکن تاکہ تم میں سے بعض کا بعض کے ذریعے امتحان فرمائے یعنی تمہیں جو جہاد کا حکم دیا اس میں تمہارا امتحان ہے کہ وہ کون ہے جو جانتے ہوئے بھی کہ مقتول بھی ہوسکتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتا ہے اور جہاد کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس میں کافروں کا بھی امتحان ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں آکر مقتول ہونے اور شکست کھانے اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد کا معاملہ دیکھ کر حق کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ پھر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ 004﴾ (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہ فرمائے گا) اس میں یہ بتایا کہ جہاد میں امتحان کی حکمت کے ساتھ ساتھ تمہارا فائدہ بھی ہے اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤ گے تو یہ صرف امتحان کی کامیابی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمہارے اعمال کے عوض بڑے بڑے انعامات ملیں گے شہادت کا درجہ عطا کیا جائے گا۔
Ayah 47:5

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

وہ انہیں عنقریب مقصود تک پہنچا دے گا اور ان کا حال درست فرما دے گا

﴿سَيَهْدِيْهِمْ وَ يُصْلِحُ بَالَهُمْۚ005 ﴾ (اللہ انہیں منزل مقصود تک پہنچا دے گا اور ان کا حال درست فرمائے گا) قبر، حشر اور تمام مواقع میں ان کا حال درست فرما دے گا
Ayah 47:6

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جس کی انہیں پہچان کرا دے گا۔

﴿وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ﴾ اور انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جو ان کی منزل مقصود ہے ﴿عَرَّفَهَا لَهُمْ 006 ﴾ (اللہ نے انہیں جنت کی پہچان کرا دی) یعنی دنیا میں اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ انہیں اس کی پہچان کرا دی ہے جنت کی پہچان کرانے کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جب جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو اپنے اپنے مقرر کردہ مقام کو وہ اس طرح جانتے ہوں گے جیسے اپنے دنیا والے گھروں میں اس کو پہچانتے تھے بلکہ ان سے زیادہ اپنی جنت والی مقررہ جگہ کے راستے کو پہچانتے ہوں گے۔ (كما فی الحدیث)
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا،

اس کے بعد مسلمانوں سے مدد کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 007﴾ اس میں یہ بتادیا کہ تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے کوششوں میں لگو گے (جس کا وہ محتاج نہیں ہے) تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور ثابت قدم رکھے گا۔
Ayahs 47:8–9

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا سو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا،

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کو مکروہ جانا جو اللہ نے نازل فرمائی سو اس نے ان کے اعمال کو اکارت کردیا۔

مومنین کا انعام بیان کرنے کے بعد کافروں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ 008 ﴾ (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہلاکت ہے ان کے لیے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے) دنیا میں مومنین کے ہاتھوں ان کی تباہی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت یعنی عذاب شدید اور دائمی ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ 009﴾ (اب لوگوں کی یہ ہلاکت اور اعمال کا حبط ہونا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا جو کچھ اللہ نے نازل کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال حبط فرما دئیے۔ )
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو انہوں نے نہیں دیکھا کیسا ہوا ان کا انجام جو ان سے پہلے تھے اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور کافروں کے لیے اسی قسم کی چیزیں ہیں،

دنیا میں چل پھر کر عبرت حاصل کریں اس کے بعد منکرین کو تنبیہ فرمائی کہ اپنی دنیا اور سازو سامان اور عمارت سے دھوکہ نہ کھائیں ان سے پہلے بھی قومیں گزر چکی ہیں جو ہلاکت و بربادی کا منہ دیکھ چکی ہیں، ارشاد فرمایا ﴿ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ؕ﴾ (کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے) ﴿ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ﴾ (اللہ نے ان کو ہلاک فرما دیا) ﴿ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا 0010﴾ (اور کافروں کے لیے ایسی کئی چیزیں ہیں) یعنی موجودہ جو کفار ہیں اور ان کے بعد جو بھی کافر ہوں گے ان کے لیے دنیا میں اسی طرح عذاب ہوگا اور ہلاک کردئیے جائیں گے اور آخرت میں شدید اور دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ ہے اور بیشک کافروں کے لیے کوئی بھی مولیٰ نہیں،

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مولیٰ ہے ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (یہ جو کچھ مذکور ہوا یعنی اہل ایمان کا جنت میں داخل ہونا اور اہل کفر کا دنیا و آخرت میں برباد ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ ہے یعنی ان کا ولی ہے مددگار ہے کارساز ہے) ﴿ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ (رح) 0011 ﴾ (اور کافروں کا کوئی کارساز و مددگار نہیں)
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے،

اہل ایمان کا انعام اور کفار کی بدحالی اس کے بعد اہل ایمان کا انعام اور کافروں کی طرز زندگی (دنیا میں) اور ان کا عذاب بیان فرمایا جو آخرت میں ان کے لیے تیار کیا گیا ہے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ؕ﴾ (بلاشبہ اللہ داخل فرمائے گا ایمان والوں کو اور جنہوں نے نیک عمل کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی) ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ نفع حاصل کرتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں یہ ان کا دنیاوی حال ہے) ﴿ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ 0012﴾ (اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے) اہل کفر کے سامنے دنیا ہی ہے اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے کسی بھی طرح کی دنیاوی لذت اور دنیاوی طمع اور دنیاوی ترقی اور دنیاوی مال حاصل کرنے میں کوئی حیاء اور شرم انسانیت و مروت ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی، جس طرح جانور اور چوپائے کھانے پینے میں ہر جگہ منہ مار لیتے ہیں اور جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے سب کے سامنے سب کچھ کرلیتے ہیں، اسی طرح یہ دنیاوی لذتوں کے متوالے سب کچھ کر گزرتے ہیں یورپ اور امریکہ میں دیکھو قانونی طور پر عورت اور مرد کے میل ملاپ کے لیے نکاح کی شرط کو ختم کردیا ہے اور دوستانہ زندگی کا رواج پالیا ہے عورت اور مرد دوست (فرینڈ) بن کر گھومتے پھرتے ہیں کبھی اس سے جوڑ بیٹھ گیا کبھی دوسرے سے دوستی ہوگئی، پارکوں میں اور ہوٹلوں میں بلکہ سڑکوں پر مرد و عورت آپس میں لطف اندوز ہوتے ہیں حرام حلال کا شرم و حیا کا کوئی دھیان نہیں اور اب تو قانونی طور پر ان کی بعض حکومتوں نے مرد کا مرد سے استمتاع اور استلذاذ جائز قرار دے دیا ہے اب یہ لوگ یہاں تک اتر آئے کہ آدمیت اور انسانیت باقی نہ رہی تو کیا حرج ہے مزہ تو مل رہا ہے انسانیت اور شرافت کو دیکھیں تو بہت سی لذتوں سے محروم ہونا پڑتا ہے لہٰذا وہ ایسی انسانیت سے بھر پائے جس سے مزہ میں فرق آئے اور لذت کو بٹہ لگے، یہ یورپ اور امریکہ کے کافروں کے احساسات ہیں، ایشیاء والوں نے بھی ان کی راہ کو اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ جس طرح جنسی لذت کے لیے کافر لوگ دیوانے ہو رہے ہیں اسی طرح مال کمانے اور کھانے پینے میں جانوروں کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں حلال و حرام سے کوئی بحث نہیں جو ملا کھالیا جو چاہا کھالیا سور اور شراب تو ان کی روزانہ کی غذا ہے قرآن کریم میں ان کی اس دنیا والی زندگی کو ﴿يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ ﴾ سے تعبیر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس مضمون کو سورة زمر میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا 1ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ 008﴾ (آپ فرما دیجیے کہ تو اپنے کفر سے تھوڑا سا نفع حاصل کرلے بیشک تو دوزخ والوں میں سے ہے۔ )
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تھیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ یہ بستیاں آپ کی بستی سے زیادہ سخت تھیں جنہوں نے آپ کو نکال دیا، ان بستیوں کا کوئی مددگار نہ ہوا

اہل مکہ کو تنبیہ اس کے بعد اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اس میں خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے کیونکہ آپ کو اس میں تسلی دی ہے اور سنانا منکرین کو بھی ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ارشاد فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ ﴾ اور کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے رہنے والے آپ کی اس بستی کے رہنے والوں سے قوت میں زیادہ سخت تھے جس سے آپ کو نکال دیا گیا ہے ہم نے ان کو ہلاک کردیا کوئی بھی ان کا مددگار نہ تھا ان کو بھی اپنی قوت اور طاقت پر غرور کرنے کا کوئی مقام نہیں۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے واضح راستہ پر ہوں کیا وہ ان شخصوں کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بد عملی ان کو اچھی چیز بتا گئی اور جو اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔

اہل ایمان اور اہل کفر برابر نہیں ہوسکتے پھر فرمایا ﴿ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ﴾ (الآیۃ) جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوگا کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کردیا گیا ہے اس نے کفر کو اچھا سمجھا اور ایمان سے دور بھاگا اور جن لوگوں نے اپنی خواہشوں کا اتباع کیا یعنی توحید کو چھوڑا اور شرک اختیار کیا، یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جن کے پاس ان کے رب کی طرف سے دلیل موجود ہے اور کافر لوگ جن کے برے اعمال کفر اور معاصی انہیں اچھے لگتے ہیں اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں یہ دونوں فریق مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جس کا ذائقہ ذرا بدلا ہوا نہ ہوگا، اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی، اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف ہوگا، اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے رب کی طرف سے بخشش ہوگی، کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا سو وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔

اہل جنت کے مشروبات طیبہ اور اہل نار کا مشروب ماء حمیم اس آیت میں بھی مومنین کے انعامات اور کافروں کی سزا بیان فرمائی ہے اول تو جنت کا حال بیان فرمایا ہے جس کا متقیوں سے وعدہ ہے جنت میں بہت سی نعمتیں ہیں ان میں نہریں بھی ہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو متغیر نہ ہوگا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ بدلہ ہوا نہ ہوگا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی اور بالکل صاف شہد کی نہریں ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار فرمایا ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور اعلیٰ درجہ ہے اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے نہریں جاری ہیں۔ (صحیح البخاری ص 391) یہ حدیث حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے بھی مروی ہے اس میں یوں ہے : منھا تفجر انھار الجنة الاربعة یعنی جنت الفردوس سے چاروں نہریں جاری ہیں۔ ملا علی قاری (رح) ” مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح “ میں لکھتے ہیں یہی وہ چار نہریں ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہیں یعنی پانی اور دودھ اور شراب اور شہد کی نہریں حدیث شریف کے بیان سے یہ معلوم ہوا کہ جنت الفردوس سے چار نہریں نکلتی ہیں ان کا منبع اور مرکز جنت الفردوس ہے (پھر ان کی شاخیں پھوٹتی ہوئی دوسری جنتوں میں پہنچتی ہیں اس میں جو شراب کی نہریں بتائی ہیں ان کے ساتھ ﴿ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ﴾ بھی فرما دیا یعنی یہ بتادیا کہ یہ شراب سراپا لذت ہوگی اس کو پینے سے نشہ نہ آئے گا اور نہ کوئی تکلیف ہوگی۔ سورة الصافات میں فرمایا ﴿يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۭۙ0045 بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَۚۖ0046 لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ 0047 ﴾ (ان کے پاس ایسا جام شراب لایا جائے گا جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا سفید ہوگی، پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی، نہ اس میں درد ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا) اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017 بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ 1ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ0018 لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019 ﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیزیں لے کر آمد و رفت کیا کریں گے آبخورے اور آفتاب اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔ ) ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جنت میں جو کچھ پینے پلانے کے لیے دیا جائے گا اس میں لذت ہی لذت ہوگی نہ عقل میں فتور آئے گا نہ نشہ ہوگا، نہروں کا تذکرہ فرمانے کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ﴾ اور ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا ﴿كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ ﴾ (الآیۃ) یہاں عبارت حذف ہے۔ یعنی من کان فی ھذا النعیم کمن ھو خالد فی النار جو شخص ان مذکورہ بالا نعمتوں میں ہوگا کیا ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے اور جنہیں کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ حضرت ابو الدرداء ؓ رسول خدا ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کو اتنی زبردست بھوک لگا دی جائے گی جو اکیلی ہی اس عذاب کے برابر ہوگی جو ان کو بھوک کے علاوہ ہو رہا ہوگا لہٰذا وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے اس پر ان کو ضریع کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک دفع کرے گا۔ پھر دوبارہ کھانا طلب کریں گے تو ان کو ﴿ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ﴾ گلے میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا جو گلوں میں اٹک جائے گا اس کے اتارنے کے لیے پینے کی چیز پیا کرتے تھے لہٰذا پینے کی چیز طلب کریں گے، چناچہ کھولتا ہوا پانی لوہے کے سنڈاسیوں کے ذریعہ ان کے سامنے کردیا جائے گا۔ وہ سنڈاسیاں جب ان کے چہروں کے قریب ہوں گی تو ان کے چہروں کو بھون ڈالیں گے پھر جب پانی پیٹوں میں پہنچے گا تو پیٹ کے اندر کی چیزوں (یعنی آنتوں وغیرہ) کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 4۔ 5 الترمذی) حضرت ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ﴿ وَ يُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍۙ0016﴾ کے بارے میں فرمایا کہ ماء صدید (پیپ کا پانی) جب دوزخی کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے نفرت کرے گا پھر اور قریب کیا جائے گا تو چہرے کو بھون ڈالے گا اور بالآخر پاخانے کے مقام سے باہر نکل جائے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلات فرمائی (اول آیت سورة محمد ﷺ یعنی) ﴿ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ 0015﴾ دوسری سورة کہف کی آیت یعنی ﴿ اِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا۠ يُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ 1ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ (مشکوٰۃ المصابیح ص 503 از ترمذی)
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں،

منافقین کی بعض حرکتیں، ان کے قلوب پر مہر ہے، یہ لوگ اپنی خواہشوں کے پابند ہیں یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں منافقین کی ایک خصلت بد کا تذکرہ فرمایا ہے منافقین ظاہر میں اپنا آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور اندر سے کافر تھے جس کسی کا ظاہر و باطن یکساں نہ ہو اس کے رنگ ڈھنگ خدوخال اور چال ڈھال سے اس کی دورنگی معلوم ہوجاتی ہے اسی سلسلے کی یہ ایک کڑی ہے کہ منافقین جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کی باتوں کی طرف بظاہر کان لگا کر ایسے بیٹھتے تھے جیسے بڑے دھیان سے سن رہے ہیں یہ طریقہ صرف دھوکہ دینے کے لیے تھا دلوں سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے تھے جب مجلس سے باہر آتے تو دوسرے حضرات یعنی اہل علم صحابہ سے کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی ابھی کیا فرمایا ؟ پہلی منافقت تو یہ تھی کہ جھوٹ موٹ کان لگا کر بیٹھے اور دھیان سے باتیں نہ سنیں اور دوسری منافقت یہ تھی کہ مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنے کے لیے ہمیں آنحضرت ﷺ کی باتیں سننے کا اشتیاق ہے یہ معلوم کرتے تھے کہ آپ نے ابھی ابھی کیا فرمایا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں انہیں راہ حق پر آنا نہیں ہے۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ صحیح راہ پر ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دیتا ہے،

دوسری آیت میں اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ تعالیٰ ان کو مزید ہدایت دیتا ہے (جیسے جیسے احکام نازل ہوتے ہیں وہ ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے جاتے ہیں) اور اللہ ان کو ان کا تقویٰ نصیب فرماتا ہے (احکام پر بھی عمل کرتے ہیں اور جن افعال و اعمال سے منع فرمایا ہے ان سے بھی بچتے ہیں)
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

سو یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعتہً آپڑے، سو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں سو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوئی اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا ؟

تیسری آیت میں منکرین اور منافقین کو تو بیخ فرمائی کہ ان لوگوں کا طور طریقہ ایسا ہے کہ بس قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ نہ ایمان لاتے ہیں نہ اعمال خیر میں مشغول ہوتے ہیں نہ گناہوں سے بچتے ہیں اور نہ انذار وتبشیر ان کے حق میں مفید ہوتا ہے نہ عذاب کی وعید سے متاثر ہوتے ہیں نہ جنت کی بشارت کا یقین کرتے ہیں اب کیا رہ گیا ؟ بس قیامت کا آنا باقی ہے اس کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک آجائے اور قیامت آجائے تو نصیحت حاصل کریں سو قیامت کی علامتیں آچکی ہیں خود نبی کریم ﷺ کا مبعوث ہونا بھی علامات قیامت میں سے ہے اور معجزہ شق القمر بھی علامات قیامت میں سے ہے جسے سورة القمر کی پہلی آیت میں بیان فرمایا ﴿ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ 001﴾ جب قیامت آجائے گی تو اس وقت سمجھنے اور نصیحت حاصل کرنے کا نہ موقعہ ہوگا نہ اس سے کچھ فائدہ ہوگا اس مضمون کو ﴿ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ 0018﴾ میں بیان فرمایا، یہ مضمون سورة الفجر کی آیت کریمہ ﴿وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ 1ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ0023﴾ میں بھی بیان فرمایا ہے اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور اب کہاں ہے نصیحت حاصل کرنا یعنی اب اس کا فائدہ کچھ نہیں۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے اور کوئی لائق عبادت نہیں، اور آپ اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی خبر رکھتا ہے۔

توحید پر جمے رہنے اور استغفار کرنے کی تلقین چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اپنے اس علم اور یقین پر جمے رہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کریں اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے اور آپ کے توسط سے دیگر اہل ایمان کو بھی، خلاف شان نبوت جو کوئی امر آپ سے صادر ہوگیا اسے ﴿ لِذَنْۢبِكَ ﴾ سے تعبیر فرمایا جیسا کہ خطاء اجتہادی سے کبھی ایسا واقع ہوا، معصیت حقیقت کا صدور انبیاء کرام علیہم اصلوٰۃ والسلام سے نہیں ہوسکتا۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : امر بالاستغفار مع انہ مغفور لہ لیستن بہ امتہ (یعنی آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا حالانکہ آپ کا سب کچھ بخشا جاچکا ہے تاکہ امت آپ کا اتباع کرے) آپ نے فرمایا ہے کہ بیشک میرے دل پر میل سا آتا ہے اور بیشک میں اللہ سے روزانہ سو دفعہ استغفار کرتا ہوں اور بعض روایت میں ہے کہ آپ ہر مجلس میں سو مرتبہ استغفار فرماتے ہیں۔ صاحب معالم التنزیل مزید لکھتے ہیں : ھذا اکرام من اللّٰہ تعالیٰ لھذہ الامة حیث امر نبیھم ان یستغفر لذنوبھم وھو الشفیع المجاب فیہ (یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اکرام ہے کہ ان کے نبی کو حکم فرمایا کہ ان کے گناہوں کے لیے استغفار کریں آپ کی ذات گرامی کو اللہ نے شفاعت کرنے والا بھی بنایا اور شفاعت قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا۔ ) (معالم التنزیل ص 183، ج 4) مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ کی تفسیر مفسرین کرام نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں، پہلے ترجمہ غور سے پڑھیے (اور اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی خبر رکھتا ہے) یہ ترجمہ مفسر ابن جریر ؓ کے قول کے مطابق ہے جسے علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں نقل کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرما دیا کہ ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾سے دنیاوی اعمال میں مشغول رہنا اور اس میں چلنا پھرنا مراد ہے اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے ہر ایک کا آخرت کا ٹھکانہ مراد ہے اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا کہ ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾ سے ارحام الامہات کی طرف منتقل ہونا اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے زمین میں ٹھہرنا مراد ہے اور ابن کیسان ؓ سے نقل کیا ہے ﴿مُتَقَلَّبَكُمْ ﴾سے لیٹتے وقت پلٹیاں کھانا اور ﴿وَ مَثْوٰىكُمْ﴾ سے قبروں میں ٹھہرنا مراد ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورة کیوں نہ نازل ہوئی سو جس وقت کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہوگئی ہو، سو عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے،

منافقین کی بدحالی اور نافرمانی ان آیات میں اہل ایمان کا شوق جہاد منافقین کا حکم جہاد سن کر گھبراہٹ اور پریشانی میں پڑنے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت کیوں نازل نہ ہوئی یہ احکام جدیدہ کے نازل ہونے اور ان پر عمل کرنے کے اشتیاق میں کہہ دیتے تھے جب کوئی بھی سورت نازل ہوتی تو ایمان والے خوش ہوجاتے تھے لیکن جو منافقین تھے وہ نزول احکام سے ڈرتے رہتے خصوصاً جب کسی سورت میں قتال کا حکم نازل ہوتا تو بس ان کا برا حال ہوجاتا تھا ان کے دلوں میں مرض یعنی نفاق تھا نہ سچے دل سے رسول اللہ ﷺ کو رسول مانتے تھے نہ قرآن کو مانتے تھے نہ وقوع قیامت کا یقین رکھتے تھے لہٰذا جہاد والی سورت کا مضمون سن کر گھبرا اٹھتے تھے اور ان کا اثر ان کے چہروں سے ظاہر ہوجاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کو بھیانک نظروں سے اس طرح دیکھتے تھے جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوجائے یہ لوگ سمجھتے تھے اب رکھ رکھاؤ کے لیے جہاد میں جانا ہی پڑے گا دل چاہتا نہیں، لیکن شریک ہونا ہی ہے بد دلی کی شرکت تو مستقل عذاب ہے اور اگر میدان جہاد میں مقتول ہوں تو یہ اس سے بڑا عذاب ہوگیا اسی کو فرمایا ﴿ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ﴾ کہ عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے۔ صاحب معالم التنزیل (رح) لکھتے ہیں : اولیٰ لک ای ولیک وقاربک ما تکرہ یہ ” اولی لھم “ کا ایک مطلب ہے اس صورت میں طاعۃ وقول معروف علیحدہ جملہ ہوگا اور ایک صورت یہ ہے کہ ﴿اولی لھم﴾ مبتداء ہو اور ﴿ طَاعَةٌ ﴾ اس کی خبر ہوگی۔ كما ذکر البغوی، فلیتدبر
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ان کی اطاعت اور بات چیت معلوم ہے، پھر جب مضبوطی کے ساتھ حکم آگیا تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچا وعدہ کرتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا،

﴿طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ ﴾ (یعنی منافقین کو چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم نازل ہو تنگ دل ہونے کی بجائے کہیں کہ ہمارا کام تو فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا یعنی دل سے اور زبان سے تسلیم کرنا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل : ای لو اطاعوا وقالو قولاً معروفًا کان امثل واحسن، ثم قال وقیل ھو متصل بما قبلہ واللام بمعنی الباء فاَولیٰ بھم طاعة اللّٰہ ورسولہ وقول و معروف بالا جابة وھذا قول ابن عباس فی روایة عطاء (صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں یعنی اگر وہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے تو بہت ہی درست اور بہتر ہوتا پھر کہا کہ بعض نے کہا ہے یہ جملہ ما قبل سے متصل ہے اور لام باء کے معنی میں ہے یعنی ان کے لائق یہی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے اور قبول کرکے اچھی بات کہتے اور یہ عطاء کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے۔ ) ﴿ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ 1۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْۚ0021 ﴾ (پھر جب مضبوطی کے ساتھ حکم آگیا، یعنی جہاد کرنے کا واقعی حکم ہوگیا تو اس وقت یہ لوگ اپنے دعویٰ ایمان اور دعویٰ فرمانبرداری میں سچے ثابت ہوتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔ )
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

سو اگر تم والی بن جاؤ تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع رحمی کردو،

﴿ فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ 0022﴾ (سو کیا یہ صورت حال پیش آنے والی ہے کہ اگر تم والی بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور آپس میں قرابت کے تعلقات کو قطع کردو۔ ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ منافقین کو خطاب ہے جسے استفہام کی صورت میں لایا گیا ہے اس میں ان کو توبیخ ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے جو احوال معلوم ہیں یعنی دنیا پر حرص کرنا اور جہاد کی بات سے گھبرانا اور شرکت جہاد سے کترانا اس بات کو جاننے کے بعد کیا کوئی شخص تم سے سوال کرسکتا ہے کہ اگر تمہیں ولایت فی الارض مل جائے یعنی عامۃ الناس کے والی اور متولی بنا دئیے جاؤ اور تمہیں اقتدار سپرد کردیا جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے اور رشتہ داروں کو کاٹ پیٹ کر رکھ دو گے یعنی تمہارا یہ فساد اتنا آگے بڑھے گا کہ تمہیں رشتہ داریوں کی پاسداری بھی نہ رہے گی اور آپس کے تعلقات کو ختم کر ڈالو گے یعنی تم سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے اور سائل کا یہ سوال کرنا درست ہے۔ قال صاحب الروح : فالمعنی انکم لما عھد منکم من الاحوال الدالة علی الحرص علی الدنیا حیث امرتم بالجھاد الذی ھو وسیلة الی ثواب اللّٰہ تعالیٰ العظیم کرھتموہ وظھر علیکم ما ظھر حقاء بان یقول لکم کل من ذاقکم وعرف حالکم یا ھٰولاء ما ترون ھل یتوقع منکم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض الخ (صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مطلب یہ ہے دنیا پر تمہاری حرص کے جو حالات ظاہر ہوچکے ہیں کہ تمہیں جہاد کا حکم ہوا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب عظیم کا ذریعہ ہے تو تم نے اسے ناپسند کیا اور تمہاری جو حالت ہوئی سو ہوئی لہٰذا جو آدمی تمہیں جانتا ہو اور تمہارے حالات سے آگاہ ہو تو وہ تمہیں کہہ سکتا ہے کہ اے لوگو ! تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہیں والی بنایا جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے۔ ) یہ ترجمہ اور تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ تَوَلَّیْتُمْ کا ترجمہ والی اور صاحب اقتدار ہونے کا لیا جائے اور بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ اَعْرَضتْمُ لیا ہے، صاحب بیان القرآن نے اسی کو اختیار کیا ہے انہوں نے اس کو استفہام تقریری قرار دیا ہے اور مطلب یہ لکھا ہے کہ اگر تم جہاد سے کنارہ کش رہو تو تم کو یہ احتمال بھی چاہیے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو گے اور آپس میں قطع قرابت کردو گے یعنی اگر جہاد کو چھوڑ دیا جائے تو مفسدین کا غلبہ ہوجائے گا اور کوئی انتظام باقی نہ رہے گا جس میں تمام مصلحتوں کی رعایت ہو اور ایسا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے فساد ہوگا اور حقوق کی اضاعت ہوگی۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا،

پھر فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ 0023﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے رحمت سے دور فرما دیا سو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا لہٰذا ان سے قبول حق کی اور راہ حق پر چلنے کی کوئی امید نہ کی جائے۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

سو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل ہیں۔

تدبر قرآن کی اہمیت اور ضرورت ﴿اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ﴾ (کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) ﴿ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا 0024﴾ یا ان کے دلوں پر قفل ہیں اس میں تو بیخ ہے اور منافقوں کے حال کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں قرآن میں تدبر کرنا چاہیے تھا قرآن کے اعجاز اور معانی اور دعوت حق کے بارے غور کرتے تو نہ منافق ہوتے اور نہ وہ حرکتیں کرتے جو ان سے صادر ہوتی رہی ہیں ان کے تدبر نہ کرنے کا انداز یہ ہے کہ جیسے ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ قال صاحب الروح : واضافة الاقفال الیھا للدلالة علی انھا اقفال مخصوصة بھا مناسبة لھا غیر مجانسة لسائر الاقفال المعھودة (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اقفال کی ان کی طرف اضافت اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ مخصوص تالے ہیں جو انہیں کے مناسب ہیں مشہور معروف تالوں کی طرح نہیں ہیں۔ )
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پشت پھیر کر پلٹ گئے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت ظاہر ہوگئی تھی شیطان نے ان کے سامنے مزین کردیا اور انہیں تاخیر والی باتیں سمجھا دیں،

مرتدین کے لیے شیطان کی تسویل اور موت کے وقت ان کی تعذیب حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات میں بھی منافقین کا ذکر ہے ان سے جو مخالفانہ اور باغیانہ حرکتیں ظاہر ہوئیں ان کی وجہ سے ان کے لیے دعوائے اسلام پر باقی رہنے کا بھی کوئی راستہ نہ رہا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے ان اوصاف کو دیکھ کر پہچان لیا جو اپنی کتابوں میں پاتے تھے پھر بھی کفر پر جمے رہے (اس کو ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ سے تعبیر فرمایا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ہم ضرور اتباع کریں گے اس دعوے کے مطابق جو کچھ کرنا تھا اس سے پھرگئے) آیات کا نزول جن لوگوں کے بارے میں بھی ہوا الفاظ کا عموم ہر طرح کے مرتدین کو شامل ہے ارشاد فرمایا کہ بیشک جو لوگ پشت پھیر کر دین حق سے پھرگئے حالانکہ ان پر ہدایت واضح ہوگئی تھی شیطان نے ان کا ناس کھویا اس نے کفر اور ارتداد کو اور برے اعمال کو ان کے سامنے اچھا کرکے پیش کیا حق اور حقیقت کو جانتے ہوئے دنیا کی ظاہری زینت کو انہوں نے ترجیح دی شیطان نے مزید یہ کیا کہ ان کو یہ بتایا کہ دیکھو ابھی دنیا میں تمہیں بہت رہنا اور زیادہ دن جینا ہے اسلام قبول کرکے یہ لمبی زندگی آرام سے کیسے گزارو گے ؟ دیکھو جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں کتنی تکلیفوں میں پڑجاتے ہیں۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اللہ کے نازل کیے ہوئے فرمان کو ناپسند کیا کہ ہم بعض کاموں میں تمہاری اطاعت کریں گے، اور اللہ ان خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے،

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ﴾ اس میں ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ اور اَنَّھُمْ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اور ﴿اَلَّذِیْنَ كرِھُوْا﴾ سے کون لوگ مراد ہیں اور ﴿بَعْضِ الْاَمْرِ﴾ سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں بِاَنَّهُمْ کی باکوسببیہ لینے کی صورت میں وہی قول قرین قیاس ہوگا جس سے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ مسبب اور با کا مدخول سبب بن سکتا ہو علامہ قرطبی نے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ ﴿اَمْلٰى لَهُمْ ﴾ کو قرار دیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ شیطان کا انہیں لمبی عمر والی باتیں سمجھانا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے یعنی منافقوں اور یہودیوں نے مشرکین سے کہا جن کو اللہ کا نازل کردہ فرمودہ ناگوار ہے کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت کرلیں گے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں (مثلاً ) آپ سے دشمنی رکھنے میں اور جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اور دین اسلام کو کمزور کرنے میں ہم تمہاری بات مان لیں گے تمہاری سب باتوں کی اطاعت کا وعدہ نہیں کرتے یہ لوگ کافر تو پہلے ہی سے تھے مزید صفات کفریہ کا اظہار اور اعلان بھی کردیا اس لیے شیطان کو انہیں ڈھیل دینے اور کفر میں آگے بڑھانے کا موقع مل گیا۔ (تفسیر قرطبی 250 ج 16) معالم التنزیل میں بھی یہ تفسیر لکھی ہے لیکن ذٰلِك کا مشار الیہ متعین نہیں کیا صاحب روح المعانی اس سے متفق نہیں کہ ذٰلِك کا اشارہ ﴿ اَمْلٰى لَهُمْ ﴾ ہے لیکن احقر کے نزدیک تمام احتمالات میں یہی راجح ہے صاحب بیان القرآن نے ذٰلِك کا مشار الیہ ارتداد علی الادبار کو لیا ہے اور ﴿ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ﴾ کا یہ مطلب لیا ہے کہ منافقین نے رؤسا یہود سے کہا کہ ہم عدم اتباع ظاہر کرنے کے بارے میں تمہارا حکم نہیں مانیں گے کیونکہ وہ ہماری مصلحت کے خلاف ہے اور عدم اتباع باطناً کا جو حکم دیتے ہو ہم اس میں تمہارا اتباع کرلیں گے کیونکہ ہم اس میں تمہارے ساتھ ہی ہیں۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانوں کو قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر مار رہے ہوں گے

موت کے وقت کافر کی مارپیٹ پھر فرمایا ﴿ فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ (الآیۃ) اس میں منافقین کی موت کے وقت کی بدحالی کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں ان کو عذاب نہ ہوا تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے محفوظ ہوگئے ہر کافر کو عذاب ہونا ہی ہے جو موت کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے ارشاد فرمایا کہ ان منافقین کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہونگے اور ان کے چہروں اور پشتوں کو مار رہے ہوں گے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ دنیا میں یہ لوگ جہاد سے بچ رہے ہیں ان کا یہ بچاؤ کتنے دن چلے گا بالآخر مریں گے اور موت کے وقت سے ہی ان کی پٹائی شروع ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی شخص گناہگاری کی حالت میں مرتا ہے فرشتے اس کی موت کے وقت اس کے چہرے پر اور پچھلے حصہ پر مارتے رہتے ہیں اس مارپیٹ کو حاضرین محسوس نہیں کرتے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے جیسا کہ بزرخ کے احوال مرنے والے پر گزرتے ہیں اور دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتے سورة الانفال میں فرمایا : ﴿وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا 1ۙ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ 1ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 0050 ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِۙ0051 ﴾ (اور اگر آپ دیکھیں گے جب کہ فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے ہوئے ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ جلنے کا عذاب چکھ لو یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے۔ )
Ayahs 47:28–29

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جس نے اللہ کو ناراض کردیا اور انہوں نے اللہ کی خوشی کو ناپسند کیا پھر اس نے اکارت کردئیے ان کے اعمال۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خیال کیا ہے جن کے دلوں میں مرض ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو نہ نکالے گا

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا ﴾ (ان کی یہ سز اس کے لیے ہے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جو اللہ کے ناراضگی کا سبب ہے اور اس کی رضا مندی کو اچھا نہ جانا سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردئیے) یعنی انہوں نے کفر کو اختیار کیا (جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے) اور ایمان قبول نہ کیا (جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے) اللہ کو راضی کرنے والے عمل سے ان کو نفرت اور کراہت تھی ان کو موت کے وقت یہ سزا ملے گی اور اس کے بعد بھی برا عذاب ہی عذاب ہے اور انہوں نے دنیا میں جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر ثواب دیا جاسکے ان اعمال کو بھی اللہ نے اکارت کردیا یعنی آخرت میں ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو انہیں دکھا دیتے، سو آپ انہیں ان کی نشانی سے پہچان لیتے اور آپ انہیں ضرور بالضرور بات کرنے کے ڈھنگ سے پہچان لیں گے، اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے،

منافقین کے دلوں میں مرض ہے، طرز کلام سے ان کا نفاق پہنچانا جاتا ہے ! جو لوگ منافقین تھے انہیں اسلام سے اور مسلمانوں سے دشمنی تھی، بظاہر دوست بنے ہوئے تھے اور اندر سے دشمن تھے اس دشمنی کا کسی نہ کسی طرح ظہور ہوتا رہتا تھا لیکن ان کا دعویٰ یہی تھا کہ ہم مسلمان ہیں یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تم میں سے ہیں اور یوں سمجھتے تھے کہ ہمارا باطن پوشیدہ رہے گا اور اسی طرح اپنے کفر کو چھپا کر مسلمانوں کے ساتھ چلتے رہیں گے اور ان سے جو منافع متعلق ہیں حاصل کرتے رہیں گے یہ ان کا خیال تھا منافق اپنے نفاق کو چھپاتا ہے اور یوں سمجھتا ہے کہ میں بڑا ہوشیار اور چالاک ہوں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ایک عرصہ تک ان اشخاص کی تعیین کرکے ان کی پہچان نہیں کرائی ہاں ان کے احوال اور اعمال بیان فرما دئیے سورة برات میں ان کے تفصیلی احوال بیان فرمائے ہیں اسی لیے اس سورت کا ایک نام فاضحہ… یعنی رسوا کرنے والی بھی ہے بعض دوسری سورتوں میں بھی ان کی حرکتیں اور ان کے اعمال بیان فرمائے ہیں ﴿ وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ۠ فَلَعَرَفْتَهُمْ۠ بِسِيْمٰىهُمْ 1ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ 1ؕ ﴾ (اور اگر ہم چاہیں تو آ پکو واضح طور پر ان منافقین میں سے ہر ایک کی الگ الگ پہچان کرا دیں مگر اس کی ضرورت نہیں ہے آپ ان کے رنگ ڈھنگ سے انہیں پہچان لیں گے ان کا لب و لہجہ اور بات کرنے کا ڈھنگ بتادے گا کہ یہ منافق ہیں) اندر سے مومن نہیں ہیں کیونکہ غیر مخلص کا طریقہ کار اور طرز زندگی اور میل جول اور بول چال کا ڈھنگ مخلصین سے مختلف ہوتا ہے بلاوجہ قسمیں کھانا رک رک کر بات کرنا سوچ سوچ کر جواب دینا تاکہ الفاظ اور طرز گفتگو سے مخاطب کو بد عقیدگی کا پتہ نہ چل جائے یہ منافقین کے ڈھنگ ہوتے ہیں ایک عرصہ تو ایسا ہی رہا پھر بالآخر ایک دن وہ آیا کہ یہ لوگ سختی اور ذلت کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ سے نکال دئیے گئے جس کی تفصیل سیرت ابن ہشام کی جلد ثانی کے اوائل میں مذکور ہے۔ ﴿وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ 0030﴾ (اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے) اسے اہل ایمان کے اخلاص کا اور اہل نفاق کی منافقت اور مکرو فریب کا علم ہے، منافقین یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم مسلمانوں سے اپنی منافقت کو چھپا کر اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے، اگر مومنین مخلصین کو پتہ نہ چلا تو اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ علم ہے اس کے عذاب اور عقاب سے کیسے مطمئن ہوگئے ؟
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ضرور تم کو آزمائیں گے تاکہ ہم تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تاکہ ہم تمہارے اعمال کو جانچ لیں۔

﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اعمال شرعیہ جہاد وغیرہ کے جو احکام نافذ کیے جاتے ہیں ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی جاتی ہے ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ مخلص مجاہدین اور صابرین کا ظاہری طور پر علم ہوجائے ﴿وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ 0031﴾ (اور تاکہ ہم تمہارے احوال کو جانچ لیں)
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت ظاہر ہوگئی یہ لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور وہ عنقریب ان کے اعمال کو اکارت کردے گا،

کافر لوگ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، ان کے اعمال حبط کیے جائیں گے اوپر چار آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے پہلی آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اور ہدایت ظاہر ہونے کے بعد اس سے پھرگئے ایسے لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے (یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو نقصان پہنچائیں گے اور انہیں قیامت کے دن بربادی کا سامنا ہوگا) دنیا میں انہوں نے جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر اللہ کی طرف سے اہل ایمان کو ثواب ملتا ہے قیامت کے دن کافروں کو اس کا کچھ بھی ثواب نہ ملے گا یہ اعمال بالکل اکارت چلے جائیں گے۔
Ayahs 47:33–34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والوں اطاعت کرو اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو،

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا پھر وہ اس حال میں مرگئے کہ وہ کافر تھے تو ہرگز اللہ ان کی مغفرت نہ فرمائے گا،

دوسری آیت میں یہ حکم فرمایا کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، اعمال صالحہ سابقہ ایمان میں شک کرنے اور کفر و شرک اختیار کرنے اور بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے باطل ہوجاتے ہیں یعنی ان کا ثواب ختم ہوجاتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ : لا تبطلوا بالریاء والسمعة (کہ ریا کاری اور شہرت کی طلب کے ذریعے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) آیت عام ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم یعنی صحابہ کرام ؓ یہ سمجھتے تھے کہ ہر نیکی ضرور مقبول ہوتی ہے جب آیت کریمہ ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ 0033﴾ نازل ہوئی تو ہم نے کہا کہ وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اعمال کو باطل کرے گی پھر ہم نے سمجھ لیا کہ اس سے کبیرہ گناہ اور فواحش مراد ہیں یعنی ان سے اعمال صالحہ باطل ہوسکتے ہیں اس کے بعد جب ہم کسی کو دیکھتے تھے کہ کوئی گناہ یا فحش کام اس سے سرزد ہوگیا تو ہم کہتے تھے کہ یہ شخص تو ہلاک ہوگیا یہاں تک کہ آیت ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ﴾ نازل ہوگئی تو اس کے بعد ہمارا طریقہ یہ ہوا کہ جب کوئی شخص کبیرہ گناہ کرلیتا تھا تو اس کے بارے میں مواخذہ کا خوف رکھتے تھے (یعنی اس کا مواخذہ یقینی نہیں جانتے تھے) اور جس سے کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوتا اس کے بارے میں بخشش کی امید رکھتے تھے۔ (ذكر صاحب الروح ص 79 ج 26) تیسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا پھر حالت کفر میں مرگئے اللہ تعالیٰ ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا ہاں اگر کسی کافر نے اسلام کی مخالفت کی اور اللہ کے دین سے روکتا رہا پھر توبہ کرلی یعنی اسلام قبول کرلیا پھر حالت اسلام ہی میں مرگیا تو اس کے زمانہ کفر کا سب کچھ معاف ہوجائے گا اسی بات کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرو اِنَّ الْاِسْلاَمَ یَھْدِمُ مَا كانَ قَبْلَہٗ ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 114 از مسلم) (اے عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو (جو زمانہ کفر میں کیے) ختم کردیتا ہے۔ ) نفلی نماز، روزہ فاسد کرنے کے بعد قضاء کا واجب ہونا حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفل نماز یا نفل روزہ شروع کرکے توڑ دے تو اس کی قضا واجب ہے اس کے دلائل بھی لکھے ہیں ان میں سے آیت بالا کو بھی دلیل میں پیش کیا ہے تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے اعمال کو باطل نہ کرو جب کسی نے ایک رکعت پڑھ لی یا گھنٹہ دو گھنٹہ روزہ رکھ لیا پھر توڑ دیا تو اس سے وہ عبادت بیچ میں رہ گئی جس کو شروع کیا تھا پوری عبادت کرکے کسی عمل سے باطل کردے یا پوری کرنے سے پہلے ہی باطل کردے دونوں طرح سے ابطال کی ممانعت پر آیت کریمہ کی دلالت ہوتی ہے۔ شیخ ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں۔ قَال تعالیٰ : وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ وھو اعم من ابطالھا قبل اتمامھا بالا فساد او بعدہ بفعل ما یحبطہ ونحوہ
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم سست نہ بنو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا۔

کمزور نہ بنو اور دشمنوں کو صلح کی دعوت نہ دو چوتھی آیت میں فرمایا ﴿فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﴾ (اے مسلمانو ! تم ہمت مت ہارو اور اپنے دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلاؤ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ جب کافروں سے جنگ ٹھن جائے تو تم جنگ پر آمادہ رہو اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوئی کمزوری نہ دکھاؤ کمزور پڑجانے میں یہ بھی داخل ہے کہ خود سے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی جائے اگر دشمن صلح کی بات اٹھائیں تو بعض احوال میں صلح کرلینا جائز ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کا نفع ہو جیسا کہ سورة انفال میں فرمایا ﴿وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ﴾ مزید توضیح کے لیے سورة انفال کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ تم ہی بلند رہو گے اگر مومن ہو پھر فرمایا ﴿وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﴾ یہاں صرف یہی الفاظ ہیں اور سورة آل عمران میں فرمایا ہے ﴿وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 00139﴾ اس میں یہ وعدہ فرمایا کہ تم غالب رہو گے اگر تم مومن ہو لہٰذا صفات ایمان تقویٰ ، حب آخرت اور فکر آخرت، امانت داری، ادائے فرائض و واجبات، ترک معاصی کی صفات سے متصف رہیں اگر ایسا ہوگا تو مسلمان ہی غالب رہیں گے اگر ایمانی صفات کھو بیٹھیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دشمنوں پر غلبہ پانے کا وعدہ نہیں بعض حالات میں قلت عدد کی وجہ سے جو ترک قتال کی اجازت ہے وہ اس کے معارض نہیں اس بات کے سمجھنے کے لیے آیت کریمہ ﴿اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ﴾ کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ پھر فرمایا ﴿وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ ﴾ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے لہٰذا جم کر پوری قوت کے ساتھ دشمنوں سے مقابلہ کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کی مدد کرنے کی نیت سے قتال کریں اسی سورت کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 007﴾ (اے ایمان والو اگر تم اللہ کی یعنی اس کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔ ) پھر فرمایا ﴿وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ 0035﴾ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا) وہ ہر عمل صالح کا ثواب دے گا بشرطیکہ اسے باطل نہ کردیا ہو اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ پر وعدہ فرمایا ہے کہ ایک عمل کا ثواب کم از کم دس گنا دیا جائے گا اور اس سے زیادہ جتنا چاہے اپنے فضل و رحمت سے عطاء فرمائے گا۔ ﴿ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾ قال القرطبی فی تفسیرہ وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ ای لن ینقصکم، عن ابن عباس وغیرہٗ ومنہ الموتور الذی قتل لہ قتیل فلم یدرک بدمہ، تقول منہ وتَرہ یترِہ وترا وتَرةً ومنہ قولہ (علیہ السلام) ” من فاتتہ صلاة العصر فکانما وتراھلہ ومالہ “ ای ذھب بھما (علامہ قرطبی ؓ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ﴿وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ 0035﴾ یعنی تمہارے اعمال میں کمی نہ ہوگی یہی حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے اور اس سے موتور ہے وہ شخص جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا اور اس کا خون بہا اسے نہ ملا ہو تم کہتے ہو وتَر، یتِر، وترا اوتَرةً اور اسی سے حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کا اہل و عیال اور مال (وتر) ہلاک ہوگیا۔ )