Explained with ayahs 32–35
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی
اللہ سبحانہ وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہوگی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کردیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی ؒ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ کا خیال تھا کہ (لا الہ الا اللہ) کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اس پر اصحاب رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة مُحَمَّد 40
بالفاظ دیگر اعمال کے نافع اور نتیجہ خیز ہونے کا سارا انحصار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے۔ اطاعت سے منحرف ہوجانے کے بعد کوئی عمل بھی خیر نہیں رہتا کہ آدمی اس پر کوئی اجر پانے کا مستحق ہو سکے۔
Read the full tafseer →(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ، انہیں الفاظ کے ساتھ ایک حکم ابھی پہلے آیا ہے، مکرر ذکر یا تو اس لئے ہے کہ پہلی آیت میں کفار کے خسارہ دنیوی کا بیان ہوا ہے اور اس آیت میں ان کا اخروی نقصان بتلانا منظور ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں نقل کیا گیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں تو عام کفار کا ذکر تھا جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے ان کا حکم تو یہ آیا کہ جو اعمال صالحہ انہوں نے بحالت کفر کئے تھے وہ سب اکارت گئے اسلام لانے کے بعد بھی ان کا ثواب نہیں ملے گا اور اس آیت میں ایسے کفار کا خاص ذکر ہے جو مرتے دم تک…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم 34
یعنی ان کافروں کو اللہ تعالیٰ کبھی بخشنے والا نہیں ہے جنہوں نے خود بھی کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا اور پھر اسی کفر پر جمے ہوئے مر گئے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی انجام ان لوگوں کا بھی ہونا ہے جو ان کا سہارا لیں گے اور ان کے ساتھ اپنی دوستی برقرار رکھنے کے لئے سازشیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
33۔ 1 یعنی منافقین اور مرتدین کی طرح ارتداد ونفاق اختیار کر کے اپنے عملوں کو برباد مت کرو یہ گویا اسلام پر استقامت کا حکم ہے بعض نے کبائر و فواحش کے ارتکاب کو بھی حبط اعمال کا باعث گردانا ہے اسی لیے مومنین کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑے گناہ اور فواحش سے بچتے ہیں (النجم) اس اعتبار سے کبائر و فواحش سے بچنے کی اس میں تاکید ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عمل خوانہ کتنا ہی بہتر کیوں نہ معلوم ہوتا ہو اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے تو رائیگاں اور برباد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
12: اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جو سازشیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مل یا میٹ کردے گا، اور وہ مطلب بھی ہوسکتا ہے جو سورت کی پہلی آیت میں فرمایا گیا تھا کہ ان کے جو کوئی اچھے کام ہیں، آخرت میں ان پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں اور آپ کی اطاعت سے دور ہوجاتے ہیں اور ایسے رویے پر اصرار کرتے ہیں اور اس دنیا سے کافر ہو کر مرجاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔
ان الذین کفروا ۔۔۔۔۔ یغفر اللہ لھم (47 : 34) “ کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا ”۔
مغفرت کے لئے اس دنیا میں ہر کسی کو مہلت دے دی گئی ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کافروں اور گناہگاروں پر اس وقت تک کھلا ہے جب تک سکرات موت شروع نہیں ہوجائے۔ جب روح حلقوم تک آن پہنچے تو اس وقت خالص آخری لمحات میں تو بہ کا دروازہ بند ہوتا ہے اور اس وقت…
Read the full tafseer →1 یعنی کسی کافر کی اللہ کے ہاں بخشش نہیں۔ خصوصاً ان کافروں کی جو دوسروں کو خدا کے راستہ سے روکنے میں لگے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 34 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے پھر وہ مرگئے اس حالت میں کہ کافر ہی رہے تو ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا۔“
Read the full tafseer →38 یعنی ان کا جرم صرف یہی نہیں کہ انہوں نے خود اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بلکہ ان کے اصل جرائم تو ان کے وہ اعمال ہیں جو وہ اسلام کی راہ روکنے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچانے کے لیے سرانجام دیتے رہے۔ کفر و شرک جس پر وہ تادم مرگ اڑے رہے بذات خود ایسا جرم ہے جس کی معافی نہیں ہوسکتی۔ اور ان کے جرائم کی فہرست تو بڑی طویل ہے پھر ان کی معافی کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ بعض علماء کی رائے کے مطابق اس سے مراد وہ کافر ہیں جو بدر کے میدان میں قتل ہوئے اور بدر کے کنوئیں میں پھینکے گئے۔ تاہم اس آیت کے عموم کو صرف انہیں کافروں سے مختص نہیں کیا جاسکتا۔ ہر…
Read the full tafseer →36۔ مغفرت کی پہلی اور لازمی شرط ایمان ہے۔ اس کی تصریح قرآن مجید میں بار بار ہوئی ہے۔ ایمان تخم کے درجہ میں ہے، اور مغفرت اسی تخم کا شجر وثمر ہے۔ بغیر تخم کے شجر وثمر کے وجود میں آجانے کی کوئی شکل ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ (الآیۃ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کاموں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا ہے اللہ ان سب کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی نہ پاسکیں، ان الذین کفروا سے منافقین مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ اہل کتاب مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین مراد ہیں، جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امدا اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا ان میں سے ایک آدمی پورے لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اور بعض حضرات نے نبو نضیر اور بنی قریظہ بھی مراد لئے ہیں۔
وسیحبط اعمالھم یہاں حبط اعمال سے مراد یہ بھی ہوسکتا…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ما توا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم بیشک جو لوگ
کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا ‘ پھر وہ کفر کی حالت ہی میں مرگئے ‘ اللہ ان کو کبھی نہیں بخشے گا۔
اس آیت کا تعلق سابق الذکر آیت اِنَّ الَّذِیْنَ کَفُرْوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الخ سے ہے اور ان کافروں سے مراد وہ کافر جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی نعشوں کو ایک گڑھے میں جمع کرا دیا تھا ‘ لیکن (الفاظ میں عموم ہے ‘ اسلئے) آیت کا حکم ان تمام کافروں کیلئے ہے جو کفر پر مرے ہوں۔
Read the full tafseer →جو لوگ کافر ہوئے یعنی بدر کے دن لڑنے والے اور انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی پیروی سے روکا پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مرگئے یا مار دیے گئے سو اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہیں بخشے گا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منکر تھے۔
Read the full tafseer →ان الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: اس آیت میں کافر و منافقین کیلئے ترغیب ہے کہ کفر و نفاق اور اسلام کی مخالفت سے مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کر دے گا۔ ورنہ اگر اسی حالت میں موت آگئی تو تمہاری بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں دہرائی ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (91) ، بقرہ (161، 162، 217) اور سورة نساء (18)
Read the full tafseer →اس امر کو واضح کیا کہ کفر کی صورت میں موت یہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کو واجب کردیتی ہے۔ سورة بقرہ میں یہ وضاحت گزر چکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آیت کا مصداق غزوہ بدر کے گڑھے میں ڈالے جانے والے لوگ ہیں (1) اس آیت کے احکام عام ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص تم میں سے یہ طاقت رکھتا ہو کہ وہ اپنے نیک عمل کو ضائع نہ کرے برے عمل کے ساتھ تو اس کو چاہئے کہ ایسا کرے اور قوت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد سے کیونکہ نیکی برائی کو مٹادیتی ہے۔ بلاشبہ اعمال کا مداران کے خاتمہ پر ہے
2:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد بن نصر المروزی فی کتاب الصلاۃ وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ یہ گمان کرتے تھے کہ ” لا الہ الا اللہ “ کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے شرک کے ساتھ کوئی عمل نفع نہیں دیتا یہاں تک کہ یہ ( آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْا [اور وہ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] ثُمَّ مَاتُوْا [پھر وہ مرگئے ] وَهُمْ [ اس حال میں کہ وہ لوگ ] كُفَّارٌ [ انکار کرنے والے تھے ] فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ [ تو ہرگز مغفرت نہیں کرے گا اللہ ] لَهُمْ [ان لوگوں کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
دوسری آیت میں یہ حکم فرمایا کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، اعمال صالحہ سابقہ ایمان میں شک کرنے اور کفر و شرک اختیار کرنے اور بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے باطل ہوجاتے ہیں یعنی ان کا ثواب ختم ہوجاتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ : لا تبطلوا بالریاء والسمعة (کہ ریا کاری اور شہرت کی طلب کے ذریعے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) آیت عام ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم یعنی صحابہ کرام ؓ یہ سمجھتے تھے کہ ہر نیکی ضرور مقبول ہوتی ہے جب آیت کریمہ ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔
(ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی…
Read the full tafseer →28:۔ ” ان الذین کفروا۔ الایۃ “ بیان حال مشرکین مع تخویف اخروی۔ جن لوگوں نے خود کفر و شرک اختیار کیا اور دوسروں کو اسلام سے روکا اور پھر اسی کفر و شرک کی حالت میں مرگئے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہرگز معاف نہیں فرمائیگا اور وہ لامحالہ جہنم کے درائمی عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
کفار کے لیے عدم معافی
جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ ثُمَّ مَاتُوْا وَہُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ 34
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ترکیب : الاحفاء الاستقصاء فی الکلام و منہ احفاء الشارب ای استیصالہ تبخلوا جواب الشرط وان تتولوا معطوف علی قولہ وان تؤمنوا اعلون اصلہ علیون لانہ جمع اعلی فسکنت الیاء والواوکانت ساکنۃ فالتقی الساکنان فسقطت الیاء و بقی اعلون (کبیر)
تفسیر : اعمال حبط ہونے کا ذکر آیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر مغفرت کی کوئی صورت نہیں۔ کوئی گناہ ہو اعمال نیک برباد گئے ‘ بخشش بھی گئی اس لیے اس مسئلہ کا تصفیہ کردیا۔ فقال الذین کفروا الخ کہ بخشش نہ ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ کفروبدکاری کرے اور پھر کفرہی کی حالت میں مرجاوے تب ہرگز اس کی بخشش نہ ہوگی اعمال برباد نہ ہونے پر اس کا فضل باقی رہتا ہے۔
کفرواسلام…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَا تُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ۔ (محمد : 34)
(بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے، اللہ ہرگز ان کو معاف نہیں فرمائے گا۔ )
کمزور ایمان والے جو ابھی تک غیرمسلموں سے امیدیں رکھے ہوئے تھے ان کے لیے فیصلہ کن بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننے سے انکار کیا، اس کے دین کی تکذیب کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا اور اسی حالت میں وہ دنیا سے چل بسے اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور ان کے کفر کو معاف نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو ان کا انجام بتلانے کے بعد مومنوں کو تسلی دی گئی ہے کہ دنیا میں تم ہی غالب رہو گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور پھر اسی حالت میں مرجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں معاف نہیں کرے گا بلکہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے۔ اے مسلمانوں تمہارا ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو میدان جنگ میں نہ ہمت ہارنا اور نہ ہی کمزور بن کر صلح کی دعوت دینا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس لیے تم ہی غالب رہو گے۔ مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے…
Read the full tafseer →آیت 34 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ (بیشک جو لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رستہ سے روکا پھر وہ کافر ہی رہ کر مرگئے پس اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہ بخشے گا)
ایک قول :
قلیب بدر والے لوگ مراد ہیں۔ اور ظاہر آیت عموم کو چاہتی ہے۔
Read the full tafseer →33 ۔ یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم “ عطائؒ فرماتے ہیں شک اور نفاق کے ساتھ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ریاء اور شہرت کے ساتھ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ معاصی اور کبیرہ گناہوں کے ساتھ۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ سمجھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہ دے گا۔ جیسا کہ شرک کے ساتھ کوئی عمل نفع نہ دے گا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی پس وہ کبیرہ گناہوں سے ڈرنے لگے اعمال کے ضائع ہونے کے بعد اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر احسان نہ جتائو۔ پس تم اپنے اعمال باطل کردو گے۔ یہ بنواسد کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور عنقریب ہم اس کو سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
32۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
یہ آیت کریمہ اور جو سرۃ البقرۃ میں وارد ہوئی ہے یعنی (ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ) (البقرۃ : 2/218) ” اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے اور کفر کی حالت میں مرجائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا وآخرت میں اکارت جائیں گے۔ “ یہ دونوں آیات ہر اس نص مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔ یہاں فرمایا : (ان الذین کفروا) بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا (وصدوا) اور مخلوق کو روکا (عن سبیل اللہ) ” اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
قول باری ہے (ولا تبطلوا اعمالکم ۔ اور تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جو شخص کوئی عبادت شروع کرلے تو جب تک اسے مکمل نہ کرلے اس وقت تک اسے اس عبادت سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے عمل کا ابطال لازم آئے گا۔ مثلاً نماز، روزہ اور حج وغیرہ۔
Read the full tafseer →[ 84] کفر پر مرنے والوں کی بخشش کبھی نہیں ہوگی، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ کفر ہی ہر مریں گے ان کی بخشش کبھی نہیں ہوگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر اور ادوات تاکید و توثیق کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے [ دوسروں کو بھی ] روکا پھر ان کی موت بھی کفر ہی کی حالت پر آگئی تو اللہ ان کی کبھی بھی بخشش نہیں فرمائے گا اور یہ اس لئے کہ یہ لوگ کفر پر ہی اڑے رہے اور ان کی موت بھی کفر ہی کی حالت پر آئی تو ان کیلئے ایمان لانے اور دولت حق و ہدایت سے سرفرازی کی پھر کوئی صورت نہیں اس لئے ان کو ہمیشہ کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
ایمان والوں کو ہدایت
تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔
1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔
2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
آیات 29 تا 38۔
اسرار معارف۔
کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔
حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔
علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی یہ مرنے سے پہلے کفر و شرک سے تائب نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →(47:34) وہم کفار جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ کافر ہی تھے۔ یعنی بحالت کفر۔
فلن یغفر اللہ لہم۔عاطفہ ترتیب کے لئے ہے۔ لن یغفر مضارع منفی (منصوب) تاکید بلن تو اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 :
اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 :
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
اطاعت رسول کریم ﷺ کے انعامات۔
(ف 1) جو لوگ کافر ہیں رسول و قرآن کو نہیں مانتے خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی خدا کے سچے رستہ سے اور اس کی اطاعت سے روکتے ہیں اور بعد ظاہر ہوجانے راہ حق کے انہوں نے رسول اللہ کی مخالفت کی باوجود توریت میں خوب معلوم کرچکے تھے کہ نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور ان کی علامات خوب جان چکے تھے مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو ہرگز ہرگز ان بےہودہ باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے ، اپنا برا کرتے ہیں خدا کا کیا بگڑتا ہے وہ عنقریب سزا دے گا اور ان کے سب اعمال ظاہرہ حسنہ دنیویہ باطل وبیکار کردے گا آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پرچلو، برخلاف حکم اللہ اور رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
[16] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔
Read the full tafseer →ف 1: یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایمان پر کفر کو ترجیح دی ۔ اور نور کے بدلے ظلمت کو خریدا ۔ اور اسی حالت محرومی وبدبختی میں مرگئے ۔ تو ان کے لئے بخشش کا کوئی موقع نہیں ۔ اور ان کے تمام اعمال چونکہ صحیح نقطہ نگاہ سے صادر نہیں ہوئے ۔ اس لئے مسترد کردیئے جائیں گے اور یہ کسی اجر کے بھی مستحق قرار نہیں دیئے جائیں گے ۔
Read the full tafseer →(34) بلا شبہ جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی اور کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکا پھر وہ کفر وشرک کی ہی حالت میں مرگئے یعنی کافر ہی مرے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا اور ان کی مغفرت کبھی نہیں فرمائے گا۔ یعنی ایسے لوگوں کی کبھی بخشش نہیں ہوگی۔ آگے مسلمانوں کو پھر خطاب فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ عدم مغفرت کے لئے کفر کے ساتھ صد عن سبیل اللہ شرط نہیں۔
Read the full tafseer →43 ؎ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی ہمارے قانون کی گرفت میں آجاتا ہے اس کے لئے رعایت نہیں رکھی گئی کیونکہ ہم نے کفر اور اسلام دونوں کی راہیں کھول کر واضح کردی ہیں (قدتبین الرشد من الفی) اور اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں رہنے دیا اس کے باوجود اگر کوئی شخص اسلام سے منہ موڑ کر کفر کی طرف چل نکلتا ہے اور باوجود سمجھانے کے وہ نہیں سمجھتا بلکہ مخالفت میں تیز سے تیز تر ہو کر دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کا باعث بنتا ہے اور پھر اسی حالت پر قائم رہتے ہوئے اپنی زندگی کی پوری مہلت کو ضائع کرتے ہوئے کفر ہی کی حالت میں مر جاتا ہے تو گویا وہ ہمارے قانون کے مطابق دوزخ کا مستحق ہوگیا اور جنت سے بہت…
Read the full tafseer →إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ثُمَّ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ (Those who disbelieve and prevent (others) from Allah's way, Allah will never forgive them...- 47:34): verse [ 32] has a similar warning in similar words. The present verse [ 34] seems to repeat almost the same warning. But the difference is probably that verse 32 describes the loss of the infidels in this world, and the current verse describes their loss in the next world as indicated in the commentary. It is also possible that in the earlier verse the reference was to infidels in general which included…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
40 In other words, the deeds' being beneficial and yielding of good results depends wholly on one's obedience to Allah and His Messenger. After one has turned away from obedience, no deed remains a good deed so that one may deserve any reward for it.
Read the full tafseer →