Explained with ayahs 32–35
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی
اللہ سبحانہ وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہوگی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کردیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی ؒ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ کا خیال تھا کہ (لا الہ الا اللہ) کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اس پر اصحاب رسول…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 41
یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا گیا ہے جب صرف مدینے کی چھوٹی سی بستی میں چند سو مہاجرین و انصار کی ایک مٹھی بھر جمیعت اسلام کی علمبرداری کر رہی تھی اور اس کا مقابلہ محض قریش کے طاقتور قبیلے ہی سے نہیں بلکہ پورے ملک عرب کے کفار و مشرکین سے تھا۔ اس حالت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہمت ہار کر ان دشمنوں سے صلح کی درخواست نہ کرنے لگو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمانوں کو کبھی صلح کی بات چیت کرنی ہی نہ چاہیے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں صلح کی سلسلہ جنبانی کرنا درست نہیں ہے جب اس کے معنی…
Read the full tafseer →(آیت) فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَى السَّلْمِ ، اس آیت میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وان جنحواللسلم فاجنح لھا یعنی اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہو جایئے جس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے اس لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ اجازت والی آیت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی طرف سے صلح جوئی کی ابتدا ہو اور اس آیت میں جس کو منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے صلح کی درخواست کی جائے اس لئے دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ابتداً صلح کرلینا بھی جائز ہے جبکہ مصلحت مسلمانوں کی اس میں دیکھی…
Read the full tafseer →فلاتھنوا وتدعوآ الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم ولن یترکم اعمالکم (35)
اپنی بزدلی پر پردہ ڈلانے کے لئے منافقین کی ایک تدبیر
سلم کے معنی صلح اور سمجھوتے کے ہیں اوپر آیات 23, 22 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ منافقین چونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تے اس وجہ سے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے کہ جنگ کے بجائے صلحخ سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی دعوت وہ قریش کو بھی دیتے وہ اپنے آپ کو ایک صلح پسند پارٹ کی حیثیت سے پیش کرتے اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہی پالیسی اختیار کرنے میں اس ملک کی خیر ہے ورنہ یہاں بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں رہے گا اور…
Read the full tafseer →35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سے دشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہوجائے غالب و برتر ہوتے ہوئے کفر کے ساتھ مصالحت کا مطلب کفر کے اثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے یہ ایک بڑا جرم ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ اجازت یقینا ہے لیکن ہر وقت نہیں صرف اس وقت ہے جب مسلمان تعداد میں کم اور وسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
13: مطلب یہ ہے کہ بزدلی کی وجہ سے دشمن کو صلح کی دعوت نہ دو ، ورنہ قرآن کریم نے خود سورة انفال : 61 میں فرمایا ہے کہ اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ۔ یعنی جب یہ صلح کسی بزدلی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ مصلحت کا تقاضا ہو تو صلح جائز ہے۔
14: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے تم جو کوشش بھی جہاد وغیرہ کے ذریعے کروگے، اسے اللہ تعالیٰ رائیگاں نہیں جانے دے گا، اور تمہیں سربلندی حاصل ہوگی، اور یہ بھی کہ تم جو کوئی نیک کام کرو گے جس میں جہاد بھی داخل ہے، چاہے دنیا میں فتح کی صورت میں اس کا نتیجہ نہ نکلے، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا پورا پورا…
Read the full tafseer →اس قسم کی آیات جس طرح کافروں اور منافقین کو خطاب کر رہی ہیں۔ اس طرح خود مسلمانوں کو بھی دعوت دے رہی ہیں۔ یہ آیات کا فروں کو متنبہ کرتی ہیں کہ کوتاہیوں کا تدارک کرو ، توبہ کرو قبل اس کے کہ سکرات شروع ہوجائیں اور مسلمانوں کو ان آیات کا خطاب یوں ہے۔ کہ تم ان اسباب اور ان راہوں سے دور رہو جو تمہیں اس انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں اور کافروں دونوں کو خطاب یوں ہے کہ اگلی آیت میں دعوت اور جہاد میں سستی کو اس آیت پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس انجام سے بچو اور سستی نہ کرو۔
فلا تھنوا وتدعوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 35) “ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ…
Read the full tafseer →1 یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کے مقابلہ میں سست اور کم ہمت نہ بنیں اور جنگ کی سخیتوں سے گھبرا کر صلح کی طرف نہ دوڑیں۔ ورنہ دشمن شیر ہو کر دباتے چلے جائیں گے اور جماعت اسلام کو مغلوب و رسوا ہونا پڑے گا۔ ہاں کسی وقت اسلام کی مصلحت اور اہل اسلام کی بھلائی صلح میں نظر آئے تو اس وقت صلح کرلینے میں مضائقہ نہیں جیسا کہ آگے سورة " فتح " میں آتا ہے۔ بہرحال صلح کی بناء پر اپنی کم بختی اور نامردی پر نہ ہونی چاہیے۔
2 یعنی گھبرانے کی کچھ بات نہیں، اگر صبرو استقلال دکھاؤ گے اور خدا کے احکام پر ثابت قدم رہو گے تو خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تم کو آخرکار غالب کرے گا اور کسی حالت میں بھی تم کو نقصان اور گھاٹے…
Read the full tafseer →آیت 35 { فَلَا تَہِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ } ”تو اے مسلمانو ! تم لوگ ڈھیلے نہ پڑو اور صلح و سلامتی کی دعوت مت دو“
یاد رکھو ! غلبہ دین کی جدوجہد کا یہ مرحلہ تم سے سرفروشی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مرحلے میں اب تمہیں دشمنوں سے صلح و سلامتی کے لیے مذکرات کرنے اور جنگ سے بچنے کی حکمت عملی اپنانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ تمہاری تحریک اب جس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اس مرحلے پر اب صلح و سلامتی کے پرچار کا موقع نہیں ‘ بلکہ جانیں قربان کرنے کا وقت ہے۔
{ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ } ”اور تم لوگ ہی غالب ہو گے ‘ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے…
Read the full tafseer →39 دشمن سے صلح یا سمجھوتہ کی درخواست نہ کی جائے :۔ یعنی جب تم دشمن سے بھڑ جاؤ تو پھر سستی کا ہرگز مظاہرہ نہ کرو بلکہ سر دھڑ کی بازی لگادو۔ اور نہ ہی کافروں سے صلح اور سمجھوتہ کی درخواست کرو جس سے تمہاری کمزوری ان پر عیاں ہوجائے اور وہ تو تمہیں مزید دباتے چلے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب مدینہ کی ریاست نئی نئی وجود میں آئی تھی۔ ایک سو کے لگ بھگ مہاجر اور کچھ انصار تھے اور ان کے جنگی جوانوں کی تعداد ایک ہزار تک بھی بمشکل پہنچی تھی۔ سامان جنگ کی فراوانی تو درکنار ان کی معاشی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ دوسری طرف صرف قریش مکہ ہی نہیں سارا عرب ہی مسلمانوں کی مخالفت پر اتر آیا…
Read the full tafseer →37۔ یعنی اللہ نہ دنیا میں تمہارا ساتھ چھوڑے گا نہ آخرت میں۔ دوسری جگہ قرآن مجید نے اسی (آیت) ” انتم الاعلون “۔ کو ” ان کنتم مومنین “۔ کے ساتھ مقید ومشروط کیا ہے۔ یعنی غلبہ کی شرط ایمان کامل ہے۔ (آیت) ” فلاتھنوا “۔ سے مراد یہ ہے کہ پست ہمتی پر عمل نہ کرو۔ اور مایوسی کے خیال کو اپنے عمل پر غالب نہ آنے دو ۔ ورنہ اعداء کی کثرت تعداد اور سازوسامان اور اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی دیکھ کر طبیعت میں کمزور اور پستی پیدا ہوجانا تو ایک امر طبعی ہے۔ ممانعت صرف اس کے مقتضاء پر عمل کی ہے۔ (آیت) ” وتدعوا الی السلم “۔ یعنی تمہیں کافروں کے مقابلہ میں ہمت ہار کے اور ان سے دب کر خواہش صلح کرنے کی کوئی ضرورت…
Read the full tafseer →فلاتھنوا وتدعوا الی السلم اس آیت میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے وان جنحوا للسلم فاجنع لھا یعنی اگر کفار صلح کی جانب مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہوجایئے، اس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے، اس لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ اجازت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی جانب سے صلح جوئی کی ابتداء ہو اور اس آیت میں جو ممانعت آئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے صلح جوئی کی ابتداء کی جائے، اس لئے ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ابتداء صلح کرلینا بھی جائز ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت ہو، محض بزدلی اور عیش کوشی اس…
Read the full tafseer →فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون وا اللہ معکم ولن یترکم اعمالکم سو تم ہمت نہ ہارو ‘
اور صلح کی طرف مت بلاؤ ‘ اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔
فَلاَ تَھِنُوْا یعنی جہاد میں کمزوری نہ کرو۔
وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ یعنی اول کافروں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ ‘ اس مطلب پر تدعوا کا عطف تَہِنُوْا پر ہوگا اور دونوں فعل نہی کے ذیل میں آجائیں گے۔ آیت میں کافروں سے صلح کی درخواست کرنے کی ممانعت فرما دی ‘ کیونکہ اس سے اپنی کمزوری اور بزدلی کا اظہار ہوتا ہے۔
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ یعنی اللہ کی مدد سے تم غالب رہو گے ‘ اللہ نے نیک مؤمنوں کی…
Read the full tafseer →تو اے گروہ مومنین کفار کے ساتھ لڑنے میں ہمت مت ہارو اور ان کو صلح کی طرف مت بلاؤ یا یہ کہ قتال سے پہلے ہمت ہار کر اسلام کی طرف مت بلاؤ تم ہی غالب رہو گے انجام کار تمہارے ہی ہاتھ میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تمہارے دشمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا اور جہاد میں تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →(1) فلاتھنوا :”فلاتھوا“ کی فاء فصیحہ کہلاتی ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (19) :(فاعلم انہ لا الہ الا اللہ) کی تفسیر۔ یعنی جب تم منافقین کا جہاد سے فرار اختیار کرنا اور دوسروں کو بھی اسے روکنا، کفار کے ساتھ دوستی اور اسلام اور مسلمانوں سے بےوفائی کرنا، رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنا، اس کے نتیجے میں ان پر لعنت ہونا اور ان کے اعمال برباد ہونا جان چکے تو تم وہ کام نہ کرنا جن کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا۔
(2) فلا تھوا وتدعوا الی السلم : منافقین چونکہ بزدلی اور موت کے خوف کی وجہ سے جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے، اس لئے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے، وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے رہتے تھے کہ جنگ…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ تم اقتال سے ضعف کا اظہار نہ کرو، وہھن کا معنی ضعف ہے یہ کبھی متعدی ہوتا ہے اور کبھی غیر متعدی ہوتا ہے شاعر نے کہا : کسرہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اس کا معنی بھی کمزور ہونا ہے اسے ھنوا بھی پڑھا گیا ہے یعنی ھاء پر ضمہ اور کسرہ ہے سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 2:۔ السلم کا معنی صلح ہے تم ان کی نبسنبت اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بہتر جانتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم دلیل دینے میں غالب ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے تم غالب ہو کیونکہ تم مومن ہو اگرچہ بعض احوال میں وہ تم پر غالب آجائیں گے قتادہ نے کہا : تم پہلا ایسا طائفہ نہ بنو جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ وانتم الاعلون “ (سو تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے یعنی دو جماعتوں میں سے پہلے نہ جاؤ کہ جس کے ساتھیوں کو پچھاڑ دیا گیا اور ان کو دشمنی چھوڑ کر صلح کی پیشکش کرلی اور تم زیادہ قریب ہو اللہ کے نزدیک ان کی نسبت (آیت ) ” ولن یترکم اعمالکم “ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا) یعنی وہ ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ (آیت ) ” وانتم الاعلون “…
Read the full tafseer →فَلَا تَهِنُوْا [ تو تم لوگ ہمت مت ہارو ] وَتَدْعُوْٓا [ اور نہ بلاؤ ] اِلَى السَّلْمِ ڰ [ صلح کی طرف ] وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ڰ [ اور تم لوگ غالب ہو ] وَاللّٰهُ مَعَكُمْ [ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے ] وَلَنْ يَّتِرَكُمْ [ اور وہ ہرگز حق تلفی نہیں کرے گا تمہاری ] اَعْمَالَكُمْ [تمہارے اعمال میں ]
نوٹ ۔ ا : آیت ۔ 35 ۔ میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے جبکہ سورة انفال کی آیت ۔ 61 ۔ میں ہے کہ اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہوجائیے جس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے ۔ اس لیے بغض حضرات نے فرمایا کہ اجازت والی آیت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی طرف سے صلح جوئی کی اجازت…
Read the full tafseer →کمزور نہ بنو اور دشمنوں کو صلح کی دعوت نہ دو
چوتھی آیت میں فرمایا ﴿فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﴾ (اے مسلمانو ! تم ہمت مت ہارو اور اپنے دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلاؤ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ جب کافروں سے جنگ ٹھن جائے تو تم جنگ پر آمادہ رہو اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوئی کمزوری نہ دکھاؤ کمزور پڑجانے میں یہ بھی داخل ہے کہ خود سے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی جائے اگر دشمن صلح کی بات اٹھائیں تو بعض احوال میں صلح کرلینا جائز ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کا نفع ہو جیسا کہ سورة انفال میں فرمایا ﴿وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ﴾ مزید توضیح کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔
(ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی…
Read the full tafseer →29:۔ ” فلا تھنوا۔ الایۃ “ یہ ایمان والوں کو جہاد میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب ہے۔ تدعوا، تھنوا پر معطوف ہے یعنی جہاد میں سستی اور بزدلی مت دکھاؤ اور دب کر صلح کا ہاتھ مشرکین کی طرف مت بڑھاؤ۔ جب تک تمہارا پلہ بھاری ہے ہمت نہ ہارو، اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہاری محنت کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ تمہیں ثابت قدم فرما کر تمہیں فتح و غلبہ عطا کرے گا۔ لیکن اگر صورت حال ایسی پیش آجائے کہ مادی اعتبار سے مسلمان کفار کے مقابلے میں کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو تو صلح کرلینے میں مضائقہ نہیں۔ ” فاما اذا الکفار فیھم قوۃ وکثرہ بالنسبۃ الی جمع المسلمین ورای الامام فی المھادنۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
کفار کے لیے عدم معافی
جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو…
Read the full tafseer →فَلَا تَہِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَى السَّلْمِ 0 ۤۖ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ 0 ۤۖ وَاللہُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ 35
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر)
تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔
کفرواسلام…
Read the full tafseer →فلاَ تَھِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ صلے ق وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ صلے ق وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَـکُمْ ۔ (محمد : 35)
(پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی دعوت نہ دو ، اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں وہ ہرگز کمی نہیں کرے گا۔ )
مسلمانوں کی سربلندی کی لازمی شرائط
حق و باطل کی کشمکش میں اہل مکہ، ان کے زیراثر قبائل اور یہود کے باہمی گٹھ جوڑ اور اسلام دشمنی میں اشتراک کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے جو مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش کی حیثیت رکھتے تھے۔ حالات کی سنگینی نے منافقین میں نفاق کے مرض کو اور شدید کردیا تھا۔ وہ یہ سمجھنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو ان کا انجام بتلانے کے بعد مومنوں کو تسلی دی گئی ہے کہ دنیا میں تم ہی غالب رہو گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور پھر اسی حالت میں مرجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں معاف نہیں کرے گا بلکہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے۔ اے مسلمانوں تمہارا ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو میدان جنگ میں نہ ہمت ہارنا اور نہ ہی کمزور بن کر صلح کی دعوت دینا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس لیے تم ہی غالب رہو گے۔ مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے…
Read the full tafseer →آیت 35 : فَـلَا تَہِنُوْا (اور تم ہمت مت ہارو ! ) اور تم کمزوری مت دکھائو اور دشمن کے سامنے جھکو مت۔ وَتَدْعُوْا اِلَی السَّلْمِ (اور صلح کی طرف مت بلائو)
قراءت : حمزہ ٗ ابوبکر ٗ ابوعمرو نے السِلْم پڑھا اور دونوں کا معنی مسالمت ہے مطلب یہ ہے کہ کفار کو صلح کی دعوت مت دو ۔
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ (اور تم ہی غالب ہو گے) ضرور غالب ہو گے۔ تدعوا۔ یہ مجزوم ہے کیونکہ حکم نہی میں داخل ہے۔ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہیں) مدد سے یعنی وہ تمہارا حامی و ناصر ہے۔ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ (وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا) یعنی تمہارے اعمال کا بدلہ کم نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →34 ۔” ان الذین کفرواوصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم “ یہ قلیب والے ہیں اور اسکا حکم عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
32۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
یہ آیت کریمہ اور جو سرۃ البقرۃ میں وارد ہوئی ہے یعنی (ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ) (البقرۃ : 2/218) ” اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے اور کفر کی حالت میں مرجائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا وآخرت میں اکارت جائیں گے۔ “ یہ دونوں آیات ہر اس نص مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔ یہاں فرمایا : (ان الذین کفروا) بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا (وصدوا) اور مخلوق کو روکا (عن سبیل اللہ) ” اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
مشرکین سے صلح کی درخواست کرنا منع ہے
قول باری ہے (فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو، اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) مجاہد سے مروی ہے کہ ” قتال سے کمزور مت پڑو اور دشمنوں کو صلح کی طرف مت بلائو۔ “
ہمیں عبداللہ بن محمد نے رویات بیان کی، انہیں حسن جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ صلح کی درخواست میں تم پہل نہ کرو۔ قول باری (و انتم الاعلون) کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے۔” تم اس کے مقابلہ میں اللہ سے زیادہ قریب ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت…
Read the full tafseer →[ 85] کمزوری اور دباؤ کی صلح و سمجھوتے کی ممانعت کا ذکر وبیان :
سوا رشاد فرمایا گیا اور مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پس نہ تم کمزوری دکھاؤ اور نہ صلح کی درخواست کرو۔ یعنی دب کر اور جبن و بزدلی کی بنا پر صلح کی کوئی درخواست نہ کرو۔ اور جہاں ایسے نہ ہو وہاں صلح کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وان جنحوا للسلم فاجنح لھا و توکل علی اللہ انہٗ ھو السمیع العلیم۔ } [ انفال : 61 پ 10] یعنی اگر وہ لوگ جھک جائیں صلح کیلئے تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور بھروسہ اللہ ہی پر کیا کرو، سو کفر و باطل کے سامنے دبنا اور جھکنا نہ مومن کی شان ہے اور نہ ہی یہ اس کیلئے جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
ایمان والوں کو ہدایت
تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔
1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔
2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
آیات 29 تا 38۔
اسرار معارف۔
کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔
حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔
علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی صبرو استقلال سے مقابلہ کرتے رہو اور جب تک وہ برسر پیکار رہیں ان سے صلح کی پیشکش نہ کرو وہاں اگر ان کا زور ٹوٹ جائے اور وہ خود صلح کی درخواست کریں تو بشریا مصلحت تم ان کی درخواست قبول کرسکتے ہوے۔ ملاحظہ ہو ( سورة انفال 61) الغرض یہ آیت اور سورة انفال وال آیت دوں حالتوں کے اعتبار سے ہے اور یہ دونوں ناسخ یا منسوخ نہیں ہے۔ (قرطبی)
13 یعنی تمہیں آخر کار غلبہ ہوگا۔ بشرطیکہ مومن ہو۔ (آل عمران :129)
14 بلکہ اور تمہارے نیک اعمال کا بھرپور اجر عنایت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →(47:35) فلا تھنوا ۔عاطفہ۔ لا تھنوا : فعل نہی جمع مذکر حاضر وھن (باب ضرب) مصدر، بمعنی سستی کرنا۔ کمزور ہونا۔ بودا ہوجانا۔ تم بودے نہ ہو جائو ۔ تم بزدل نہ بنو۔
وتدعوا الی السلم ۔ السلم۔ صلح۔ اسم ہے۔ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور نہ صلح کے لئے پکارو یعنی صلح کی استدعا مت کرو۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای ولا تدعوا الی السلم۔
وانتم الاعلون۔ جملہ حالیہ ہے۔ الاعلون غالب۔ بلند مرتبہ۔ اعلی کی جمع ہے۔ اصل میں اعلیون تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح ۔ ی کو الف سے بدلا گیا۔ اجتماع ساکنین الف اور وائو کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا۔ فتح کو باقی رکھا گیا۔ تاکہ وہ حذف الف پر دلالت کرے۔ (لغات القرآن) ۔ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 38 :
لاتھنوا (تم سست نہ پڑو۔ بزدلی نہ دکھائو) تدعوا ( تم پکارنے لگو) ‘ السلم (صلح) الا علون ( تم بلندرہو گے) ‘ لن یتر ( ہرگز نقصان نہ پہنچے گا) ‘ یحفی (وہ طلب کرتے ہیں۔ بار بار مانگے گا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 38 :
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہتا ہے تاکہ مومن اور غیر مومن کا فرق کھل کر سامنے آجائے۔ مومنوں کی آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کو مشکل حالات کی بھٹی سے گذار کر اسی طرح صاف ستھرا اور کندن بنادیا جائے جس طرح سونا آگ کی بھٹی میں جاکر نکھر جاتا ہے۔
اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ جب ان پر حالات کی آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
اطاعت رسول کریم ﷺ کے انعامات۔
(ف 1) جو لوگ کافر ہیں رسول و قرآن کو نہیں مانتے خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی خدا کے سچے رستہ سے اور اس کی اطاعت سے روکتے ہیں اور بعد ظاہر ہوجانے راہ حق کے انہوں نے رسول اللہ کی مخالفت کی باوجود توریت میں خوب معلوم کرچکے تھے کہ نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور ان کی علامات خوب جان چکے تھے مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو ہرگز ہرگز ان بےہودہ باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے ، اپنا برا کرتے ہیں خدا کا کیا بگڑتا ہے وہ عنقریب سزا دے گا اور ان کے سب اعمال ظاہرہ حسنہ دنیویہ باطل وبیکار کردے گا آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پرچلو، برخلاف حکم اللہ اور رسول…
Read the full tafseer →[17] منافقین کیونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے جیسا کہ آیات 21-20 میں گزر چکا ہے، اس لئے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہی پالیسی اختیار کرنے میں ملک کی خیر ہے ورنہ بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں بہے گا اور پوری قوم کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان کی یہ پالیسی مبنی تو تھی تمام تر ان کی بزدلی اور مفاد پرستی پر لیکن وہ اس کی دعوت صلح پسندی اور امن دوستی کے روپ میں دیتے۔ یہاں ان کی اسی کمزوری پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہئے کہ یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا گیا ہے جب کہ مدینے کی چھوٹی سی بستی میں مٹھی بھر مسلمانوں کی جمعیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
تم سربلند ہوں
2: یعنی جب یہ درست ہے ۔ کہ تم حق وصداقت کی مضبوط چٹان پر کھڑے ہو ۔ اور اللہ کی سچائی کا ساتھ دیتا ہے ۔ تو پھر تم مطلقاً نہ گھبراؤ اور کفر کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرو ۔ کیونکہ سربلندی اور تفوق تمہارے لئے متقدارات سے ہے ۔ اور ضروری ہے ۔ کہ تمام دنیا میں جب تک جہاد و قتال کی زندگی بسر کرو ۔ اللہ کی تائیدات تمہارے شامل حال رہیں ۔ اور تمہارا قدم جدھر کو اٹھے کامیابیاں اس کو چومنے کے لئے آگے بڑھیں ۔ یہ زندگی محض ایک تماشا اور کھیل ہے ۔
اس کی مسرتوں کو زیادہ اہمیت نہ دو ۔ اگر تم لوگ مومن رہے ۔ اور اتقاء کے دامن کو تم نے ہاتھ سے نہ دیا تو پھر اجروثواب سے تمہاری جھولیاں بھر دیگا ۔ اور وہ…
Read the full tafseer →(35) اور اے مسلمانوں تم کفار کے مقابلے میں بودے اور کم ہمت نہ بنو اور کافروں کو ہمت ہار کر خود بخود صلح کی دعوت نہ دو اور صلح کے لئے نہ پکارو جس حال میں کہ تم غالب ہو یا تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہرگز تمہارے اعمال کے ثواب کو کم نہ کرے گا اور تمہارے کاموں میں نقصان نہیں دے گا تم کو۔ جہاد کی ترغیب فرمائی کہ تم مومن ہو جبن اور بزدلی نہ دکھائو اور اپنی طرف سے خودبخود صلح کی دعوت نہ دو جبکہ تم کو اپنے غلبہ کا یقین ہو یا یہ مطلب ہے کہ دعوت صلح کے لئے کافروں کونہ پکارو تم غالب ہونے والے ہو اللہ تعالیٰ تمہاری امداد اور نصرت کے لئے تمہارے ساتھ ہے وہ تم کو نقصان…
Read the full tafseer →ف 4۔ یہاں جو صلح کی ممانعت ہے تو اس سے مراد مطلق صلح نہیں بلکہ صرف وہ صلح جس کا منشاء محض ضعف ہمت ہو جو کہ معصیت ہے اور جو صلح کسی مصلحت سے ہو وہ جائز ہے۔
5۔ اور وہ مغلوب ہوں گے اس لئے کہ تم محبوب ہو اور وہ مبغوض ہیں۔
6۔ یہ تو تشجیع سے جہاد کی ترغیب تھی، آگے تزہید سے جہاد کی ترغیب اور انفاق فی سبیل اللہ کی تمہید ہے۔
Read the full tafseer →میدان کا رزار میں پہنچ کر اس بات کا خیال رکھو کہ نہ سستی کا شکار ہو اور نہ ہی صلح کی پہل کرو
53 ؎ جب حالات مجبور کردیں اور جنگ ناگزیر ہوجائے اور میدان کار زار تک پہنچ جائیں تو پھر وہاں پہنچ کر سستی اور کاہلی بدولی اور عذر و بہانے یہ سب کی سب نفاق کی علامات ہیں اور نفاق کو قریب بھی نہ بھٹکنے دو اور خیال رکھو کہ اگر تمہاری زندگی ہے تو میدان کار زار میں موت تمہارا بالکل انتظار نہیں کر رہی اور نہ ہی تم کو کوئی طاقت مار سکتی ہے اور اگر تمہاری شہادت عنداللہ اسی جگہ ہے تو کوئی طاقت تم کو بچا کر واپس نہیں لے جاسکتی اگر تمہارے اندر یہ ایمان اور یقین موجود ہے تو پھر سستی اور کاہلی آخر کیوں ؟ اب تو قتال…
Read the full tafseer →فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ (So, do not lose heart, and do not appeal - 47:35". This verse prohibits the Muslims to invite the infidels to enter into peace treaty. But on another occasion in the Qur'an such a treaty is allowed: وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا And if they tilt towards peace, towards it..." (8:61). This verse indicates that if the infidels want peace, it is permissible to enter into peace agreement with them. Therefore, some scholars think that the permission in this verse is conditional upon the assumption that the infidels take initiative for peace…
Read the full tafseer →41 Here, one should bear in mind the fact that when this discourse was revealed only a handful of the Muslims consisting of a couple of hundreds of the Muhajirin and Ansar living in the small town of Madinah were upholding the standard of Islam and they were not only faced by the powerful Quraish but also by the whole of pagan Arabia. Such were the conditions when they were exhorted 'not to be faint-hearted and not to beg (the enemy) for peace", but to make preparations for the decisive conflict. This does not mean that the Muslims should never negotiate for peace, but it means that in a…
Read the full tafseer →