Muhammad 47:33

Muhammad · from ayah 33

47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ ۟يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَـكُمۡ

مومنو! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and do not invalidate your deeds.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:33

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تم اﷲ کی اطاعت کیا کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کیا کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ کرلو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول کا اور مت برباد کرو اپنے اعمال کو

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو رائیگاں مت کردو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ِایمان ! تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور کہیں اپنے اعمال ضائع نہ کر بیٹھنا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! اللہ کا کہا مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, obey Allah and obey the Messenger and do not cause your works to be nullified.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, obey Allah and obey the Messenger, and do not nullify your deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, obey Allah and obey the Messenger, and do not nullify your deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Obey Allah, and obey the Messenger and invalidate not your deeds.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Obey Allah and obey the messenger, and render not your actions vain.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and do not invalidate your deeds.

— Saheeh International

Believers, obey God and the Messenger and do not invalidate your deeds.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! obey Allah and obey the Apostle, and do not make your deeds of no effect.

— Muhammad Habib Shakir

Ye who believe! obey Allah and obey the apostle, and render not Your works vain.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Obey Allah, and obey the messenger, and make not vain your deeds!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہوگی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کردیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی ؒ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ کا خیال تھا کہ (لا الہ الا اللہ) کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اس پر اصحاب رسول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة مُحَمَّد 40 بالفاظ دیگر اعمال کے نافع اور نتیجہ خیز ہونے کا سارا انحصار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے۔ اطاعت سے منحرف ہوجانے کے بعد کوئی عمل بھی خیر نہیں رہتا کہ آدمی اس پر کوئی اجر پانے کا مستحق ہو سکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے (اوروں کو بھی) اللہ کے رستہ (یعنی دین حق) سے روکا اور رسول ﷺ کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان کو (دین کا) راستہ (دلائل عقلیہ سے مشرکین کے لئے اور نقلیہ سے بھی اہل کتاب کے لئے) نظر آ چکا تھا یہ لوگ اللہ (کے دین) کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے (بلکہ یہ دین ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا چناچہ ہوا) اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو (جو دین حق کے مٹانے کے لئے عمل میں لا رہے ہیں) مٹا دے گا اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور (چونکہ رسول اللہ ﷺ ہی کا حکم بتلاتے ہیں خواہ خاص طور پر وحی الٰہی میں اس کا حکم ہوا ہو یا وحی الٰہی میں کلی ضابطہ بیان فرمایا گیا ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ وا طیعوا الرسول ولا تبطلوآ اعمالکم 33 خدا کی اطاعت اپنے ذاتی مصالح سے بالاتر ہو کر کرو خطاب اگرچہ عام ہے لیکن انداز کلام دلیل ہے کہ روئے سخن خاص طور پر ان کی کمزور قسم کے مسلمانوں ہی کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے فرمایا کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے اس ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں فعل اطیعوا اپنے کامل اور حقیقی مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا صحیح مدعا یہ ہوگا کہ ہر طرح کے حالات میں اپنے ذاتی مفادات و مصالح سے بےپروا ہو کر اللہ اور رسول کے ہر حکم کی اطاعت کو۔ ولا طبطلوا اعمالکم یعنی اسی طرح کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

33۔ 1 یعنی منافقین اور مرتدین کی طرح ارتداد ونفاق اختیار کر کے اپنے عملوں کو برباد مت کرو یہ گویا اسلام پر استقامت کا حکم ہے بعض نے کبائر و فواحش کے ارتکاب کو بھی حبط اعمال کا باعث گردانا ہے اسی لیے مومنین کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑے گناہ اور فواحش سے بچتے ہیں (النجم) اس اعتبار سے کبائر و فواحش سے بچنے کی اس میں تاکید ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عمل خوانہ کتنا ہی بہتر کیوں نہ معلوم ہوتا ہو اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے تو رائیگاں اور برباد ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–34

12: اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جو سازشیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مل یا میٹ کردے گا، اور وہ مطلب بھی ہوسکتا ہے جو سورت کی پہلی آیت میں فرمایا گیا تھا کہ ان کے جو کوئی اچھے کام ہیں، آخرت میں ان پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 33) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو ”۔ اس سخت ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر بھی ایسے لوگ تھے جو مکمل اطاعت سے گریزاں تھے یا یہ کہ ان پر مکمل اطاعت ذرا بھاری تھی اور بعض قربانیاں ان کو حد سے زیادہ لگ رہی تھیں لیکن اس وقت ایک قوی دشمن کے مقابلے میں یہ ضروری تھیں جس نے اسلام کی راہ روک رکھی تھی۔ اور یہ قوتیں اس وقت ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور تھیں۔ اور ان مسلمانوں کے ان قوتوں کے ساتھ تجارتی ، برادری اور رشتہ داری کے تعلقات بھی تھے۔ اور اس وقت ان سب تعلقات کو کاٹ دینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جہاد، یا اللہ کی راہ میں اور کوئی محنت و ریاضت کرنا اس وقت مقبول ہے جب اللہ و رسول کے حکم کے موافق ہو۔ محض اپنی طبیعت کے شوق یا نفس کی خواہش پر کام نہ کرو۔ ورنہ ایسا عمل یوں ہی بیکار ضائع جائے گا۔ مسلمان کا کام نہیں کہ جو نیک کام کرچکا یا کر رہا ہے اس کو کسی صورت سے ضائع ہونے دے۔ نیک کام کو نہ بیچ میں چھوڑو، نہ ریاء و نمود اور اعجاب و غرور وغیرہ سے ان کو برباد کرو۔ بھلا ارتداد کا تو ذکر کیا ہے جو ایک دم تمام اعمال کو حبط کردیتا ہے۔ العیاذ باللہ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور کہیں اپنے اعمال ضائع نہ کر بیٹھنا۔“ اب تک تو تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر ”آمَنَّا وَصَدَّقْـنَا“ کہتے آئے ہو اور اللہ کے دین کے لیے جان و مال کی قربانیاں بھی دیتے آئے ہو۔ لیکن اب قتال کا جو نیا اور مشکل مرحلہ آرہا ہے اس مرحلے میں تم لوگوں سے اب مزید قربانیوں کا مطالبہ ہے۔ چونکہ ایمان کا اولین تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا جس وقت جو حکم ہو اس کی تعمیل کی جائے ‘ اس لیے دیکھنا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 اعمال کو برباد کرنے والے کام :۔ یعنی تم جو کام بھی کرو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے جذبہ سے اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہونے چاہئے۔ مثلاً جہاد سے اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کے کلمہ کی سربلندی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی اور جذبہ کے تحت مثلاً شہرت اور ناموری کی غرض سے یا قبائلی عصبیت کی وجہ سے یا مال غنیمت کے حصول کی بنا پر جہاد کرے گا تو اس کا ایسا نیک عمل بھی مقبول نہ ہوگا۔ پھر اسے یہ بھی چاہئے کہ اپنے نیک عمل کی حفاظت کرے اور کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھے جس سے اس کے عمل کے برباد ہونے کا خطرہ ہو۔ مثلاً ارتداد، شرک، اپنے کئے ہوئے کام پر فخر کرنا یا صدقہ کی صورت میں احسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35۔ (کافروں کی طرح رسول کی نافرمانی کرکے) فرق یہ ہے کہ کافر کی نافرمانی اصول و عقائد تک پہنچ جاتی ہے اور مسلمان کی نافرمانی فروع و اعمال تک محدود رہتی ہے۔ (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ رسول کی اطاعت کرو۔ جو احکام الہی ہی کے مبلغ ومناد ہیں اور اس طرح ان کی اطاعت عین حق تعالیٰ ہی کی اطاعت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–34

ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ (الآیۃ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کاموں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا ہے اللہ ان سب کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی نہ پاسکیں، ان الذین کفروا سے منافقین مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ اہل کتاب مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین مراد ہیں، جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امدا اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا ان میں سے ایک آدمی پورے لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اور بعض حضرات نے نبو نضیر اور بنی قریظہ بھی مراد لئے ہیں۔ وسیحبط اعمالھم یہاں حبط اعمال سے مراد یہ بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم اے اہل ایمان ! اللہ کے فرمان پر چلو اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے (اچھے) اعمال اکارت مت کرو۔ حضرت ابن عباس اور عطاء نے کہا : یعنی شک اور نفاق یا غرور سے اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔ کلبی نے کہا : ریا اور دکھاوٹ سے اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ حسن نے کہا : کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنی نیکیاں برباد مت کرو۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابی خیال کرتے تھے کہ جس طرح شرک کی موجودگی میں کوئی اچھا عمل مفید نہیں ‘ اسی طرح لا الٰہ الا اللہ کے قائل کو کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچائے گا ‘ اس خیال کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا یہ سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے ایمان والو ظاہری طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو (کیونکہ آپ بھی اطاعت خداوندی کا حکم دیتے ہیں) اس لیے خفیہ طریقہ پر رسول اکرم کی اطاعت کرو اور اپنی نیکیوں کو نفاق بغض و عداوت اور مخالفت و رسول سے باطل مت کرو اور کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو جن چیزوں کا خود اللہ تعالیٰ نے یعنی فرائض و صدقات وغیرہ کا حکم دیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور جن کاموں کا بذریعہ نبی اکرم تمہیں حکم دیا ہے یعنی جہاد اور سنت نبویہ اس میں رسول اکرم کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور ریا و شہرت سے اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ (الخ) ابن ابی حاتم اور محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول…: یعنی اعمال کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند رہے۔ اگر کوئی شخص اطاعت سے نکل کر مخالفت پر اتر آئے اور دشمنوں کے ساتھ ساز باز شروع کر دے تو اس کے سارے اعمال باططل ہیں، خواہ وہ اپنے خیال میں کتنے اچھے عمل کرتا رہے، جیسا کہم نافقین تھے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اور عہد اطاعت کے بعد مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں آیت سے یہی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی منافقین کا ذکر ہے اور بعد میں بھی۔ گویا آیت کا مطلب یہ ہوا :”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی طرح اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں دو مسئلے ہیں : جب کفار کی حالت کو بیان کیا تو مومنوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے اور رسول اللہ کی سنن میں اطاعت کو لازم پکڑو۔ یعنی اپنی نیکیوں کو معاصی کے ساتھ باطل نہ کرو (1) یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے۔ زہری نے کہا : کبیرہ گناہ کر کے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو (2) ابن جریج نے کہا : ریا کاری اور شہرت کی خواہش کر کے اپنے اعمال باطل نہ کرو (3) مقاتل اور ثمالی نے کہا : احسان جتلا کر اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔ یہ اسے خطاب ہے جو اسلام قبول کرنے کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر احسان جتلایا کرتا تھا سب معانی قریب قریب ہیں۔ حضرت حسن بصری کا قول سب کو جامع ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ کبیرہ گناہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–34

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص تم میں سے یہ طاقت رکھتا ہو کہ وہ اپنے نیک عمل کو ضائع نہ کرے برے عمل کے ساتھ تو اس کو چاہئے کہ ایسا کرے اور قوت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد سے کیونکہ نیکی برائی کو مٹادیتی ہے۔ بلاشبہ اعمال کا مداران کے خاتمہ پر ہے 2:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد بن نصر المروزی فی کتاب الصلاۃ وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ یہ گمان کرتے تھے کہ ” لا الہ الا اللہ “ کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے شرک کے ساتھ کوئی عمل نفع نہیں دیتا یہاں تک کہ یہ ( آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اَطِيْعُوا اللّٰهَ [ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ [اور اطاعت کرو ان رسول کی ] وَلَا تُبْطِلُوْٓا [ اور تم لوگ غارت مت کرو ] اَعْمَالَكُمْ [اپنے اعمال کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–34

دوسری آیت میں یہ حکم فرمایا کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، اعمال صالحہ سابقہ ایمان میں شک کرنے اور کفر و شرک اختیار کرنے اور بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے باطل ہوجاتے ہیں یعنی ان کا ثواب ختم ہوجاتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ : لا تبطلوا بالریاء والسمعة (کہ ریا کاری اور شہرت کی طلب کے ذریعے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) آیت عام ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم یعنی صحابہ کرام ؓ یہ سمجھتے تھے کہ ہر نیکی ضرور مقبول ہوتی ہے جب آیت کریمہ ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–33

تہدید وتحذیر باظہار مکر وتدابیر منافقین ودشمنان اسلام ومساعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ...... الی ...... ولا تبطلوا اعمالکم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں جہاد کے حکم پر منافقین کے بیہودہ رویہ اور طرز عمل کا ذکر تھا اب ان آیات میں انکو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کی جارہی ہے اور آگاہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت سے انکی کوئی بھی بات مخفی نہیں ہے اللہ جب چاہے انکے راز فاش کرسکتا ہے انکے نام انکی علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ لوگ منافق اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کو اس پر متوجہ کیا جارہا ہے کہ دشمنان اسلام کے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ ” یا ایہا الذین امنوا۔ الایۃ “ یہ تشجیع علی القتال ہے۔ امر جہاد میں اللہ اور رسول کے احکام کی پیروی کرو۔ جہاد میں اور راہ دین میں اپنی مرضی اور صوابدید پر نہ چلو، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات پر چلو اور ان کے احکام کی اطاعت کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر کے اور اپنی مرضی سے کام کر کے اپنی محنت اور اپنے عمل کو برباد نہ کرو۔ اس آیت سے فقہاء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص نفلی نماز یا روزہ شروع کر کے توڑ دے تو ان کی قضاء لازم ہے۔ (مظہری وغیرہ) ۔ اگر صرف ” لاتبطلوا اعمالکم “ کے الفاظ سے یہ استنباط کیا جائے تب درست ہے۔ لیکن آیت کا سیاق وسباق اس کا متحمل نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–33

ربط آیات جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں منافقین کا کردار اور ان کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب جہاد سے متعلق کوئی محکم سورة نازل ہوتی ہے تو آپ منافقین کو اپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پاتے ہیں جیسا کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو ۔ پھر اللہ نے فرمایا ، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ جو لوگ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی قرآنی پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹے پائوں پھرجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے حصے میں ہلاکت اور تباہی ہی آسکتی ہے۔ اللہ نے منافقین کا یہ کردار بھی بیان کیا کہ یہ لوگ جب اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ۝ 33 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ معتزلہ اس آیت سے یہ بات نکالتے ہیں کہ گناہ کبیرہ سے اعمال حبط ہوتے ہیں۔ کسی نے عمر بھر نماز روزہ کیا اور ایک بار ایک چلو شراب کی پی لی تو گوا اس نے کبھی روز نماز کیا ہی نہ تھا۔ اہل سنت کے نزدیک یہ بات نہیں ہاں کفر و شرک سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں بایں معنی کہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا مستحق ہوگیا اعمال صالحہ کا کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس آیت سے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ نفل شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتے ہیں یعنی اس کو تمام کرنا ضروری ہوجاتا ہے ورنہ عمل کا باطل کرنا لازم آتا ہے اور آئمہ کا یہ قول نہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَـکُمْ ۔ (محمد : 33) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔ ) اعمالِ صالحہ کے لیے کچھ دوسرے اعمالِ صالحہ شرط ہیں گزشتہ آیت کریمہ میں حبط اعمال کا ذکر ہے، اس سے مراد دراصل وہ اعمال ہیں جو کافر کفر کی حالت میں کرتا ہے یا وہ اعمال ہیں جو اسلام کی حالت میں کیے گئے ہیں لیکن ارتداد نے ان اعمال پر پانی پھیر دیا۔ ایسے تمام اعمال کفر یا ارتداد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ضائع ہوجاتے ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے بعد کفار کے کردار اور انجام کا ذکر۔ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے باوجود اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ” اللہ “ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کا سب کچھ بگاڑ سکتا ہے اور بگاڑ دے گا۔ اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔ ان آیات میں دو اصول بیان کیے گئے ہیں۔ 1۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی کفر پر قائم رہتے ہیں اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 33 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل مت کرو) منافقت یا ریاکاری سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32 ۔” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “ یعنی اللہ کے رسول ﷺ ” وشاقوا الرسول من بعدما تبین لھم الھدی لن یضروا اللہ شیئا “ وہ تو صرف اپنا نقصان کررہے ہیں۔ ” وسیحبط اعمالھم “ پس وہ آخرت میں اس کا کوئی ثواب نہ دیکھیں گے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بدر کے دن کھانا کھلانے والے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–36

32۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انہیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : (ولا تبطلوا اعمالکم) ” اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ “ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–34

قول باری ہے (ولا تبطلوا اعمالکم ۔ اور تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جو شخص کوئی عبادت شروع کرلے تو جب تک اسے مکمل نہ کرلے اس وقت تک اسے اس عبادت سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے عمل کا ابطال لازم آئے گا۔ مثلاً نماز، روزہ اور حج وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 83] اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو حکم مانو تم اللہ کا اور اس کے رسول کا اور ضائع مت کرو تم اپنے اعمال کو "۔ کفر و نفاق، ریا، ونمود، اور اذی ودلآزاری وغیرہ سے۔ حضرت ابو العالیہ ؓ اور حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح کفر و شرک کے ساتھ کوئی نیکی کام نہیں آسکتی اس طرح ایمان کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں دے سکتا۔ یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو ہم ڈرنے لگے۔ [ ابن کثیر وغیرہ ] اسی آیت کریمہ سے استدلال کرکے حنفیہ نے کہا ہے نفل عبادت شروع کرنے کے بعد لازم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسے نہ ہو تو وہ ابطال عمل کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–38

ایمان والوں کو ہدایت تشریح : ان آیات میں چند رہنما اصول بیان کردیے گئے ہیں اور یہ اصول ایسے بنیادی اور پکے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی اور موت پھر زندگی بعدالموت سب کچھ انہی کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے قرآن پاک جو کہ مسلمانوں کے لیے ہدایت و کامیابی کا نسخہ ہے۔ بار بار ان بنیادی اصولوں کو دہراتا ہے تاکہ ہر مسلم کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہ اصول بن جائیں۔ 1 ۔ اللہ کو پہچانو اور پھر صرف اسی کا کہا مانو۔ 2 ۔ پیغمبر کیونکہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا معلم ہوتا ہے جو اللہ کے اصول و ضوابط کی تشریح کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی سے انکے فوائد ذہن نشین کرواتا ہے اس لیے صرف اس کی بات مانو اسی پر عمل کرو تو ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–38

آیات 29 تا 38۔ اسرار معارف۔ کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔ حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔ علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 معلوم ہوا کہ بسا اوقات معصیت سے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں اور نیکی اسی صورت میں نفع دے سکتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:33) لا تبطلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، ابطال (افعال) مصدر تم ضائع نہ کرو۔ تم باطل نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–34

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 : اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–35

اطاعت رسول کریم ﷺ کے انعامات۔ (ف 1) جو لوگ کافر ہیں رسول و قرآن کو نہیں مانتے خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی خدا کے سچے رستہ سے اور اس کی اطاعت سے روکتے ہیں اور بعد ظاہر ہوجانے راہ حق کے انہوں نے رسول اللہ کی مخالفت کی باوجود توریت میں خوب معلوم کرچکے تھے کہ نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور ان کی علامات خوب جان چکے تھے مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو ہرگز ہرگز ان بےہودہ باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے ، اپنا برا کرتے ہیں خدا کا کیا بگڑتا ہے وہ عنقریب سزا دے گا اور ان کے سب اعمال ظاہرہ حسنہ دنیویہ باطل وبیکار کردے گا آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پرچلو، برخلاف حکم اللہ اور رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–34

[16] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–33

مدینہ کا دارالضرب 2: قرآن حکیم نے اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اصل پیش فرمائے ہیں ۔ اور بار بار یہ تاکید کیا ہے ۔ کہ اگر نجات چاہتے ہو ۔ اور دین ودنیا کی سعادتوں کو حاصل کرنے کے خواہان ہو ۔ تو ان دو عظیم المرتبت شخصیتوں کے ساتھ وفاداری کا عہد کرو ۔ یہ دو شخصیتیں اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور یہی دراصل ہیں ۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ہر دو اطاعت بیکار اور رائیگان جائیگی ۔ جس کو ادا کرنے میں احکام الٰہی اور سنت رسول ﷺ کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور وہ اعمال باطل میں جو اسوہ رسول کے موافق نہیں ہیں ۔ اور وہ روشنی تاریکی وظلمت کے مترادف ہے ۔ جو مشکوٰۃ نبوت سے مستفاد نہیں ہے ۔ یعنی اعمال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بجا لائو اور اپنے اعمال ضائع اور برباد نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بجا لائو اور منافقوں کی طرح اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرکے اپنے اعمال بربادنہ کرو۔ یعنی تم بھی منافقین اور مرتدین کے گروہ میں شامل ہوجائو یا اپنے اعمال میں ریا اور دکھاوے کو دخل دے کر اپنے اعمال کو باطل کردو ایسا کرنے سے مسلمانوں کو حضرت حق تعالیٰ نے منع فرمایا آگے کفار کی برائی بیان فرمائی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو 33 ؎ مسلمانوں کے اندر ہی ایک ایسا گروہ پروان چڑھ رہا تھا جس کے ستھ ہر وقت ان کے روابط تھے آنا جانا ‘ اٹھنا بیٹھنا اور وہ بھی مسلمان ہی کہلاتے تھے ‘ مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتے تھے اور ان کی ساتھ رشتے ناطے بدستور قائم تھے اس لئے زیر نظر آیت میں ان پکے اور سچے مسلمانوں کو متنبہ کی اجا رہا ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے چوکنے رہیں اور کوئی حرکت ایسی نہ کر بیٹھیں جس سے ان کے اعمال ضائع ہوجائیں اس لئے کہ یہ ہمارا عام قانون ہے کہ جو بھی ہمارے قانون کی مخالفت کرے گا وہ اس کی زد میں آجائے گا تو ہم اس کا لحاظ نہیں کرتے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

Commentary إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ (Those who disbelieve and prevent (others) from Allah's way ... - 47:32) This verse also refers to the hypocrites, and the Jewish tribes of Banu Quraizah and Banu Nadir. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that this verse refers to those hypocrites who, on the occasion of the battle of Badr, joined forces with the infidels of Quraysh and helped them in such a way that twelve men of the two tribes took upon themselves the responsibility of feeding the entire army. Each one of the twelve men took turns to organize meal for the enemy…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

40 In other words, the deeds' being beneficial and yielding of good results depends wholly on one's obedience to Allah and His Messenger. After one has turned away from obedience, no deed remains a good deed so that one may deserve any reward for it.

Read the full tafseer →